حضرت شاہ ابو سعید مجددی رام پوری رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسم گرامی:حضرت شاہ ابوسعیدرحمۃ اللہ علیہ۔لقب:عارف باللہ۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:آپ کا سلسلہ نسب حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ سے بایں طور ملتا ہے: حضرت مولانا شاہ ابو سعید مجددی رام پوری بن شاہ صفی القدر بن شاہ عزیز القدر بن شاہ عیسیٰ بن خواجہ سیف الدین بن خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی حضرت مجدد الفِ ثانی (علیہم الرحمۃ والرضوان)۔(تذکرہ کاملان رام پور:14)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 2/ذیقعد 1196ھ،مطابق اکتوبر1782ءکورام پور(انڈیا) میں ہوئی۔
تحصیل علم:تقریباً دس سال کی عمر میں آپ نے قرآن شریف حفظ کرلیا بعد ازاں قاری نسیم سے علم تجوید حاصل کیا۔ آپ قرآن مجید ایسی ترتیل سے پڑھا کرتے تھے کہ سننے والے محو ہوجایا کرتے۔ حتیٰ کہ جب آپ حرم مکہ معظّمہ میں وارد ہوئے تو اہلِ عرب نے آپ کی قرأت سُن کر تعریف و تحسین کی۔ حفظ قرآن کے بعد علوم عقلیہ و نقلیہ مفتی شرف الدین اور مولانا رفیع الدین بن شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے حاصل کیے ۔حدیث کی سند اپنے مرشد سے اور حضرت شاہ سراج احمد بن حضرت محمد مرشد مجددی اور شاہ عبد العزیز دہلوی سے حاصل کی۔(تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ:439)
بیعت وخلافت: اپنے والد گرامی سےآبائی طریقے پر مرید ہوئے،اور والد صاحب کےایماء پر حضرت شاہ درگاہی سےبیعت ہوئے۔حضرت شاہ صاحب درگاہی نے آپ کے حال پر بڑی عنایت فرمائی اور چند ہی روز میں آپ کو اجازت و خلافت عطا فرمائی۔ابھی تشنگی باقی تھی آپ نےحضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی کوخط لکھا،انہوں نےجواب میں ارشاد فرمایا: کہ اس وقت میری نظر میں حضرت شاہ غلام علی دہلوی سےبہترکوئی نہیں۔پھر آپ حضرت شاہ غلام علی دہلوی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ابتدا سے انتہا تک تمام سلوک مجددیہ بتفصیل وکمال ان سے حاصل کیا۔شاہ صاحبنے خاص عنایت فرماکر خلافت سےمشرف فرمایا،اور اپنی خانقاہ میں اپنا قائم مقام بنایا۔(ایضا:439)
سیرت وخصائص: امام العلماء والعارفین،سندالمتقین،آفتاب شریعت،ماہتاب طریقت،مجمع البحرین حضرت شاہ ابوسعید مجددی رام پوری ۔آپ علیہ الرحمہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کےاہم شیخ طریقت اور عارف باللہ مجددوقت حضرت شاہ غلام علی دہلوی کےخلیفۂ اعظم تھے۔آپ تمام علوم ومعارف کے جامع تھاورحضرت امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی کے خاندان کےفرد فرید تھے۔ابتدائے عمر ہی سے آثارِسعید آپ میں پائے جاتے تھے۔ فرماتے تھے کہ مجھے اوائل عمر میں شہر لکھنؤ جانے کا اتفاق ہوا۔ ہم ایک مکان میں اُترے راستے میں ایک درویش ستر برہنہ بیٹھا ہوتا مگر جب وہ مجھے دیکھتا تو ستر درست کرلیتا۔ کسی نے اُس سے سبب دریافت کیا۔ اُس نے جواب دیا کہ ایک وقت آنے والا ہے کہ ان کو ایسا منصب حاصل ہوگا کہ اپنے اقارب کے مرجع ہوں گے چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آیا۔(تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ:438)
عین تحصیل علم میں خدا طلبی کا شوق پیدا ہو۔ پہلے اپنے والد بزرگوار سے ارادت کی جو اپنے آبائے کرام کے طریقہ پر مستقیم اور تارک دنیا اور ہر وقت اوراد و اشغال میں مشغول رہتے تھے پھر اُن کی اجازت سے حضرت شاہ درگاہی کی خدمت میں حاضر ہوئے جن کا سلسلہ دو واسطہ سے حضرت خواجہ محمد زبیر قدس سرہ سے ملتا ہے۔ حضرت شاہ درگاہی کو استغراق اس قدر رہتا تھا کہ نماز کے وقت مرید آپ کو آگاہ کردیا کرتے تھے اور توجہ ایسی تیز تھی کہ اگر ایک وقت میں سو آدمیوں کی طرف متوجہ ہوتے تو سب بیہوش ہوجایا کرتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب نے آپ کے حال پر بڑی عنایت فرمائی اور چند ہی روز میں آپ کو اجازت و خلافت عطا فرمائی۔ آپ کے بہت سے مرید ہوگئے اور حلقہ میں بیہوشی و وجد اور صَیحہ (چیخ)و نعرہ ہوا کرتا۔ چوں کہ نسبت مجددیہ میں یہ امور مرتفع ہوجاتے ہیں اور صحابہ کرام کی مثل کمال افسردگی اور آسودگی میں عمر گزرتی ہے۔ایک مرتبہ رامپور میں حضرت شاہ غلام علی کی بھی زیارت کی تھی اس لیے ابھی طلبِ خدا باقی تھی آپ رامپور سے دہلی تشریف لے گئے وہاں پہنچ کر قاضی ثناء اللہ پانی پتی کو اپنی خدا طلبی کے بارے میں ایک خط لکھا۔ جس کے جواب میں حضرت قاضی صاحب نے نہایت تعظیم سے آپ کو تحریر فرمایا کہ اس وقت شاہ غلام علی سے بہتر کوئی نہیں۔ پس آپ بتاریخ 7 محرم الحرام 1225ھ میں حضرت شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ابتدا سے انتہا تک تمام سلوک مجددیہ بکمال تفصیل حاصل کیا۔
خاص عنایت:حضرت شاہ غلام علی قدس سرہ آپ کے حال پر خاص عنایت فرماتے تھے چنانچہ ماہ صفر 1230ھ میں حضرت نے آپ کو اپنے سینے سے لگایا اور دیر تک توجہ فرمائی اور اپنی ضمنیت سے مشرف فرمایا اور 11/ جمادی الاول 1231ھ میں فرمایا:’’میرے بعد اس مکان میں میاں ابو سعید بیٹھیں اور حلقہ و مراقبہ اور درس حدیث وتفسیر میں مشغول ہوں‘‘۔ حضرت کی ایسی عنایات بعض لوگوں پر ناگوار گزرتی تھیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں:’’بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کے حال پر اس قدر عنایت کس واسطے ہے وہ یہ نہیں سمجھتے کہ میاں ابو سعید اپنے پانچ
نام ونسب:
اسم گرامی:حضرت شاہ ابوسعیدرحمۃ اللہ علیہ۔لقب:عارف باللہ۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:آپ کا سلسلہ نسب حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ سے بایں طور ملتا ہے: حضرت مولانا شاہ ابو سعید مجددی رام پوری بن شاہ صفی القدر بن شاہ عزیز القدر بن شاہ عیسیٰ بن خواجہ سیف الدین بن خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی حضرت مجدد الفِ ثانی (علیہم الرحمۃ والرضوان)۔(تذکرہ کاملان رام پور:14)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 2/ذیقعد 1196ھ،مطابق اکتوبر1782ءکورام پور(انڈیا) میں ہوئی۔
تحصیل علم:تقریباً دس سال کی عمر میں آپ نے قرآن شریف حفظ کرلیا بعد ازاں قاری نسیم سے علم تجوید حاصل کیا۔ آپ قرآن مجید ایسی ترتیل سے پڑھا کرتے تھے کہ سننے والے محو ہوجایا کرتے۔ حتیٰ کہ جب آپ حرم مکہ معظّمہ میں وارد ہوئے تو اہلِ عرب نے آپ کی قرأت سُن کر تعریف و تحسین کی۔ حفظ قرآن کے بعد علوم عقلیہ و نقلیہ مفتی شرف الدین اور مولانا رفیع الدین بن شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے حاصل کیے ۔حدیث کی سند اپنے مرشد سے اور حضرت شاہ سراج احمد بن حضرت محمد مرشد مجددی اور شاہ عبد العزیز دہلوی سے حاصل کی۔(تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ:439)
بیعت وخلافت: اپنے والد گرامی سےآبائی طریقے پر مرید ہوئے،اور والد صاحب کےایماء پر حضرت شاہ درگاہی سےبیعت ہوئے۔حضرت شاہ صاحب درگاہی نے آپ کے حال پر بڑی عنایت فرمائی اور چند ہی روز میں آپ کو اجازت و خلافت عطا فرمائی۔ابھی تشنگی باقی تھی آپ نےحضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی کوخط لکھا،انہوں نےجواب میں ارشاد فرمایا: کہ اس وقت میری نظر میں حضرت شاہ غلام علی دہلوی سےبہترکوئی نہیں۔پھر آپ حضرت شاہ غلام علی دہلوی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ابتدا سے انتہا تک تمام سلوک مجددیہ بتفصیل وکمال ان سے حاصل کیا۔شاہ صاحبنے خاص عنایت فرماکر خلافت سےمشرف فرمایا،اور اپنی خانقاہ میں اپنا قائم مقام بنایا۔(ایضا:439)
سیرت وخصائص: امام العلماء والعارفین،سندالمتقین،آفتاب شریعت،ماہتاب طریقت،مجمع البحرین حضرت شاہ ابوسعید مجددی رام پوری ۔آپ علیہ الرحمہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کےاہم شیخ طریقت اور عارف باللہ مجددوقت حضرت شاہ غلام علی دہلوی کےخلیفۂ اعظم تھے۔آپ تمام علوم ومعارف کے جامع تھاورحضرت امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی کے خاندان کےفرد فرید تھے۔ابتدائے عمر ہی سے آثارِسعید آپ میں پائے جاتے تھے۔ فرماتے تھے کہ مجھے اوائل عمر میں شہر لکھنؤ جانے کا اتفاق ہوا۔ ہم ایک مکان میں اُترے راستے میں ایک درویش ستر برہنہ بیٹھا ہوتا مگر جب وہ مجھے دیکھتا تو ستر درست کرلیتا۔ کسی نے اُس سے سبب دریافت کیا۔ اُس نے جواب دیا کہ ایک وقت آنے والا ہے کہ ان کو ایسا منصب حاصل ہوگا کہ اپنے اقارب کے مرجع ہوں گے چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آیا۔(تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ:438)
عین تحصیل علم میں خدا طلبی کا شوق پیدا ہو۔ پہلے اپنے والد بزرگوار سے ارادت کی جو اپنے آبائے کرام کے طریقہ پر مستقیم اور تارک دنیا اور ہر وقت اوراد و اشغال میں مشغول رہتے تھے پھر اُن کی اجازت سے حضرت شاہ درگاہی کی خدمت میں حاضر ہوئے جن کا سلسلہ دو واسطہ سے حضرت خواجہ محمد زبیر قدس سرہ سے ملتا ہے۔ حضرت شاہ درگاہی کو استغراق اس قدر رہتا تھا کہ نماز کے وقت مرید آپ کو آگاہ کردیا کرتے تھے اور توجہ ایسی تیز تھی کہ اگر ایک وقت میں سو آدمیوں کی طرف متوجہ ہوتے تو سب بیہوش ہوجایا کرتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب نے آپ کے حال پر بڑی عنایت فرمائی اور چند ہی روز میں آپ کو اجازت و خلافت عطا فرمائی۔ آپ کے بہت سے مرید ہوگئے اور حلقہ میں بیہوشی و وجد اور صَیحہ (چیخ)و نعرہ ہوا کرتا۔ چوں کہ نسبت مجددیہ میں یہ امور مرتفع ہوجاتے ہیں اور صحابہ کرام کی مثل کمال افسردگی اور آسودگی میں عمر گزرتی ہے۔ایک مرتبہ رامپور میں حضرت شاہ غلام علی کی بھی زیارت کی تھی اس لیے ابھی طلبِ خدا باقی تھی آپ رامپور سے دہلی تشریف لے گئے وہاں پہنچ کر قاضی ثناء اللہ پانی پتی کو اپنی خدا طلبی کے بارے میں ایک خط لکھا۔ جس کے جواب میں حضرت قاضی صاحب نے نہایت تعظیم سے آپ کو تحریر فرمایا کہ اس وقت شاہ غلام علی سے بہتر کوئی نہیں۔ پس آپ بتاریخ 7 محرم الحرام 1225ھ میں حضرت شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ابتدا سے انتہا تک تمام سلوک مجددیہ بکمال تفصیل حاصل کیا۔
خاص عنایت:حضرت شاہ غلام علی قدس سرہ آپ کے حال پر خاص عنایت فرماتے تھے چنانچہ ماہ صفر 1230ھ میں حضرت نے آپ کو اپنے سینے سے لگایا اور دیر تک توجہ فرمائی اور اپنی ضمنیت سے مشرف فرمایا اور 11/ جمادی الاول 1231ھ میں فرمایا:’’میرے بعد اس مکان میں میاں ابو سعید بیٹھیں اور حلقہ و مراقبہ اور درس حدیث وتفسیر میں مشغول ہوں‘‘۔ حضرت کی ایسی عنایات بعض لوگوں پر ناگوار گزرتی تھیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں:’’بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کے حال پر اس قدر عنایت کس واسطے ہے وہ یہ نہیں سمجھتے کہ میاں ابو سعید اپنے پانچ
❤1
سو مریدوں کو چھوڑ کر میرے پاس آیا ہے اور اس سے پہلے وہ خرقہ خلافت دوسرے مشائخ سے لے چکے ہیں پس اپنے مرشد کی عین حیات میں انہوں نے خلافت و اجازت کو چھوڑ کر میری بیعت کا حلقہ اپنے اخلاص کی گردن میں ڈالا اور پیری کو چھوڑ کر مریدی کی طرف آگئے وہ کس طرح مورد عنایت اور مصدر ہمت نہ ہوں‘‘۔جمادی الاولیٰ 1233ھ میں حضرت نے آپ کو قیومیت کی بشارت دی اور فرمایا: ’’مجھے الہام ہوا ہے اس لیے تجھ سے ارشاد کیا گیا‘‘۔الغرض آپ پندرہ سال حضرت شاہ صاحب کی خدمت میں رہے حضرت نے اپنے مرض موت میں آپ کو بذریعہ خط لکھنو سے بلایا اور خانقاہ کا نظام آپ کےسپرد کیا۔ حضرت شاہ صاحب کے انتقال کے بعد آپ قریباً نو سال تک مسندِ ارشاد پر ہے۔ اور طالبانِ خدا نے بکثرت آپ سے استفادہ کیا۔ اس عرصے میں آپ نے تلخی و سختی اور فقر و فاقہ اور تمام تکالیف جو اولیاء اللہ کاشیوہ ہیں خندہ پیشانی سے استقبال کیا۔(ایضا:440)
فضل وکمال: آپ کےایک مرید میاں محمد اصغر کا بیان ہے کہ کبھی کبھی نمازِ تہجد مجھ سے فوت ہوجاتی تھی میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا۔ فرمایا کہ ہمارے خادم سے کہہ دو کہ تہجد کے وقت ہمیں یاد دلا دیا کرے۔ اُٹھا کر بٹھادینا ہمارا ذمہ ہے باقی تمہارا اختیار ہے چناں چہ ایسا ہی ہوا کہ گویا کوئی مجھے تہجد کےوقت اٹھاکر بٹھا دیتا ہے۔اسی طرح آپ کے ایک اور مرید پر ایسا استغراق غالب ہوا کہ خلوت میں نماز کے وقت قبلہ کی پہچان نہ رہتی اُس نے مجبور ہوکر آپ سے عرض کیا آپ نے فرمایا کہ تحریمہ کے وقت میری طرف متوجہ ہوا کر میں تجھے قبلہ کی طرف متوجہ کردیا کروں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوتا کہ جب وہ تحریمہ کے وقت آپ کی طرف متوجہ ہوتا تو آپ ظاہر ہوکر قبلہ کی طرف اشارہ کردیتے اور یہ اتفاق مدتوں تک رہا۔یہی مرید صاحب استغراق بیان کرتا ہے کہ ایک مرتبہ اہلِ خانقاہ میں جھگڑا پیدا ہوا۔ اور بہت شور و شغب ہوا رات کے وقت میں نے خواب دیکھا کہ جناب سرور عالم ﷺ خانقاہ میں تشریف لائے اور خفا ہوکر فرماتے ہیں کہ فلاں فلاں شخص کو خانقاہ سے نکال دو اِس خوف سے کہ کہیں میرا نام بھی نہ لے لیں اُس مرید کی آنکھ کھل گئی۔ یہ حیران و پریشان آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ اُس وقت تہجد کےلئے وضو فرما رہے تھے اُس کو دیکھ کر فرمایا کہ تم کیوں گھبراتے ہو۔ تمہارا نام تو نہیں لیا نمازِ صبح کے بعد آپ نے اُن اشخاص کو جن کا نام جناب رسالت مآب ﷺ نے لیا تھا خانقاہ سے نکال دیا۔(ایضا:441)
تاریخِ وصال: 22/رمضان کو ریاست ٹونک میں علیل ہوئے،صاحبزادہ حضرت شاہ عبد الغنی محدث شہیر ہمراہ تھے،سکرات موت شروع ہوئی تو ان کو وصیت فرمائی کہ اتباع سُنّت کرنا،اور اہل دنیا سے پرہیز کرنا،اگر دنیا داروں کے پاس جاؤگےتو ذلیل وخوار ہوجاؤگے،ورنہ دُنیا دار کُتّوں کی طرح تمہارے دروازے پر چکر لگائیں گے۔ پھر حافظ سے سورۂ یٰسین کی تلاوت کے لیے فرمایا،تین بار سُن کر فرمایا۔اب نہ پڑھو،بہت تھوڑاٹائم باقی ہے۔عید الفطر بروز ہفتہ 1250ھ مطابق 31/جنوری 1835ءکوعصر و مغرب کے درمیان انگشت شہادت کو حرکت دیتے ہوئے واصل بااللہ ہوئے۔لاش تابوت میں رکھ کر دہلی لائی گئی۔چالیس روز بعد حضرت شاہ غلام علی قدس سرہٗ کے پہلو میں دفن کیے گئے۔اتنی مدت گذرنے کے بعد بھی معلومہوتا تھا کہ ابھی غسل دیا گیا ہےروئی سے خوشبو آتی تھی،جسے لوگ بطور تبرک لے گئے۔(تذکرہ علمائے اہل سنت:13)
ماخذ و مراجع:
تذکرہ کاملان رام پور ۔ تذکرہ مشائخ نقشبندیہ ۔ تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abu-saeed-mujadidi-rampuri
فضل وکمال: آپ کےایک مرید میاں محمد اصغر کا بیان ہے کہ کبھی کبھی نمازِ تہجد مجھ سے فوت ہوجاتی تھی میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا۔ فرمایا کہ ہمارے خادم سے کہہ دو کہ تہجد کے وقت ہمیں یاد دلا دیا کرے۔ اُٹھا کر بٹھادینا ہمارا ذمہ ہے باقی تمہارا اختیار ہے چناں چہ ایسا ہی ہوا کہ گویا کوئی مجھے تہجد کےوقت اٹھاکر بٹھا دیتا ہے۔اسی طرح آپ کے ایک اور مرید پر ایسا استغراق غالب ہوا کہ خلوت میں نماز کے وقت قبلہ کی پہچان نہ رہتی اُس نے مجبور ہوکر آپ سے عرض کیا آپ نے فرمایا کہ تحریمہ کے وقت میری طرف متوجہ ہوا کر میں تجھے قبلہ کی طرف متوجہ کردیا کروں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوتا کہ جب وہ تحریمہ کے وقت آپ کی طرف متوجہ ہوتا تو آپ ظاہر ہوکر قبلہ کی طرف اشارہ کردیتے اور یہ اتفاق مدتوں تک رہا۔یہی مرید صاحب استغراق بیان کرتا ہے کہ ایک مرتبہ اہلِ خانقاہ میں جھگڑا پیدا ہوا۔ اور بہت شور و شغب ہوا رات کے وقت میں نے خواب دیکھا کہ جناب سرور عالم ﷺ خانقاہ میں تشریف لائے اور خفا ہوکر فرماتے ہیں کہ فلاں فلاں شخص کو خانقاہ سے نکال دو اِس خوف سے کہ کہیں میرا نام بھی نہ لے لیں اُس مرید کی آنکھ کھل گئی۔ یہ حیران و پریشان آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ اُس وقت تہجد کےلئے وضو فرما رہے تھے اُس کو دیکھ کر فرمایا کہ تم کیوں گھبراتے ہو۔ تمہارا نام تو نہیں لیا نمازِ صبح کے بعد آپ نے اُن اشخاص کو جن کا نام جناب رسالت مآب ﷺ نے لیا تھا خانقاہ سے نکال دیا۔(ایضا:441)
تاریخِ وصال: 22/رمضان کو ریاست ٹونک میں علیل ہوئے،صاحبزادہ حضرت شاہ عبد الغنی محدث شہیر ہمراہ تھے،سکرات موت شروع ہوئی تو ان کو وصیت فرمائی کہ اتباع سُنّت کرنا،اور اہل دنیا سے پرہیز کرنا،اگر دنیا داروں کے پاس جاؤگےتو ذلیل وخوار ہوجاؤگے،ورنہ دُنیا دار کُتّوں کی طرح تمہارے دروازے پر چکر لگائیں گے۔ پھر حافظ سے سورۂ یٰسین کی تلاوت کے لیے فرمایا،تین بار سُن کر فرمایا۔اب نہ پڑھو،بہت تھوڑاٹائم باقی ہے۔عید الفطر بروز ہفتہ 1250ھ مطابق 31/جنوری 1835ءکوعصر و مغرب کے درمیان انگشت شہادت کو حرکت دیتے ہوئے واصل بااللہ ہوئے۔لاش تابوت میں رکھ کر دہلی لائی گئی۔چالیس روز بعد حضرت شاہ غلام علی قدس سرہٗ کے پہلو میں دفن کیے گئے۔اتنی مدت گذرنے کے بعد بھی معلومہوتا تھا کہ ابھی غسل دیا گیا ہےروئی سے خوشبو آتی تھی،جسے لوگ بطور تبرک لے گئے۔(تذکرہ علمائے اہل سنت:13)
ماخذ و مراجع:
تذکرہ کاملان رام پور ۔ تذکرہ مشائخ نقشبندیہ ۔ تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abu-saeed-mujadidi-rampuri
scholars.pk
Hazrat-Shah-Abu-Saeed-Mujadidi-Rampuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
مناظر اعظم حضرت علامہ مولانا محمدعمر اچھروی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد عمر ۔ لقب: مناظرِ اسلام ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا محمد عمر بن مولانا محمد امین بن عبدالمالک قریشی ۔ آپ حضرت غلام محی الدین قصوری علیہ الرحمہ کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 1901ء کو قصبہ "شیر و کانہ" ضلع قصور پنجاب (پاکستان ) میں پیداہوئے۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی۔ علوم دینیہ مولانا صلاح الدین، مولوی محمد حسین لکھوی،مولوی عطاء اللہ لکھوی،مولوی محمد عالم سنبھلی(لاہور)سے پڑھے۔ امام اہلسنت امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ کے شاگرد رشید مولانا محمد حسین (امام و خطیب پلٹن فیروز پور)کے ہاں کچھ عرصہ زیر تعلیم رہے ۔آپ نے مدرسہ رحیمیہ دہلی میں درس حدیث کی تحصیل کی اور سند مولوی عبداللہ روپڑی اہل حدیث،سے حاصل کی۔مولانا احمد علی سہارنپوری تلمیذ رشید مولانا احمد علی میٹھی سے دوبارہ حدیث شریف کا درس لیا۔آپ نے مختلف مسالک کے مدرسوں سے اسلئے تعلیم حاصل کی تاکہ ان لوگوں میں رہ کر ان کی حقیقت معلوم کرسکیں،کیوں کہ اس وقت خاص کر غیرمقلدین ودیوبندیوں کافتنہ ہندوستان میں نیا نیا ظاہر ہواتھا، اور لوگوں کو ان کی حقیقت کا صحیح علم بھی نہ ہواتھا۔یہی وجہ ہے کہ آپ ان کے خلاف اہلسنت کے کامیاب مناظر تھے۔
بیعت و خلافت:
آپ شیرِ ربانی حضرت شیر محمد شرقپوری علیہ الرحمہ کےمرید،اور حضرت سید محمد اسماعیل شاہ المعروف "حضرت کرمانوالہ"کے فیض یافتہ تھے۔
سیرت و خصائص:
جامع المنقولِ والمعقول، استاذ العلماء، قاطعِ مرزائیت و نجدیت و وہابیت، حامیِ قرآن وسنت ،مناظرِ اعظم حضرت علامہ مولانا محمد عمر اچھروی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ کی ذات علماء وعوام میں محتاجِ تعارف نہیں۔قیامِ پاکستان سے قبل 1940ء میں مولانا کی شہرت لاہورسے نکل کر پورےبرِ صغیر میں پھیل گئی تھی۔مولانا کوقدرت نے تمام علومِ متداولہ میں بالعموم اور "علم المناظرہ" میں بالخصوص وافر حصہ عطافرمایاتھا۔مناظرے میں یہ کمال حاصل تھا کہ مخالفین کے بڑے بڑےمناظر مقابلے میں آنے سے گھبراتے تھے،اگرکوئی آجاتا پہلےتووہ بھاگنے پر مجبورہوجاتا،جیساکہ ان کے کےبڑوں کامعروف طریقہ رہاہے،ورنہ شکست اس کامقدرہوتی۔آپ علیہ الرحمہ تقریباً فرقِ باطلہ سے 50 کامیاب مناظرے کیے جس میں آپ ہمیشہ فاتح رہے،اور شکست باطل کامقدررہی۔(الحمدللہ علیٰ ذالک)۔ آپ کی ایک خاص یہ بات بھی تھی کہ پورے برصغیر (پاک وہند)میں آپ کو جب بھی مناظرہ کیلئے بلایاجاتا ،آپ ہمیشہ مناظرے کے لئے تیار رہتے تھے۔
آپ نے مسلک اہل سنت و جماعت کے تحفظ کے لئے تحریری اور تقریری کو ششوں میں تمام عمر صرف کی۔آپ ایک ایسی شخصیت کے حامل تھے جنہیں بلا تخصیص تمام مذاہب باطلہ کے مقابلے میں پیش کیا جا سکتا تھا۔وسعت علم اور حاضر جوابی میں ان کی نظیر پیش نہیں کی جا سکتی،تقویٰ اور پرہیزگاری میں اپنی مثال آپ تھے۔ دوران تقریر آیات قرآنیہ سے اس کثرت سے استدلال کرتے تھے کہ عقل دنگ رہ جاتی تھی۔ہر روز قرآن مجید کے پانچ پاروں کی تلاوت اور شب بیدار ی آپ کے معمولات میں سے تھے۔آپ نے تحریک ِ پاکستان اور تحریک ختمِ نبوت میں بھرپور کرداراداکیا۔
وصال:
2 ذیقعدہ 1391ھ،بمطابق 21 دسمبر 1971ء، بروز منگل کو حیاتِ جاودانی کی طرف تشریف لے گئے ۔ مفتیٔ اعظم پاکستان حضرت علامہ ابو البرکات سید احمد دامت بر کاتہم العالیہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔
ماخذ و مراجع:
مولانا محمد عمر اچھروی کی علمی خدمات ۔ تعارف علمائے اہلِ سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-umar-acharwi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد عمر ۔ لقب: مناظرِ اسلام ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا محمد عمر بن مولانا محمد امین بن عبدالمالک قریشی ۔ آپ حضرت غلام محی الدین قصوری علیہ الرحمہ کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 1901ء کو قصبہ "شیر و کانہ" ضلع قصور پنجاب (پاکستان ) میں پیداہوئے۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی۔ علوم دینیہ مولانا صلاح الدین، مولوی محمد حسین لکھوی،مولوی عطاء اللہ لکھوی،مولوی محمد عالم سنبھلی(لاہور)سے پڑھے۔ امام اہلسنت امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ کے شاگرد رشید مولانا محمد حسین (امام و خطیب پلٹن فیروز پور)کے ہاں کچھ عرصہ زیر تعلیم رہے ۔آپ نے مدرسہ رحیمیہ دہلی میں درس حدیث کی تحصیل کی اور سند مولوی عبداللہ روپڑی اہل حدیث،سے حاصل کی۔مولانا احمد علی سہارنپوری تلمیذ رشید مولانا احمد علی میٹھی سے دوبارہ حدیث شریف کا درس لیا۔آپ نے مختلف مسالک کے مدرسوں سے اسلئے تعلیم حاصل کی تاکہ ان لوگوں میں رہ کر ان کی حقیقت معلوم کرسکیں،کیوں کہ اس وقت خاص کر غیرمقلدین ودیوبندیوں کافتنہ ہندوستان میں نیا نیا ظاہر ہواتھا، اور لوگوں کو ان کی حقیقت کا صحیح علم بھی نہ ہواتھا۔یہی وجہ ہے کہ آپ ان کے خلاف اہلسنت کے کامیاب مناظر تھے۔
بیعت و خلافت:
آپ شیرِ ربانی حضرت شیر محمد شرقپوری علیہ الرحمہ کےمرید،اور حضرت سید محمد اسماعیل شاہ المعروف "حضرت کرمانوالہ"کے فیض یافتہ تھے۔
سیرت و خصائص:
جامع المنقولِ والمعقول، استاذ العلماء، قاطعِ مرزائیت و نجدیت و وہابیت، حامیِ قرآن وسنت ،مناظرِ اعظم حضرت علامہ مولانا محمد عمر اچھروی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ کی ذات علماء وعوام میں محتاجِ تعارف نہیں۔قیامِ پاکستان سے قبل 1940ء میں مولانا کی شہرت لاہورسے نکل کر پورےبرِ صغیر میں پھیل گئی تھی۔مولانا کوقدرت نے تمام علومِ متداولہ میں بالعموم اور "علم المناظرہ" میں بالخصوص وافر حصہ عطافرمایاتھا۔مناظرے میں یہ کمال حاصل تھا کہ مخالفین کے بڑے بڑےمناظر مقابلے میں آنے سے گھبراتے تھے،اگرکوئی آجاتا پہلےتووہ بھاگنے پر مجبورہوجاتا،جیساکہ ان کے کےبڑوں کامعروف طریقہ رہاہے،ورنہ شکست اس کامقدرہوتی۔آپ علیہ الرحمہ تقریباً فرقِ باطلہ سے 50 کامیاب مناظرے کیے جس میں آپ ہمیشہ فاتح رہے،اور شکست باطل کامقدررہی۔(الحمدللہ علیٰ ذالک)۔ آپ کی ایک خاص یہ بات بھی تھی کہ پورے برصغیر (پاک وہند)میں آپ کو جب بھی مناظرہ کیلئے بلایاجاتا ،آپ ہمیشہ مناظرے کے لئے تیار رہتے تھے۔
آپ نے مسلک اہل سنت و جماعت کے تحفظ کے لئے تحریری اور تقریری کو ششوں میں تمام عمر صرف کی۔آپ ایک ایسی شخصیت کے حامل تھے جنہیں بلا تخصیص تمام مذاہب باطلہ کے مقابلے میں پیش کیا جا سکتا تھا۔وسعت علم اور حاضر جوابی میں ان کی نظیر پیش نہیں کی جا سکتی،تقویٰ اور پرہیزگاری میں اپنی مثال آپ تھے۔ دوران تقریر آیات قرآنیہ سے اس کثرت سے استدلال کرتے تھے کہ عقل دنگ رہ جاتی تھی۔ہر روز قرآن مجید کے پانچ پاروں کی تلاوت اور شب بیدار ی آپ کے معمولات میں سے تھے۔آپ نے تحریک ِ پاکستان اور تحریک ختمِ نبوت میں بھرپور کرداراداکیا۔
وصال:
2 ذیقعدہ 1391ھ،بمطابق 21 دسمبر 1971ء، بروز منگل کو حیاتِ جاودانی کی طرف تشریف لے گئے ۔ مفتیٔ اعظم پاکستان حضرت علامہ ابو البرکات سید احمد دامت بر کاتہم العالیہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔
ماخذ و مراجع:
مولانا محمد عمر اچھروی کی علمی خدمات ۔ تعارف علمائے اہلِ سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-umar-acharwi
scholars.pk
Hazrat Molana Muhammad Umer Acharwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت خواجہ عبدالرحمن سرہندی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسمِ گرامی: خواجہ عبدالرحمن سرہندی۔لقب:مجددی،سرہندی،قندھاری،ثم سندھی۔والد کا اسمِ گرامی: خواجہ عبدالقیوم سر ہندی تھا۔آپ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سر ہندی علیہ الرحمہ کے خانوادہ سےتعلق رکھنے والی وہ پہلی شخصیت ہیں جو سندھ آکر رہائش پذیر ہوئی اور جس سے مجددی سلسلہ کو سندھ میں فروغ حاصل ہوا ۔ آپ کا سلسلہ نسب صرف نو واسطوں سے حضرت امام ربانی سے اور اکتالیس واسطوں سے امیر المومنین خلیفہ المسلمین حضرت سید نا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔
تاریخِ ولادت: 1244ھ/بمطابق 1808ء ،کو احمد شاہی شہر (قندھار ، افغانستان ) میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم: آپ نے اپنے علاقہ کے مقتدر علماء بالخصوص ملا حبیب اللہ قندھاری(موٗ لف کتا ب مغتنم )سے علوم ظاہری کی تحصیل کی اور سترہ سال کی عمر تک تمام علوم متداولہ میں کامل دسترس حاصل کر لی ۔
بیعت و خلافت : علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد اپنے والد گرامی سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدد یہ میں بیعت ہو کر کما لات باطنی کی تحصیل کی۔ 1270ھ کو جب آپ کے والد ماجد انتقال فرما گئے تو آپ ان کی جگہ پر مسند نشین ہو گئے ۔
سیرت وخصائص: آپ حضور پر نور سید عالم ﷺ کے اخلاق و شمائل کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر دولت سے سر فراز فرمایا تھا آپ کے اندر غرور و تکبر کا شائبہ تک نہ تھا ، آپ کا طرز بودو باش انتہائی سادہ تھا ، مریدین جونذرانے پیش کرتے تھے وہ آپ اکثر فقراء میں تقسیم فرما دیا کرتے تھے ۔ دنیاوی ساز و سامان میں اگر کسی چیز کی طرف آپ کو رغبت تھی تو وہ عمدہ عمدہ دینی کتابیں تھیں ۔
سفر حرمین شریفین: آپ نے سات مرتبہ حرمین شریفین کا سفر اختیار فرمایا یعنی سات بار روضہ رسول مقبول ﷺ کی حاضری کی سعادت عظمیٰ حاصل کی۔ احترام سادات کرام : حضو ر پر نور ﷺ سے آپ کو عشق کی حد تک محبت تھی ۔ محبت خود آداب سکھا دیتی ہے۔ آپ نے اپنے محبوب نبی پاک ﷺ کا کس طرح ادب کیا اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہو سکتا ہے کہ ایک روز محمد یوسف صاحب نے حضرت سے دریافت کیا کہ بعض لوگ کہیں سے آئے ہیں اور اپنے آپ کو سید بتلاتے ہیں اب نہ معلوم وہ حقیقت میں سید بھی ہیں یا نہیں لہذا ان کی کیا تعظیم کریں ۔ آپ نے فرمایا :چونکہ آنحضرت ﷺ کانا م نامی اور اسم گرامی درمیان میں آگیا ہے ، لہذا اب ان کی تعظیم فرض ہو گئی ۔ اگر بالفرض وہ شخص سید ہوا تو وہ تعظیم کا حقدار ہے اس کی تعظیم ہو گئی اور اگر سید نہ ہوا تو کم ازکم نام کا ادب تو ہوگیا۔
حاضری مزارات اولیاء اللہ : اولیائے کرام اورصوفیائے کرام کے مزارات پر اکثر حاضری دیا کرتے تھے اور اس کے لئے دور دراز کی مسافتیں طے کیا کرتے تھے ۔ جب کسی ولی کے مزار شریف پر حاضر ہوتے تو وہاں کچھ عرصہ قیام فرما کر اچھی طرح اکتساب فیض فرمایا کرتے تھے ۔ اہل سنت و جماعت احناف کے اکابر علماء کرام کی اکثریت آپ سے بیعت و خلافت کا شرف رکھتی تھی۔
وصال:
حضرت خواجہ عبدالرحمن نے 2 ، ذوالقعدہ 1315ھ ؍ 1898 ء بروز جمعۃ المبارک ضحوہ کبریٰ کے وقت میں71سال کی عمر پاکر واصل بحق ہو گئے ۔ آپ کا مزار مبارک ٹنڈو سائینداد سے چندمیل کے فاصلہ پر اور ٹکھڑ سے جانب شمال ایک میل کی مسافت پر "کوہ گنجہ" کے دامن میں واقع ہے اور مقبرہ شریف کے نام سے مشہور ہے۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلِ سنت سندھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-abdul-rehman-sarhandi
نام ونسب: اسمِ گرامی: خواجہ عبدالرحمن سرہندی۔لقب:مجددی،سرہندی،قندھاری،ثم سندھی۔والد کا اسمِ گرامی: خواجہ عبدالقیوم سر ہندی تھا۔آپ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سر ہندی علیہ الرحمہ کے خانوادہ سےتعلق رکھنے والی وہ پہلی شخصیت ہیں جو سندھ آکر رہائش پذیر ہوئی اور جس سے مجددی سلسلہ کو سندھ میں فروغ حاصل ہوا ۔ آپ کا سلسلہ نسب صرف نو واسطوں سے حضرت امام ربانی سے اور اکتالیس واسطوں سے امیر المومنین خلیفہ المسلمین حضرت سید نا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔
تاریخِ ولادت: 1244ھ/بمطابق 1808ء ،کو احمد شاہی شہر (قندھار ، افغانستان ) میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم: آپ نے اپنے علاقہ کے مقتدر علماء بالخصوص ملا حبیب اللہ قندھاری(موٗ لف کتا ب مغتنم )سے علوم ظاہری کی تحصیل کی اور سترہ سال کی عمر تک تمام علوم متداولہ میں کامل دسترس حاصل کر لی ۔
بیعت و خلافت : علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد اپنے والد گرامی سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدد یہ میں بیعت ہو کر کما لات باطنی کی تحصیل کی۔ 1270ھ کو جب آپ کے والد ماجد انتقال فرما گئے تو آپ ان کی جگہ پر مسند نشین ہو گئے ۔
سیرت وخصائص: آپ حضور پر نور سید عالم ﷺ کے اخلاق و شمائل کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر دولت سے سر فراز فرمایا تھا آپ کے اندر غرور و تکبر کا شائبہ تک نہ تھا ، آپ کا طرز بودو باش انتہائی سادہ تھا ، مریدین جونذرانے پیش کرتے تھے وہ آپ اکثر فقراء میں تقسیم فرما دیا کرتے تھے ۔ دنیاوی ساز و سامان میں اگر کسی چیز کی طرف آپ کو رغبت تھی تو وہ عمدہ عمدہ دینی کتابیں تھیں ۔
سفر حرمین شریفین: آپ نے سات مرتبہ حرمین شریفین کا سفر اختیار فرمایا یعنی سات بار روضہ رسول مقبول ﷺ کی حاضری کی سعادت عظمیٰ حاصل کی۔ احترام سادات کرام : حضو ر پر نور ﷺ سے آپ کو عشق کی حد تک محبت تھی ۔ محبت خود آداب سکھا دیتی ہے۔ آپ نے اپنے محبوب نبی پاک ﷺ کا کس طرح ادب کیا اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہو سکتا ہے کہ ایک روز محمد یوسف صاحب نے حضرت سے دریافت کیا کہ بعض لوگ کہیں سے آئے ہیں اور اپنے آپ کو سید بتلاتے ہیں اب نہ معلوم وہ حقیقت میں سید بھی ہیں یا نہیں لہذا ان کی کیا تعظیم کریں ۔ آپ نے فرمایا :چونکہ آنحضرت ﷺ کانا م نامی اور اسم گرامی درمیان میں آگیا ہے ، لہذا اب ان کی تعظیم فرض ہو گئی ۔ اگر بالفرض وہ شخص سید ہوا تو وہ تعظیم کا حقدار ہے اس کی تعظیم ہو گئی اور اگر سید نہ ہوا تو کم ازکم نام کا ادب تو ہوگیا۔
حاضری مزارات اولیاء اللہ : اولیائے کرام اورصوفیائے کرام کے مزارات پر اکثر حاضری دیا کرتے تھے اور اس کے لئے دور دراز کی مسافتیں طے کیا کرتے تھے ۔ جب کسی ولی کے مزار شریف پر حاضر ہوتے تو وہاں کچھ عرصہ قیام فرما کر اچھی طرح اکتساب فیض فرمایا کرتے تھے ۔ اہل سنت و جماعت احناف کے اکابر علماء کرام کی اکثریت آپ سے بیعت و خلافت کا شرف رکھتی تھی۔
وصال:
حضرت خواجہ عبدالرحمن نے 2 ، ذوالقعدہ 1315ھ ؍ 1898 ء بروز جمعۃ المبارک ضحوہ کبریٰ کے وقت میں71سال کی عمر پاکر واصل بحق ہو گئے ۔ آپ کا مزار مبارک ٹنڈو سائینداد سے چندمیل کے فاصلہ پر اور ٹکھڑ سے جانب شمال ایک میل کی مسافت پر "کوہ گنجہ" کے دامن میں واقع ہے اور مقبرہ شریف کے نام سے مشہور ہے۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلِ سنت سندھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-abdul-rehman-sarhandi
scholars.pk
Hazrat Khawaja Abdul Rehman Sarhandi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت شیخ صفی الدین ابو الفتح اسحاق سہروردی اردبیلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مشائخ کبار اور اولیاء کرام میں صاحب کرامات عظیم مانے جاتے تھے۔ نفحات الانس میں لکھا ہے کہ شیخ نجیب الدین حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے بغداد کو روانہ ہونے لگے تو شیخ شمس الدین صفی بھی آپ کے ساتھ تھے شیخ شمس الدین نے آپ سے قرآن سیکھا۔ اور شیخ نجیب الدین نے بعض خصوصی مقامات عبور کیے اس طرح دونوں نے خرقہ خلافت بھی حاصل کیا۔ اور شیراز کی طرف روانہ ہوگئے۔
آپ کی وفات ۷۳۵ھ میں ہے۔
شیخ شمس الدین صفی موسوی
سال ترحیلش چو جستم از خرد
آل احمد بود اولاد علی
گفت ہاتف شمس دین کامل صفی
۷۳۵ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-safiuddin-bin-ishaq-ardabili
مشائخ کبار اور اولیاء کرام میں صاحب کرامات عظیم مانے جاتے تھے۔ نفحات الانس میں لکھا ہے کہ شیخ نجیب الدین حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے بغداد کو روانہ ہونے لگے تو شیخ شمس الدین صفی بھی آپ کے ساتھ تھے شیخ شمس الدین نے آپ سے قرآن سیکھا۔ اور شیخ نجیب الدین نے بعض خصوصی مقامات عبور کیے اس طرح دونوں نے خرقہ خلافت بھی حاصل کیا۔ اور شیراز کی طرف روانہ ہوگئے۔
آپ کی وفات ۷۳۵ھ میں ہے۔
شیخ شمس الدین صفی موسوی
سال ترحیلش چو جستم از خرد
آل احمد بود اولاد علی
گفت ہاتف شمس دین کامل صفی
۷۳۵ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-safiuddin-bin-ishaq-ardabili
scholars.pk
Hazrat Shah Safiuddin Bin Ishaq
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
ڈاکٹر سید حامد حسن بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا ڈاکٹر حامد حسن بلگرامی۔لقب:مفسرِ قرآن،جامع علوم جدیدہ وقدیمہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا ڈاکٹر سید حامد حسن بلگرامی بن سید محمود بلگرامی۔علیہماالرحمہ۔آپ کاآبائی علاقہ بلگرام (ہند)ہے۔یہی وجہ ہے کہ وطن کی نسبت نام کا جزو بن گئی۔آپ خاندانی طور پر زیدی واسطی سادات خاندان سےتعلق رکھتےتھے۔ساداتِ بلگرام کاسلسلۂ نسب حضرت امام زین العابدین تک منتہی ہوتا ہے ۔ اس خاندان میں بڑے بڑے اولیاءِ عظام، اور نامور علماء کرام پیدا ہوئےہیں۔میر سید عبدالواحد بلگرامی (صاحبِ سبع سنابل شریف) سلسلہ عالیہ چشتیہ کے بڑے عظیم بزرگ گزرے ہیں۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 5 رجب المرجب 1326ھ مطابق 2 اگست 1908ء کو بلگرام (ضلع ہردوئی، یوپی، ہند) میں ساداتِ کرام کے عظیم علمی وروحانی گھرانے میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی عمر میں والدین کا سایۂ شفقت سر سے اٹھ گیا۔یتیمی کے عالم میں تعلیمی سفر کا آغازکیا۔الہ آباد یونیورسٹی (انڈیا) سے بی۔اے۔ایم ۔ اےاردو کیا۔اس کے بعداسی درس گاہ سے اردو میں علامہ اقبال پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔علماء و مشائخ اہل سنت سے استفادہ اور مطالعہ کوتاحیات جاری رکھا اور جامعہ بہاولپور میں بھی علماء کی صحبت سے بہت کچھ حاصل کیا۔بالخصوص جامعہ اسلامیہ بہاول پورکےزمانےمیں حضرت غزالیِ زماں سید احمد سعید شاہ کاظمی اور شیخ العلماء حضرت علامہ مولانا سید محمد ہاشم فاضل شمسیسےخوب علمی استفادہ کیا۔
بیعت و خلافت:
آپ 1987ءکو سلسلہ عالیہ چشتیہ کےنامور صوفی بزرگ حضرت بابا عبید اللہ خان درانیسےبیعت ہوئے۔بابادرانی حضرت بابا تاج الدین ناگپوری اور ان کے خلیفہ و جیا نگرم یاوجےنگرم کے حضرت بابا قادر اولیاء سےصحبت یافتہ و فیض یافتہ اورکئی کتابوں کےمصنف تھے۔آپ نےاپنی تمام تصنیف و تالیف میں تصوف کا پیغام دیا ہے۔مثلاًکن فیکون،حیاتِ قادر،صبح اسلام،سالارِ زماں،رخسارِ دوست،بساط ِفقر،عاشق اور عارف وغیرہ۔ان تمام کتابوں کی اشاعت کا اعزاز ’’نشرح فاؤنڈیشن حسن اسکوائر کراچی‘‘نےحاصل کیا۔آپنے 1990ء میں انتقال کیا اور آخری آرام گاہ آستانہ قادرنگرضلع سوات بونیر(صوبہ سرحد)میں پیر بابا گاؤں سےپانچ کلومیٹردورپہاڑ وں میں واقع ہے۔(انوارعلمائےاہل سنت سندھ:203)
سیرت و خصائص:
جامع علوم قدیمہ وجدیدہ، مفسر قرآن، جامع کمالات علمیہ وعملیہ،حضرت علامہ مولانا پروفیسر ڈاکٹر سید حامد حسن بلگرامی۔آپ ایک علمی وروحانی خاندان کےچشم وچراغ تھے۔خاندان ساداتِ بلگرام کےعلمی وروحانی کمالات اور ان کی امانتوں کےوارثِ کامل تھے۔یتیمی میں پروان چڑھے محنت ِ شاقہ سےعلمی دنیامیں ایک مقام پیداکیا۔تمام زندگی فروغِ علم میں کوشاں رہے۔آپاخلاق کریمانہ اور دل ربا شخصیت کےحامل انسان تھے۔غرور،نخوت،اور عجب پسندی سےدور کا واسطہ بھی نہیں تھا۔علم وحکمت میں گہرائی اور معرفت وحقیقت کی وسعت حاصل تھی۔ان کےدل میں عشق مصطفیٰﷺکاچراغ روشن تھا۔جس کی وجہ سے انکی فکر ونظرسےعلم وحکمت کی شعائیں پھوٹتی تھیں۔آپکاسب سےبڑا احسان ترجمۂ وتفسیر’’ فیوض القرآن‘‘ہے۔جس سےمطالب قرآن تک قاری براہ راست عام فہم اور دلنشیں انداز میں رسائی حاصل کرسکتاہے۔یہ تفسیر جدید اذہان کےلئے مینارۂ نور ہے۔
درس و تدریس:
1937ء کو بھارت کی نامور درس گاہ ڈون پبلک اسکول ڈیرہ ڈون سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا۔ اس اسکول میں آپ واحد مسلمان استاد تھے ۔ 1948ء کو پاکستان تشریف لائے اور کچھ ہی روز قیام کے بعد اسی سال لندن یونیورسٹی لندن (برطانیہ) میں پاکستان کی زبان، تہذیب اورکلچر کے لیکچرار مقرر ہوئے اور پانچ سال بعد 1953ء میں وطن واپس آئے۔1960ء تک حکومت پاکستان کے تحت مرکزی پلاننگ بورڈ میں پہلے ڈپٹی چیف اور پھرسربراہ محکمہ تعلیمات کی حیثیت سے خدمات انجام دیں1960ء کو محکمہ اوقاف پنجاب کی جانب سے آئمہ و خطباء مساجد کی تربیت کیلئے’’علماء اکیڈمی‘‘ کا قیام عمل میں آیا جس میں آپ کو ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے بہاول پور کی’’جامعہ عباسیہ‘‘ کا نام ختم کرکے ’’اسلامیہ یونیورسٹی‘‘نام تجویز کیا اور آپ نے وہاں پانچ سال تک وائس چانسلر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔تقریباً ڈیڑھ برس مَلک عبد العزیز یونیورسٹی جدہ میں اسلامی تعلیمات کے پروفیسر رہے ۔ اس کے بعد کچھ عرصہ مرکز تعلیمات اسلامی کے مشیر کی حیثیت سے کام کیا ۔ 1981ء میں پاکستان واپسی ہوئی اور بقیہ زندگی کراچی میں لے پالک لڑکےجناب سہیل حامد کے ساتھ صائمہ گارڈن خالد بن ولید روڈ میں بسرفرمائی۔1951ء میں ڈاکٹر صاحب نے حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ کا سفر اختیار کرکے نبی اکرمﷺ کے نورانی دربار کی زیارت سے بہرہ مند ہوئے۔آپ نے شادی کی لیکن اولادنہیں ہوئی۔جس کی وجہ سے ایک بچہ سہیل حامد کو پالا تھا جو کہ اس وقت بیلجیئم میں برسر روز گار ہیں ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا ڈاکٹر حامد حسن بلگرامی۔لقب:مفسرِ قرآن،جامع علوم جدیدہ وقدیمہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا ڈاکٹر سید حامد حسن بلگرامی بن سید محمود بلگرامی۔علیہماالرحمہ۔آپ کاآبائی علاقہ بلگرام (ہند)ہے۔یہی وجہ ہے کہ وطن کی نسبت نام کا جزو بن گئی۔آپ خاندانی طور پر زیدی واسطی سادات خاندان سےتعلق رکھتےتھے۔ساداتِ بلگرام کاسلسلۂ نسب حضرت امام زین العابدین تک منتہی ہوتا ہے ۔ اس خاندان میں بڑے بڑے اولیاءِ عظام، اور نامور علماء کرام پیدا ہوئےہیں۔میر سید عبدالواحد بلگرامی (صاحبِ سبع سنابل شریف) سلسلہ عالیہ چشتیہ کے بڑے عظیم بزرگ گزرے ہیں۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 5 رجب المرجب 1326ھ مطابق 2 اگست 1908ء کو بلگرام (ضلع ہردوئی، یوپی، ہند) میں ساداتِ کرام کے عظیم علمی وروحانی گھرانے میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی عمر میں والدین کا سایۂ شفقت سر سے اٹھ گیا۔یتیمی کے عالم میں تعلیمی سفر کا آغازکیا۔الہ آباد یونیورسٹی (انڈیا) سے بی۔اے۔ایم ۔ اےاردو کیا۔اس کے بعداسی درس گاہ سے اردو میں علامہ اقبال پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔علماء و مشائخ اہل سنت سے استفادہ اور مطالعہ کوتاحیات جاری رکھا اور جامعہ بہاولپور میں بھی علماء کی صحبت سے بہت کچھ حاصل کیا۔بالخصوص جامعہ اسلامیہ بہاول پورکےزمانےمیں حضرت غزالیِ زماں سید احمد سعید شاہ کاظمی اور شیخ العلماء حضرت علامہ مولانا سید محمد ہاشم فاضل شمسیسےخوب علمی استفادہ کیا۔
بیعت و خلافت:
آپ 1987ءکو سلسلہ عالیہ چشتیہ کےنامور صوفی بزرگ حضرت بابا عبید اللہ خان درانیسےبیعت ہوئے۔بابادرانی حضرت بابا تاج الدین ناگپوری اور ان کے خلیفہ و جیا نگرم یاوجےنگرم کے حضرت بابا قادر اولیاء سےصحبت یافتہ و فیض یافتہ اورکئی کتابوں کےمصنف تھے۔آپ نےاپنی تمام تصنیف و تالیف میں تصوف کا پیغام دیا ہے۔مثلاًکن فیکون،حیاتِ قادر،صبح اسلام،سالارِ زماں،رخسارِ دوست،بساط ِفقر،عاشق اور عارف وغیرہ۔ان تمام کتابوں کی اشاعت کا اعزاز ’’نشرح فاؤنڈیشن حسن اسکوائر کراچی‘‘نےحاصل کیا۔آپنے 1990ء میں انتقال کیا اور آخری آرام گاہ آستانہ قادرنگرضلع سوات بونیر(صوبہ سرحد)میں پیر بابا گاؤں سےپانچ کلومیٹردورپہاڑ وں میں واقع ہے۔(انوارعلمائےاہل سنت سندھ:203)
سیرت و خصائص:
جامع علوم قدیمہ وجدیدہ، مفسر قرآن، جامع کمالات علمیہ وعملیہ،حضرت علامہ مولانا پروفیسر ڈاکٹر سید حامد حسن بلگرامی۔آپ ایک علمی وروحانی خاندان کےچشم وچراغ تھے۔خاندان ساداتِ بلگرام کےعلمی وروحانی کمالات اور ان کی امانتوں کےوارثِ کامل تھے۔یتیمی میں پروان چڑھے محنت ِ شاقہ سےعلمی دنیامیں ایک مقام پیداکیا۔تمام زندگی فروغِ علم میں کوشاں رہے۔آپاخلاق کریمانہ اور دل ربا شخصیت کےحامل انسان تھے۔غرور،نخوت،اور عجب پسندی سےدور کا واسطہ بھی نہیں تھا۔علم وحکمت میں گہرائی اور معرفت وحقیقت کی وسعت حاصل تھی۔ان کےدل میں عشق مصطفیٰﷺکاچراغ روشن تھا۔جس کی وجہ سے انکی فکر ونظرسےعلم وحکمت کی شعائیں پھوٹتی تھیں۔آپکاسب سےبڑا احسان ترجمۂ وتفسیر’’ فیوض القرآن‘‘ہے۔جس سےمطالب قرآن تک قاری براہ راست عام فہم اور دلنشیں انداز میں رسائی حاصل کرسکتاہے۔یہ تفسیر جدید اذہان کےلئے مینارۂ نور ہے۔
درس و تدریس:
1937ء کو بھارت کی نامور درس گاہ ڈون پبلک اسکول ڈیرہ ڈون سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا۔ اس اسکول میں آپ واحد مسلمان استاد تھے ۔ 1948ء کو پاکستان تشریف لائے اور کچھ ہی روز قیام کے بعد اسی سال لندن یونیورسٹی لندن (برطانیہ) میں پاکستان کی زبان، تہذیب اورکلچر کے لیکچرار مقرر ہوئے اور پانچ سال بعد 1953ء میں وطن واپس آئے۔1960ء تک حکومت پاکستان کے تحت مرکزی پلاننگ بورڈ میں پہلے ڈپٹی چیف اور پھرسربراہ محکمہ تعلیمات کی حیثیت سے خدمات انجام دیں1960ء کو محکمہ اوقاف پنجاب کی جانب سے آئمہ و خطباء مساجد کی تربیت کیلئے’’علماء اکیڈمی‘‘ کا قیام عمل میں آیا جس میں آپ کو ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے بہاول پور کی’’جامعہ عباسیہ‘‘ کا نام ختم کرکے ’’اسلامیہ یونیورسٹی‘‘نام تجویز کیا اور آپ نے وہاں پانچ سال تک وائس چانسلر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔تقریباً ڈیڑھ برس مَلک عبد العزیز یونیورسٹی جدہ میں اسلامی تعلیمات کے پروفیسر رہے ۔ اس کے بعد کچھ عرصہ مرکز تعلیمات اسلامی کے مشیر کی حیثیت سے کام کیا ۔ 1981ء میں پاکستان واپسی ہوئی اور بقیہ زندگی کراچی میں لے پالک لڑکےجناب سہیل حامد کے ساتھ صائمہ گارڈن خالد بن ولید روڈ میں بسرفرمائی۔1951ء میں ڈاکٹر صاحب نے حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ کا سفر اختیار کرکے نبی اکرمﷺ کے نورانی دربار کی زیارت سے بہرہ مند ہوئے۔آپ نے شادی کی لیکن اولادنہیں ہوئی۔جس کی وجہ سے ایک بچہ سہیل حامد کو پالا تھا جو کہ اس وقت بیلجیئم میں برسر روز گار ہیں ۔
❤1
آپ کی اہلیہ کا انتقال 1975ء کو حیدر آباد سندھ میں ہوا او روحیں مدفون ہیں۔(انوار علمائے اہل سنت سندھ ص: 203)
عادات و خصائل:
مولانا راشدی زید مجدہ فرماتے ہیں: بریگیڈیئر ڈاکٹر الحاج محمد اسلم ملک صاحب نے راقم راشدی غفرلہ کو ایک ملاقات میں بتایا کہ ڈاکٹر بلگرامی’’سچے عاشق رسول ﷺ تھے‘‘عجز و انکساری، وضع داری، تحمل و بردباری، اخلاق وآداب، محبت و خلوص، شیریں بیانی اور نکتہ سنجی آپ کی شخصیت کاخاصہ تھا۔اکثر صوفیانہ لٹریچر کا مطالعہ کرتے تھے اور صوفیانہ طبیعت رکھتے تھے اوراپنے پیر و مرشد سے بے حد عقیدت رکھتے تھے ان کی صحبت اور ان کے خلیفہ بابا صوفی محمد برکت علی (فیصل آباد) کی صحبت کیلئے پیرانہ سالی کے باوجود دور دراز کا سفر اختیار کرتے تھے۔
آپ صحیح العقیدہ سنی تھے،ایک بار آپ سےاستفسار کیا گیا کہ آپ کا تعلق اہل سنت و جماعت سے ہے اور آپ بزرگان دین کا تذکرہ جس محبت سے کرتے ہیں وہ یقیناً قابل رشک ہے مگر یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کے باجود مخالفین اہل سنت کا آپ نے اچھے اندازمیں ذکر کیا ہے اور اپنی تصانیف پر ان سے تقاریظ بھی لکھوائی ہیں؟آپ نےفرمایا:میں نےمخالفین اہل سنت علماءکےعلم کی تعریف کی ہوگی لیکن ان کے عقیدے ونظریےکوکبھی بھی پسند نہیں کیا۔ان کی تقاریظ و تبصروں کی اشاعت میں بھی یہ حکمت پوشیدہ رہی ہےکہ ان کے حلقۂ ارادت تک پیغامِ عشقِ رسولﷺاورعظمت اولیاء اللہ کو فروغ دوں تاکہ وہ بے چارے جو اب تک ایمان کی حلاوت سےمحروم ہیں اور یہ محرومی اگر نا وقفیت کی وجہ سے ہے تو انقلاب برپا ہوگا۔(انوارعلمائے اہل سنت سندھ:205)
ڈاکٹر حماد بلگرامی دوسرے مقام پر اپنے ایک مضمون ’’اسلام کا نظریہ تعلیم‘‘ میں لکھتے ہیں:’’اسلامی تعلیم کا مقصد بھی بچہ کی فطری صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور ان کو نشونما دیناہے۔نظم و ضبط،تعلیم کی لازمی کڑیاں ہیں۔دراصل تربیت تعلیم سے پہلے بھی ہے اور تربیت تعلیم کا نتیجہ بھی۔البتہ مغرب کے اس نظریہ تعلیم میں اسلام اس ناگزیر حقیقت کااضافہ کرتا ہےکہ ہربچہ کی فطرت میں وجود باری تعالیٰ کےاقرارکاایک احساس موجود ہے۔ بچہ وجود میں آتےہی اس ’’نور وحدت‘‘کی تلاش اس دنیا میں شروع کردیتا ہے۔پہلےفطری معصومیت سےپھر تجسس اور حیرت سےاوراس کےبعدعلم و معرفت سے،وجودِباری کایہ احساس تمام بنی نوع انسان میں موجود ہے اور یہی احساس ان میں ایک اخوت پیدا کرت اہے اور یہی نکتہ اتحاد ہے جسے’’وحدت‘‘یا نور وحدت‘‘سےتعبیر کیا گیا ہے۔یہی اسلامی تعلیم کا مرکزی تصور ہے اس مرکزی تصور کو لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کہاگیاہے۔اسلامی نظام تعلیم میں اسی مرکزی تصورکوشخصیت کی نشوونمااورتنظیم کیلئے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ ہر نظام تعلیم کا ایک مرکزی تصور ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے سوا جو تصور ہے وہ محدود ہے، نہ اس میں دوامیت ہوسکتی ہے،نہ وسعت جو جملہ بنی نوع انسان کو ایک ملک وحدت میں پرو سکے۔ یہ وہ وسعت ہے جو انسان انسان میں فرق نہیں کرتی۔ مساوات و اخوت کا یہ سبق نہ اشتراکیت دے سکتی ہے نہ جمہوریت۔ اسلام میں شخصیت کی ترقی کا منشاء خود اس کی زندگی کو پورے طور سے با معنی بنانا اور دوسروں کیلئے اس کی شخصیت کو مبدء فیض بنانا ہے۔ (اسلام کا نظریہ تعلیم: ماہنامہ ضیائے حرم، بھرہ ضلع سرگودھا ، اکتوبر ۱۹۷۰ء ص۲۳)
تصنیف و تالیف:
آپ صاحب تصنیف بزرگ تھے۔ انگریزی اور اردو میں بہت سی کتب آپ کی یادگار ہیں لیکن وہ اپنی دو تصانیف کو امت مصطفویہ کیلئے امانت تصور کرتے تھے جن میں ایک (۱) فیوض القرآن (۲) نور مبین۔آپ کی تخلیقات میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں:1۔ تفسیر فیوض القرآن (اردو) دوجلدیں بہاول پور کے قیام کے دوران تحریر فرمائی اس پر علامہ کاظمی کی تقریظ بھی ثبت ہے۔2۔نورمبین حضور پاکﷺ کےانواروتجلیات وکمالات فضائل و معجزات پر مشتمل ہے۔3۔اسلامی نظریہ تعلیم۔4۔درود تاج (ترجمہ تشریح)5۔سائبان رحمت6۔تنویر سحر7۔ندائے حرم8۔زادراہ۔9۔حرف آخر۔آخری دنوں میں دوران علالت زندگی کی کچھ یاد داشت رقم کرائیں
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 2 ذیقعدہ 1421ھ مطابق 28 جنوری 2001ء بروز اتوار 93 سال کی عمر میں کراچی میں ہوا۔نور مسجد حالی روڈ پر نماز جنازہ ادا کی گئی اور پاپوش نگر قبرستان ناظم آباد کراچی میں آخری آرام گاہ ہے۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔ مقدمہ فیوض القرآن ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/doctor-hamid-hasan-balgrami
عادات و خصائل:
مولانا راشدی زید مجدہ فرماتے ہیں: بریگیڈیئر ڈاکٹر الحاج محمد اسلم ملک صاحب نے راقم راشدی غفرلہ کو ایک ملاقات میں بتایا کہ ڈاکٹر بلگرامی’’سچے عاشق رسول ﷺ تھے‘‘عجز و انکساری، وضع داری، تحمل و بردباری، اخلاق وآداب، محبت و خلوص، شیریں بیانی اور نکتہ سنجی آپ کی شخصیت کاخاصہ تھا۔اکثر صوفیانہ لٹریچر کا مطالعہ کرتے تھے اور صوفیانہ طبیعت رکھتے تھے اوراپنے پیر و مرشد سے بے حد عقیدت رکھتے تھے ان کی صحبت اور ان کے خلیفہ بابا صوفی محمد برکت علی (فیصل آباد) کی صحبت کیلئے پیرانہ سالی کے باوجود دور دراز کا سفر اختیار کرتے تھے۔
آپ صحیح العقیدہ سنی تھے،ایک بار آپ سےاستفسار کیا گیا کہ آپ کا تعلق اہل سنت و جماعت سے ہے اور آپ بزرگان دین کا تذکرہ جس محبت سے کرتے ہیں وہ یقیناً قابل رشک ہے مگر یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کے باجود مخالفین اہل سنت کا آپ نے اچھے اندازمیں ذکر کیا ہے اور اپنی تصانیف پر ان سے تقاریظ بھی لکھوائی ہیں؟آپ نےفرمایا:میں نےمخالفین اہل سنت علماءکےعلم کی تعریف کی ہوگی لیکن ان کے عقیدے ونظریےکوکبھی بھی پسند نہیں کیا۔ان کی تقاریظ و تبصروں کی اشاعت میں بھی یہ حکمت پوشیدہ رہی ہےکہ ان کے حلقۂ ارادت تک پیغامِ عشقِ رسولﷺاورعظمت اولیاء اللہ کو فروغ دوں تاکہ وہ بے چارے جو اب تک ایمان کی حلاوت سےمحروم ہیں اور یہ محرومی اگر نا وقفیت کی وجہ سے ہے تو انقلاب برپا ہوگا۔(انوارعلمائے اہل سنت سندھ:205)
ڈاکٹر حماد بلگرامی دوسرے مقام پر اپنے ایک مضمون ’’اسلام کا نظریہ تعلیم‘‘ میں لکھتے ہیں:’’اسلامی تعلیم کا مقصد بھی بچہ کی فطری صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور ان کو نشونما دیناہے۔نظم و ضبط،تعلیم کی لازمی کڑیاں ہیں۔دراصل تربیت تعلیم سے پہلے بھی ہے اور تربیت تعلیم کا نتیجہ بھی۔البتہ مغرب کے اس نظریہ تعلیم میں اسلام اس ناگزیر حقیقت کااضافہ کرتا ہےکہ ہربچہ کی فطرت میں وجود باری تعالیٰ کےاقرارکاایک احساس موجود ہے۔ بچہ وجود میں آتےہی اس ’’نور وحدت‘‘کی تلاش اس دنیا میں شروع کردیتا ہے۔پہلےفطری معصومیت سےپھر تجسس اور حیرت سےاوراس کےبعدعلم و معرفت سے،وجودِباری کایہ احساس تمام بنی نوع انسان میں موجود ہے اور یہی احساس ان میں ایک اخوت پیدا کرت اہے اور یہی نکتہ اتحاد ہے جسے’’وحدت‘‘یا نور وحدت‘‘سےتعبیر کیا گیا ہے۔یہی اسلامی تعلیم کا مرکزی تصور ہے اس مرکزی تصور کو لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کہاگیاہے۔اسلامی نظام تعلیم میں اسی مرکزی تصورکوشخصیت کی نشوونمااورتنظیم کیلئے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ ہر نظام تعلیم کا ایک مرکزی تصور ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے سوا جو تصور ہے وہ محدود ہے، نہ اس میں دوامیت ہوسکتی ہے،نہ وسعت جو جملہ بنی نوع انسان کو ایک ملک وحدت میں پرو سکے۔ یہ وہ وسعت ہے جو انسان انسان میں فرق نہیں کرتی۔ مساوات و اخوت کا یہ سبق نہ اشتراکیت دے سکتی ہے نہ جمہوریت۔ اسلام میں شخصیت کی ترقی کا منشاء خود اس کی زندگی کو پورے طور سے با معنی بنانا اور دوسروں کیلئے اس کی شخصیت کو مبدء فیض بنانا ہے۔ (اسلام کا نظریہ تعلیم: ماہنامہ ضیائے حرم، بھرہ ضلع سرگودھا ، اکتوبر ۱۹۷۰ء ص۲۳)
تصنیف و تالیف:
آپ صاحب تصنیف بزرگ تھے۔ انگریزی اور اردو میں بہت سی کتب آپ کی یادگار ہیں لیکن وہ اپنی دو تصانیف کو امت مصطفویہ کیلئے امانت تصور کرتے تھے جن میں ایک (۱) فیوض القرآن (۲) نور مبین۔آپ کی تخلیقات میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں:1۔ تفسیر فیوض القرآن (اردو) دوجلدیں بہاول پور کے قیام کے دوران تحریر فرمائی اس پر علامہ کاظمی کی تقریظ بھی ثبت ہے۔2۔نورمبین حضور پاکﷺ کےانواروتجلیات وکمالات فضائل و معجزات پر مشتمل ہے۔3۔اسلامی نظریہ تعلیم۔4۔درود تاج (ترجمہ تشریح)5۔سائبان رحمت6۔تنویر سحر7۔ندائے حرم8۔زادراہ۔9۔حرف آخر۔آخری دنوں میں دوران علالت زندگی کی کچھ یاد داشت رقم کرائیں
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 2 ذیقعدہ 1421ھ مطابق 28 جنوری 2001ء بروز اتوار 93 سال کی عمر میں کراچی میں ہوا۔نور مسجد حالی روڈ پر نماز جنازہ ادا کی گئی اور پاپوش نگر قبرستان ناظم آباد کراچی میں آخری آرام گاہ ہے۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔ مقدمہ فیوض القرآن ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/doctor-hamid-hasan-balgrami
scholars.pk
Doctor Hamid Hasan Balgrami
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شیخ الادب حضرت علامہ مولانا شمس بریلوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا شمس الحسن صدیقی ۔ عرفی نام: شمس بریلوی۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا شمس الحسن صدیقی بن مولانا ابوالحسن صدیقی بن مولانا حکیم محمد ابراہیم بدایونی۔(علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 1337ھ / 1919ء کو بریلی شریف کے اس مکان میں پیداہوئے جس میں امام ِ اہلسنت امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ 1856ء میں پیداہوئے تھے۔یہ مکان دراصل امام ِاہلسنت کےجدِ ِامجد کی ملکیت تھا جس کوبعد میں حضرت شمس کے والد صاحب نےخرید لیا تھا۔
تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ رسم بسم اللہ کے بعد بریلی شریف کے دار العلو م منظر اسلا م میں اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے خلفاء اور دیگر مقتدر علماء سے تعلیم حاصل کی ۔ آپ کے بعض اساتذہ کرام کے نام یہ ہیں:حجۃالاسلام مفتی حامد رضا خان علیہ الرحمہ ، حافظ عبدالکریم چتور گڑھی، مولانا رحم الہی منگلوری ،مولانا احسان علی مونگیری ، مولانا قاسم علی بریلوی ، مولانا رونق علی بریلوی وغیرہ۔ اس مدرسہ کے علاوہ آپ نے الہ آبا د بورڈ سے فارسی زبان کے امتحانات ، منشی کامل اور ادیب کامل کے امتحانات امتیازی نمبروں سے پاس کئے ۔
بیعت و خلافت:
استاذ العلماء حضرت علامہ مفتی تقدس علی خان بریلوی علیہ الرحمہ کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الادب حضرت علامہ مولانا شمس بریلوی علیہ الرحمہ ایک علمی خانوادہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ آپ کے والد ، دادا ، پردادا کے علاوہ آپ کے تایا مولانا ریاض الدین صدیقی بریلوی (1933ء )، صاحبِ تصانیف بزرگ گذرے ہیں روہیل کھنڈاور بریلی کے مشاہیر علماء شعراء اور ادباء میں ان حضرات کا شمار کیا جاتاہے ۔ آپ نے تدریس کا آغاز صرف 17 سال کی عمر میں مدرسہ منظر اسلام میں 1935ء سے شعبہ فارسی میں بحیثیت استاد کیا اور 1945ء تک یہ خدمت سرانجام دیتے رہے، اور جب آپ نے مدرسہ منظر اسلام سے رخصت لی اس وقت آپ شعبہ فارسی کے صدر مدرس تھے ۔ 1945ء تا 1954ء آپ بریلی کے اسلامیہ کالج میں استاد کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ آپ 1956ء میں پاکستان تشریف لے آئے اور گورنمنٹ اسکول ایئر پورٹ میں ملازمت اختیار کی اور 1975ء میں اس ملازمت سے سبکدوش ہوئے ۔
آپ سچے پکے سنی حنفی بریلوی مسلمان ، رواداری کے پابند ، سچے اور کھرے مخلص اور وفاداردوست ، وقت اور وعد ے کے پابند ، زبان و قلم میں محتاط ، انتہائی حساس ، مہمان نوازدوستوں سے اچھی توقعات رکھتے اور گوشہ نشین بزرگ تھے ۔آپ کی قلمی خدمات کو ہمیشہ یادرکھا جائیگا۔
وصال:
حضرت شمس بریلوی علیہ الرحمہ 2 ذیقعدہ 1417ھ، بمطابق 12 مارچ 1997ء بروز بدھ بعد نماز عشاء رات 9 بجے شفا ہاسپیٹل کراچی میں اس دنیا سے رخصت ہوئے ۔ کراچی کے سخی حسن قبرستان (نارتھ ناظم آباد )میں تدفین ہوئی۔قبر پر یہ کتبہ درج ہے:
وہ جو اک مقدمہ نگار تھا ، وہ جو اک ادیبِ شہیر تھا
جسے کہتے تھے شمس بریلوی یہ اس کی لوح ِمزار ہے
ماخذ و مراجع:
تعارف علمائے اہلسنت سندھ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/molana-shams-barelvi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا شمس الحسن صدیقی ۔ عرفی نام: شمس بریلوی۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا شمس الحسن صدیقی بن مولانا ابوالحسن صدیقی بن مولانا حکیم محمد ابراہیم بدایونی۔(علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 1337ھ / 1919ء کو بریلی شریف کے اس مکان میں پیداہوئے جس میں امام ِ اہلسنت امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ 1856ء میں پیداہوئے تھے۔یہ مکان دراصل امام ِاہلسنت کےجدِ ِامجد کی ملکیت تھا جس کوبعد میں حضرت شمس کے والد صاحب نےخرید لیا تھا۔
تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ رسم بسم اللہ کے بعد بریلی شریف کے دار العلو م منظر اسلا م میں اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے خلفاء اور دیگر مقتدر علماء سے تعلیم حاصل کی ۔ آپ کے بعض اساتذہ کرام کے نام یہ ہیں:حجۃالاسلام مفتی حامد رضا خان علیہ الرحمہ ، حافظ عبدالکریم چتور گڑھی، مولانا رحم الہی منگلوری ،مولانا احسان علی مونگیری ، مولانا قاسم علی بریلوی ، مولانا رونق علی بریلوی وغیرہ۔ اس مدرسہ کے علاوہ آپ نے الہ آبا د بورڈ سے فارسی زبان کے امتحانات ، منشی کامل اور ادیب کامل کے امتحانات امتیازی نمبروں سے پاس کئے ۔
بیعت و خلافت:
استاذ العلماء حضرت علامہ مفتی تقدس علی خان بریلوی علیہ الرحمہ کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الادب حضرت علامہ مولانا شمس بریلوی علیہ الرحمہ ایک علمی خانوادہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ آپ کے والد ، دادا ، پردادا کے علاوہ آپ کے تایا مولانا ریاض الدین صدیقی بریلوی (1933ء )، صاحبِ تصانیف بزرگ گذرے ہیں روہیل کھنڈاور بریلی کے مشاہیر علماء شعراء اور ادباء میں ان حضرات کا شمار کیا جاتاہے ۔ آپ نے تدریس کا آغاز صرف 17 سال کی عمر میں مدرسہ منظر اسلام میں 1935ء سے شعبہ فارسی میں بحیثیت استاد کیا اور 1945ء تک یہ خدمت سرانجام دیتے رہے، اور جب آپ نے مدرسہ منظر اسلام سے رخصت لی اس وقت آپ شعبہ فارسی کے صدر مدرس تھے ۔ 1945ء تا 1954ء آپ بریلی کے اسلامیہ کالج میں استاد کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ آپ 1956ء میں پاکستان تشریف لے آئے اور گورنمنٹ اسکول ایئر پورٹ میں ملازمت اختیار کی اور 1975ء میں اس ملازمت سے سبکدوش ہوئے ۔
آپ سچے پکے سنی حنفی بریلوی مسلمان ، رواداری کے پابند ، سچے اور کھرے مخلص اور وفاداردوست ، وقت اور وعد ے کے پابند ، زبان و قلم میں محتاط ، انتہائی حساس ، مہمان نوازدوستوں سے اچھی توقعات رکھتے اور گوشہ نشین بزرگ تھے ۔آپ کی قلمی خدمات کو ہمیشہ یادرکھا جائیگا۔
وصال:
حضرت شمس بریلوی علیہ الرحمہ 2 ذیقعدہ 1417ھ، بمطابق 12 مارچ 1997ء بروز بدھ بعد نماز عشاء رات 9 بجے شفا ہاسپیٹل کراچی میں اس دنیا سے رخصت ہوئے ۔ کراچی کے سخی حسن قبرستان (نارتھ ناظم آباد )میں تدفین ہوئی۔قبر پر یہ کتبہ درج ہے:
وہ جو اک مقدمہ نگار تھا ، وہ جو اک ادیبِ شہیر تھا
جسے کہتے تھے شمس بریلوی یہ اس کی لوح ِمزار ہے
ماخذ و مراجع:
تعارف علمائے اہلسنت سندھ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/molana-shams-barelvi
scholars.pk
Molana Shams Barelvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
سیدنا حماد بن امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شیخ حماد علیہ الرحمہ ۔کنیت: ابو اسمٰعیل ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ حماد بن امام الائمہ سراج الامۃ امامِ اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ ۔
سیرت و خصائص:
آپ بہت بڑے زاہد و عاہد اور پر ہیز گار تھے ۔ حدیث وفقہ کی تحصیل وتکمیل اپنے والد ماجد سے ہوئی ۔ فقہ میں یہاں تک کمال مہارت پیدا کرلی تھی کہ اپنے والد ماجد ہی کے زمانے میں فتوے دیا کرتے تھے۔آپ کا شمار امام ابو یوسف ، امام محمد،امام زفر، حسن بن زیادہ( علیہم الرحمہ) کےطبقے میں ہوتاتھا، اور تدوین کتب ِفقہ میں ان کے معاون ومددگارتھے۔جب حضرت امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے ،تو آپ کے قبضےمیں سونے چاندی کے بہت سے ودائع اور امانتیں ترکہ میں آئیں۔ جن کے مالک مفقود تھے۔آپ نےان سب کو قاضی کے پاس لے جاکر سپرد کردیا۔ قاضی صاحب نے بہت دفعہ کہا کہ آپ بڑے امین ہیں ، اپنے ہی پاس رہنے دیں، مگر آپ نے امانتیں قبول نہ فرمائیں۔آپ سے آپ کے بیٹے اسمٰعیل نے تفقہ کیا اور کامل ہوئے۔قاسم بن معین کی وفات کے بعدآپ کو فہ کے قاضی مقرر ہوئے۔
وصال:
2 ذیقعدہ 176ھ میں انتقال فرمایا۔ "قطبِ دنیا"آپ کامادۂ تاریخ ِوفات ہے ۔ ( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hammad-bin-imam-azam-abu-hanifa-kufi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شیخ حماد علیہ الرحمہ ۔کنیت: ابو اسمٰعیل ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ حماد بن امام الائمہ سراج الامۃ امامِ اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ ۔
سیرت و خصائص:
آپ بہت بڑے زاہد و عاہد اور پر ہیز گار تھے ۔ حدیث وفقہ کی تحصیل وتکمیل اپنے والد ماجد سے ہوئی ۔ فقہ میں یہاں تک کمال مہارت پیدا کرلی تھی کہ اپنے والد ماجد ہی کے زمانے میں فتوے دیا کرتے تھے۔آپ کا شمار امام ابو یوسف ، امام محمد،امام زفر، حسن بن زیادہ( علیہم الرحمہ) کےطبقے میں ہوتاتھا، اور تدوین کتب ِفقہ میں ان کے معاون ومددگارتھے۔جب حضرت امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے ،تو آپ کے قبضےمیں سونے چاندی کے بہت سے ودائع اور امانتیں ترکہ میں آئیں۔ جن کے مالک مفقود تھے۔آپ نےان سب کو قاضی کے پاس لے جاکر سپرد کردیا۔ قاضی صاحب نے بہت دفعہ کہا کہ آپ بڑے امین ہیں ، اپنے ہی پاس رہنے دیں، مگر آپ نے امانتیں قبول نہ فرمائیں۔آپ سے آپ کے بیٹے اسمٰعیل نے تفقہ کیا اور کامل ہوئے۔قاسم بن معین کی وفات کے بعدآپ کو فہ کے قاضی مقرر ہوئے۔
وصال:
2 ذیقعدہ 176ھ میں انتقال فرمایا۔ "قطبِ دنیا"آپ کامادۂ تاریخ ِوفات ہے ۔ ( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hammad-bin-imam-azam-abu-hanifa-kufi
scholars.pk
Hazrat Hammad Bin Imam Azam Abu Hanifa Kufi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1