امام المناطقہ، ملک المدرسین، علامہ عطاء محمد بندیالوی علیہ الرحمہ
نام ونسب:
اسمِ گرامی:عطاء محمد۔کنیت:ابوالفداء۔لقب۔بندیالوی،چشتی،گولڑوی۔سلسلہ نسب اسطرح ہے:علامہ عطاء محمد بندیالوی بن اللہ بخش بن غلام محمدبن محمد چراغ بن خدابخش بن بصارت بن دلیل بن خدایار(الیٰ اخرہ)۔ آپ کاسلسلہ نسب حضرت محمد بن حنفیہ کے ذریعے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے۔
تاریخِ ولادت:
آپ 1334ھ بمطابق 1916ء کو"ڈھوک دھمن "نزدقصبہ پدھراڑ،ضلع خوشاب ،پنجاب(پاکستان) میں پیداہوئے۔آپ کاتعلق اعوان برادری سےتھا۔
تحصیلِ علم:
آپ نے حفظِ قرآن مجید اور فارسی کی ابتدائی کتب موضع "و سنال" ضلع جہلم میں حافظ الٰہی بخش اور قاضی محمد بشیر سے پڑھیں۔ 1932ء میں آپ بندیال ضلع سرگودھا تشریف لے گئے۔ ان دنوں بندیال میں فقیہ العصر استاذالعلماء حضرت مولانا یار محمد رحمہ اللہ نے علوم و فنون کا فیض جاری کیا ہوا تھا، چنانچہ آپ نے بھی اس فیض سے بہرور ہونا شروع کردیا اور فارسی کی بقیہ کتب صرف و نحو کی تمام کتب، اصول فقہ سے حسامی اور منطق سے قطبی وغیرہ پڑھیں۔ اس کے بعد دو سال چھ ماہ کا عرصہ جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور میں گزارا اور حضرت استاذالعلماء مولانا مہر محمد اچھروی سے معقول اور فنونِ عالیہ کی تمام کتب کا درس لیا۔ چھ ماہ "انہی"ضلع گجرات رہے اور پھر پپلاں ضلع میانوالی میں مولانا غلام محمود (مصنف تحفہ سلیمانی)سے تصریح، شرح چغمینی اور رسائل ربع مجیب وغیرہ کتب پڑھ کر علوم و فنون کی تکمیل کی۔اسی طرح آپ نے حضرت علامہ مولانا محب النبی چشتی گولڑوی ،مولانا امیرمحمد اور حضرت علامہ ولی اللہ (انہی ضلع گجرات) سے بھی علمی استفادہ فرمایا۔
بیعت وخلافت:
آپ تاجدارِ گولڑہ ،محافظِ ختمِ نبوت سیدناپیرمہرِ علی شاہ رحمۃ اللہ کے دستِ حق پرست پر زمانہِ طالبِ علمی میں بیعت ہوئے۔آپ کے وصال کے بعد آپ کے جانشینِ برحق حضرت شاہ محی الدین گولڑوی گیلانی المعروف قبلہ بابو جی رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے۔
سیرت وخصائص:
ملک العلماء، امام المناطقہ، بحرالعلوم، استاذالکل، جامع المنقولِ والمعقول، صدرالمدرسین، خزینۂ علم وعرفاں، امام ِ علم وحکمت،سلسلۂ خیرآبادیت کے وارثِ کامل،پروردہ ٔنگاہ تاجدارِ گولڑہ،محسنِ اہلسنت،ملک المدرسین حضرت علامہ مولانا عطاءمحمد بندیالوی رحمۃ اللہ علیہ۔
سادہ لباس میں ملبوس ایک درویش سیرت،سیر چشم،غیور اور خموش طبع عالمِ دین ،مروجہ علوم وفنون میں کامل دستگاہ،معارفِ قرآن وسنت کی جلوہ گاہ،علمِ مناظرہ میں یکتا،منطق وفلسفہ کا امام،فقہ میں فقیہ العصر،فنِ حدیث میں وہ بصیرت کہ اسلاف محدثین تحسین فرمائیں۔علمِ ہیت میں وہ مہارت کہ ہیت کی ہیت سنور جائے۔ آپ کی علمی وتدریسی خدمات میں اللہ تعالیٰ نے جوقبولیت رکھی تھی اس کے پیشِ نظر کہا جاسکتا ہے کہ اسمِ بامسمیٰ عطائے محمد اور تحفۃ المصطفیٰ ﷺفی دیارِ پاکستان تھے۔علامہ عبدالحکیم شرف قادری فرماتے ہیں: کہ تدریس میں کئی سال کا ملکہ اور تجربہ ہونے کے باوجود آپ نے کبھی کوئی کتاب بغیر مطالعہ کیےنہیں پڑھائی۔اپنے تلامذہ کو بھی یہی نصیحت فرماتے تھے۔عشقِ رسولﷺمیں آپ کانگ انگ گندھاہواتھا۔آپ تمام عقلی ونقلی علوم کوعشقِ رسولﷺکےنمونہ میں دیکھتے تھے۔تدریس کایہ عالم تھا کہ یوں محسوس ہوتاتھا مصنف خود پڑھارہے ہیں بلکہ وہ بھی آفریں کہیں۔(مقدمہ قوالی کی شرعی حیثیت)۔حضرت استاذالعلماء ملک المدرسین رحمۃ اللہ علیہ اس قحط الرجال کےزمانہ میں یادگارِ اسلاف ،اور اہلسنت وجماعت کیلئے اللہ تعالیٰ کی نعمت تھے۔اس وقت اہلِ سنت کے مدارس میں قابل مدرسین ومصنفین میں سے اکثرآپ کے تلامذہ یاتلامذہ کے تلامذہ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آپ کی محنت اورخلوص سے حضرت محدثِ اعظم پاکستان علیہ الرحمہ بہت خوش ہوتے تھے،اور آپ کوقدرکی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
نام ونسب:
اسمِ گرامی:عطاء محمد۔کنیت:ابوالفداء۔لقب۔بندیالوی،چشتی،گولڑوی۔سلسلہ نسب اسطرح ہے:علامہ عطاء محمد بندیالوی بن اللہ بخش بن غلام محمدبن محمد چراغ بن خدابخش بن بصارت بن دلیل بن خدایار(الیٰ اخرہ)۔ آپ کاسلسلہ نسب حضرت محمد بن حنفیہ کے ذریعے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے۔
تاریخِ ولادت:
آپ 1334ھ بمطابق 1916ء کو"ڈھوک دھمن "نزدقصبہ پدھراڑ،ضلع خوشاب ،پنجاب(پاکستان) میں پیداہوئے۔آپ کاتعلق اعوان برادری سےتھا۔
تحصیلِ علم:
آپ نے حفظِ قرآن مجید اور فارسی کی ابتدائی کتب موضع "و سنال" ضلع جہلم میں حافظ الٰہی بخش اور قاضی محمد بشیر سے پڑھیں۔ 1932ء میں آپ بندیال ضلع سرگودھا تشریف لے گئے۔ ان دنوں بندیال میں فقیہ العصر استاذالعلماء حضرت مولانا یار محمد رحمہ اللہ نے علوم و فنون کا فیض جاری کیا ہوا تھا، چنانچہ آپ نے بھی اس فیض سے بہرور ہونا شروع کردیا اور فارسی کی بقیہ کتب صرف و نحو کی تمام کتب، اصول فقہ سے حسامی اور منطق سے قطبی وغیرہ پڑھیں۔ اس کے بعد دو سال چھ ماہ کا عرصہ جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور میں گزارا اور حضرت استاذالعلماء مولانا مہر محمد اچھروی سے معقول اور فنونِ عالیہ کی تمام کتب کا درس لیا۔ چھ ماہ "انہی"ضلع گجرات رہے اور پھر پپلاں ضلع میانوالی میں مولانا غلام محمود (مصنف تحفہ سلیمانی)سے تصریح، شرح چغمینی اور رسائل ربع مجیب وغیرہ کتب پڑھ کر علوم و فنون کی تکمیل کی۔اسی طرح آپ نے حضرت علامہ مولانا محب النبی چشتی گولڑوی ،مولانا امیرمحمد اور حضرت علامہ ولی اللہ (انہی ضلع گجرات) سے بھی علمی استفادہ فرمایا۔
بیعت وخلافت:
آپ تاجدارِ گولڑہ ،محافظِ ختمِ نبوت سیدناپیرمہرِ علی شاہ رحمۃ اللہ کے دستِ حق پرست پر زمانہِ طالبِ علمی میں بیعت ہوئے۔آپ کے وصال کے بعد آپ کے جانشینِ برحق حضرت شاہ محی الدین گولڑوی گیلانی المعروف قبلہ بابو جی رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے۔
سیرت وخصائص:
ملک العلماء، امام المناطقہ، بحرالعلوم، استاذالکل، جامع المنقولِ والمعقول، صدرالمدرسین، خزینۂ علم وعرفاں، امام ِ علم وحکمت،سلسلۂ خیرآبادیت کے وارثِ کامل،پروردہ ٔنگاہ تاجدارِ گولڑہ،محسنِ اہلسنت،ملک المدرسین حضرت علامہ مولانا عطاءمحمد بندیالوی رحمۃ اللہ علیہ۔
سادہ لباس میں ملبوس ایک درویش سیرت،سیر چشم،غیور اور خموش طبع عالمِ دین ،مروجہ علوم وفنون میں کامل دستگاہ،معارفِ قرآن وسنت کی جلوہ گاہ،علمِ مناظرہ میں یکتا،منطق وفلسفہ کا امام،فقہ میں فقیہ العصر،فنِ حدیث میں وہ بصیرت کہ اسلاف محدثین تحسین فرمائیں۔علمِ ہیت میں وہ مہارت کہ ہیت کی ہیت سنور جائے۔ آپ کی علمی وتدریسی خدمات میں اللہ تعالیٰ نے جوقبولیت رکھی تھی اس کے پیشِ نظر کہا جاسکتا ہے کہ اسمِ بامسمیٰ عطائے محمد اور تحفۃ المصطفیٰ ﷺفی دیارِ پاکستان تھے۔علامہ عبدالحکیم شرف قادری فرماتے ہیں: کہ تدریس میں کئی سال کا ملکہ اور تجربہ ہونے کے باوجود آپ نے کبھی کوئی کتاب بغیر مطالعہ کیےنہیں پڑھائی۔اپنے تلامذہ کو بھی یہی نصیحت فرماتے تھے۔عشقِ رسولﷺمیں آپ کانگ انگ گندھاہواتھا۔آپ تمام عقلی ونقلی علوم کوعشقِ رسولﷺکےنمونہ میں دیکھتے تھے۔تدریس کایہ عالم تھا کہ یوں محسوس ہوتاتھا مصنف خود پڑھارہے ہیں بلکہ وہ بھی آفریں کہیں۔(مقدمہ قوالی کی شرعی حیثیت)۔حضرت استاذالعلماء ملک المدرسین رحمۃ اللہ علیہ اس قحط الرجال کےزمانہ میں یادگارِ اسلاف ،اور اہلسنت وجماعت کیلئے اللہ تعالیٰ کی نعمت تھے۔اس وقت اہلِ سنت کے مدارس میں قابل مدرسین ومصنفین میں سے اکثرآپ کے تلامذہ یاتلامذہ کے تلامذہ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آپ کی محنت اورخلوص سے حضرت محدثِ اعظم پاکستان علیہ الرحمہ بہت خوش ہوتے تھے،اور آپ کوقدرکی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
❤1👍1
آپ علیہ الرحمہ امام العلماء والفضلاء اور بحرالعلوم علامہ ہونے کے باوجود نہایت ہی سادہ لباس اور طلباء وعوام سے بے تکلفی سے گفتگو فرماتے تھے۔آپ کی طبیعت میں اس قدر سادگی تھی کہ دیکھنے والوں کو محسوس تک نہ ہوتا تھا کہ یہ علم کاکوہِ ہمالیہ ہے یا عام انسان۔حق گوئی وبےباکی آپ رحمۃ اللہ علیہ کاطرۂ امتیاز تھا۔تقویٰ وپرہیزگاری میں اپنی مثال آپ تھے۔نماز اس قدر خشوع وخضوع سے ادافرماتے کہ اسلاف کی یادتازہ ہوجاتی۔آپ تحریکِ پاکستان ،تحریک ختمِ نبوت،اور تحریک نظامِ مصطفیٰﷺ میں بھرپور کرداراداکیا۔آپ جمعیت علماءِ پاکستان کے نائب صدراور جماعت اہلسنت پاکستان کے صدر رہے،اسطرح اپنے سیاسی اورتنظیمی صلاحیتوں سے اہلِ سنت کونوازتے رہے۔آپ نے امت کی اہم موضوعات پر تحریر کی صورت میں بھی راہنمائی بھی فرمائی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کی قبر پراپنی رحمتوں کانزول فرمائے۔(آمین)
وصال:
آپ کا وصال 4 ذیقعدہ 1419ھ، بمطابق 21 فروری 1999ء بروز اتوار صبح نو بجے ہوا ۔ آپ کو اپنے آبائی علاقے میں سپردِ خاک کیا گیا ۔
ماخذومراجع:
ذکرِ عطاء فی حیاتِ استاذالعلماء مولانا عطاء محمد بندیالوی ۔ تعارف علمائے اہلِ سنت۔
؏ فطرت کے تقاضوں کی کرتاہے نگہبانی
بندۂ صحرائی یامردِ کوہستانی
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-ata-muhammad-bandyalvi
وصال:
آپ کا وصال 4 ذیقعدہ 1419ھ، بمطابق 21 فروری 1999ء بروز اتوار صبح نو بجے ہوا ۔ آپ کو اپنے آبائی علاقے میں سپردِ خاک کیا گیا ۔
ماخذومراجع:
ذکرِ عطاء فی حیاتِ استاذالعلماء مولانا عطاء محمد بندیالوی ۔ تعارف علمائے اہلِ سنت۔
؏ فطرت کے تقاضوں کی کرتاہے نگہبانی
بندۂ صحرائی یامردِ کوہستانی
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-ata-muhammad-bandyalvi
scholars.pk
Hazrat Molana Ata Muhammad Bandyalvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Hazrat Molana Ata Muhammad Bandyalwi
❤1
حضرت شیخ حسین بن منصور حلاج رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسم گرامی:حضرت حسین۔کنیت: ابوالمغیث۔لقب:حلاج۔آپ عوام میں’’منصورحلاج‘‘کےنام سےمعروف ہیں۔حالانکہ آپ کانام حسین اور والد کانام منصورہے۔سلسلۂ نسب اس طرح ہے:ابوالمغیث شیخ حسین بن منصور حلاج بن محمی۔(تذکرہ منصور حلاج:13)ان کےداداآتش پرست اور اپنےوقت کےبہت بڑےفلسفی ،اورفلسفےکےمعلم تھے۔ان کےوالد اپناآبائی مذہب ترک کرکےدینِ اسلام قبول کرلیاتھا۔وہ ایک درویش صفت اوراپنےکام میں مصروف رہنےوالےانسان تھے۔ریشمی کپڑےکی مارکیٹ میں ان کاایک نام تھا۔ریشمی کیڑےپالنا اورپھران سےکپڑےتیارکرناان کامشغلہ تھا۔
حلاج کی وجہ تسمیہ:
حلاج عربی زبان کالفظ ہے۔اردو میں اس کامطلب ہے’’دھنیا‘‘یعنی روئی اور بنولےکوالگ الگ کرنےوالا۔شیخ فریدالدین عطاراور مولانا جامی فرماتےہیں:’’یہ آپ کی ذات نہیں تھی بلکہ آپ اس لقب سےاس لئے مشہور ہوگئے کہ ایک بار آپ روئی کے ایک ڈھیرکےقریب سےگزرے،ایک نگاہ کی توروئی اوربنولےعلیحدہ علیحدہ ہوگئے،اس دن سے آپ کو حلاج کہا جانے لگا۔حضرت ابوسعید ابوالخیر نے آپ کے نام کی ایک اور توجیہ لکھی ہے کہ آپ کی ایک دُھنیے سے دوستی تھی ہر وقت اس کے پاس وقت گزارتے ایک دن اس دُھنیے نے ازراہ محبت آپ کو روئی اور بنولے علیحدہ کرنے پر لگادیا تو آپ نے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ تمام بنولے روئی سے جدا ہوکر علیحدہ علیحدہ ہوگئے۔آپ کے انداز کلام سے حق و باطل بھی علیحدہ علیحدہ ہوگیا تھا۔ اس دن سے آپ کا نام حلاج پڑ گیا۔(تذکرۃ الاولیاء:255/نفحات الانس:156)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 243ھ مطابق 857ء/858ءکو بمقام ’’طور‘‘بیضاء ،ایران میں ہوئی۔(تذکرہ حسین بن منصور حلاج ۔از ڈاکٹر شاہد مختار:17/وکیپیڈیافارسی)
تحصیلِ علم:
حضرت شیخ حسین بن منصور حلاج کےمتعلق مشہور ہےکہ بچپن میں ہی عام بچوں سےمختلف تھے۔اپنےہم عمر بچوں سےعلیحدہ اور خاموش رہتےتھے۔فضول گوئی،ہنسی مذاق سےاجتناب کرتےاوراپنی ذات میں گم رہتےتھے۔یہاں تک کہ لوگ ’’مستانہ‘‘کہنےلگے۔ان کےوالد نےمدرسہ دارالحفاظ میں داخل کرادیا۔873ء میں قرآن مجیدحفظ کرلیا۔اس دور میں علمِ حدیث،فقہ،تفسیر،ادبیات،تاریخ،تصوف اور علم الکلام کادور دورہ تھا۔توشیخ حلاج نےتمام علوم ِ مروجہ میں دسترس حاصل کی۔ان کازیادہ میلان تصوف کی طرف تھا۔اس لئےتحصیل علوم کےبعد حضرت سہل بن عبداللہ تستریجواپنےوقت کےعظیم صوفی اورمدرس تھے،دوسال تک ان کےمدرسۂ تصوف میں رہے،اور یہی سب سےپہلےآپ کےشیخِ طریقت بھی ہیں۔حضرت سہل تستریسےعلیحدہ ہوکربصرہ چلےگئے،بصرہ بھی آپ کےلئےسازگارثابت نہ ہوا کیونکہ یہاں کی سیاسی فضاء خاندان ِ اہل بیت کےخلاف تھی،اورایساجری انسان حالات سےمصلحت اورسمجھوتےکاقائل نہیں ہوتا۔اس لئےیہاں سےبغدادکی طرف ہجرت کرناپڑی۔مشائخِ بغداداوربالخصوص حضرت جنید بغدادیسےعلمی استفادہ کیا۔وہاں سے حجازمقدس گئےاورحجاز مقدس سےصوفیاء کی ایک جماعت کےساتھ پھربغداد واپس آگئے،حضرت جنیدبغدادیسےملاقات ہوئی ۔حضرت جنیدفرمانےلگے:’’جلد ہی تولکڑی کاسرسرخ کرےگا یعنی سولی چڑھادیاجائےگا۔انہوں نےجواب میں کہا:پھرآپ کولباس تصوف اتارکراہل ِ ظاہرکالباس پہنناپڑےگا‘‘۔واقعی ایساہی ہوا۔(تذکرۃ الاولیاء:254)
بیعت وخلافت:
حضرت شیخ حسین بن منصورحلاج جیدمشائخ کی صحبت میں رہےاوران سےاستفادہ کیا۔حضرت عمروبن عثمان مکی کےسلسلہ طریقت میں منسلک ہوگئے،اور ایک عرصےتک ان کی صحبت میں رہے۔(تذکرۃ الاولیاء:254)
سیرت وخصائص:
وحیدالدہر،عاشقِ صادق،عظیم جدجہدکےمالک،جذبۂ خودی سےسرشار،عالی ہمت،رفیع القدر،قتیل راہِ عشق،عارف اسرار رموز،کاشف سرِمستور،ابوالمغیث حضرت شیخ حسین بن منصور حلاج۔آپکی ذات عالم اسلام میں شروع سےآج تک معروف رہی ہے۔صوفیاء وعلماء کےآپ کےبارےمیں بہت اقوال وآراء ہیں۔ایک عام قاری الجھ جاتاہے۔اس کوسمجھ نہیں آتاکہ آپ کی ذات کیاتھی۔کتب میں بھی مختلف اقوال ہیں۔ان سےبھی تشکیک کواور زیادہ تقویت ملتی ہے۔یہی کچھ میرےساتھ بھی ہوا۔میں نےمختلف اقوال پڑھنےکےبعدآپ سےصرفِ نظر کرنےکاارداہ کیاہی تھا کہ اللہ جل شانہ نےمیری دستگیری فرمائی ۔اچانک میرےذہن میں خیال آیا کہ دیکھوں کہ ابوالحسن سید علی بن عثمان ہجویری المعروف حضرت داتاگنج بخشنے’’کشف المحجوب‘‘میں آپ کےبارےمیں کیافرمایا ہے۔جب میں نےپڑھاتو دل سےتشکیک کےبادل چھٹتےگئےاورحقائقِ ظاہرہوگئے۔کشف المحجوب واقعی کشف المجوب ہے۔
حضرت داتاگنج بخش فرماتےہیں:
’’آپ سرمستانِ بادۂ وحدت اورمشتاق جمال احدیت گزرےہیں،اور نہایت قوی الحال مشائخ میں سےتھے‘‘۔(کشف المحجوب:304)۔آپ کےبارےمیں صوفیاء کی مختلف آراء نقل کرنےبعدایک مغالطےکاازالہ کرتےہوئےفرماتےہیں:’’بعض لوگ آپ کےکمالات وخوارق ِ عادات امور کومکراورجادو کےساتھ نسبت کرتےہیں۔ان کاخیال ہے کہ یہ منصور بن حلاج بغدادی ہےجومحمود بن زکریاکااستاد اور ابوسعیدقرامطی کارفیقِ خاص ہے۔حالانکہ وہ حسین بن منصور بن صلاح ہے،اور یہ حسین بن منصور حلاج ہیں،پھر وہ
نام ونسب:
اسم گرامی:حضرت حسین۔کنیت: ابوالمغیث۔لقب:حلاج۔آپ عوام میں’’منصورحلاج‘‘کےنام سےمعروف ہیں۔حالانکہ آپ کانام حسین اور والد کانام منصورہے۔سلسلۂ نسب اس طرح ہے:ابوالمغیث شیخ حسین بن منصور حلاج بن محمی۔(تذکرہ منصور حلاج:13)ان کےداداآتش پرست اور اپنےوقت کےبہت بڑےفلسفی ،اورفلسفےکےمعلم تھے۔ان کےوالد اپناآبائی مذہب ترک کرکےدینِ اسلام قبول کرلیاتھا۔وہ ایک درویش صفت اوراپنےکام میں مصروف رہنےوالےانسان تھے۔ریشمی کپڑےکی مارکیٹ میں ان کاایک نام تھا۔ریشمی کیڑےپالنا اورپھران سےکپڑےتیارکرناان کامشغلہ تھا۔
حلاج کی وجہ تسمیہ:
حلاج عربی زبان کالفظ ہے۔اردو میں اس کامطلب ہے’’دھنیا‘‘یعنی روئی اور بنولےکوالگ الگ کرنےوالا۔شیخ فریدالدین عطاراور مولانا جامی فرماتےہیں:’’یہ آپ کی ذات نہیں تھی بلکہ آپ اس لقب سےاس لئے مشہور ہوگئے کہ ایک بار آپ روئی کے ایک ڈھیرکےقریب سےگزرے،ایک نگاہ کی توروئی اوربنولےعلیحدہ علیحدہ ہوگئے،اس دن سے آپ کو حلاج کہا جانے لگا۔حضرت ابوسعید ابوالخیر نے آپ کے نام کی ایک اور توجیہ لکھی ہے کہ آپ کی ایک دُھنیے سے دوستی تھی ہر وقت اس کے پاس وقت گزارتے ایک دن اس دُھنیے نے ازراہ محبت آپ کو روئی اور بنولے علیحدہ کرنے پر لگادیا تو آپ نے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ تمام بنولے روئی سے جدا ہوکر علیحدہ علیحدہ ہوگئے۔آپ کے انداز کلام سے حق و باطل بھی علیحدہ علیحدہ ہوگیا تھا۔ اس دن سے آپ کا نام حلاج پڑ گیا۔(تذکرۃ الاولیاء:255/نفحات الانس:156)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 243ھ مطابق 857ء/858ءکو بمقام ’’طور‘‘بیضاء ،ایران میں ہوئی۔(تذکرہ حسین بن منصور حلاج ۔از ڈاکٹر شاہد مختار:17/وکیپیڈیافارسی)
تحصیلِ علم:
حضرت شیخ حسین بن منصور حلاج کےمتعلق مشہور ہےکہ بچپن میں ہی عام بچوں سےمختلف تھے۔اپنےہم عمر بچوں سےعلیحدہ اور خاموش رہتےتھے۔فضول گوئی،ہنسی مذاق سےاجتناب کرتےاوراپنی ذات میں گم رہتےتھے۔یہاں تک کہ لوگ ’’مستانہ‘‘کہنےلگے۔ان کےوالد نےمدرسہ دارالحفاظ میں داخل کرادیا۔873ء میں قرآن مجیدحفظ کرلیا۔اس دور میں علمِ حدیث،فقہ،تفسیر،ادبیات،تاریخ،تصوف اور علم الکلام کادور دورہ تھا۔توشیخ حلاج نےتمام علوم ِ مروجہ میں دسترس حاصل کی۔ان کازیادہ میلان تصوف کی طرف تھا۔اس لئےتحصیل علوم کےبعد حضرت سہل بن عبداللہ تستریجواپنےوقت کےعظیم صوفی اورمدرس تھے،دوسال تک ان کےمدرسۂ تصوف میں رہے،اور یہی سب سےپہلےآپ کےشیخِ طریقت بھی ہیں۔حضرت سہل تستریسےعلیحدہ ہوکربصرہ چلےگئے،بصرہ بھی آپ کےلئےسازگارثابت نہ ہوا کیونکہ یہاں کی سیاسی فضاء خاندان ِ اہل بیت کےخلاف تھی،اورایساجری انسان حالات سےمصلحت اورسمجھوتےکاقائل نہیں ہوتا۔اس لئےیہاں سےبغدادکی طرف ہجرت کرناپڑی۔مشائخِ بغداداوربالخصوص حضرت جنید بغدادیسےعلمی استفادہ کیا۔وہاں سے حجازمقدس گئےاورحجاز مقدس سےصوفیاء کی ایک جماعت کےساتھ پھربغداد واپس آگئے،حضرت جنیدبغدادیسےملاقات ہوئی ۔حضرت جنیدفرمانےلگے:’’جلد ہی تولکڑی کاسرسرخ کرےگا یعنی سولی چڑھادیاجائےگا۔انہوں نےجواب میں کہا:پھرآپ کولباس تصوف اتارکراہل ِ ظاہرکالباس پہنناپڑےگا‘‘۔واقعی ایساہی ہوا۔(تذکرۃ الاولیاء:254)
بیعت وخلافت:
حضرت شیخ حسین بن منصورحلاج جیدمشائخ کی صحبت میں رہےاوران سےاستفادہ کیا۔حضرت عمروبن عثمان مکی کےسلسلہ طریقت میں منسلک ہوگئے،اور ایک عرصےتک ان کی صحبت میں رہے۔(تذکرۃ الاولیاء:254)
سیرت وخصائص:
وحیدالدہر،عاشقِ صادق،عظیم جدجہدکےمالک،جذبۂ خودی سےسرشار،عالی ہمت،رفیع القدر،قتیل راہِ عشق،عارف اسرار رموز،کاشف سرِمستور،ابوالمغیث حضرت شیخ حسین بن منصور حلاج۔آپکی ذات عالم اسلام میں شروع سےآج تک معروف رہی ہے۔صوفیاء وعلماء کےآپ کےبارےمیں بہت اقوال وآراء ہیں۔ایک عام قاری الجھ جاتاہے۔اس کوسمجھ نہیں آتاکہ آپ کی ذات کیاتھی۔کتب میں بھی مختلف اقوال ہیں۔ان سےبھی تشکیک کواور زیادہ تقویت ملتی ہے۔یہی کچھ میرےساتھ بھی ہوا۔میں نےمختلف اقوال پڑھنےکےبعدآپ سےصرفِ نظر کرنےکاارداہ کیاہی تھا کہ اللہ جل شانہ نےمیری دستگیری فرمائی ۔اچانک میرےذہن میں خیال آیا کہ دیکھوں کہ ابوالحسن سید علی بن عثمان ہجویری المعروف حضرت داتاگنج بخشنے’’کشف المحجوب‘‘میں آپ کےبارےمیں کیافرمایا ہے۔جب میں نےپڑھاتو دل سےتشکیک کےبادل چھٹتےگئےاورحقائقِ ظاہرہوگئے۔کشف المحجوب واقعی کشف المجوب ہے۔
حضرت داتاگنج بخش فرماتےہیں:
’’آپ سرمستانِ بادۂ وحدت اورمشتاق جمال احدیت گزرےہیں،اور نہایت قوی الحال مشائخ میں سےتھے‘‘۔(کشف المحجوب:304)۔آپ کےبارےمیں صوفیاء کی مختلف آراء نقل کرنےبعدایک مغالطےکاازالہ کرتےہوئےفرماتےہیں:’’بعض لوگ آپ کےکمالات وخوارق ِ عادات امور کومکراورجادو کےساتھ نسبت کرتےہیں۔ان کاخیال ہے کہ یہ منصور بن حلاج بغدادی ہےجومحمود بن زکریاکااستاد اور ابوسعیدقرامطی کارفیقِ خاص ہے۔حالانکہ وہ حسین بن منصور بن صلاح ہے،اور یہ حسین بن منصور حلاج ہیں،پھر وہ
👍1
بغداد کا رہنےوالاہے،اوریہ فارس کےرہنےوالے ہیں‘‘۔(ایضا:305)پھر فرماتےہیں:’’دیکھتےنہیں کہ حضرت شبلی حضرت حسین بن منصور کی شان میں کیا فرمارہےہیں آپ کااعلان ہے:انا والحلاج فی شیء واحد فخلصنی جنونی واھلکلہ عقلہ۔یعنی میں اور حلاج ایک ہی طریقے پرہیں۔مگرمجھےمیرےدیوانہ پن نے آزاد کرادیااور حلاج کواس کی عقل مندی نے ہلاک کرادیا۔اگرمعاذاللہ وہ بےدین ہوتےتوشیخ شبلی کبھی نہ فرماتےکہ میں اور حلاج ایک ہی طریق پرہیں۔حضرت محمد بن خفیف فرماتےہیں:ھوعالم ربانی۔ان کےعلاوہ بہت سےمشائخ نےآپ کی تعریف کی اوربزرگ فرمایا‘‘۔(ایضا:306)۔حضرت حسین بن منصورحلاجاپنی مدتِ عمر میں لباس صلاحیت کےساتھ مزین رہے۔نماز کےپابند ذکر ومناجات میں لیل ونہارگزارنےوالے،روزےکےپابنداور آپ کی حمدنہایت مہذب تھی،اور توحید میں لطیف نکتے بیان فرماتے تھے۔اگروہ جادوگرہوتےتوصوم وصلوٰۃ کی پابندی اور ذکرواذکارمیں سرگرمی ان سےمحال تھی۔توصحیح طورپر ثابت ہوا کہ ان سےجو امورِ خارق عادت ظہورمیں آئےوہ کرامت تھے،اور کرامت سوائے ولی کےمتحقق نہیں ہوسکتی۔(ایضا:307)
پھرفرماتےہیں:’’آپ کی تصانیف بہت مشہور ہیں اورکلام نہایت مہذب ہےاورجوآپ نےاصول وفروع میں لکھاہے،اور میں (داتاصاحب)نےپچاس رسالےان کےتصنیف شدہ دیکھےہیں۔میں نےحضرت حسین بن منصورحلاجکےکلام کی شرح لکھی ہےاور اس کتاب میں دلائل وحجج باہرہ کےساتھ میں نےیہ ثابت کیاہے کہ یہ کلام اتنا بلندہے کہ اس کوارباب حال کےسوا اورکوئی نہیں سمجھ سکتا۔ایک کتاب بنام ’’منہاج الدین‘‘ ہماری تالیف ہےاس میں حضرت حسین بن منصور حلاجکےابتداء حال سےانتہاء تک تمام کوائف ذکرکیےہیں۔یہاں (کشف المحجوب میں)ہم نےان کامختصر تذکرہ کردیاہے‘‘۔(ایضا:309)
شیخ فریدالدین عطارفرماتےہیں: بعض ظاہر بین علماء نے آپ کی گفتگوکو کفر سے تعبیر کیا، بعض نے آپ کو حلولی قرار دیا، لیکن جسے توحید کے رموز و اسرار سے واقفیت تھی،وہ اسےحلول نہیں کہہ سکتا۔چنانچہ شیخ فریدالدین عطارنےآپ کےکلام کوعین توحیدقراردیاہے،اور فرمایا:’’مجھے اس شخص پر سخت تعجب آتا ہے کہ وہ حضرت موسی علیہ السلام کے واقعہ میں ایک درخت سے انی انا اللہ کی آواز کو توحید پرمنطبق کرے اور جب یہی آوازحسین بن منصورسےآئےتواسےکفرقراردیں۔حضرت عمر بات کریں تو ینطق الحق علی لسا ن العمر (اللہ تعالیٰ عمر کی زبان سے بات کرتا ہے) کوتوحید خیال کریں مگر یہی بات حسین ابن منصور کی زبان سےنکلے،تو اسے حلول اور الحاد سے تعبیر کیا جائے۔(تذکرۃ الاولیاء:253)
خزینۃ الاصفیاء میں ہے: حضرت حسین ابن منصور رحمۃ اللہ علیہ نے کائنات ارضی کی سیاحت کی، مخلوق خدا کواللہ کی طرف دعوت دیتے رہے، سولہ سال کی عمر میں حضرت عبداللہ تستری کی صحبت سے استفادہ کیا۔ بغداد آئے مشائخ بغداد سے استفادہ کیا، بصرہ پہنچے،علماء و مشائخ سے گفتگو رہی، ابو عثمان عمرو مکی سے تعلق پیدا ہوگیا،اورایک عرصےتک ان کی صحبت میں رہے،حضرت ابویعقوب الاقطع آپ کی ذہانت و کمالات سےاتنےمتأثر ہوئے کہ اپنی بیٹی آپ کےنکاح میں دےدی۔حضرت ابوعثمان نےعلم الحقائق میں ایک کتاب لکھی تھی۔وہ جن اسرارو رموز ِتصوف پرمشتمل تھی،وہ علماء ظاہر کے لیے ناقابلِ فہم تھے۔آپ نے اس کتاب کوایک عرصہ پوشیدہ رکھا۔شیخ حسین بن منصورنےبڑی جرأت کرکےاس کتاب کے مسائل کو منبروں پر کھڑے ہوکر بیان کرنا شروع کیے۔عام علماء کی مجالس میں بیان کیے لوگوں میں واقعی ایک شور برپا ہونےلگا۔لوگوں نےحسین بن منصورتوکیا شیخ ابوعثمان عمرو کےبھی خلاف ہوگئے۔حضرت ابوعثمان ان رموز کے افشاء پر حضرت حسین بن منصورسے سخت ناراض ہوئے،اور اپنی مجالس سےعلیحدہ کردیا۔ ساتھ ہی جلال میں آکر فرمایا:’’ اللہ حسین کی زبان اور دست و پا کو قطع کردے اور کوئی ایسا شخص پیدا کرے جو اسے تختۂ دار پر کھڑا کرے‘‘۔ (خزینۃ الاصفیاء: 104/نفحات الانس:157)
دعوۂ انا الحق کی تحقیق:
عوام میں مشہور ہے کہ حضرت حسین بن منصور حلاج نے ’’اَنَا الْحَقُ‘‘ (یعنی میں حق ہوں) کہا تھا اس کا رد کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه فتاوی رضویہ شریف میں تحریر فرماتے ہيں:
’’حضرت سیدی حسین بن منصور حلاج، جن کو عوام ’’منصور‘‘ کہتے ہیں ۔ منصور اِن کے والد کا نام تھا، اور ان کا اسم گرامی حسین ہے ۔ (آپ) اکابر اہلِ حال سے تھے، ان کی ایک بہن ان سے بدَرَجَہا مرتبۂ ولایت و معرِفت میں زائد تھیں ۔
وہ آخر شب کو جنگل تشریف لے جاتیں اور یادِ الٰہی میں مصروف ہو جاتیں ۔ ایک دن ان کی آنکھ کھلی، بہن کو نہ پایا، گھر میں ہر جگہ تلاش کیا، پتا نہ چلا، اُن کو وسوسہ گزرا، دوسری شب میں قصداً سوتے میں جان ڈال کر جاگتے رہے ۔
وہ اپنے وقت پر اُٹھ کر چلیں، یہ آہستہ آہستہ پیچھے ہو لئے، دیکھتے رہے ۔ آسمان سے سونے کی زنجیر میں یاقوت کا جام اُترا اور ان کے دہن مبارک (یعنی مُنہ شریف) کے برابر آ لگا، انہوں نے پینا شروع کیا، اِن سے صبر نہ ہو سکا کہ یہ جنت کی نعمت نہ ملے ۔
پھرفرماتےہیں:’’آپ کی تصانیف بہت مشہور ہیں اورکلام نہایت مہذب ہےاورجوآپ نےاصول وفروع میں لکھاہے،اور میں (داتاصاحب)نےپچاس رسالےان کےتصنیف شدہ دیکھےہیں۔میں نےحضرت حسین بن منصورحلاجکےکلام کی شرح لکھی ہےاور اس کتاب میں دلائل وحجج باہرہ کےساتھ میں نےیہ ثابت کیاہے کہ یہ کلام اتنا بلندہے کہ اس کوارباب حال کےسوا اورکوئی نہیں سمجھ سکتا۔ایک کتاب بنام ’’منہاج الدین‘‘ ہماری تالیف ہےاس میں حضرت حسین بن منصور حلاجکےابتداء حال سےانتہاء تک تمام کوائف ذکرکیےہیں۔یہاں (کشف المحجوب میں)ہم نےان کامختصر تذکرہ کردیاہے‘‘۔(ایضا:309)
شیخ فریدالدین عطارفرماتےہیں: بعض ظاہر بین علماء نے آپ کی گفتگوکو کفر سے تعبیر کیا، بعض نے آپ کو حلولی قرار دیا، لیکن جسے توحید کے رموز و اسرار سے واقفیت تھی،وہ اسےحلول نہیں کہہ سکتا۔چنانچہ شیخ فریدالدین عطارنےآپ کےکلام کوعین توحیدقراردیاہے،اور فرمایا:’’مجھے اس شخص پر سخت تعجب آتا ہے کہ وہ حضرت موسی علیہ السلام کے واقعہ میں ایک درخت سے انی انا اللہ کی آواز کو توحید پرمنطبق کرے اور جب یہی آوازحسین بن منصورسےآئےتواسےکفرقراردیں۔حضرت عمر بات کریں تو ینطق الحق علی لسا ن العمر (اللہ تعالیٰ عمر کی زبان سے بات کرتا ہے) کوتوحید خیال کریں مگر یہی بات حسین ابن منصور کی زبان سےنکلے،تو اسے حلول اور الحاد سے تعبیر کیا جائے۔(تذکرۃ الاولیاء:253)
خزینۃ الاصفیاء میں ہے: حضرت حسین ابن منصور رحمۃ اللہ علیہ نے کائنات ارضی کی سیاحت کی، مخلوق خدا کواللہ کی طرف دعوت دیتے رہے، سولہ سال کی عمر میں حضرت عبداللہ تستری کی صحبت سے استفادہ کیا۔ بغداد آئے مشائخ بغداد سے استفادہ کیا، بصرہ پہنچے،علماء و مشائخ سے گفتگو رہی، ابو عثمان عمرو مکی سے تعلق پیدا ہوگیا،اورایک عرصےتک ان کی صحبت میں رہے،حضرت ابویعقوب الاقطع آپ کی ذہانت و کمالات سےاتنےمتأثر ہوئے کہ اپنی بیٹی آپ کےنکاح میں دےدی۔حضرت ابوعثمان نےعلم الحقائق میں ایک کتاب لکھی تھی۔وہ جن اسرارو رموز ِتصوف پرمشتمل تھی،وہ علماء ظاہر کے لیے ناقابلِ فہم تھے۔آپ نے اس کتاب کوایک عرصہ پوشیدہ رکھا۔شیخ حسین بن منصورنےبڑی جرأت کرکےاس کتاب کے مسائل کو منبروں پر کھڑے ہوکر بیان کرنا شروع کیے۔عام علماء کی مجالس میں بیان کیے لوگوں میں واقعی ایک شور برپا ہونےلگا۔لوگوں نےحسین بن منصورتوکیا شیخ ابوعثمان عمرو کےبھی خلاف ہوگئے۔حضرت ابوعثمان ان رموز کے افشاء پر حضرت حسین بن منصورسے سخت ناراض ہوئے،اور اپنی مجالس سےعلیحدہ کردیا۔ ساتھ ہی جلال میں آکر فرمایا:’’ اللہ حسین کی زبان اور دست و پا کو قطع کردے اور کوئی ایسا شخص پیدا کرے جو اسے تختۂ دار پر کھڑا کرے‘‘۔ (خزینۃ الاصفیاء: 104/نفحات الانس:157)
دعوۂ انا الحق کی تحقیق:
عوام میں مشہور ہے کہ حضرت حسین بن منصور حلاج نے ’’اَنَا الْحَقُ‘‘ (یعنی میں حق ہوں) کہا تھا اس کا رد کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه فتاوی رضویہ شریف میں تحریر فرماتے ہيں:
’’حضرت سیدی حسین بن منصور حلاج، جن کو عوام ’’منصور‘‘ کہتے ہیں ۔ منصور اِن کے والد کا نام تھا، اور ان کا اسم گرامی حسین ہے ۔ (آپ) اکابر اہلِ حال سے تھے، ان کی ایک بہن ان سے بدَرَجَہا مرتبۂ ولایت و معرِفت میں زائد تھیں ۔
وہ آخر شب کو جنگل تشریف لے جاتیں اور یادِ الٰہی میں مصروف ہو جاتیں ۔ ایک دن ان کی آنکھ کھلی، بہن کو نہ پایا، گھر میں ہر جگہ تلاش کیا، پتا نہ چلا، اُن کو وسوسہ گزرا، دوسری شب میں قصداً سوتے میں جان ڈال کر جاگتے رہے ۔
وہ اپنے وقت پر اُٹھ کر چلیں، یہ آہستہ آہستہ پیچھے ہو لئے، دیکھتے رہے ۔ آسمان سے سونے کی زنجیر میں یاقوت کا جام اُترا اور ان کے دہن مبارک (یعنی مُنہ شریف) کے برابر آ لگا، انہوں نے پینا شروع کیا، اِن سے صبر نہ ہو سکا کہ یہ جنت کی نعمت نہ ملے ۔
بے اختیار کہہ اُٹھے کہ بہن! تمہیں ﷲ کی قسم کہ تھوڑا میرے لئے چھوڑ دو، انہوں نے ایک جُرعَہ (یعنی ایک گھونٹ) چھوڑ دیا، انہوں نے پیا، اس کے پیتے ہی ہر جڑی بُوٹی، ہر در و دیوار سے ان کو یہ آواز آنے لگی کہ کون اس کا زیادہ مستحق ہے کہ ہماری راہ میں قتل کیا جائے ۔
انہوں نے کہنا شروع کر دیا ’’ اَنَا الحَقُّ ‘‘ بیشک میں سب سے زیادہ اس کا سزا وار (یعنی حق دار) ہوں ۔ لوگوں کے سننے میں آیا ’’ اَنَاالْحَقُّ ‘‘ (یعنی میں حق ہوں) وہ (لوگ) دعوۂ خدائی سمجھے، اور یہ (یعنی خدائی کا دعوی) کفر ہے اور مسلمان ہو کر جو کفر کرے مرتد ہے اور مرتد کی سزا قتل ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ، ج26، ص400)
آپ کا قتل:
ایک قول تو یہ ہے کہ آپ کا قتل ایک سیاسی قتل تھا ۔ جیسا کہ حکمران اپنے مخالفین کو قتل کراتے ہیں ۔ (تذکرہ شیخ حسین بن منصور حلاج:222) ۔
اسی طرح آپ کے قتل میں روافض کا اہم کردار تھا ۔ (ایضا) اس لئے آپ پر رفض کا الزام بہتان ہے ۔ آپ جیل میں بھی کثرت کے ساتھ نوافل پڑھتے تھے ۔ جب جیل سے باہر تھے اس وقت ہر فرض نماز کے لئے غسل کرتے ۔
آپ کو بڑی بے دردی سے شہید کیا گیا ۔ پہلے آپ کے اعضا کاٹے گئے، کوڑے برسائے گئے، آنکھیں نکالیں گئیں، زبان کاٹی گئی، پھر بے دردی سے سولی پہ چڑھایا گیا ۔
جب سپاہی آپ کو تختۂ دار پر لے گئے چشم دید گواہوں نے بیان کیا ہے کہ اس منظر کو دیکھنے کے لیے ایک لاکھ لوگ موجود تھے ۔ شیخ حسین بن منصور آنکھ کھولتے اور آواز دیتے حق حق حق انا لاحق ایک درویش اس مجمعے میں سے آگے بڑھا اور آپ کو پوچھنے لگا حضرت عشق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا آج دیکھ لوگے پھر کچھ کل دیکھو گے اور پھر پرسوں دیکھو گے! اس دن آپ کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا دوسرے روز آپ کی نعش کو جلایا گیا، تیسرے دن آپ کی مٹی کو اڑایا گیا ۔ حاضرین نے سنا کہ آپ کے ایک ایک عضو سے انا الحق انا الحق کی آواز آ رہی ہے آپ کا ایک ایک عضو علیحدہ کر دیا گیا خون کے قطرے قطرے سے صدائے اناالحق اناالحق سنائی دی جانے لگی ۔ آپ کے جسم کو جلا دیا گیا مگر خاکستر کے ایک ایک ذرہ سے صدائے انا الحق سنی جاتی رہی، تیسرے دن آپ کی خاکستر کو دریائے دجلہ میں بہا دیا گیا، دریا میں ایک تلاطم برپا ہو گیا اور وادی دجلہ انا الحق کے شور سے گونج اٹھی ۔
کہتے ہیں کہ آپ نے تختہ دار پر آنے سے پہلے اپنے ایک محرم راز کو بتایا تھا کہ جب آپ کی خاکستر دریائے دجلہ میں پھینکی جائے گی کہ تو دوسرے دن دریائے دجلہ میں ایک طوفانی سیلاب آئے گا اور اس کی موجیں بغداد شہر کی دیواروں سے ٹکرانا شروع کر دیں گی، اس وقت میری یہ یہ قمیص دریا کے سامنے لے جا کر کہنا اے دجلہ تجھے حسین بن منصور کی اس قمیص کے پیش نظر شہر سے ہٹ جانا چاہیے، واقعتاً ایسا ہی ہوا، اس دوست نے حضرت کی قمیص سامنے کی اور اس طرح دریائے دجلہ کا رُخ بدل گیا، سیلاب تھم گیا اور شہر بغداد بچ گیا ۔ اتنے ظلم و ستم کے باوجود حضرت حسین ابن منصور کے باقی ماندہ اعضاء اور خاکستر کو جمع کیا گیا، اور عقیدت مندوں نے آپ کا ایک مزار تعمیر کرایا ۔ (خزینۃ الاصفیاء، ص:105)
تاریخِ شہادت:
آپ کی شہادت بروز منگل 4 ذوالقعدہ 309ھ مطابق 3 مارچ 922ء کو ہوئی ۔
داتا گنج بخش کی نصیحت:
آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: اس قسم کے مغلوب الحال صوفیاء کرام کے کلام کا ہرگز اتباع نہیں کرنا چاہئے اس لئے وہ اپنے حال میں اس قدر مغلوب ہوتے ہیں کہ ان میں استقامت قطعی نہیں ہوتی، اور اُن صوفیاء کی پیروی کرنی چاہئے جو صاحبِ استقامت ہیں ۔ میں حضرت حسین بن حلاج کو اپنے دل میں عزیز رکھتا ہوں اور ان کی عظمت میرے دل میں ہے ۔ لیکن آپ مغلوب الحال تھے۔(کشف المحجوب:308) ۔
وہابی وغیرہ دشمنان اولیاء نے بہت سے مقامات پر آپ کے خلاف ابن تیمیہ وغیرہ کے حوالے بہت زہر اگلا ہے ۔ اس پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ، حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی، حضرت امام غزالی، حضرت داتا گنج بخش، حضرت مجدد الفِ ثانی، اور اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہم الرضوان وغیرہ اکابرینِ امت نے آپ کی مدح فرمائی ہے ۔ میں نے یہ اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ تفصیل کے لئے۔۔۔ کشف المحجوب، داتا گنج بخش ۔ تذکرۃ الاولیاء، شیخ فریدالدین عطار ـ خزینۃ الاصفیا، مفتی غلام سرور لاہوری قابلِ مطالعہ ہیں ۔ فقیر تونسویؔ غفرلہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hussain-bin-mansoor-hallaj
انہوں نے کہنا شروع کر دیا ’’ اَنَا الحَقُّ ‘‘ بیشک میں سب سے زیادہ اس کا سزا وار (یعنی حق دار) ہوں ۔ لوگوں کے سننے میں آیا ’’ اَنَاالْحَقُّ ‘‘ (یعنی میں حق ہوں) وہ (لوگ) دعوۂ خدائی سمجھے، اور یہ (یعنی خدائی کا دعوی) کفر ہے اور مسلمان ہو کر جو کفر کرے مرتد ہے اور مرتد کی سزا قتل ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ، ج26، ص400)
آپ کا قتل:
ایک قول تو یہ ہے کہ آپ کا قتل ایک سیاسی قتل تھا ۔ جیسا کہ حکمران اپنے مخالفین کو قتل کراتے ہیں ۔ (تذکرہ شیخ حسین بن منصور حلاج:222) ۔
اسی طرح آپ کے قتل میں روافض کا اہم کردار تھا ۔ (ایضا) اس لئے آپ پر رفض کا الزام بہتان ہے ۔ آپ جیل میں بھی کثرت کے ساتھ نوافل پڑھتے تھے ۔ جب جیل سے باہر تھے اس وقت ہر فرض نماز کے لئے غسل کرتے ۔
آپ کو بڑی بے دردی سے شہید کیا گیا ۔ پہلے آپ کے اعضا کاٹے گئے، کوڑے برسائے گئے، آنکھیں نکالیں گئیں، زبان کاٹی گئی، پھر بے دردی سے سولی پہ چڑھایا گیا ۔
جب سپاہی آپ کو تختۂ دار پر لے گئے چشم دید گواہوں نے بیان کیا ہے کہ اس منظر کو دیکھنے کے لیے ایک لاکھ لوگ موجود تھے ۔ شیخ حسین بن منصور آنکھ کھولتے اور آواز دیتے حق حق حق انا لاحق ایک درویش اس مجمعے میں سے آگے بڑھا اور آپ کو پوچھنے لگا حضرت عشق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا آج دیکھ لوگے پھر کچھ کل دیکھو گے اور پھر پرسوں دیکھو گے! اس دن آپ کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا دوسرے روز آپ کی نعش کو جلایا گیا، تیسرے دن آپ کی مٹی کو اڑایا گیا ۔ حاضرین نے سنا کہ آپ کے ایک ایک عضو سے انا الحق انا الحق کی آواز آ رہی ہے آپ کا ایک ایک عضو علیحدہ کر دیا گیا خون کے قطرے قطرے سے صدائے اناالحق اناالحق سنائی دی جانے لگی ۔ آپ کے جسم کو جلا دیا گیا مگر خاکستر کے ایک ایک ذرہ سے صدائے انا الحق سنی جاتی رہی، تیسرے دن آپ کی خاکستر کو دریائے دجلہ میں بہا دیا گیا، دریا میں ایک تلاطم برپا ہو گیا اور وادی دجلہ انا الحق کے شور سے گونج اٹھی ۔
کہتے ہیں کہ آپ نے تختہ دار پر آنے سے پہلے اپنے ایک محرم راز کو بتایا تھا کہ جب آپ کی خاکستر دریائے دجلہ میں پھینکی جائے گی کہ تو دوسرے دن دریائے دجلہ میں ایک طوفانی سیلاب آئے گا اور اس کی موجیں بغداد شہر کی دیواروں سے ٹکرانا شروع کر دیں گی، اس وقت میری یہ یہ قمیص دریا کے سامنے لے جا کر کہنا اے دجلہ تجھے حسین بن منصور کی اس قمیص کے پیش نظر شہر سے ہٹ جانا چاہیے، واقعتاً ایسا ہی ہوا، اس دوست نے حضرت کی قمیص سامنے کی اور اس طرح دریائے دجلہ کا رُخ بدل گیا، سیلاب تھم گیا اور شہر بغداد بچ گیا ۔ اتنے ظلم و ستم کے باوجود حضرت حسین ابن منصور کے باقی ماندہ اعضاء اور خاکستر کو جمع کیا گیا، اور عقیدت مندوں نے آپ کا ایک مزار تعمیر کرایا ۔ (خزینۃ الاصفیاء، ص:105)
تاریخِ شہادت:
آپ کی شہادت بروز منگل 4 ذوالقعدہ 309ھ مطابق 3 مارچ 922ء کو ہوئی ۔
داتا گنج بخش کی نصیحت:
آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: اس قسم کے مغلوب الحال صوفیاء کرام کے کلام کا ہرگز اتباع نہیں کرنا چاہئے اس لئے وہ اپنے حال میں اس قدر مغلوب ہوتے ہیں کہ ان میں استقامت قطعی نہیں ہوتی، اور اُن صوفیاء کی پیروی کرنی چاہئے جو صاحبِ استقامت ہیں ۔ میں حضرت حسین بن حلاج کو اپنے دل میں عزیز رکھتا ہوں اور ان کی عظمت میرے دل میں ہے ۔ لیکن آپ مغلوب الحال تھے۔(کشف المحجوب:308) ۔
وہابی وغیرہ دشمنان اولیاء نے بہت سے مقامات پر آپ کے خلاف ابن تیمیہ وغیرہ کے حوالے بہت زہر اگلا ہے ۔ اس پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ، حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی، حضرت امام غزالی، حضرت داتا گنج بخش، حضرت مجدد الفِ ثانی، اور اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہم الرضوان وغیرہ اکابرینِ امت نے آپ کی مدح فرمائی ہے ۔ میں نے یہ اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ تفصیل کے لئے۔۔۔ کشف المحجوب، داتا گنج بخش ۔ تذکرۃ الاولیاء، شیخ فریدالدین عطار ـ خزینۃ الاصفیا، مفتی غلام سرور لاہوری قابلِ مطالعہ ہیں ۔ فقیر تونسویؔ غفرلہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hussain-bin-mansoor-hallaj
scholars.pk
Hazrat Hussain Bin Mansoor Hallaj
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-11-1444 ᴴ | 24-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-11-1444 ᴴ | 25-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1