🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.81K subscribers
69.7K photos
228 videos
257 files
8.85K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-11-1444 ᴴ | 27-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-11-1444 ᴴ | 27-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
تصانیف حضور تاج الشریعہ علیہ‌الرحمہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ٹیلی گرام میں سرچ کرنے کا طريقہ↶
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4797
➻═════════════➻
حضور تاج الشریعہ رحمة الله تعالیٰ علیه اپنے جد امجد مجدد دین و ملت سیدنا اعلیٰ حضرت رضی الله تعالیٰ عنه کے مظہر اتم اور پر تو کامل ہیں ۔ اعلیٰ حضرت رضی الله تعالیٰ عنه کی تحریری خدمات اور طرز تحریر محتاج تعارف نہیں ہے ۔ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ میدانِ تحریر میں بھی اعلیٰ حضرت کا عکس جمیل نظر آتے ہیں ۔ آپ کی تصانیف و تحقیقات مختلف علوم و فنون پر مشمل ہیں ـ تحقیقی انداز مضبوط طرز استدلال بکثرت حوالہ جات، سلاست و روانی آپ کی تحریر کو شاہکار بنادیتی ہے ۔ آپ اپنی تصانیف کی روشنی میں یگانۂ عصر اور فرید الدہر نظر آتے ہیں ۔ حضرت محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ اعظمی دامت بر کاتہم العالیہ فرماتے ہیں: " تاج الشریعہ کے قلم سے نکلے ہوئے فتاویٰ کے مطالعہ سے ایسا لگتا ہے کہ ہم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی الله تعالیٰ عنه کی تحریر پڑھ رہے ہیں، آپ کی تحریر میں دلائل اور حوالہ جات کی بھر مار سے یہی ظاہر ہوتا ہے ۔ [ حیات تاج الشریعہ صفحہ⁶⁶ ]

حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ افتاء و قضاء کثیر تبلیغی اسفار اور دیگر بے تحاشہ مصروفیات کے باوجود تصنیف و تالیف کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ آپ کی قلمی نگارشات کی فہرست درج ذیل ہے ۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Urdu Books 📚 اردو کتابیں
➻═════════════➻
❶ ہجرت رسول ﷺ
❷ آثار قیامت
❸ ٹائی کا مسئلہ
❹ حضرت ابراہیم کے والد تارخ یا آزر
❺ ٹی وی اور ویڈیو کا آپریشن
❻ شرح حدیث نیت
❼ سنو چپ رہو ( دوران تلاوت نعرۂ حق نبی ﷺ کی ممانعت )
❽ دفاع کنز الایمان (۲ جلد)
❾ الحق المبین
❿ تین طلاقوں کا شرعی حکم
⓫ کیا دین کی مہم پوری ہو چکی؟
⓬ جشن عید میلاد النبی ﷺ
⓭ سفینۂ بخشش (دیوانِ شاعری)
⓮ فضیلت نسب
⓯ تصویر کا حکم
⓰ اسمائے سورۃ الفاتحہ کی وجہ تسمیہ
⓱ القول الفائق بحکم الاقتداء بالفاسق
⓲ افضلیت صدیق اکبر و فاروق اعظم
⓳ سعودی مظالم کی کہانی اختع رضا کی زبانی
⓴ المواہب الرضویہ فی الفتاوی الازہریہ المعروف فتاویٰ تاج الشریعہ
㉑ چلتی ٹرین پر فرض و واجب نمازوں کی ادائیگی کا حکم
㉒ تقدیم ( تجلیۃ السلم فی مسائل نصف العلم از اعلیٰ حضرت )
تراجم قرآن میں کنز الایمان کی اہمیت (غیر مطبوعہ)
㉔ منحۃ الباری فی حل صحیح البخاری
㉕ ملفوظات تاج الشریعہ (غیر مطبوعہ)
㉖ کفر ، ایمان ، تکفیر
㉗ رویت ہلال کا ثبوت
㉘ مفتی اعظم ہند علم فن کے بحر ذخار (مقالہ)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Arabic Books 📚 عربی کتابیں
➻═════════════➻
㉙ الحق المبین
㉚ الصحابۃ نجوم الاہتداء
㉛ شرح حديث الاخلاص
㉜ نبذۃ حیاۃ الامام احمد رضا
㉝ سد المشارع
㉞ الفردہ شرح القصيدۃ البردۃ
㉟ تعلیقات زاہرہ علی صحیح البخاری
㊱ تحقیق انا ابا سیدنا ابراہیم (تارح) لا (آزر)

㊲ مراۃ النجدیہ بجواب البریلویہ
㊳ القمح المبین لامال المکذبین
㊴ روح الفواد بذکری خیر العباد (دیوان شاعری)
㊵ نہایۃ الزین فی التخفیف عن ابی لہب یوم الاثنین
㊶ حاشیہ عصیدۃ الشہدہ شرح القصیدۃ البردہ
‏㊷ انوار المنان فی توحید القرآن
㊸ المعتقد المنتقد مع المعتمد المستمد
㊹ الزلال النقى من بحر سبقۃ الاتقی (تخریج شده)
㊺ قصیدتان رائعتام (غير مطبوعہ)
㊻ عطایا القدیر فی حكم التصویر
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
         Ta'aareeb ‏تعاريب
➻═════════════➻
㊼ بركات الامداد لاہل الاستمداد
㊽ فقہ شہنشاہ
㊾ عطايا القدير في حكم التصوير
㊿ اہلاک الوہابین على توہین القبور المسلمین
51 تیسیر الماعون لسكن فی الطاعون
52 شمول الاسلام لاصول الرسول الكرام
53 قوارع القہار فی الرد المجسمۃ الفجار
54 الہاد الكاف فی حكم الضعاف
55 سبحن السبوح عن عیب كذب مقبوح
56 دامان باغ سبحان السبوح
57 انهى الاكید عن الصلاة وراء عدی التقلید
58 حاجز البحرین
59 القمر المبین
60 صلاة الصفا فی نور المصطفىٰ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
English Books 📚 انگلش کتابیں
➻═════════════➻
61 Aasare Qiyamat
62 Azharul Fataawa (Few Eng. Fatawe)
63 Tai Ka MasAla
64 A Just answer to the beased Author
65 The Companions are the Stars of Guidance
66 Of Pure Origin (On the Identity of Prophet ibraheem is Father)
67 THE PINNACLE OF BEAUTY
68 On the Lightening of Abu Lahab's Punishment each Monday {Translated by Abdul Aziz Suraqah }
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@islaamic_Knowledge
@Aalaa_Hazrat_Library
@Maslake_Aalaa_Hazrat
@AhleSunnat_HindiBooks
━═───────────═━
@Muhammad_Jamaluddin_Khan
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سوانح حیات حضور مفتی اعظم ہند
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3991
سوانح حیات حضور تاج الشریعہ 📚
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4121
تصنیفات حضور تاج الشریعہ 📚
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15648
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2👍1
کتب شان حضور تاج الشریعہ ↓
مفتی اختر رضا خان ازہری میاں
رَضِـیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡهٗ
Fahriste Kutub & Links ↴
Huzoor Tajush ShareeAh Mufti
Akthar Raza Khan Azhari Miyan

فرمائش سے پہلے سرچ ضرور کریں!
ٹیلی گرام پر سرچ کرنے کا طريقہ↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/6828
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ تجلیات تاج الشریعہ
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3994
❷ کرامات تاج الشریعہ
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4001
❸ سوانح تاج الشریعہ
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4005
❹ مناقب تاج الشریعہ
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4009
❺ تذکرۂ تاج الشریعہ
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4012
❻ مصدقات تاج الشریعہ
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4015
❼ حیات تاج الشریعہ اُردو
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4018
❽ حیات تاج الشریعہ ہندی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4021
❾ خلفائے تاج الشریعہ ہندی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4024
❿ نوادرات تاج الشریعہ آثار و تبرکات
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4028
⓫ انوار تاج الشریعہ ملفوظات شریفہ
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4031
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
⓬ تاج الشریعہ علیہ الرحمہ
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4034
⓭ تاج الشریعہ کا سفر استنبول اُردو
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4079
⓮ تاج الشریعہ کا سفر استنبول انگلش
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4082
⓯ تاج الشریعہ کا لقب کس کا ؟
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4052
⓰ تاج الشریعہ کا وصال و فراق
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4043
⓱ تاج الشریعہ تنقیدات و تعاقبات
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4046
⓲ تاج الشریعہ ایک مختصر تعارف
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4049
⓳ تاج الشریعہ عرب و عجم کے داعی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4060
⓴ تاج الشریعہ ماہ و سال کے آئینے میں
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4063
㉑ تاج الشریعہ کی منظوم سوانح حیات
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4066
㉒ تاج الشریعہ حیات و تصنیفی خدمات
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4069
㉓ تاج الشریعہ ایک مقناطیسی شخصیت
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4072
㉔ تاج الشریعہ کے بارے میں سوال جواب🅗
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4075
㉕ تاج الشریعہ پندرہویں صدی کے مجدد اعظم
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4088
㉖ تاج الشریعہ سے کیے گئے سوالات کے جوابات🅔
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4085
㉗ تاج الشریعہ کی جدید تحقیقات کے اصولی مباحث
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4091
㉘ تاج الشریعہ صلح کلیت کے خلاف حق کی آہنی دیوار
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4094
㉙ تاج الشریعہ اور بخاری شریف کی پہلی حدیث کا درس
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4097
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
㉚ ماہنامہ اعلیٰ حضرت تاج الشریعہ نمبر
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4100
㉛ ماہنامہ پیغام رضا تاج الشریعہ نمبر²⁰¹⁸
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4103
㉜ ماہنامہ پیغام شریعت تاج الشریعہ نـمـبـر
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4106
㉝ ²ماہی رضائے مدینہ تاج الشریعہ نمبر اُردو
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4109
㉞ ²ماہی رضائے مدینہ تاج الشریعہ نمبر ہِندی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4112
㉟ سال نامہ خزائن العرفان تاج الشریعہ نمبر
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4117
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
فہرست کتب شان حضور تاج الشریعہ
🔍 #شان_حضور_تاج_الشریعہ 🔎
رَضِـیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهٗ 🌹
فہرست فھرست #فہرست
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🅣🅣🅢 Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ 📚
@islaamic_Knowledge
@Aalaa_Hazrat_Library
@Maslake_Aalaa_Hazrat
@AhleSunnat_HindiBooks
━═─────────═━
@Muhammad_Jamaluddin_Khan
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سوانح حیات حضور مفتی اعظم ہند
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/3991
سوانح حیات حضور تاج الشریعہ 📚
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4121
تصنیفات حضور تاج الشریعہ 📚
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5194
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضور تاج الشریعہ، حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری برکاتی رضوی بریلوی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد اسماعیل رضا ـ عرفیت: اختر رضا ۔ تخلص: اختر ۔ لقب: تاج الشریعہ ، ازہری میاں ، قاضی القضاۃ فی الہند ـ

نسب نامہ:
تاج الشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اختر رضا خاں ازہری بریلوی﷫ کا سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:

تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خاں بن مفسراعظم ہند مولانا محمد ابراہیم رضا خاں بن حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا خاں بن شیخ الاسلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں بن رئیس الاتقیا مولانا نقی علی خاں بن امام العلما مولانا رضا علی خاں بن مولانا شاہ محمد اعظم خاں بن مولانا حافظ کاظم علی خاں بن محمد سعادت یار خاں بن شجاعت جنگ سعید اللہ خاں قندھاری﷭۔(مفتی اعظم اوراُن کے خلفاء، ص145)

حضرت تاج الشریعہ﷫ مفسرِ اعظم مولانا محمد ابراہیم رضا جیلانی میاں﷫ کے صاحبزادے، حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا خاں﷫ کے پوتے، مفتیِ اعظم ہند مولانا شاہ مصطفیٰ رضاخاں﷫ کے نواسے اور شیخ الاسلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں ﷜ کے پڑ پوتے تھے۔

ولادت:
آپ﷫ کی تاریخِ ولادت میں مختلف اقوال ہیں:

14 ذوالقعدہ 1361ھ مطابق 23 نومبر 1942ء، بروز منگل ۔

24 ذوالقعدہ 1362ھ مطابق 23 نومبر 1943ء ۔

25 محرم الحرام 1362ھ مطابق یکم فروری 1943ء ۔

25؍ صفر 1361ھ / 1942ء ۔

صاحبِ سوانحِ تاج الشریعہ کے بقول اوّل الذکر راجح ہے ۔ (سوانحِ تاج الشریعہ، ص:18)

تحصیلِ علم:
حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی عمر شریف جب 4 ؍سال، 4؍ماہ اور 4؍ دن ہوئی تو آپ کے والدِ ماجد مفسر اعظم ہند مولانا ابراہیم رضا خاں جیلانی ﷫ نے تقریب بِسْمِ اللہ خوانی منعقد فرمائی ۔ اِس تقریبِ سعید میں دارالعلوم منظر الاسلام کے تمام طلبہ کو دعوت دی گئی۔رسم بِسْمِ اللہ ناناجان حضرت مفتیِ اعظم ہند ﷫نے کرائی۔قرآنِ مجید والدۂ ماجدہ سے گھر پر مکمل کیا۔ والدِ ماجد سے ابتدائی اردو کتب پڑھیں، اس کے بعد والدِ ماجد نے دارالعلوم منظرِ اسلام میں داخل کرادیا۔ درسِ نظامی کی تکمیل دارالعلوم منظر ِ اسلام سےکی۔ تاج الشریعہ بچپن ہی سے ذہانت و فطانت اور قوتِ حافظہ کے مالک ، اور عربی ادب کے دل دادہ تھے۔ درسِ نظامی کی تکمیل کےبعد 1963ء میں جامعۃ الازہر قاہرہ تشریف لے گئے۔وہاں آپ نے ’’کلیۃ اصول الدین‘‘ میں داخلہ لیااور مسلسل تین سال تک جامعۃ الازہر مصر میں فن تفسیر و حدیث کے ماہر اساتذہ سے اکتسابِ علم کیا۔ جامعہ ازہر مصر میں داخلے کے بعد جب آپ کی جامعہ کے اساتذہ اور طلبہ سے گفتگو ہوتی تو وہ آپ کی بے تکلف فصیح وبلیغ عربی سن کرمحوِ حیرت ہوجاتے اور کہتے کہ ایک عجمی النسل ہندوستانی عربی النسل اہلِ علم حضرات سے گفتگو کرنے میں کوئی تکلّف محسوس نہیں کرتا۔ حضرت تاج الشریعہ 1966ء /1386ھ کو جامعۃ الازہر سے فارغ ہوئے ۔ جامعۃ الازہر میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر ’’ جامعۃ الازہر ایوارڈ ‘‘ سے نوازے گئے۔آپ تمام علوم ِقدیمہ اور جدیدہ پر مہارتِ تامہ رکھتے تھے ۔ قراءاتِ عشرہ کےماہر تھے، بالخصوص جب مصری لہجے میں تلاوت فرماتےتو سامعین جھوم جھاتے، حضرت تاج الشریعہ ﷫ کو چھتیس علوم پر مہارت، اور عربی، اردو، فارسی، اور انگلش زبانوں پرمکمل عبور حاصل تھا۔ان کے علاوہ، علاقائی زبانوں میں بھی بات چیت فرمایا کرتےتھے۔

آپ کے اساتذہ میں
قابلِ ذکر اساتذۂ کرام یہ ہیں:

مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا خاں، بحر العلوم مفتی سیّد محمد افضل حسین مونگیری، مفسر اعظم ہند مولانا محمد ابراہیم رضا خاں جیلانی، فضیلۃ الشیخ علامہ محمد سماحی، شیخ الحدیث والتفسیر جامعہ ازہر حضرت علامہ محمود عبدالغفار، استاذ الحدیث جامعہ ازہر ، ریحانِ ملّت مولانا محمد ریحان رضا خاں رحمانی میاں،استاذ الاساتذہ مولانا مفتی محمد احمد عرف جہانگیر خاں اعظمی﷭۔(مفتیِ اعظم ہند اور آپ کے خلفاء، ص150)

بیعت و خلافت:
حضور تاج الشریعہ﷫ کو بیعت و خلافت کا شرف سرکارمفتیِ اعظم ﷫سے حاصل ہے۔ حضرت مُفتیِ اعظم ہند﷫نے بچپن میں آپ کو بیعت کاشرف عطا فرمادیا تھا، اور صرف 19؍ سال کی عمر میں 15؍جنوری 1962ء/1381ھ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے نوازا۔ علاوہ ازیں خلیفۂ اعلیٰ حضرت برہانِ ملّت مفتی برہان الحق جبل پوری﷫، سیّد العلماء شاہ آلِ مصطفیٰ برکاتی﷫، احسن العلماء سیّد حیدر حسن میاں برکاتی﷫، والدِ ماجدمفسر اعظم مفتی ابراہیم رضاخاں﷫ سے جمیع سلاسل کی اجازت و خلافت حاصل تھی۔(مفتیِ اعظم ہند اور آپ کے خلفاء، ص160)

حضور تاج الشریعہ﷫ پر بچپن میں آثارِسعادت و ولایت ظاہر تھے۔یہی وجہ ہے کہ مفتی اعظم﷫ کو آپ کے بچپن سے ہی بے انتہاتوقعات وابستہ تھیں، جس کااندازہ آپ کےان ارشادات عالیہ سےلگایا جاسکتاہےجو مختلف مواقع پر آپ نے ارشاد فرمائے:

’’اس لڑکے (حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ) سے بہت امید ہے۔‘‘ (تذکرہ تاج الشریعہ، ص4)
1
سیرت و خصائص:
سراج المفسرین، فخر المحدثین، زبدۃ العارفین، فقیہ الاسلام، تاج الاسلام، نبیرۂ اعلیٰ حضرت، وارثِ علوم ِ مجددِ دین و ملّت، مظہر حجۃ الاسلام، شہزداۂ مفسرِ اعظم، جانشینِ مفتیِ اعظم،قاضی القضاۃ فی الہند، شیخ العربِ والعجم، تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خاں قادری ازہری محدث بریلوی﷫ اہلِ سنّت وجماعت کے ممتاز ترین صاحبِ علم و بصیرت، اور باقیاتِ صالحین میں سے ایک تھے ۔ آپ حقیقتاً امامِ اہلِ سنّت شیخ الاسلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں ﷫ کے خلفِ صادق، جانشینِ کامل، حجۃ الاسلام کے عکسِ جمیل، مفتیِ اعظم ہند اور مفسر اعظم ہند کے علوم و معارف کے وارثِ اکمل تھے۔ ذکاوتِ طبع اور قوتِ اتقان، وسعتِ مطالعہ میں اپنی مثال آپ تھے۔ درس و تدریس، فقہ و افتاء، قراءت و تجوید، منطق و فلسفہ، ریاضی، علم جفر و تکسیر،اور علم ہیئت و توقیت میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔

مفتی عبدالرحیم بستوی فرماتے ہیں:
’’سب ہی (خاندانی) حضرات ِ گرامی کے کمالات ِ علمی و عملی سے آپ کو گراں قدر حصہ ملاہے۔فہم و ذکا، قوتِ حافظہ و تقویٰ سیّدی اعلیٰ حضرت سے، جودتِ طبع و مہارتِ تامّہ (عربی ادب) حضور حجۃ الاسلام سے، فقہ میں تبحر و اصابت سرکار مفتی اعظم ہند سے،قوتِ خطابت و بیان والدِ ذی وقار مفسر اعظم ہند سے۔یعنی وہ تمام خوبیاں آپ کو وراثتاً حاصل ہیں جن کی رہبرِ شریعت و طریقت کو ضرورت ہوتی ہے ۔ (سوانح تاج الشریعہ)

آپ علیہ الرحمہ کثیر کتب کے مصنّف تھے ۔ فنی موضوعات پر علمی زبان استعمال کرتے، لیکن اس کے باوجود آپ کی تحریرات سے ثقالت و اکتاہٹ پیدا نہیں ہوتی،آپ ہر موضوع پر ادیبانہ اُسلوب اختیار کرنے پر قدرت رکھتے تھے۔آپ کی تحریروں میں سلاست و روانی، ایجاز و اختصار، تشبیہات و استعارات، فصاحت و بلاغت، پائی جاتی ہے؛بالخصوص فقہ و افتاء میں خصوصی مہارت حاصل تھی، فقہی جزئیات ،اور علمی استدلال میں اعلیٰ حضرت امام اہل سنّت کی جھلک پائی جاتی تھی ۔

آپ کے فتاوٰی علم کے خزینے، اور مجتہدانہ بصیرت کے حامل ہیں۔اسی طرح آپ ﷫ کو عربی، فارسی،اردو، ہندی،ادب پر دسترس حاصل تھی۔اعلیٰ حضرت ﷫ کی طرح جس زبان میں سوال کیا جاتا تھا، اسی میں جواب دیتے تھے ۔ آپ ﷫کی تدریسی اور بحیثیت مفتی دارالافتاء منظر اسلام میں اکیاون (51) سالہ خدمات ہیں،جس میں دنیا بھر سے ہزاروں فتاوٰی جات کے جوابات، مختلف موضوعات اور مختلف زبانوں پر علمی تحریرات اس کے علاوہ ہیں۔

یہ سب مفتی اعظم ہند ﷫ کا فیضان تھا، حضرت مفتی اعظم ﷫نے دارالافتاء کی عظیم ذمّے داری آپ کوسونپتے ہوئے ارشاد فرمایاتھا:

’’اختر میاں!
اب گھر میں بیٹھنے کا وقت نہیں، یہ لوگ جن کی بھیڑ لگی ہوئی ہے، کبھی سکون سے نہیں بیٹھنے دیتے، اب تم اس کام کوانجام دو، میں تمھارے سپرد کرتاہوں۔‘‘

پھر لوگوں سے مخاطب ہوکرفرمایا:

’’آپ لوگ اب اخترمیاں سَلَّمَہٗ سےرجوع کریں، انہیں کو میراقائم مقام اور جانشیں جانیں۔‘‘

تاج الشریعہ ﷫نے اس مسند افتاء کاایسا حق اداکیا کہ اعلیٰ حضرت مجددِ اسلام اور مفتی اعظم ہند﷮ کی یاد تازہ ہوگئی، اور دنیامیں ’’تاج الشریعہ‘‘ کےلقب سے ملقب ہوئے، اوریہ لقب ایسا سجا کہ جیسے اعلیٰ حضرت سنتے ہی ذہن فوراً امام احمد رضا خاں ﷫کی طرف منتقل ہوجاتا ہے،اسی طرح ’’تاج الشریعہ‘‘ سے ذہن مفتی اختررضاخاں ﷫ کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اللہ جَلَّ شَانُہٗ نے آپ کوذوقِ سخن سے بھی وافر حصّہ عطا فرمایاتھا۔عربی، فارسی، اور اردو تینوں زبانوں میں آپ کی نعتیہ شاعری موجود ہے۔آپ کا مجموعۂ کلام ’’سفینۂ بخشش‘‘ کے نام سے متعدد بار شائع ہوکر اَرباب ِ سخن سے دادِ تحسین حاصل کرچکا ہے۔جہاں آپ کے نثری شہ پارے ادبی حیثیت کے حامل ہیں،وہیں آپ کی شاعری بھی آپ کی قادر الکلامی پر شاہد و عادل ہے۔

اللہ ربّ العزّت نے جانشینِ مفتیِ اعظم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ﷫کو جن گوناگوں صفات سے متصف کیا تھا، اُن صفات میں سے ایک حق گوئی اور بے باکی بھی ہے۔ آپ نے کبھی بھی صداقت و حقانیت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ چاہے کتنے ہی مصلحت کے تقاضے کیوں نہ ہوں، چاہے کتنے ہی قیدو بند، مصائب وآلام اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہننا پڑیں کبھی کسی کو خوش کرنے کے لیے اس کی منشا کے مطابق فتویٰ تحریر نہیں فرمایا۔ جب کبھی کوئی فتویٰ تحریر فرمایا تو اپنے اَسلاف، اپنے آبا و اَجداد کے قدم بَہ قدم ہوکرتحریر فرمایا۔ جس طرح جدِّ امجد امام احمد رضا فاضل بریلوی اور مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری نے بے خوف و خطر فتاوٰی تحریر فرمائےاُسی طرح اپنے اَجداد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے جانشینِ مفتیِ اعظم نظر آتے ہیں۔ اِس حق گوئی کے شواہد آج آپ کے ہزاروں فتاوٰی ہیں جو ملک اور بیرونِ ملک میں پھیلےہوئے ہیں۔

اسی طرح تصلّب فی الدین اور مسلکِ اعلیٰ حضرت، اور تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے۔آپ ﷫پوری دنیا میں تبلیغی دورے فرماتے تھے، لیکن صلح کلیت کے بالکل خلاف تھے۔
1
امّتِ مسلمہ کی زبوں حالی، اور بابری مسجد کی شہادت و پامالی پر لوگوں نے آنسو بہاتے دیکھا، اور اسی طرح مسلمانانِ ہند پر ہنود کے مظالم پر کبھی خاموش نہ رہے، ساری زندگی حق کی آواز بلند فرماتے رہے ۔ ہمیشہ حق کا ساتھ دیا ۔ اس میں اپنے پرائے کی کبھی پر واہ نہ کی ۔ اس آواز کو منصب و عہدے کا لالچ دےکر خاموش کرنے کی کوشش کی گئی، تو آپ نے اپنے جدِّ امجد کی آواز میں یہ جواب دیا:

؏: میں گدا ہوں اپنے کریم کا مِرا دین پارۂ ناں نہیں

یہ آپ ہی تھے کہ 1995ء میں وزیرِ اعظم ہند 7 گھنٹے بریلی سرکٹ ہاؤس میں آپ کا انتظار کرتا رہا، اور اُس کا سیکرٹری بار بار حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا، لیکن حضرت نے یہ کہہ کر ملاقات سے صاف انکار کر دیا:

’’میں ایسے شخص سے ملاقات نہیں کر سکتا، جس کے ہاتھ بابری مسجد کی شہادت میں ملوث ہیں ۔ ‘‘ (سوانح تاج الشریعہ، ص 72) ـ

اہلِ سنّت وجماعت کی موجودہ صورتِ حال جس میں بالعموم پاک وہند کے سنّی علمائے کرام کا پوری دنیا کے سنّی علما و شیوخ سےکوئی ربط و تعلق نہیں ہے۔ جب کہ بدمذہبوں نے پوری دنیا کے حنفی اور صوفیا کو اپنی عیاری اور چالاکی سے متوجہ کیا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم ممالک کے علما و صوفیا کی نظر میں ہماری کوئی ایسی شخصیت نہیں ہے، جن کا علمی، یا ویسے ہی کسی لحاظ سے ان کے ہاں کوئی تعارف موجود ہو۔یہ حضرت تاج الشریعہ ﷫کی ذاتِ گرامی تھی کہ جن کا عرب اور مسلم دنیا میں ایک خاص مقام تھا ۔

عرب کے جیّد علما و صوفیا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں کی نسبت اور آپ کی علمی قابلیت و صلاحیت کی بناء پر قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔عرب دنیاکے سوشل و الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پرحضرت کےوصال کی خبرایسے ہی شائع ہوئی جس طرح پاک و ہند میں ہوئی ۔

بڑے بڑے شیوخ نے تعزیتی کلمات کے ساتھ لواحقین سے اظہارِ تعزیت فرمایا، جب کہ ایصالِ ثواب کا سلسلہ پوری دنیا میں ہوتا رہا ۔ حضرت تاج الشریعہ نے فیضانِ علوم و معارفِ اعلیٰ حضرت ﷜ کو پوری دنیا میں عام کیا ۔ آپ کے حلقۂ ارادت میں ہر طبقۂ فکر کے لوگ پوری دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔

وصال پر ملال:
7 ذوالقعدہ 1439ھ مطابق 20 جولائی 2018ء، بروز جمعۃ المبارکہ بوقتِ اذانِ مغرب، واصل باللہ ہوئے ۔

تدفین:
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ ازہری گیسٹ ہاؤس بریلی شریف (ہند) میں ابدی آرام فرما ہیں ۔

قطعۂ تاریخِ وصال:

کلام: ندیم احمد نؔدیم نورانی

جہاں میں بٹ رہا ہے فیضِ اختر
بڑھو لینے کو حصّہ چاہیے گر

امام احمد رضا کے، مفتی اختر
نبیرہ تھے، نسب ہے اُن کا اَطہر

ہے پیارا سا لقب ’’تاج الشریعہ‘‘
یہ جچتا ہے اُنھی کی شخصیت پر

وہ شہ اختر رضا تاج الشریعہ
رہے پاکیزہ طینت زندگی بھر

جو مغرب کی اذاں کی ابتدا میں
مؤذّن نے کہا ’’اَللہُ اَکْبَر‘‘

وہیں ’’اَللہُ اَکْبَر‘‘ کہتے کہتے
ہوئے دنیا سے رخصت مفتی اختر

ضیائے طیبہ غم گین و حزیں ہے
گئے اختر رضا سب کو رُلا کر

ضیائے طیبہ کرتی ہے دعا یہ
رہیں اختر رضا، جنّت کے اندر

’’چلے فردوس کو تاج الشریعہ‘‘ (۱۴۳۹ھ)
نؔدیم! اس سالِ رحلت کو عیاں کر

نؔدیم! اِس دل میں ہیں تاج الشریعہ
جسے ملنا ہو، آئے دل کے اندر

مآخذ و مراجع:
مفتی اعظم اور اُن کے خلفاء ۔ سوانح تاج الشریعہ ۔ تذکرۂ تاج الشریعہ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/taj-o-shariyah-hazrat-allamah-mufti-muahammad-akhtar-raza-khan-barelwi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ ابراہیم بن حماد بن امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ

وصال: 7 ذو القعدہ 206 ھ
سات ذو القعدہ دو سو چھ ہجری
https://scholars.pk/ur/scholar/ibrahim-bin-ahmad-hammad-bin-imam-abu-hanifa

#یوم_وصال_ماہ_ذو_القعدہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/51306
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-11-1444 ᴴ | 27-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-11-1444 ᴴ | 28-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1