بے اختیار کہہ اُٹھے کہ بہن! تمہیں ﷲ کی قسم کہ تھوڑا میرے لئے چھوڑ دو، انہوں نے ایک جُرعَہ (یعنی ایک گھونٹ) چھوڑ دیا، انہوں نے پیا، اس کے پیتے ہی ہر جڑی بُوٹی، ہر در و دیوار سے ان کو یہ آواز آنے لگی کہ کون اس کا زیادہ مستحق ہے کہ ہماری راہ میں قتل کیا جائے ۔
انہوں نے کہنا شروع کر دیا ’’ اَنَا الحَقُّ ‘‘ بیشک میں سب سے زیادہ اس کا سزا وار (یعنی حق دار) ہوں ۔ لوگوں کے سننے میں آیا ’’ اَنَاالْحَقُّ ‘‘ (یعنی میں حق ہوں) وہ (لوگ) دعوۂ خدائی سمجھے، اور یہ (یعنی خدائی کا دعوی) کفر ہے اور مسلمان ہو کر جو کفر کرے مرتد ہے اور مرتد کی سزا قتل ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ، ج26، ص400)
آپ کا قتل:
ایک قول تو یہ ہے کہ آپ کا قتل ایک سیاسی قتل تھا ۔ جیسا کہ حکمران اپنے مخالفین کو قتل کراتے ہیں ۔ (تذکرہ شیخ حسین بن منصور حلاج:222) ۔
اسی طرح آپ کے قتل میں روافض کا اہم کردار تھا ۔ (ایضا) اس لئے آپ پر رفض کا الزام بہتان ہے ۔ آپ جیل میں بھی کثرت کے ساتھ نوافل پڑھتے تھے ۔ جب جیل سے باہر تھے اس وقت ہر فرض نماز کے لئے غسل کرتے ۔
آپ کو بڑی بے دردی سے شہید کیا گیا ۔ پہلے آپ کے اعضا کاٹے گئے، کوڑے برسائے گئے، آنکھیں نکالیں گئیں، زبان کاٹی گئی، پھر بے دردی سے سولی پہ چڑھایا گیا ۔
جب سپاہی آپ کو تختۂ دار پر لے گئے چشم دید گواہوں نے بیان کیا ہے کہ اس منظر کو دیکھنے کے لیے ایک لاکھ لوگ موجود تھے ۔ شیخ حسین بن منصور آنکھ کھولتے اور آواز دیتے حق حق حق انا لاحق ایک درویش اس مجمعے میں سے آگے بڑھا اور آپ کو پوچھنے لگا حضرت عشق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا آج دیکھ لوگے پھر کچھ کل دیکھو گے اور پھر پرسوں دیکھو گے! اس دن آپ کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا دوسرے روز آپ کی نعش کو جلایا گیا، تیسرے دن آپ کی مٹی کو اڑایا گیا ۔ حاضرین نے سنا کہ آپ کے ایک ایک عضو سے انا الحق انا الحق کی آواز آ رہی ہے آپ کا ایک ایک عضو علیحدہ کر دیا گیا خون کے قطرے قطرے سے صدائے اناالحق اناالحق سنائی دی جانے لگی ۔ آپ کے جسم کو جلا دیا گیا مگر خاکستر کے ایک ایک ذرہ سے صدائے انا الحق سنی جاتی رہی، تیسرے دن آپ کی خاکستر کو دریائے دجلہ میں بہا دیا گیا، دریا میں ایک تلاطم برپا ہو گیا اور وادی دجلہ انا الحق کے شور سے گونج اٹھی ۔
کہتے ہیں کہ آپ نے تختہ دار پر آنے سے پہلے اپنے ایک محرم راز کو بتایا تھا کہ جب آپ کی خاکستر دریائے دجلہ میں پھینکی جائے گی کہ تو دوسرے دن دریائے دجلہ میں ایک طوفانی سیلاب آئے گا اور اس کی موجیں بغداد شہر کی دیواروں سے ٹکرانا شروع کر دیں گی، اس وقت میری یہ یہ قمیص دریا کے سامنے لے جا کر کہنا اے دجلہ تجھے حسین بن منصور کی اس قمیص کے پیش نظر شہر سے ہٹ جانا چاہیے، واقعتاً ایسا ہی ہوا، اس دوست نے حضرت کی قمیص سامنے کی اور اس طرح دریائے دجلہ کا رُخ بدل گیا، سیلاب تھم گیا اور شہر بغداد بچ گیا ۔ اتنے ظلم و ستم کے باوجود حضرت حسین ابن منصور کے باقی ماندہ اعضاء اور خاکستر کو جمع کیا گیا، اور عقیدت مندوں نے آپ کا ایک مزار تعمیر کرایا ۔ (خزینۃ الاصفیاء، ص:105)
تاریخِ شہادت:
آپ کی شہادت بروز منگل 4 ذوالقعدہ 309ھ مطابق 3 مارچ 922ء کو ہوئی ۔
داتا گنج بخش کی نصیحت:
آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: اس قسم کے مغلوب الحال صوفیاء کرام کے کلام کا ہرگز اتباع نہیں کرنا چاہئے اس لئے وہ اپنے حال میں اس قدر مغلوب ہوتے ہیں کہ ان میں استقامت قطعی نہیں ہوتی، اور اُن صوفیاء کی پیروی کرنی چاہئے جو صاحبِ استقامت ہیں ۔ میں حضرت حسین بن حلاج کو اپنے دل میں عزیز رکھتا ہوں اور ان کی عظمت میرے دل میں ہے ۔ لیکن آپ مغلوب الحال تھے۔(کشف المحجوب:308) ۔
وہابی وغیرہ دشمنان اولیاء نے بہت سے مقامات پر آپ کے خلاف ابن تیمیہ وغیرہ کے حوالے بہت زہر اگلا ہے ۔ اس پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ، حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی، حضرت امام غزالی، حضرت داتا گنج بخش، حضرت مجدد الفِ ثانی، اور اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہم الرضوان وغیرہ اکابرینِ امت نے آپ کی مدح فرمائی ہے ۔ میں نے یہ اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ تفصیل کے لئے۔۔۔ کشف المحجوب، داتا گنج بخش ۔ تذکرۃ الاولیاء، شیخ فریدالدین عطار ـ خزینۃ الاصفیا، مفتی غلام سرور لاہوری قابلِ مطالعہ ہیں ۔ فقیر تونسویؔ غفرلہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hussain-bin-mansoor-hallaj
انہوں نے کہنا شروع کر دیا ’’ اَنَا الحَقُّ ‘‘ بیشک میں سب سے زیادہ اس کا سزا وار (یعنی حق دار) ہوں ۔ لوگوں کے سننے میں آیا ’’ اَنَاالْحَقُّ ‘‘ (یعنی میں حق ہوں) وہ (لوگ) دعوۂ خدائی سمجھے، اور یہ (یعنی خدائی کا دعوی) کفر ہے اور مسلمان ہو کر جو کفر کرے مرتد ہے اور مرتد کی سزا قتل ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ، ج26، ص400)
آپ کا قتل:
ایک قول تو یہ ہے کہ آپ کا قتل ایک سیاسی قتل تھا ۔ جیسا کہ حکمران اپنے مخالفین کو قتل کراتے ہیں ۔ (تذکرہ شیخ حسین بن منصور حلاج:222) ۔
اسی طرح آپ کے قتل میں روافض کا اہم کردار تھا ۔ (ایضا) اس لئے آپ پر رفض کا الزام بہتان ہے ۔ آپ جیل میں بھی کثرت کے ساتھ نوافل پڑھتے تھے ۔ جب جیل سے باہر تھے اس وقت ہر فرض نماز کے لئے غسل کرتے ۔
آپ کو بڑی بے دردی سے شہید کیا گیا ۔ پہلے آپ کے اعضا کاٹے گئے، کوڑے برسائے گئے، آنکھیں نکالیں گئیں، زبان کاٹی گئی، پھر بے دردی سے سولی پہ چڑھایا گیا ۔
جب سپاہی آپ کو تختۂ دار پر لے گئے چشم دید گواہوں نے بیان کیا ہے کہ اس منظر کو دیکھنے کے لیے ایک لاکھ لوگ موجود تھے ۔ شیخ حسین بن منصور آنکھ کھولتے اور آواز دیتے حق حق حق انا لاحق ایک درویش اس مجمعے میں سے آگے بڑھا اور آپ کو پوچھنے لگا حضرت عشق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا آج دیکھ لوگے پھر کچھ کل دیکھو گے اور پھر پرسوں دیکھو گے! اس دن آپ کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا دوسرے روز آپ کی نعش کو جلایا گیا، تیسرے دن آپ کی مٹی کو اڑایا گیا ۔ حاضرین نے سنا کہ آپ کے ایک ایک عضو سے انا الحق انا الحق کی آواز آ رہی ہے آپ کا ایک ایک عضو علیحدہ کر دیا گیا خون کے قطرے قطرے سے صدائے اناالحق اناالحق سنائی دی جانے لگی ۔ آپ کے جسم کو جلا دیا گیا مگر خاکستر کے ایک ایک ذرہ سے صدائے انا الحق سنی جاتی رہی، تیسرے دن آپ کی خاکستر کو دریائے دجلہ میں بہا دیا گیا، دریا میں ایک تلاطم برپا ہو گیا اور وادی دجلہ انا الحق کے شور سے گونج اٹھی ۔
کہتے ہیں کہ آپ نے تختہ دار پر آنے سے پہلے اپنے ایک محرم راز کو بتایا تھا کہ جب آپ کی خاکستر دریائے دجلہ میں پھینکی جائے گی کہ تو دوسرے دن دریائے دجلہ میں ایک طوفانی سیلاب آئے گا اور اس کی موجیں بغداد شہر کی دیواروں سے ٹکرانا شروع کر دیں گی، اس وقت میری یہ یہ قمیص دریا کے سامنے لے جا کر کہنا اے دجلہ تجھے حسین بن منصور کی اس قمیص کے پیش نظر شہر سے ہٹ جانا چاہیے، واقعتاً ایسا ہی ہوا، اس دوست نے حضرت کی قمیص سامنے کی اور اس طرح دریائے دجلہ کا رُخ بدل گیا، سیلاب تھم گیا اور شہر بغداد بچ گیا ۔ اتنے ظلم و ستم کے باوجود حضرت حسین ابن منصور کے باقی ماندہ اعضاء اور خاکستر کو جمع کیا گیا، اور عقیدت مندوں نے آپ کا ایک مزار تعمیر کرایا ۔ (خزینۃ الاصفیاء، ص:105)
تاریخِ شہادت:
آپ کی شہادت بروز منگل 4 ذوالقعدہ 309ھ مطابق 3 مارچ 922ء کو ہوئی ۔
داتا گنج بخش کی نصیحت:
آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: اس قسم کے مغلوب الحال صوفیاء کرام کے کلام کا ہرگز اتباع نہیں کرنا چاہئے اس لئے وہ اپنے حال میں اس قدر مغلوب ہوتے ہیں کہ ان میں استقامت قطعی نہیں ہوتی، اور اُن صوفیاء کی پیروی کرنی چاہئے جو صاحبِ استقامت ہیں ۔ میں حضرت حسین بن حلاج کو اپنے دل میں عزیز رکھتا ہوں اور ان کی عظمت میرے دل میں ہے ۔ لیکن آپ مغلوب الحال تھے۔(کشف المحجوب:308) ۔
وہابی وغیرہ دشمنان اولیاء نے بہت سے مقامات پر آپ کے خلاف ابن تیمیہ وغیرہ کے حوالے بہت زہر اگلا ہے ۔ اس پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ، حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی، حضرت امام غزالی، حضرت داتا گنج بخش، حضرت مجدد الفِ ثانی، اور اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہم الرضوان وغیرہ اکابرینِ امت نے آپ کی مدح فرمائی ہے ۔ میں نے یہ اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ تفصیل کے لئے۔۔۔ کشف المحجوب، داتا گنج بخش ۔ تذکرۃ الاولیاء، شیخ فریدالدین عطار ـ خزینۃ الاصفیا، مفتی غلام سرور لاہوری قابلِ مطالعہ ہیں ۔ فقیر تونسویؔ غفرلہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hussain-bin-mansoor-hallaj
scholars.pk
Hazrat Hussain Bin Mansoor Hallaj
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-11-1444 ᴴ | 24-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-11-1444 ᴴ | 25-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-11-1444 ᴴ | 25-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-11-1444 ᴴ | 25-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1