حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی ۔ کنیت: ابو البرکات ۔ لقب: شمس الدین، قیوم رابع ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی بن خواجہ شیخ ابو العلی بن خواجہ حجۃ اللہ محمدنقشبند ثانی بن خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔(تاریخِ مشائخِ نقشبند:435)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 5 ذیقعدہ 1093ھ مطابق 2 نومبر 1682ء، بروز پیر کو ہوئی ۔ (ایضا:435)
تحصیلِ علم:
آپ کا سارا خاندان نور علیٰ نور تھا ۔ جن میں جذبۂ حریت، استقامت علی الدین اور علم و عمل شریعت و طریقت میں بے مثال تھے ۔ جہاں ہر طرف قال اللہ وقال رسول اللہ ﷺ کی صدائیں دلوں کو جلا بخشتی تھیں ۔ اس نورانی و روحانی فضا میں حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی کی تربیت ہوئی ۔ جب آپ کی عمر مبارک چار برس چار ماہ ہوئی تو آپ کو ایک سعادت مند ادیب اور طالع مند اتالیق کے سپرد کیا گیا۔ سات برس کی عمر میں ہی شائستگی حال، آراستگیِ مقال، اوضاعِ کریمانہ اور اطوارِ بزرگانہ آپ کی جبین سعادت سے ہویدا ہوگئے تھے۔
آپ ابھی صرف تیرہ برس کے تھے کہ والد گرامی حضرت شیخ خواجہ ابوالعلی کا وصال ہوگیا اور آپ کی پرورش جدّامجد حضرت خواجہ نقشبند ثانی قدس سرہ نے کی اور ظاہری و باطنی علوم میں مالا مال کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ کم سِنی ہی میں آپ پر استغراق غالب ہوجایا کرتا تھا اور حضرت نقشبند ثانی قدس سرہ نے آپ کو قیومیّت کی بشارت دی تھی چنانچہ حضرت حجۃ اللہ خواجہ محمد نقشبند ثانی قدس سرہ کے وصال کے بعد بروز ہفتہ یکم صفر 1114ھ / 24 جون 1702ء کو مسند قیومیّت و ارشاد پر متمکن ہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں اپنے جد کریم حضرت خواجہ محمد نقشبندِ ثانی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور ان کے خلیفہ ٔ اعظم بنے،اور ان کے وصال کےبعد مسند ارشاد پر فائز ہوئے۔
سیرت وخصائص:
عارف باللہ واصل باللہ، قطب الارشاد، قیومِ زماں، حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی ۔ آپ خاندانِ حضرت مجدد کے فرد فرید، اور ان کی علمی وروحانی امانتوں کے وارث، اور جامع شریعت و طریقت تھے ۔ آپ کی ذاتِ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کوفروغ حاصل ہوا۔حضرت حجۃ اللہ خواجہ محمد ثانی ِ نقشبندکےپوتےاورخلیفۂ اعظم تھے۔آپ اپنے وقت کے قطبِ دوراں اور قیوم زماں تھے۔ آپ کے شب و روز عبادت الٰہی اور خلق خدا کو ہدایت کرنے میں صرف ہوتے تھے۔ آپ کا حلقہ بہت وسیع تھا اور زمانے کے بڑے بڑے علماء و امراء آپ کے معتقد تھے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین و دنیا کی دولت سے سرفراز فرمایا تھا۔ جب بھی آپ دولت کدہ سے باہر تشریف لاتے تو امراء شاہی اپنے دوشالے اور پگڑیاں فرش راہ بناتے تاکہ متبرک ہوجائیں اور آپ کے قدم مبارک زمین پر نہ پڑیں۔ اگر آپ کسی جگہ وعظ، مجلس یا عیادتِ مریض کے لیے تشریف لے جاتے تو آپ کی سواری اور جلوس شاہانہ ہوتا۔ باوجود اس ظاہری کرّو فر کے دل خدا کی طرف لگا ہواتھا۔ آپ ہر امیر و غریب کو ایک نظر سے دیکھتے تھے اور ہر مرید کو درجۂ کمال تک پہنچانے کی سعیٔ بلیغ فرماتے تھے۔کم کھانا،کم بولنا،کم سونا آپ کی زندگی کا خاص اصول تھا۔
آپ فرمایا کرتے تھے کہ فضول اور لغو گفتگو میں بہت سی مصیبتیں اور پریشانیاں پنہاں ہیں کم کھانے سے جسم میں سُستی واقع نہیں ہوتی اورکم سونے سے زیادہ وقت عبادت الٰہی میں گزارسکتے ہیں۔یہ وقت بڑا قیمتی ہے،اس کی قدر کرنی چاہیےتقویٰ،پرہیز گاری،اتباعِ سنّت اورکثرت ِعبادت میں آپ کا کوئی ثانی نہ تھا۔
آپ نہایت کثیر العبادت تھے:
نمازِ تہجّد میں ساٹھ ساٹھ مرتبہ سورۃ یٰسین پڑھا کرتے تھے۔نمازِ فجر کے بعد چاشت تک مراقبہ فرماتے ۔ بعد ازاں قدرے قیلولہ فرماتے اور پھر نمازِ زوال ادا کرتے۔ اس کے بعد تلاوت قرآن مجید میں مشغول ہوجاتے اور پھر نمازِ ظہر سے پہلے حلقہ بنا کر بمع دوستاں ختم خواجگان پڑھتے اور ذکر و فکر کے بعد مریدوں کو توجہ دیتے نماز ظہر ادا کر کے مریدوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔ آپ چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک بار صرف اسی وقت ہی کھانا کھاتے تھے۔ نمازِ عصر کے بعد کبھی حدیث شریف اور کبھی مکتوباتِ امام ربّانی مجدّد الف ثانی قدس سرہ کا دَرس دیا کرتے تھے نمازِ مغرب کے بعد نماز اوابین میں قرآنِ مجید کے دس پارے پڑھتے تھے۔ بعد ازاں حلقۂ ذکر ہوتا۔ پھر نمازِ عشاء پڑھ کر دولت کدہ میں استراحت فرماتے۔ چوبیس ہزار مرتبہ کلمہ طیّبہ، پندرہ ہزار مرتبہ اسم ذات دن کو اور پھر دس ہزار مرتبہ کلمہ شریف رات کو آپ کا دائمی وظیفہ تھا۔ (تاریخ مشائخِ نقشبند:436)
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی ۔ کنیت: ابو البرکات ۔ لقب: شمس الدین، قیوم رابع ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی بن خواجہ شیخ ابو العلی بن خواجہ حجۃ اللہ محمدنقشبند ثانی بن خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔(تاریخِ مشائخِ نقشبند:435)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 5 ذیقعدہ 1093ھ مطابق 2 نومبر 1682ء، بروز پیر کو ہوئی ۔ (ایضا:435)
تحصیلِ علم:
آپ کا سارا خاندان نور علیٰ نور تھا ۔ جن میں جذبۂ حریت، استقامت علی الدین اور علم و عمل شریعت و طریقت میں بے مثال تھے ۔ جہاں ہر طرف قال اللہ وقال رسول اللہ ﷺ کی صدائیں دلوں کو جلا بخشتی تھیں ۔ اس نورانی و روحانی فضا میں حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی کی تربیت ہوئی ۔ جب آپ کی عمر مبارک چار برس چار ماہ ہوئی تو آپ کو ایک سعادت مند ادیب اور طالع مند اتالیق کے سپرد کیا گیا۔ سات برس کی عمر میں ہی شائستگی حال، آراستگیِ مقال، اوضاعِ کریمانہ اور اطوارِ بزرگانہ آپ کی جبین سعادت سے ہویدا ہوگئے تھے۔
آپ ابھی صرف تیرہ برس کے تھے کہ والد گرامی حضرت شیخ خواجہ ابوالعلی کا وصال ہوگیا اور آپ کی پرورش جدّامجد حضرت خواجہ نقشبند ثانی قدس سرہ نے کی اور ظاہری و باطنی علوم میں مالا مال کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ کم سِنی ہی میں آپ پر استغراق غالب ہوجایا کرتا تھا اور حضرت نقشبند ثانی قدس سرہ نے آپ کو قیومیّت کی بشارت دی تھی چنانچہ حضرت حجۃ اللہ خواجہ محمد نقشبند ثانی قدس سرہ کے وصال کے بعد بروز ہفتہ یکم صفر 1114ھ / 24 جون 1702ء کو مسند قیومیّت و ارشاد پر متمکن ہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں اپنے جد کریم حضرت خواجہ محمد نقشبندِ ثانی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور ان کے خلیفہ ٔ اعظم بنے،اور ان کے وصال کےبعد مسند ارشاد پر فائز ہوئے۔
سیرت وخصائص:
عارف باللہ واصل باللہ، قطب الارشاد، قیومِ زماں، حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی ۔ آپ خاندانِ حضرت مجدد کے فرد فرید، اور ان کی علمی وروحانی امانتوں کے وارث، اور جامع شریعت و طریقت تھے ۔ آپ کی ذاتِ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کوفروغ حاصل ہوا۔حضرت حجۃ اللہ خواجہ محمد ثانی ِ نقشبندکےپوتےاورخلیفۂ اعظم تھے۔آپ اپنے وقت کے قطبِ دوراں اور قیوم زماں تھے۔ آپ کے شب و روز عبادت الٰہی اور خلق خدا کو ہدایت کرنے میں صرف ہوتے تھے۔ آپ کا حلقہ بہت وسیع تھا اور زمانے کے بڑے بڑے علماء و امراء آپ کے معتقد تھے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین و دنیا کی دولت سے سرفراز فرمایا تھا۔ جب بھی آپ دولت کدہ سے باہر تشریف لاتے تو امراء شاہی اپنے دوشالے اور پگڑیاں فرش راہ بناتے تاکہ متبرک ہوجائیں اور آپ کے قدم مبارک زمین پر نہ پڑیں۔ اگر آپ کسی جگہ وعظ، مجلس یا عیادتِ مریض کے لیے تشریف لے جاتے تو آپ کی سواری اور جلوس شاہانہ ہوتا۔ باوجود اس ظاہری کرّو فر کے دل خدا کی طرف لگا ہواتھا۔ آپ ہر امیر و غریب کو ایک نظر سے دیکھتے تھے اور ہر مرید کو درجۂ کمال تک پہنچانے کی سعیٔ بلیغ فرماتے تھے۔کم کھانا،کم بولنا،کم سونا آپ کی زندگی کا خاص اصول تھا۔
آپ فرمایا کرتے تھے کہ فضول اور لغو گفتگو میں بہت سی مصیبتیں اور پریشانیاں پنہاں ہیں کم کھانے سے جسم میں سُستی واقع نہیں ہوتی اورکم سونے سے زیادہ وقت عبادت الٰہی میں گزارسکتے ہیں۔یہ وقت بڑا قیمتی ہے،اس کی قدر کرنی چاہیےتقویٰ،پرہیز گاری،اتباعِ سنّت اورکثرت ِعبادت میں آپ کا کوئی ثانی نہ تھا۔
آپ نہایت کثیر العبادت تھے:
نمازِ تہجّد میں ساٹھ ساٹھ مرتبہ سورۃ یٰسین پڑھا کرتے تھے۔نمازِ فجر کے بعد چاشت تک مراقبہ فرماتے ۔ بعد ازاں قدرے قیلولہ فرماتے اور پھر نمازِ زوال ادا کرتے۔ اس کے بعد تلاوت قرآن مجید میں مشغول ہوجاتے اور پھر نمازِ ظہر سے پہلے حلقہ بنا کر بمع دوستاں ختم خواجگان پڑھتے اور ذکر و فکر کے بعد مریدوں کو توجہ دیتے نماز ظہر ادا کر کے مریدوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔ آپ چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک بار صرف اسی وقت ہی کھانا کھاتے تھے۔ نمازِ عصر کے بعد کبھی حدیث شریف اور کبھی مکتوباتِ امام ربّانی مجدّد الف ثانی قدس سرہ کا دَرس دیا کرتے تھے نمازِ مغرب کے بعد نماز اوابین میں قرآنِ مجید کے دس پارے پڑھتے تھے۔ بعد ازاں حلقۂ ذکر ہوتا۔ پھر نمازِ عشاء پڑھ کر دولت کدہ میں استراحت فرماتے۔ چوبیس ہزار مرتبہ کلمہ طیّبہ، پندرہ ہزار مرتبہ اسم ذات دن کو اور پھر دس ہزار مرتبہ کلمہ شریف رات کو آپ کا دائمی وظیفہ تھا۔ (تاریخ مشائخِ نقشبند:436)
❤4👍1
ایک مرتبہ کسی تقریب میں جامع مسجد کے قریب سے گزرے۔سواری کے ساتھ عقیدت مندوں کا بے شمار ہجوم نجوم تھا۔حضرت شاہ گلشن نے مسجد سے آپ کی سواری کی رونق دیکھ کر اپنی پرانی کملی اتار کر پھینک دی اور کہا کہ اسے جلا دو۔ کیونکہ جس قدر نُور اس بزرگ کی سواری میں ہے اُس کا ایک شمّہ بھی مَیں اپنی کملی میں نہیں دیکھتا۔ حالانکہ تیس سال سے اس کملی میں ریاضت و مجاہدہ کر رہا ہوں۔ کسی نے بتایا کہ یہ حضرت خواجہ محمد زبیر ہیں۔ اس پر شاہ گلشن کہنے لگے، الحمدللہ! یہ تو ہمارے پیر زادہ ہیں اور ہماری عزّت و آبرو ان کے صدقے باقی رہ گئی ہے۔
فضل وکمالات: آپ کا ایک مرید سخت بیمار ہوگیا اور نزع کی حالت طاری ہوگئی۔ اُس کے چھوٹے چھوٹے بچّے تھے۔ اُس کے گھر والے آپ کے پاس حاضر ہوکر عرض گزار ہوئے۔ آپ کو اس کے حال پر رحم آیا اور اُسے اپنے ضمن میں لے لیا۔ وہ شفایاب ہوکرعرصہ دراز تک بقیدِ حیات رہا۔ چونکہ آپ کی رُوح مبارک اُس کی زندگی کی قیّم تھی۔ اس لیے جس دن آپ نے وصال فرمایا وہ شخص بھی دنیا سے چل بسا۔
ایک شخص آپ سے بیعت کرنے کے لیے گھر سے روانہ ہوا۔ راستے میں اُسے ایک گھوڑا سوار ملا۔ اُس نے قصدِ سفر پوچھا تو اُس شخص نے جواب دیا کہ میں حضرت خواجہ محمد زبیر کی خدمت میں بیعت ہونےکےلیےجا رہا ہوں۔گھوڑ سوار نیچے اُترا اور کہا کہ میں ہی خواجہ محمد زبیر ہوں۔ وہ شخص بہت خوش ہوا۔ اور درخواستِ بیعت کی۔ آپ نے اُسے داخل سلسلۂ عالیہ مجّددیہ کیا اور اجازت دے دی۔ اُس شخص نے سوچا کہ مَیں اب تو سرہند شریف کے نزدیک پہنچ گیا ہوں۔ لٰہذا کیوں نہ امام ربّانی حضرت مجدّد الف ثانی قدس سرہ کے روضۂ مقدس کی زیارت بھی کرتا جاؤں۔ جب سرہند شریف میں پہنچا تو دیکھا کہ وہاں لوگوں کا ایک بہت بڑا ہجوم تھا جو کسی کو دفن کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ جب اُس شخص نے دریافت کیا تو پتہ چلا کہ حضرت خواجہ زبیر وصال فرما گئے ہیں۔ جب اُس نے زیارت کی تو وہی شکل مبارک تھی جس نے اُسے راستے میں بیعت کیا تھا۔ایک شخص کابل سے آپ کی زیارت کے ارادہ سےروانہ ہوا۔ راستے میں اُسے ایک شیر ملا جسے دیکھ کر وہ بہت خوفزدہ ہوگیا۔ اُس شخص نے آپ کی طرف توجہ کی تو آپ فوراً تشریف لائے اور ایک پتھر اٹھا کر شیر پر پھینکا جس سے وہ لومڑی کی طرح دم دبا کر بھاگ گیا اور آپ بھی نظروں سے غائب ہوگئے۔(تاریخِ مشائخِ نقشبند:438)
تاریخِ وصال: آپ38برس مسند قیومیت پررونق افروز رہ کربروز بدھ،بوقتِ اشراق،4/ذی قعدہ 1152ھ مطابق 3/فروری1740ءکودہلی میں ہوا۔ آپ کی نعش مبارک سر ہند شریف لائی گئی۔ اور 11/ذیقعد بروز جمعرات شیخ سعدالدین کی حویلی میں جسے آپ نے شیخ موصوف کے بیٹے سے بعوض چار ہزار روپے خریدا تھا میں دفن کیے گئے۔ 1153ھ میں آپ کے مرقدِ انور پر ایک عالی شان روضہ تعمیر کیا گیا۔ جو رنگا رنگ کے نقش و نگار سے آراستہ کیاگیا تھا۔
ماخذومراجع: تاریخ مشائخِ نقشبند۔
جناب صابر براری نےخوب کہا:
قُطبِ دَوراں اور قیومِ زماں تھے بالیقیں ۔۔۔۔۔۔اہلِ بینش جانتے ہیں عظمتِ خواجہ زبیر
سالِ رحلت آپ کا یہ، آپ ہی کے فیض سے۔۔۔۔کہیے صابر ’’نُورِ عالم طلعتِ خواجہ زبیر‘‘
(1740ء)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-muhammad-zubair-sirhindi
فضل وکمالات: آپ کا ایک مرید سخت بیمار ہوگیا اور نزع کی حالت طاری ہوگئی۔ اُس کے چھوٹے چھوٹے بچّے تھے۔ اُس کے گھر والے آپ کے پاس حاضر ہوکر عرض گزار ہوئے۔ آپ کو اس کے حال پر رحم آیا اور اُسے اپنے ضمن میں لے لیا۔ وہ شفایاب ہوکرعرصہ دراز تک بقیدِ حیات رہا۔ چونکہ آپ کی رُوح مبارک اُس کی زندگی کی قیّم تھی۔ اس لیے جس دن آپ نے وصال فرمایا وہ شخص بھی دنیا سے چل بسا۔
ایک شخص آپ سے بیعت کرنے کے لیے گھر سے روانہ ہوا۔ راستے میں اُسے ایک گھوڑا سوار ملا۔ اُس نے قصدِ سفر پوچھا تو اُس شخص نے جواب دیا کہ میں حضرت خواجہ محمد زبیر کی خدمت میں بیعت ہونےکےلیےجا رہا ہوں۔گھوڑ سوار نیچے اُترا اور کہا کہ میں ہی خواجہ محمد زبیر ہوں۔ وہ شخص بہت خوش ہوا۔ اور درخواستِ بیعت کی۔ آپ نے اُسے داخل سلسلۂ عالیہ مجّددیہ کیا اور اجازت دے دی۔ اُس شخص نے سوچا کہ مَیں اب تو سرہند شریف کے نزدیک پہنچ گیا ہوں۔ لٰہذا کیوں نہ امام ربّانی حضرت مجدّد الف ثانی قدس سرہ کے روضۂ مقدس کی زیارت بھی کرتا جاؤں۔ جب سرہند شریف میں پہنچا تو دیکھا کہ وہاں لوگوں کا ایک بہت بڑا ہجوم تھا جو کسی کو دفن کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ جب اُس شخص نے دریافت کیا تو پتہ چلا کہ حضرت خواجہ زبیر وصال فرما گئے ہیں۔ جب اُس نے زیارت کی تو وہی شکل مبارک تھی جس نے اُسے راستے میں بیعت کیا تھا۔ایک شخص کابل سے آپ کی زیارت کے ارادہ سےروانہ ہوا۔ راستے میں اُسے ایک شیر ملا جسے دیکھ کر وہ بہت خوفزدہ ہوگیا۔ اُس شخص نے آپ کی طرف توجہ کی تو آپ فوراً تشریف لائے اور ایک پتھر اٹھا کر شیر پر پھینکا جس سے وہ لومڑی کی طرح دم دبا کر بھاگ گیا اور آپ بھی نظروں سے غائب ہوگئے۔(تاریخِ مشائخِ نقشبند:438)
تاریخِ وصال: آپ38برس مسند قیومیت پررونق افروز رہ کربروز بدھ،بوقتِ اشراق،4/ذی قعدہ 1152ھ مطابق 3/فروری1740ءکودہلی میں ہوا۔ آپ کی نعش مبارک سر ہند شریف لائی گئی۔ اور 11/ذیقعد بروز جمعرات شیخ سعدالدین کی حویلی میں جسے آپ نے شیخ موصوف کے بیٹے سے بعوض چار ہزار روپے خریدا تھا میں دفن کیے گئے۔ 1153ھ میں آپ کے مرقدِ انور پر ایک عالی شان روضہ تعمیر کیا گیا۔ جو رنگا رنگ کے نقش و نگار سے آراستہ کیاگیا تھا۔
ماخذومراجع: تاریخ مشائخِ نقشبند۔
جناب صابر براری نےخوب کہا:
قُطبِ دَوراں اور قیومِ زماں تھے بالیقیں ۔۔۔۔۔۔اہلِ بینش جانتے ہیں عظمتِ خواجہ زبیر
سالِ رحلت آپ کا یہ، آپ ہی کے فیض سے۔۔۔۔کہیے صابر ’’نُورِ عالم طلعتِ خواجہ زبیر‘‘
(1740ء)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-muhammad-zubair-sirhindi
scholars.pk
Hazrat Khawaja Muhammad Zubair Sarahandi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت خواجہ محمد زمان مخدوم اول رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسم گرامی: حضرت خواجہ محمد زماں۔لقب:مخدوم زماں،مخدوم اول،سلطان الاولیاء۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:حضرت خواجہ محمد زمان بن شیخ حاجی عبداللطیف نقشبندی بن شیخ طیب بن شیخ ابراہم بن شیخ عبدالواحد بن شیخ عبداللطیف بن شیخ احمد بن شیخ بقا بن شیخ محمد بن شیخ فقرا للہ بن شیخ عابد بن شیخ عبد اللہ بن شیخ طاؤس بن شیخ علی بن شیخ مصطفیٰ بن شیخ مالک بن شیخ محمد بن ابوالحسن بن محمد بن طیار بن عبدالباری بن عزیز بن فضل بن علی بن اسحاق بن ابراہیم ابوبکر بن قائم بن عقیق بن محمد بن عبدالرحمان بن امیرالمؤمنین حضرت ابوبکرصدیق۔رضی اللہ عنہم اجمعین۔آپ کاتعلق نسب نامہ کی ’’بکری شاخ‘‘سےہے۔جومؤرخین کےنزدیک سب سےصحیح ترین اور حضرت صدیق اکبرسےسب سےقریب ترین شاخ ہے۔آپکےاجدادبعہدخلیفہ ہارون الرشید786ء کےلگ بھگ ترک وطن کرکےسندھ تشریف لائے۔اس وقت سندھ میں عربوں کی حکومت تھی اس لئےیہاں اس خاندان کوبڑی عزت واحترام حاصل ملا۔یہ حضرات واقعہ کربلاکےبعد اس قدر محتاط ہوگئےکہ ہر قسم کےحکومتی عہدوں سےدور رہے۔سندھ میں یہ حضرات ٹھٹھ کےقریب ’’ننگر‘‘میں قیام پذیر ہوئے۔حضرت مخدوم کےتمام آباؤاجداد سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں بیعت وارشاد کاسلسلہ رکھتےتھے۔آپ کےوالد ِ گرامی شیخ حاجی عبداللطیف نقشبندیپہلےشخص ہیں،جنہوں نےسلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی اشاعت فرمائی۔(سندھ کےصوفیائے نقشبندجلد اول:305/تذکرہ اولیائے سندھ:282)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت21/رمضان المبارک1125ھ مطابق اکتوبر/1713ءکو’’لواری شریف‘‘ضلع بدین میں ہوئی۔آپ کا سن ولادت ’’من عبادنا المخلصین‘‘سے نکلتا ہے۔(تذکرہ اولیاء سندھ:282/سندھ کےصوفیائے نقشبند:315)
قبل از ولادت بشارتیں: آپ کی ولادت سےقبل بڑےبڑےمشائخ اور صوفیاء نےآپ کی تشریف آوری کی خوشخبریاں دی تھیں۔چنانچہ مخدوم آدم ٹھٹوینےفرمایاتھا:’’میرےاس ٹھٹہ کی اس خانقاہ میں ایک دن ایساآئے گا کہ یہاں ایک دیہاتی آکرتعلیم وتربیت حاصل کرےگا۔جس میں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی تمام لیاقتیں کمال کوپہنچی ہوئی ہونگی‘‘۔اسی طرح شیخ فیض اللہ (مخدوم آدم کےصاحبزادے)جب سرہندسےواپس آئےتومخدوم محمد زماں کےوالدکومخاطب کرکےفرمایا:’’جب ہم نےآپ کی سفارش خواجۂ سرہند حضرت امام ربانی سےکی تو وہاں سےآوازآئی کہ ہم ان کوبشارت دیتےہیں کہ ان کی پشت سےایک ایسافرزندپیداہوگا جس میں ہمارےسلسلہ کی تمام لیاقتیں اورنور موجود ہوگا۔اس کےعلاوہ خواجہ ابوالقاسم نقشبندینےبشارت دی تھی کہ ’’تمھارےہاں ایسا فرزند ہوگا جومرجع الخلائق ہوگا‘‘۔صاحبِ لطیفۃ التحقیق لکھتےہیں:جب غوث العالمین حضرت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی کالوری کی طرف سےگزرہواایک مقام پرآپ سواری سےنیچےتشریف لائے،اور پیدل چلنےلگے۔آپ کےمریدین نےاس کی وجہ دریافت کی توآپ نےفرمایا:’’اس جگہ پرآسمان سےانوار الہی کی بارش ہورہی ہے۔اسی وجہ سےمیں ادباً اترگیاہوں۔اسی جگہ حضرت مخدوم زماں کی ولادت باسعادت ہوئی‘‘۔(سندھ کےصوفیائےنقشبند:314/315)
تحصیلِ علم:بچپن میں اپنےوالدِ گرامی سےقرآن مجید مکمل کیا۔والدصاحب سےمزیدتحصیل علم کاشوق تھا،اور ان کی زیادہ توجہ نےبھائیوں کوحسد میں مبتلاکردیا۔مجبوراً گھرچھوڑنا پڑا۔’’ننگر ٹھٹے‘‘میں مولانا محمد صادق جیسےفاضل متبحرکےمدرسےمیں داخل ہوکرحصولِ علم میں مشغول ہوگئے۔اپنی ذکاوت وذہانت کےباعث اپنےہم سبق ساتھیوں سےسبقت لےگئے۔آپ نےبہت جلد عربی زبان اور دیگر علوم دینیہ پرعبورحاصل کرلیا۔(ایضا:316)
نام ونسب:
اسم گرامی: حضرت خواجہ محمد زماں۔لقب:مخدوم زماں،مخدوم اول،سلطان الاولیاء۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:حضرت خواجہ محمد زمان بن شیخ حاجی عبداللطیف نقشبندی بن شیخ طیب بن شیخ ابراہم بن شیخ عبدالواحد بن شیخ عبداللطیف بن شیخ احمد بن شیخ بقا بن شیخ محمد بن شیخ فقرا للہ بن شیخ عابد بن شیخ عبد اللہ بن شیخ طاؤس بن شیخ علی بن شیخ مصطفیٰ بن شیخ مالک بن شیخ محمد بن ابوالحسن بن محمد بن طیار بن عبدالباری بن عزیز بن فضل بن علی بن اسحاق بن ابراہیم ابوبکر بن قائم بن عقیق بن محمد بن عبدالرحمان بن امیرالمؤمنین حضرت ابوبکرصدیق۔رضی اللہ عنہم اجمعین۔آپ کاتعلق نسب نامہ کی ’’بکری شاخ‘‘سےہے۔جومؤرخین کےنزدیک سب سےصحیح ترین اور حضرت صدیق اکبرسےسب سےقریب ترین شاخ ہے۔آپکےاجدادبعہدخلیفہ ہارون الرشید786ء کےلگ بھگ ترک وطن کرکےسندھ تشریف لائے۔اس وقت سندھ میں عربوں کی حکومت تھی اس لئےیہاں اس خاندان کوبڑی عزت واحترام حاصل ملا۔یہ حضرات واقعہ کربلاکےبعد اس قدر محتاط ہوگئےکہ ہر قسم کےحکومتی عہدوں سےدور رہے۔سندھ میں یہ حضرات ٹھٹھ کےقریب ’’ننگر‘‘میں قیام پذیر ہوئے۔حضرت مخدوم کےتمام آباؤاجداد سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں بیعت وارشاد کاسلسلہ رکھتےتھے۔آپ کےوالد ِ گرامی شیخ حاجی عبداللطیف نقشبندیپہلےشخص ہیں،جنہوں نےسلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی اشاعت فرمائی۔(سندھ کےصوفیائے نقشبندجلد اول:305/تذکرہ اولیائے سندھ:282)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت21/رمضان المبارک1125ھ مطابق اکتوبر/1713ءکو’’لواری شریف‘‘ضلع بدین میں ہوئی۔آپ کا سن ولادت ’’من عبادنا المخلصین‘‘سے نکلتا ہے۔(تذکرہ اولیاء سندھ:282/سندھ کےصوفیائے نقشبند:315)
قبل از ولادت بشارتیں: آپ کی ولادت سےقبل بڑےبڑےمشائخ اور صوفیاء نےآپ کی تشریف آوری کی خوشخبریاں دی تھیں۔چنانچہ مخدوم آدم ٹھٹوینےفرمایاتھا:’’میرےاس ٹھٹہ کی اس خانقاہ میں ایک دن ایساآئے گا کہ یہاں ایک دیہاتی آکرتعلیم وتربیت حاصل کرےگا۔جس میں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی تمام لیاقتیں کمال کوپہنچی ہوئی ہونگی‘‘۔اسی طرح شیخ فیض اللہ (مخدوم آدم کےصاحبزادے)جب سرہندسےواپس آئےتومخدوم محمد زماں کےوالدکومخاطب کرکےفرمایا:’’جب ہم نےآپ کی سفارش خواجۂ سرہند حضرت امام ربانی سےکی تو وہاں سےآوازآئی کہ ہم ان کوبشارت دیتےہیں کہ ان کی پشت سےایک ایسافرزندپیداہوگا جس میں ہمارےسلسلہ کی تمام لیاقتیں اورنور موجود ہوگا۔اس کےعلاوہ خواجہ ابوالقاسم نقشبندینےبشارت دی تھی کہ ’’تمھارےہاں ایسا فرزند ہوگا جومرجع الخلائق ہوگا‘‘۔صاحبِ لطیفۃ التحقیق لکھتےہیں:جب غوث العالمین حضرت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی کالوری کی طرف سےگزرہواایک مقام پرآپ سواری سےنیچےتشریف لائے،اور پیدل چلنےلگے۔آپ کےمریدین نےاس کی وجہ دریافت کی توآپ نےفرمایا:’’اس جگہ پرآسمان سےانوار الہی کی بارش ہورہی ہے۔اسی وجہ سےمیں ادباً اترگیاہوں۔اسی جگہ حضرت مخدوم زماں کی ولادت باسعادت ہوئی‘‘۔(سندھ کےصوفیائےنقشبند:314/315)
تحصیلِ علم:بچپن میں اپنےوالدِ گرامی سےقرآن مجید مکمل کیا۔والدصاحب سےمزیدتحصیل علم کاشوق تھا،اور ان کی زیادہ توجہ نےبھائیوں کوحسد میں مبتلاکردیا۔مجبوراً گھرچھوڑنا پڑا۔’’ننگر ٹھٹے‘‘میں مولانا محمد صادق جیسےفاضل متبحرکےمدرسےمیں داخل ہوکرحصولِ علم میں مشغول ہوگئے۔اپنی ذکاوت وذہانت کےباعث اپنےہم سبق ساتھیوں سےسبقت لےگئے۔آپ نےبہت جلد عربی زبان اور دیگر علوم دینیہ پرعبورحاصل کرلیا۔(ایضا:316)
❤3
بیعت وخلافت:آپسلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ ابوالمساکین محمدٹھٹویکےدستِ بیعت ہوئے،انہوں نے دیکھتےہی پہچان لیا کہ یہ وہی مردِ خدا ہےجس کی بشارت حضرت مجددنےدی تھی،اوران کی پیش گوئی میرےمرشدحضرت شیخ ابوالقاسم نقشبندینےفرمائی تھی۔وہ آپ پرخصوصی توجہ دینےلگے۔قلیل مدت میں ریاضات ومجاہدات کےبعدحضرت خواجہ ابوالمساکیننےاپنےمریدین متوسلین اور عوام وخواص میں اس طرح اعلان فرمایا:’’کہ مخدوم زماں کو اپنی مسندپربٹھایا اپنی دستار ان کےسرپررکھی،اوران کےپاپوش اپنےہاتھ سےدرست کرکےسب کوحکم دیاکہ ان کےقدموں میں جھک کر ان سےبیعت کریں،آج کےبعد یہی تمھارے مرشد ہیں،جوہماراہےوہ ان سےانحراف نہیں کرےگا۔پھر فرمایا: واللہ!اس وقت قطبِ وقت ،اور قطب ارشاد یہ ہیں۔اس وقت روئے زمین پرکوئی ولی ان جیسانہیں۔پھر حضرت خواجہ ابوالمساکین تمام امور آپ کےسپرد کرکےخود عزلت نشین ہوگئے‘‘۔(سندھ کےصوفیائےنقشبند:317)
سیرت وخصائص:جامع کمالاتِ علمیہ وعملیہ،صاحبِ اوصافِ کثیرہ،مخدومِ جہاں حضرت خواجہ محمد زماں مخدوم اول۔آپمادرزاد ولی کامل تھے۔آپ کی ولادت سےقبل اولیاء وصوفیاء نےبشارتیں دیں۔آپ کاخاندان علم وفضل زہدوتقویٰ میں مرجعِ خلائق تھا۔بڑےبڑےصوفیاء واولیاء اس خاندان میں گزرےہیں،لیکن حضرت مخدوم ِ زماں خواجہ محمد زماں جیسا صاحبِ فضل پیدانہیں ہوا۔آپکی ذات شریعت وطریقت کےتمام فضائل وکمالات سےمزین تھی۔آپ کی زبان سےکبھی کوئی ناشائستہ لفظ نہیں نکلا۔شریعتِ محمدیہ پراستقامت سےعمل پیراتھے۔کبھی اہل دنیا سےکوئی غرض وابستہ نہیں کی۔بلکہ آپ اکثر فرمایا کرتےتھے:’’کہ ہم ان پیروں میں سےنہیں ہیں جومریدوں کےدروازوں سےخیرات مانگتےہیں‘‘۔استغنااوربےنیازی کایہ عالم تھاکہ کبھی کسی سےکوئی سوال نہیں کیا۔ایک مرتبہ وقت کےحکمران میاں غلام علی شاہ کلہوڑونےبڑی منت وسماجت کرکےجاگیریں خانقاہ کےلئے پیش کیں تو وہ بھی قبول کرنےسےانکار کردیا اور فرمایایا:’’جودنیاوی بادشاہ کادوست ہوتا ہےوہ مستغنی عن الرزق ہوتاہے۔پھرجواحکم الحاکمین جل جلالہ کادست ہووہ بھلاکب محتاج اور مسکین رہ سکتاہے۔بلکہ وہ تو ایسا شہنشاہ ہوتاہے کہ غلام شاہ جیسےسینکڑوں حاکم اس کےغلام ہوتےہیں‘‘۔(ایضا:325)
اللہ کی ذات پر ایساکامل توکل تھاکہ روزانہ سینکڑوں آدمی اور بعض مرتبہ یہ تعداد ہزاروں تک جاپہنچتی آپ کےلنگرسےفیض یاب ہوتےتھے۔کبھی کسی سےکچھ نہیں مانگا۔بلکہ یہ فرمایا کرتےتھے:’’ہمیں کسی چیز کی احتیاج نہیں،ہمارارب نہ صرف ہمیں بلکہ ہمارےمتوسلین کورزق پہنچارہاہے۔اللہ جل شانہ نےخزانوں کی چابیاں ہمارےہاتھ میں دیدیں،اگر ہم چاہیں توعمدہ عمدہ کھانےپکواکر لنگر میں کھلائیں لیکن اس میں تصنع کاخوف ہے،اس سےاجتناب کرتےہوئے ہم روکھی سوکھی پراکتفاء کرتےہیں‘‘۔(ایضا:326)
اللہ جل شانہ نےآپ کوتمام اعلیٰ اوصاف اور اخلاقِ محمدیﷺسےوافر حصہ عطاء کیا تھا۔ایک حجام بڑا دیہاتی اور اجڈقسم کاآدمی تھا۔وہ آپ کےناخن اور بال تراشتےوقت انگلیاں زخمی کردیتاتھااورکبھی سرپربھی کٹ لگابیٹھتاتھا۔مریدین نےعرض کیا کہ اس ظالم کونکال کرکسی اورکوبُلائیں۔لیکن آپ ہربار منع کرتےاور فرماتے:’’یہ بیچارہ کئی سال سےہماری خدمت کررہاہے۔اب اس کونکال کرکسی اور حجام کورکھنا بےمروتی ہوگی اور یہ آیت تلاوت کرتےتھے:والسابقون السابقون ۔اولئک ھم المقربون۔یعنی جنہوں نےپہل کی ہے وہ ہی مقرب ہے‘‘۔سندھ کےمشہور صوفی شاعر حضرت شاہ عبداللطیف آپ سےبڑی عقیدت رکھتےتھے۔جب ملاقات کےلئےتشریف لےگئےتواتنےمتأثر ہوئے کہ کہنےلگےمیری خواہش ہےکہ میں آپ کامریدہوجاؤں۔اس کےبعد بہت دیرتک اسرا ر ومعارف کی باتیں ہوتی رہیں ۔جب شاہ صاحب نےجانےکےلئےاجازت طلب کی تو آپ نےانہیں ’’خلافت کی چادر‘‘پہنائی اور اور الوداع کیا۔وہ چادر شاہ صاحب کو اس قدر محبوب تھی کہ انہوں نےوصیت فرمائی کہ جب میں مرجاؤں یہ چادر میرےکفن کےساتھ بطورتبرک رکھ دینا۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔(ایضا:324) آپ مریدین کی دینی اور روحانی تربیت کا خاص خیال رکھتے تھے، موسم گرما میں صبح کے حلقہ کے بعد دالان میں تشریف فرما ہوتے، لوگ کھچا کھچ بھر جاتے، پھرآپ اور آپ کے مرید مراقبے میں مشغول ہوجاتے اور محویت کا یہ عالم ہوتا کہ ان حضرات کا دھوپ کی سخت تمازت بھی استغراق کی کیفیت سے واپس نہیں لاسکتی تھی، جب لوگ چاشت کے وقت مراقبہ ختم کرتے تو زمین پسینہ سے تر ہوتی تھی، آپ کی خانقاہ میں شب بیداری کا خاص اہتمام تھا اس کے لیے ایک شخص مقرر تھا جو لوگوں کو عبادت کے لیے بیدار کرتا تھا۔(تذکرہ اولیائےسندھ:283)
سیرت وخصائص:جامع کمالاتِ علمیہ وعملیہ،صاحبِ اوصافِ کثیرہ،مخدومِ جہاں حضرت خواجہ محمد زماں مخدوم اول۔آپمادرزاد ولی کامل تھے۔آپ کی ولادت سےقبل اولیاء وصوفیاء نےبشارتیں دیں۔آپ کاخاندان علم وفضل زہدوتقویٰ میں مرجعِ خلائق تھا۔بڑےبڑےصوفیاء واولیاء اس خاندان میں گزرےہیں،لیکن حضرت مخدوم ِ زماں خواجہ محمد زماں جیسا صاحبِ فضل پیدانہیں ہوا۔آپکی ذات شریعت وطریقت کےتمام فضائل وکمالات سےمزین تھی۔آپ کی زبان سےکبھی کوئی ناشائستہ لفظ نہیں نکلا۔شریعتِ محمدیہ پراستقامت سےعمل پیراتھے۔کبھی اہل دنیا سےکوئی غرض وابستہ نہیں کی۔بلکہ آپ اکثر فرمایا کرتےتھے:’’کہ ہم ان پیروں میں سےنہیں ہیں جومریدوں کےدروازوں سےخیرات مانگتےہیں‘‘۔استغنااوربےنیازی کایہ عالم تھاکہ کبھی کسی سےکوئی سوال نہیں کیا۔ایک مرتبہ وقت کےحکمران میاں غلام علی شاہ کلہوڑونےبڑی منت وسماجت کرکےجاگیریں خانقاہ کےلئے پیش کیں تو وہ بھی قبول کرنےسےانکار کردیا اور فرمایایا:’’جودنیاوی بادشاہ کادوست ہوتا ہےوہ مستغنی عن الرزق ہوتاہے۔پھرجواحکم الحاکمین جل جلالہ کادست ہووہ بھلاکب محتاج اور مسکین رہ سکتاہے۔بلکہ وہ تو ایسا شہنشاہ ہوتاہے کہ غلام شاہ جیسےسینکڑوں حاکم اس کےغلام ہوتےہیں‘‘۔(ایضا:325)
اللہ کی ذات پر ایساکامل توکل تھاکہ روزانہ سینکڑوں آدمی اور بعض مرتبہ یہ تعداد ہزاروں تک جاپہنچتی آپ کےلنگرسےفیض یاب ہوتےتھے۔کبھی کسی سےکچھ نہیں مانگا۔بلکہ یہ فرمایا کرتےتھے:’’ہمیں کسی چیز کی احتیاج نہیں،ہمارارب نہ صرف ہمیں بلکہ ہمارےمتوسلین کورزق پہنچارہاہے۔اللہ جل شانہ نےخزانوں کی چابیاں ہمارےہاتھ میں دیدیں،اگر ہم چاہیں توعمدہ عمدہ کھانےپکواکر لنگر میں کھلائیں لیکن اس میں تصنع کاخوف ہے،اس سےاجتناب کرتےہوئے ہم روکھی سوکھی پراکتفاء کرتےہیں‘‘۔(ایضا:326)
اللہ جل شانہ نےآپ کوتمام اعلیٰ اوصاف اور اخلاقِ محمدیﷺسےوافر حصہ عطاء کیا تھا۔ایک حجام بڑا دیہاتی اور اجڈقسم کاآدمی تھا۔وہ آپ کےناخن اور بال تراشتےوقت انگلیاں زخمی کردیتاتھااورکبھی سرپربھی کٹ لگابیٹھتاتھا۔مریدین نےعرض کیا کہ اس ظالم کونکال کرکسی اورکوبُلائیں۔لیکن آپ ہربار منع کرتےاور فرماتے:’’یہ بیچارہ کئی سال سےہماری خدمت کررہاہے۔اب اس کونکال کرکسی اور حجام کورکھنا بےمروتی ہوگی اور یہ آیت تلاوت کرتےتھے:والسابقون السابقون ۔اولئک ھم المقربون۔یعنی جنہوں نےپہل کی ہے وہ ہی مقرب ہے‘‘۔سندھ کےمشہور صوفی شاعر حضرت شاہ عبداللطیف آپ سےبڑی عقیدت رکھتےتھے۔جب ملاقات کےلئےتشریف لےگئےتواتنےمتأثر ہوئے کہ کہنےلگےمیری خواہش ہےکہ میں آپ کامریدہوجاؤں۔اس کےبعد بہت دیرتک اسرا ر ومعارف کی باتیں ہوتی رہیں ۔جب شاہ صاحب نےجانےکےلئےاجازت طلب کی تو آپ نےانہیں ’’خلافت کی چادر‘‘پہنائی اور اور الوداع کیا۔وہ چادر شاہ صاحب کو اس قدر محبوب تھی کہ انہوں نےوصیت فرمائی کہ جب میں مرجاؤں یہ چادر میرےکفن کےساتھ بطورتبرک رکھ دینا۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔(ایضا:324) آپ مریدین کی دینی اور روحانی تربیت کا خاص خیال رکھتے تھے، موسم گرما میں صبح کے حلقہ کے بعد دالان میں تشریف فرما ہوتے، لوگ کھچا کھچ بھر جاتے، پھرآپ اور آپ کے مرید مراقبے میں مشغول ہوجاتے اور محویت کا یہ عالم ہوتا کہ ان حضرات کا دھوپ کی سخت تمازت بھی استغراق کی کیفیت سے واپس نہیں لاسکتی تھی، جب لوگ چاشت کے وقت مراقبہ ختم کرتے تو زمین پسینہ سے تر ہوتی تھی، آپ کی خانقاہ میں شب بیداری کا خاص اہتمام تھا اس کے لیے ایک شخص مقرر تھا جو لوگوں کو عبادت کے لیے بیدار کرتا تھا۔(تذکرہ اولیائےسندھ:283)
❤1
حضرت مخدوم اتباع شریعت کا خاص طور پر خیال رکھتے تھے۔ اور مریدوں کی تربیت میں بھی ہمیشہ اس کی کوشش فرماتے کہ احکام شریعت پر اور سنت نبوی پر پورا پورا عمل کیا جائے۔ایک دفعہ حافظ صدالدین سے مخدوم کی وفات کےبعد کسی نے آپ کے اوصاف کے متعلق پوچھا۔ فرمایاکیا پو چھتے ہو،حضرت مخدوم تو اتباع رسول اکرمﷺ کا مجسم پیکر تھے اور آپ کے مرید بھی اتباع رسول اکرمﷺ میں آپ کے نقش قدر پر تھے۔پھر اس کے بعد فرمایا : جب آپ بیت الخلاء کے لیے تشریف لے جاتے تو میں آپ کے ساتھ جاتا۔ اتفاقاً ایک دفعہ راستہ میں ایک پیسہ پڑا ہوا تھا۔ میں نے چاہا کہ اس کو اٹھا لوں،آپ نے مجھے منع فرمایا۔ میں نے عرض کیا کہ اس کے اٹھالینے میں کیا حرج ہے۔ فقہاء کا فتویٰ تو یہ ہے کہ اگر پڑی ہوئی چیز کا مالک نہ ملا تو میں خیرات کروں گا۔فرمایا یہ صحیح ہے لیکن اس کا اٹھانا خلاف ِمستحب ہے۔ آج ترک مستحب کروگے،کل ترک سنت پر آمادہ ہوجاؤگے۔اس کے بعد ترک فرض کی نوبت آئے گی اور ترک فرض بعض مرتبہ انسان کو کفر تک پہنچا دیتا ہے۔(ایضا:284)
آپہرقسم کی شہرت اور دکھاوےکےلئے’’اظہارِ کرامت‘‘کوبراسمجھتےتھے۔ایک دن ایک شخص نےآپ سےذکرکیا کہ شاہ عبدالکریم بلڑی والے(جدامجدحضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی)ایک دفعہ درویشوں کولےکردریاسےاوپرچلتےہوئےہوئےدوسرےکنارےپہنچ گئےاور کسی کاکپڑابھی گیِلانہیں ہوا۔آپ نےفرمایا:’’کرامت کادن ابھی آگےہے۔مَردوں کی مردانگی کاکل قیامت کےدن پتہ چلےگاکہ اپنی جماعت کوسلامتی کےساتھ دارلسلام (جنت) تک کون پہنچاتاہے‘‘۔(سندھ کےصوفیاءنقشبند:327)
تاریخِ وصال:آپ کاوصال 4/ذی قعدہ 1188ھ مطابق جنوری/1775ءکوبوقتِ چاشت ہوا۔جس حجرےمیں آپ مدفوں ہیں اس کےمتعلق بشارت دیتےہوئےفرمایا:’’اس حجرےکےاردگردجوبھی مدفون ہیں وہ سب مرحوم ہیں۔اس حجرے کی خاک اگرکسی قبر میں رکھ دی جائے تواس کی نجات کی امید رکھنا۔یہاں سعادت مندکوہی بھیجاجائےگا۔ جوایک بار ہمارے پاس یہاں آئےگاہم اس کا ہاتھ نہیں چھوڑیں گے‘‘ ۔ (سندھ کے صوفیائے نقشبند جلد اول ص:332) محبوب الصمد حضرت خواجہ گل محمد آپ کےسجادہ نشین ہوئے۔مزارپرانوارلواری شریف ضلع بدین میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ و مراجع:
سندھ کےصوفیائے نقشبند جلد اول ۔ تذکرہ اولیاء سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhammad-zaman-awwal-makhdoom
آپہرقسم کی شہرت اور دکھاوےکےلئے’’اظہارِ کرامت‘‘کوبراسمجھتےتھے۔ایک دن ایک شخص نےآپ سےذکرکیا کہ شاہ عبدالکریم بلڑی والے(جدامجدحضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی)ایک دفعہ درویشوں کولےکردریاسےاوپرچلتےہوئےہوئےدوسرےکنارےپہنچ گئےاور کسی کاکپڑابھی گیِلانہیں ہوا۔آپ نےفرمایا:’’کرامت کادن ابھی آگےہے۔مَردوں کی مردانگی کاکل قیامت کےدن پتہ چلےگاکہ اپنی جماعت کوسلامتی کےساتھ دارلسلام (جنت) تک کون پہنچاتاہے‘‘۔(سندھ کےصوفیاءنقشبند:327)
تاریخِ وصال:آپ کاوصال 4/ذی قعدہ 1188ھ مطابق جنوری/1775ءکوبوقتِ چاشت ہوا۔جس حجرےمیں آپ مدفوں ہیں اس کےمتعلق بشارت دیتےہوئےفرمایا:’’اس حجرےکےاردگردجوبھی مدفون ہیں وہ سب مرحوم ہیں۔اس حجرے کی خاک اگرکسی قبر میں رکھ دی جائے تواس کی نجات کی امید رکھنا۔یہاں سعادت مندکوہی بھیجاجائےگا۔ جوایک بار ہمارے پاس یہاں آئےگاہم اس کا ہاتھ نہیں چھوڑیں گے‘‘ ۔ (سندھ کے صوفیائے نقشبند جلد اول ص:332) محبوب الصمد حضرت خواجہ گل محمد آپ کےسجادہ نشین ہوئے۔مزارپرانوارلواری شریف ضلع بدین میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ و مراجع:
سندھ کےصوفیائے نقشبند جلد اول ۔ تذکرہ اولیاء سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhammad-zaman-awwal-makhdoom
scholars.pk
Hazrat Muhammad Zaman Awwal Makhdoom
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
امام المناطقہ، ملک المدرسین، علامہ عطاء محمد بندیالوی علیہ الرحمہ
نام ونسب:
اسمِ گرامی:عطاء محمد۔کنیت:ابوالفداء۔لقب۔بندیالوی،چشتی،گولڑوی۔سلسلہ نسب اسطرح ہے:علامہ عطاء محمد بندیالوی بن اللہ بخش بن غلام محمدبن محمد چراغ بن خدابخش بن بصارت بن دلیل بن خدایار(الیٰ اخرہ)۔ آپ کاسلسلہ نسب حضرت محمد بن حنفیہ کے ذریعے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے۔
تاریخِ ولادت:
آپ 1334ھ بمطابق 1916ء کو"ڈھوک دھمن "نزدقصبہ پدھراڑ،ضلع خوشاب ،پنجاب(پاکستان) میں پیداہوئے۔آپ کاتعلق اعوان برادری سےتھا۔
تحصیلِ علم:
آپ نے حفظِ قرآن مجید اور فارسی کی ابتدائی کتب موضع "و سنال" ضلع جہلم میں حافظ الٰہی بخش اور قاضی محمد بشیر سے پڑھیں۔ 1932ء میں آپ بندیال ضلع سرگودھا تشریف لے گئے۔ ان دنوں بندیال میں فقیہ العصر استاذالعلماء حضرت مولانا یار محمد رحمہ اللہ نے علوم و فنون کا فیض جاری کیا ہوا تھا، چنانچہ آپ نے بھی اس فیض سے بہرور ہونا شروع کردیا اور فارسی کی بقیہ کتب صرف و نحو کی تمام کتب، اصول فقہ سے حسامی اور منطق سے قطبی وغیرہ پڑھیں۔ اس کے بعد دو سال چھ ماہ کا عرصہ جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور میں گزارا اور حضرت استاذالعلماء مولانا مہر محمد اچھروی سے معقول اور فنونِ عالیہ کی تمام کتب کا درس لیا۔ چھ ماہ "انہی"ضلع گجرات رہے اور پھر پپلاں ضلع میانوالی میں مولانا غلام محمود (مصنف تحفہ سلیمانی)سے تصریح، شرح چغمینی اور رسائل ربع مجیب وغیرہ کتب پڑھ کر علوم و فنون کی تکمیل کی۔اسی طرح آپ نے حضرت علامہ مولانا محب النبی چشتی گولڑوی ،مولانا امیرمحمد اور حضرت علامہ ولی اللہ (انہی ضلع گجرات) سے بھی علمی استفادہ فرمایا۔
بیعت وخلافت:
آپ تاجدارِ گولڑہ ،محافظِ ختمِ نبوت سیدناپیرمہرِ علی شاہ رحمۃ اللہ کے دستِ حق پرست پر زمانہِ طالبِ علمی میں بیعت ہوئے۔آپ کے وصال کے بعد آپ کے جانشینِ برحق حضرت شاہ محی الدین گولڑوی گیلانی المعروف قبلہ بابو جی رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے۔
سیرت وخصائص:
ملک العلماء، امام المناطقہ، بحرالعلوم، استاذالکل، جامع المنقولِ والمعقول، صدرالمدرسین، خزینۂ علم وعرفاں، امام ِ علم وحکمت،سلسلۂ خیرآبادیت کے وارثِ کامل،پروردہ ٔنگاہ تاجدارِ گولڑہ،محسنِ اہلسنت،ملک المدرسین حضرت علامہ مولانا عطاءمحمد بندیالوی رحمۃ اللہ علیہ۔
سادہ لباس میں ملبوس ایک درویش سیرت،سیر چشم،غیور اور خموش طبع عالمِ دین ،مروجہ علوم وفنون میں کامل دستگاہ،معارفِ قرآن وسنت کی جلوہ گاہ،علمِ مناظرہ میں یکتا،منطق وفلسفہ کا امام،فقہ میں فقیہ العصر،فنِ حدیث میں وہ بصیرت کہ اسلاف محدثین تحسین فرمائیں۔علمِ ہیت میں وہ مہارت کہ ہیت کی ہیت سنور جائے۔ آپ کی علمی وتدریسی خدمات میں اللہ تعالیٰ نے جوقبولیت رکھی تھی اس کے پیشِ نظر کہا جاسکتا ہے کہ اسمِ بامسمیٰ عطائے محمد اور تحفۃ المصطفیٰ ﷺفی دیارِ پاکستان تھے۔علامہ عبدالحکیم شرف قادری فرماتے ہیں: کہ تدریس میں کئی سال کا ملکہ اور تجربہ ہونے کے باوجود آپ نے کبھی کوئی کتاب بغیر مطالعہ کیےنہیں پڑھائی۔اپنے تلامذہ کو بھی یہی نصیحت فرماتے تھے۔عشقِ رسولﷺمیں آپ کانگ انگ گندھاہواتھا۔آپ تمام عقلی ونقلی علوم کوعشقِ رسولﷺکےنمونہ میں دیکھتے تھے۔تدریس کایہ عالم تھا کہ یوں محسوس ہوتاتھا مصنف خود پڑھارہے ہیں بلکہ وہ بھی آفریں کہیں۔(مقدمہ قوالی کی شرعی حیثیت)۔حضرت استاذالعلماء ملک المدرسین رحمۃ اللہ علیہ اس قحط الرجال کےزمانہ میں یادگارِ اسلاف ،اور اہلسنت وجماعت کیلئے اللہ تعالیٰ کی نعمت تھے۔اس وقت اہلِ سنت کے مدارس میں قابل مدرسین ومصنفین میں سے اکثرآپ کے تلامذہ یاتلامذہ کے تلامذہ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آپ کی محنت اورخلوص سے حضرت محدثِ اعظم پاکستان علیہ الرحمہ بہت خوش ہوتے تھے،اور آپ کوقدرکی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
نام ونسب:
اسمِ گرامی:عطاء محمد۔کنیت:ابوالفداء۔لقب۔بندیالوی،چشتی،گولڑوی۔سلسلہ نسب اسطرح ہے:علامہ عطاء محمد بندیالوی بن اللہ بخش بن غلام محمدبن محمد چراغ بن خدابخش بن بصارت بن دلیل بن خدایار(الیٰ اخرہ)۔ آپ کاسلسلہ نسب حضرت محمد بن حنفیہ کے ذریعے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے۔
تاریخِ ولادت:
آپ 1334ھ بمطابق 1916ء کو"ڈھوک دھمن "نزدقصبہ پدھراڑ،ضلع خوشاب ،پنجاب(پاکستان) میں پیداہوئے۔آپ کاتعلق اعوان برادری سےتھا۔
تحصیلِ علم:
آپ نے حفظِ قرآن مجید اور فارسی کی ابتدائی کتب موضع "و سنال" ضلع جہلم میں حافظ الٰہی بخش اور قاضی محمد بشیر سے پڑھیں۔ 1932ء میں آپ بندیال ضلع سرگودھا تشریف لے گئے۔ ان دنوں بندیال میں فقیہ العصر استاذالعلماء حضرت مولانا یار محمد رحمہ اللہ نے علوم و فنون کا فیض جاری کیا ہوا تھا، چنانچہ آپ نے بھی اس فیض سے بہرور ہونا شروع کردیا اور فارسی کی بقیہ کتب صرف و نحو کی تمام کتب، اصول فقہ سے حسامی اور منطق سے قطبی وغیرہ پڑھیں۔ اس کے بعد دو سال چھ ماہ کا عرصہ جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور میں گزارا اور حضرت استاذالعلماء مولانا مہر محمد اچھروی سے معقول اور فنونِ عالیہ کی تمام کتب کا درس لیا۔ چھ ماہ "انہی"ضلع گجرات رہے اور پھر پپلاں ضلع میانوالی میں مولانا غلام محمود (مصنف تحفہ سلیمانی)سے تصریح، شرح چغمینی اور رسائل ربع مجیب وغیرہ کتب پڑھ کر علوم و فنون کی تکمیل کی۔اسی طرح آپ نے حضرت علامہ مولانا محب النبی چشتی گولڑوی ،مولانا امیرمحمد اور حضرت علامہ ولی اللہ (انہی ضلع گجرات) سے بھی علمی استفادہ فرمایا۔
بیعت وخلافت:
آپ تاجدارِ گولڑہ ،محافظِ ختمِ نبوت سیدناپیرمہرِ علی شاہ رحمۃ اللہ کے دستِ حق پرست پر زمانہِ طالبِ علمی میں بیعت ہوئے۔آپ کے وصال کے بعد آپ کے جانشینِ برحق حضرت شاہ محی الدین گولڑوی گیلانی المعروف قبلہ بابو جی رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے۔
سیرت وخصائص:
ملک العلماء، امام المناطقہ، بحرالعلوم، استاذالکل، جامع المنقولِ والمعقول، صدرالمدرسین، خزینۂ علم وعرفاں، امام ِ علم وحکمت،سلسلۂ خیرآبادیت کے وارثِ کامل،پروردہ ٔنگاہ تاجدارِ گولڑہ،محسنِ اہلسنت،ملک المدرسین حضرت علامہ مولانا عطاءمحمد بندیالوی رحمۃ اللہ علیہ۔
سادہ لباس میں ملبوس ایک درویش سیرت،سیر چشم،غیور اور خموش طبع عالمِ دین ،مروجہ علوم وفنون میں کامل دستگاہ،معارفِ قرآن وسنت کی جلوہ گاہ،علمِ مناظرہ میں یکتا،منطق وفلسفہ کا امام،فقہ میں فقیہ العصر،فنِ حدیث میں وہ بصیرت کہ اسلاف محدثین تحسین فرمائیں۔علمِ ہیت میں وہ مہارت کہ ہیت کی ہیت سنور جائے۔ آپ کی علمی وتدریسی خدمات میں اللہ تعالیٰ نے جوقبولیت رکھی تھی اس کے پیشِ نظر کہا جاسکتا ہے کہ اسمِ بامسمیٰ عطائے محمد اور تحفۃ المصطفیٰ ﷺفی دیارِ پاکستان تھے۔علامہ عبدالحکیم شرف قادری فرماتے ہیں: کہ تدریس میں کئی سال کا ملکہ اور تجربہ ہونے کے باوجود آپ نے کبھی کوئی کتاب بغیر مطالعہ کیےنہیں پڑھائی۔اپنے تلامذہ کو بھی یہی نصیحت فرماتے تھے۔عشقِ رسولﷺمیں آپ کانگ انگ گندھاہواتھا۔آپ تمام عقلی ونقلی علوم کوعشقِ رسولﷺکےنمونہ میں دیکھتے تھے۔تدریس کایہ عالم تھا کہ یوں محسوس ہوتاتھا مصنف خود پڑھارہے ہیں بلکہ وہ بھی آفریں کہیں۔(مقدمہ قوالی کی شرعی حیثیت)۔حضرت استاذالعلماء ملک المدرسین رحمۃ اللہ علیہ اس قحط الرجال کےزمانہ میں یادگارِ اسلاف ،اور اہلسنت وجماعت کیلئے اللہ تعالیٰ کی نعمت تھے۔اس وقت اہلِ سنت کے مدارس میں قابل مدرسین ومصنفین میں سے اکثرآپ کے تلامذہ یاتلامذہ کے تلامذہ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آپ کی محنت اورخلوص سے حضرت محدثِ اعظم پاکستان علیہ الرحمہ بہت خوش ہوتے تھے،اور آپ کوقدرکی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
❤1👍1
آپ علیہ الرحمہ امام العلماء والفضلاء اور بحرالعلوم علامہ ہونے کے باوجود نہایت ہی سادہ لباس اور طلباء وعوام سے بے تکلفی سے گفتگو فرماتے تھے۔آپ کی طبیعت میں اس قدر سادگی تھی کہ دیکھنے والوں کو محسوس تک نہ ہوتا تھا کہ یہ علم کاکوہِ ہمالیہ ہے یا عام انسان۔حق گوئی وبےباکی آپ رحمۃ اللہ علیہ کاطرۂ امتیاز تھا۔تقویٰ وپرہیزگاری میں اپنی مثال آپ تھے۔نماز اس قدر خشوع وخضوع سے ادافرماتے کہ اسلاف کی یادتازہ ہوجاتی۔آپ تحریکِ پاکستان ،تحریک ختمِ نبوت،اور تحریک نظامِ مصطفیٰﷺ میں بھرپور کرداراداکیا۔آپ جمعیت علماءِ پاکستان کے نائب صدراور جماعت اہلسنت پاکستان کے صدر رہے،اسطرح اپنے سیاسی اورتنظیمی صلاحیتوں سے اہلِ سنت کونوازتے رہے۔آپ نے امت کی اہم موضوعات پر تحریر کی صورت میں بھی راہنمائی بھی فرمائی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کی قبر پراپنی رحمتوں کانزول فرمائے۔(آمین)
وصال:
آپ کا وصال 4 ذیقعدہ 1419ھ، بمطابق 21 فروری 1999ء بروز اتوار صبح نو بجے ہوا ۔ آپ کو اپنے آبائی علاقے میں سپردِ خاک کیا گیا ۔
ماخذومراجع:
ذکرِ عطاء فی حیاتِ استاذالعلماء مولانا عطاء محمد بندیالوی ۔ تعارف علمائے اہلِ سنت۔
؏ فطرت کے تقاضوں کی کرتاہے نگہبانی
بندۂ صحرائی یامردِ کوہستانی
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-ata-muhammad-bandyalvi
وصال:
آپ کا وصال 4 ذیقعدہ 1419ھ، بمطابق 21 فروری 1999ء بروز اتوار صبح نو بجے ہوا ۔ آپ کو اپنے آبائی علاقے میں سپردِ خاک کیا گیا ۔
ماخذومراجع:
ذکرِ عطاء فی حیاتِ استاذالعلماء مولانا عطاء محمد بندیالوی ۔ تعارف علمائے اہلِ سنت۔
؏ فطرت کے تقاضوں کی کرتاہے نگہبانی
بندۂ صحرائی یامردِ کوہستانی
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-ata-muhammad-bandyalvi
scholars.pk
Hazrat Molana Ata Muhammad Bandyalvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Hazrat Molana Ata Muhammad Bandyalwi
❤1
حضرت شیخ حسین بن منصور حلاج رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسم گرامی:حضرت حسین۔کنیت: ابوالمغیث۔لقب:حلاج۔آپ عوام میں’’منصورحلاج‘‘کےنام سےمعروف ہیں۔حالانکہ آپ کانام حسین اور والد کانام منصورہے۔سلسلۂ نسب اس طرح ہے:ابوالمغیث شیخ حسین بن منصور حلاج بن محمی۔(تذکرہ منصور حلاج:13)ان کےداداآتش پرست اور اپنےوقت کےبہت بڑےفلسفی ،اورفلسفےکےمعلم تھے۔ان کےوالد اپناآبائی مذہب ترک کرکےدینِ اسلام قبول کرلیاتھا۔وہ ایک درویش صفت اوراپنےکام میں مصروف رہنےوالےانسان تھے۔ریشمی کپڑےکی مارکیٹ میں ان کاایک نام تھا۔ریشمی کیڑےپالنا اورپھران سےکپڑےتیارکرناان کامشغلہ تھا۔
حلاج کی وجہ تسمیہ:
حلاج عربی زبان کالفظ ہے۔اردو میں اس کامطلب ہے’’دھنیا‘‘یعنی روئی اور بنولےکوالگ الگ کرنےوالا۔شیخ فریدالدین عطاراور مولانا جامی فرماتےہیں:’’یہ آپ کی ذات نہیں تھی بلکہ آپ اس لقب سےاس لئے مشہور ہوگئے کہ ایک بار آپ روئی کے ایک ڈھیرکےقریب سےگزرے،ایک نگاہ کی توروئی اوربنولےعلیحدہ علیحدہ ہوگئے،اس دن سے آپ کو حلاج کہا جانے لگا۔حضرت ابوسعید ابوالخیر نے آپ کے نام کی ایک اور توجیہ لکھی ہے کہ آپ کی ایک دُھنیے سے دوستی تھی ہر وقت اس کے پاس وقت گزارتے ایک دن اس دُھنیے نے ازراہ محبت آپ کو روئی اور بنولے علیحدہ کرنے پر لگادیا تو آپ نے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ تمام بنولے روئی سے جدا ہوکر علیحدہ علیحدہ ہوگئے۔آپ کے انداز کلام سے حق و باطل بھی علیحدہ علیحدہ ہوگیا تھا۔ اس دن سے آپ کا نام حلاج پڑ گیا۔(تذکرۃ الاولیاء:255/نفحات الانس:156)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 243ھ مطابق 857ء/858ءکو بمقام ’’طور‘‘بیضاء ،ایران میں ہوئی۔(تذکرہ حسین بن منصور حلاج ۔از ڈاکٹر شاہد مختار:17/وکیپیڈیافارسی)
تحصیلِ علم:
حضرت شیخ حسین بن منصور حلاج کےمتعلق مشہور ہےکہ بچپن میں ہی عام بچوں سےمختلف تھے۔اپنےہم عمر بچوں سےعلیحدہ اور خاموش رہتےتھے۔فضول گوئی،ہنسی مذاق سےاجتناب کرتےاوراپنی ذات میں گم رہتےتھے۔یہاں تک کہ لوگ ’’مستانہ‘‘کہنےلگے۔ان کےوالد نےمدرسہ دارالحفاظ میں داخل کرادیا۔873ء میں قرآن مجیدحفظ کرلیا۔اس دور میں علمِ حدیث،فقہ،تفسیر،ادبیات،تاریخ،تصوف اور علم الکلام کادور دورہ تھا۔توشیخ حلاج نےتمام علوم ِ مروجہ میں دسترس حاصل کی۔ان کازیادہ میلان تصوف کی طرف تھا۔اس لئےتحصیل علوم کےبعد حضرت سہل بن عبداللہ تستریجواپنےوقت کےعظیم صوفی اورمدرس تھے،دوسال تک ان کےمدرسۂ تصوف میں رہے،اور یہی سب سےپہلےآپ کےشیخِ طریقت بھی ہیں۔حضرت سہل تستریسےعلیحدہ ہوکربصرہ چلےگئے،بصرہ بھی آپ کےلئےسازگارثابت نہ ہوا کیونکہ یہاں کی سیاسی فضاء خاندان ِ اہل بیت کےخلاف تھی،اورایساجری انسان حالات سےمصلحت اورسمجھوتےکاقائل نہیں ہوتا۔اس لئےیہاں سےبغدادکی طرف ہجرت کرناپڑی۔مشائخِ بغداداوربالخصوص حضرت جنید بغدادیسےعلمی استفادہ کیا۔وہاں سے حجازمقدس گئےاورحجاز مقدس سےصوفیاء کی ایک جماعت کےساتھ پھربغداد واپس آگئے،حضرت جنیدبغدادیسےملاقات ہوئی ۔حضرت جنیدفرمانےلگے:’’جلد ہی تولکڑی کاسرسرخ کرےگا یعنی سولی چڑھادیاجائےگا۔انہوں نےجواب میں کہا:پھرآپ کولباس تصوف اتارکراہل ِ ظاہرکالباس پہنناپڑےگا‘‘۔واقعی ایساہی ہوا۔(تذکرۃ الاولیاء:254)
بیعت وخلافت:
حضرت شیخ حسین بن منصورحلاج جیدمشائخ کی صحبت میں رہےاوران سےاستفادہ کیا۔حضرت عمروبن عثمان مکی کےسلسلہ طریقت میں منسلک ہوگئے،اور ایک عرصےتک ان کی صحبت میں رہے۔(تذکرۃ الاولیاء:254)
سیرت وخصائص:
وحیدالدہر،عاشقِ صادق،عظیم جدجہدکےمالک،جذبۂ خودی سےسرشار،عالی ہمت،رفیع القدر،قتیل راہِ عشق،عارف اسرار رموز،کاشف سرِمستور،ابوالمغیث حضرت شیخ حسین بن منصور حلاج۔آپکی ذات عالم اسلام میں شروع سےآج تک معروف رہی ہے۔صوفیاء وعلماء کےآپ کےبارےمیں بہت اقوال وآراء ہیں۔ایک عام قاری الجھ جاتاہے۔اس کوسمجھ نہیں آتاکہ آپ کی ذات کیاتھی۔کتب میں بھی مختلف اقوال ہیں۔ان سےبھی تشکیک کواور زیادہ تقویت ملتی ہے۔یہی کچھ میرےساتھ بھی ہوا۔میں نےمختلف اقوال پڑھنےکےبعدآپ سےصرفِ نظر کرنےکاارداہ کیاہی تھا کہ اللہ جل شانہ نےمیری دستگیری فرمائی ۔اچانک میرےذہن میں خیال آیا کہ دیکھوں کہ ابوالحسن سید علی بن عثمان ہجویری المعروف حضرت داتاگنج بخشنے’’کشف المحجوب‘‘میں آپ کےبارےمیں کیافرمایا ہے۔جب میں نےپڑھاتو دل سےتشکیک کےبادل چھٹتےگئےاورحقائقِ ظاہرہوگئے۔کشف المحجوب واقعی کشف المجوب ہے۔
حضرت داتاگنج بخش فرماتےہیں:
’’آپ سرمستانِ بادۂ وحدت اورمشتاق جمال احدیت گزرےہیں،اور نہایت قوی الحال مشائخ میں سےتھے‘‘۔(کشف المحجوب:304)۔آپ کےبارےمیں صوفیاء کی مختلف آراء نقل کرنےبعدایک مغالطےکاازالہ کرتےہوئےفرماتےہیں:’’بعض لوگ آپ کےکمالات وخوارق ِ عادات امور کومکراورجادو کےساتھ نسبت کرتےہیں۔ان کاخیال ہے کہ یہ منصور بن حلاج بغدادی ہےجومحمود بن زکریاکااستاد اور ابوسعیدقرامطی کارفیقِ خاص ہے۔حالانکہ وہ حسین بن منصور بن صلاح ہے،اور یہ حسین بن منصور حلاج ہیں،پھر وہ
نام ونسب:
اسم گرامی:حضرت حسین۔کنیت: ابوالمغیث۔لقب:حلاج۔آپ عوام میں’’منصورحلاج‘‘کےنام سےمعروف ہیں۔حالانکہ آپ کانام حسین اور والد کانام منصورہے۔سلسلۂ نسب اس طرح ہے:ابوالمغیث شیخ حسین بن منصور حلاج بن محمی۔(تذکرہ منصور حلاج:13)ان کےداداآتش پرست اور اپنےوقت کےبہت بڑےفلسفی ،اورفلسفےکےمعلم تھے۔ان کےوالد اپناآبائی مذہب ترک کرکےدینِ اسلام قبول کرلیاتھا۔وہ ایک درویش صفت اوراپنےکام میں مصروف رہنےوالےانسان تھے۔ریشمی کپڑےکی مارکیٹ میں ان کاایک نام تھا۔ریشمی کیڑےپالنا اورپھران سےکپڑےتیارکرناان کامشغلہ تھا۔
حلاج کی وجہ تسمیہ:
حلاج عربی زبان کالفظ ہے۔اردو میں اس کامطلب ہے’’دھنیا‘‘یعنی روئی اور بنولےکوالگ الگ کرنےوالا۔شیخ فریدالدین عطاراور مولانا جامی فرماتےہیں:’’یہ آپ کی ذات نہیں تھی بلکہ آپ اس لقب سےاس لئے مشہور ہوگئے کہ ایک بار آپ روئی کے ایک ڈھیرکےقریب سےگزرے،ایک نگاہ کی توروئی اوربنولےعلیحدہ علیحدہ ہوگئے،اس دن سے آپ کو حلاج کہا جانے لگا۔حضرت ابوسعید ابوالخیر نے آپ کے نام کی ایک اور توجیہ لکھی ہے کہ آپ کی ایک دُھنیے سے دوستی تھی ہر وقت اس کے پاس وقت گزارتے ایک دن اس دُھنیے نے ازراہ محبت آپ کو روئی اور بنولے علیحدہ کرنے پر لگادیا تو آپ نے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ تمام بنولے روئی سے جدا ہوکر علیحدہ علیحدہ ہوگئے۔آپ کے انداز کلام سے حق و باطل بھی علیحدہ علیحدہ ہوگیا تھا۔ اس دن سے آپ کا نام حلاج پڑ گیا۔(تذکرۃ الاولیاء:255/نفحات الانس:156)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 243ھ مطابق 857ء/858ءکو بمقام ’’طور‘‘بیضاء ،ایران میں ہوئی۔(تذکرہ حسین بن منصور حلاج ۔از ڈاکٹر شاہد مختار:17/وکیپیڈیافارسی)
تحصیلِ علم:
حضرت شیخ حسین بن منصور حلاج کےمتعلق مشہور ہےکہ بچپن میں ہی عام بچوں سےمختلف تھے۔اپنےہم عمر بچوں سےعلیحدہ اور خاموش رہتےتھے۔فضول گوئی،ہنسی مذاق سےاجتناب کرتےاوراپنی ذات میں گم رہتےتھے۔یہاں تک کہ لوگ ’’مستانہ‘‘کہنےلگے۔ان کےوالد نےمدرسہ دارالحفاظ میں داخل کرادیا۔873ء میں قرآن مجیدحفظ کرلیا۔اس دور میں علمِ حدیث،فقہ،تفسیر،ادبیات،تاریخ،تصوف اور علم الکلام کادور دورہ تھا۔توشیخ حلاج نےتمام علوم ِ مروجہ میں دسترس حاصل کی۔ان کازیادہ میلان تصوف کی طرف تھا۔اس لئےتحصیل علوم کےبعد حضرت سہل بن عبداللہ تستریجواپنےوقت کےعظیم صوفی اورمدرس تھے،دوسال تک ان کےمدرسۂ تصوف میں رہے،اور یہی سب سےپہلےآپ کےشیخِ طریقت بھی ہیں۔حضرت سہل تستریسےعلیحدہ ہوکربصرہ چلےگئے،بصرہ بھی آپ کےلئےسازگارثابت نہ ہوا کیونکہ یہاں کی سیاسی فضاء خاندان ِ اہل بیت کےخلاف تھی،اورایساجری انسان حالات سےمصلحت اورسمجھوتےکاقائل نہیں ہوتا۔اس لئےیہاں سےبغدادکی طرف ہجرت کرناپڑی۔مشائخِ بغداداوربالخصوص حضرت جنید بغدادیسےعلمی استفادہ کیا۔وہاں سے حجازمقدس گئےاورحجاز مقدس سےصوفیاء کی ایک جماعت کےساتھ پھربغداد واپس آگئے،حضرت جنیدبغدادیسےملاقات ہوئی ۔حضرت جنیدفرمانےلگے:’’جلد ہی تولکڑی کاسرسرخ کرےگا یعنی سولی چڑھادیاجائےگا۔انہوں نےجواب میں کہا:پھرآپ کولباس تصوف اتارکراہل ِ ظاہرکالباس پہنناپڑےگا‘‘۔واقعی ایساہی ہوا۔(تذکرۃ الاولیاء:254)
بیعت وخلافت:
حضرت شیخ حسین بن منصورحلاج جیدمشائخ کی صحبت میں رہےاوران سےاستفادہ کیا۔حضرت عمروبن عثمان مکی کےسلسلہ طریقت میں منسلک ہوگئے،اور ایک عرصےتک ان کی صحبت میں رہے۔(تذکرۃ الاولیاء:254)
سیرت وخصائص:
وحیدالدہر،عاشقِ صادق،عظیم جدجہدکےمالک،جذبۂ خودی سےسرشار،عالی ہمت،رفیع القدر،قتیل راہِ عشق،عارف اسرار رموز،کاشف سرِمستور،ابوالمغیث حضرت شیخ حسین بن منصور حلاج۔آپکی ذات عالم اسلام میں شروع سےآج تک معروف رہی ہے۔صوفیاء وعلماء کےآپ کےبارےمیں بہت اقوال وآراء ہیں۔ایک عام قاری الجھ جاتاہے۔اس کوسمجھ نہیں آتاکہ آپ کی ذات کیاتھی۔کتب میں بھی مختلف اقوال ہیں۔ان سےبھی تشکیک کواور زیادہ تقویت ملتی ہے۔یہی کچھ میرےساتھ بھی ہوا۔میں نےمختلف اقوال پڑھنےکےبعدآپ سےصرفِ نظر کرنےکاارداہ کیاہی تھا کہ اللہ جل شانہ نےمیری دستگیری فرمائی ۔اچانک میرےذہن میں خیال آیا کہ دیکھوں کہ ابوالحسن سید علی بن عثمان ہجویری المعروف حضرت داتاگنج بخشنے’’کشف المحجوب‘‘میں آپ کےبارےمیں کیافرمایا ہے۔جب میں نےپڑھاتو دل سےتشکیک کےبادل چھٹتےگئےاورحقائقِ ظاہرہوگئے۔کشف المحجوب واقعی کشف المجوب ہے۔
حضرت داتاگنج بخش فرماتےہیں:
’’آپ سرمستانِ بادۂ وحدت اورمشتاق جمال احدیت گزرےہیں،اور نہایت قوی الحال مشائخ میں سےتھے‘‘۔(کشف المحجوب:304)۔آپ کےبارےمیں صوفیاء کی مختلف آراء نقل کرنےبعدایک مغالطےکاازالہ کرتےہوئےفرماتےہیں:’’بعض لوگ آپ کےکمالات وخوارق ِ عادات امور کومکراورجادو کےساتھ نسبت کرتےہیں۔ان کاخیال ہے کہ یہ منصور بن حلاج بغدادی ہےجومحمود بن زکریاکااستاد اور ابوسعیدقرامطی کارفیقِ خاص ہے۔حالانکہ وہ حسین بن منصور بن صلاح ہے،اور یہ حسین بن منصور حلاج ہیں،پھر وہ
👍1
بغداد کا رہنےوالاہے،اوریہ فارس کےرہنےوالے ہیں‘‘۔(ایضا:305)پھر فرماتےہیں:’’دیکھتےنہیں کہ حضرت شبلی حضرت حسین بن منصور کی شان میں کیا فرمارہےہیں آپ کااعلان ہے:انا والحلاج فی شیء واحد فخلصنی جنونی واھلکلہ عقلہ۔یعنی میں اور حلاج ایک ہی طریقے پرہیں۔مگرمجھےمیرےدیوانہ پن نے آزاد کرادیااور حلاج کواس کی عقل مندی نے ہلاک کرادیا۔اگرمعاذاللہ وہ بےدین ہوتےتوشیخ شبلی کبھی نہ فرماتےکہ میں اور حلاج ایک ہی طریق پرہیں۔حضرت محمد بن خفیف فرماتےہیں:ھوعالم ربانی۔ان کےعلاوہ بہت سےمشائخ نےآپ کی تعریف کی اوربزرگ فرمایا‘‘۔(ایضا:306)۔حضرت حسین بن منصورحلاجاپنی مدتِ عمر میں لباس صلاحیت کےساتھ مزین رہے۔نماز کےپابند ذکر ومناجات میں لیل ونہارگزارنےوالے،روزےکےپابنداور آپ کی حمدنہایت مہذب تھی،اور توحید میں لطیف نکتے بیان فرماتے تھے۔اگروہ جادوگرہوتےتوصوم وصلوٰۃ کی پابندی اور ذکرواذکارمیں سرگرمی ان سےمحال تھی۔توصحیح طورپر ثابت ہوا کہ ان سےجو امورِ خارق عادت ظہورمیں آئےوہ کرامت تھے،اور کرامت سوائے ولی کےمتحقق نہیں ہوسکتی۔(ایضا:307)
پھرفرماتےہیں:’’آپ کی تصانیف بہت مشہور ہیں اورکلام نہایت مہذب ہےاورجوآپ نےاصول وفروع میں لکھاہے،اور میں (داتاصاحب)نےپچاس رسالےان کےتصنیف شدہ دیکھےہیں۔میں نےحضرت حسین بن منصورحلاجکےکلام کی شرح لکھی ہےاور اس کتاب میں دلائل وحجج باہرہ کےساتھ میں نےیہ ثابت کیاہے کہ یہ کلام اتنا بلندہے کہ اس کوارباب حال کےسوا اورکوئی نہیں سمجھ سکتا۔ایک کتاب بنام ’’منہاج الدین‘‘ ہماری تالیف ہےاس میں حضرت حسین بن منصور حلاجکےابتداء حال سےانتہاء تک تمام کوائف ذکرکیےہیں۔یہاں (کشف المحجوب میں)ہم نےان کامختصر تذکرہ کردیاہے‘‘۔(ایضا:309)
شیخ فریدالدین عطارفرماتےہیں: بعض ظاہر بین علماء نے آپ کی گفتگوکو کفر سے تعبیر کیا، بعض نے آپ کو حلولی قرار دیا، لیکن جسے توحید کے رموز و اسرار سے واقفیت تھی،وہ اسےحلول نہیں کہہ سکتا۔چنانچہ شیخ فریدالدین عطارنےآپ کےکلام کوعین توحیدقراردیاہے،اور فرمایا:’’مجھے اس شخص پر سخت تعجب آتا ہے کہ وہ حضرت موسی علیہ السلام کے واقعہ میں ایک درخت سے انی انا اللہ کی آواز کو توحید پرمنطبق کرے اور جب یہی آوازحسین بن منصورسےآئےتواسےکفرقراردیں۔حضرت عمر بات کریں تو ینطق الحق علی لسا ن العمر (اللہ تعالیٰ عمر کی زبان سے بات کرتا ہے) کوتوحید خیال کریں مگر یہی بات حسین ابن منصور کی زبان سےنکلے،تو اسے حلول اور الحاد سے تعبیر کیا جائے۔(تذکرۃ الاولیاء:253)
خزینۃ الاصفیاء میں ہے: حضرت حسین ابن منصور رحمۃ اللہ علیہ نے کائنات ارضی کی سیاحت کی، مخلوق خدا کواللہ کی طرف دعوت دیتے رہے، سولہ سال کی عمر میں حضرت عبداللہ تستری کی صحبت سے استفادہ کیا۔ بغداد آئے مشائخ بغداد سے استفادہ کیا، بصرہ پہنچے،علماء و مشائخ سے گفتگو رہی، ابو عثمان عمرو مکی سے تعلق پیدا ہوگیا،اورایک عرصےتک ان کی صحبت میں رہے،حضرت ابویعقوب الاقطع آپ کی ذہانت و کمالات سےاتنےمتأثر ہوئے کہ اپنی بیٹی آپ کےنکاح میں دےدی۔حضرت ابوعثمان نےعلم الحقائق میں ایک کتاب لکھی تھی۔وہ جن اسرارو رموز ِتصوف پرمشتمل تھی،وہ علماء ظاہر کے لیے ناقابلِ فہم تھے۔آپ نے اس کتاب کوایک عرصہ پوشیدہ رکھا۔شیخ حسین بن منصورنےبڑی جرأت کرکےاس کتاب کے مسائل کو منبروں پر کھڑے ہوکر بیان کرنا شروع کیے۔عام علماء کی مجالس میں بیان کیے لوگوں میں واقعی ایک شور برپا ہونےلگا۔لوگوں نےحسین بن منصورتوکیا شیخ ابوعثمان عمرو کےبھی خلاف ہوگئے۔حضرت ابوعثمان ان رموز کے افشاء پر حضرت حسین بن منصورسے سخت ناراض ہوئے،اور اپنی مجالس سےعلیحدہ کردیا۔ ساتھ ہی جلال میں آکر فرمایا:’’ اللہ حسین کی زبان اور دست و پا کو قطع کردے اور کوئی ایسا شخص پیدا کرے جو اسے تختۂ دار پر کھڑا کرے‘‘۔ (خزینۃ الاصفیاء: 104/نفحات الانس:157)
دعوۂ انا الحق کی تحقیق:
عوام میں مشہور ہے کہ حضرت حسین بن منصور حلاج نے ’’اَنَا الْحَقُ‘‘ (یعنی میں حق ہوں) کہا تھا اس کا رد کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه فتاوی رضویہ شریف میں تحریر فرماتے ہيں:
’’حضرت سیدی حسین بن منصور حلاج، جن کو عوام ’’منصور‘‘ کہتے ہیں ۔ منصور اِن کے والد کا نام تھا، اور ان کا اسم گرامی حسین ہے ۔ (آپ) اکابر اہلِ حال سے تھے، ان کی ایک بہن ان سے بدَرَجَہا مرتبۂ ولایت و معرِفت میں زائد تھیں ۔
وہ آخر شب کو جنگل تشریف لے جاتیں اور یادِ الٰہی میں مصروف ہو جاتیں ۔ ایک دن ان کی آنکھ کھلی، بہن کو نہ پایا، گھر میں ہر جگہ تلاش کیا، پتا نہ چلا، اُن کو وسوسہ گزرا، دوسری شب میں قصداً سوتے میں جان ڈال کر جاگتے رہے ۔
وہ اپنے وقت پر اُٹھ کر چلیں، یہ آہستہ آہستہ پیچھے ہو لئے، دیکھتے رہے ۔ آسمان سے سونے کی زنجیر میں یاقوت کا جام اُترا اور ان کے دہن مبارک (یعنی مُنہ شریف) کے برابر آ لگا، انہوں نے پینا شروع کیا، اِن سے صبر نہ ہو سکا کہ یہ جنت کی نعمت نہ ملے ۔
پھرفرماتےہیں:’’آپ کی تصانیف بہت مشہور ہیں اورکلام نہایت مہذب ہےاورجوآپ نےاصول وفروع میں لکھاہے،اور میں (داتاصاحب)نےپچاس رسالےان کےتصنیف شدہ دیکھےہیں۔میں نےحضرت حسین بن منصورحلاجکےکلام کی شرح لکھی ہےاور اس کتاب میں دلائل وحجج باہرہ کےساتھ میں نےیہ ثابت کیاہے کہ یہ کلام اتنا بلندہے کہ اس کوارباب حال کےسوا اورکوئی نہیں سمجھ سکتا۔ایک کتاب بنام ’’منہاج الدین‘‘ ہماری تالیف ہےاس میں حضرت حسین بن منصور حلاجکےابتداء حال سےانتہاء تک تمام کوائف ذکرکیےہیں۔یہاں (کشف المحجوب میں)ہم نےان کامختصر تذکرہ کردیاہے‘‘۔(ایضا:309)
شیخ فریدالدین عطارفرماتےہیں: بعض ظاہر بین علماء نے آپ کی گفتگوکو کفر سے تعبیر کیا، بعض نے آپ کو حلولی قرار دیا، لیکن جسے توحید کے رموز و اسرار سے واقفیت تھی،وہ اسےحلول نہیں کہہ سکتا۔چنانچہ شیخ فریدالدین عطارنےآپ کےکلام کوعین توحیدقراردیاہے،اور فرمایا:’’مجھے اس شخص پر سخت تعجب آتا ہے کہ وہ حضرت موسی علیہ السلام کے واقعہ میں ایک درخت سے انی انا اللہ کی آواز کو توحید پرمنطبق کرے اور جب یہی آوازحسین بن منصورسےآئےتواسےکفرقراردیں۔حضرت عمر بات کریں تو ینطق الحق علی لسا ن العمر (اللہ تعالیٰ عمر کی زبان سے بات کرتا ہے) کوتوحید خیال کریں مگر یہی بات حسین ابن منصور کی زبان سےنکلے،تو اسے حلول اور الحاد سے تعبیر کیا جائے۔(تذکرۃ الاولیاء:253)
خزینۃ الاصفیاء میں ہے: حضرت حسین ابن منصور رحمۃ اللہ علیہ نے کائنات ارضی کی سیاحت کی، مخلوق خدا کواللہ کی طرف دعوت دیتے رہے، سولہ سال کی عمر میں حضرت عبداللہ تستری کی صحبت سے استفادہ کیا۔ بغداد آئے مشائخ بغداد سے استفادہ کیا، بصرہ پہنچے،علماء و مشائخ سے گفتگو رہی، ابو عثمان عمرو مکی سے تعلق پیدا ہوگیا،اورایک عرصےتک ان کی صحبت میں رہے،حضرت ابویعقوب الاقطع آپ کی ذہانت و کمالات سےاتنےمتأثر ہوئے کہ اپنی بیٹی آپ کےنکاح میں دےدی۔حضرت ابوعثمان نےعلم الحقائق میں ایک کتاب لکھی تھی۔وہ جن اسرارو رموز ِتصوف پرمشتمل تھی،وہ علماء ظاہر کے لیے ناقابلِ فہم تھے۔آپ نے اس کتاب کوایک عرصہ پوشیدہ رکھا۔شیخ حسین بن منصورنےبڑی جرأت کرکےاس کتاب کے مسائل کو منبروں پر کھڑے ہوکر بیان کرنا شروع کیے۔عام علماء کی مجالس میں بیان کیے لوگوں میں واقعی ایک شور برپا ہونےلگا۔لوگوں نےحسین بن منصورتوکیا شیخ ابوعثمان عمرو کےبھی خلاف ہوگئے۔حضرت ابوعثمان ان رموز کے افشاء پر حضرت حسین بن منصورسے سخت ناراض ہوئے،اور اپنی مجالس سےعلیحدہ کردیا۔ ساتھ ہی جلال میں آکر فرمایا:’’ اللہ حسین کی زبان اور دست و پا کو قطع کردے اور کوئی ایسا شخص پیدا کرے جو اسے تختۂ دار پر کھڑا کرے‘‘۔ (خزینۃ الاصفیاء: 104/نفحات الانس:157)
دعوۂ انا الحق کی تحقیق:
عوام میں مشہور ہے کہ حضرت حسین بن منصور حلاج نے ’’اَنَا الْحَقُ‘‘ (یعنی میں حق ہوں) کہا تھا اس کا رد کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه فتاوی رضویہ شریف میں تحریر فرماتے ہيں:
’’حضرت سیدی حسین بن منصور حلاج، جن کو عوام ’’منصور‘‘ کہتے ہیں ۔ منصور اِن کے والد کا نام تھا، اور ان کا اسم گرامی حسین ہے ۔ (آپ) اکابر اہلِ حال سے تھے، ان کی ایک بہن ان سے بدَرَجَہا مرتبۂ ولایت و معرِفت میں زائد تھیں ۔
وہ آخر شب کو جنگل تشریف لے جاتیں اور یادِ الٰہی میں مصروف ہو جاتیں ۔ ایک دن ان کی آنکھ کھلی، بہن کو نہ پایا، گھر میں ہر جگہ تلاش کیا، پتا نہ چلا، اُن کو وسوسہ گزرا، دوسری شب میں قصداً سوتے میں جان ڈال کر جاگتے رہے ۔
وہ اپنے وقت پر اُٹھ کر چلیں، یہ آہستہ آہستہ پیچھے ہو لئے، دیکھتے رہے ۔ آسمان سے سونے کی زنجیر میں یاقوت کا جام اُترا اور ان کے دہن مبارک (یعنی مُنہ شریف) کے برابر آ لگا، انہوں نے پینا شروع کیا، اِن سے صبر نہ ہو سکا کہ یہ جنت کی نعمت نہ ملے ۔
بے اختیار کہہ اُٹھے کہ بہن! تمہیں ﷲ کی قسم کہ تھوڑا میرے لئے چھوڑ دو، انہوں نے ایک جُرعَہ (یعنی ایک گھونٹ) چھوڑ دیا، انہوں نے پیا، اس کے پیتے ہی ہر جڑی بُوٹی، ہر در و دیوار سے ان کو یہ آواز آنے لگی کہ کون اس کا زیادہ مستحق ہے کہ ہماری راہ میں قتل کیا جائے ۔
انہوں نے کہنا شروع کر دیا ’’ اَنَا الحَقُّ ‘‘ بیشک میں سب سے زیادہ اس کا سزا وار (یعنی حق دار) ہوں ۔ لوگوں کے سننے میں آیا ’’ اَنَاالْحَقُّ ‘‘ (یعنی میں حق ہوں) وہ (لوگ) دعوۂ خدائی سمجھے، اور یہ (یعنی خدائی کا دعوی) کفر ہے اور مسلمان ہو کر جو کفر کرے مرتد ہے اور مرتد کی سزا قتل ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ، ج26، ص400)
آپ کا قتل:
ایک قول تو یہ ہے کہ آپ کا قتل ایک سیاسی قتل تھا ۔ جیسا کہ حکمران اپنے مخالفین کو قتل کراتے ہیں ۔ (تذکرہ شیخ حسین بن منصور حلاج:222) ۔
اسی طرح آپ کے قتل میں روافض کا اہم کردار تھا ۔ (ایضا) اس لئے آپ پر رفض کا الزام بہتان ہے ۔ آپ جیل میں بھی کثرت کے ساتھ نوافل پڑھتے تھے ۔ جب جیل سے باہر تھے اس وقت ہر فرض نماز کے لئے غسل کرتے ۔
آپ کو بڑی بے دردی سے شہید کیا گیا ۔ پہلے آپ کے اعضا کاٹے گئے، کوڑے برسائے گئے، آنکھیں نکالیں گئیں، زبان کاٹی گئی، پھر بے دردی سے سولی پہ چڑھایا گیا ۔
جب سپاہی آپ کو تختۂ دار پر لے گئے چشم دید گواہوں نے بیان کیا ہے کہ اس منظر کو دیکھنے کے لیے ایک لاکھ لوگ موجود تھے ۔ شیخ حسین بن منصور آنکھ کھولتے اور آواز دیتے حق حق حق انا لاحق ایک درویش اس مجمعے میں سے آگے بڑھا اور آپ کو پوچھنے لگا حضرت عشق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا آج دیکھ لوگے پھر کچھ کل دیکھو گے اور پھر پرسوں دیکھو گے! اس دن آپ کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا دوسرے روز آپ کی نعش کو جلایا گیا، تیسرے دن آپ کی مٹی کو اڑایا گیا ۔ حاضرین نے سنا کہ آپ کے ایک ایک عضو سے انا الحق انا الحق کی آواز آ رہی ہے آپ کا ایک ایک عضو علیحدہ کر دیا گیا خون کے قطرے قطرے سے صدائے اناالحق اناالحق سنائی دی جانے لگی ۔ آپ کے جسم کو جلا دیا گیا مگر خاکستر کے ایک ایک ذرہ سے صدائے انا الحق سنی جاتی رہی، تیسرے دن آپ کی خاکستر کو دریائے دجلہ میں بہا دیا گیا، دریا میں ایک تلاطم برپا ہو گیا اور وادی دجلہ انا الحق کے شور سے گونج اٹھی ۔
کہتے ہیں کہ آپ نے تختہ دار پر آنے سے پہلے اپنے ایک محرم راز کو بتایا تھا کہ جب آپ کی خاکستر دریائے دجلہ میں پھینکی جائے گی کہ تو دوسرے دن دریائے دجلہ میں ایک طوفانی سیلاب آئے گا اور اس کی موجیں بغداد شہر کی دیواروں سے ٹکرانا شروع کر دیں گی، اس وقت میری یہ یہ قمیص دریا کے سامنے لے جا کر کہنا اے دجلہ تجھے حسین بن منصور کی اس قمیص کے پیش نظر شہر سے ہٹ جانا چاہیے، واقعتاً ایسا ہی ہوا، اس دوست نے حضرت کی قمیص سامنے کی اور اس طرح دریائے دجلہ کا رُخ بدل گیا، سیلاب تھم گیا اور شہر بغداد بچ گیا ۔ اتنے ظلم و ستم کے باوجود حضرت حسین ابن منصور کے باقی ماندہ اعضاء اور خاکستر کو جمع کیا گیا، اور عقیدت مندوں نے آپ کا ایک مزار تعمیر کرایا ۔ (خزینۃ الاصفیاء، ص:105)
تاریخِ شہادت:
آپ کی شہادت بروز منگل 4 ذوالقعدہ 309ھ مطابق 3 مارچ 922ء کو ہوئی ۔
داتا گنج بخش کی نصیحت:
آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: اس قسم کے مغلوب الحال صوفیاء کرام کے کلام کا ہرگز اتباع نہیں کرنا چاہئے اس لئے وہ اپنے حال میں اس قدر مغلوب ہوتے ہیں کہ ان میں استقامت قطعی نہیں ہوتی، اور اُن صوفیاء کی پیروی کرنی چاہئے جو صاحبِ استقامت ہیں ۔ میں حضرت حسین بن حلاج کو اپنے دل میں عزیز رکھتا ہوں اور ان کی عظمت میرے دل میں ہے ۔ لیکن آپ مغلوب الحال تھے۔(کشف المحجوب:308) ۔
وہابی وغیرہ دشمنان اولیاء نے بہت سے مقامات پر آپ کے خلاف ابن تیمیہ وغیرہ کے حوالے بہت زہر اگلا ہے ۔ اس پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ، حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی، حضرت امام غزالی، حضرت داتا گنج بخش، حضرت مجدد الفِ ثانی، اور اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہم الرضوان وغیرہ اکابرینِ امت نے آپ کی مدح فرمائی ہے ۔ میں نے یہ اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ تفصیل کے لئے۔۔۔ کشف المحجوب، داتا گنج بخش ۔ تذکرۃ الاولیاء، شیخ فریدالدین عطار ـ خزینۃ الاصفیا، مفتی غلام سرور لاہوری قابلِ مطالعہ ہیں ۔ فقیر تونسویؔ غفرلہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hussain-bin-mansoor-hallaj
انہوں نے کہنا شروع کر دیا ’’ اَنَا الحَقُّ ‘‘ بیشک میں سب سے زیادہ اس کا سزا وار (یعنی حق دار) ہوں ۔ لوگوں کے سننے میں آیا ’’ اَنَاالْحَقُّ ‘‘ (یعنی میں حق ہوں) وہ (لوگ) دعوۂ خدائی سمجھے، اور یہ (یعنی خدائی کا دعوی) کفر ہے اور مسلمان ہو کر جو کفر کرے مرتد ہے اور مرتد کی سزا قتل ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ، ج26، ص400)
آپ کا قتل:
ایک قول تو یہ ہے کہ آپ کا قتل ایک سیاسی قتل تھا ۔ جیسا کہ حکمران اپنے مخالفین کو قتل کراتے ہیں ۔ (تذکرہ شیخ حسین بن منصور حلاج:222) ۔
اسی طرح آپ کے قتل میں روافض کا اہم کردار تھا ۔ (ایضا) اس لئے آپ پر رفض کا الزام بہتان ہے ۔ آپ جیل میں بھی کثرت کے ساتھ نوافل پڑھتے تھے ۔ جب جیل سے باہر تھے اس وقت ہر فرض نماز کے لئے غسل کرتے ۔
آپ کو بڑی بے دردی سے شہید کیا گیا ۔ پہلے آپ کے اعضا کاٹے گئے، کوڑے برسائے گئے، آنکھیں نکالیں گئیں، زبان کاٹی گئی، پھر بے دردی سے سولی پہ چڑھایا گیا ۔
جب سپاہی آپ کو تختۂ دار پر لے گئے چشم دید گواہوں نے بیان کیا ہے کہ اس منظر کو دیکھنے کے لیے ایک لاکھ لوگ موجود تھے ۔ شیخ حسین بن منصور آنکھ کھولتے اور آواز دیتے حق حق حق انا لاحق ایک درویش اس مجمعے میں سے آگے بڑھا اور آپ کو پوچھنے لگا حضرت عشق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا آج دیکھ لوگے پھر کچھ کل دیکھو گے اور پھر پرسوں دیکھو گے! اس دن آپ کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا دوسرے روز آپ کی نعش کو جلایا گیا، تیسرے دن آپ کی مٹی کو اڑایا گیا ۔ حاضرین نے سنا کہ آپ کے ایک ایک عضو سے انا الحق انا الحق کی آواز آ رہی ہے آپ کا ایک ایک عضو علیحدہ کر دیا گیا خون کے قطرے قطرے سے صدائے اناالحق اناالحق سنائی دی جانے لگی ۔ آپ کے جسم کو جلا دیا گیا مگر خاکستر کے ایک ایک ذرہ سے صدائے انا الحق سنی جاتی رہی، تیسرے دن آپ کی خاکستر کو دریائے دجلہ میں بہا دیا گیا، دریا میں ایک تلاطم برپا ہو گیا اور وادی دجلہ انا الحق کے شور سے گونج اٹھی ۔
کہتے ہیں کہ آپ نے تختہ دار پر آنے سے پہلے اپنے ایک محرم راز کو بتایا تھا کہ جب آپ کی خاکستر دریائے دجلہ میں پھینکی جائے گی کہ تو دوسرے دن دریائے دجلہ میں ایک طوفانی سیلاب آئے گا اور اس کی موجیں بغداد شہر کی دیواروں سے ٹکرانا شروع کر دیں گی، اس وقت میری یہ یہ قمیص دریا کے سامنے لے جا کر کہنا اے دجلہ تجھے حسین بن منصور کی اس قمیص کے پیش نظر شہر سے ہٹ جانا چاہیے، واقعتاً ایسا ہی ہوا، اس دوست نے حضرت کی قمیص سامنے کی اور اس طرح دریائے دجلہ کا رُخ بدل گیا، سیلاب تھم گیا اور شہر بغداد بچ گیا ۔ اتنے ظلم و ستم کے باوجود حضرت حسین ابن منصور کے باقی ماندہ اعضاء اور خاکستر کو جمع کیا گیا، اور عقیدت مندوں نے آپ کا ایک مزار تعمیر کرایا ۔ (خزینۃ الاصفیاء، ص:105)
تاریخِ شہادت:
آپ کی شہادت بروز منگل 4 ذوالقعدہ 309ھ مطابق 3 مارچ 922ء کو ہوئی ۔
داتا گنج بخش کی نصیحت:
آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: اس قسم کے مغلوب الحال صوفیاء کرام کے کلام کا ہرگز اتباع نہیں کرنا چاہئے اس لئے وہ اپنے حال میں اس قدر مغلوب ہوتے ہیں کہ ان میں استقامت قطعی نہیں ہوتی، اور اُن صوفیاء کی پیروی کرنی چاہئے جو صاحبِ استقامت ہیں ۔ میں حضرت حسین بن حلاج کو اپنے دل میں عزیز رکھتا ہوں اور ان کی عظمت میرے دل میں ہے ۔ لیکن آپ مغلوب الحال تھے۔(کشف المحجوب:308) ۔
وہابی وغیرہ دشمنان اولیاء نے بہت سے مقامات پر آپ کے خلاف ابن تیمیہ وغیرہ کے حوالے بہت زہر اگلا ہے ۔ اس پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ، حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی، حضرت امام غزالی، حضرت داتا گنج بخش، حضرت مجدد الفِ ثانی، اور اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہم الرضوان وغیرہ اکابرینِ امت نے آپ کی مدح فرمائی ہے ۔ میں نے یہ اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ تفصیل کے لئے۔۔۔ کشف المحجوب، داتا گنج بخش ۔ تذکرۃ الاولیاء، شیخ فریدالدین عطار ـ خزینۃ الاصفیا، مفتی غلام سرور لاہوری قابلِ مطالعہ ہیں ۔ فقیر تونسویؔ غفرلہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hussain-bin-mansoor-hallaj
scholars.pk
Hazrat Hussain Bin Mansoor Hallaj
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-11-1444 ᴴ | 24-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-11-1444 ᴴ | 25-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2