حضرت خواجہ عبدالرحمن سرہندی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسمِ گرامی: خواجہ عبدالرحمن سرہندی۔لقب:مجددی،سرہندی،قندھاری،ثم سندھی۔والد کا اسمِ گرامی: خواجہ عبدالقیوم سر ہندی تھا۔آپ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سر ہندی علیہ الرحمہ کے خانوادہ سےتعلق رکھنے والی وہ پہلی شخصیت ہیں جو سندھ آکر رہائش پذیر ہوئی اور جس سے مجددی سلسلہ کو سندھ میں فروغ حاصل ہوا ۔ آپ کا سلسلہ نسب صرف نو واسطوں سے حضرت امام ربانی سے اور اکتالیس واسطوں سے امیر المومنین خلیفہ المسلمین حضرت سید نا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔
تاریخِ ولادت: 1244ھ/بمطابق 1808ء ،کو احمد شاہی شہر (قندھار ، افغانستان ) میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم: آپ نے اپنے علاقہ کے مقتدر علماء بالخصوص ملا حبیب اللہ قندھاری(موٗ لف کتا ب مغتنم )سے علوم ظاہری کی تحصیل کی اور سترہ سال کی عمر تک تمام علوم متداولہ میں کامل دسترس حاصل کر لی ۔
بیعت و خلافت : علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد اپنے والد گرامی سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدد یہ میں بیعت ہو کر کما لات باطنی کی تحصیل کی۔ 1270ھ کو جب آپ کے والد ماجد انتقال فرما گئے تو آپ ان کی جگہ پر مسند نشین ہو گئے ۔
سیرت وخصائص: آپ حضور پر نور سید عالم ﷺ کے اخلاق و شمائل کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر دولت سے سر فراز فرمایا تھا آپ کے اندر غرور و تکبر کا شائبہ تک نہ تھا ، آپ کا طرز بودو باش انتہائی سادہ تھا ، مریدین جونذرانے پیش کرتے تھے وہ آپ اکثر فقراء میں تقسیم فرما دیا کرتے تھے ۔ دنیاوی ساز و سامان میں اگر کسی چیز کی طرف آپ کو رغبت تھی تو وہ عمدہ عمدہ دینی کتابیں تھیں ۔
سفر حرمین شریفین: آپ نے سات مرتبہ حرمین شریفین کا سفر اختیار فرمایا یعنی سات بار روضہ رسول مقبول ﷺ کی حاضری کی سعادت عظمیٰ حاصل کی۔ احترام سادات کرام : حضو ر پر نور ﷺ سے آپ کو عشق کی حد تک محبت تھی ۔ محبت خود آداب سکھا دیتی ہے۔ آپ نے اپنے محبوب نبی پاک ﷺ کا کس طرح ادب کیا اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہو سکتا ہے کہ ایک روز محمد یوسف صاحب نے حضرت سے دریافت کیا کہ بعض لوگ کہیں سے آئے ہیں اور اپنے آپ کو سید بتلاتے ہیں اب نہ معلوم وہ حقیقت میں سید بھی ہیں یا نہیں لہذا ان کی کیا تعظیم کریں ۔ آپ نے فرمایا :چونکہ آنحضرت ﷺ کانا م نامی اور اسم گرامی درمیان میں آگیا ہے ، لہذا اب ان کی تعظیم فرض ہو گئی ۔ اگر بالفرض وہ شخص سید ہوا تو وہ تعظیم کا حقدار ہے اس کی تعظیم ہو گئی اور اگر سید نہ ہوا تو کم ازکم نام کا ادب تو ہوگیا۔
حاضری مزارات اولیاء اللہ : اولیائے کرام اورصوفیائے کرام کے مزارات پر اکثر حاضری دیا کرتے تھے اور اس کے لئے دور دراز کی مسافتیں طے کیا کرتے تھے ۔ جب کسی ولی کے مزار شریف پر حاضر ہوتے تو وہاں کچھ عرصہ قیام فرما کر اچھی طرح اکتساب فیض فرمایا کرتے تھے ۔ اہل سنت و جماعت احناف کے اکابر علماء کرام کی اکثریت آپ سے بیعت و خلافت کا شرف رکھتی تھی۔
وصال:
حضرت خواجہ عبدالرحمن نے 2 ، ذوالقعدہ 1315ھ ؍ 1898 ء بروز جمعۃ المبارک ضحوہ کبریٰ کے وقت میں71سال کی عمر پاکر واصل بحق ہو گئے ۔ آپ کا مزار مبارک ٹنڈو سائینداد سے چندمیل کے فاصلہ پر اور ٹکھڑ سے جانب شمال ایک میل کی مسافت پر "کوہ گنجہ" کے دامن میں واقع ہے اور مقبرہ شریف کے نام سے مشہور ہے۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلِ سنت سندھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-abdul-rehman-sarhandi
نام ونسب: اسمِ گرامی: خواجہ عبدالرحمن سرہندی۔لقب:مجددی،سرہندی،قندھاری،ثم سندھی۔والد کا اسمِ گرامی: خواجہ عبدالقیوم سر ہندی تھا۔آپ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سر ہندی علیہ الرحمہ کے خانوادہ سےتعلق رکھنے والی وہ پہلی شخصیت ہیں جو سندھ آکر رہائش پذیر ہوئی اور جس سے مجددی سلسلہ کو سندھ میں فروغ حاصل ہوا ۔ آپ کا سلسلہ نسب صرف نو واسطوں سے حضرت امام ربانی سے اور اکتالیس واسطوں سے امیر المومنین خلیفہ المسلمین حضرت سید نا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔
تاریخِ ولادت: 1244ھ/بمطابق 1808ء ،کو احمد شاہی شہر (قندھار ، افغانستان ) میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم: آپ نے اپنے علاقہ کے مقتدر علماء بالخصوص ملا حبیب اللہ قندھاری(موٗ لف کتا ب مغتنم )سے علوم ظاہری کی تحصیل کی اور سترہ سال کی عمر تک تمام علوم متداولہ میں کامل دسترس حاصل کر لی ۔
بیعت و خلافت : علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد اپنے والد گرامی سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدد یہ میں بیعت ہو کر کما لات باطنی کی تحصیل کی۔ 1270ھ کو جب آپ کے والد ماجد انتقال فرما گئے تو آپ ان کی جگہ پر مسند نشین ہو گئے ۔
سیرت وخصائص: آپ حضور پر نور سید عالم ﷺ کے اخلاق و شمائل کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر دولت سے سر فراز فرمایا تھا آپ کے اندر غرور و تکبر کا شائبہ تک نہ تھا ، آپ کا طرز بودو باش انتہائی سادہ تھا ، مریدین جونذرانے پیش کرتے تھے وہ آپ اکثر فقراء میں تقسیم فرما دیا کرتے تھے ۔ دنیاوی ساز و سامان میں اگر کسی چیز کی طرف آپ کو رغبت تھی تو وہ عمدہ عمدہ دینی کتابیں تھیں ۔
سفر حرمین شریفین: آپ نے سات مرتبہ حرمین شریفین کا سفر اختیار فرمایا یعنی سات بار روضہ رسول مقبول ﷺ کی حاضری کی سعادت عظمیٰ حاصل کی۔ احترام سادات کرام : حضو ر پر نور ﷺ سے آپ کو عشق کی حد تک محبت تھی ۔ محبت خود آداب سکھا دیتی ہے۔ آپ نے اپنے محبوب نبی پاک ﷺ کا کس طرح ادب کیا اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہو سکتا ہے کہ ایک روز محمد یوسف صاحب نے حضرت سے دریافت کیا کہ بعض لوگ کہیں سے آئے ہیں اور اپنے آپ کو سید بتلاتے ہیں اب نہ معلوم وہ حقیقت میں سید بھی ہیں یا نہیں لہذا ان کی کیا تعظیم کریں ۔ آپ نے فرمایا :چونکہ آنحضرت ﷺ کانا م نامی اور اسم گرامی درمیان میں آگیا ہے ، لہذا اب ان کی تعظیم فرض ہو گئی ۔ اگر بالفرض وہ شخص سید ہوا تو وہ تعظیم کا حقدار ہے اس کی تعظیم ہو گئی اور اگر سید نہ ہوا تو کم ازکم نام کا ادب تو ہوگیا۔
حاضری مزارات اولیاء اللہ : اولیائے کرام اورصوفیائے کرام کے مزارات پر اکثر حاضری دیا کرتے تھے اور اس کے لئے دور دراز کی مسافتیں طے کیا کرتے تھے ۔ جب کسی ولی کے مزار شریف پر حاضر ہوتے تو وہاں کچھ عرصہ قیام فرما کر اچھی طرح اکتساب فیض فرمایا کرتے تھے ۔ اہل سنت و جماعت احناف کے اکابر علماء کرام کی اکثریت آپ سے بیعت و خلافت کا شرف رکھتی تھی۔
وصال:
حضرت خواجہ عبدالرحمن نے 2 ، ذوالقعدہ 1315ھ ؍ 1898 ء بروز جمعۃ المبارک ضحوہ کبریٰ کے وقت میں71سال کی عمر پاکر واصل بحق ہو گئے ۔ آپ کا مزار مبارک ٹنڈو سائینداد سے چندمیل کے فاصلہ پر اور ٹکھڑ سے جانب شمال ایک میل کی مسافت پر "کوہ گنجہ" کے دامن میں واقع ہے اور مقبرہ شریف کے نام سے مشہور ہے۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلِ سنت سندھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-abdul-rehman-sarhandi
scholars.pk
Hazrat Khawaja Abdul Rehman Sarhandi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت شیخ صفی الدین ابو الفتح اسحاق سہروردی اردبیلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مشائخ کبار اور اولیاء کرام میں صاحب کرامات عظیم مانے جاتے تھے۔ نفحات الانس میں لکھا ہے کہ شیخ نجیب الدین حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے بغداد کو روانہ ہونے لگے تو شیخ شمس الدین صفی بھی آپ کے ساتھ تھے شیخ شمس الدین نے آپ سے قرآن سیکھا۔ اور شیخ نجیب الدین نے بعض خصوصی مقامات عبور کیے اس طرح دونوں نے خرقہ خلافت بھی حاصل کیا۔ اور شیراز کی طرف روانہ ہوگئے۔
آپ کی وفات ۷۳۵ھ میں ہے۔
شیخ شمس الدین صفی موسوی
سال ترحیلش چو جستم از خرد
آل احمد بود اولاد علی
گفت ہاتف شمس دین کامل صفی
۷۳۵ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-safiuddin-bin-ishaq-ardabili
مشائخ کبار اور اولیاء کرام میں صاحب کرامات عظیم مانے جاتے تھے۔ نفحات الانس میں لکھا ہے کہ شیخ نجیب الدین حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے بغداد کو روانہ ہونے لگے تو شیخ شمس الدین صفی بھی آپ کے ساتھ تھے شیخ شمس الدین نے آپ سے قرآن سیکھا۔ اور شیخ نجیب الدین نے بعض خصوصی مقامات عبور کیے اس طرح دونوں نے خرقہ خلافت بھی حاصل کیا۔ اور شیراز کی طرف روانہ ہوگئے۔
آپ کی وفات ۷۳۵ھ میں ہے۔
شیخ شمس الدین صفی موسوی
سال ترحیلش چو جستم از خرد
آل احمد بود اولاد علی
گفت ہاتف شمس دین کامل صفی
۷۳۵ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-safiuddin-bin-ishaq-ardabili
scholars.pk
Hazrat Shah Safiuddin Bin Ishaq
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
ڈاکٹر سید حامد حسن بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا ڈاکٹر حامد حسن بلگرامی۔لقب:مفسرِ قرآن،جامع علوم جدیدہ وقدیمہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا ڈاکٹر سید حامد حسن بلگرامی بن سید محمود بلگرامی۔علیہماالرحمہ۔آپ کاآبائی علاقہ بلگرام (ہند)ہے۔یہی وجہ ہے کہ وطن کی نسبت نام کا جزو بن گئی۔آپ خاندانی طور پر زیدی واسطی سادات خاندان سےتعلق رکھتےتھے۔ساداتِ بلگرام کاسلسلۂ نسب حضرت امام زین العابدین تک منتہی ہوتا ہے ۔ اس خاندان میں بڑے بڑے اولیاءِ عظام، اور نامور علماء کرام پیدا ہوئےہیں۔میر سید عبدالواحد بلگرامی (صاحبِ سبع سنابل شریف) سلسلہ عالیہ چشتیہ کے بڑے عظیم بزرگ گزرے ہیں۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 5 رجب المرجب 1326ھ مطابق 2 اگست 1908ء کو بلگرام (ضلع ہردوئی، یوپی، ہند) میں ساداتِ کرام کے عظیم علمی وروحانی گھرانے میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی عمر میں والدین کا سایۂ شفقت سر سے اٹھ گیا۔یتیمی کے عالم میں تعلیمی سفر کا آغازکیا۔الہ آباد یونیورسٹی (انڈیا) سے بی۔اے۔ایم ۔ اےاردو کیا۔اس کے بعداسی درس گاہ سے اردو میں علامہ اقبال پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔علماء و مشائخ اہل سنت سے استفادہ اور مطالعہ کوتاحیات جاری رکھا اور جامعہ بہاولپور میں بھی علماء کی صحبت سے بہت کچھ حاصل کیا۔بالخصوص جامعہ اسلامیہ بہاول پورکےزمانےمیں حضرت غزالیِ زماں سید احمد سعید شاہ کاظمی اور شیخ العلماء حضرت علامہ مولانا سید محمد ہاشم فاضل شمسیسےخوب علمی استفادہ کیا۔
بیعت و خلافت:
آپ 1987ءکو سلسلہ عالیہ چشتیہ کےنامور صوفی بزرگ حضرت بابا عبید اللہ خان درانیسےبیعت ہوئے۔بابادرانی حضرت بابا تاج الدین ناگپوری اور ان کے خلیفہ و جیا نگرم یاوجےنگرم کے حضرت بابا قادر اولیاء سےصحبت یافتہ و فیض یافتہ اورکئی کتابوں کےمصنف تھے۔آپ نےاپنی تمام تصنیف و تالیف میں تصوف کا پیغام دیا ہے۔مثلاًکن فیکون،حیاتِ قادر،صبح اسلام،سالارِ زماں،رخسارِ دوست،بساط ِفقر،عاشق اور عارف وغیرہ۔ان تمام کتابوں کی اشاعت کا اعزاز ’’نشرح فاؤنڈیشن حسن اسکوائر کراچی‘‘نےحاصل کیا۔آپنے 1990ء میں انتقال کیا اور آخری آرام گاہ آستانہ قادرنگرضلع سوات بونیر(صوبہ سرحد)میں پیر بابا گاؤں سےپانچ کلومیٹردورپہاڑ وں میں واقع ہے۔(انوارعلمائےاہل سنت سندھ:203)
سیرت و خصائص:
جامع علوم قدیمہ وجدیدہ، مفسر قرآن، جامع کمالات علمیہ وعملیہ،حضرت علامہ مولانا پروفیسر ڈاکٹر سید حامد حسن بلگرامی۔آپ ایک علمی وروحانی خاندان کےچشم وچراغ تھے۔خاندان ساداتِ بلگرام کےعلمی وروحانی کمالات اور ان کی امانتوں کےوارثِ کامل تھے۔یتیمی میں پروان چڑھے محنت ِ شاقہ سےعلمی دنیامیں ایک مقام پیداکیا۔تمام زندگی فروغِ علم میں کوشاں رہے۔آپاخلاق کریمانہ اور دل ربا شخصیت کےحامل انسان تھے۔غرور،نخوت،اور عجب پسندی سےدور کا واسطہ بھی نہیں تھا۔علم وحکمت میں گہرائی اور معرفت وحقیقت کی وسعت حاصل تھی۔ان کےدل میں عشق مصطفیٰﷺکاچراغ روشن تھا۔جس کی وجہ سے انکی فکر ونظرسےعلم وحکمت کی شعائیں پھوٹتی تھیں۔آپکاسب سےبڑا احسان ترجمۂ وتفسیر’’ فیوض القرآن‘‘ہے۔جس سےمطالب قرآن تک قاری براہ راست عام فہم اور دلنشیں انداز میں رسائی حاصل کرسکتاہے۔یہ تفسیر جدید اذہان کےلئے مینارۂ نور ہے۔
درس و تدریس:
1937ء کو بھارت کی نامور درس گاہ ڈون پبلک اسکول ڈیرہ ڈون سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا۔ اس اسکول میں آپ واحد مسلمان استاد تھے ۔ 1948ء کو پاکستان تشریف لائے اور کچھ ہی روز قیام کے بعد اسی سال لندن یونیورسٹی لندن (برطانیہ) میں پاکستان کی زبان، تہذیب اورکلچر کے لیکچرار مقرر ہوئے اور پانچ سال بعد 1953ء میں وطن واپس آئے۔1960ء تک حکومت پاکستان کے تحت مرکزی پلاننگ بورڈ میں پہلے ڈپٹی چیف اور پھرسربراہ محکمہ تعلیمات کی حیثیت سے خدمات انجام دیں1960ء کو محکمہ اوقاف پنجاب کی جانب سے آئمہ و خطباء مساجد کی تربیت کیلئے’’علماء اکیڈمی‘‘ کا قیام عمل میں آیا جس میں آپ کو ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے بہاول پور کی’’جامعہ عباسیہ‘‘ کا نام ختم کرکے ’’اسلامیہ یونیورسٹی‘‘نام تجویز کیا اور آپ نے وہاں پانچ سال تک وائس چانسلر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔تقریباً ڈیڑھ برس مَلک عبد العزیز یونیورسٹی جدہ میں اسلامی تعلیمات کے پروفیسر رہے ۔ اس کے بعد کچھ عرصہ مرکز تعلیمات اسلامی کے مشیر کی حیثیت سے کام کیا ۔ 1981ء میں پاکستان واپسی ہوئی اور بقیہ زندگی کراچی میں لے پالک لڑکےجناب سہیل حامد کے ساتھ صائمہ گارڈن خالد بن ولید روڈ میں بسرفرمائی۔1951ء میں ڈاکٹر صاحب نے حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ کا سفر اختیار کرکے نبی اکرمﷺ کے نورانی دربار کی زیارت سے بہرہ مند ہوئے۔آپ نے شادی کی لیکن اولادنہیں ہوئی۔جس کی وجہ سے ایک بچہ سہیل حامد کو پالا تھا جو کہ اس وقت بیلجیئم میں برسر روز گار ہیں ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا ڈاکٹر حامد حسن بلگرامی۔لقب:مفسرِ قرآن،جامع علوم جدیدہ وقدیمہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا ڈاکٹر سید حامد حسن بلگرامی بن سید محمود بلگرامی۔علیہماالرحمہ۔آپ کاآبائی علاقہ بلگرام (ہند)ہے۔یہی وجہ ہے کہ وطن کی نسبت نام کا جزو بن گئی۔آپ خاندانی طور پر زیدی واسطی سادات خاندان سےتعلق رکھتےتھے۔ساداتِ بلگرام کاسلسلۂ نسب حضرت امام زین العابدین تک منتہی ہوتا ہے ۔ اس خاندان میں بڑے بڑے اولیاءِ عظام، اور نامور علماء کرام پیدا ہوئےہیں۔میر سید عبدالواحد بلگرامی (صاحبِ سبع سنابل شریف) سلسلہ عالیہ چشتیہ کے بڑے عظیم بزرگ گزرے ہیں۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 5 رجب المرجب 1326ھ مطابق 2 اگست 1908ء کو بلگرام (ضلع ہردوئی، یوپی، ہند) میں ساداتِ کرام کے عظیم علمی وروحانی گھرانے میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی عمر میں والدین کا سایۂ شفقت سر سے اٹھ گیا۔یتیمی کے عالم میں تعلیمی سفر کا آغازکیا۔الہ آباد یونیورسٹی (انڈیا) سے بی۔اے۔ایم ۔ اےاردو کیا۔اس کے بعداسی درس گاہ سے اردو میں علامہ اقبال پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔علماء و مشائخ اہل سنت سے استفادہ اور مطالعہ کوتاحیات جاری رکھا اور جامعہ بہاولپور میں بھی علماء کی صحبت سے بہت کچھ حاصل کیا۔بالخصوص جامعہ اسلامیہ بہاول پورکےزمانےمیں حضرت غزالیِ زماں سید احمد سعید شاہ کاظمی اور شیخ العلماء حضرت علامہ مولانا سید محمد ہاشم فاضل شمسیسےخوب علمی استفادہ کیا۔
بیعت و خلافت:
آپ 1987ءکو سلسلہ عالیہ چشتیہ کےنامور صوفی بزرگ حضرت بابا عبید اللہ خان درانیسےبیعت ہوئے۔بابادرانی حضرت بابا تاج الدین ناگپوری اور ان کے خلیفہ و جیا نگرم یاوجےنگرم کے حضرت بابا قادر اولیاء سےصحبت یافتہ و فیض یافتہ اورکئی کتابوں کےمصنف تھے۔آپ نےاپنی تمام تصنیف و تالیف میں تصوف کا پیغام دیا ہے۔مثلاًکن فیکون،حیاتِ قادر،صبح اسلام،سالارِ زماں،رخسارِ دوست،بساط ِفقر،عاشق اور عارف وغیرہ۔ان تمام کتابوں کی اشاعت کا اعزاز ’’نشرح فاؤنڈیشن حسن اسکوائر کراچی‘‘نےحاصل کیا۔آپنے 1990ء میں انتقال کیا اور آخری آرام گاہ آستانہ قادرنگرضلع سوات بونیر(صوبہ سرحد)میں پیر بابا گاؤں سےپانچ کلومیٹردورپہاڑ وں میں واقع ہے۔(انوارعلمائےاہل سنت سندھ:203)
سیرت و خصائص:
جامع علوم قدیمہ وجدیدہ، مفسر قرآن، جامع کمالات علمیہ وعملیہ،حضرت علامہ مولانا پروفیسر ڈاکٹر سید حامد حسن بلگرامی۔آپ ایک علمی وروحانی خاندان کےچشم وچراغ تھے۔خاندان ساداتِ بلگرام کےعلمی وروحانی کمالات اور ان کی امانتوں کےوارثِ کامل تھے۔یتیمی میں پروان چڑھے محنت ِ شاقہ سےعلمی دنیامیں ایک مقام پیداکیا۔تمام زندگی فروغِ علم میں کوشاں رہے۔آپاخلاق کریمانہ اور دل ربا شخصیت کےحامل انسان تھے۔غرور،نخوت،اور عجب پسندی سےدور کا واسطہ بھی نہیں تھا۔علم وحکمت میں گہرائی اور معرفت وحقیقت کی وسعت حاصل تھی۔ان کےدل میں عشق مصطفیٰﷺکاچراغ روشن تھا۔جس کی وجہ سے انکی فکر ونظرسےعلم وحکمت کی شعائیں پھوٹتی تھیں۔آپکاسب سےبڑا احسان ترجمۂ وتفسیر’’ فیوض القرآن‘‘ہے۔جس سےمطالب قرآن تک قاری براہ راست عام فہم اور دلنشیں انداز میں رسائی حاصل کرسکتاہے۔یہ تفسیر جدید اذہان کےلئے مینارۂ نور ہے۔
درس و تدریس:
1937ء کو بھارت کی نامور درس گاہ ڈون پبلک اسکول ڈیرہ ڈون سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا۔ اس اسکول میں آپ واحد مسلمان استاد تھے ۔ 1948ء کو پاکستان تشریف لائے اور کچھ ہی روز قیام کے بعد اسی سال لندن یونیورسٹی لندن (برطانیہ) میں پاکستان کی زبان، تہذیب اورکلچر کے لیکچرار مقرر ہوئے اور پانچ سال بعد 1953ء میں وطن واپس آئے۔1960ء تک حکومت پاکستان کے تحت مرکزی پلاننگ بورڈ میں پہلے ڈپٹی چیف اور پھرسربراہ محکمہ تعلیمات کی حیثیت سے خدمات انجام دیں1960ء کو محکمہ اوقاف پنجاب کی جانب سے آئمہ و خطباء مساجد کی تربیت کیلئے’’علماء اکیڈمی‘‘ کا قیام عمل میں آیا جس میں آپ کو ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے بہاول پور کی’’جامعہ عباسیہ‘‘ کا نام ختم کرکے ’’اسلامیہ یونیورسٹی‘‘نام تجویز کیا اور آپ نے وہاں پانچ سال تک وائس چانسلر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔تقریباً ڈیڑھ برس مَلک عبد العزیز یونیورسٹی جدہ میں اسلامی تعلیمات کے پروفیسر رہے ۔ اس کے بعد کچھ عرصہ مرکز تعلیمات اسلامی کے مشیر کی حیثیت سے کام کیا ۔ 1981ء میں پاکستان واپسی ہوئی اور بقیہ زندگی کراچی میں لے پالک لڑکےجناب سہیل حامد کے ساتھ صائمہ گارڈن خالد بن ولید روڈ میں بسرفرمائی۔1951ء میں ڈاکٹر صاحب نے حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ کا سفر اختیار کرکے نبی اکرمﷺ کے نورانی دربار کی زیارت سے بہرہ مند ہوئے۔آپ نے شادی کی لیکن اولادنہیں ہوئی۔جس کی وجہ سے ایک بچہ سہیل حامد کو پالا تھا جو کہ اس وقت بیلجیئم میں برسر روز گار ہیں ۔
❤1
آپ کی اہلیہ کا انتقال 1975ء کو حیدر آباد سندھ میں ہوا او روحیں مدفون ہیں۔(انوار علمائے اہل سنت سندھ ص: 203)
عادات و خصائل:
مولانا راشدی زید مجدہ فرماتے ہیں: بریگیڈیئر ڈاکٹر الحاج محمد اسلم ملک صاحب نے راقم راشدی غفرلہ کو ایک ملاقات میں بتایا کہ ڈاکٹر بلگرامی’’سچے عاشق رسول ﷺ تھے‘‘عجز و انکساری، وضع داری، تحمل و بردباری، اخلاق وآداب، محبت و خلوص، شیریں بیانی اور نکتہ سنجی آپ کی شخصیت کاخاصہ تھا۔اکثر صوفیانہ لٹریچر کا مطالعہ کرتے تھے اور صوفیانہ طبیعت رکھتے تھے اوراپنے پیر و مرشد سے بے حد عقیدت رکھتے تھے ان کی صحبت اور ان کے خلیفہ بابا صوفی محمد برکت علی (فیصل آباد) کی صحبت کیلئے پیرانہ سالی کے باوجود دور دراز کا سفر اختیار کرتے تھے۔
آپ صحیح العقیدہ سنی تھے،ایک بار آپ سےاستفسار کیا گیا کہ آپ کا تعلق اہل سنت و جماعت سے ہے اور آپ بزرگان دین کا تذکرہ جس محبت سے کرتے ہیں وہ یقیناً قابل رشک ہے مگر یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کے باجود مخالفین اہل سنت کا آپ نے اچھے اندازمیں ذکر کیا ہے اور اپنی تصانیف پر ان سے تقاریظ بھی لکھوائی ہیں؟آپ نےفرمایا:میں نےمخالفین اہل سنت علماءکےعلم کی تعریف کی ہوگی لیکن ان کے عقیدے ونظریےکوکبھی بھی پسند نہیں کیا۔ان کی تقاریظ و تبصروں کی اشاعت میں بھی یہ حکمت پوشیدہ رہی ہےکہ ان کے حلقۂ ارادت تک پیغامِ عشقِ رسولﷺاورعظمت اولیاء اللہ کو فروغ دوں تاکہ وہ بے چارے جو اب تک ایمان کی حلاوت سےمحروم ہیں اور یہ محرومی اگر نا وقفیت کی وجہ سے ہے تو انقلاب برپا ہوگا۔(انوارعلمائے اہل سنت سندھ:205)
ڈاکٹر حماد بلگرامی دوسرے مقام پر اپنے ایک مضمون ’’اسلام کا نظریہ تعلیم‘‘ میں لکھتے ہیں:’’اسلامی تعلیم کا مقصد بھی بچہ کی فطری صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور ان کو نشونما دیناہے۔نظم و ضبط،تعلیم کی لازمی کڑیاں ہیں۔دراصل تربیت تعلیم سے پہلے بھی ہے اور تربیت تعلیم کا نتیجہ بھی۔البتہ مغرب کے اس نظریہ تعلیم میں اسلام اس ناگزیر حقیقت کااضافہ کرتا ہےکہ ہربچہ کی فطرت میں وجود باری تعالیٰ کےاقرارکاایک احساس موجود ہے۔ بچہ وجود میں آتےہی اس ’’نور وحدت‘‘کی تلاش اس دنیا میں شروع کردیتا ہے۔پہلےفطری معصومیت سےپھر تجسس اور حیرت سےاوراس کےبعدعلم و معرفت سے،وجودِباری کایہ احساس تمام بنی نوع انسان میں موجود ہے اور یہی احساس ان میں ایک اخوت پیدا کرت اہے اور یہی نکتہ اتحاد ہے جسے’’وحدت‘‘یا نور وحدت‘‘سےتعبیر کیا گیا ہے۔یہی اسلامی تعلیم کا مرکزی تصور ہے اس مرکزی تصور کو لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کہاگیاہے۔اسلامی نظام تعلیم میں اسی مرکزی تصورکوشخصیت کی نشوونمااورتنظیم کیلئے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ ہر نظام تعلیم کا ایک مرکزی تصور ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے سوا جو تصور ہے وہ محدود ہے، نہ اس میں دوامیت ہوسکتی ہے،نہ وسعت جو جملہ بنی نوع انسان کو ایک ملک وحدت میں پرو سکے۔ یہ وہ وسعت ہے جو انسان انسان میں فرق نہیں کرتی۔ مساوات و اخوت کا یہ سبق نہ اشتراکیت دے سکتی ہے نہ جمہوریت۔ اسلام میں شخصیت کی ترقی کا منشاء خود اس کی زندگی کو پورے طور سے با معنی بنانا اور دوسروں کیلئے اس کی شخصیت کو مبدء فیض بنانا ہے۔ (اسلام کا نظریہ تعلیم: ماہنامہ ضیائے حرم، بھرہ ضلع سرگودھا ، اکتوبر ۱۹۷۰ء ص۲۳)
تصنیف و تالیف:
آپ صاحب تصنیف بزرگ تھے۔ انگریزی اور اردو میں بہت سی کتب آپ کی یادگار ہیں لیکن وہ اپنی دو تصانیف کو امت مصطفویہ کیلئے امانت تصور کرتے تھے جن میں ایک (۱) فیوض القرآن (۲) نور مبین۔آپ کی تخلیقات میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں:1۔ تفسیر فیوض القرآن (اردو) دوجلدیں بہاول پور کے قیام کے دوران تحریر فرمائی اس پر علامہ کاظمی کی تقریظ بھی ثبت ہے۔2۔نورمبین حضور پاکﷺ کےانواروتجلیات وکمالات فضائل و معجزات پر مشتمل ہے۔3۔اسلامی نظریہ تعلیم۔4۔درود تاج (ترجمہ تشریح)5۔سائبان رحمت6۔تنویر سحر7۔ندائے حرم8۔زادراہ۔9۔حرف آخر۔آخری دنوں میں دوران علالت زندگی کی کچھ یاد داشت رقم کرائیں
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 2 ذیقعدہ 1421ھ مطابق 28 جنوری 2001ء بروز اتوار 93 سال کی عمر میں کراچی میں ہوا۔نور مسجد حالی روڈ پر نماز جنازہ ادا کی گئی اور پاپوش نگر قبرستان ناظم آباد کراچی میں آخری آرام گاہ ہے۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔ مقدمہ فیوض القرآن ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/doctor-hamid-hasan-balgrami
عادات و خصائل:
مولانا راشدی زید مجدہ فرماتے ہیں: بریگیڈیئر ڈاکٹر الحاج محمد اسلم ملک صاحب نے راقم راشدی غفرلہ کو ایک ملاقات میں بتایا کہ ڈاکٹر بلگرامی’’سچے عاشق رسول ﷺ تھے‘‘عجز و انکساری، وضع داری، تحمل و بردباری، اخلاق وآداب، محبت و خلوص، شیریں بیانی اور نکتہ سنجی آپ کی شخصیت کاخاصہ تھا۔اکثر صوفیانہ لٹریچر کا مطالعہ کرتے تھے اور صوفیانہ طبیعت رکھتے تھے اوراپنے پیر و مرشد سے بے حد عقیدت رکھتے تھے ان کی صحبت اور ان کے خلیفہ بابا صوفی محمد برکت علی (فیصل آباد) کی صحبت کیلئے پیرانہ سالی کے باوجود دور دراز کا سفر اختیار کرتے تھے۔
آپ صحیح العقیدہ سنی تھے،ایک بار آپ سےاستفسار کیا گیا کہ آپ کا تعلق اہل سنت و جماعت سے ہے اور آپ بزرگان دین کا تذکرہ جس محبت سے کرتے ہیں وہ یقیناً قابل رشک ہے مگر یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کے باجود مخالفین اہل سنت کا آپ نے اچھے اندازمیں ذکر کیا ہے اور اپنی تصانیف پر ان سے تقاریظ بھی لکھوائی ہیں؟آپ نےفرمایا:میں نےمخالفین اہل سنت علماءکےعلم کی تعریف کی ہوگی لیکن ان کے عقیدے ونظریےکوکبھی بھی پسند نہیں کیا۔ان کی تقاریظ و تبصروں کی اشاعت میں بھی یہ حکمت پوشیدہ رہی ہےکہ ان کے حلقۂ ارادت تک پیغامِ عشقِ رسولﷺاورعظمت اولیاء اللہ کو فروغ دوں تاکہ وہ بے چارے جو اب تک ایمان کی حلاوت سےمحروم ہیں اور یہ محرومی اگر نا وقفیت کی وجہ سے ہے تو انقلاب برپا ہوگا۔(انوارعلمائے اہل سنت سندھ:205)
ڈاکٹر حماد بلگرامی دوسرے مقام پر اپنے ایک مضمون ’’اسلام کا نظریہ تعلیم‘‘ میں لکھتے ہیں:’’اسلامی تعلیم کا مقصد بھی بچہ کی فطری صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور ان کو نشونما دیناہے۔نظم و ضبط،تعلیم کی لازمی کڑیاں ہیں۔دراصل تربیت تعلیم سے پہلے بھی ہے اور تربیت تعلیم کا نتیجہ بھی۔البتہ مغرب کے اس نظریہ تعلیم میں اسلام اس ناگزیر حقیقت کااضافہ کرتا ہےکہ ہربچہ کی فطرت میں وجود باری تعالیٰ کےاقرارکاایک احساس موجود ہے۔ بچہ وجود میں آتےہی اس ’’نور وحدت‘‘کی تلاش اس دنیا میں شروع کردیتا ہے۔پہلےفطری معصومیت سےپھر تجسس اور حیرت سےاوراس کےبعدعلم و معرفت سے،وجودِباری کایہ احساس تمام بنی نوع انسان میں موجود ہے اور یہی احساس ان میں ایک اخوت پیدا کرت اہے اور یہی نکتہ اتحاد ہے جسے’’وحدت‘‘یا نور وحدت‘‘سےتعبیر کیا گیا ہے۔یہی اسلامی تعلیم کا مرکزی تصور ہے اس مرکزی تصور کو لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کہاگیاہے۔اسلامی نظام تعلیم میں اسی مرکزی تصورکوشخصیت کی نشوونمااورتنظیم کیلئے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ ہر نظام تعلیم کا ایک مرکزی تصور ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے سوا جو تصور ہے وہ محدود ہے، نہ اس میں دوامیت ہوسکتی ہے،نہ وسعت جو جملہ بنی نوع انسان کو ایک ملک وحدت میں پرو سکے۔ یہ وہ وسعت ہے جو انسان انسان میں فرق نہیں کرتی۔ مساوات و اخوت کا یہ سبق نہ اشتراکیت دے سکتی ہے نہ جمہوریت۔ اسلام میں شخصیت کی ترقی کا منشاء خود اس کی زندگی کو پورے طور سے با معنی بنانا اور دوسروں کیلئے اس کی شخصیت کو مبدء فیض بنانا ہے۔ (اسلام کا نظریہ تعلیم: ماہنامہ ضیائے حرم، بھرہ ضلع سرگودھا ، اکتوبر ۱۹۷۰ء ص۲۳)
تصنیف و تالیف:
آپ صاحب تصنیف بزرگ تھے۔ انگریزی اور اردو میں بہت سی کتب آپ کی یادگار ہیں لیکن وہ اپنی دو تصانیف کو امت مصطفویہ کیلئے امانت تصور کرتے تھے جن میں ایک (۱) فیوض القرآن (۲) نور مبین۔آپ کی تخلیقات میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں:1۔ تفسیر فیوض القرآن (اردو) دوجلدیں بہاول پور کے قیام کے دوران تحریر فرمائی اس پر علامہ کاظمی کی تقریظ بھی ثبت ہے۔2۔نورمبین حضور پاکﷺ کےانواروتجلیات وکمالات فضائل و معجزات پر مشتمل ہے۔3۔اسلامی نظریہ تعلیم۔4۔درود تاج (ترجمہ تشریح)5۔سائبان رحمت6۔تنویر سحر7۔ندائے حرم8۔زادراہ۔9۔حرف آخر۔آخری دنوں میں دوران علالت زندگی کی کچھ یاد داشت رقم کرائیں
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 2 ذیقعدہ 1421ھ مطابق 28 جنوری 2001ء بروز اتوار 93 سال کی عمر میں کراچی میں ہوا۔نور مسجد حالی روڈ پر نماز جنازہ ادا کی گئی اور پاپوش نگر قبرستان ناظم آباد کراچی میں آخری آرام گاہ ہے۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔ مقدمہ فیوض القرآن ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/doctor-hamid-hasan-balgrami
scholars.pk
Doctor Hamid Hasan Balgrami
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شیخ الادب حضرت علامہ مولانا شمس بریلوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا شمس الحسن صدیقی ۔ عرفی نام: شمس بریلوی۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا شمس الحسن صدیقی بن مولانا ابوالحسن صدیقی بن مولانا حکیم محمد ابراہیم بدایونی۔(علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 1337ھ / 1919ء کو بریلی شریف کے اس مکان میں پیداہوئے جس میں امام ِ اہلسنت امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ 1856ء میں پیداہوئے تھے۔یہ مکان دراصل امام ِاہلسنت کےجدِ ِامجد کی ملکیت تھا جس کوبعد میں حضرت شمس کے والد صاحب نےخرید لیا تھا۔
تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ رسم بسم اللہ کے بعد بریلی شریف کے دار العلو م منظر اسلا م میں اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے خلفاء اور دیگر مقتدر علماء سے تعلیم حاصل کی ۔ آپ کے بعض اساتذہ کرام کے نام یہ ہیں:حجۃالاسلام مفتی حامد رضا خان علیہ الرحمہ ، حافظ عبدالکریم چتور گڑھی، مولانا رحم الہی منگلوری ،مولانا احسان علی مونگیری ، مولانا قاسم علی بریلوی ، مولانا رونق علی بریلوی وغیرہ۔ اس مدرسہ کے علاوہ آپ نے الہ آبا د بورڈ سے فارسی زبان کے امتحانات ، منشی کامل اور ادیب کامل کے امتحانات امتیازی نمبروں سے پاس کئے ۔
بیعت و خلافت:
استاذ العلماء حضرت علامہ مفتی تقدس علی خان بریلوی علیہ الرحمہ کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الادب حضرت علامہ مولانا شمس بریلوی علیہ الرحمہ ایک علمی خانوادہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ آپ کے والد ، دادا ، پردادا کے علاوہ آپ کے تایا مولانا ریاض الدین صدیقی بریلوی (1933ء )، صاحبِ تصانیف بزرگ گذرے ہیں روہیل کھنڈاور بریلی کے مشاہیر علماء شعراء اور ادباء میں ان حضرات کا شمار کیا جاتاہے ۔ آپ نے تدریس کا آغاز صرف 17 سال کی عمر میں مدرسہ منظر اسلام میں 1935ء سے شعبہ فارسی میں بحیثیت استاد کیا اور 1945ء تک یہ خدمت سرانجام دیتے رہے، اور جب آپ نے مدرسہ منظر اسلام سے رخصت لی اس وقت آپ شعبہ فارسی کے صدر مدرس تھے ۔ 1945ء تا 1954ء آپ بریلی کے اسلامیہ کالج میں استاد کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ آپ 1956ء میں پاکستان تشریف لے آئے اور گورنمنٹ اسکول ایئر پورٹ میں ملازمت اختیار کی اور 1975ء میں اس ملازمت سے سبکدوش ہوئے ۔
آپ سچے پکے سنی حنفی بریلوی مسلمان ، رواداری کے پابند ، سچے اور کھرے مخلص اور وفاداردوست ، وقت اور وعد ے کے پابند ، زبان و قلم میں محتاط ، انتہائی حساس ، مہمان نوازدوستوں سے اچھی توقعات رکھتے اور گوشہ نشین بزرگ تھے ۔آپ کی قلمی خدمات کو ہمیشہ یادرکھا جائیگا۔
وصال:
حضرت شمس بریلوی علیہ الرحمہ 2 ذیقعدہ 1417ھ، بمطابق 12 مارچ 1997ء بروز بدھ بعد نماز عشاء رات 9 بجے شفا ہاسپیٹل کراچی میں اس دنیا سے رخصت ہوئے ۔ کراچی کے سخی حسن قبرستان (نارتھ ناظم آباد )میں تدفین ہوئی۔قبر پر یہ کتبہ درج ہے:
وہ جو اک مقدمہ نگار تھا ، وہ جو اک ادیبِ شہیر تھا
جسے کہتے تھے شمس بریلوی یہ اس کی لوح ِمزار ہے
ماخذ و مراجع:
تعارف علمائے اہلسنت سندھ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/molana-shams-barelvi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا شمس الحسن صدیقی ۔ عرفی نام: شمس بریلوی۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا شمس الحسن صدیقی بن مولانا ابوالحسن صدیقی بن مولانا حکیم محمد ابراہیم بدایونی۔(علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 1337ھ / 1919ء کو بریلی شریف کے اس مکان میں پیداہوئے جس میں امام ِ اہلسنت امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ 1856ء میں پیداہوئے تھے۔یہ مکان دراصل امام ِاہلسنت کےجدِ ِامجد کی ملکیت تھا جس کوبعد میں حضرت شمس کے والد صاحب نےخرید لیا تھا۔
تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ رسم بسم اللہ کے بعد بریلی شریف کے دار العلو م منظر اسلا م میں اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے خلفاء اور دیگر مقتدر علماء سے تعلیم حاصل کی ۔ آپ کے بعض اساتذہ کرام کے نام یہ ہیں:حجۃالاسلام مفتی حامد رضا خان علیہ الرحمہ ، حافظ عبدالکریم چتور گڑھی، مولانا رحم الہی منگلوری ،مولانا احسان علی مونگیری ، مولانا قاسم علی بریلوی ، مولانا رونق علی بریلوی وغیرہ۔ اس مدرسہ کے علاوہ آپ نے الہ آبا د بورڈ سے فارسی زبان کے امتحانات ، منشی کامل اور ادیب کامل کے امتحانات امتیازی نمبروں سے پاس کئے ۔
بیعت و خلافت:
استاذ العلماء حضرت علامہ مفتی تقدس علی خان بریلوی علیہ الرحمہ کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الادب حضرت علامہ مولانا شمس بریلوی علیہ الرحمہ ایک علمی خانوادہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ آپ کے والد ، دادا ، پردادا کے علاوہ آپ کے تایا مولانا ریاض الدین صدیقی بریلوی (1933ء )، صاحبِ تصانیف بزرگ گذرے ہیں روہیل کھنڈاور بریلی کے مشاہیر علماء شعراء اور ادباء میں ان حضرات کا شمار کیا جاتاہے ۔ آپ نے تدریس کا آغاز صرف 17 سال کی عمر میں مدرسہ منظر اسلام میں 1935ء سے شعبہ فارسی میں بحیثیت استاد کیا اور 1945ء تک یہ خدمت سرانجام دیتے رہے، اور جب آپ نے مدرسہ منظر اسلام سے رخصت لی اس وقت آپ شعبہ فارسی کے صدر مدرس تھے ۔ 1945ء تا 1954ء آپ بریلی کے اسلامیہ کالج میں استاد کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ آپ 1956ء میں پاکستان تشریف لے آئے اور گورنمنٹ اسکول ایئر پورٹ میں ملازمت اختیار کی اور 1975ء میں اس ملازمت سے سبکدوش ہوئے ۔
آپ سچے پکے سنی حنفی بریلوی مسلمان ، رواداری کے پابند ، سچے اور کھرے مخلص اور وفاداردوست ، وقت اور وعد ے کے پابند ، زبان و قلم میں محتاط ، انتہائی حساس ، مہمان نوازدوستوں سے اچھی توقعات رکھتے اور گوشہ نشین بزرگ تھے ۔آپ کی قلمی خدمات کو ہمیشہ یادرکھا جائیگا۔
وصال:
حضرت شمس بریلوی علیہ الرحمہ 2 ذیقعدہ 1417ھ، بمطابق 12 مارچ 1997ء بروز بدھ بعد نماز عشاء رات 9 بجے شفا ہاسپیٹل کراچی میں اس دنیا سے رخصت ہوئے ۔ کراچی کے سخی حسن قبرستان (نارتھ ناظم آباد )میں تدفین ہوئی۔قبر پر یہ کتبہ درج ہے:
وہ جو اک مقدمہ نگار تھا ، وہ جو اک ادیبِ شہیر تھا
جسے کہتے تھے شمس بریلوی یہ اس کی لوح ِمزار ہے
ماخذ و مراجع:
تعارف علمائے اہلسنت سندھ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/molana-shams-barelvi
scholars.pk
Molana Shams Barelvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
سیدنا حماد بن امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شیخ حماد علیہ الرحمہ ۔کنیت: ابو اسمٰعیل ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ حماد بن امام الائمہ سراج الامۃ امامِ اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ ۔
سیرت و خصائص:
آپ بہت بڑے زاہد و عاہد اور پر ہیز گار تھے ۔ حدیث وفقہ کی تحصیل وتکمیل اپنے والد ماجد سے ہوئی ۔ فقہ میں یہاں تک کمال مہارت پیدا کرلی تھی کہ اپنے والد ماجد ہی کے زمانے میں فتوے دیا کرتے تھے۔آپ کا شمار امام ابو یوسف ، امام محمد،امام زفر، حسن بن زیادہ( علیہم الرحمہ) کےطبقے میں ہوتاتھا، اور تدوین کتب ِفقہ میں ان کے معاون ومددگارتھے۔جب حضرت امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے ،تو آپ کے قبضےمیں سونے چاندی کے بہت سے ودائع اور امانتیں ترکہ میں آئیں۔ جن کے مالک مفقود تھے۔آپ نےان سب کو قاضی کے پاس لے جاکر سپرد کردیا۔ قاضی صاحب نے بہت دفعہ کہا کہ آپ بڑے امین ہیں ، اپنے ہی پاس رہنے دیں، مگر آپ نے امانتیں قبول نہ فرمائیں۔آپ سے آپ کے بیٹے اسمٰعیل نے تفقہ کیا اور کامل ہوئے۔قاسم بن معین کی وفات کے بعدآپ کو فہ کے قاضی مقرر ہوئے۔
وصال:
2 ذیقعدہ 176ھ میں انتقال فرمایا۔ "قطبِ دنیا"آپ کامادۂ تاریخ ِوفات ہے ۔ ( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hammad-bin-imam-azam-abu-hanifa-kufi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شیخ حماد علیہ الرحمہ ۔کنیت: ابو اسمٰعیل ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ حماد بن امام الائمہ سراج الامۃ امامِ اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ ۔
سیرت و خصائص:
آپ بہت بڑے زاہد و عاہد اور پر ہیز گار تھے ۔ حدیث وفقہ کی تحصیل وتکمیل اپنے والد ماجد سے ہوئی ۔ فقہ میں یہاں تک کمال مہارت پیدا کرلی تھی کہ اپنے والد ماجد ہی کے زمانے میں فتوے دیا کرتے تھے۔آپ کا شمار امام ابو یوسف ، امام محمد،امام زفر، حسن بن زیادہ( علیہم الرحمہ) کےطبقے میں ہوتاتھا، اور تدوین کتب ِفقہ میں ان کے معاون ومددگارتھے۔جب حضرت امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے ،تو آپ کے قبضےمیں سونے چاندی کے بہت سے ودائع اور امانتیں ترکہ میں آئیں۔ جن کے مالک مفقود تھے۔آپ نےان سب کو قاضی کے پاس لے جاکر سپرد کردیا۔ قاضی صاحب نے بہت دفعہ کہا کہ آپ بڑے امین ہیں ، اپنے ہی پاس رہنے دیں، مگر آپ نے امانتیں قبول نہ فرمائیں۔آپ سے آپ کے بیٹے اسمٰعیل نے تفقہ کیا اور کامل ہوئے۔قاسم بن معین کی وفات کے بعدآپ کو فہ کے قاضی مقرر ہوئے۔
وصال:
2 ذیقعدہ 176ھ میں انتقال فرمایا۔ "قطبِ دنیا"آپ کامادۂ تاریخ ِوفات ہے ۔ ( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hammad-bin-imam-azam-abu-hanifa-kufi
scholars.pk
Hazrat Hammad Bin Imam Azam Abu Hanifa Kufi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالشریعہ، حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی محمد امجد علی اعظمی ۔ لقب: صدر الشریعہ ، بدر الطریقہ ۔
سلسلۂ نسب:
مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی بن مولانا حکیم جمال الدین بن حکیم مولانا خدا بخش بن مولانا خیر الدین (علیہم الرحمہ) ۔ آپ کے والدِ ماجد حکیم جمال الدین اور دادا حضور خدابخش فنِ طِب کے ماہر تھے۔
تاریخِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ 1300ھ بمطابق نومبر 1882ء کو محلہ کریم الدین قصبہ گھوسی ضلع اعظم گڑھ ریاست اتر پردیش (انڈیا) میں ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
اِبتدائی تعلیم اپنے دادا حضرت مولانا خدا بخش سے گھر پر حاصل کی پھراپنے قصبہ ہی میں مدرسہ ناصر العلوم میں جا کر مولانا الہٰی بخش صاحب سے کچھ تعلیم حاصل کی ۔پھرجو نپورپہنچے اور اپنے چچا زاد بھائی اور استاذ مولانا محمد صدیق سے کچھ اسباق پڑھے۔پھرجامع معقولات والمنقولات حضرت علامہ ہدایت اللہ خان رامپوری سے علمِ دین کے چھلکتے ہوئے جام نوش کئے اور یہیں سے درسِ نظامی کی تکمیل کی ۔ پھر دورہ حدیث کی تکمیل پیلی بھیت میں استاذ المحدثین حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی سے کی۔حضرت محدث سورتی نے اپنے ہونہار شاگرد کی عبقری صلاحیتوں کا اعتراف ان الفاظ میں کیا :""مجھ سے اگر کسی نے پڑھا تو امجد علی نے۔ "" (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) اسی طرح حازق الملک حکیم عبدالولی لکھنوی سے علم الطب میں کمال حاصل کیا۔آپ کا حافظہ بہت مضبوط تھا ۔ ایک مرتبہ کتاب دیکھنے یا سننے سے برسوں تک ایسی یاد رہتی جیسے ابھی ابھی دیکھی یا سنی ہے ۔ تین مرتبہ کسی عبارت کو پڑھ لیتے تو یاد ہو جاتی ۔ ایک مرتبہ ارادہ کیا کہ"" کافیہ"" کی عبارت زبانی یاد کی جائے تو فائدہ ہو گا تو پوری کتاب ایک ہی دن میں یاد کر لی!(الحمد للہ علیٰ ذالک)
بیعت و خلافت:
آپ علیہ الرحمہ امام ِ اہلِ سنت مجدِ دین وملت شیخ الاسلام امام حمد رضا خاں قادری علیہ الرحمہ کے مریدوخلیفہ تھے۔
سیرت و خصائص:
فقیہ الاعظم ،مرجع الفریقین،مجمع الطریقین،صدرِ شریعت،بدرِ طریقت،حکیم الامت،محسنِ اہلِ سنت،خلیفۂ اعلیٰ حضرت،بقیۃ السلف،حجۃ الخلف،سیدنا ومولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ۔علم،تواضع ،شفقت،حلم وعفو،حیاءووقار،عبادت وریاضت زہدوتقویٰ،عفوووفا،جودوسخا،نصیحت و شفقت،الفت و مروت،بردباری،کسرنفسی اوراخلاقِ حسنہ ، الغرض جملہ صفاتِ عالیہ آپ کی ذات میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں۔حضرت صدرالشریعہ علیہ الرحمہ ساری زندگی خلوص وللہیت کےساتھ درس وتدریس،تصنیف وتالیف،وعظ ونصیحت کی صورت میں دینِ اسلام کی حقیقی خدمت کرتے رہے۔آپ نے اپنے بعد والوں کیلئے ایسے انمٹ نقوش ثبت کیے ہیں کہ انشاء اللہ جن کا اثرتاقیامِ قیامت قائم رہیگا اور خدام ِ دین کی راہنمائی کرتا رہیگا۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی محمد امجد علی اعظمی ۔ لقب: صدر الشریعہ ، بدر الطریقہ ۔
سلسلۂ نسب:
مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی بن مولانا حکیم جمال الدین بن حکیم مولانا خدا بخش بن مولانا خیر الدین (علیہم الرحمہ) ۔ آپ کے والدِ ماجد حکیم جمال الدین اور دادا حضور خدابخش فنِ طِب کے ماہر تھے۔
تاریخِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ 1300ھ بمطابق نومبر 1882ء کو محلہ کریم الدین قصبہ گھوسی ضلع اعظم گڑھ ریاست اتر پردیش (انڈیا) میں ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
اِبتدائی تعلیم اپنے دادا حضرت مولانا خدا بخش سے گھر پر حاصل کی پھراپنے قصبہ ہی میں مدرسہ ناصر العلوم میں جا کر مولانا الہٰی بخش صاحب سے کچھ تعلیم حاصل کی ۔پھرجو نپورپہنچے اور اپنے چچا زاد بھائی اور استاذ مولانا محمد صدیق سے کچھ اسباق پڑھے۔پھرجامع معقولات والمنقولات حضرت علامہ ہدایت اللہ خان رامپوری سے علمِ دین کے چھلکتے ہوئے جام نوش کئے اور یہیں سے درسِ نظامی کی تکمیل کی ۔ پھر دورہ حدیث کی تکمیل پیلی بھیت میں استاذ المحدثین حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی سے کی۔حضرت محدث سورتی نے اپنے ہونہار شاگرد کی عبقری صلاحیتوں کا اعتراف ان الفاظ میں کیا :""مجھ سے اگر کسی نے پڑھا تو امجد علی نے۔ "" (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) اسی طرح حازق الملک حکیم عبدالولی لکھنوی سے علم الطب میں کمال حاصل کیا۔آپ کا حافظہ بہت مضبوط تھا ۔ ایک مرتبہ کتاب دیکھنے یا سننے سے برسوں تک ایسی یاد رہتی جیسے ابھی ابھی دیکھی یا سنی ہے ۔ تین مرتبہ کسی عبارت کو پڑھ لیتے تو یاد ہو جاتی ۔ ایک مرتبہ ارادہ کیا کہ"" کافیہ"" کی عبارت زبانی یاد کی جائے تو فائدہ ہو گا تو پوری کتاب ایک ہی دن میں یاد کر لی!(الحمد للہ علیٰ ذالک)
بیعت و خلافت:
آپ علیہ الرحمہ امام ِ اہلِ سنت مجدِ دین وملت شیخ الاسلام امام حمد رضا خاں قادری علیہ الرحمہ کے مریدوخلیفہ تھے۔
سیرت و خصائص:
فقیہ الاعظم ،مرجع الفریقین،مجمع الطریقین،صدرِ شریعت،بدرِ طریقت،حکیم الامت،محسنِ اہلِ سنت،خلیفۂ اعلیٰ حضرت،بقیۃ السلف،حجۃ الخلف،سیدنا ومولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ۔علم،تواضع ،شفقت،حلم وعفو،حیاءووقار،عبادت وریاضت زہدوتقویٰ،عفوووفا،جودوسخا،نصیحت و شفقت،الفت و مروت،بردباری،کسرنفسی اوراخلاقِ حسنہ ، الغرض جملہ صفاتِ عالیہ آپ کی ذات میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں۔حضرت صدرالشریعہ علیہ الرحمہ ساری زندگی خلوص وللہیت کےساتھ درس وتدریس،تصنیف وتالیف،وعظ ونصیحت کی صورت میں دینِ اسلام کی حقیقی خدمت کرتے رہے۔آپ نے اپنے بعد والوں کیلئے ایسے انمٹ نقوش ثبت کیے ہیں کہ انشاء اللہ جن کا اثرتاقیامِ قیامت قائم رہیگا اور خدام ِ دین کی راہنمائی کرتا رہیگا۔
❤1
صدرالشریعہ بارگاہِ اعلیٰ حضرت میں:
صدر الشریعہ نے اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت کی خدمت میں 18 سال گزارے ۔آپ کی جدوجہد اور آپ کی مصروفیات دیکھ کر حیرانگی ہوتی ہے،کہ ایک انسان اتنے کام بھی کر سکتا ہے؟ ۔ آپ کو ""انجمن اھلسنت ""کی نظامت اور اس کے پریس کے اہتمام کے علاوہ مدرسہ میں تدریس، دوسرے پریس کا کام یعنی کاپیوں کی تصحیح ، کتابوں کی روانگی، خطوط کے جواب، آمد وخرچ کے حساب، یہ سارے کام تنہاانجام دیا کرتے تھے۔ ان کاموں کے علاوہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے بعض مسودات کامَبِیضہ کرنا۔فتووں کی نقل اور ان کی خدمت میں رہ کر فتوٰی لکھنا یہ کا م بھی مستقل طور پر انجام دیتے تھے ۔پھر شہر وبیرونِ شہر کے اکثر تبلیغِ دین کے جلسوں میں بھی شرکت فرماتے تھے۔ بعد نَمازِ عصر مغرِب تک اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی خدمت میں نشست فرماتے۔بعدِ مغرِب عشاء تک اور عشاء کے بعد سے بارہ بجے تک اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی خدمت میں فتوٰی نَویسی کا کام انجام دیتے ۔اسکے بعد گھر واپَسی ہوتی اور کچھ تحریری کام کرنے کے بعد تقریباً دو بجے شب میں آرام فرماتے ۔ آپ کی اس محنت شاقّہ وعزم واستقلال سے اس دور کے اکابر علماء بھی حیران تھے ۔اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے بھائی حضرت مولانا محمد رضاخان علیہ الرحمہ فرماتے تھے :کہ مولانا امجد علی کام کی مشین ہیں اور وہ بھی ایسی مشین جو کبھی فیل نہ ہو۔
صدرالشریعہ کے اہلِ سنت پر احسانات:
ترجمۂ کنزالایمان :صحیح اور اغلاط سے پاک احادیث نبویہ اور اقوالِ ائمہ کے مطابق اردو زبان میں ترجمۂ قرآن کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت کی خدمت میں عرض کیا اور اسطرف توجہ مبذول کرائی تو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے حامی بھرلی ۔اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے جاتے اور صدرالشریعہ املاء کرتے جاتے۔اس طرح آج امت کےپاس ایک مجددِ وقت کا ایک عظیم شاہکار ترجمہ موجود ہے۔
بہارِ شریعت:
صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کاپاک وہندکے مسلمانوں پر بہت بڑا احسان ہے کہ آپ نے ضخیم عربی کتب میں پھیلے ہوئے فقہی مسائل کو ایک مقام پر جمع کردیا ۔انسان کی پیدائش سے لے کر وفات تک درپیش ہونے والے ہزارہا مسائل کا بیان بہارِ شریعت میں موجود ہے ۔ فقہِ حنفی کی مشہور کتاب فتاوٰی عالمگیری سینکڑوں علمائے دین علیہم الرحمہ نے عربی زبان میں مرتب فرمائی مگر قربان جائیے کہ صدرالشریعہ نے وہی کام اردوزبان میں تنِ تنہا کردکھایا اور علمی ذخائر سے نہ صرف مفتیٰ بہ اقوال چن چن کر بہارِ شریعت میں شامل کئے بلکہ سینکڑوں آیات اور ہزاروں احادیث بھی موضوع کی مناسبت سے درج کیں ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خود تحدیثِ نعمت کے طور پر ارشاد فرماتے ہیں:""اگر اورنگزیب عالمگیر اس کتاب (یعنی بہارِ شریعت) کو دیکھتے تو مجھے سونے سے تولتے ۔""
صدر الشریعہ اعلیٰ حضرت کی نظرمیں:
صدر الشریعہ اور قاضیِ شرع کا خطاب: اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت نے آپ کو "صدر الشریعہ" اور" قاضیِ شرع" کے القاب عطا فرمائے۔
وکیلِ اعلیٰ حضرت: اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت نے سوائے صدر الشریعہ کے کسی کو بھی حتّٰی کہ شہزادگان کو بھی اپنی بیعت لینے کے لئے وکیل نہیں بنایا تھا۔
اعلٰی حضرت کےجنازے کے لئے وصیت: وَصایا شریف صَفْحَہ24 پر ہے کہ مجدِّدِ اعظم مولاناالشاہ امام احمد رضاخان علیہ الرحمہ نے اپنی نمازِ جنازہ کے بارے میں یہ وصیّت فرمائی تھی ۔ ""المنّۃ الممْتازہ""میں نمازِ جنازہ کی جتنی دعائیں منقول ہیں اگر حامد رضا کویاد ہوں تو وہ میری نماز ِجنازہ پڑھائیں ورنہ مولوی امجدعلی صاحِب پڑھائیں ۔
آستانہ مرشد سے وفا:
ایک مرتبہ کسی صاحِب نے مفتی اعظم ہندشہزادہ اعلیٰ حضرت علامہ مولانا مصطفی رضاخان علیہ الرحمہ کے سامنے صدر الشریعہ، بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ کا تذکرہ فرمایاتومفتی اعظم علیہ الرحمہ کی چشمانِ کرم سے آنسو بہنے لگے اور فرمایا کہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے اپنا کوئی گھر نہیں بنایا بریلی ہی کو اپنا گھر سمجھا ۔وہ صاحبِ اثر بھی تھے اور کثیر التعداد طلبہ کے استاذ بھی، وہ چاہتے تو بآسانی کوئی ذاتی دار العلوم ایسا کھول لیتے جس پر وہ یکہ و تنہا قابض رہتے مگر ان کے خلوص نے ایسا نہیں کرنے دیا۔""
وصال:
آپ کا وصال 2 ذیقعدہ 1367ھ،بمطابق 6 ستمبر 1948 کو رات 12 بجکر 26 منٹ پر ہوا ۔ آپ کا مزار قصبہ گھوسی ضلع اعظم گڑھ میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
مقدمہ بہارِ شریعت ۔ تذکرہ علمائے اہلسنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sadr-ul-shariah-mufti-amjad-ali-azmi
صدر الشریعہ نے اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت کی خدمت میں 18 سال گزارے ۔آپ کی جدوجہد اور آپ کی مصروفیات دیکھ کر حیرانگی ہوتی ہے،کہ ایک انسان اتنے کام بھی کر سکتا ہے؟ ۔ آپ کو ""انجمن اھلسنت ""کی نظامت اور اس کے پریس کے اہتمام کے علاوہ مدرسہ میں تدریس، دوسرے پریس کا کام یعنی کاپیوں کی تصحیح ، کتابوں کی روانگی، خطوط کے جواب، آمد وخرچ کے حساب، یہ سارے کام تنہاانجام دیا کرتے تھے۔ ان کاموں کے علاوہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے بعض مسودات کامَبِیضہ کرنا۔فتووں کی نقل اور ان کی خدمت میں رہ کر فتوٰی لکھنا یہ کا م بھی مستقل طور پر انجام دیتے تھے ۔پھر شہر وبیرونِ شہر کے اکثر تبلیغِ دین کے جلسوں میں بھی شرکت فرماتے تھے۔ بعد نَمازِ عصر مغرِب تک اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی خدمت میں نشست فرماتے۔بعدِ مغرِب عشاء تک اور عشاء کے بعد سے بارہ بجے تک اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی خدمت میں فتوٰی نَویسی کا کام انجام دیتے ۔اسکے بعد گھر واپَسی ہوتی اور کچھ تحریری کام کرنے کے بعد تقریباً دو بجے شب میں آرام فرماتے ۔ آپ کی اس محنت شاقّہ وعزم واستقلال سے اس دور کے اکابر علماء بھی حیران تھے ۔اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے بھائی حضرت مولانا محمد رضاخان علیہ الرحمہ فرماتے تھے :کہ مولانا امجد علی کام کی مشین ہیں اور وہ بھی ایسی مشین جو کبھی فیل نہ ہو۔
صدرالشریعہ کے اہلِ سنت پر احسانات:
ترجمۂ کنزالایمان :صحیح اور اغلاط سے پاک احادیث نبویہ اور اقوالِ ائمہ کے مطابق اردو زبان میں ترجمۂ قرآن کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت کی خدمت میں عرض کیا اور اسطرف توجہ مبذول کرائی تو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے حامی بھرلی ۔اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے جاتے اور صدرالشریعہ املاء کرتے جاتے۔اس طرح آج امت کےپاس ایک مجددِ وقت کا ایک عظیم شاہکار ترجمہ موجود ہے۔
بہارِ شریعت:
صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کاپاک وہندکے مسلمانوں پر بہت بڑا احسان ہے کہ آپ نے ضخیم عربی کتب میں پھیلے ہوئے فقہی مسائل کو ایک مقام پر جمع کردیا ۔انسان کی پیدائش سے لے کر وفات تک درپیش ہونے والے ہزارہا مسائل کا بیان بہارِ شریعت میں موجود ہے ۔ فقہِ حنفی کی مشہور کتاب فتاوٰی عالمگیری سینکڑوں علمائے دین علیہم الرحمہ نے عربی زبان میں مرتب فرمائی مگر قربان جائیے کہ صدرالشریعہ نے وہی کام اردوزبان میں تنِ تنہا کردکھایا اور علمی ذخائر سے نہ صرف مفتیٰ بہ اقوال چن چن کر بہارِ شریعت میں شامل کئے بلکہ سینکڑوں آیات اور ہزاروں احادیث بھی موضوع کی مناسبت سے درج کیں ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خود تحدیثِ نعمت کے طور پر ارشاد فرماتے ہیں:""اگر اورنگزیب عالمگیر اس کتاب (یعنی بہارِ شریعت) کو دیکھتے تو مجھے سونے سے تولتے ۔""
صدر الشریعہ اعلیٰ حضرت کی نظرمیں:
صدر الشریعہ اور قاضیِ شرع کا خطاب: اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت نے آپ کو "صدر الشریعہ" اور" قاضیِ شرع" کے القاب عطا فرمائے۔
وکیلِ اعلیٰ حضرت: اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت نے سوائے صدر الشریعہ کے کسی کو بھی حتّٰی کہ شہزادگان کو بھی اپنی بیعت لینے کے لئے وکیل نہیں بنایا تھا۔
اعلٰی حضرت کےجنازے کے لئے وصیت: وَصایا شریف صَفْحَہ24 پر ہے کہ مجدِّدِ اعظم مولاناالشاہ امام احمد رضاخان علیہ الرحمہ نے اپنی نمازِ جنازہ کے بارے میں یہ وصیّت فرمائی تھی ۔ ""المنّۃ الممْتازہ""میں نمازِ جنازہ کی جتنی دعائیں منقول ہیں اگر حامد رضا کویاد ہوں تو وہ میری نماز ِجنازہ پڑھائیں ورنہ مولوی امجدعلی صاحِب پڑھائیں ۔
آستانہ مرشد سے وفا:
ایک مرتبہ کسی صاحِب نے مفتی اعظم ہندشہزادہ اعلیٰ حضرت علامہ مولانا مصطفی رضاخان علیہ الرحمہ کے سامنے صدر الشریعہ، بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ کا تذکرہ فرمایاتومفتی اعظم علیہ الرحمہ کی چشمانِ کرم سے آنسو بہنے لگے اور فرمایا کہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے اپنا کوئی گھر نہیں بنایا بریلی ہی کو اپنا گھر سمجھا ۔وہ صاحبِ اثر بھی تھے اور کثیر التعداد طلبہ کے استاذ بھی، وہ چاہتے تو بآسانی کوئی ذاتی دار العلوم ایسا کھول لیتے جس پر وہ یکہ و تنہا قابض رہتے مگر ان کے خلوص نے ایسا نہیں کرنے دیا۔""
وصال:
آپ کا وصال 2 ذیقعدہ 1367ھ،بمطابق 6 ستمبر 1948 کو رات 12 بجکر 26 منٹ پر ہوا ۔ آپ کا مزار قصبہ گھوسی ضلع اعظم گڑھ میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
مقدمہ بہارِ شریعت ۔ تذکرہ علمائے اہلسنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sadr-ul-shariah-mufti-amjad-ali-azmi
scholars.pk
Sadr ul Shariah Mufti Amjad Ali Azmi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Sadrush Shariah Hazrat Allama Mufti Amjad Ali Azmi
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-11-1444 ᴴ | 22-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-11-1444 ᴴ | 23-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1