🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.8K subscribers
69.7K photos
228 videos
257 files
8.85K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-11-1444 ᴴ | 25-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-11-1444 ᴴ | 25-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-11-1444 ᴴ | 25-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-11-1444 ᴴ | 25-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی ۔ کنیت: ابو البرکات ۔ لقب: شمس الدین، قیوم رابع ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی بن خواجہ شیخ ابو العلی بن خواجہ حجۃ اللہ محمدنقشبند ثانی بن خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔(تاریخِ مشائخِ نقشبند:435)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 5 ذیقعدہ 1093ھ مطابق 2 نومبر 1682ء، بروز پیر کو ہوئی ۔ (ایضا:435)

تحصیلِ علم:
آپ کا سارا خاندان نور علیٰ نور تھا ۔ جن میں جذبۂ حریت، استقامت علی الدین اور علم و عمل شریعت و طریقت میں بے مثال تھے ۔ جہاں ہر طرف قال اللہ وقال رسول اللہ ﷺ کی صدائیں دلوں کو جلا بخشتی تھیں ۔ اس نورانی و روحانی فضا میں حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی کی تربیت ہوئی ۔ جب آپ کی عمر مبارک چار برس چار ماہ ہوئی تو آپ کو ایک سعادت مند ادیب اور طالع مند اتالیق کے سپرد کیا گیا۔ سات برس کی عمر میں ہی شائستگی حال، آراستگیِ مقال، اوضاعِ کریمانہ اور اطوارِ بزرگانہ آپ کی جبین سعادت سے ہویدا ہوگئے تھے۔

آپ ابھی صرف تیرہ برس کے تھے کہ والد گرامی حضرت شیخ خواجہ ابوالعلی ﷫ کا وصال ہوگیا اور آپ کی پرورش جدّامجد حضرت خواجہ نقشبند ثانی قدس سرہ نے کی اور ظاہری و باطنی علوم میں مالا مال کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ کم سِنی ہی میں آپ پر استغراق غالب ہوجایا کرتا تھا اور حضرت نقشبند ثانی قدس سرہ نے آپ کو قیومیّت کی بشارت دی تھی چنانچہ حضرت حجۃ اللہ خواجہ محمد نقشبند ثانی قدس سرہ کے وصال کے بعد بروز ہفتہ یکم صفر 1114ھ / 24 جون 1702ء کو مسند قیومیّت و ارشاد پر متمکن ہوئے۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں اپنے جد کریم حضرت خواجہ محمد نقشبندِ ثانی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور ان کے خلیفہ ٔ اعظم بنے،اور ان کے وصال کےبعد مسند ارشاد پر فائز ہوئے۔

سیرت وخصائص:
عارف باللہ واصل باللہ، قطب الارشاد، قیومِ زماں، حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی﷫ ۔ آپ ﷫ خاندانِ حضرت مجدد کے فرد فرید، اور ان کی علمی وروحانی امانتوں کے وارث، اور جامع شریعت و طریقت تھے ۔ آپ کی ذاتِ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کوفروغ حاصل ہوا۔حضرت حجۃ اللہ خواجہ محمد ثانی ِ نقشبند﷫کےپوتےاورخلیفۂ اعظم تھے۔آپ اپنے وقت کے قطبِ دوراں اور قیوم زماں تھے۔ آپ کے شب و روز عبادت الٰہی اور خلق خدا کو ہدایت کرنے میں صرف ہوتے تھے۔ آپ کا حلقہ بہت وسیع تھا اور زمانے کے بڑے بڑے علماء و امراء آپ کے معتقد تھے۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین و دنیا کی دولت سے سرفراز فرمایا تھا۔ جب بھی آپ دولت کدہ سے باہر تشریف لاتے تو امراء شاہی اپنے دوشالے اور پگڑیاں فرش راہ بناتے تاکہ متبرک ہوجائیں اور آپ کے قدم مبارک زمین پر نہ پڑیں۔ اگر آپ کسی جگہ وعظ، مجلس یا عیادتِ مریض کے لیے تشریف لے جاتے تو آپ کی سواری اور جلوس شاہانہ ہوتا۔ باوجود اس ظاہری کرّو فر کے دل خدا کی طرف لگا ہواتھا۔ آپ ہر امیر و غریب کو ایک نظر سے دیکھتے تھے اور ہر مرید کو درجۂ کمال تک پہنچانے کی سعیٔ بلیغ فرماتے تھے۔کم کھانا،کم بولنا،کم سونا آپ کی زندگی کا خاص اصول تھا۔

آپ فرمایا کرتے تھے کہ فضول اور لغو گفتگو میں بہت سی مصیبتیں اور پریشانیاں پنہاں ہیں کم کھانے سے جسم میں سُستی واقع نہیں ہوتی اورکم سونے سے زیادہ وقت عبادت الٰہی میں گزارسکتے ہیں۔یہ وقت بڑا قیمتی ہے،اس کی قدر کرنی چاہیےتقویٰ،پرہیز گاری،اتباعِ سنّت اورکثرت ِعبادت میں آپ کا کوئی ثانی نہ تھا۔

آپ نہایت کثیر العبادت تھے:
نمازِ تہجّد میں ساٹھ ساٹھ مرتبہ سورۃ یٰسین پڑھا کرتے تھے۔نمازِ فجر کے بعد چاشت تک مراقبہ فرماتے ۔ بعد ازاں قدرے قیلولہ فرماتے اور پھر نمازِ زوال ادا کرتے۔ اس کے بعد تلاوت قرآن مجید میں مشغول ہوجاتے اور پھر نمازِ ظہر سے پہلے حلقہ بنا کر بمع دوستاں ختم خواجگان پڑھتے اور ذکر و فکر کے بعد مریدوں کو توجہ دیتے نماز ظہر ادا کر کے مریدوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔ آپ چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک بار صرف اسی وقت ہی کھانا کھاتے تھے۔ نمازِ عصر کے بعد کبھی حدیث شریف اور کبھی مکتوباتِ امام ربّانی مجدّد الف ثانی قدس سرہ کا دَرس دیا کرتے تھے نمازِ مغرب کے بعد نماز اوابین میں قرآنِ مجید کے دس پارے پڑھتے تھے۔ بعد ازاں حلقۂ ذکر ہوتا۔ پھر نمازِ عشاء پڑھ کر دولت کدہ میں استراحت فرماتے۔ چوبیس ہزار مرتبہ کلمہ طیّبہ، پندرہ ہزار مرتبہ اسم ذات دن کو اور پھر دس ہزار مرتبہ کلمہ شریف رات کو آپ کا دائمی وظیفہ تھا۔ (تاریخ مشائخِ نقشبند:436)
1