🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-11-1444 ᴴ | 24-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-11-1444 ᴴ | 24-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
یوم ولادت ڈاکٹر اقبال ۳ ذو القعدہ کیا ڈاکٹر اقبال کے بعض اشعار کفریہ مخلوق کو قرآن کہنا کیسا ؟ ڈاکٹر اقبال کے متعلق شرعی حکم خودی کو کر بلند اتنا | تاج الشریعہ https://t.me/islaamic_Knowledge/14587
Audio
سوال: Allama علامہ کِسے کہتے ہَیں؟
🎙️ سید تراب الحق قادِری علیہالرحمہ
🎙️ سید تراب الحق قادِری علیہالرحمہ
❤4👍1👌1
حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی ۔ کنیت: ابو البرکات ۔ لقب: شمس الدین، قیوم رابع ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی بن خواجہ شیخ ابو العلی بن خواجہ حجۃ اللہ محمدنقشبند ثانی بن خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔(تاریخِ مشائخِ نقشبند:435)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 5 ذیقعدہ 1093ھ مطابق 2 نومبر 1682ء، بروز پیر کو ہوئی ۔ (ایضا:435)
تحصیلِ علم:
آپ کا سارا خاندان نور علیٰ نور تھا ۔ جن میں جذبۂ حریت، استقامت علی الدین اور علم و عمل شریعت و طریقت میں بے مثال تھے ۔ جہاں ہر طرف قال اللہ وقال رسول اللہ ﷺ کی صدائیں دلوں کو جلا بخشتی تھیں ۔ اس نورانی و روحانی فضا میں حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی کی تربیت ہوئی ۔ جب آپ کی عمر مبارک چار برس چار ماہ ہوئی تو آپ کو ایک سعادت مند ادیب اور طالع مند اتالیق کے سپرد کیا گیا۔ سات برس کی عمر میں ہی شائستگی حال، آراستگیِ مقال، اوضاعِ کریمانہ اور اطوارِ بزرگانہ آپ کی جبین سعادت سے ہویدا ہوگئے تھے۔
آپ ابھی صرف تیرہ برس کے تھے کہ والد گرامی حضرت شیخ خواجہ ابوالعلی کا وصال ہوگیا اور آپ کی پرورش جدّامجد حضرت خواجہ نقشبند ثانی قدس سرہ نے کی اور ظاہری و باطنی علوم میں مالا مال کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ کم سِنی ہی میں آپ پر استغراق غالب ہوجایا کرتا تھا اور حضرت نقشبند ثانی قدس سرہ نے آپ کو قیومیّت کی بشارت دی تھی چنانچہ حضرت حجۃ اللہ خواجہ محمد نقشبند ثانی قدس سرہ کے وصال کے بعد بروز ہفتہ یکم صفر 1114ھ / 24 جون 1702ء کو مسند قیومیّت و ارشاد پر متمکن ہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں اپنے جد کریم حضرت خواجہ محمد نقشبندِ ثانی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور ان کے خلیفہ ٔ اعظم بنے،اور ان کے وصال کےبعد مسند ارشاد پر فائز ہوئے۔
سیرت وخصائص:
عارف باللہ واصل باللہ، قطب الارشاد، قیومِ زماں، حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی ۔ آپ خاندانِ حضرت مجدد کے فرد فرید، اور ان کی علمی وروحانی امانتوں کے وارث، اور جامع شریعت و طریقت تھے ۔ آپ کی ذاتِ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کوفروغ حاصل ہوا۔حضرت حجۃ اللہ خواجہ محمد ثانی ِ نقشبندکےپوتےاورخلیفۂ اعظم تھے۔آپ اپنے وقت کے قطبِ دوراں اور قیوم زماں تھے۔ آپ کے شب و روز عبادت الٰہی اور خلق خدا کو ہدایت کرنے میں صرف ہوتے تھے۔ آپ کا حلقہ بہت وسیع تھا اور زمانے کے بڑے بڑے علماء و امراء آپ کے معتقد تھے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین و دنیا کی دولت سے سرفراز فرمایا تھا۔ جب بھی آپ دولت کدہ سے باہر تشریف لاتے تو امراء شاہی اپنے دوشالے اور پگڑیاں فرش راہ بناتے تاکہ متبرک ہوجائیں اور آپ کے قدم مبارک زمین پر نہ پڑیں۔ اگر آپ کسی جگہ وعظ، مجلس یا عیادتِ مریض کے لیے تشریف لے جاتے تو آپ کی سواری اور جلوس شاہانہ ہوتا۔ باوجود اس ظاہری کرّو فر کے دل خدا کی طرف لگا ہواتھا۔ آپ ہر امیر و غریب کو ایک نظر سے دیکھتے تھے اور ہر مرید کو درجۂ کمال تک پہنچانے کی سعیٔ بلیغ فرماتے تھے۔کم کھانا،کم بولنا،کم سونا آپ کی زندگی کا خاص اصول تھا۔
آپ فرمایا کرتے تھے کہ فضول اور لغو گفتگو میں بہت سی مصیبتیں اور پریشانیاں پنہاں ہیں کم کھانے سے جسم میں سُستی واقع نہیں ہوتی اورکم سونے سے زیادہ وقت عبادت الٰہی میں گزارسکتے ہیں۔یہ وقت بڑا قیمتی ہے،اس کی قدر کرنی چاہیےتقویٰ،پرہیز گاری،اتباعِ سنّت اورکثرت ِعبادت میں آپ کا کوئی ثانی نہ تھا۔
آپ نہایت کثیر العبادت تھے:
نمازِ تہجّد میں ساٹھ ساٹھ مرتبہ سورۃ یٰسین پڑھا کرتے تھے۔نمازِ فجر کے بعد چاشت تک مراقبہ فرماتے ۔ بعد ازاں قدرے قیلولہ فرماتے اور پھر نمازِ زوال ادا کرتے۔ اس کے بعد تلاوت قرآن مجید میں مشغول ہوجاتے اور پھر نمازِ ظہر سے پہلے حلقہ بنا کر بمع دوستاں ختم خواجگان پڑھتے اور ذکر و فکر کے بعد مریدوں کو توجہ دیتے نماز ظہر ادا کر کے مریدوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔ آپ چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک بار صرف اسی وقت ہی کھانا کھاتے تھے۔ نمازِ عصر کے بعد کبھی حدیث شریف اور کبھی مکتوباتِ امام ربّانی مجدّد الف ثانی قدس سرہ کا دَرس دیا کرتے تھے نمازِ مغرب کے بعد نماز اوابین میں قرآنِ مجید کے دس پارے پڑھتے تھے۔ بعد ازاں حلقۂ ذکر ہوتا۔ پھر نمازِ عشاء پڑھ کر دولت کدہ میں استراحت فرماتے۔ چوبیس ہزار مرتبہ کلمہ طیّبہ، پندرہ ہزار مرتبہ اسم ذات دن کو اور پھر دس ہزار مرتبہ کلمہ شریف رات کو آپ کا دائمی وظیفہ تھا۔ (تاریخ مشائخِ نقشبند:436)
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی ۔ کنیت: ابو البرکات ۔ لقب: شمس الدین، قیوم رابع ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی بن خواجہ شیخ ابو العلی بن خواجہ حجۃ اللہ محمدنقشبند ثانی بن خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔(تاریخِ مشائخِ نقشبند:435)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 5 ذیقعدہ 1093ھ مطابق 2 نومبر 1682ء، بروز پیر کو ہوئی ۔ (ایضا:435)
تحصیلِ علم:
آپ کا سارا خاندان نور علیٰ نور تھا ۔ جن میں جذبۂ حریت، استقامت علی الدین اور علم و عمل شریعت و طریقت میں بے مثال تھے ۔ جہاں ہر طرف قال اللہ وقال رسول اللہ ﷺ کی صدائیں دلوں کو جلا بخشتی تھیں ۔ اس نورانی و روحانی فضا میں حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی کی تربیت ہوئی ۔ جب آپ کی عمر مبارک چار برس چار ماہ ہوئی تو آپ کو ایک سعادت مند ادیب اور طالع مند اتالیق کے سپرد کیا گیا۔ سات برس کی عمر میں ہی شائستگی حال، آراستگیِ مقال، اوضاعِ کریمانہ اور اطوارِ بزرگانہ آپ کی جبین سعادت سے ہویدا ہوگئے تھے۔
آپ ابھی صرف تیرہ برس کے تھے کہ والد گرامی حضرت شیخ خواجہ ابوالعلی کا وصال ہوگیا اور آپ کی پرورش جدّامجد حضرت خواجہ نقشبند ثانی قدس سرہ نے کی اور ظاہری و باطنی علوم میں مالا مال کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ کم سِنی ہی میں آپ پر استغراق غالب ہوجایا کرتا تھا اور حضرت نقشبند ثانی قدس سرہ نے آپ کو قیومیّت کی بشارت دی تھی چنانچہ حضرت حجۃ اللہ خواجہ محمد نقشبند ثانی قدس سرہ کے وصال کے بعد بروز ہفتہ یکم صفر 1114ھ / 24 جون 1702ء کو مسند قیومیّت و ارشاد پر متمکن ہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں اپنے جد کریم حضرت خواجہ محمد نقشبندِ ثانی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور ان کے خلیفہ ٔ اعظم بنے،اور ان کے وصال کےبعد مسند ارشاد پر فائز ہوئے۔
سیرت وخصائص:
عارف باللہ واصل باللہ، قطب الارشاد، قیومِ زماں، حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی ۔ آپ خاندانِ حضرت مجدد کے فرد فرید، اور ان کی علمی وروحانی امانتوں کے وارث، اور جامع شریعت و طریقت تھے ۔ آپ کی ذاتِ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کوفروغ حاصل ہوا۔حضرت حجۃ اللہ خواجہ محمد ثانی ِ نقشبندکےپوتےاورخلیفۂ اعظم تھے۔آپ اپنے وقت کے قطبِ دوراں اور قیوم زماں تھے۔ آپ کے شب و روز عبادت الٰہی اور خلق خدا کو ہدایت کرنے میں صرف ہوتے تھے۔ آپ کا حلقہ بہت وسیع تھا اور زمانے کے بڑے بڑے علماء و امراء آپ کے معتقد تھے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین و دنیا کی دولت سے سرفراز فرمایا تھا۔ جب بھی آپ دولت کدہ سے باہر تشریف لاتے تو امراء شاہی اپنے دوشالے اور پگڑیاں فرش راہ بناتے تاکہ متبرک ہوجائیں اور آپ کے قدم مبارک زمین پر نہ پڑیں۔ اگر آپ کسی جگہ وعظ، مجلس یا عیادتِ مریض کے لیے تشریف لے جاتے تو آپ کی سواری اور جلوس شاہانہ ہوتا۔ باوجود اس ظاہری کرّو فر کے دل خدا کی طرف لگا ہواتھا۔ آپ ہر امیر و غریب کو ایک نظر سے دیکھتے تھے اور ہر مرید کو درجۂ کمال تک پہنچانے کی سعیٔ بلیغ فرماتے تھے۔کم کھانا،کم بولنا،کم سونا آپ کی زندگی کا خاص اصول تھا۔
آپ فرمایا کرتے تھے کہ فضول اور لغو گفتگو میں بہت سی مصیبتیں اور پریشانیاں پنہاں ہیں کم کھانے سے جسم میں سُستی واقع نہیں ہوتی اورکم سونے سے زیادہ وقت عبادت الٰہی میں گزارسکتے ہیں۔یہ وقت بڑا قیمتی ہے،اس کی قدر کرنی چاہیےتقویٰ،پرہیز گاری،اتباعِ سنّت اورکثرت ِعبادت میں آپ کا کوئی ثانی نہ تھا۔
آپ نہایت کثیر العبادت تھے:
نمازِ تہجّد میں ساٹھ ساٹھ مرتبہ سورۃ یٰسین پڑھا کرتے تھے۔نمازِ فجر کے بعد چاشت تک مراقبہ فرماتے ۔ بعد ازاں قدرے قیلولہ فرماتے اور پھر نمازِ زوال ادا کرتے۔ اس کے بعد تلاوت قرآن مجید میں مشغول ہوجاتے اور پھر نمازِ ظہر سے پہلے حلقہ بنا کر بمع دوستاں ختم خواجگان پڑھتے اور ذکر و فکر کے بعد مریدوں کو توجہ دیتے نماز ظہر ادا کر کے مریدوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔ آپ چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک بار صرف اسی وقت ہی کھانا کھاتے تھے۔ نمازِ عصر کے بعد کبھی حدیث شریف اور کبھی مکتوباتِ امام ربّانی مجدّد الف ثانی قدس سرہ کا دَرس دیا کرتے تھے نمازِ مغرب کے بعد نماز اوابین میں قرآنِ مجید کے دس پارے پڑھتے تھے۔ بعد ازاں حلقۂ ذکر ہوتا۔ پھر نمازِ عشاء پڑھ کر دولت کدہ میں استراحت فرماتے۔ چوبیس ہزار مرتبہ کلمہ طیّبہ، پندرہ ہزار مرتبہ اسم ذات دن کو اور پھر دس ہزار مرتبہ کلمہ شریف رات کو آپ کا دائمی وظیفہ تھا۔ (تاریخ مشائخِ نقشبند:436)
❤4👍1
ایک مرتبہ کسی تقریب میں جامع مسجد کے قریب سے گزرے۔سواری کے ساتھ عقیدت مندوں کا بے شمار ہجوم نجوم تھا۔حضرت شاہ گلشن نے مسجد سے آپ کی سواری کی رونق دیکھ کر اپنی پرانی کملی اتار کر پھینک دی اور کہا کہ اسے جلا دو۔ کیونکہ جس قدر نُور اس بزرگ کی سواری میں ہے اُس کا ایک شمّہ بھی مَیں اپنی کملی میں نہیں دیکھتا۔ حالانکہ تیس سال سے اس کملی میں ریاضت و مجاہدہ کر رہا ہوں۔ کسی نے بتایا کہ یہ حضرت خواجہ محمد زبیر ہیں۔ اس پر شاہ گلشن کہنے لگے، الحمدللہ! یہ تو ہمارے پیر زادہ ہیں اور ہماری عزّت و آبرو ان کے صدقے باقی رہ گئی ہے۔
فضل وکمالات: آپ کا ایک مرید سخت بیمار ہوگیا اور نزع کی حالت طاری ہوگئی۔ اُس کے چھوٹے چھوٹے بچّے تھے۔ اُس کے گھر والے آپ کے پاس حاضر ہوکر عرض گزار ہوئے۔ آپ کو اس کے حال پر رحم آیا اور اُسے اپنے ضمن میں لے لیا۔ وہ شفایاب ہوکرعرصہ دراز تک بقیدِ حیات رہا۔ چونکہ آپ کی رُوح مبارک اُس کی زندگی کی قیّم تھی۔ اس لیے جس دن آپ نے وصال فرمایا وہ شخص بھی دنیا سے چل بسا۔
ایک شخص آپ سے بیعت کرنے کے لیے گھر سے روانہ ہوا۔ راستے میں اُسے ایک گھوڑا سوار ملا۔ اُس نے قصدِ سفر پوچھا تو اُس شخص نے جواب دیا کہ میں حضرت خواجہ محمد زبیر کی خدمت میں بیعت ہونےکےلیےجا رہا ہوں۔گھوڑ سوار نیچے اُترا اور کہا کہ میں ہی خواجہ محمد زبیر ہوں۔ وہ شخص بہت خوش ہوا۔ اور درخواستِ بیعت کی۔ آپ نے اُسے داخل سلسلۂ عالیہ مجّددیہ کیا اور اجازت دے دی۔ اُس شخص نے سوچا کہ مَیں اب تو سرہند شریف کے نزدیک پہنچ گیا ہوں۔ لٰہذا کیوں نہ امام ربّانی حضرت مجدّد الف ثانی قدس سرہ کے روضۂ مقدس کی زیارت بھی کرتا جاؤں۔ جب سرہند شریف میں پہنچا تو دیکھا کہ وہاں لوگوں کا ایک بہت بڑا ہجوم تھا جو کسی کو دفن کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ جب اُس شخص نے دریافت کیا تو پتہ چلا کہ حضرت خواجہ زبیر وصال فرما گئے ہیں۔ جب اُس نے زیارت کی تو وہی شکل مبارک تھی جس نے اُسے راستے میں بیعت کیا تھا۔ایک شخص کابل سے آپ کی زیارت کے ارادہ سےروانہ ہوا۔ راستے میں اُسے ایک شیر ملا جسے دیکھ کر وہ بہت خوفزدہ ہوگیا۔ اُس شخص نے آپ کی طرف توجہ کی تو آپ فوراً تشریف لائے اور ایک پتھر اٹھا کر شیر پر پھینکا جس سے وہ لومڑی کی طرح دم دبا کر بھاگ گیا اور آپ بھی نظروں سے غائب ہوگئے۔(تاریخِ مشائخِ نقشبند:438)
تاریخِ وصال: آپ38برس مسند قیومیت پررونق افروز رہ کربروز بدھ،بوقتِ اشراق،4/ذی قعدہ 1152ھ مطابق 3/فروری1740ءکودہلی میں ہوا۔ آپ کی نعش مبارک سر ہند شریف لائی گئی۔ اور 11/ذیقعد بروز جمعرات شیخ سعدالدین کی حویلی میں جسے آپ نے شیخ موصوف کے بیٹے سے بعوض چار ہزار روپے خریدا تھا میں دفن کیے گئے۔ 1153ھ میں آپ کے مرقدِ انور پر ایک عالی شان روضہ تعمیر کیا گیا۔ جو رنگا رنگ کے نقش و نگار سے آراستہ کیاگیا تھا۔
ماخذومراجع: تاریخ مشائخِ نقشبند۔
جناب صابر براری نےخوب کہا:
قُطبِ دَوراں اور قیومِ زماں تھے بالیقیں ۔۔۔۔۔۔اہلِ بینش جانتے ہیں عظمتِ خواجہ زبیر
سالِ رحلت آپ کا یہ، آپ ہی کے فیض سے۔۔۔۔کہیے صابر ’’نُورِ عالم طلعتِ خواجہ زبیر‘‘
(1740ء)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-muhammad-zubair-sirhindi
فضل وکمالات: آپ کا ایک مرید سخت بیمار ہوگیا اور نزع کی حالت طاری ہوگئی۔ اُس کے چھوٹے چھوٹے بچّے تھے۔ اُس کے گھر والے آپ کے پاس حاضر ہوکر عرض گزار ہوئے۔ آپ کو اس کے حال پر رحم آیا اور اُسے اپنے ضمن میں لے لیا۔ وہ شفایاب ہوکرعرصہ دراز تک بقیدِ حیات رہا۔ چونکہ آپ کی رُوح مبارک اُس کی زندگی کی قیّم تھی۔ اس لیے جس دن آپ نے وصال فرمایا وہ شخص بھی دنیا سے چل بسا۔
ایک شخص آپ سے بیعت کرنے کے لیے گھر سے روانہ ہوا۔ راستے میں اُسے ایک گھوڑا سوار ملا۔ اُس نے قصدِ سفر پوچھا تو اُس شخص نے جواب دیا کہ میں حضرت خواجہ محمد زبیر کی خدمت میں بیعت ہونےکےلیےجا رہا ہوں۔گھوڑ سوار نیچے اُترا اور کہا کہ میں ہی خواجہ محمد زبیر ہوں۔ وہ شخص بہت خوش ہوا۔ اور درخواستِ بیعت کی۔ آپ نے اُسے داخل سلسلۂ عالیہ مجّددیہ کیا اور اجازت دے دی۔ اُس شخص نے سوچا کہ مَیں اب تو سرہند شریف کے نزدیک پہنچ گیا ہوں۔ لٰہذا کیوں نہ امام ربّانی حضرت مجدّد الف ثانی قدس سرہ کے روضۂ مقدس کی زیارت بھی کرتا جاؤں۔ جب سرہند شریف میں پہنچا تو دیکھا کہ وہاں لوگوں کا ایک بہت بڑا ہجوم تھا جو کسی کو دفن کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ جب اُس شخص نے دریافت کیا تو پتہ چلا کہ حضرت خواجہ زبیر وصال فرما گئے ہیں۔ جب اُس نے زیارت کی تو وہی شکل مبارک تھی جس نے اُسے راستے میں بیعت کیا تھا۔ایک شخص کابل سے آپ کی زیارت کے ارادہ سےروانہ ہوا۔ راستے میں اُسے ایک شیر ملا جسے دیکھ کر وہ بہت خوفزدہ ہوگیا۔ اُس شخص نے آپ کی طرف توجہ کی تو آپ فوراً تشریف لائے اور ایک پتھر اٹھا کر شیر پر پھینکا جس سے وہ لومڑی کی طرح دم دبا کر بھاگ گیا اور آپ بھی نظروں سے غائب ہوگئے۔(تاریخِ مشائخِ نقشبند:438)
تاریخِ وصال: آپ38برس مسند قیومیت پررونق افروز رہ کربروز بدھ،بوقتِ اشراق،4/ذی قعدہ 1152ھ مطابق 3/فروری1740ءکودہلی میں ہوا۔ آپ کی نعش مبارک سر ہند شریف لائی گئی۔ اور 11/ذیقعد بروز جمعرات شیخ سعدالدین کی حویلی میں جسے آپ نے شیخ موصوف کے بیٹے سے بعوض چار ہزار روپے خریدا تھا میں دفن کیے گئے۔ 1153ھ میں آپ کے مرقدِ انور پر ایک عالی شان روضہ تعمیر کیا گیا۔ جو رنگا رنگ کے نقش و نگار سے آراستہ کیاگیا تھا۔
ماخذومراجع: تاریخ مشائخِ نقشبند۔
جناب صابر براری نےخوب کہا:
قُطبِ دَوراں اور قیومِ زماں تھے بالیقیں ۔۔۔۔۔۔اہلِ بینش جانتے ہیں عظمتِ خواجہ زبیر
سالِ رحلت آپ کا یہ، آپ ہی کے فیض سے۔۔۔۔کہیے صابر ’’نُورِ عالم طلعتِ خواجہ زبیر‘‘
(1740ء)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-muhammad-zubair-sirhindi
scholars.pk
Hazrat Khawaja Muhammad Zubair Sarahandi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت خواجہ محمد زمان مخدوم اول رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسم گرامی: حضرت خواجہ محمد زماں۔لقب:مخدوم زماں،مخدوم اول،سلطان الاولیاء۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:حضرت خواجہ محمد زمان بن شیخ حاجی عبداللطیف نقشبندی بن شیخ طیب بن شیخ ابراہم بن شیخ عبدالواحد بن شیخ عبداللطیف بن شیخ احمد بن شیخ بقا بن شیخ محمد بن شیخ فقرا للہ بن شیخ عابد بن شیخ عبد اللہ بن شیخ طاؤس بن شیخ علی بن شیخ مصطفیٰ بن شیخ مالک بن شیخ محمد بن ابوالحسن بن محمد بن طیار بن عبدالباری بن عزیز بن فضل بن علی بن اسحاق بن ابراہیم ابوبکر بن قائم بن عقیق بن محمد بن عبدالرحمان بن امیرالمؤمنین حضرت ابوبکرصدیق۔رضی اللہ عنہم اجمعین۔آپ کاتعلق نسب نامہ کی ’’بکری شاخ‘‘سےہے۔جومؤرخین کےنزدیک سب سےصحیح ترین اور حضرت صدیق اکبرسےسب سےقریب ترین شاخ ہے۔آپکےاجدادبعہدخلیفہ ہارون الرشید786ء کےلگ بھگ ترک وطن کرکےسندھ تشریف لائے۔اس وقت سندھ میں عربوں کی حکومت تھی اس لئےیہاں اس خاندان کوبڑی عزت واحترام حاصل ملا۔یہ حضرات واقعہ کربلاکےبعد اس قدر محتاط ہوگئےکہ ہر قسم کےحکومتی عہدوں سےدور رہے۔سندھ میں یہ حضرات ٹھٹھ کےقریب ’’ننگر‘‘میں قیام پذیر ہوئے۔حضرت مخدوم کےتمام آباؤاجداد سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں بیعت وارشاد کاسلسلہ رکھتےتھے۔آپ کےوالد ِ گرامی شیخ حاجی عبداللطیف نقشبندیپہلےشخص ہیں،جنہوں نےسلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی اشاعت فرمائی۔(سندھ کےصوفیائے نقشبندجلد اول:305/تذکرہ اولیائے سندھ:282)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت21/رمضان المبارک1125ھ مطابق اکتوبر/1713ءکو’’لواری شریف‘‘ضلع بدین میں ہوئی۔آپ کا سن ولادت ’’من عبادنا المخلصین‘‘سے نکلتا ہے۔(تذکرہ اولیاء سندھ:282/سندھ کےصوفیائے نقشبند:315)
قبل از ولادت بشارتیں: آپ کی ولادت سےقبل بڑےبڑےمشائخ اور صوفیاء نےآپ کی تشریف آوری کی خوشخبریاں دی تھیں۔چنانچہ مخدوم آدم ٹھٹوینےفرمایاتھا:’’میرےاس ٹھٹہ کی اس خانقاہ میں ایک دن ایساآئے گا کہ یہاں ایک دیہاتی آکرتعلیم وتربیت حاصل کرےگا۔جس میں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی تمام لیاقتیں کمال کوپہنچی ہوئی ہونگی‘‘۔اسی طرح شیخ فیض اللہ (مخدوم آدم کےصاحبزادے)جب سرہندسےواپس آئےتومخدوم محمد زماں کےوالدکومخاطب کرکےفرمایا:’’جب ہم نےآپ کی سفارش خواجۂ سرہند حضرت امام ربانی سےکی تو وہاں سےآوازآئی کہ ہم ان کوبشارت دیتےہیں کہ ان کی پشت سےایک ایسافرزندپیداہوگا جس میں ہمارےسلسلہ کی تمام لیاقتیں اورنور موجود ہوگا۔اس کےعلاوہ خواجہ ابوالقاسم نقشبندینےبشارت دی تھی کہ ’’تمھارےہاں ایسا فرزند ہوگا جومرجع الخلائق ہوگا‘‘۔صاحبِ لطیفۃ التحقیق لکھتےہیں:جب غوث العالمین حضرت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی کالوری کی طرف سےگزرہواایک مقام پرآپ سواری سےنیچےتشریف لائے،اور پیدل چلنےلگے۔آپ کےمریدین نےاس کی وجہ دریافت کی توآپ نےفرمایا:’’اس جگہ پرآسمان سےانوار الہی کی بارش ہورہی ہے۔اسی وجہ سےمیں ادباً اترگیاہوں۔اسی جگہ حضرت مخدوم زماں کی ولادت باسعادت ہوئی‘‘۔(سندھ کےصوفیائےنقشبند:314/315)
تحصیلِ علم:بچپن میں اپنےوالدِ گرامی سےقرآن مجید مکمل کیا۔والدصاحب سےمزیدتحصیل علم کاشوق تھا،اور ان کی زیادہ توجہ نےبھائیوں کوحسد میں مبتلاکردیا۔مجبوراً گھرچھوڑنا پڑا۔’’ننگر ٹھٹے‘‘میں مولانا محمد صادق جیسےفاضل متبحرکےمدرسےمیں داخل ہوکرحصولِ علم میں مشغول ہوگئے۔اپنی ذکاوت وذہانت کےباعث اپنےہم سبق ساتھیوں سےسبقت لےگئے۔آپ نےبہت جلد عربی زبان اور دیگر علوم دینیہ پرعبورحاصل کرلیا۔(ایضا:316)
نام ونسب:
اسم گرامی: حضرت خواجہ محمد زماں۔لقب:مخدوم زماں،مخدوم اول،سلطان الاولیاء۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:حضرت خواجہ محمد زمان بن شیخ حاجی عبداللطیف نقشبندی بن شیخ طیب بن شیخ ابراہم بن شیخ عبدالواحد بن شیخ عبداللطیف بن شیخ احمد بن شیخ بقا بن شیخ محمد بن شیخ فقرا للہ بن شیخ عابد بن شیخ عبد اللہ بن شیخ طاؤس بن شیخ علی بن شیخ مصطفیٰ بن شیخ مالک بن شیخ محمد بن ابوالحسن بن محمد بن طیار بن عبدالباری بن عزیز بن فضل بن علی بن اسحاق بن ابراہیم ابوبکر بن قائم بن عقیق بن محمد بن عبدالرحمان بن امیرالمؤمنین حضرت ابوبکرصدیق۔رضی اللہ عنہم اجمعین۔آپ کاتعلق نسب نامہ کی ’’بکری شاخ‘‘سےہے۔جومؤرخین کےنزدیک سب سےصحیح ترین اور حضرت صدیق اکبرسےسب سےقریب ترین شاخ ہے۔آپکےاجدادبعہدخلیفہ ہارون الرشید786ء کےلگ بھگ ترک وطن کرکےسندھ تشریف لائے۔اس وقت سندھ میں عربوں کی حکومت تھی اس لئےیہاں اس خاندان کوبڑی عزت واحترام حاصل ملا۔یہ حضرات واقعہ کربلاکےبعد اس قدر محتاط ہوگئےکہ ہر قسم کےحکومتی عہدوں سےدور رہے۔سندھ میں یہ حضرات ٹھٹھ کےقریب ’’ننگر‘‘میں قیام پذیر ہوئے۔حضرت مخدوم کےتمام آباؤاجداد سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں بیعت وارشاد کاسلسلہ رکھتےتھے۔آپ کےوالد ِ گرامی شیخ حاجی عبداللطیف نقشبندیپہلےشخص ہیں،جنہوں نےسلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی اشاعت فرمائی۔(سندھ کےصوفیائے نقشبندجلد اول:305/تذکرہ اولیائے سندھ:282)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت21/رمضان المبارک1125ھ مطابق اکتوبر/1713ءکو’’لواری شریف‘‘ضلع بدین میں ہوئی۔آپ کا سن ولادت ’’من عبادنا المخلصین‘‘سے نکلتا ہے۔(تذکرہ اولیاء سندھ:282/سندھ کےصوفیائے نقشبند:315)
قبل از ولادت بشارتیں: آپ کی ولادت سےقبل بڑےبڑےمشائخ اور صوفیاء نےآپ کی تشریف آوری کی خوشخبریاں دی تھیں۔چنانچہ مخدوم آدم ٹھٹوینےفرمایاتھا:’’میرےاس ٹھٹہ کی اس خانقاہ میں ایک دن ایساآئے گا کہ یہاں ایک دیہاتی آکرتعلیم وتربیت حاصل کرےگا۔جس میں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی تمام لیاقتیں کمال کوپہنچی ہوئی ہونگی‘‘۔اسی طرح شیخ فیض اللہ (مخدوم آدم کےصاحبزادے)جب سرہندسےواپس آئےتومخدوم محمد زماں کےوالدکومخاطب کرکےفرمایا:’’جب ہم نےآپ کی سفارش خواجۂ سرہند حضرت امام ربانی سےکی تو وہاں سےآوازآئی کہ ہم ان کوبشارت دیتےہیں کہ ان کی پشت سےایک ایسافرزندپیداہوگا جس میں ہمارےسلسلہ کی تمام لیاقتیں اورنور موجود ہوگا۔اس کےعلاوہ خواجہ ابوالقاسم نقشبندینےبشارت دی تھی کہ ’’تمھارےہاں ایسا فرزند ہوگا جومرجع الخلائق ہوگا‘‘۔صاحبِ لطیفۃ التحقیق لکھتےہیں:جب غوث العالمین حضرت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی کالوری کی طرف سےگزرہواایک مقام پرآپ سواری سےنیچےتشریف لائے،اور پیدل چلنےلگے۔آپ کےمریدین نےاس کی وجہ دریافت کی توآپ نےفرمایا:’’اس جگہ پرآسمان سےانوار الہی کی بارش ہورہی ہے۔اسی وجہ سےمیں ادباً اترگیاہوں۔اسی جگہ حضرت مخدوم زماں کی ولادت باسعادت ہوئی‘‘۔(سندھ کےصوفیائےنقشبند:314/315)
تحصیلِ علم:بچپن میں اپنےوالدِ گرامی سےقرآن مجید مکمل کیا۔والدصاحب سےمزیدتحصیل علم کاشوق تھا،اور ان کی زیادہ توجہ نےبھائیوں کوحسد میں مبتلاکردیا۔مجبوراً گھرچھوڑنا پڑا۔’’ننگر ٹھٹے‘‘میں مولانا محمد صادق جیسےفاضل متبحرکےمدرسےمیں داخل ہوکرحصولِ علم میں مشغول ہوگئے۔اپنی ذکاوت وذہانت کےباعث اپنےہم سبق ساتھیوں سےسبقت لےگئے۔آپ نےبہت جلد عربی زبان اور دیگر علوم دینیہ پرعبورحاصل کرلیا۔(ایضا:316)
❤3
بیعت وخلافت:آپسلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ ابوالمساکین محمدٹھٹویکےدستِ بیعت ہوئے،انہوں نے دیکھتےہی پہچان لیا کہ یہ وہی مردِ خدا ہےجس کی بشارت حضرت مجددنےدی تھی،اوران کی پیش گوئی میرےمرشدحضرت شیخ ابوالقاسم نقشبندینےفرمائی تھی۔وہ آپ پرخصوصی توجہ دینےلگے۔قلیل مدت میں ریاضات ومجاہدات کےبعدحضرت خواجہ ابوالمساکیننےاپنےمریدین متوسلین اور عوام وخواص میں اس طرح اعلان فرمایا:’’کہ مخدوم زماں کو اپنی مسندپربٹھایا اپنی دستار ان کےسرپررکھی،اوران کےپاپوش اپنےہاتھ سےدرست کرکےسب کوحکم دیاکہ ان کےقدموں میں جھک کر ان سےبیعت کریں،آج کےبعد یہی تمھارے مرشد ہیں،جوہماراہےوہ ان سےانحراف نہیں کرےگا۔پھر فرمایا: واللہ!اس وقت قطبِ وقت ،اور قطب ارشاد یہ ہیں۔اس وقت روئے زمین پرکوئی ولی ان جیسانہیں۔پھر حضرت خواجہ ابوالمساکین تمام امور آپ کےسپرد کرکےخود عزلت نشین ہوگئے‘‘۔(سندھ کےصوفیائےنقشبند:317)
سیرت وخصائص:جامع کمالاتِ علمیہ وعملیہ،صاحبِ اوصافِ کثیرہ،مخدومِ جہاں حضرت خواجہ محمد زماں مخدوم اول۔آپمادرزاد ولی کامل تھے۔آپ کی ولادت سےقبل اولیاء وصوفیاء نےبشارتیں دیں۔آپ کاخاندان علم وفضل زہدوتقویٰ میں مرجعِ خلائق تھا۔بڑےبڑےصوفیاء واولیاء اس خاندان میں گزرےہیں،لیکن حضرت مخدوم ِ زماں خواجہ محمد زماں جیسا صاحبِ فضل پیدانہیں ہوا۔آپکی ذات شریعت وطریقت کےتمام فضائل وکمالات سےمزین تھی۔آپ کی زبان سےکبھی کوئی ناشائستہ لفظ نہیں نکلا۔شریعتِ محمدیہ پراستقامت سےعمل پیراتھے۔کبھی اہل دنیا سےکوئی غرض وابستہ نہیں کی۔بلکہ آپ اکثر فرمایا کرتےتھے:’’کہ ہم ان پیروں میں سےنہیں ہیں جومریدوں کےدروازوں سےخیرات مانگتےہیں‘‘۔استغنااوربےنیازی کایہ عالم تھاکہ کبھی کسی سےکوئی سوال نہیں کیا۔ایک مرتبہ وقت کےحکمران میاں غلام علی شاہ کلہوڑونےبڑی منت وسماجت کرکےجاگیریں خانقاہ کےلئے پیش کیں تو وہ بھی قبول کرنےسےانکار کردیا اور فرمایایا:’’جودنیاوی بادشاہ کادوست ہوتا ہےوہ مستغنی عن الرزق ہوتاہے۔پھرجواحکم الحاکمین جل جلالہ کادست ہووہ بھلاکب محتاج اور مسکین رہ سکتاہے۔بلکہ وہ تو ایسا شہنشاہ ہوتاہے کہ غلام شاہ جیسےسینکڑوں حاکم اس کےغلام ہوتےہیں‘‘۔(ایضا:325)
اللہ کی ذات پر ایساکامل توکل تھاکہ روزانہ سینکڑوں آدمی اور بعض مرتبہ یہ تعداد ہزاروں تک جاپہنچتی آپ کےلنگرسےفیض یاب ہوتےتھے۔کبھی کسی سےکچھ نہیں مانگا۔بلکہ یہ فرمایا کرتےتھے:’’ہمیں کسی چیز کی احتیاج نہیں،ہمارارب نہ صرف ہمیں بلکہ ہمارےمتوسلین کورزق پہنچارہاہے۔اللہ جل شانہ نےخزانوں کی چابیاں ہمارےہاتھ میں دیدیں،اگر ہم چاہیں توعمدہ عمدہ کھانےپکواکر لنگر میں کھلائیں لیکن اس میں تصنع کاخوف ہے،اس سےاجتناب کرتےہوئے ہم روکھی سوکھی پراکتفاء کرتےہیں‘‘۔(ایضا:326)
اللہ جل شانہ نےآپ کوتمام اعلیٰ اوصاف اور اخلاقِ محمدیﷺسےوافر حصہ عطاء کیا تھا۔ایک حجام بڑا دیہاتی اور اجڈقسم کاآدمی تھا۔وہ آپ کےناخن اور بال تراشتےوقت انگلیاں زخمی کردیتاتھااورکبھی سرپربھی کٹ لگابیٹھتاتھا۔مریدین نےعرض کیا کہ اس ظالم کونکال کرکسی اورکوبُلائیں۔لیکن آپ ہربار منع کرتےاور فرماتے:’’یہ بیچارہ کئی سال سےہماری خدمت کررہاہے۔اب اس کونکال کرکسی اور حجام کورکھنا بےمروتی ہوگی اور یہ آیت تلاوت کرتےتھے:والسابقون السابقون ۔اولئک ھم المقربون۔یعنی جنہوں نےپہل کی ہے وہ ہی مقرب ہے‘‘۔سندھ کےمشہور صوفی شاعر حضرت شاہ عبداللطیف آپ سےبڑی عقیدت رکھتےتھے۔جب ملاقات کےلئےتشریف لےگئےتواتنےمتأثر ہوئے کہ کہنےلگےمیری خواہش ہےکہ میں آپ کامریدہوجاؤں۔اس کےبعد بہت دیرتک اسرا ر ومعارف کی باتیں ہوتی رہیں ۔جب شاہ صاحب نےجانےکےلئےاجازت طلب کی تو آپ نےانہیں ’’خلافت کی چادر‘‘پہنائی اور اور الوداع کیا۔وہ چادر شاہ صاحب کو اس قدر محبوب تھی کہ انہوں نےوصیت فرمائی کہ جب میں مرجاؤں یہ چادر میرےکفن کےساتھ بطورتبرک رکھ دینا۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔(ایضا:324) آپ مریدین کی دینی اور روحانی تربیت کا خاص خیال رکھتے تھے، موسم گرما میں صبح کے حلقہ کے بعد دالان میں تشریف فرما ہوتے، لوگ کھچا کھچ بھر جاتے، پھرآپ اور آپ کے مرید مراقبے میں مشغول ہوجاتے اور محویت کا یہ عالم ہوتا کہ ان حضرات کا دھوپ کی سخت تمازت بھی استغراق کی کیفیت سے واپس نہیں لاسکتی تھی، جب لوگ چاشت کے وقت مراقبہ ختم کرتے تو زمین پسینہ سے تر ہوتی تھی، آپ کی خانقاہ میں شب بیداری کا خاص اہتمام تھا اس کے لیے ایک شخص مقرر تھا جو لوگوں کو عبادت کے لیے بیدار کرتا تھا۔(تذکرہ اولیائےسندھ:283)
سیرت وخصائص:جامع کمالاتِ علمیہ وعملیہ،صاحبِ اوصافِ کثیرہ،مخدومِ جہاں حضرت خواجہ محمد زماں مخدوم اول۔آپمادرزاد ولی کامل تھے۔آپ کی ولادت سےقبل اولیاء وصوفیاء نےبشارتیں دیں۔آپ کاخاندان علم وفضل زہدوتقویٰ میں مرجعِ خلائق تھا۔بڑےبڑےصوفیاء واولیاء اس خاندان میں گزرےہیں،لیکن حضرت مخدوم ِ زماں خواجہ محمد زماں جیسا صاحبِ فضل پیدانہیں ہوا۔آپکی ذات شریعت وطریقت کےتمام فضائل وکمالات سےمزین تھی۔آپ کی زبان سےکبھی کوئی ناشائستہ لفظ نہیں نکلا۔شریعتِ محمدیہ پراستقامت سےعمل پیراتھے۔کبھی اہل دنیا سےکوئی غرض وابستہ نہیں کی۔بلکہ آپ اکثر فرمایا کرتےتھے:’’کہ ہم ان پیروں میں سےنہیں ہیں جومریدوں کےدروازوں سےخیرات مانگتےہیں‘‘۔استغنااوربےنیازی کایہ عالم تھاکہ کبھی کسی سےکوئی سوال نہیں کیا۔ایک مرتبہ وقت کےحکمران میاں غلام علی شاہ کلہوڑونےبڑی منت وسماجت کرکےجاگیریں خانقاہ کےلئے پیش کیں تو وہ بھی قبول کرنےسےانکار کردیا اور فرمایایا:’’جودنیاوی بادشاہ کادوست ہوتا ہےوہ مستغنی عن الرزق ہوتاہے۔پھرجواحکم الحاکمین جل جلالہ کادست ہووہ بھلاکب محتاج اور مسکین رہ سکتاہے۔بلکہ وہ تو ایسا شہنشاہ ہوتاہے کہ غلام شاہ جیسےسینکڑوں حاکم اس کےغلام ہوتےہیں‘‘۔(ایضا:325)
اللہ کی ذات پر ایساکامل توکل تھاکہ روزانہ سینکڑوں آدمی اور بعض مرتبہ یہ تعداد ہزاروں تک جاپہنچتی آپ کےلنگرسےفیض یاب ہوتےتھے۔کبھی کسی سےکچھ نہیں مانگا۔بلکہ یہ فرمایا کرتےتھے:’’ہمیں کسی چیز کی احتیاج نہیں،ہمارارب نہ صرف ہمیں بلکہ ہمارےمتوسلین کورزق پہنچارہاہے۔اللہ جل شانہ نےخزانوں کی چابیاں ہمارےہاتھ میں دیدیں،اگر ہم چاہیں توعمدہ عمدہ کھانےپکواکر لنگر میں کھلائیں لیکن اس میں تصنع کاخوف ہے،اس سےاجتناب کرتےہوئے ہم روکھی سوکھی پراکتفاء کرتےہیں‘‘۔(ایضا:326)
اللہ جل شانہ نےآپ کوتمام اعلیٰ اوصاف اور اخلاقِ محمدیﷺسےوافر حصہ عطاء کیا تھا۔ایک حجام بڑا دیہاتی اور اجڈقسم کاآدمی تھا۔وہ آپ کےناخن اور بال تراشتےوقت انگلیاں زخمی کردیتاتھااورکبھی سرپربھی کٹ لگابیٹھتاتھا۔مریدین نےعرض کیا کہ اس ظالم کونکال کرکسی اورکوبُلائیں۔لیکن آپ ہربار منع کرتےاور فرماتے:’’یہ بیچارہ کئی سال سےہماری خدمت کررہاہے۔اب اس کونکال کرکسی اور حجام کورکھنا بےمروتی ہوگی اور یہ آیت تلاوت کرتےتھے:والسابقون السابقون ۔اولئک ھم المقربون۔یعنی جنہوں نےپہل کی ہے وہ ہی مقرب ہے‘‘۔سندھ کےمشہور صوفی شاعر حضرت شاہ عبداللطیف آپ سےبڑی عقیدت رکھتےتھے۔جب ملاقات کےلئےتشریف لےگئےتواتنےمتأثر ہوئے کہ کہنےلگےمیری خواہش ہےکہ میں آپ کامریدہوجاؤں۔اس کےبعد بہت دیرتک اسرا ر ومعارف کی باتیں ہوتی رہیں ۔جب شاہ صاحب نےجانےکےلئےاجازت طلب کی تو آپ نےانہیں ’’خلافت کی چادر‘‘پہنائی اور اور الوداع کیا۔وہ چادر شاہ صاحب کو اس قدر محبوب تھی کہ انہوں نےوصیت فرمائی کہ جب میں مرجاؤں یہ چادر میرےکفن کےساتھ بطورتبرک رکھ دینا۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔(ایضا:324) آپ مریدین کی دینی اور روحانی تربیت کا خاص خیال رکھتے تھے، موسم گرما میں صبح کے حلقہ کے بعد دالان میں تشریف فرما ہوتے، لوگ کھچا کھچ بھر جاتے، پھرآپ اور آپ کے مرید مراقبے میں مشغول ہوجاتے اور محویت کا یہ عالم ہوتا کہ ان حضرات کا دھوپ کی سخت تمازت بھی استغراق کی کیفیت سے واپس نہیں لاسکتی تھی، جب لوگ چاشت کے وقت مراقبہ ختم کرتے تو زمین پسینہ سے تر ہوتی تھی، آپ کی خانقاہ میں شب بیداری کا خاص اہتمام تھا اس کے لیے ایک شخص مقرر تھا جو لوگوں کو عبادت کے لیے بیدار کرتا تھا۔(تذکرہ اولیائےسندھ:283)
❤1
حضرت مخدوم اتباع شریعت کا خاص طور پر خیال رکھتے تھے۔ اور مریدوں کی تربیت میں بھی ہمیشہ اس کی کوشش فرماتے کہ احکام شریعت پر اور سنت نبوی پر پورا پورا عمل کیا جائے۔ایک دفعہ حافظ صدالدین سے مخدوم کی وفات کےبعد کسی نے آپ کے اوصاف کے متعلق پوچھا۔ فرمایاکیا پو چھتے ہو،حضرت مخدوم تو اتباع رسول اکرمﷺ کا مجسم پیکر تھے اور آپ کے مرید بھی اتباع رسول اکرمﷺ میں آپ کے نقش قدر پر تھے۔پھر اس کے بعد فرمایا : جب آپ بیت الخلاء کے لیے تشریف لے جاتے تو میں آپ کے ساتھ جاتا۔ اتفاقاً ایک دفعہ راستہ میں ایک پیسہ پڑا ہوا تھا۔ میں نے چاہا کہ اس کو اٹھا لوں،آپ نے مجھے منع فرمایا۔ میں نے عرض کیا کہ اس کے اٹھالینے میں کیا حرج ہے۔ فقہاء کا فتویٰ تو یہ ہے کہ اگر پڑی ہوئی چیز کا مالک نہ ملا تو میں خیرات کروں گا۔فرمایا یہ صحیح ہے لیکن اس کا اٹھانا خلاف ِمستحب ہے۔ آج ترک مستحب کروگے،کل ترک سنت پر آمادہ ہوجاؤگے۔اس کے بعد ترک فرض کی نوبت آئے گی اور ترک فرض بعض مرتبہ انسان کو کفر تک پہنچا دیتا ہے۔(ایضا:284)
آپہرقسم کی شہرت اور دکھاوےکےلئے’’اظہارِ کرامت‘‘کوبراسمجھتےتھے۔ایک دن ایک شخص نےآپ سےذکرکیا کہ شاہ عبدالکریم بلڑی والے(جدامجدحضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی)ایک دفعہ درویشوں کولےکردریاسےاوپرچلتےہوئےہوئےدوسرےکنارےپہنچ گئےاور کسی کاکپڑابھی گیِلانہیں ہوا۔آپ نےفرمایا:’’کرامت کادن ابھی آگےہے۔مَردوں کی مردانگی کاکل قیامت کےدن پتہ چلےگاکہ اپنی جماعت کوسلامتی کےساتھ دارلسلام (جنت) تک کون پہنچاتاہے‘‘۔(سندھ کےصوفیاءنقشبند:327)
تاریخِ وصال:آپ کاوصال 4/ذی قعدہ 1188ھ مطابق جنوری/1775ءکوبوقتِ چاشت ہوا۔جس حجرےمیں آپ مدفوں ہیں اس کےمتعلق بشارت دیتےہوئےفرمایا:’’اس حجرےکےاردگردجوبھی مدفون ہیں وہ سب مرحوم ہیں۔اس حجرے کی خاک اگرکسی قبر میں رکھ دی جائے تواس کی نجات کی امید رکھنا۔یہاں سعادت مندکوہی بھیجاجائےگا۔ جوایک بار ہمارے پاس یہاں آئےگاہم اس کا ہاتھ نہیں چھوڑیں گے‘‘ ۔ (سندھ کے صوفیائے نقشبند جلد اول ص:332) محبوب الصمد حضرت خواجہ گل محمد آپ کےسجادہ نشین ہوئے۔مزارپرانوارلواری شریف ضلع بدین میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ و مراجع:
سندھ کےصوفیائے نقشبند جلد اول ۔ تذکرہ اولیاء سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhammad-zaman-awwal-makhdoom
آپہرقسم کی شہرت اور دکھاوےکےلئے’’اظہارِ کرامت‘‘کوبراسمجھتےتھے۔ایک دن ایک شخص نےآپ سےذکرکیا کہ شاہ عبدالکریم بلڑی والے(جدامجدحضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی)ایک دفعہ درویشوں کولےکردریاسےاوپرچلتےہوئےہوئےدوسرےکنارےپہنچ گئےاور کسی کاکپڑابھی گیِلانہیں ہوا۔آپ نےفرمایا:’’کرامت کادن ابھی آگےہے۔مَردوں کی مردانگی کاکل قیامت کےدن پتہ چلےگاکہ اپنی جماعت کوسلامتی کےساتھ دارلسلام (جنت) تک کون پہنچاتاہے‘‘۔(سندھ کےصوفیاءنقشبند:327)
تاریخِ وصال:آپ کاوصال 4/ذی قعدہ 1188ھ مطابق جنوری/1775ءکوبوقتِ چاشت ہوا۔جس حجرےمیں آپ مدفوں ہیں اس کےمتعلق بشارت دیتےہوئےفرمایا:’’اس حجرےکےاردگردجوبھی مدفون ہیں وہ سب مرحوم ہیں۔اس حجرے کی خاک اگرکسی قبر میں رکھ دی جائے تواس کی نجات کی امید رکھنا۔یہاں سعادت مندکوہی بھیجاجائےگا۔ جوایک بار ہمارے پاس یہاں آئےگاہم اس کا ہاتھ نہیں چھوڑیں گے‘‘ ۔ (سندھ کے صوفیائے نقشبند جلد اول ص:332) محبوب الصمد حضرت خواجہ گل محمد آپ کےسجادہ نشین ہوئے۔مزارپرانوارلواری شریف ضلع بدین میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ و مراجع:
سندھ کےصوفیائے نقشبند جلد اول ۔ تذکرہ اولیاء سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhammad-zaman-awwal-makhdoom
scholars.pk
Hazrat Muhammad Zaman Awwal Makhdoom
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
امام المناطقہ، ملک المدرسین، علامہ عطاء محمد بندیالوی علیہ الرحمہ
نام ونسب:
اسمِ گرامی:عطاء محمد۔کنیت:ابوالفداء۔لقب۔بندیالوی،چشتی،گولڑوی۔سلسلہ نسب اسطرح ہے:علامہ عطاء محمد بندیالوی بن اللہ بخش بن غلام محمدبن محمد چراغ بن خدابخش بن بصارت بن دلیل بن خدایار(الیٰ اخرہ)۔ آپ کاسلسلہ نسب حضرت محمد بن حنفیہ کے ذریعے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے۔
تاریخِ ولادت:
آپ 1334ھ بمطابق 1916ء کو"ڈھوک دھمن "نزدقصبہ پدھراڑ،ضلع خوشاب ،پنجاب(پاکستان) میں پیداہوئے۔آپ کاتعلق اعوان برادری سےتھا۔
تحصیلِ علم:
آپ نے حفظِ قرآن مجید اور فارسی کی ابتدائی کتب موضع "و سنال" ضلع جہلم میں حافظ الٰہی بخش اور قاضی محمد بشیر سے پڑھیں۔ 1932ء میں آپ بندیال ضلع سرگودھا تشریف لے گئے۔ ان دنوں بندیال میں فقیہ العصر استاذالعلماء حضرت مولانا یار محمد رحمہ اللہ نے علوم و فنون کا فیض جاری کیا ہوا تھا، چنانچہ آپ نے بھی اس فیض سے بہرور ہونا شروع کردیا اور فارسی کی بقیہ کتب صرف و نحو کی تمام کتب، اصول فقہ سے حسامی اور منطق سے قطبی وغیرہ پڑھیں۔ اس کے بعد دو سال چھ ماہ کا عرصہ جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور میں گزارا اور حضرت استاذالعلماء مولانا مہر محمد اچھروی سے معقول اور فنونِ عالیہ کی تمام کتب کا درس لیا۔ چھ ماہ "انہی"ضلع گجرات رہے اور پھر پپلاں ضلع میانوالی میں مولانا غلام محمود (مصنف تحفہ سلیمانی)سے تصریح، شرح چغمینی اور رسائل ربع مجیب وغیرہ کتب پڑھ کر علوم و فنون کی تکمیل کی۔اسی طرح آپ نے حضرت علامہ مولانا محب النبی چشتی گولڑوی ،مولانا امیرمحمد اور حضرت علامہ ولی اللہ (انہی ضلع گجرات) سے بھی علمی استفادہ فرمایا۔
بیعت وخلافت:
آپ تاجدارِ گولڑہ ،محافظِ ختمِ نبوت سیدناپیرمہرِ علی شاہ رحمۃ اللہ کے دستِ حق پرست پر زمانہِ طالبِ علمی میں بیعت ہوئے۔آپ کے وصال کے بعد آپ کے جانشینِ برحق حضرت شاہ محی الدین گولڑوی گیلانی المعروف قبلہ بابو جی رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے۔
سیرت وخصائص:
ملک العلماء، امام المناطقہ، بحرالعلوم، استاذالکل، جامع المنقولِ والمعقول، صدرالمدرسین، خزینۂ علم وعرفاں، امام ِ علم وحکمت،سلسلۂ خیرآبادیت کے وارثِ کامل،پروردہ ٔنگاہ تاجدارِ گولڑہ،محسنِ اہلسنت،ملک المدرسین حضرت علامہ مولانا عطاءمحمد بندیالوی رحمۃ اللہ علیہ۔
سادہ لباس میں ملبوس ایک درویش سیرت،سیر چشم،غیور اور خموش طبع عالمِ دین ،مروجہ علوم وفنون میں کامل دستگاہ،معارفِ قرآن وسنت کی جلوہ گاہ،علمِ مناظرہ میں یکتا،منطق وفلسفہ کا امام،فقہ میں فقیہ العصر،فنِ حدیث میں وہ بصیرت کہ اسلاف محدثین تحسین فرمائیں۔علمِ ہیت میں وہ مہارت کہ ہیت کی ہیت سنور جائے۔ آپ کی علمی وتدریسی خدمات میں اللہ تعالیٰ نے جوقبولیت رکھی تھی اس کے پیشِ نظر کہا جاسکتا ہے کہ اسمِ بامسمیٰ عطائے محمد اور تحفۃ المصطفیٰ ﷺفی دیارِ پاکستان تھے۔علامہ عبدالحکیم شرف قادری فرماتے ہیں: کہ تدریس میں کئی سال کا ملکہ اور تجربہ ہونے کے باوجود آپ نے کبھی کوئی کتاب بغیر مطالعہ کیےنہیں پڑھائی۔اپنے تلامذہ کو بھی یہی نصیحت فرماتے تھے۔عشقِ رسولﷺمیں آپ کانگ انگ گندھاہواتھا۔آپ تمام عقلی ونقلی علوم کوعشقِ رسولﷺکےنمونہ میں دیکھتے تھے۔تدریس کایہ عالم تھا کہ یوں محسوس ہوتاتھا مصنف خود پڑھارہے ہیں بلکہ وہ بھی آفریں کہیں۔(مقدمہ قوالی کی شرعی حیثیت)۔حضرت استاذالعلماء ملک المدرسین رحمۃ اللہ علیہ اس قحط الرجال کےزمانہ میں یادگارِ اسلاف ،اور اہلسنت وجماعت کیلئے اللہ تعالیٰ کی نعمت تھے۔اس وقت اہلِ سنت کے مدارس میں قابل مدرسین ومصنفین میں سے اکثرآپ کے تلامذہ یاتلامذہ کے تلامذہ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آپ کی محنت اورخلوص سے حضرت محدثِ اعظم پاکستان علیہ الرحمہ بہت خوش ہوتے تھے،اور آپ کوقدرکی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
نام ونسب:
اسمِ گرامی:عطاء محمد۔کنیت:ابوالفداء۔لقب۔بندیالوی،چشتی،گولڑوی۔سلسلہ نسب اسطرح ہے:علامہ عطاء محمد بندیالوی بن اللہ بخش بن غلام محمدبن محمد چراغ بن خدابخش بن بصارت بن دلیل بن خدایار(الیٰ اخرہ)۔ آپ کاسلسلہ نسب حضرت محمد بن حنفیہ کے ذریعے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے۔
تاریخِ ولادت:
آپ 1334ھ بمطابق 1916ء کو"ڈھوک دھمن "نزدقصبہ پدھراڑ،ضلع خوشاب ،پنجاب(پاکستان) میں پیداہوئے۔آپ کاتعلق اعوان برادری سےتھا۔
تحصیلِ علم:
آپ نے حفظِ قرآن مجید اور فارسی کی ابتدائی کتب موضع "و سنال" ضلع جہلم میں حافظ الٰہی بخش اور قاضی محمد بشیر سے پڑھیں۔ 1932ء میں آپ بندیال ضلع سرگودھا تشریف لے گئے۔ ان دنوں بندیال میں فقیہ العصر استاذالعلماء حضرت مولانا یار محمد رحمہ اللہ نے علوم و فنون کا فیض جاری کیا ہوا تھا، چنانچہ آپ نے بھی اس فیض سے بہرور ہونا شروع کردیا اور فارسی کی بقیہ کتب صرف و نحو کی تمام کتب، اصول فقہ سے حسامی اور منطق سے قطبی وغیرہ پڑھیں۔ اس کے بعد دو سال چھ ماہ کا عرصہ جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور میں گزارا اور حضرت استاذالعلماء مولانا مہر محمد اچھروی سے معقول اور فنونِ عالیہ کی تمام کتب کا درس لیا۔ چھ ماہ "انہی"ضلع گجرات رہے اور پھر پپلاں ضلع میانوالی میں مولانا غلام محمود (مصنف تحفہ سلیمانی)سے تصریح، شرح چغمینی اور رسائل ربع مجیب وغیرہ کتب پڑھ کر علوم و فنون کی تکمیل کی۔اسی طرح آپ نے حضرت علامہ مولانا محب النبی چشتی گولڑوی ،مولانا امیرمحمد اور حضرت علامہ ولی اللہ (انہی ضلع گجرات) سے بھی علمی استفادہ فرمایا۔
بیعت وخلافت:
آپ تاجدارِ گولڑہ ،محافظِ ختمِ نبوت سیدناپیرمہرِ علی شاہ رحمۃ اللہ کے دستِ حق پرست پر زمانہِ طالبِ علمی میں بیعت ہوئے۔آپ کے وصال کے بعد آپ کے جانشینِ برحق حضرت شاہ محی الدین گولڑوی گیلانی المعروف قبلہ بابو جی رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے۔
سیرت وخصائص:
ملک العلماء، امام المناطقہ، بحرالعلوم، استاذالکل، جامع المنقولِ والمعقول، صدرالمدرسین، خزینۂ علم وعرفاں، امام ِ علم وحکمت،سلسلۂ خیرآبادیت کے وارثِ کامل،پروردہ ٔنگاہ تاجدارِ گولڑہ،محسنِ اہلسنت،ملک المدرسین حضرت علامہ مولانا عطاءمحمد بندیالوی رحمۃ اللہ علیہ۔
سادہ لباس میں ملبوس ایک درویش سیرت،سیر چشم،غیور اور خموش طبع عالمِ دین ،مروجہ علوم وفنون میں کامل دستگاہ،معارفِ قرآن وسنت کی جلوہ گاہ،علمِ مناظرہ میں یکتا،منطق وفلسفہ کا امام،فقہ میں فقیہ العصر،فنِ حدیث میں وہ بصیرت کہ اسلاف محدثین تحسین فرمائیں۔علمِ ہیت میں وہ مہارت کہ ہیت کی ہیت سنور جائے۔ آپ کی علمی وتدریسی خدمات میں اللہ تعالیٰ نے جوقبولیت رکھی تھی اس کے پیشِ نظر کہا جاسکتا ہے کہ اسمِ بامسمیٰ عطائے محمد اور تحفۃ المصطفیٰ ﷺفی دیارِ پاکستان تھے۔علامہ عبدالحکیم شرف قادری فرماتے ہیں: کہ تدریس میں کئی سال کا ملکہ اور تجربہ ہونے کے باوجود آپ نے کبھی کوئی کتاب بغیر مطالعہ کیےنہیں پڑھائی۔اپنے تلامذہ کو بھی یہی نصیحت فرماتے تھے۔عشقِ رسولﷺمیں آپ کانگ انگ گندھاہواتھا۔آپ تمام عقلی ونقلی علوم کوعشقِ رسولﷺکےنمونہ میں دیکھتے تھے۔تدریس کایہ عالم تھا کہ یوں محسوس ہوتاتھا مصنف خود پڑھارہے ہیں بلکہ وہ بھی آفریں کہیں۔(مقدمہ قوالی کی شرعی حیثیت)۔حضرت استاذالعلماء ملک المدرسین رحمۃ اللہ علیہ اس قحط الرجال کےزمانہ میں یادگارِ اسلاف ،اور اہلسنت وجماعت کیلئے اللہ تعالیٰ کی نعمت تھے۔اس وقت اہلِ سنت کے مدارس میں قابل مدرسین ومصنفین میں سے اکثرآپ کے تلامذہ یاتلامذہ کے تلامذہ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آپ کی محنت اورخلوص سے حضرت محدثِ اعظم پاکستان علیہ الرحمہ بہت خوش ہوتے تھے،اور آپ کوقدرکی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
❤1👍1