امّتِ مسلمہ کی زبوں حالی، اور بابری مسجد کی شہادت و پامالی پر لوگوں نے آنسو بہاتے دیکھا، اور اسی طرح مسلمانانِ ہند پر ہنود کے مظالم پر کبھی خاموش نہ رہے، ساری زندگی حق کی آواز بلند فرماتے رہے ۔ ہمیشہ حق کا ساتھ دیا ۔ اس میں اپنے پرائے کی کبھی پر واہ نہ کی ۔ اس آواز کو منصب و عہدے کا لالچ دےکر خاموش کرنے کی کوشش کی گئی، تو آپ نے اپنے جدِّ امجد کی آواز میں یہ جواب دیا:
؏: میں گدا ہوں اپنے کریم کا مِرا دین پارۂ ناں نہیں
یہ آپ ہی تھے کہ 1995ء میں وزیرِ اعظم ہند 7 گھنٹے بریلی سرکٹ ہاؤس میں آپ کا انتظار کرتا رہا، اور اُس کا سیکرٹری بار بار حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا، لیکن حضرت نے یہ کہہ کر ملاقات سے صاف انکار کر دیا:
’’میں ایسے شخص سے ملاقات نہیں کر سکتا، جس کے ہاتھ بابری مسجد کی شہادت میں ملوث ہیں ۔ ‘‘ (سوانح تاج الشریعہ، ص 72) ـ
اہلِ سنّت وجماعت کی موجودہ صورتِ حال جس میں بالعموم پاک وہند کے سنّی علمائے کرام کا پوری دنیا کے سنّی علما و شیوخ سےکوئی ربط و تعلق نہیں ہے۔ جب کہ بدمذہبوں نے پوری دنیا کے حنفی اور صوفیا کو اپنی عیاری اور چالاکی سے متوجہ کیا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم ممالک کے علما و صوفیا کی نظر میں ہماری کوئی ایسی شخصیت نہیں ہے، جن کا علمی، یا ویسے ہی کسی لحاظ سے ان کے ہاں کوئی تعارف موجود ہو۔یہ حضرت تاج الشریعہ کی ذاتِ گرامی تھی کہ جن کا عرب اور مسلم دنیا میں ایک خاص مقام تھا ۔
عرب کے جیّد علما و صوفیا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں کی نسبت اور آپ کی علمی قابلیت و صلاحیت کی بناء پر قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔عرب دنیاکے سوشل و الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پرحضرت کےوصال کی خبرایسے ہی شائع ہوئی جس طرح پاک و ہند میں ہوئی ۔
بڑے بڑے شیوخ نے تعزیتی کلمات کے ساتھ لواحقین سے اظہارِ تعزیت فرمایا، جب کہ ایصالِ ثواب کا سلسلہ پوری دنیا میں ہوتا رہا ۔ حضرت تاج الشریعہ نے فیضانِ علوم و معارفِ اعلیٰ حضرت کو پوری دنیا میں عام کیا ۔ آپ کے حلقۂ ارادت میں ہر طبقۂ فکر کے لوگ پوری دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔
وصال پر ملال:
7 ذوالقعدہ 1439ھ مطابق 20 جولائی 2018ء، بروز جمعۃ المبارکہ بوقتِ اذانِ مغرب، واصل باللہ ہوئے ۔
تدفین:
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ ازہری گیسٹ ہاؤس بریلی شریف (ہند) میں ابدی آرام فرما ہیں ۔
قطعۂ تاریخِ وصال:
کلام: ندیم احمد نؔدیم نورانی
جہاں میں بٹ رہا ہے فیضِ اختر
بڑھو لینے کو حصّہ چاہیے گر
امام احمد رضا کے، مفتی اختر
نبیرہ تھے، نسب ہے اُن کا اَطہر
ہے پیارا سا لقب ’’تاج الشریعہ‘‘
یہ جچتا ہے اُنھی کی شخصیت پر
وہ شہ اختر رضا تاج الشریعہ
رہے پاکیزہ طینت زندگی بھر
جو مغرب کی اذاں کی ابتدا میں
مؤذّن نے کہا ’’اَللہُ اَکْبَر‘‘
وہیں ’’اَللہُ اَکْبَر‘‘ کہتے کہتے
ہوئے دنیا سے رخصت مفتی اختر
ضیائے طیبہ غم گین و حزیں ہے
گئے اختر رضا سب کو رُلا کر
ضیائے طیبہ کرتی ہے دعا یہ
رہیں اختر رضا، جنّت کے اندر
’’چلے فردوس کو تاج الشریعہ‘‘ (۱۴۳۹ھ)
نؔدیم! اس سالِ رحلت کو عیاں کر
نؔدیم! اِس دل میں ہیں تاج الشریعہ
جسے ملنا ہو، آئے دل کے اندر
مآخذ و مراجع:
مفتی اعظم اور اُن کے خلفاء ۔ سوانح تاج الشریعہ ۔ تذکرۂ تاج الشریعہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/taj-o-shariyah-hazrat-allamah-mufti-muahammad-akhtar-raza-khan-barelwi
؏: میں گدا ہوں اپنے کریم کا مِرا دین پارۂ ناں نہیں
یہ آپ ہی تھے کہ 1995ء میں وزیرِ اعظم ہند 7 گھنٹے بریلی سرکٹ ہاؤس میں آپ کا انتظار کرتا رہا، اور اُس کا سیکرٹری بار بار حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا، لیکن حضرت نے یہ کہہ کر ملاقات سے صاف انکار کر دیا:
’’میں ایسے شخص سے ملاقات نہیں کر سکتا، جس کے ہاتھ بابری مسجد کی شہادت میں ملوث ہیں ۔ ‘‘ (سوانح تاج الشریعہ، ص 72) ـ
اہلِ سنّت وجماعت کی موجودہ صورتِ حال جس میں بالعموم پاک وہند کے سنّی علمائے کرام کا پوری دنیا کے سنّی علما و شیوخ سےکوئی ربط و تعلق نہیں ہے۔ جب کہ بدمذہبوں نے پوری دنیا کے حنفی اور صوفیا کو اپنی عیاری اور چالاکی سے متوجہ کیا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم ممالک کے علما و صوفیا کی نظر میں ہماری کوئی ایسی شخصیت نہیں ہے، جن کا علمی، یا ویسے ہی کسی لحاظ سے ان کے ہاں کوئی تعارف موجود ہو۔یہ حضرت تاج الشریعہ کی ذاتِ گرامی تھی کہ جن کا عرب اور مسلم دنیا میں ایک خاص مقام تھا ۔
عرب کے جیّد علما و صوفیا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں کی نسبت اور آپ کی علمی قابلیت و صلاحیت کی بناء پر قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔عرب دنیاکے سوشل و الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پرحضرت کےوصال کی خبرایسے ہی شائع ہوئی جس طرح پاک و ہند میں ہوئی ۔
بڑے بڑے شیوخ نے تعزیتی کلمات کے ساتھ لواحقین سے اظہارِ تعزیت فرمایا، جب کہ ایصالِ ثواب کا سلسلہ پوری دنیا میں ہوتا رہا ۔ حضرت تاج الشریعہ نے فیضانِ علوم و معارفِ اعلیٰ حضرت کو پوری دنیا میں عام کیا ۔ آپ کے حلقۂ ارادت میں ہر طبقۂ فکر کے لوگ پوری دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔
وصال پر ملال:
7 ذوالقعدہ 1439ھ مطابق 20 جولائی 2018ء، بروز جمعۃ المبارکہ بوقتِ اذانِ مغرب، واصل باللہ ہوئے ۔
تدفین:
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ ازہری گیسٹ ہاؤس بریلی شریف (ہند) میں ابدی آرام فرما ہیں ۔
قطعۂ تاریخِ وصال:
کلام: ندیم احمد نؔدیم نورانی
جہاں میں بٹ رہا ہے فیضِ اختر
بڑھو لینے کو حصّہ چاہیے گر
امام احمد رضا کے، مفتی اختر
نبیرہ تھے، نسب ہے اُن کا اَطہر
ہے پیارا سا لقب ’’تاج الشریعہ‘‘
یہ جچتا ہے اُنھی کی شخصیت پر
وہ شہ اختر رضا تاج الشریعہ
رہے پاکیزہ طینت زندگی بھر
جو مغرب کی اذاں کی ابتدا میں
مؤذّن نے کہا ’’اَللہُ اَکْبَر‘‘
وہیں ’’اَللہُ اَکْبَر‘‘ کہتے کہتے
ہوئے دنیا سے رخصت مفتی اختر
ضیائے طیبہ غم گین و حزیں ہے
گئے اختر رضا سب کو رُلا کر
ضیائے طیبہ کرتی ہے دعا یہ
رہیں اختر رضا، جنّت کے اندر
’’چلے فردوس کو تاج الشریعہ‘‘ (۱۴۳۹ھ)
نؔدیم! اس سالِ رحلت کو عیاں کر
نؔدیم! اِس دل میں ہیں تاج الشریعہ
جسے ملنا ہو، آئے دل کے اندر
مآخذ و مراجع:
مفتی اعظم اور اُن کے خلفاء ۔ سوانح تاج الشریعہ ۔ تذکرۂ تاج الشریعہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/taj-o-shariyah-hazrat-allamah-mufti-muahammad-akhtar-raza-khan-barelwi
scholars.pk
Taj o Shariyah Hazrat Allamah Mufti Muahammad Akhtar Raza Khan Barelwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles…
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles…
❤1
حضرت شیخ ابراہیم بن حماد بن امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ
وصال: 7 ذو القعدہ 206 ھ
سات ذو القعدہ دو سو چھ ہجری
https://scholars.pk/ur/scholar/ibrahim-bin-ahmad-hammad-bin-imam-abu-hanifa
#یوم_وصال_ماہ_ذو_القعدہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/51306
وصال: 7 ذو القعدہ 206 ھ
سات ذو القعدہ دو سو چھ ہجری
https://scholars.pk/ur/scholar/ibrahim-bin-ahmad-hammad-bin-imam-abu-hanifa
#یوم_وصال_ماہ_ذو_القعدہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/51306
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-11-1444 ᴴ | 27-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-11-1444 ᴴ | 28-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-11-1444 ᴴ | 28-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-11-1444 ᴴ | 28-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1