حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی ۔ کنیت: ابو البرکات ۔ لقب: شمس الدین، قیوم رابع ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی بن خواجہ شیخ ابو العلی بن خواجہ حجۃ اللہ محمدنقشبند ثانی بن خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔(تاریخِ مشائخِ نقشبند:435)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 5 ذیقعدہ 1093ھ مطابق 2 نومبر 1682ء، بروز پیر کو ہوئی ۔ (ایضا:435)
تحصیلِ علم:
آپ کا سارا خاندان نور علیٰ نور تھا ۔ جن میں جذبۂ حریت، استقامت علی الدین اور علم و عمل شریعت و طریقت میں بے مثال تھے ۔ جہاں ہر طرف قال اللہ وقال رسول اللہ ﷺ کی صدائیں دلوں کو جلا بخشتی تھیں ۔ اس نورانی و روحانی فضا میں حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی کی تربیت ہوئی ۔ جب آپ کی عمر مبارک چار برس چار ماہ ہوئی تو آپ کو ایک سعادت مند ادیب اور طالع مند اتالیق کے سپرد کیا گیا۔ سات برس کی عمر میں ہی شائستگی حال، آراستگیِ مقال، اوضاعِ کریمانہ اور اطوارِ بزرگانہ آپ کی جبین سعادت سے ہویدا ہوگئے تھے۔
آپ ابھی صرف تیرہ برس کے تھے کہ والد گرامی حضرت شیخ خواجہ ابوالعلی کا وصال ہوگیا اور آپ کی پرورش جدّامجد حضرت خواجہ نقشبند ثانی قدس سرہ نے کی اور ظاہری و باطنی علوم میں مالا مال کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ کم سِنی ہی میں آپ پر استغراق غالب ہوجایا کرتا تھا اور حضرت نقشبند ثانی قدس سرہ نے آپ کو قیومیّت کی بشارت دی تھی چنانچہ حضرت حجۃ اللہ خواجہ محمد نقشبند ثانی قدس سرہ کے وصال کے بعد بروز ہفتہ یکم صفر 1114ھ / 24 جون 1702ء کو مسند قیومیّت و ارشاد پر متمکن ہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں اپنے جد کریم حضرت خواجہ محمد نقشبندِ ثانی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور ان کے خلیفہ ٔ اعظم بنے،اور ان کے وصال کےبعد مسند ارشاد پر فائز ہوئے۔
سیرت وخصائص:
عارف باللہ واصل باللہ، قطب الارشاد، قیومِ زماں، حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی ۔ آپ خاندانِ حضرت مجدد کے فرد فرید، اور ان کی علمی وروحانی امانتوں کے وارث، اور جامع شریعت و طریقت تھے ۔ آپ کی ذاتِ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کوفروغ حاصل ہوا۔حضرت حجۃ اللہ خواجہ محمد ثانی ِ نقشبندکےپوتےاورخلیفۂ اعظم تھے۔آپ اپنے وقت کے قطبِ دوراں اور قیوم زماں تھے۔ آپ کے شب و روز عبادت الٰہی اور خلق خدا کو ہدایت کرنے میں صرف ہوتے تھے۔ آپ کا حلقہ بہت وسیع تھا اور زمانے کے بڑے بڑے علماء و امراء آپ کے معتقد تھے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین و دنیا کی دولت سے سرفراز فرمایا تھا۔ جب بھی آپ دولت کدہ سے باہر تشریف لاتے تو امراء شاہی اپنے دوشالے اور پگڑیاں فرش راہ بناتے تاکہ متبرک ہوجائیں اور آپ کے قدم مبارک زمین پر نہ پڑیں۔ اگر آپ کسی جگہ وعظ، مجلس یا عیادتِ مریض کے لیے تشریف لے جاتے تو آپ کی سواری اور جلوس شاہانہ ہوتا۔ باوجود اس ظاہری کرّو فر کے دل خدا کی طرف لگا ہواتھا۔ آپ ہر امیر و غریب کو ایک نظر سے دیکھتے تھے اور ہر مرید کو درجۂ کمال تک پہنچانے کی سعیٔ بلیغ فرماتے تھے۔کم کھانا،کم بولنا،کم سونا آپ کی زندگی کا خاص اصول تھا۔
آپ فرمایا کرتے تھے کہ فضول اور لغو گفتگو میں بہت سی مصیبتیں اور پریشانیاں پنہاں ہیں کم کھانے سے جسم میں سُستی واقع نہیں ہوتی اورکم سونے سے زیادہ وقت عبادت الٰہی میں گزارسکتے ہیں۔یہ وقت بڑا قیمتی ہے،اس کی قدر کرنی چاہیےتقویٰ،پرہیز گاری،اتباعِ سنّت اورکثرت ِعبادت میں آپ کا کوئی ثانی نہ تھا۔
آپ نہایت کثیر العبادت تھے:
نمازِ تہجّد میں ساٹھ ساٹھ مرتبہ سورۃ یٰسین پڑھا کرتے تھے۔نمازِ فجر کے بعد چاشت تک مراقبہ فرماتے ۔ بعد ازاں قدرے قیلولہ فرماتے اور پھر نمازِ زوال ادا کرتے۔ اس کے بعد تلاوت قرآن مجید میں مشغول ہوجاتے اور پھر نمازِ ظہر سے پہلے حلقہ بنا کر بمع دوستاں ختم خواجگان پڑھتے اور ذکر و فکر کے بعد مریدوں کو توجہ دیتے نماز ظہر ادا کر کے مریدوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔ آپ چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک بار صرف اسی وقت ہی کھانا کھاتے تھے۔ نمازِ عصر کے بعد کبھی حدیث شریف اور کبھی مکتوباتِ امام ربّانی مجدّد الف ثانی قدس سرہ کا دَرس دیا کرتے تھے نمازِ مغرب کے بعد نماز اوابین میں قرآنِ مجید کے دس پارے پڑھتے تھے۔ بعد ازاں حلقۂ ذکر ہوتا۔ پھر نمازِ عشاء پڑھ کر دولت کدہ میں استراحت فرماتے۔ چوبیس ہزار مرتبہ کلمہ طیّبہ، پندرہ ہزار مرتبہ اسم ذات دن کو اور پھر دس ہزار مرتبہ کلمہ شریف رات کو آپ کا دائمی وظیفہ تھا۔ (تاریخ مشائخِ نقشبند:436)
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی ۔ کنیت: ابو البرکات ۔ لقب: شمس الدین، قیوم رابع ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی بن خواجہ شیخ ابو العلی بن خواجہ حجۃ اللہ محمدنقشبند ثانی بن خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔(تاریخِ مشائخِ نقشبند:435)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 5 ذیقعدہ 1093ھ مطابق 2 نومبر 1682ء، بروز پیر کو ہوئی ۔ (ایضا:435)
تحصیلِ علم:
آپ کا سارا خاندان نور علیٰ نور تھا ۔ جن میں جذبۂ حریت، استقامت علی الدین اور علم و عمل شریعت و طریقت میں بے مثال تھے ۔ جہاں ہر طرف قال اللہ وقال رسول اللہ ﷺ کی صدائیں دلوں کو جلا بخشتی تھیں ۔ اس نورانی و روحانی فضا میں حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی کی تربیت ہوئی ۔ جب آپ کی عمر مبارک چار برس چار ماہ ہوئی تو آپ کو ایک سعادت مند ادیب اور طالع مند اتالیق کے سپرد کیا گیا۔ سات برس کی عمر میں ہی شائستگی حال، آراستگیِ مقال، اوضاعِ کریمانہ اور اطوارِ بزرگانہ آپ کی جبین سعادت سے ہویدا ہوگئے تھے۔
آپ ابھی صرف تیرہ برس کے تھے کہ والد گرامی حضرت شیخ خواجہ ابوالعلی کا وصال ہوگیا اور آپ کی پرورش جدّامجد حضرت خواجہ نقشبند ثانی قدس سرہ نے کی اور ظاہری و باطنی علوم میں مالا مال کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ کم سِنی ہی میں آپ پر استغراق غالب ہوجایا کرتا تھا اور حضرت نقشبند ثانی قدس سرہ نے آپ کو قیومیّت کی بشارت دی تھی چنانچہ حضرت حجۃ اللہ خواجہ محمد نقشبند ثانی قدس سرہ کے وصال کے بعد بروز ہفتہ یکم صفر 1114ھ / 24 جون 1702ء کو مسند قیومیّت و ارشاد پر متمکن ہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں اپنے جد کریم حضرت خواجہ محمد نقشبندِ ثانی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور ان کے خلیفہ ٔ اعظم بنے،اور ان کے وصال کےبعد مسند ارشاد پر فائز ہوئے۔
سیرت وخصائص:
عارف باللہ واصل باللہ، قطب الارشاد، قیومِ زماں، حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی ۔ آپ خاندانِ حضرت مجدد کے فرد فرید، اور ان کی علمی وروحانی امانتوں کے وارث، اور جامع شریعت و طریقت تھے ۔ آپ کی ذاتِ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کوفروغ حاصل ہوا۔حضرت حجۃ اللہ خواجہ محمد ثانی ِ نقشبندکےپوتےاورخلیفۂ اعظم تھے۔آپ اپنے وقت کے قطبِ دوراں اور قیوم زماں تھے۔ آپ کے شب و روز عبادت الٰہی اور خلق خدا کو ہدایت کرنے میں صرف ہوتے تھے۔ آپ کا حلقہ بہت وسیع تھا اور زمانے کے بڑے بڑے علماء و امراء آپ کے معتقد تھے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین و دنیا کی دولت سے سرفراز فرمایا تھا۔ جب بھی آپ دولت کدہ سے باہر تشریف لاتے تو امراء شاہی اپنے دوشالے اور پگڑیاں فرش راہ بناتے تاکہ متبرک ہوجائیں اور آپ کے قدم مبارک زمین پر نہ پڑیں۔ اگر آپ کسی جگہ وعظ، مجلس یا عیادتِ مریض کے لیے تشریف لے جاتے تو آپ کی سواری اور جلوس شاہانہ ہوتا۔ باوجود اس ظاہری کرّو فر کے دل خدا کی طرف لگا ہواتھا۔ آپ ہر امیر و غریب کو ایک نظر سے دیکھتے تھے اور ہر مرید کو درجۂ کمال تک پہنچانے کی سعیٔ بلیغ فرماتے تھے۔کم کھانا،کم بولنا،کم سونا آپ کی زندگی کا خاص اصول تھا۔
آپ فرمایا کرتے تھے کہ فضول اور لغو گفتگو میں بہت سی مصیبتیں اور پریشانیاں پنہاں ہیں کم کھانے سے جسم میں سُستی واقع نہیں ہوتی اورکم سونے سے زیادہ وقت عبادت الٰہی میں گزارسکتے ہیں۔یہ وقت بڑا قیمتی ہے،اس کی قدر کرنی چاہیےتقویٰ،پرہیز گاری،اتباعِ سنّت اورکثرت ِعبادت میں آپ کا کوئی ثانی نہ تھا۔
آپ نہایت کثیر العبادت تھے:
نمازِ تہجّد میں ساٹھ ساٹھ مرتبہ سورۃ یٰسین پڑھا کرتے تھے۔نمازِ فجر کے بعد چاشت تک مراقبہ فرماتے ۔ بعد ازاں قدرے قیلولہ فرماتے اور پھر نمازِ زوال ادا کرتے۔ اس کے بعد تلاوت قرآن مجید میں مشغول ہوجاتے اور پھر نمازِ ظہر سے پہلے حلقہ بنا کر بمع دوستاں ختم خواجگان پڑھتے اور ذکر و فکر کے بعد مریدوں کو توجہ دیتے نماز ظہر ادا کر کے مریدوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔ آپ چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک بار صرف اسی وقت ہی کھانا کھاتے تھے۔ نمازِ عصر کے بعد کبھی حدیث شریف اور کبھی مکتوباتِ امام ربّانی مجدّد الف ثانی قدس سرہ کا دَرس دیا کرتے تھے نمازِ مغرب کے بعد نماز اوابین میں قرآنِ مجید کے دس پارے پڑھتے تھے۔ بعد ازاں حلقۂ ذکر ہوتا۔ پھر نمازِ عشاء پڑھ کر دولت کدہ میں استراحت فرماتے۔ چوبیس ہزار مرتبہ کلمہ طیّبہ، پندرہ ہزار مرتبہ اسم ذات دن کو اور پھر دس ہزار مرتبہ کلمہ شریف رات کو آپ کا دائمی وظیفہ تھا۔ (تاریخ مشائخِ نقشبند:436)
❤1
ایک مرتبہ کسی تقریب میں جامع مسجد کے قریب سے گزرے۔سواری کے ساتھ عقیدت مندوں کا بے شمار ہجوم نجوم تھا۔حضرت شاہ گلشن نے مسجد سے آپ کی سواری کی رونق دیکھ کر اپنی پرانی کملی اتار کر پھینک دی اور کہا کہ اسے جلا دو۔ کیونکہ جس قدر نُور اس بزرگ کی سواری میں ہے اُس کا ایک شمّہ بھی مَیں اپنی کملی میں نہیں دیکھتا۔ حالانکہ تیس سال سے اس کملی میں ریاضت و مجاہدہ کر رہا ہوں۔ کسی نے بتایا کہ یہ حضرت خواجہ محمد زبیر ہیں۔ اس پر شاہ گلشن کہنے لگے، الحمدللہ! یہ تو ہمارے پیر زادہ ہیں اور ہماری عزّت و آبرو ان کے صدقے باقی رہ گئی ہے۔
فضل وکمالات: آپ کا ایک مرید سخت بیمار ہوگیا اور نزع کی حالت طاری ہوگئی۔ اُس کے چھوٹے چھوٹے بچّے تھے۔ اُس کے گھر والے آپ کے پاس حاضر ہوکر عرض گزار ہوئے۔ آپ کو اس کے حال پر رحم آیا اور اُسے اپنے ضمن میں لے لیا۔ وہ شفایاب ہوکرعرصہ دراز تک بقیدِ حیات رہا۔ چونکہ آپ کی رُوح مبارک اُس کی زندگی کی قیّم تھی۔ اس لیے جس دن آپ نے وصال فرمایا وہ شخص بھی دنیا سے چل بسا۔
ایک شخص آپ سے بیعت کرنے کے لیے گھر سے روانہ ہوا۔ راستے میں اُسے ایک گھوڑا سوار ملا۔ اُس نے قصدِ سفر پوچھا تو اُس شخص نے جواب دیا کہ میں حضرت خواجہ محمد زبیر کی خدمت میں بیعت ہونےکےلیےجا رہا ہوں۔گھوڑ سوار نیچے اُترا اور کہا کہ میں ہی خواجہ محمد زبیر ہوں۔ وہ شخص بہت خوش ہوا۔ اور درخواستِ بیعت کی۔ آپ نے اُسے داخل سلسلۂ عالیہ مجّددیہ کیا اور اجازت دے دی۔ اُس شخص نے سوچا کہ مَیں اب تو سرہند شریف کے نزدیک پہنچ گیا ہوں۔ لٰہذا کیوں نہ امام ربّانی حضرت مجدّد الف ثانی قدس سرہ کے روضۂ مقدس کی زیارت بھی کرتا جاؤں۔ جب سرہند شریف میں پہنچا تو دیکھا کہ وہاں لوگوں کا ایک بہت بڑا ہجوم تھا جو کسی کو دفن کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ جب اُس شخص نے دریافت کیا تو پتہ چلا کہ حضرت خواجہ زبیر وصال فرما گئے ہیں۔ جب اُس نے زیارت کی تو وہی شکل مبارک تھی جس نے اُسے راستے میں بیعت کیا تھا۔ایک شخص کابل سے آپ کی زیارت کے ارادہ سےروانہ ہوا۔ راستے میں اُسے ایک شیر ملا جسے دیکھ کر وہ بہت خوفزدہ ہوگیا۔ اُس شخص نے آپ کی طرف توجہ کی تو آپ فوراً تشریف لائے اور ایک پتھر اٹھا کر شیر پر پھینکا جس سے وہ لومڑی کی طرح دم دبا کر بھاگ گیا اور آپ بھی نظروں سے غائب ہوگئے۔(تاریخِ مشائخِ نقشبند:438)
تاریخِ وصال: آپ38برس مسند قیومیت پررونق افروز رہ کربروز بدھ،بوقتِ اشراق،4/ذی قعدہ 1152ھ مطابق 3/فروری1740ءکودہلی میں ہوا۔ آپ کی نعش مبارک سر ہند شریف لائی گئی۔ اور 11/ذیقعد بروز جمعرات شیخ سعدالدین کی حویلی میں جسے آپ نے شیخ موصوف کے بیٹے سے بعوض چار ہزار روپے خریدا تھا میں دفن کیے گئے۔ 1153ھ میں آپ کے مرقدِ انور پر ایک عالی شان روضہ تعمیر کیا گیا۔ جو رنگا رنگ کے نقش و نگار سے آراستہ کیاگیا تھا۔
ماخذومراجع: تاریخ مشائخِ نقشبند۔
جناب صابر براری نےخوب کہا:
قُطبِ دَوراں اور قیومِ زماں تھے بالیقیں ۔۔۔۔۔۔اہلِ بینش جانتے ہیں عظمتِ خواجہ زبیر
سالِ رحلت آپ کا یہ، آپ ہی کے فیض سے۔۔۔۔کہیے صابر ’’نُورِ عالم طلعتِ خواجہ زبیر‘‘
(1740ء)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-muhammad-zubair-sirhindi
فضل وکمالات: آپ کا ایک مرید سخت بیمار ہوگیا اور نزع کی حالت طاری ہوگئی۔ اُس کے چھوٹے چھوٹے بچّے تھے۔ اُس کے گھر والے آپ کے پاس حاضر ہوکر عرض گزار ہوئے۔ آپ کو اس کے حال پر رحم آیا اور اُسے اپنے ضمن میں لے لیا۔ وہ شفایاب ہوکرعرصہ دراز تک بقیدِ حیات رہا۔ چونکہ آپ کی رُوح مبارک اُس کی زندگی کی قیّم تھی۔ اس لیے جس دن آپ نے وصال فرمایا وہ شخص بھی دنیا سے چل بسا۔
ایک شخص آپ سے بیعت کرنے کے لیے گھر سے روانہ ہوا۔ راستے میں اُسے ایک گھوڑا سوار ملا۔ اُس نے قصدِ سفر پوچھا تو اُس شخص نے جواب دیا کہ میں حضرت خواجہ محمد زبیر کی خدمت میں بیعت ہونےکےلیےجا رہا ہوں۔گھوڑ سوار نیچے اُترا اور کہا کہ میں ہی خواجہ محمد زبیر ہوں۔ وہ شخص بہت خوش ہوا۔ اور درخواستِ بیعت کی۔ آپ نے اُسے داخل سلسلۂ عالیہ مجّددیہ کیا اور اجازت دے دی۔ اُس شخص نے سوچا کہ مَیں اب تو سرہند شریف کے نزدیک پہنچ گیا ہوں۔ لٰہذا کیوں نہ امام ربّانی حضرت مجدّد الف ثانی قدس سرہ کے روضۂ مقدس کی زیارت بھی کرتا جاؤں۔ جب سرہند شریف میں پہنچا تو دیکھا کہ وہاں لوگوں کا ایک بہت بڑا ہجوم تھا جو کسی کو دفن کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ جب اُس شخص نے دریافت کیا تو پتہ چلا کہ حضرت خواجہ زبیر وصال فرما گئے ہیں۔ جب اُس نے زیارت کی تو وہی شکل مبارک تھی جس نے اُسے راستے میں بیعت کیا تھا۔ایک شخص کابل سے آپ کی زیارت کے ارادہ سےروانہ ہوا۔ راستے میں اُسے ایک شیر ملا جسے دیکھ کر وہ بہت خوفزدہ ہوگیا۔ اُس شخص نے آپ کی طرف توجہ کی تو آپ فوراً تشریف لائے اور ایک پتھر اٹھا کر شیر پر پھینکا جس سے وہ لومڑی کی طرح دم دبا کر بھاگ گیا اور آپ بھی نظروں سے غائب ہوگئے۔(تاریخِ مشائخِ نقشبند:438)
تاریخِ وصال: آپ38برس مسند قیومیت پررونق افروز رہ کربروز بدھ،بوقتِ اشراق،4/ذی قعدہ 1152ھ مطابق 3/فروری1740ءکودہلی میں ہوا۔ آپ کی نعش مبارک سر ہند شریف لائی گئی۔ اور 11/ذیقعد بروز جمعرات شیخ سعدالدین کی حویلی میں جسے آپ نے شیخ موصوف کے بیٹے سے بعوض چار ہزار روپے خریدا تھا میں دفن کیے گئے۔ 1153ھ میں آپ کے مرقدِ انور پر ایک عالی شان روضہ تعمیر کیا گیا۔ جو رنگا رنگ کے نقش و نگار سے آراستہ کیاگیا تھا۔
ماخذومراجع: تاریخ مشائخِ نقشبند۔
جناب صابر براری نےخوب کہا:
قُطبِ دَوراں اور قیومِ زماں تھے بالیقیں ۔۔۔۔۔۔اہلِ بینش جانتے ہیں عظمتِ خواجہ زبیر
سالِ رحلت آپ کا یہ، آپ ہی کے فیض سے۔۔۔۔کہیے صابر ’’نُورِ عالم طلعتِ خواجہ زبیر‘‘
(1740ء)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-muhammad-zubair-sirhindi
scholars.pk
Hazrat Khawaja Muhammad Zubair Sarahandi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت سید ابراہیم بن محمد دمشقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
سید ابراہیم بن محمد بن محمد کمال الدین بن محمد بن حسین بن محمد بن حمزہ دمشقی:
آپ کا نسب پیغمبر خدا کی طرف منتہیٰ ہوتا ہے اور اپنے اسلاف کی طرح ابن حمزہ کی کنیت سے معروف تھے ۔ اپنے زمانہ کے علامہ، محدث، نحوی، اعلام محدثین اور علمائے جبذہ میں سے حرانی الاصل تھے ۔
دمشق میں سہ شنبہ کی رات کو مابین مغرب عشاء کے ۵ ماہ ذی القعدہ ۱۰۵۴ھ کو پیدا ہوئے اور اسی جگہ اپنے والد کی نگرانی میں پرورش پائی ۔ علوم اپنے والد ماجد اور ایک جماعت علماء و فضلاء سے حاصل کیے اور عمر بھر تدریس اور تنشیرِ علوم میں مصروف رہے ۔
آپ نے اسی شیوخ سے اجازت لی، شیخ ابراہیم برماوی، عبد اللہ بن سالم بصری، شیخ عبد اللہ لاہوری ثم المدنی خیر الدین رسلی اور عبد القادری بغدادی وغیرہ سے استفادہ کیا ۔
آپ کی تصانیف میں ’’اسباب الحدیث‘‘ ’’حاشیہ علی شرح الالفیہ لا بن المصنف‘‘ مشہور ہیں ۔
۱۱۱۹ھ میں حج کیا، واپسی پر بیمار ہوئے اور منزل ذات الحاج میں ۹ صفر ۱۱۲۰ھ کو وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے ’’معجم المؤلفین، ٹونکی‘‘، ابن عزم کی کتاب ’’دستور الاعلام‘‘ کا تکملہ لکھا۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-ibrahim-bin-muhammad-dimashqi
سید ابراہیم بن محمد بن محمد کمال الدین بن محمد بن حسین بن محمد بن حمزہ دمشقی:
آپ کا نسب پیغمبر خدا کی طرف منتہیٰ ہوتا ہے اور اپنے اسلاف کی طرح ابن حمزہ کی کنیت سے معروف تھے ۔ اپنے زمانہ کے علامہ، محدث، نحوی، اعلام محدثین اور علمائے جبذہ میں سے حرانی الاصل تھے ۔
دمشق میں سہ شنبہ کی رات کو مابین مغرب عشاء کے ۵ ماہ ذی القعدہ ۱۰۵۴ھ کو پیدا ہوئے اور اسی جگہ اپنے والد کی نگرانی میں پرورش پائی ۔ علوم اپنے والد ماجد اور ایک جماعت علماء و فضلاء سے حاصل کیے اور عمر بھر تدریس اور تنشیرِ علوم میں مصروف رہے ۔
آپ نے اسی شیوخ سے اجازت لی، شیخ ابراہیم برماوی، عبد اللہ بن سالم بصری، شیخ عبد اللہ لاہوری ثم المدنی خیر الدین رسلی اور عبد القادری بغدادی وغیرہ سے استفادہ کیا ۔
آپ کی تصانیف میں ’’اسباب الحدیث‘‘ ’’حاشیہ علی شرح الالفیہ لا بن المصنف‘‘ مشہور ہیں ۔
۱۱۱۹ھ میں حج کیا، واپسی پر بیمار ہوئے اور منزل ذات الحاج میں ۹ صفر ۱۱۲۰ھ کو وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے ’’معجم المؤلفین، ٹونکی‘‘، ابن عزم کی کتاب ’’دستور الاعلام‘‘ کا تکملہ لکھا۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-ibrahim-bin-muhammad-dimashqi
scholars.pk
Hazrat Syed Ibrahim Bin Muhammad Dimashqi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
مولانا عبد الواحد عثمانی بد ایونی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:اسمِ گرامی:مولانا عبدالواحدعثمانی بدایونی۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:مولانا عبدالوحد بدایونی بن مولانا حکیم ابوالمنظور عبدالماجد بدایونی بن مولانا عبد القیوم قادری بدایونی بن مولانا حافظ فرید جیلانی،بن مولانامحی الدین بدایونی بن سیف اللہ المسلول شاہ فضل رسول بدایونی بن مولانا شاہ عین الحق عبدالمجیدبدایونی۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔آپ کےوالدِگرامی مولانا عبدالماجد بدایونی فاتحِ سرحدمجاہدِملت حضرت علامہ عبدالحامد بدایونی کےبرادرِ
اکبرتھے۔عالم فاضل تمام علوم عقلیہ ونقلیہ میں مہارتِ تامہ رکھتےتھے۔خلاصۃ المنطق،خلاصۃ خلاصۃ الفلسفہ،خلاصۃ العقائد،اور القول السدیدعمدہ تصانیف ہیں۔(تذکرہ خانوادۂ قادریہ:46)
تاریخِ ولادت: آپ کا سن ِ ولادت کسی کتاب میں نہیں ملا۔تقریباً 18ویں صدی کےآخرمیں آپ کی پیدائش ہوئی ہوگی۔
تحصیلِ علم:آپ قبۃ الاسلام بد ایوں میں پیدا ہوئے،بدایوں علم وفن کا مرکز تھا۔علمی ماحول اور نا زونعم میں پر ورش پائی،ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی،مدرسہ قادریہ ،بد ایوں اورمدرسہ شمس العلوم بد ایوں میں اجلہ اساتذہ حضرت مولانا مفتی حافظ بخش بد ایونی اور مولانا حبیب الرحمن قادری سے استفادہ کیا۔پھر حصولِ علم کےلئےمولانا مفتی قدیربخش کی خدمت میں حاضر ہوئے۔انہوں نےآپ کے لئے بڑا آرام دہ انتظام کیا تھا۔مولانا عبد الواحد بد ایونی اپنے استاذ مکرم کا ذکر بڑی عقیدت سے کیا کرتے تھے۔والد گرامی مولانا عبد الماجد بد ایونی انہیں جامعہ ازہر مصر بھیجنا چاہتے تھے۔لیکن ان کی وفات سے یہ منصوبہ پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔البتہ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان دیا اور کامیاب ہو ئے۔والد ماجد کاتعلیم میں نہایت اہم کردار رہا۔
بیعت وخلافت: سلسلۂ عالیہ قادریہ میں عاشق رسول حضرت مولانا محمد عبد القدیر بد ایونی بن تاج الفحول حضرت مولانا شاہ محب رسول عبد القادر بد ایونی( قدس سرہما) سے بیعت تھے اور مرشد گرامی سے والہانہ محبت و عقیدت رکھتے تھے۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:277)
سیرت وخصائص:فاضل کامل،عالم متبحر،ماہر علوم جدیدہ وقدیمہ،حاویِ السنہ شرقیہ حضرت علامہ مولانا عبدالواحد عثمانی بدایونی۔آپخاندان ِ سیف اللہ المسلول حضرت مولانا شاہ فضل رسول بدایونیکےعظیم علمی وروحانی خانوادےسےتعلق رکھتےتھے۔آپ کےآباؤاجدادعلم وفضل زہدوتقویٰ میں ایک مقام رکھتےتھے۔اس خانوادےدینی وملی خدمات ظاہر وباہر ہیں۔فاتحِ سرحد،مجاہد کشمیر،قائد تحریکِ پاکستان حضرت علامہ مولانا عبدالحامد بدایونیکاشماراکابرعلماء اہل سنت اور اکابر تحریکِ پاکستان میں ہوتاہے،آپ کےچچا محترم ہیں۔آپ کےوالد گرامی ایک جید عالم دین اورخدا رسیدہ بزرگ تھے۔
تحریک پاکستان میں خدمات:مولانا عبد الواحد عثمانی بد ایونیایک محرک عالم دین تھے۔قوم وملت کادرد ورثےمیں ملاتھا۔آپ نے کچھ دنوں ماہنامہ ’’المنظور‘‘بد ایوں سنبھالاپھرمولانا مظہر الدین شیرکوٹی(1939ء) مالک و مدیر سہ روزہ’’ الامان‘‘ (دہلی) نے انہیں اپنے پاس بلالیا اور الامان کی ادارت ان کے سپرد کردی۔ان دنوں تحریک پاکستان بڑے زور شور سے جاری تھی۔مولانا عبد الواحد نےالامان اور دیگر جرائد و اخبارات میں مضامین لکھےاورشدومدسےنظریۂ پاکستان کی حمایت کی ۔ قیامِ پاکستان تک دہلی میں رہے،پھر وہاں سے بد ایوں اورپھرکراچی آگئے،لالو کھیت میں خاموشی اور گمنامی سے وقت بسر کیا۔کچھ دنو ں محکمہ آباد کاری میں ملاز رہے کئی اسکولوں اور مد رسوں سے متعلق رہے،پنجاب یو نیورسٹی کے السنۂ شرقیہ کے ممتحن بھی رہے۔حضر ت مولاناعبد الواحد بد ایونی ادب عربی کے زبر دست فاضل اور میدان خطابت کے شعلہ بیان مقرر تھے۔ موزون طبیعت کے مالک تھے۔کبھی نعت اورسلام لکھاکرتےتھے۔الامان دہلی کی ادارت کے زمانے میں ایک کتاب’’اسلامی مساوات ‘‘ لکھی تھی جو بہت مقبول ہوئی۔ کراچی میں آپ کےوالد ِماجد کےمریدین اور معتقدین کی خاصی تعداد تھی لیکن آپ نے کبھی ان سے رابطہ نہیں بڑھایا ۔ قدرت نے ان کے مزاج میں کمال استغنا ء و دیعت فرمایا تھا۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:278)
نام ونسب:اسمِ گرامی:مولانا عبدالواحدعثمانی بدایونی۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:مولانا عبدالوحد بدایونی بن مولانا حکیم ابوالمنظور عبدالماجد بدایونی بن مولانا عبد القیوم قادری بدایونی بن مولانا حافظ فرید جیلانی،بن مولانامحی الدین بدایونی بن سیف اللہ المسلول شاہ فضل رسول بدایونی بن مولانا شاہ عین الحق عبدالمجیدبدایونی۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔آپ کےوالدِگرامی مولانا عبدالماجد بدایونی فاتحِ سرحدمجاہدِملت حضرت علامہ عبدالحامد بدایونی کےبرادرِ
اکبرتھے۔عالم فاضل تمام علوم عقلیہ ونقلیہ میں مہارتِ تامہ رکھتےتھے۔خلاصۃ المنطق،خلاصۃ خلاصۃ الفلسفہ،خلاصۃ العقائد،اور القول السدیدعمدہ تصانیف ہیں۔(تذکرہ خانوادۂ قادریہ:46)
تاریخِ ولادت: آپ کا سن ِ ولادت کسی کتاب میں نہیں ملا۔تقریباً 18ویں صدی کےآخرمیں آپ کی پیدائش ہوئی ہوگی۔
تحصیلِ علم:آپ قبۃ الاسلام بد ایوں میں پیدا ہوئے،بدایوں علم وفن کا مرکز تھا۔علمی ماحول اور نا زونعم میں پر ورش پائی،ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی،مدرسہ قادریہ ،بد ایوں اورمدرسہ شمس العلوم بد ایوں میں اجلہ اساتذہ حضرت مولانا مفتی حافظ بخش بد ایونی اور مولانا حبیب الرحمن قادری سے استفادہ کیا۔پھر حصولِ علم کےلئےمولانا مفتی قدیربخش کی خدمت میں حاضر ہوئے۔انہوں نےآپ کے لئے بڑا آرام دہ انتظام کیا تھا۔مولانا عبد الواحد بد ایونی اپنے استاذ مکرم کا ذکر بڑی عقیدت سے کیا کرتے تھے۔والد گرامی مولانا عبد الماجد بد ایونی انہیں جامعہ ازہر مصر بھیجنا چاہتے تھے۔لیکن ان کی وفات سے یہ منصوبہ پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔البتہ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان دیا اور کامیاب ہو ئے۔والد ماجد کاتعلیم میں نہایت اہم کردار رہا۔
بیعت وخلافت: سلسلۂ عالیہ قادریہ میں عاشق رسول حضرت مولانا محمد عبد القدیر بد ایونی بن تاج الفحول حضرت مولانا شاہ محب رسول عبد القادر بد ایونی( قدس سرہما) سے بیعت تھے اور مرشد گرامی سے والہانہ محبت و عقیدت رکھتے تھے۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:277)
سیرت وخصائص:فاضل کامل،عالم متبحر،ماہر علوم جدیدہ وقدیمہ،حاویِ السنہ شرقیہ حضرت علامہ مولانا عبدالواحد عثمانی بدایونی۔آپخاندان ِ سیف اللہ المسلول حضرت مولانا شاہ فضل رسول بدایونیکےعظیم علمی وروحانی خانوادےسےتعلق رکھتےتھے۔آپ کےآباؤاجدادعلم وفضل زہدوتقویٰ میں ایک مقام رکھتےتھے۔اس خانوادےدینی وملی خدمات ظاہر وباہر ہیں۔فاتحِ سرحد،مجاہد کشمیر،قائد تحریکِ پاکستان حضرت علامہ مولانا عبدالحامد بدایونیکاشماراکابرعلماء اہل سنت اور اکابر تحریکِ پاکستان میں ہوتاہے،آپ کےچچا محترم ہیں۔آپ کےوالد گرامی ایک جید عالم دین اورخدا رسیدہ بزرگ تھے۔
تحریک پاکستان میں خدمات:مولانا عبد الواحد عثمانی بد ایونیایک محرک عالم دین تھے۔قوم وملت کادرد ورثےمیں ملاتھا۔آپ نے کچھ دنوں ماہنامہ ’’المنظور‘‘بد ایوں سنبھالاپھرمولانا مظہر الدین شیرکوٹی(1939ء) مالک و مدیر سہ روزہ’’ الامان‘‘ (دہلی) نے انہیں اپنے پاس بلالیا اور الامان کی ادارت ان کے سپرد کردی۔ان دنوں تحریک پاکستان بڑے زور شور سے جاری تھی۔مولانا عبد الواحد نےالامان اور دیگر جرائد و اخبارات میں مضامین لکھےاورشدومدسےنظریۂ پاکستان کی حمایت کی ۔ قیامِ پاکستان تک دہلی میں رہے،پھر وہاں سے بد ایوں اورپھرکراچی آگئے،لالو کھیت میں خاموشی اور گمنامی سے وقت بسر کیا۔کچھ دنو ں محکمہ آباد کاری میں ملاز رہے کئی اسکولوں اور مد رسوں سے متعلق رہے،پنجاب یو نیورسٹی کے السنۂ شرقیہ کے ممتحن بھی رہے۔حضر ت مولاناعبد الواحد بد ایونی ادب عربی کے زبر دست فاضل اور میدان خطابت کے شعلہ بیان مقرر تھے۔ موزون طبیعت کے مالک تھے۔کبھی نعت اورسلام لکھاکرتےتھے۔الامان دہلی کی ادارت کے زمانے میں ایک کتاب’’اسلامی مساوات ‘‘ لکھی تھی جو بہت مقبول ہوئی۔ کراچی میں آپ کےوالد ِماجد کےمریدین اور معتقدین کی خاصی تعداد تھی لیکن آپ نے کبھی ان سے رابطہ نہیں بڑھایا ۔ قدرت نے ان کے مزاج میں کمال استغنا ء و دیعت فرمایا تھا۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:278)
❤1
پروفیسر محمد ایوب قادری حکیم محمد موسیٰ امر تسری کے نام ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
’’ 9/نومبر1975ء کو مولانا عبد الوحد عثمانی بد ایونی کا انتقال ہوگیا،یہ مولانا عبد الماجد بد ایونی کے فرزند تھے۔بڑے باپ کے بڑے بیٹے تھے،لالو کھیت کو ارٹر میں رہے ،خاندان،سجاد گی اور علم و فضل کو حصول تعارف اوراعزاز کا ذریعہ نہیں بنایا ، گم نامی میں زندگی گزاردی،تقسیم سے پہلے الامان و و حدت کے ادارےسےوابستہ تھے۔بڑی خوبیوں کے بزرگ اور اپنے اسلاف کےصحیح جانشین تھے۔مولانا فضل رسول بد ایونی کے خاندان میں اب کوئی شخص عربی جاننےوالانہیں رہا۔یہ آخری رکن تھے،دو سو سال سے جس خاندان میں قال اللہ،اورقال الرسول کا چرچاتھااب بالکل معدوم ہو گیا ۔(ایضا:278)
تاریخِ وصال:
5 ذوالقعدہ 1395ھ مطابق9 نومبر 1975ء بروز اتوار، کراچی میں ہوا ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابراہل سنت ۔ تذکرہ خانوادۂ قادریہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-wahid-usmani
’’ 9/نومبر1975ء کو مولانا عبد الوحد عثمانی بد ایونی کا انتقال ہوگیا،یہ مولانا عبد الماجد بد ایونی کے فرزند تھے۔بڑے باپ کے بڑے بیٹے تھے،لالو کھیت کو ارٹر میں رہے ،خاندان،سجاد گی اور علم و فضل کو حصول تعارف اوراعزاز کا ذریعہ نہیں بنایا ، گم نامی میں زندگی گزاردی،تقسیم سے پہلے الامان و و حدت کے ادارےسےوابستہ تھے۔بڑی خوبیوں کے بزرگ اور اپنے اسلاف کےصحیح جانشین تھے۔مولانا فضل رسول بد ایونی کے خاندان میں اب کوئی شخص عربی جاننےوالانہیں رہا۔یہ آخری رکن تھے،دو سو سال سے جس خاندان میں قال اللہ،اورقال الرسول کا چرچاتھااب بالکل معدوم ہو گیا ۔(ایضا:278)
تاریخِ وصال:
5 ذوالقعدہ 1395ھ مطابق9 نومبر 1975ء بروز اتوار، کراچی میں ہوا ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابراہل سنت ۔ تذکرہ خانوادۂ قادریہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-wahid-usmani
scholars.pk
Hazrat Molana Abdul Wahid
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
حضرت مولانا فضل امام خیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:اسم گرامی:مولانا فضل امام خیرآبادی۔لقب: بانیِ سلسلہ خیرآبادیت،امام المعقولات۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:مولانا فضل امام خیرآبادی بن شیخ محمد ارشد بن حافظ محمد صالح بن مولانا عبدالواجد بن عبدالماجد بن قاضی صدرالدین بن قاضی اسماعیل ہرگامی بن قاضی عماد بدایونی بن شیخ ارزانی بدایونی بن شیخ منور بن شیخ خطیرالملک بن شیخ سالار شام بن شیخ وجیہ الملک بن شیخ بہاؤالدین ب شیر الملک شاہ ایرانی بن شاہ عطاء الملک بن ملک بادشاہ بن حاکم بن عادل بن تائروں بن جرجیس بن احمد نامدار بن محمد شہریار بن محمد عثمان بن دامان بن ہمایوں بن قریش بن سلیمان بن عفان بن عبداللہ بن محمد بن عبداللہ بن امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہم اجمعین۔(باغیِ ہندوستان:66)۔اس طرح 33واسطوں سےسلسلہ نسب حضرت خلیفہ ثانی تک پہنچتاہے۔
علامہ فضل امام خیرآبادیکے مورث اعلیٰ شیرالملک بن شاہ عطاء الملک ایران کےایک قطعےکےحکمران تھے۔زوال ریاست پر دولت علم کمائی۔شیر الملک کےدو صاحبزادے بہاؤالدین اور شمس ا لدین صاحبِ علم وفضل تھے۔اس وقت ہندوستان قدردانیِ علماء ومشاہیراور اولیاء میں دیگرخطوں اور ملکوں سےممتاز تھا۔اس لئے تمام اہل علم وکمال اس خطے کی طرف کھچے چلےآرہےتھے۔یہ دونوں بھائی ایران سےوارد ہندوستان ہوئے۔شمس الدین نےمسند افتاء روہتک میں سنبھالی۔حضرت شاہ ولی اللہ بن شاہ عبدالرحیم محدث دہلوی انہیں کےاولاد میں سےتھے۔بہاؤالدین بدایوں کےمفتی ہوئے۔ان کی اولادسےحضرت علامہ فضل امام خیرآبادیہوئے۔یہ خاندان علم وفضل زہدوتقویٰ میں اپنی مثال آپ رہا۔سلاطین وامراء اور ،جید علماء ومصنفینِ کتب اس خانوادےکےخوشہ چین رہے ہیں۔کون نہیں جانتاکہ بارہویں اور تیرہویں صدی عیسوی میں برصغیر(پاک وہند)میں شرافت ونجابت،علم وفضل،اور وسیع تر دینی وقومی خدمات کےلحاظ سےدوخانوادےمنفرداورممتازنظرآتےہیں۔ایک خانوادۂ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویاوردوسراخانوادۂ مولانا فضل امام خیرآبادی۔منقولات میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی علیہما الرحمہ اور معقولات میں حضرت شاہ فضل امام خیر آبادی اور ان کےصاحبزادےمجاہد جنگ آزادی حضرت علامہ فضل حق خیرآبادی علیہماالرحمہ سلسلۂ علوم کےمرجع اور انتہاء ہیں۔
تاریخِ ولادت: آپ کاسنِ ولادت دستیاب نہیں ہوسکا۔قیاس یہ ہے کہ بارہویں صدی کےربعِ آخر میں آپ کی پیدائش ہوئی ہوگی۔(خیرآبادیات)
تحصیلِ علم: حضرت علامہ فضل امام خیرآبادیبچپن میں ہی بڑےطباع اور ذہین تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی سے حاصل کی۔پھرمولانا سید عبدالواجد خیرآبادیسےتحصیل وتکمیل فرمائی۔(خیرآبادیات:22)
بیعت وخلافت: آپ مولانا شاہ صلاح الدین صفوی(مریدوخلیفہ حضرت مولانا شاہ قدرت اللہ صفی پوری)کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔(تذکرہ علمائے اہل سنت:210)
سیرت وخصائص: اکمل افراد نوع انسی،مہبط انوار فیوض قدسی،سراب سرچشمۂ عین الیقین،مؤسس اساس دین وملت ،ماحی بدعت،حامیِ قرآن وسنت،محی مراسم علم ،قدوۂ علمائے فحول،حاویِ معقول ومنقول،سند اکابر روزگار،مرجعِ اعالی وادانی ہر دیار،مزاجدان شخص کمال،جامع صفات جلال وجمال،موردِفیضِ ازل وابد،سلسلۂ حکمت اشراقی ومشائی،زبدۂ کرام،اسوۂ عظام،مقتدائےانام،حضرت علامہ مولانافضل امام خیرآبادی۔آپمنقولات ومعقولات کےامام ،اور اپنےوقت میں مرجع العلماء تھے۔فراغتِ علم کےبعد دہلی تشریف لائےاور ملازمت سےوابستہ ہوئے۔پہلے مفتی کےعہدےپر فائز ہوئےاور ترقی کرکےصدرالصدور کےعہدےتک پہنچے۔دہلی میں درس گاہ آراستہ کی اور معقولات کےایک مخصوص مدرسے کی بنیاد ڈالی،جہاں علامہ فضل حق خیرآبادی،صدرالصدور مفتی صدرالدین آزردہ،اور حضرت شاہ غوث علی پانی پتی،علیہم الرحمہ جیسے اصحاب علم وفضل آپ کی درس گاہ سےفارغ ہوکر نکلے۔مادۂ افہام وتفہیم قدرت نےایسا عطاء کیا تھا کہ ایک بار شریک درس ہونےکےبعد طالب علم دوسری طرف کارخ نہیں کرتےتھے۔حضرت غوث علی شاہ پانیفرماتےہیں: مجھے حضرت شاہ عبدالعزیز،شاہ عبدالقادر،اور مولانا فضل امام کی شاگردی کاشرف وفخر حاصل ہے۔لیکن جوشفقت مولانا فضل امام فرماتےتھے،میں اس کوکبھی فراموش نہیں کرسکتا۔مولانا کےساتھ م دہلی سے پٹیالہ تعلیم کی غرض سےمیں بھی چلا گیا۔میری عمر اٹھارہ سال تھی کہ استاد محترم کاانتقال ہوگیا۔میں نےبھی تعلیم کو خیر آباد کہ دیا،کہ نہ ایساشفیق وقابل استاد ملےگا،اور نہ پڑھوں گا۔(باغیِ ہندوستان:71)
علمی قابلیت وصلاحیت کااندازہ تو اسی سےکیا جاسکتاہے کہ ایک جانب شاہ عبدالعزیز اور شاہ عبدالقادرعلیہماالرحمہ کاڈنکا منقولات میں بج رہاتھا اور دوسری طرف اسی دہلی میں مولانا فضل امام کےمعقولا ت کاسکہ چل رہاتھا۔طلباء دونوں دریاؤں سےسیراب ہورہےتھے۔آپ کی فضیلت و شرف کےلئےاتناہی کافی ہےکہ’’سلسلۂ خیرآبادیات‘‘علم وفن کااستعارہ بن گیا۔اس سلسلۂ علم وفن کےایسےعظیم ونامورعلماء ِ کرام گزرےہیں جنہوں نےایک جہان کو
نام ونسب:اسم گرامی:مولانا فضل امام خیرآبادی۔لقب: بانیِ سلسلہ خیرآبادیت،امام المعقولات۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:مولانا فضل امام خیرآبادی بن شیخ محمد ارشد بن حافظ محمد صالح بن مولانا عبدالواجد بن عبدالماجد بن قاضی صدرالدین بن قاضی اسماعیل ہرگامی بن قاضی عماد بدایونی بن شیخ ارزانی بدایونی بن شیخ منور بن شیخ خطیرالملک بن شیخ سالار شام بن شیخ وجیہ الملک بن شیخ بہاؤالدین ب شیر الملک شاہ ایرانی بن شاہ عطاء الملک بن ملک بادشاہ بن حاکم بن عادل بن تائروں بن جرجیس بن احمد نامدار بن محمد شہریار بن محمد عثمان بن دامان بن ہمایوں بن قریش بن سلیمان بن عفان بن عبداللہ بن محمد بن عبداللہ بن امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہم اجمعین۔(باغیِ ہندوستان:66)۔اس طرح 33واسطوں سےسلسلہ نسب حضرت خلیفہ ثانی تک پہنچتاہے۔
علامہ فضل امام خیرآبادیکے مورث اعلیٰ شیرالملک بن شاہ عطاء الملک ایران کےایک قطعےکےحکمران تھے۔زوال ریاست پر دولت علم کمائی۔شیر الملک کےدو صاحبزادے بہاؤالدین اور شمس ا لدین صاحبِ علم وفضل تھے۔اس وقت ہندوستان قدردانیِ علماء ومشاہیراور اولیاء میں دیگرخطوں اور ملکوں سےممتاز تھا۔اس لئے تمام اہل علم وکمال اس خطے کی طرف کھچے چلےآرہےتھے۔یہ دونوں بھائی ایران سےوارد ہندوستان ہوئے۔شمس الدین نےمسند افتاء روہتک میں سنبھالی۔حضرت شاہ ولی اللہ بن شاہ عبدالرحیم محدث دہلوی انہیں کےاولاد میں سےتھے۔بہاؤالدین بدایوں کےمفتی ہوئے۔ان کی اولادسےحضرت علامہ فضل امام خیرآبادیہوئے۔یہ خاندان علم وفضل زہدوتقویٰ میں اپنی مثال آپ رہا۔سلاطین وامراء اور ،جید علماء ومصنفینِ کتب اس خانوادےکےخوشہ چین رہے ہیں۔کون نہیں جانتاکہ بارہویں اور تیرہویں صدی عیسوی میں برصغیر(پاک وہند)میں شرافت ونجابت،علم وفضل،اور وسیع تر دینی وقومی خدمات کےلحاظ سےدوخانوادےمنفرداورممتازنظرآتےہیں۔ایک خانوادۂ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویاوردوسراخانوادۂ مولانا فضل امام خیرآبادی۔منقولات میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی علیہما الرحمہ اور معقولات میں حضرت شاہ فضل امام خیر آبادی اور ان کےصاحبزادےمجاہد جنگ آزادی حضرت علامہ فضل حق خیرآبادی علیہماالرحمہ سلسلۂ علوم کےمرجع اور انتہاء ہیں۔
تاریخِ ولادت: آپ کاسنِ ولادت دستیاب نہیں ہوسکا۔قیاس یہ ہے کہ بارہویں صدی کےربعِ آخر میں آپ کی پیدائش ہوئی ہوگی۔(خیرآبادیات)
تحصیلِ علم: حضرت علامہ فضل امام خیرآبادیبچپن میں ہی بڑےطباع اور ذہین تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی سے حاصل کی۔پھرمولانا سید عبدالواجد خیرآبادیسےتحصیل وتکمیل فرمائی۔(خیرآبادیات:22)
بیعت وخلافت: آپ مولانا شاہ صلاح الدین صفوی(مریدوخلیفہ حضرت مولانا شاہ قدرت اللہ صفی پوری)کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔(تذکرہ علمائے اہل سنت:210)
سیرت وخصائص: اکمل افراد نوع انسی،مہبط انوار فیوض قدسی،سراب سرچشمۂ عین الیقین،مؤسس اساس دین وملت ،ماحی بدعت،حامیِ قرآن وسنت،محی مراسم علم ،قدوۂ علمائے فحول،حاویِ معقول ومنقول،سند اکابر روزگار،مرجعِ اعالی وادانی ہر دیار،مزاجدان شخص کمال،جامع صفات جلال وجمال،موردِفیضِ ازل وابد،سلسلۂ حکمت اشراقی ومشائی،زبدۂ کرام،اسوۂ عظام،مقتدائےانام،حضرت علامہ مولانافضل امام خیرآبادی۔آپمنقولات ومعقولات کےامام ،اور اپنےوقت میں مرجع العلماء تھے۔فراغتِ علم کےبعد دہلی تشریف لائےاور ملازمت سےوابستہ ہوئے۔پہلے مفتی کےعہدےپر فائز ہوئےاور ترقی کرکےصدرالصدور کےعہدےتک پہنچے۔دہلی میں درس گاہ آراستہ کی اور معقولات کےایک مخصوص مدرسے کی بنیاد ڈالی،جہاں علامہ فضل حق خیرآبادی،صدرالصدور مفتی صدرالدین آزردہ،اور حضرت شاہ غوث علی پانی پتی،علیہم الرحمہ جیسے اصحاب علم وفضل آپ کی درس گاہ سےفارغ ہوکر نکلے۔مادۂ افہام وتفہیم قدرت نےایسا عطاء کیا تھا کہ ایک بار شریک درس ہونےکےبعد طالب علم دوسری طرف کارخ نہیں کرتےتھے۔حضرت غوث علی شاہ پانیفرماتےہیں: مجھے حضرت شاہ عبدالعزیز،شاہ عبدالقادر،اور مولانا فضل امام کی شاگردی کاشرف وفخر حاصل ہے۔لیکن جوشفقت مولانا فضل امام فرماتےتھے،میں اس کوکبھی فراموش نہیں کرسکتا۔مولانا کےساتھ م دہلی سے پٹیالہ تعلیم کی غرض سےمیں بھی چلا گیا۔میری عمر اٹھارہ سال تھی کہ استاد محترم کاانتقال ہوگیا۔میں نےبھی تعلیم کو خیر آباد کہ دیا،کہ نہ ایساشفیق وقابل استاد ملےگا،اور نہ پڑھوں گا۔(باغیِ ہندوستان:71)
علمی قابلیت وصلاحیت کااندازہ تو اسی سےکیا جاسکتاہے کہ ایک جانب شاہ عبدالعزیز اور شاہ عبدالقادرعلیہماالرحمہ کاڈنکا منقولات میں بج رہاتھا اور دوسری طرف اسی دہلی میں مولانا فضل امام کےمعقولا ت کاسکہ چل رہاتھا۔طلباء دونوں دریاؤں سےسیراب ہورہےتھے۔آپ کی فضیلت و شرف کےلئےاتناہی کافی ہےکہ’’سلسلۂ خیرآبادیات‘‘علم وفن کااستعارہ بن گیا۔اس سلسلۂ علم وفن کےایسےعظیم ونامورعلماء ِ کرام گزرےہیں جنہوں نےایک جہان کو
❤1
علم کےنور سےمنورکیا اور کررہےہیں۔علامہ فضل حق خیرآبادی،مفتی صدرالدین آزردہ،علامہ عبدالحق خیرآبادی،سیدبرکات احمد ٹونکی،علامۃ الہند مولانا معین الدین اجمیری،صدرالشریعہ مولانا امجد علی اعظمی،مولانا یارمحمد بندیالوی،ملک المدرسین مولانا عطاء محمد بندیالوی وغیرہ کثیر وجیدعلماء علیہم الرحمۃ والرضوان۔تلامذہ درتلامذہ ۔سب اسی آسمان علم کےچمکتے ستارے اور دبستان علم کےمہکتےپھول ہیں۔
علم کےساتھ عمل،فتویٰ اور تقویٰ کےجامع تھے۔روحانیت میں بھی بلند مرتبےپر فائز تھے۔آپ کےوالد شیخ محمد ارشدفرشتہ سیرت انسان تھے۔ذکرواذکارمیں مشغول رہتےتھے۔مولانااحمداللہبن حاجی صفت اللہ محدث خیرآبادیسےبیعت تھے۔آپ کےایک صاحبزادےعالم جوانی میں فوت ہوگئے۔مولانا فضل امام ابتدائی عمر میں بہ اقتضاء نوعمری احکام شرعیہ پرسختی سےپابند نہ تھے۔اس لئے مولانا کےوالد کو تشویش رہتی تھی۔پیر ومرشد کی خدمت میں قلبی بےچینی ظاہرکی۔پیر نےدعاکی۔شب میں سرکار دوعالم ﷺکی زیارت سےمشرف ہوئے۔ سرکار ﷺ پکےباغ (ایک جگہ کانام) تشریف لائے اور بیل کےنیچےوضو فرمایا ۔بعد نماز فجر پیر ومرید دونوں ایک دوسرے کومبارک باد دینےروانہ ہوئے۔راستےمیں دونوں کی ملاقات ہوئی توایک دوسرےکوبشارت کاحال بتایا۔وہیں سےپکےباغ میں پہنچے تو دیکھاکہ مقام معہود پروضو کااثر یعنی پانی کی تری موجود تھی۔ایک عرصے تک لوگ اس جگہ کی زیارت کرتےرہے۔مولانا نقی علی خاناپنےصاحبزادےاعلیٰ حضرت امام احمدرضا خاںکے ہمراہ اس مقام کی زیارت کےلئے بریلی سے خیرآباد پہنچے اور مولانا حسن بخش کےمہمان ہوئے۔(باغیِ ہندوستان:72)
مولانا فضل امام نےدہلی میں خواب دیکھا کہ رسول اللہﷺمکان میں تشریف فرماہوئے ہیں،اور فلاں کمرےمیں اقامت گزیں ہیں۔تعبیردریافت کرنےکےلئے اپنےبیٹےعلامہ فضل حق کوحضرت شاہ عبدالعزیزکی خدمت میں بھیجا۔شاہ صاحب نےفرمایا:’’فوراً جاکر سامان کمرےسےنکال لو اور اس کوبالکل خالی کردو۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ خالی ہوتے ہی وہ کمرہ فوراً گر گیا‘‘ ۔ بعد میں شاہ صاحب سےدریافت کیا گیاکہ یہ تعبیر کس طرح نکالی۔فرمایا:جب علامہ پوچھنےآئے تھے تو اسی وقت بے اختیاریہ آیت ذہن میں آگئی تھی۔ ان الملوک اذا دخلوا قریۃ ًافسدوھا ۔ (باغیِ ہندوستان ص:73)
تاریخِ وصال:
5 ذوالقعدہ 1240ھ، مطابق وسط ماہ ِجولائی 1825ء کو واصل باللہ ہوئے ۔ خیر آباد (انڈیا) میں احاطۂ درگاہ حضرت شیخ سعدالدین خیر آبادی میں مولانا محمد اعظم سندیلوی محدث، مولانا عبد الوجد خیرآبادی اورآپ کی قبریں ایک ساتھ ہیں۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ خیر آبادیات ۔ باغیِ ہندوستان ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-fazal-imam-khair-abadi
علم کےساتھ عمل،فتویٰ اور تقویٰ کےجامع تھے۔روحانیت میں بھی بلند مرتبےپر فائز تھے۔آپ کےوالد شیخ محمد ارشدفرشتہ سیرت انسان تھے۔ذکرواذکارمیں مشغول رہتےتھے۔مولانااحمداللہبن حاجی صفت اللہ محدث خیرآبادیسےبیعت تھے۔آپ کےایک صاحبزادےعالم جوانی میں فوت ہوگئے۔مولانا فضل امام ابتدائی عمر میں بہ اقتضاء نوعمری احکام شرعیہ پرسختی سےپابند نہ تھے۔اس لئے مولانا کےوالد کو تشویش رہتی تھی۔پیر ومرشد کی خدمت میں قلبی بےچینی ظاہرکی۔پیر نےدعاکی۔شب میں سرکار دوعالم ﷺکی زیارت سےمشرف ہوئے۔ سرکار ﷺ پکےباغ (ایک جگہ کانام) تشریف لائے اور بیل کےنیچےوضو فرمایا ۔بعد نماز فجر پیر ومرید دونوں ایک دوسرے کومبارک باد دینےروانہ ہوئے۔راستےمیں دونوں کی ملاقات ہوئی توایک دوسرےکوبشارت کاحال بتایا۔وہیں سےپکےباغ میں پہنچے تو دیکھاکہ مقام معہود پروضو کااثر یعنی پانی کی تری موجود تھی۔ایک عرصے تک لوگ اس جگہ کی زیارت کرتےرہے۔مولانا نقی علی خاناپنےصاحبزادےاعلیٰ حضرت امام احمدرضا خاںکے ہمراہ اس مقام کی زیارت کےلئے بریلی سے خیرآباد پہنچے اور مولانا حسن بخش کےمہمان ہوئے۔(باغیِ ہندوستان:72)
مولانا فضل امام نےدہلی میں خواب دیکھا کہ رسول اللہﷺمکان میں تشریف فرماہوئے ہیں،اور فلاں کمرےمیں اقامت گزیں ہیں۔تعبیردریافت کرنےکےلئے اپنےبیٹےعلامہ فضل حق کوحضرت شاہ عبدالعزیزکی خدمت میں بھیجا۔شاہ صاحب نےفرمایا:’’فوراً جاکر سامان کمرےسےنکال لو اور اس کوبالکل خالی کردو۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ خالی ہوتے ہی وہ کمرہ فوراً گر گیا‘‘ ۔ بعد میں شاہ صاحب سےدریافت کیا گیاکہ یہ تعبیر کس طرح نکالی۔فرمایا:جب علامہ پوچھنےآئے تھے تو اسی وقت بے اختیاریہ آیت ذہن میں آگئی تھی۔ ان الملوک اذا دخلوا قریۃ ًافسدوھا ۔ (باغیِ ہندوستان ص:73)
تاریخِ وصال:
5 ذوالقعدہ 1240ھ، مطابق وسط ماہ ِجولائی 1825ء کو واصل باللہ ہوئے ۔ خیر آباد (انڈیا) میں احاطۂ درگاہ حضرت شیخ سعدالدین خیر آبادی میں مولانا محمد اعظم سندیلوی محدث، مولانا عبد الوجد خیرآبادی اورآپ کی قبریں ایک ساتھ ہیں۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ خیر آبادیات ۔ باغیِ ہندوستان ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-fazal-imam-khair-abadi
scholars.pk
Hazrat Molana Fazal Imam Khair Abaadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
سراج الفقہاء مولانا سراج احمد خان پوری رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسم گرامی: حضرت مولانا سراج احمد ۔لقب:سراج الفقہاء۔آپ کی علمی وفقہی بصیرت کی بناء پریہ لقب غزالیِ زماں شیخ الحدیث حضرت سید احمد سعید شاہ کاظمینےدیاتھا۔خان پوروطن کی نسبت سے’’خان پوری‘‘ کہلاتےہیں۔سلسلۂ نسب اس طرح ہے:سراج الفقہاء حضرت مولانا سراج احمد خان پوری بن مولانااحمدیاربن مولانامحمدعالم علیہم الرحمۃ والرضوان۔آپکےوالدِگرامی مولانا احمدیارصاحباس علاقےکےجیدعالم دین اور صاحبِ فتویٰ وتقویٰ تھے۔آپ کےجدامجدمولانا محمد عالم حضرت خواجہ غلام فرید(کوٹ مٹھن شریف) کےپیر ومرشد اوربرادرِ بزرگ حضرت خواجہ فخرجہاں چشتیکےہم درس اور پیربھائی تھے۔مولانا محمد عالم نےتمام درسی کتب اپنےہاتھ سےلکھیں تھیں۔اسی طرح سراج الفقہاء کےنانا مولانا امام بخشبھی معاصرعلماء میں ممتاز مقام رکھتےتھے۔یعنی طرفین سےخالص علمی وروحانی ماحول تھا۔(سوانح سراج الفقہاء:7/تذکرہ اکابر اہل سنت:146)
تاریخِ ولادت:آپ کی ولادت باسعادت بروزبدھ 14/ذوالحجہ 1303ھ مطابق11/اگست1886ءکوقصبہ ’’مکھن بیلہ‘‘تحصیل خان پور،ضلع رحیم یارخان،پنجاب،پاکستان میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:آپ کاخاندان علمی وروحانی خاندان تھا۔اس لئےآپ کی تعلیم کی طرف خصوصی توجہ دی گئی۔ابتدائی تعلیم قاعدہ اپنےگاؤں مکھن بیلہ میں شروع کی۔پھر چاچڑاں شریف میں جامعہ فریدیہ (جس کےبانی حضرت خواجہ غلام فرید ہیں)میں ابتدائی کتب سےلےکرمطول تک تمام کتب استاذالعلماء مولانا تاج محمودصاحب اور جامع علوم عقلیہ ونقلیہ حضرت مولانا غلام رسول سےپڑھیں۔فنون عالیہ اور حدیث کی بعض کتب قصبہ مہمندضلع بہاولپور کےمعقولی عالم علامہ امام بخش،سےپڑھیں،اور 1317ھ/1899ء میں تقریباً14سال کی قلیل عمرمیں علوم نقلیہ وعقلیہ سےفارغ ہوئے۔(نورنور چہرے:98)
سرکارِدوعالمﷺکی نظرِعنایت: ابتداء میں آپ ذہنی طورپر کمزورتھے۔پڑھنےمیں دشواری محسوس ہوئی اس سےآپ کےگھر والوں کی تشویش لاحق ہوئی۔آپ کی والدہ محترمہ ایک عابدہ صالحہ خاتون تھیں،ایک رات خواب میں سرورِعالمﷺکی زیارت سےمشرف ہوئیں۔آپﷺنےسراج الفقہاء کےبارےمیں چند دعائیہ کلمات فرمائےاور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ یہ بہت بڑا عالم ِ دین ہوگا۔پھر حنائی رنگ کے چنداوراق عطاء فرمائے،اور فرمایا:’’مولوی احمد یار کودےدینا تاکہ یہ پانی حل کرکےاپنے لڑکےکوپلائے‘‘۔جب آپ بیدارہوئی تواوراق ہاتھ میں نہیں تھے۔کچھ دیر بعد مولانا احمد یار صاحب تشریف لائے،توان کےپاس ایک کتاب تھی جسے کھولاگیا تووہی اوراق اس میں موجود تھے۔والدہ ماجدہ نےپہچان لئے۔چنانچہ وہ اوراق مولانا کوپلائے گئے،تو ان کا اثر عظیم ظاہر ہوا۔(ایضا:98)
سرکاردوعالمﷺ کی نظرِ کرم سےزمانۂ طالب علمی سےہی آپ کوہم درس طلباء پرفوقیت حاصل تھی۔آپ اکثر درسی وغیر درسی کتب مطالعے میں حل کرلیتےتھے۔کتبِ فقہ سے کنزالدقائق سبقاً پڑھی اور باقی کتابیں مطالعےسےحل کرلیں۔اسی طرح ریاضی،زیج،اور علمِ میقات وغیرہ پرمطالعےکی بدولت کمال مہارت حاصل کی۔(ایضا:99)
بیعت وخلافت: آپ دس سال کی عمر میں سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں فریدالعصر،ملک الشعراء،فردِ وحید حضرت خواجہ غلام فرید(کوٹ مٹھن شریف) کےدستِ حق پرست پربیعت ہوئے،خواجہ صاحب کی برکت سےایمان کی حفاظت کےساتھ ساتھ علماء ِ کرام میں ’’سراج الفقہاء‘‘کے
لقب سےملقب ہوئے۔
سیرت وخصائص: جامع منقول ومعقول،حاویِ اصول وفروع،نازشِ اہل سنت،قامعِ اہل بدعت،قاطعِ نجدیت وقادیانیت وہابیت ودیوبندیت، فقیہ العصر،استاذالعلماء،زبدۃ الفضلاء،قدوۃ الصلحاء،سراج الفقہاء حضرت علامہ مولانا مفتی سراج احمد خان پوری۔آپاپنےوقت کےجیدفقیہ اورنابغۂ روزگار شخصیت کےحامل تھے۔تمام علوم عقلیہ ونقلیہ میں بالعموم اور فن میراث وتوقیت،ریاضی و وصیت میں بالخصوص ایسی مہارت تھی،کہ ان میں اپنی نظیر آپ تھے۔حضرت سراج الفقہاء اپنےوقت میں مرجع العلماء تھے۔دوردراز کےلوگ آپ کی طرف رجوع کرتے۔حتیٰ کہ دارالعلوم دیوبندکےمفتی میراث کےمشکل ترین مسائل کےحل کےلئےآپ سےاستعانت ورابطہ قائم کرتے۔اگردورِ اخیرمیں آپ کوفنِ میراث کاامام کہاجائےتوبےجانہ ہوگا۔(ایضا:105)۔اسی طرح آپ کتبِ فقہ پربڑی گہری نظر رکھتےتھے۔فقہ حنفی کی ضخیم کتب کااول تا آخربنظرِ غائر مطالعہ فرماچکےتھے۔’’سراج اہل القبلہ‘‘علم الفرائض،وصیت،اورمیقات پرضخیم کتاب ہے۔جس کاخلاصہ ’’الزبدۃ السراجیہ فی علم المیقات والمیراث والوصیۃ‘‘ اور’’سراج الفتاویٰ‘‘ آپ کی علمی ثقاہت وفقہی بصیرت بین دلیل ہیں۔آپ کےاکثر فتووں کی بناء پرسابق ریاست بہاول پورمیں عدالتی فیصلے ہوتےرہے۔(سوانح سراج الفقہاء:16)
درس وتدریس: آپ نے نو جوانی کے عالم میں تدریس کی ابتداء کی،پہلےایک عرصہ تک قصبہ ڈیرہ گبولاں(ضلع رحیم یار خاں)میں اورپھراپنے گاؤں مکھن بیلہ میں تشنگان ِعلوم کوسیراب کیا۔بعدازاں چا چڑاں شریف میں اس وقت کے سجادہ نشین حضرت خواجہ فیض فرید کی تعلیم و تربیت آپ کےسپردہوئی جسےآپ نے بطریق احسن انجام د
نام ونسب: اسم گرامی: حضرت مولانا سراج احمد ۔لقب:سراج الفقہاء۔آپ کی علمی وفقہی بصیرت کی بناء پریہ لقب غزالیِ زماں شیخ الحدیث حضرت سید احمد سعید شاہ کاظمینےدیاتھا۔خان پوروطن کی نسبت سے’’خان پوری‘‘ کہلاتےہیں۔سلسلۂ نسب اس طرح ہے:سراج الفقہاء حضرت مولانا سراج احمد خان پوری بن مولانااحمدیاربن مولانامحمدعالم علیہم الرحمۃ والرضوان۔آپکےوالدِگرامی مولانا احمدیارصاحباس علاقےکےجیدعالم دین اور صاحبِ فتویٰ وتقویٰ تھے۔آپ کےجدامجدمولانا محمد عالم حضرت خواجہ غلام فرید(کوٹ مٹھن شریف) کےپیر ومرشد اوربرادرِ بزرگ حضرت خواجہ فخرجہاں چشتیکےہم درس اور پیربھائی تھے۔مولانا محمد عالم نےتمام درسی کتب اپنےہاتھ سےلکھیں تھیں۔اسی طرح سراج الفقہاء کےنانا مولانا امام بخشبھی معاصرعلماء میں ممتاز مقام رکھتےتھے۔یعنی طرفین سےخالص علمی وروحانی ماحول تھا۔(سوانح سراج الفقہاء:7/تذکرہ اکابر اہل سنت:146)
تاریخِ ولادت:آپ کی ولادت باسعادت بروزبدھ 14/ذوالحجہ 1303ھ مطابق11/اگست1886ءکوقصبہ ’’مکھن بیلہ‘‘تحصیل خان پور،ضلع رحیم یارخان،پنجاب،پاکستان میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:آپ کاخاندان علمی وروحانی خاندان تھا۔اس لئےآپ کی تعلیم کی طرف خصوصی توجہ دی گئی۔ابتدائی تعلیم قاعدہ اپنےگاؤں مکھن بیلہ میں شروع کی۔پھر چاچڑاں شریف میں جامعہ فریدیہ (جس کےبانی حضرت خواجہ غلام فرید ہیں)میں ابتدائی کتب سےلےکرمطول تک تمام کتب استاذالعلماء مولانا تاج محمودصاحب اور جامع علوم عقلیہ ونقلیہ حضرت مولانا غلام رسول سےپڑھیں۔فنون عالیہ اور حدیث کی بعض کتب قصبہ مہمندضلع بہاولپور کےمعقولی عالم علامہ امام بخش،سےپڑھیں،اور 1317ھ/1899ء میں تقریباً14سال کی قلیل عمرمیں علوم نقلیہ وعقلیہ سےفارغ ہوئے۔(نورنور چہرے:98)
سرکارِدوعالمﷺکی نظرِعنایت: ابتداء میں آپ ذہنی طورپر کمزورتھے۔پڑھنےمیں دشواری محسوس ہوئی اس سےآپ کےگھر والوں کی تشویش لاحق ہوئی۔آپ کی والدہ محترمہ ایک عابدہ صالحہ خاتون تھیں،ایک رات خواب میں سرورِعالمﷺکی زیارت سےمشرف ہوئیں۔آپﷺنےسراج الفقہاء کےبارےمیں چند دعائیہ کلمات فرمائےاور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ یہ بہت بڑا عالم ِ دین ہوگا۔پھر حنائی رنگ کے چنداوراق عطاء فرمائے،اور فرمایا:’’مولوی احمد یار کودےدینا تاکہ یہ پانی حل کرکےاپنے لڑکےکوپلائے‘‘۔جب آپ بیدارہوئی تواوراق ہاتھ میں نہیں تھے۔کچھ دیر بعد مولانا احمد یار صاحب تشریف لائے،توان کےپاس ایک کتاب تھی جسے کھولاگیا تووہی اوراق اس میں موجود تھے۔والدہ ماجدہ نےپہچان لئے۔چنانچہ وہ اوراق مولانا کوپلائے گئے،تو ان کا اثر عظیم ظاہر ہوا۔(ایضا:98)
سرکاردوعالمﷺ کی نظرِ کرم سےزمانۂ طالب علمی سےہی آپ کوہم درس طلباء پرفوقیت حاصل تھی۔آپ اکثر درسی وغیر درسی کتب مطالعے میں حل کرلیتےتھے۔کتبِ فقہ سے کنزالدقائق سبقاً پڑھی اور باقی کتابیں مطالعےسےحل کرلیں۔اسی طرح ریاضی،زیج،اور علمِ میقات وغیرہ پرمطالعےکی بدولت کمال مہارت حاصل کی۔(ایضا:99)
بیعت وخلافت: آپ دس سال کی عمر میں سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں فریدالعصر،ملک الشعراء،فردِ وحید حضرت خواجہ غلام فرید(کوٹ مٹھن شریف) کےدستِ حق پرست پربیعت ہوئے،خواجہ صاحب کی برکت سےایمان کی حفاظت کےساتھ ساتھ علماء ِ کرام میں ’’سراج الفقہاء‘‘کے
لقب سےملقب ہوئے۔
سیرت وخصائص: جامع منقول ومعقول،حاویِ اصول وفروع،نازشِ اہل سنت،قامعِ اہل بدعت،قاطعِ نجدیت وقادیانیت وہابیت ودیوبندیت، فقیہ العصر،استاذالعلماء،زبدۃ الفضلاء،قدوۃ الصلحاء،سراج الفقہاء حضرت علامہ مولانا مفتی سراج احمد خان پوری۔آپاپنےوقت کےجیدفقیہ اورنابغۂ روزگار شخصیت کےحامل تھے۔تمام علوم عقلیہ ونقلیہ میں بالعموم اور فن میراث وتوقیت،ریاضی و وصیت میں بالخصوص ایسی مہارت تھی،کہ ان میں اپنی نظیر آپ تھے۔حضرت سراج الفقہاء اپنےوقت میں مرجع العلماء تھے۔دوردراز کےلوگ آپ کی طرف رجوع کرتے۔حتیٰ کہ دارالعلوم دیوبندکےمفتی میراث کےمشکل ترین مسائل کےحل کےلئےآپ سےاستعانت ورابطہ قائم کرتے۔اگردورِ اخیرمیں آپ کوفنِ میراث کاامام کہاجائےتوبےجانہ ہوگا۔(ایضا:105)۔اسی طرح آپ کتبِ فقہ پربڑی گہری نظر رکھتےتھے۔فقہ حنفی کی ضخیم کتب کااول تا آخربنظرِ غائر مطالعہ فرماچکےتھے۔’’سراج اہل القبلہ‘‘علم الفرائض،وصیت،اورمیقات پرضخیم کتاب ہے۔جس کاخلاصہ ’’الزبدۃ السراجیہ فی علم المیقات والمیراث والوصیۃ‘‘ اور’’سراج الفتاویٰ‘‘ آپ کی علمی ثقاہت وفقہی بصیرت بین دلیل ہیں۔آپ کےاکثر فتووں کی بناء پرسابق ریاست بہاول پورمیں عدالتی فیصلے ہوتےرہے۔(سوانح سراج الفقہاء:16)
درس وتدریس: آپ نے نو جوانی کے عالم میں تدریس کی ابتداء کی،پہلےایک عرصہ تک قصبہ ڈیرہ گبولاں(ضلع رحیم یار خاں)میں اورپھراپنے گاؤں مکھن بیلہ میں تشنگان ِعلوم کوسیراب کیا۔بعدازاں چا چڑاں شریف میں اس وقت کے سجادہ نشین حضرت خواجہ فیض فرید کی تعلیم و تربیت آپ کےسپردہوئی جسےآپ نے بطریق احسن انجام د
❤1
یا ،اورکچھ عرصہ دربار قادریہ بھر چونڈی شریف ( ضلع سکھر ) میں مقیم رہے جہاں مجاہد ِاسلام حضرت مولانا پیر عبد الرحمن کوپڑھاتےرہے۔ مدرسہ انوار العلوم ملتان میں بھی فرائض تدریس انجام دیئے۔آخر میں مدرسہ عربیہ سراج العلوم خان پور میں بحیثیت مدرس اور مفتی عرصۂ دراز تک کام کیا۔آپ نے تقریباً 70سال علوم دینیہ کا درس دیا واور بیشمار مشتاقانِ علم کو فیض یاب کیا۔آپ کےتلامذہ کاحلقہ بہت وسیع ہے۔ماضی قریب کےجیدعلماء ومشائخ آپ کےتلامذہ ہیں۔چند تلامذہ کےنام: حضرت خواجہ فیض فرید،مولانا پیر عبدالرحمن بھرچونڈی،شیخ القرآن حضرت مولانا فیض احمد اویسی،خواجہ پیرمحمد اکرم شاہ جمالی،پیرسید مغفورالقادری،بلبل باغِ مصطفیٰ حضرت علامہ مولانا خورشید احمد فیضیوغیرہ۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:147)
اعلیٰ حضرت مجددامت امام احمد رضاخاںسےعقیدت: حضرت سراج الفقہاء فرماتےہیں: کہ دورِ طالب علمی میں یہ بات ہمارے ذہن میں بٹھادی گئی تھی کہ مولانا احمد رضاخان بریلویکی کتابیں پڑھنا ناجائز ہے۔ان کی تصنیفات کوعلم وتحقیق سےکوئی علاقہ نہیں ہوتا۔وہ تو صرف چندمروجہ رسومات وبدعات کےمجوزہیں۔ ان کی علمیت کامدار یہی امورہیں،اور ان کی تصنیفات صرف میلاد قیام،میلاد،فاتحہ،عرس، گیارہویں نذرونیاز اور نداء غیر اللہ وغیرہ امور بدعیہ سے متعلق ہیں۔چنانچہ عام طلباء کی طرح میں بھی ان کےنام سےمتنفر تھا۔میں نےبعض لوگوں سے ان کےتبحر علمی کی باتیں سن رکھیں تھیں جنہیں ہمارے حلقے میں مریدین ومعتقدین کی عقیدت اور غلو سےتعبیر کیا جاتاتھا۔اللہ تعالیٰ کافضل اور اس کےنبی کریمﷺکی نظر عنایت شامل حال تھی،اورحضرت خواجہ غلام فریدکادامن ِ کرم سےوابستگی تھی کہ قدرت کی طرف سےکچھ ایساواقعہ رونما ہوا۔جس نےحضرت سراج الفقہاء جیسی شخصیت کےذہن میں عظیم انقلاب پیداکردیا۔
اس کی تفصیل خود ان کی زبانی سنئے۔فرماتے ہیں: حسن ِاتفاق سے مجھےرسالۂ میراث کی تصنیف کےدوران ایک مسئلے(ذوی الارحام کی صنف رابع کےحکم) میں الجھن پیداہوئی۔میں نے اس کےحل کےلئے دیوبند،سہارن پور،دہلی، اور دیگر علمی مراکزکو خطوط لکھے۔کہیں سےبھی تسلی بخش جواب نہ آیا۔سب نے’’سراجی‘‘پر ہی اکتفاء کیا۔میں یہ سوچ کرکہ اس میں حرج ہی کیا ہےوہ سوال مولانا احمد رضا خان بریلوی کےپاس بھیج دیا۔ایک ہفتے کےاندرمولانا کی طرف سےجواب آگیا۔انہوں نےاس مسئلے کو اس طرح حل کیا کہ تمام کتب کےاختلاف اور شکوک وشبہات رفع ہوگئے۔اس جواب کودیکھنے کےبعد امام احمد رضا خان قادریکےمتعلق میرااندازِفکریکسربدل گیا،اور ان کےمتعلق ذہن میں جمائےہوئےتمام خیالات کےتار وپود بکھرگئے۔ان کےرسائل اور دیگر تصانیف منگواکر پڑھے تومجھےیوں محسوس ہوا کہ میرےسامنے سےغلط عقائد ونظریات کےسارے حجابات آہستہ آہستہ اٹھتےجارہےہیں۔
اسی دور میں احمد پورشرقیہ میں کےایک مشہور غیرمقلد فقیہ مولوی نظام الدین سےمیری گفتگو ہوئی۔یہ مولانا تفقہ میں اپنے ہم عصرعلماء سےممتاز تھے،اور کسی کواپنا ہمسرتصورنہیں کرتےتھے۔فتاویٰ رشیدیہ کےاس فتوےپرگفتگوہوئی کہ حدیث صحیح کےمقابل قول فقہاء پرعمل نہ کرناچاہئے۔اعلیٰ حضرت کےرسالہ’’الفضل الموہبی فی معنیٰ اذا صح الحدیث فہو مذہبی‘‘ کےابتدائی اوراق منازل حدیث کےسنائےتو کہنےلگے:’’یہ سب منازل ِ فہم ِحدیث مولانا کوحاصل تھے۔افسوس کہ میں ان کےزمانے میں رہ کربےخبر وبےفیض رہا‘‘۔پھر فقہ کےچند مسائل کےجوابات رسائل ِ رضویہ سےسنائےتو کہنےلگے۔’’علامہ شامی اور صاحبِ فتح القدیرمولانا کےشاگردِرشیدہیں،یہ تو امام اعظم ثانی معلوم ہوتےہیں‘‘۔سراج الفقہاء فرماتےہیں میں اس کےاس قول کی تصدیق کرتاہوں کہ شامی وغیرہ ان کےشاگرد ہیں۔(سوانح سراج الفقہاء:34)
سراج الفقہاء فرماتے ہیں:اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاںمیرےفتوائےمیراث کےجواب میں مجھےسائل فاضل ہداہ اللہ تعالیٰ کاخطاب دےکردعاکی جومیری ہدایت کاباعث بنی کہ وہابیت جو وہابی استادوں کی شاگردوں سےملی تھی اسی وقت سےجاتی رہی۔الحمد للہ کل الحمد۔جب تک سارےعلوم عقلیہ ونقلیہ میں کمال حاصل نہ ہوفقہ میں ناقص ہے،اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان کوہرعلم میں کمال حاصل تھا۔آپ نےجس فن میں قلم اٹھا یااس کےآئمہ کومبہوت کردیا۔اگراعلیٰ حضرت کی علم حدیث میں وسعت علمی دیکھنی ہو تو اعلیٰ حضرتکےرسائل ملاحظہ کریں۔’’حاجزالبحرین الواقی عن جمع الصلوٰتین‘‘نذیر حسین دہلوی امام اہل حدیث کےرد میں ملاحظہ کریں۔جس سےمولوی نذیرحسین طفلِ مکتب نظر آتاہے۔اسی طرح وسعتِ علمی علم معقولات میں فلسفہ ریاضی وغیرہ رسالہ فوز مبین حرکتِ زمین کےرد میں دیکھو کہ نظام بطلیموسی،فیثاغورسی کی ایسی تطبیق دی کہ نیوٹن جوفلسفۂ حال کاامام مانا جاتاہےشاگردنظرآتاہے۔افسوس صدافسوس!کہ مجھےاعلیٰ حضرت کےوصال سےدوسال پہلےان کاپتہ معلوم ہوا۔صرف ایک مسئلہ صنف رابع ذوی الارحام مذکورکوحل کراسکااور باقی صنف ثانی،صنفِ ثالث،ذوالارحام ان سےحل نہ کراسکا۔خلاصہ یہ کہ اعلیٰ حضرتکو اللہ تعالیٰ نے تفقہ فی الدین کی نعمتِ عظمیٰ
اعلیٰ حضرت مجددامت امام احمد رضاخاںسےعقیدت: حضرت سراج الفقہاء فرماتےہیں: کہ دورِ طالب علمی میں یہ بات ہمارے ذہن میں بٹھادی گئی تھی کہ مولانا احمد رضاخان بریلویکی کتابیں پڑھنا ناجائز ہے۔ان کی تصنیفات کوعلم وتحقیق سےکوئی علاقہ نہیں ہوتا۔وہ تو صرف چندمروجہ رسومات وبدعات کےمجوزہیں۔ ان کی علمیت کامدار یہی امورہیں،اور ان کی تصنیفات صرف میلاد قیام،میلاد،فاتحہ،عرس، گیارہویں نذرونیاز اور نداء غیر اللہ وغیرہ امور بدعیہ سے متعلق ہیں۔چنانچہ عام طلباء کی طرح میں بھی ان کےنام سےمتنفر تھا۔میں نےبعض لوگوں سے ان کےتبحر علمی کی باتیں سن رکھیں تھیں جنہیں ہمارے حلقے میں مریدین ومعتقدین کی عقیدت اور غلو سےتعبیر کیا جاتاتھا۔اللہ تعالیٰ کافضل اور اس کےنبی کریمﷺکی نظر عنایت شامل حال تھی،اورحضرت خواجہ غلام فریدکادامن ِ کرم سےوابستگی تھی کہ قدرت کی طرف سےکچھ ایساواقعہ رونما ہوا۔جس نےحضرت سراج الفقہاء جیسی شخصیت کےذہن میں عظیم انقلاب پیداکردیا۔
اس کی تفصیل خود ان کی زبانی سنئے۔فرماتے ہیں: حسن ِاتفاق سے مجھےرسالۂ میراث کی تصنیف کےدوران ایک مسئلے(ذوی الارحام کی صنف رابع کےحکم) میں الجھن پیداہوئی۔میں نے اس کےحل کےلئے دیوبند،سہارن پور،دہلی، اور دیگر علمی مراکزکو خطوط لکھے۔کہیں سےبھی تسلی بخش جواب نہ آیا۔سب نے’’سراجی‘‘پر ہی اکتفاء کیا۔میں یہ سوچ کرکہ اس میں حرج ہی کیا ہےوہ سوال مولانا احمد رضا خان بریلوی کےپاس بھیج دیا۔ایک ہفتے کےاندرمولانا کی طرف سےجواب آگیا۔انہوں نےاس مسئلے کو اس طرح حل کیا کہ تمام کتب کےاختلاف اور شکوک وشبہات رفع ہوگئے۔اس جواب کودیکھنے کےبعد امام احمد رضا خان قادریکےمتعلق میرااندازِفکریکسربدل گیا،اور ان کےمتعلق ذہن میں جمائےہوئےتمام خیالات کےتار وپود بکھرگئے۔ان کےرسائل اور دیگر تصانیف منگواکر پڑھے تومجھےیوں محسوس ہوا کہ میرےسامنے سےغلط عقائد ونظریات کےسارے حجابات آہستہ آہستہ اٹھتےجارہےہیں۔
اسی دور میں احمد پورشرقیہ میں کےایک مشہور غیرمقلد فقیہ مولوی نظام الدین سےمیری گفتگو ہوئی۔یہ مولانا تفقہ میں اپنے ہم عصرعلماء سےممتاز تھے،اور کسی کواپنا ہمسرتصورنہیں کرتےتھے۔فتاویٰ رشیدیہ کےاس فتوےپرگفتگوہوئی کہ حدیث صحیح کےمقابل قول فقہاء پرعمل نہ کرناچاہئے۔اعلیٰ حضرت کےرسالہ’’الفضل الموہبی فی معنیٰ اذا صح الحدیث فہو مذہبی‘‘ کےابتدائی اوراق منازل حدیث کےسنائےتو کہنےلگے:’’یہ سب منازل ِ فہم ِحدیث مولانا کوحاصل تھے۔افسوس کہ میں ان کےزمانے میں رہ کربےخبر وبےفیض رہا‘‘۔پھر فقہ کےچند مسائل کےجوابات رسائل ِ رضویہ سےسنائےتو کہنےلگے۔’’علامہ شامی اور صاحبِ فتح القدیرمولانا کےشاگردِرشیدہیں،یہ تو امام اعظم ثانی معلوم ہوتےہیں‘‘۔سراج الفقہاء فرماتےہیں میں اس کےاس قول کی تصدیق کرتاہوں کہ شامی وغیرہ ان کےشاگرد ہیں۔(سوانح سراج الفقہاء:34)
سراج الفقہاء فرماتے ہیں:اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاںمیرےفتوائےمیراث کےجواب میں مجھےسائل فاضل ہداہ اللہ تعالیٰ کاخطاب دےکردعاکی جومیری ہدایت کاباعث بنی کہ وہابیت جو وہابی استادوں کی شاگردوں سےملی تھی اسی وقت سےجاتی رہی۔الحمد للہ کل الحمد۔جب تک سارےعلوم عقلیہ ونقلیہ میں کمال حاصل نہ ہوفقہ میں ناقص ہے،اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان کوہرعلم میں کمال حاصل تھا۔آپ نےجس فن میں قلم اٹھا یااس کےآئمہ کومبہوت کردیا۔اگراعلیٰ حضرت کی علم حدیث میں وسعت علمی دیکھنی ہو تو اعلیٰ حضرتکےرسائل ملاحظہ کریں۔’’حاجزالبحرین الواقی عن جمع الصلوٰتین‘‘نذیر حسین دہلوی امام اہل حدیث کےرد میں ملاحظہ کریں۔جس سےمولوی نذیرحسین طفلِ مکتب نظر آتاہے۔اسی طرح وسعتِ علمی علم معقولات میں فلسفہ ریاضی وغیرہ رسالہ فوز مبین حرکتِ زمین کےرد میں دیکھو کہ نظام بطلیموسی،فیثاغورسی کی ایسی تطبیق دی کہ نیوٹن جوفلسفۂ حال کاامام مانا جاتاہےشاگردنظرآتاہے۔افسوس صدافسوس!کہ مجھےاعلیٰ حضرت کےوصال سےدوسال پہلےان کاپتہ معلوم ہوا۔صرف ایک مسئلہ صنف رابع ذوی الارحام مذکورکوحل کراسکااور باقی صنف ثانی،صنفِ ثالث،ذوالارحام ان سےحل نہ کراسکا۔خلاصہ یہ کہ اعلیٰ حضرتکو اللہ تعالیٰ نے تفقہ فی الدین کی نعمتِ عظمیٰ
❤1
سےنوازاتھا۔(سوانح سراج الفقہاء:37)
سراج الفقہاء بریلی شریف میں: اعلیٰ حضرت مولانا امام احمد رضاخان قادریکےوصال کےبعدحضرت سراج الفقہاءبریلی شریف تشریف لےگئے۔محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد قادریکےتوسط سےحضرت صدرالشریعہ مولانا محمد امجد علی اعظمیسےملاقات ہوئی۔ان حضرات نےآپ کارسالہ مبارکہ’’الزبدۃ السراجیہ‘‘ دیکھا توآپ کی علمیت وفضیلت سےبہت متاثرہوئے،اور نہایت عزت وتکریم سےپیش آئے۔(ایضا:38)
سراج الفقہاء غزالی ِزماں کی نظر میں: غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمینےمتعدد مرتبہ دوران ِ خطاب فرمایا:’’سراج الفقہاء عظیم نعمتِ الہیہ ہیں‘‘۔حضرت غزالیِ زماں جب کبھی خان پور جانے کااتفاق ہوتا توحضرت سراج الفقہاء کی ملاقات کےلئے ضرور تشریف لےجاتے۔’’سراج الفقہاء‘‘کالقب حضرت غزالیِ زماںکاہی عطاء کیا ہواہے۔(ایضا:38)
شرفِ ملت، محسنِ اہل سنت،عظیم المرتبت حضرت علامہ عبدالحکیم شرف قادریفرماتےہیں: موجودہ دور میں فن ِ میراث کےامام قدوۃ الفضلاء،سراج الفقہاء مولانا سراج احمد خان پوری وہ گنج ہائے گراں مایہ تھے۔جنہیں نہ ستائش سےدل چسپی تھی اور نہ نمائش کی آرزو۔کتنے افسوس کی بات ہےکہ قوم نےان کےعلوم ومعارف کی معتدبہ اشاعت نہ کی اور نہ ہی اہل علم میں ان کی فضیلت علمی کونمایاں کیاگیا،جس کےدر حقیقت وہ مستحق تھے۔قوم کی کوتاہی اور ناعاقبت اندیشی کایہ بین ثبوت ہے۔نہ معلوم علوم ومعارف کےکتنےخزینےاسی طرح زاویہ ٔ گم نامی میں وقت بسر کرکےہماری ظاہر بین نظروں سےایسے اوجھل ہوئے کہ آج ان کی نقشِ حیات کادھندلاسا تصور بھی ہمارےسامنےنہیں ہے۔حقیقت یہ ہےکہ آپ تبحرعلمی کےاعتبارسےنادر روزگار شخصیت ہیں۔آج اگرکوئی شاہ جہاں جیسا علوم دینیہ کاقدردان ہوتا توآفتاب پنجاب مولانا عبدالحکیم سیالکوٹی کی طرح آپ کوچاندی میں تولتا۔لیکن افسوس کہ وہ خود تواپنی کم آمیزی اور عزلت پسندی کی وجہ سےپردۂ خفامیں رہے،اور زمانےنےان کےبارےمیں ژرف نگاہی سےکام نہ لیا۔(نور نورچہرے:106)
حضرت شرفِ ملت نےاہل سنت کواپنےاکابرین علماء ومشائخ کی قدراور ان کی تحقیقات کومنظر عام پرلانےاور بالخصوص ان کی زندگی میں ہی ان کی قدرکرنااوران کےساتھ معاونت کی کنایۃ ً تنبیہ فرمائی ہے۔ہمارےدور میں یہ بہت بڑا المیہ ہےکہ ایسےلوگوں کی ہم ان کی زندگی میں قدر نہیں کرتےاوربعد از وصال ان کےتمام محاسن یادآجاتےہیں۔قومیں ہمیشہ علمی کارناموں اوردرس گاہوں سےدنیامیں زندہ رہتی ہیں۔کیونکہ یہیں سےقوم کےمعماراورمصلح تیار ہوتےہیں۔قوم کواپنی بقاء کےلئےاپنی ترجیحات پرنظرِ ثانی کرناہوگی۔فقیرتونسویؔ غفرلہ۔
تاریخِ وصال:
5 ذوالقعدہ 1392ھ مطابق 12 دسمبر 1972ء، بروز منگل ، 11:00 بجے شب واصل باللہ ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
سوانح سراج الفقہاء ۔ نور نور چہرے ۔ تذکرہ اکابر اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/molana-siraj-ahmad-khanpuri
سراج الفقہاء بریلی شریف میں: اعلیٰ حضرت مولانا امام احمد رضاخان قادریکےوصال کےبعدحضرت سراج الفقہاءبریلی شریف تشریف لےگئے۔محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد قادریکےتوسط سےحضرت صدرالشریعہ مولانا محمد امجد علی اعظمیسےملاقات ہوئی۔ان حضرات نےآپ کارسالہ مبارکہ’’الزبدۃ السراجیہ‘‘ دیکھا توآپ کی علمیت وفضیلت سےبہت متاثرہوئے،اور نہایت عزت وتکریم سےپیش آئے۔(ایضا:38)
سراج الفقہاء غزالی ِزماں کی نظر میں: غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمینےمتعدد مرتبہ دوران ِ خطاب فرمایا:’’سراج الفقہاء عظیم نعمتِ الہیہ ہیں‘‘۔حضرت غزالیِ زماں جب کبھی خان پور جانے کااتفاق ہوتا توحضرت سراج الفقہاء کی ملاقات کےلئے ضرور تشریف لےجاتے۔’’سراج الفقہاء‘‘کالقب حضرت غزالیِ زماںکاہی عطاء کیا ہواہے۔(ایضا:38)
شرفِ ملت، محسنِ اہل سنت،عظیم المرتبت حضرت علامہ عبدالحکیم شرف قادریفرماتےہیں: موجودہ دور میں فن ِ میراث کےامام قدوۃ الفضلاء،سراج الفقہاء مولانا سراج احمد خان پوری وہ گنج ہائے گراں مایہ تھے۔جنہیں نہ ستائش سےدل چسپی تھی اور نہ نمائش کی آرزو۔کتنے افسوس کی بات ہےکہ قوم نےان کےعلوم ومعارف کی معتدبہ اشاعت نہ کی اور نہ ہی اہل علم میں ان کی فضیلت علمی کونمایاں کیاگیا،جس کےدر حقیقت وہ مستحق تھے۔قوم کی کوتاہی اور ناعاقبت اندیشی کایہ بین ثبوت ہے۔نہ معلوم علوم ومعارف کےکتنےخزینےاسی طرح زاویہ ٔ گم نامی میں وقت بسر کرکےہماری ظاہر بین نظروں سےایسے اوجھل ہوئے کہ آج ان کی نقشِ حیات کادھندلاسا تصور بھی ہمارےسامنےنہیں ہے۔حقیقت یہ ہےکہ آپ تبحرعلمی کےاعتبارسےنادر روزگار شخصیت ہیں۔آج اگرکوئی شاہ جہاں جیسا علوم دینیہ کاقدردان ہوتا توآفتاب پنجاب مولانا عبدالحکیم سیالکوٹی کی طرح آپ کوچاندی میں تولتا۔لیکن افسوس کہ وہ خود تواپنی کم آمیزی اور عزلت پسندی کی وجہ سےپردۂ خفامیں رہے،اور زمانےنےان کےبارےمیں ژرف نگاہی سےکام نہ لیا۔(نور نورچہرے:106)
حضرت شرفِ ملت نےاہل سنت کواپنےاکابرین علماء ومشائخ کی قدراور ان کی تحقیقات کومنظر عام پرلانےاور بالخصوص ان کی زندگی میں ہی ان کی قدرکرنااوران کےساتھ معاونت کی کنایۃ ً تنبیہ فرمائی ہے۔ہمارےدور میں یہ بہت بڑا المیہ ہےکہ ایسےلوگوں کی ہم ان کی زندگی میں قدر نہیں کرتےاوربعد از وصال ان کےتمام محاسن یادآجاتےہیں۔قومیں ہمیشہ علمی کارناموں اوردرس گاہوں سےدنیامیں زندہ رہتی ہیں۔کیونکہ یہیں سےقوم کےمعماراورمصلح تیار ہوتےہیں۔قوم کواپنی بقاء کےلئےاپنی ترجیحات پرنظرِ ثانی کرناہوگی۔فقیرتونسویؔ غفرلہ۔
تاریخِ وصال:
5 ذوالقعدہ 1392ھ مطابق 12 دسمبر 1972ء، بروز منگل ، 11:00 بجے شب واصل باللہ ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
سوانح سراج الفقہاء ۔ نور نور چہرے ۔ تذکرہ اکابر اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/molana-siraj-ahmad-khanpuri
scholars.pk
Molana Siraj Ahmad Khanpuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-11-1444 ᴴ | 25-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-11-1444 ᴴ | 26-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1