🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-11-1444 ᴴ | 25-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-11-1444 ᴴ | 25-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی ۔ کنیت: ابو البرکات ۔ لقب: شمس الدین، قیوم رابع ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی بن خواجہ شیخ ابو العلی بن خواجہ حجۃ اللہ محمدنقشبند ثانی بن خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔(تاریخِ مشائخِ نقشبند:435)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 5 ذیقعدہ 1093ھ مطابق 2 نومبر 1682ء، بروز پیر کو ہوئی ۔ (ایضا:435)
تحصیلِ علم:
آپ کا سارا خاندان نور علیٰ نور تھا ۔ جن میں جذبۂ حریت، استقامت علی الدین اور علم و عمل شریعت و طریقت میں بے مثال تھے ۔ جہاں ہر طرف قال اللہ وقال رسول اللہ ﷺ کی صدائیں دلوں کو جلا بخشتی تھیں ۔ اس نورانی و روحانی فضا میں حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی کی تربیت ہوئی ۔ جب آپ کی عمر مبارک چار برس چار ماہ ہوئی تو آپ کو ایک سعادت مند ادیب اور طالع مند اتالیق کے سپرد کیا گیا۔ سات برس کی عمر میں ہی شائستگی حال، آراستگیِ مقال، اوضاعِ کریمانہ اور اطوارِ بزرگانہ آپ کی جبین سعادت سے ہویدا ہوگئے تھے۔
آپ ابھی صرف تیرہ برس کے تھے کہ والد گرامی حضرت شیخ خواجہ ابوالعلی کا وصال ہوگیا اور آپ کی پرورش جدّامجد حضرت خواجہ نقشبند ثانی قدس سرہ نے کی اور ظاہری و باطنی علوم میں مالا مال کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ کم سِنی ہی میں آپ پر استغراق غالب ہوجایا کرتا تھا اور حضرت نقشبند ثانی قدس سرہ نے آپ کو قیومیّت کی بشارت دی تھی چنانچہ حضرت حجۃ اللہ خواجہ محمد نقشبند ثانی قدس سرہ کے وصال کے بعد بروز ہفتہ یکم صفر 1114ھ / 24 جون 1702ء کو مسند قیومیّت و ارشاد پر متمکن ہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں اپنے جد کریم حضرت خواجہ محمد نقشبندِ ثانی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور ان کے خلیفہ ٔ اعظم بنے،اور ان کے وصال کےبعد مسند ارشاد پر فائز ہوئے۔
سیرت وخصائص:
عارف باللہ واصل باللہ، قطب الارشاد، قیومِ زماں، حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی ۔ آپ خاندانِ حضرت مجدد کے فرد فرید، اور ان کی علمی وروحانی امانتوں کے وارث، اور جامع شریعت و طریقت تھے ۔ آپ کی ذاتِ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کوفروغ حاصل ہوا۔حضرت حجۃ اللہ خواجہ محمد ثانی ِ نقشبندکےپوتےاورخلیفۂ اعظم تھے۔آپ اپنے وقت کے قطبِ دوراں اور قیوم زماں تھے۔ آپ کے شب و روز عبادت الٰہی اور خلق خدا کو ہدایت کرنے میں صرف ہوتے تھے۔ آپ کا حلقہ بہت وسیع تھا اور زمانے کے بڑے بڑے علماء و امراء آپ کے معتقد تھے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین و دنیا کی دولت سے سرفراز فرمایا تھا۔ جب بھی آپ دولت کدہ سے باہر تشریف لاتے تو امراء شاہی اپنے دوشالے اور پگڑیاں فرش راہ بناتے تاکہ متبرک ہوجائیں اور آپ کے قدم مبارک زمین پر نہ پڑیں۔ اگر آپ کسی جگہ وعظ، مجلس یا عیادتِ مریض کے لیے تشریف لے جاتے تو آپ کی سواری اور جلوس شاہانہ ہوتا۔ باوجود اس ظاہری کرّو فر کے دل خدا کی طرف لگا ہواتھا۔ آپ ہر امیر و غریب کو ایک نظر سے دیکھتے تھے اور ہر مرید کو درجۂ کمال تک پہنچانے کی سعیٔ بلیغ فرماتے تھے۔کم کھانا،کم بولنا،کم سونا آپ کی زندگی کا خاص اصول تھا۔
آپ فرمایا کرتے تھے کہ فضول اور لغو گفتگو میں بہت سی مصیبتیں اور پریشانیاں پنہاں ہیں کم کھانے سے جسم میں سُستی واقع نہیں ہوتی اورکم سونے سے زیادہ وقت عبادت الٰہی میں گزارسکتے ہیں۔یہ وقت بڑا قیمتی ہے،اس کی قدر کرنی چاہیےتقویٰ،پرہیز گاری،اتباعِ سنّت اورکثرت ِعبادت میں آپ کا کوئی ثانی نہ تھا۔
آپ نہایت کثیر العبادت تھے:
نمازِ تہجّد میں ساٹھ ساٹھ مرتبہ سورۃ یٰسین پڑھا کرتے تھے۔نمازِ فجر کے بعد چاشت تک مراقبہ فرماتے ۔ بعد ازاں قدرے قیلولہ فرماتے اور پھر نمازِ زوال ادا کرتے۔ اس کے بعد تلاوت قرآن مجید میں مشغول ہوجاتے اور پھر نمازِ ظہر سے پہلے حلقہ بنا کر بمع دوستاں ختم خواجگان پڑھتے اور ذکر و فکر کے بعد مریدوں کو توجہ دیتے نماز ظہر ادا کر کے مریدوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔ آپ چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک بار صرف اسی وقت ہی کھانا کھاتے تھے۔ نمازِ عصر کے بعد کبھی حدیث شریف اور کبھی مکتوباتِ امام ربّانی مجدّد الف ثانی قدس سرہ کا دَرس دیا کرتے تھے نمازِ مغرب کے بعد نماز اوابین میں قرآنِ مجید کے دس پارے پڑھتے تھے۔ بعد ازاں حلقۂ ذکر ہوتا۔ پھر نمازِ عشاء پڑھ کر دولت کدہ میں استراحت فرماتے۔ چوبیس ہزار مرتبہ کلمہ طیّبہ، پندرہ ہزار مرتبہ اسم ذات دن کو اور پھر دس ہزار مرتبہ کلمہ شریف رات کو آپ کا دائمی وظیفہ تھا۔ (تاریخ مشائخِ نقشبند:436)
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی ۔ کنیت: ابو البرکات ۔ لقب: شمس الدین، قیوم رابع ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی بن خواجہ شیخ ابو العلی بن خواجہ حجۃ اللہ محمدنقشبند ثانی بن خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔(تاریخِ مشائخِ نقشبند:435)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 5 ذیقعدہ 1093ھ مطابق 2 نومبر 1682ء، بروز پیر کو ہوئی ۔ (ایضا:435)
تحصیلِ علم:
آپ کا سارا خاندان نور علیٰ نور تھا ۔ جن میں جذبۂ حریت، استقامت علی الدین اور علم و عمل شریعت و طریقت میں بے مثال تھے ۔ جہاں ہر طرف قال اللہ وقال رسول اللہ ﷺ کی صدائیں دلوں کو جلا بخشتی تھیں ۔ اس نورانی و روحانی فضا میں حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی کی تربیت ہوئی ۔ جب آپ کی عمر مبارک چار برس چار ماہ ہوئی تو آپ کو ایک سعادت مند ادیب اور طالع مند اتالیق کے سپرد کیا گیا۔ سات برس کی عمر میں ہی شائستگی حال، آراستگیِ مقال، اوضاعِ کریمانہ اور اطوارِ بزرگانہ آپ کی جبین سعادت سے ہویدا ہوگئے تھے۔
آپ ابھی صرف تیرہ برس کے تھے کہ والد گرامی حضرت شیخ خواجہ ابوالعلی کا وصال ہوگیا اور آپ کی پرورش جدّامجد حضرت خواجہ نقشبند ثانی قدس سرہ نے کی اور ظاہری و باطنی علوم میں مالا مال کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ کم سِنی ہی میں آپ پر استغراق غالب ہوجایا کرتا تھا اور حضرت نقشبند ثانی قدس سرہ نے آپ کو قیومیّت کی بشارت دی تھی چنانچہ حضرت حجۃ اللہ خواجہ محمد نقشبند ثانی قدس سرہ کے وصال کے بعد بروز ہفتہ یکم صفر 1114ھ / 24 جون 1702ء کو مسند قیومیّت و ارشاد پر متمکن ہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں اپنے جد کریم حضرت خواجہ محمد نقشبندِ ثانی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور ان کے خلیفہ ٔ اعظم بنے،اور ان کے وصال کےبعد مسند ارشاد پر فائز ہوئے۔
سیرت وخصائص:
عارف باللہ واصل باللہ، قطب الارشاد، قیومِ زماں، حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی ۔ آپ خاندانِ حضرت مجدد کے فرد فرید، اور ان کی علمی وروحانی امانتوں کے وارث، اور جامع شریعت و طریقت تھے ۔ آپ کی ذاتِ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کوفروغ حاصل ہوا۔حضرت حجۃ اللہ خواجہ محمد ثانی ِ نقشبندکےپوتےاورخلیفۂ اعظم تھے۔آپ اپنے وقت کے قطبِ دوراں اور قیوم زماں تھے۔ آپ کے شب و روز عبادت الٰہی اور خلق خدا کو ہدایت کرنے میں صرف ہوتے تھے۔ آپ کا حلقہ بہت وسیع تھا اور زمانے کے بڑے بڑے علماء و امراء آپ کے معتقد تھے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین و دنیا کی دولت سے سرفراز فرمایا تھا۔ جب بھی آپ دولت کدہ سے باہر تشریف لاتے تو امراء شاہی اپنے دوشالے اور پگڑیاں فرش راہ بناتے تاکہ متبرک ہوجائیں اور آپ کے قدم مبارک زمین پر نہ پڑیں۔ اگر آپ کسی جگہ وعظ، مجلس یا عیادتِ مریض کے لیے تشریف لے جاتے تو آپ کی سواری اور جلوس شاہانہ ہوتا۔ باوجود اس ظاہری کرّو فر کے دل خدا کی طرف لگا ہواتھا۔ آپ ہر امیر و غریب کو ایک نظر سے دیکھتے تھے اور ہر مرید کو درجۂ کمال تک پہنچانے کی سعیٔ بلیغ فرماتے تھے۔کم کھانا،کم بولنا،کم سونا آپ کی زندگی کا خاص اصول تھا۔
آپ فرمایا کرتے تھے کہ فضول اور لغو گفتگو میں بہت سی مصیبتیں اور پریشانیاں پنہاں ہیں کم کھانے سے جسم میں سُستی واقع نہیں ہوتی اورکم سونے سے زیادہ وقت عبادت الٰہی میں گزارسکتے ہیں۔یہ وقت بڑا قیمتی ہے،اس کی قدر کرنی چاہیےتقویٰ،پرہیز گاری،اتباعِ سنّت اورکثرت ِعبادت میں آپ کا کوئی ثانی نہ تھا۔
آپ نہایت کثیر العبادت تھے:
نمازِ تہجّد میں ساٹھ ساٹھ مرتبہ سورۃ یٰسین پڑھا کرتے تھے۔نمازِ فجر کے بعد چاشت تک مراقبہ فرماتے ۔ بعد ازاں قدرے قیلولہ فرماتے اور پھر نمازِ زوال ادا کرتے۔ اس کے بعد تلاوت قرآن مجید میں مشغول ہوجاتے اور پھر نمازِ ظہر سے پہلے حلقہ بنا کر بمع دوستاں ختم خواجگان پڑھتے اور ذکر و فکر کے بعد مریدوں کو توجہ دیتے نماز ظہر ادا کر کے مریدوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔ آپ چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک بار صرف اسی وقت ہی کھانا کھاتے تھے۔ نمازِ عصر کے بعد کبھی حدیث شریف اور کبھی مکتوباتِ امام ربّانی مجدّد الف ثانی قدس سرہ کا دَرس دیا کرتے تھے نمازِ مغرب کے بعد نماز اوابین میں قرآنِ مجید کے دس پارے پڑھتے تھے۔ بعد ازاں حلقۂ ذکر ہوتا۔ پھر نمازِ عشاء پڑھ کر دولت کدہ میں استراحت فرماتے۔ چوبیس ہزار مرتبہ کلمہ طیّبہ، پندرہ ہزار مرتبہ اسم ذات دن کو اور پھر دس ہزار مرتبہ کلمہ شریف رات کو آپ کا دائمی وظیفہ تھا۔ (تاریخ مشائخِ نقشبند:436)
❤1
ایک مرتبہ کسی تقریب میں جامع مسجد کے قریب سے گزرے۔سواری کے ساتھ عقیدت مندوں کا بے شمار ہجوم نجوم تھا۔حضرت شاہ گلشن نے مسجد سے آپ کی سواری کی رونق دیکھ کر اپنی پرانی کملی اتار کر پھینک دی اور کہا کہ اسے جلا دو۔ کیونکہ جس قدر نُور اس بزرگ کی سواری میں ہے اُس کا ایک شمّہ بھی مَیں اپنی کملی میں نہیں دیکھتا۔ حالانکہ تیس سال سے اس کملی میں ریاضت و مجاہدہ کر رہا ہوں۔ کسی نے بتایا کہ یہ حضرت خواجہ محمد زبیر ہیں۔ اس پر شاہ گلشن کہنے لگے، الحمدللہ! یہ تو ہمارے پیر زادہ ہیں اور ہماری عزّت و آبرو ان کے صدقے باقی رہ گئی ہے۔
فضل وکمالات: آپ کا ایک مرید سخت بیمار ہوگیا اور نزع کی حالت طاری ہوگئی۔ اُس کے چھوٹے چھوٹے بچّے تھے۔ اُس کے گھر والے آپ کے پاس حاضر ہوکر عرض گزار ہوئے۔ آپ کو اس کے حال پر رحم آیا اور اُسے اپنے ضمن میں لے لیا۔ وہ شفایاب ہوکرعرصہ دراز تک بقیدِ حیات رہا۔ چونکہ آپ کی رُوح مبارک اُس کی زندگی کی قیّم تھی۔ اس لیے جس دن آپ نے وصال فرمایا وہ شخص بھی دنیا سے چل بسا۔
ایک شخص آپ سے بیعت کرنے کے لیے گھر سے روانہ ہوا۔ راستے میں اُسے ایک گھوڑا سوار ملا۔ اُس نے قصدِ سفر پوچھا تو اُس شخص نے جواب دیا کہ میں حضرت خواجہ محمد زبیر کی خدمت میں بیعت ہونےکےلیےجا رہا ہوں۔گھوڑ سوار نیچے اُترا اور کہا کہ میں ہی خواجہ محمد زبیر ہوں۔ وہ شخص بہت خوش ہوا۔ اور درخواستِ بیعت کی۔ آپ نے اُسے داخل سلسلۂ عالیہ مجّددیہ کیا اور اجازت دے دی۔ اُس شخص نے سوچا کہ مَیں اب تو سرہند شریف کے نزدیک پہنچ گیا ہوں۔ لٰہذا کیوں نہ امام ربّانی حضرت مجدّد الف ثانی قدس سرہ کے روضۂ مقدس کی زیارت بھی کرتا جاؤں۔ جب سرہند شریف میں پہنچا تو دیکھا کہ وہاں لوگوں کا ایک بہت بڑا ہجوم تھا جو کسی کو دفن کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ جب اُس شخص نے دریافت کیا تو پتہ چلا کہ حضرت خواجہ زبیر وصال فرما گئے ہیں۔ جب اُس نے زیارت کی تو وہی شکل مبارک تھی جس نے اُسے راستے میں بیعت کیا تھا۔ایک شخص کابل سے آپ کی زیارت کے ارادہ سےروانہ ہوا۔ راستے میں اُسے ایک شیر ملا جسے دیکھ کر وہ بہت خوفزدہ ہوگیا۔ اُس شخص نے آپ کی طرف توجہ کی تو آپ فوراً تشریف لائے اور ایک پتھر اٹھا کر شیر پر پھینکا جس سے وہ لومڑی کی طرح دم دبا کر بھاگ گیا اور آپ بھی نظروں سے غائب ہوگئے۔(تاریخِ مشائخِ نقشبند:438)
تاریخِ وصال: آپ38برس مسند قیومیت پررونق افروز رہ کربروز بدھ،بوقتِ اشراق،4/ذی قعدہ 1152ھ مطابق 3/فروری1740ءکودہلی میں ہوا۔ آپ کی نعش مبارک سر ہند شریف لائی گئی۔ اور 11/ذیقعد بروز جمعرات شیخ سعدالدین کی حویلی میں جسے آپ نے شیخ موصوف کے بیٹے سے بعوض چار ہزار روپے خریدا تھا میں دفن کیے گئے۔ 1153ھ میں آپ کے مرقدِ انور پر ایک عالی شان روضہ تعمیر کیا گیا۔ جو رنگا رنگ کے نقش و نگار سے آراستہ کیاگیا تھا۔
ماخذومراجع: تاریخ مشائخِ نقشبند۔
جناب صابر براری نےخوب کہا:
قُطبِ دَوراں اور قیومِ زماں تھے بالیقیں ۔۔۔۔۔۔اہلِ بینش جانتے ہیں عظمتِ خواجہ زبیر
سالِ رحلت آپ کا یہ، آپ ہی کے فیض سے۔۔۔۔کہیے صابر ’’نُورِ عالم طلعتِ خواجہ زبیر‘‘
(1740ء)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-muhammad-zubair-sirhindi
فضل وکمالات: آپ کا ایک مرید سخت بیمار ہوگیا اور نزع کی حالت طاری ہوگئی۔ اُس کے چھوٹے چھوٹے بچّے تھے۔ اُس کے گھر والے آپ کے پاس حاضر ہوکر عرض گزار ہوئے۔ آپ کو اس کے حال پر رحم آیا اور اُسے اپنے ضمن میں لے لیا۔ وہ شفایاب ہوکرعرصہ دراز تک بقیدِ حیات رہا۔ چونکہ آپ کی رُوح مبارک اُس کی زندگی کی قیّم تھی۔ اس لیے جس دن آپ نے وصال فرمایا وہ شخص بھی دنیا سے چل بسا۔
ایک شخص آپ سے بیعت کرنے کے لیے گھر سے روانہ ہوا۔ راستے میں اُسے ایک گھوڑا سوار ملا۔ اُس نے قصدِ سفر پوچھا تو اُس شخص نے جواب دیا کہ میں حضرت خواجہ محمد زبیر کی خدمت میں بیعت ہونےکےلیےجا رہا ہوں۔گھوڑ سوار نیچے اُترا اور کہا کہ میں ہی خواجہ محمد زبیر ہوں۔ وہ شخص بہت خوش ہوا۔ اور درخواستِ بیعت کی۔ آپ نے اُسے داخل سلسلۂ عالیہ مجّددیہ کیا اور اجازت دے دی۔ اُس شخص نے سوچا کہ مَیں اب تو سرہند شریف کے نزدیک پہنچ گیا ہوں۔ لٰہذا کیوں نہ امام ربّانی حضرت مجدّد الف ثانی قدس سرہ کے روضۂ مقدس کی زیارت بھی کرتا جاؤں۔ جب سرہند شریف میں پہنچا تو دیکھا کہ وہاں لوگوں کا ایک بہت بڑا ہجوم تھا جو کسی کو دفن کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ جب اُس شخص نے دریافت کیا تو پتہ چلا کہ حضرت خواجہ زبیر وصال فرما گئے ہیں۔ جب اُس نے زیارت کی تو وہی شکل مبارک تھی جس نے اُسے راستے میں بیعت کیا تھا۔ایک شخص کابل سے آپ کی زیارت کے ارادہ سےروانہ ہوا۔ راستے میں اُسے ایک شیر ملا جسے دیکھ کر وہ بہت خوفزدہ ہوگیا۔ اُس شخص نے آپ کی طرف توجہ کی تو آپ فوراً تشریف لائے اور ایک پتھر اٹھا کر شیر پر پھینکا جس سے وہ لومڑی کی طرح دم دبا کر بھاگ گیا اور آپ بھی نظروں سے غائب ہوگئے۔(تاریخِ مشائخِ نقشبند:438)
تاریخِ وصال: آپ38برس مسند قیومیت پررونق افروز رہ کربروز بدھ،بوقتِ اشراق،4/ذی قعدہ 1152ھ مطابق 3/فروری1740ءکودہلی میں ہوا۔ آپ کی نعش مبارک سر ہند شریف لائی گئی۔ اور 11/ذیقعد بروز جمعرات شیخ سعدالدین کی حویلی میں جسے آپ نے شیخ موصوف کے بیٹے سے بعوض چار ہزار روپے خریدا تھا میں دفن کیے گئے۔ 1153ھ میں آپ کے مرقدِ انور پر ایک عالی شان روضہ تعمیر کیا گیا۔ جو رنگا رنگ کے نقش و نگار سے آراستہ کیاگیا تھا۔
ماخذومراجع: تاریخ مشائخِ نقشبند۔
جناب صابر براری نےخوب کہا:
قُطبِ دَوراں اور قیومِ زماں تھے بالیقیں ۔۔۔۔۔۔اہلِ بینش جانتے ہیں عظمتِ خواجہ زبیر
سالِ رحلت آپ کا یہ، آپ ہی کے فیض سے۔۔۔۔کہیے صابر ’’نُورِ عالم طلعتِ خواجہ زبیر‘‘
(1740ء)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-muhammad-zubair-sirhindi
scholars.pk
Hazrat Khawaja Muhammad Zubair Sarahandi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت سید ابراہیم بن محمد دمشقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
سید ابراہیم بن محمد بن محمد کمال الدین بن محمد بن حسین بن محمد بن حمزہ دمشقی:
آپ کا نسب پیغمبر خدا کی طرف منتہیٰ ہوتا ہے اور اپنے اسلاف کی طرح ابن حمزہ کی کنیت سے معروف تھے ۔ اپنے زمانہ کے علامہ، محدث، نحوی، اعلام محدثین اور علمائے جبذہ میں سے حرانی الاصل تھے ۔
دمشق میں سہ شنبہ کی رات کو مابین مغرب عشاء کے ۵ ماہ ذی القعدہ ۱۰۵۴ھ کو پیدا ہوئے اور اسی جگہ اپنے والد کی نگرانی میں پرورش پائی ۔ علوم اپنے والد ماجد اور ایک جماعت علماء و فضلاء سے حاصل کیے اور عمر بھر تدریس اور تنشیرِ علوم میں مصروف رہے ۔
آپ نے اسی شیوخ سے اجازت لی، شیخ ابراہیم برماوی، عبد اللہ بن سالم بصری، شیخ عبد اللہ لاہوری ثم المدنی خیر الدین رسلی اور عبد القادری بغدادی وغیرہ سے استفادہ کیا ۔
آپ کی تصانیف میں ’’اسباب الحدیث‘‘ ’’حاشیہ علی شرح الالفیہ لا بن المصنف‘‘ مشہور ہیں ۔
۱۱۱۹ھ میں حج کیا، واپسی پر بیمار ہوئے اور منزل ذات الحاج میں ۹ صفر ۱۱۲۰ھ کو وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے ’’معجم المؤلفین، ٹونکی‘‘، ابن عزم کی کتاب ’’دستور الاعلام‘‘ کا تکملہ لکھا۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-ibrahim-bin-muhammad-dimashqi
سید ابراہیم بن محمد بن محمد کمال الدین بن محمد بن حسین بن محمد بن حمزہ دمشقی:
آپ کا نسب پیغمبر خدا کی طرف منتہیٰ ہوتا ہے اور اپنے اسلاف کی طرح ابن حمزہ کی کنیت سے معروف تھے ۔ اپنے زمانہ کے علامہ، محدث، نحوی، اعلام محدثین اور علمائے جبذہ میں سے حرانی الاصل تھے ۔
دمشق میں سہ شنبہ کی رات کو مابین مغرب عشاء کے ۵ ماہ ذی القعدہ ۱۰۵۴ھ کو پیدا ہوئے اور اسی جگہ اپنے والد کی نگرانی میں پرورش پائی ۔ علوم اپنے والد ماجد اور ایک جماعت علماء و فضلاء سے حاصل کیے اور عمر بھر تدریس اور تنشیرِ علوم میں مصروف رہے ۔
آپ نے اسی شیوخ سے اجازت لی، شیخ ابراہیم برماوی، عبد اللہ بن سالم بصری، شیخ عبد اللہ لاہوری ثم المدنی خیر الدین رسلی اور عبد القادری بغدادی وغیرہ سے استفادہ کیا ۔
آپ کی تصانیف میں ’’اسباب الحدیث‘‘ ’’حاشیہ علی شرح الالفیہ لا بن المصنف‘‘ مشہور ہیں ۔
۱۱۱۹ھ میں حج کیا، واپسی پر بیمار ہوئے اور منزل ذات الحاج میں ۹ صفر ۱۱۲۰ھ کو وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے ’’معجم المؤلفین، ٹونکی‘‘، ابن عزم کی کتاب ’’دستور الاعلام‘‘ کا تکملہ لکھا۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-ibrahim-bin-muhammad-dimashqi
scholars.pk
Hazrat Syed Ibrahim Bin Muhammad Dimashqi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
مولانا عبد الواحد عثمانی بد ایونی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:اسمِ گرامی:مولانا عبدالواحدعثمانی بدایونی۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:مولانا عبدالوحد بدایونی بن مولانا حکیم ابوالمنظور عبدالماجد بدایونی بن مولانا عبد القیوم قادری بدایونی بن مولانا حافظ فرید جیلانی،بن مولانامحی الدین بدایونی بن سیف اللہ المسلول شاہ فضل رسول بدایونی بن مولانا شاہ عین الحق عبدالمجیدبدایونی۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔آپ کےوالدِگرامی مولانا عبدالماجد بدایونی فاتحِ سرحدمجاہدِملت حضرت علامہ عبدالحامد بدایونی کےبرادرِ
اکبرتھے۔عالم فاضل تمام علوم عقلیہ ونقلیہ میں مہارتِ تامہ رکھتےتھے۔خلاصۃ المنطق،خلاصۃ خلاصۃ الفلسفہ،خلاصۃ العقائد،اور القول السدیدعمدہ تصانیف ہیں۔(تذکرہ خانوادۂ قادریہ:46)
تاریخِ ولادت: آپ کا سن ِ ولادت کسی کتاب میں نہیں ملا۔تقریباً 18ویں صدی کےآخرمیں آپ کی پیدائش ہوئی ہوگی۔
تحصیلِ علم:آپ قبۃ الاسلام بد ایوں میں پیدا ہوئے،بدایوں علم وفن کا مرکز تھا۔علمی ماحول اور نا زونعم میں پر ورش پائی،ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی،مدرسہ قادریہ ،بد ایوں اورمدرسہ شمس العلوم بد ایوں میں اجلہ اساتذہ حضرت مولانا مفتی حافظ بخش بد ایونی اور مولانا حبیب الرحمن قادری سے استفادہ کیا۔پھر حصولِ علم کےلئےمولانا مفتی قدیربخش کی خدمت میں حاضر ہوئے۔انہوں نےآپ کے لئے بڑا آرام دہ انتظام کیا تھا۔مولانا عبد الواحد بد ایونی اپنے استاذ مکرم کا ذکر بڑی عقیدت سے کیا کرتے تھے۔والد گرامی مولانا عبد الماجد بد ایونی انہیں جامعہ ازہر مصر بھیجنا چاہتے تھے۔لیکن ان کی وفات سے یہ منصوبہ پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔البتہ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان دیا اور کامیاب ہو ئے۔والد ماجد کاتعلیم میں نہایت اہم کردار رہا۔
بیعت وخلافت: سلسلۂ عالیہ قادریہ میں عاشق رسول حضرت مولانا محمد عبد القدیر بد ایونی بن تاج الفحول حضرت مولانا شاہ محب رسول عبد القادر بد ایونی( قدس سرہما) سے بیعت تھے اور مرشد گرامی سے والہانہ محبت و عقیدت رکھتے تھے۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:277)
سیرت وخصائص:فاضل کامل،عالم متبحر،ماہر علوم جدیدہ وقدیمہ،حاویِ السنہ شرقیہ حضرت علامہ مولانا عبدالواحد عثمانی بدایونی۔آپخاندان ِ سیف اللہ المسلول حضرت مولانا شاہ فضل رسول بدایونیکےعظیم علمی وروحانی خانوادےسےتعلق رکھتےتھے۔آپ کےآباؤاجدادعلم وفضل زہدوتقویٰ میں ایک مقام رکھتےتھے۔اس خانوادےدینی وملی خدمات ظاہر وباہر ہیں۔فاتحِ سرحد،مجاہد کشمیر،قائد تحریکِ پاکستان حضرت علامہ مولانا عبدالحامد بدایونیکاشماراکابرعلماء اہل سنت اور اکابر تحریکِ پاکستان میں ہوتاہے،آپ کےچچا محترم ہیں۔آپ کےوالد گرامی ایک جید عالم دین اورخدا رسیدہ بزرگ تھے۔
تحریک پاکستان میں خدمات:مولانا عبد الواحد عثمانی بد ایونیایک محرک عالم دین تھے۔قوم وملت کادرد ورثےمیں ملاتھا۔آپ نے کچھ دنوں ماہنامہ ’’المنظور‘‘بد ایوں سنبھالاپھرمولانا مظہر الدین شیرکوٹی(1939ء) مالک و مدیر سہ روزہ’’ الامان‘‘ (دہلی) نے انہیں اپنے پاس بلالیا اور الامان کی ادارت ان کے سپرد کردی۔ان دنوں تحریک پاکستان بڑے زور شور سے جاری تھی۔مولانا عبد الواحد نےالامان اور دیگر جرائد و اخبارات میں مضامین لکھےاورشدومدسےنظریۂ پاکستان کی حمایت کی ۔ قیامِ پاکستان تک دہلی میں رہے،پھر وہاں سے بد ایوں اورپھرکراچی آگئے،لالو کھیت میں خاموشی اور گمنامی سے وقت بسر کیا۔کچھ دنو ں محکمہ آباد کاری میں ملاز رہے کئی اسکولوں اور مد رسوں سے متعلق رہے،پنجاب یو نیورسٹی کے السنۂ شرقیہ کے ممتحن بھی رہے۔حضر ت مولاناعبد الواحد بد ایونی ادب عربی کے زبر دست فاضل اور میدان خطابت کے شعلہ بیان مقرر تھے۔ موزون طبیعت کے مالک تھے۔کبھی نعت اورسلام لکھاکرتےتھے۔الامان دہلی کی ادارت کے زمانے میں ایک کتاب’’اسلامی مساوات ‘‘ لکھی تھی جو بہت مقبول ہوئی۔ کراچی میں آپ کےوالد ِماجد کےمریدین اور معتقدین کی خاصی تعداد تھی لیکن آپ نے کبھی ان سے رابطہ نہیں بڑھایا ۔ قدرت نے ان کے مزاج میں کمال استغنا ء و دیعت فرمایا تھا۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:278)
نام ونسب:اسمِ گرامی:مولانا عبدالواحدعثمانی بدایونی۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:مولانا عبدالوحد بدایونی بن مولانا حکیم ابوالمنظور عبدالماجد بدایونی بن مولانا عبد القیوم قادری بدایونی بن مولانا حافظ فرید جیلانی،بن مولانامحی الدین بدایونی بن سیف اللہ المسلول شاہ فضل رسول بدایونی بن مولانا شاہ عین الحق عبدالمجیدبدایونی۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔آپ کےوالدِگرامی مولانا عبدالماجد بدایونی فاتحِ سرحدمجاہدِملت حضرت علامہ عبدالحامد بدایونی کےبرادرِ
اکبرتھے۔عالم فاضل تمام علوم عقلیہ ونقلیہ میں مہارتِ تامہ رکھتےتھے۔خلاصۃ المنطق،خلاصۃ خلاصۃ الفلسفہ،خلاصۃ العقائد،اور القول السدیدعمدہ تصانیف ہیں۔(تذکرہ خانوادۂ قادریہ:46)
تاریخِ ولادت: آپ کا سن ِ ولادت کسی کتاب میں نہیں ملا۔تقریباً 18ویں صدی کےآخرمیں آپ کی پیدائش ہوئی ہوگی۔
تحصیلِ علم:آپ قبۃ الاسلام بد ایوں میں پیدا ہوئے،بدایوں علم وفن کا مرکز تھا۔علمی ماحول اور نا زونعم میں پر ورش پائی،ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی،مدرسہ قادریہ ،بد ایوں اورمدرسہ شمس العلوم بد ایوں میں اجلہ اساتذہ حضرت مولانا مفتی حافظ بخش بد ایونی اور مولانا حبیب الرحمن قادری سے استفادہ کیا۔پھر حصولِ علم کےلئےمولانا مفتی قدیربخش کی خدمت میں حاضر ہوئے۔انہوں نےآپ کے لئے بڑا آرام دہ انتظام کیا تھا۔مولانا عبد الواحد بد ایونی اپنے استاذ مکرم کا ذکر بڑی عقیدت سے کیا کرتے تھے۔والد گرامی مولانا عبد الماجد بد ایونی انہیں جامعہ ازہر مصر بھیجنا چاہتے تھے۔لیکن ان کی وفات سے یہ منصوبہ پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔البتہ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان دیا اور کامیاب ہو ئے۔والد ماجد کاتعلیم میں نہایت اہم کردار رہا۔
بیعت وخلافت: سلسلۂ عالیہ قادریہ میں عاشق رسول حضرت مولانا محمد عبد القدیر بد ایونی بن تاج الفحول حضرت مولانا شاہ محب رسول عبد القادر بد ایونی( قدس سرہما) سے بیعت تھے اور مرشد گرامی سے والہانہ محبت و عقیدت رکھتے تھے۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:277)
سیرت وخصائص:فاضل کامل،عالم متبحر،ماہر علوم جدیدہ وقدیمہ،حاویِ السنہ شرقیہ حضرت علامہ مولانا عبدالواحد عثمانی بدایونی۔آپخاندان ِ سیف اللہ المسلول حضرت مولانا شاہ فضل رسول بدایونیکےعظیم علمی وروحانی خانوادےسےتعلق رکھتےتھے۔آپ کےآباؤاجدادعلم وفضل زہدوتقویٰ میں ایک مقام رکھتےتھے۔اس خانوادےدینی وملی خدمات ظاہر وباہر ہیں۔فاتحِ سرحد،مجاہد کشمیر،قائد تحریکِ پاکستان حضرت علامہ مولانا عبدالحامد بدایونیکاشماراکابرعلماء اہل سنت اور اکابر تحریکِ پاکستان میں ہوتاہے،آپ کےچچا محترم ہیں۔آپ کےوالد گرامی ایک جید عالم دین اورخدا رسیدہ بزرگ تھے۔
تحریک پاکستان میں خدمات:مولانا عبد الواحد عثمانی بد ایونیایک محرک عالم دین تھے۔قوم وملت کادرد ورثےمیں ملاتھا۔آپ نے کچھ دنوں ماہنامہ ’’المنظور‘‘بد ایوں سنبھالاپھرمولانا مظہر الدین شیرکوٹی(1939ء) مالک و مدیر سہ روزہ’’ الامان‘‘ (دہلی) نے انہیں اپنے پاس بلالیا اور الامان کی ادارت ان کے سپرد کردی۔ان دنوں تحریک پاکستان بڑے زور شور سے جاری تھی۔مولانا عبد الواحد نےالامان اور دیگر جرائد و اخبارات میں مضامین لکھےاورشدومدسےنظریۂ پاکستان کی حمایت کی ۔ قیامِ پاکستان تک دہلی میں رہے،پھر وہاں سے بد ایوں اورپھرکراچی آگئے،لالو کھیت میں خاموشی اور گمنامی سے وقت بسر کیا۔کچھ دنو ں محکمہ آباد کاری میں ملاز رہے کئی اسکولوں اور مد رسوں سے متعلق رہے،پنجاب یو نیورسٹی کے السنۂ شرقیہ کے ممتحن بھی رہے۔حضر ت مولاناعبد الواحد بد ایونی ادب عربی کے زبر دست فاضل اور میدان خطابت کے شعلہ بیان مقرر تھے۔ موزون طبیعت کے مالک تھے۔کبھی نعت اورسلام لکھاکرتےتھے۔الامان دہلی کی ادارت کے زمانے میں ایک کتاب’’اسلامی مساوات ‘‘ لکھی تھی جو بہت مقبول ہوئی۔ کراچی میں آپ کےوالد ِماجد کےمریدین اور معتقدین کی خاصی تعداد تھی لیکن آپ نے کبھی ان سے رابطہ نہیں بڑھایا ۔ قدرت نے ان کے مزاج میں کمال استغنا ء و دیعت فرمایا تھا۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:278)
❤1
پروفیسر محمد ایوب قادری حکیم محمد موسیٰ امر تسری کے نام ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
’’ 9/نومبر1975ء کو مولانا عبد الوحد عثمانی بد ایونی کا انتقال ہوگیا،یہ مولانا عبد الماجد بد ایونی کے فرزند تھے۔بڑے باپ کے بڑے بیٹے تھے،لالو کھیت کو ارٹر میں رہے ،خاندان،سجاد گی اور علم و فضل کو حصول تعارف اوراعزاز کا ذریعہ نہیں بنایا ، گم نامی میں زندگی گزاردی،تقسیم سے پہلے الامان و و حدت کے ادارےسےوابستہ تھے۔بڑی خوبیوں کے بزرگ اور اپنے اسلاف کےصحیح جانشین تھے۔مولانا فضل رسول بد ایونی کے خاندان میں اب کوئی شخص عربی جاننےوالانہیں رہا۔یہ آخری رکن تھے،دو سو سال سے جس خاندان میں قال اللہ،اورقال الرسول کا چرچاتھااب بالکل معدوم ہو گیا ۔(ایضا:278)
تاریخِ وصال:
5 ذوالقعدہ 1395ھ مطابق9 نومبر 1975ء بروز اتوار، کراچی میں ہوا ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابراہل سنت ۔ تذکرہ خانوادۂ قادریہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-wahid-usmani
’’ 9/نومبر1975ء کو مولانا عبد الوحد عثمانی بد ایونی کا انتقال ہوگیا،یہ مولانا عبد الماجد بد ایونی کے فرزند تھے۔بڑے باپ کے بڑے بیٹے تھے،لالو کھیت کو ارٹر میں رہے ،خاندان،سجاد گی اور علم و فضل کو حصول تعارف اوراعزاز کا ذریعہ نہیں بنایا ، گم نامی میں زندگی گزاردی،تقسیم سے پہلے الامان و و حدت کے ادارےسےوابستہ تھے۔بڑی خوبیوں کے بزرگ اور اپنے اسلاف کےصحیح جانشین تھے۔مولانا فضل رسول بد ایونی کے خاندان میں اب کوئی شخص عربی جاننےوالانہیں رہا۔یہ آخری رکن تھے،دو سو سال سے جس خاندان میں قال اللہ،اورقال الرسول کا چرچاتھااب بالکل معدوم ہو گیا ۔(ایضا:278)
تاریخِ وصال:
5 ذوالقعدہ 1395ھ مطابق9 نومبر 1975ء بروز اتوار، کراچی میں ہوا ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابراہل سنت ۔ تذکرہ خانوادۂ قادریہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-wahid-usmani
scholars.pk
Hazrat Molana Abdul Wahid
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1