🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-11-1444 ᴴ | 22-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-11-1444 ᴴ | 22-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت مولانا صوفی حمید اللہ انڑ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بن الحاج صوفی غلام قادر انڑ گوٹھ نو آباد (تحصیل ڈوکری ضلع لاڑکانہ) میں 11،اکتوبر 1915ء کو تولد ہوئے۔
تعلیم و تربیت
آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے گھر میں ہوئی۔ والد ماجد دیندار ، صوفی منش، خدا رسیدہ درویش اور مہمان نواز شخصیت کے مالک تھے۔ صوفی غلام قادر دین کی خدمت کا جذبہ رکھتے تھے اسی جذبہ کے تحت گوٹھ میں دینی مدرسہ قائم کر رکھا تھا، جہاں حضرت مولانا غلام محمد شاہانی (جو کہ علم معقول و منقول کے ماہر استاد تھے) تدریس کے فرائض انجام دیتے تھے۔
صوفی حمید اللہ نے پہلے مولانا غلام محمد سے تعلیم حاصل کی۔ اجمیر شریف (انڈیا) سے حضرت مولانا علامہ عبداللہ (جو کہ علم منطق کالم اور فلسفہ کے ماہر استاد تھے) کو مدعو فرما کر مدرسہ مدرس مقرر کیا، ان کی خدمت میں بھی رہ کر اکتساب فیض کیا۔ اس کے بعد بیڑو چانڈیو (گوٹھ) کی درسگاہ میں ایک سال رہ کر مولاناغلام رسول عباسی سے بقیہ کتب پڑھ کر نصاب مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے اور دستار فضیلت سے مشرف ہوئے۔
درس و تدریس:
بعد فراغت آبائی گوٹھ میں والد محترم کی قائم کردہ درسگاہ سے تدریس کا آغاز کیا لیکن سیلاب کی وجہ سے آبائی گوٹھ کو خیربادکہہ کر گوٹھ پٹھان (تحصیل ڈوکری) میں مستقل سکونت اختیار کی، وہاں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ 1970ء میں گوٹھ پٹھان سے لاڑکانہ شہر شفٹ ہو کر آئے اور محلہ قافلہ اسراء نزد بہشتی مسجد میں رہائش اختیار کی اوراپنے استاد محترم حضرت مولانا غلام رسول عباسی کے مدرسہ سے متصل اللہ والی مسجد با قرانی روڈ لاڑکانہ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔
تلامذہ:
آپ کے نامور تلامذہ درج ذیل ہیں
علامہ مولانا ہدایت اللہ آریجوی مہتمم مدرسہ جامعہ حسنیہ رضویہ آریجہ
علاہ مولانا خیر محمد رضوی متہمم مدرسہ عربیہ حنفیہ غوثیہ کلیکٹری مسجد لاڑکانہ
مولانا مفتی غلام محمد قاسمی مہتمم دارالعلوم غوثیہ رضویہ قاسمیہ کوئٹہ
مولانا مفتی محمد وارث قاسمی مہتمم دارالعلوم قاسمیہ کوئٹہ
مولاناابو الفیض محمد حسن قلندرانی قاسمی خطیب حیدرآباد
مولانا محمد عالم بروہی خضدار
مولانا قاری خیر محمد قاسمی خطیب جامع مسجد شیخ زید کالونی لاڑکانہ
مولانا مولاداد سہڑو
بیعت و عقیدت:
یہ معلوم نہ ہو سکا کہ آپ کن سے بیعت تھے البتہ فقیہ اعظم حضور فیض گنجور ، بحر العلوم والفیوض ، تاج العارفین، امام المیراث ، حضرت علامہ مفتی محمد قاسم المثوری قدس سرہٗ سے نہایت عقیدت رکھتے تھے اور حضرت کی زیارت و صحبت کیلئے درگاہ مشوری شریف اکثر حاضری دیاکرتے تھے۔
عادات و خصائل:
مولانا حمید اللہ عالم باعمل، گم نام صوفی، کم گو، گوشہ نشین، طلباء پر مہربان، اپنے گوٹھ میں طلباء کے بسترے کھانے پینے کی ذمہ داری خوب نبھاتے تھے، تمام اخراجات اپنی زمہ داری سے پورے کرتے تھے۔ مدرسہ کے اخراجات کیلئے چندہ کی تکلیف گوارہ نہیں فرماتے تھے۔ زندگی بھر تصفیہ نفس کا درس دیتے رہے۔ ایسے با اخلاق و مروت عالم آج کہاں ہیں؟ علمی استعداد کا یہ عالم تھا کہ مشکل لا ینحل مسائل کو چٹکیوں میں حل فرمادیا کرتے تھے اور دوران درس منطق فلسفہ و کلام کے مشکل مقامات پر ایسی دلکش و پر اثر تقریر فرماتے کہ مسئلہ آسانی سے دماغ میں بیٹھ جاتا ۔ عبادت کا یہ عالم تھا کہ ساری رات تسبیح و تحلیل ، ذکر شریف ، درود شریف اور نوافل کی ادائیگی میں بسر ہوا کرتی تھی۔
سفر حرمین شریفین:
1973ء میں حج بیت اللہ اور روضہ رسول ﷺ کی حاضری و زیارت کی سعادت حاصل ہوئی۔
منصب و ملازمت:
ایک بار صدر پاکستان جنرل ایوب خان کے دور حکومت میں آپ یونین کونسل پٹھان کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ دوران منصب حق سچ، عدل و انصاف، خدمت خلق، خدا ترسی اور ہمدردی کا بول بالا کر دیا۔ کسانوں کے مسائل حل کرانے میں خاص دلچسپی سے کام لیا۔ فلاح و ترقی کے خوب کام سر انجام دیئے۔ بیوہ خواتین، یتیم، جسمانی معذور اور غریبوں کی مالی امداد کی۔ راشن اور سلائی مشینیں تقسیم کیں، انہوں نے ہمیشہ غریبوں کے دکھوں کو اپنا دکھ سمجھا۔
شادی و اولاد:
آپ نے ایک شادی کی جس کے بطن سے تین بیٹیاں اور تین بیٹے تولد ہوئے ۔
عطاء اللہ
ثناء اللہ
حافظ محمد رف نالے مٹھوانڑ
وصال:
علامہ حمید اللہ انڑ نے 24 ، رجب المرجب 1411ھ بمطابق 21فروری 1990ء کو انتقال کیا ۔ نما جنازہ شیخ طریقت تاج السالکین حضرت میاں علی محمد مشوری القادری علیہ الرحمۃ (سجادہ نشین درگاہ مشوری شریف) کی اقتداء میں ادا ہوئی۔ شہر لاڑکانہ میں درگارہ شریف حضرت قائم شاہ بخاری علیہ الرحمۃ کے زیر سایہ قبرستان میں آخری آرامگاہ واقع ہے۔
حافظ نالے مٹھوانڑ۔ حافظ عبدالستار ابڑو کے ارسال کردہ مواد سے سوانح ترتیب دی گئی۔
( انوارِعلماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-sufi-hameedullah
تعلیم و تربیت
آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے گھر میں ہوئی۔ والد ماجد دیندار ، صوفی منش، خدا رسیدہ درویش اور مہمان نواز شخصیت کے مالک تھے۔ صوفی غلام قادر دین کی خدمت کا جذبہ رکھتے تھے اسی جذبہ کے تحت گوٹھ میں دینی مدرسہ قائم کر رکھا تھا، جہاں حضرت مولانا غلام محمد شاہانی (جو کہ علم معقول و منقول کے ماہر استاد تھے) تدریس کے فرائض انجام دیتے تھے۔
صوفی حمید اللہ نے پہلے مولانا غلام محمد سے تعلیم حاصل کی۔ اجمیر شریف (انڈیا) سے حضرت مولانا علامہ عبداللہ (جو کہ علم منطق کالم اور فلسفہ کے ماہر استاد تھے) کو مدعو فرما کر مدرسہ مدرس مقرر کیا، ان کی خدمت میں بھی رہ کر اکتساب فیض کیا۔ اس کے بعد بیڑو چانڈیو (گوٹھ) کی درسگاہ میں ایک سال رہ کر مولاناغلام رسول عباسی سے بقیہ کتب پڑھ کر نصاب مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے اور دستار فضیلت سے مشرف ہوئے۔
درس و تدریس:
بعد فراغت آبائی گوٹھ میں والد محترم کی قائم کردہ درسگاہ سے تدریس کا آغاز کیا لیکن سیلاب کی وجہ سے آبائی گوٹھ کو خیربادکہہ کر گوٹھ پٹھان (تحصیل ڈوکری) میں مستقل سکونت اختیار کی، وہاں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ 1970ء میں گوٹھ پٹھان سے لاڑکانہ شہر شفٹ ہو کر آئے اور محلہ قافلہ اسراء نزد بہشتی مسجد میں رہائش اختیار کی اوراپنے استاد محترم حضرت مولانا غلام رسول عباسی کے مدرسہ سے متصل اللہ والی مسجد با قرانی روڈ لاڑکانہ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔
تلامذہ:
آپ کے نامور تلامذہ درج ذیل ہیں
علامہ مولانا ہدایت اللہ آریجوی مہتمم مدرسہ جامعہ حسنیہ رضویہ آریجہ
علاہ مولانا خیر محمد رضوی متہمم مدرسہ عربیہ حنفیہ غوثیہ کلیکٹری مسجد لاڑکانہ
مولانا مفتی غلام محمد قاسمی مہتمم دارالعلوم غوثیہ رضویہ قاسمیہ کوئٹہ
مولانا مفتی محمد وارث قاسمی مہتمم دارالعلوم قاسمیہ کوئٹہ
مولاناابو الفیض محمد حسن قلندرانی قاسمی خطیب حیدرآباد
مولانا محمد عالم بروہی خضدار
مولانا قاری خیر محمد قاسمی خطیب جامع مسجد شیخ زید کالونی لاڑکانہ
مولانا مولاداد سہڑو
بیعت و عقیدت:
یہ معلوم نہ ہو سکا کہ آپ کن سے بیعت تھے البتہ فقیہ اعظم حضور فیض گنجور ، بحر العلوم والفیوض ، تاج العارفین، امام المیراث ، حضرت علامہ مفتی محمد قاسم المثوری قدس سرہٗ سے نہایت عقیدت رکھتے تھے اور حضرت کی زیارت و صحبت کیلئے درگاہ مشوری شریف اکثر حاضری دیاکرتے تھے۔
عادات و خصائل:
مولانا حمید اللہ عالم باعمل، گم نام صوفی، کم گو، گوشہ نشین، طلباء پر مہربان، اپنے گوٹھ میں طلباء کے بسترے کھانے پینے کی ذمہ داری خوب نبھاتے تھے، تمام اخراجات اپنی زمہ داری سے پورے کرتے تھے۔ مدرسہ کے اخراجات کیلئے چندہ کی تکلیف گوارہ نہیں فرماتے تھے۔ زندگی بھر تصفیہ نفس کا درس دیتے رہے۔ ایسے با اخلاق و مروت عالم آج کہاں ہیں؟ علمی استعداد کا یہ عالم تھا کہ مشکل لا ینحل مسائل کو چٹکیوں میں حل فرمادیا کرتے تھے اور دوران درس منطق فلسفہ و کلام کے مشکل مقامات پر ایسی دلکش و پر اثر تقریر فرماتے کہ مسئلہ آسانی سے دماغ میں بیٹھ جاتا ۔ عبادت کا یہ عالم تھا کہ ساری رات تسبیح و تحلیل ، ذکر شریف ، درود شریف اور نوافل کی ادائیگی میں بسر ہوا کرتی تھی۔
سفر حرمین شریفین:
1973ء میں حج بیت اللہ اور روضہ رسول ﷺ کی حاضری و زیارت کی سعادت حاصل ہوئی۔
منصب و ملازمت:
ایک بار صدر پاکستان جنرل ایوب خان کے دور حکومت میں آپ یونین کونسل پٹھان کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ دوران منصب حق سچ، عدل و انصاف، خدمت خلق، خدا ترسی اور ہمدردی کا بول بالا کر دیا۔ کسانوں کے مسائل حل کرانے میں خاص دلچسپی سے کام لیا۔ فلاح و ترقی کے خوب کام سر انجام دیئے۔ بیوہ خواتین، یتیم، جسمانی معذور اور غریبوں کی مالی امداد کی۔ راشن اور سلائی مشینیں تقسیم کیں، انہوں نے ہمیشہ غریبوں کے دکھوں کو اپنا دکھ سمجھا۔
شادی و اولاد:
آپ نے ایک شادی کی جس کے بطن سے تین بیٹیاں اور تین بیٹے تولد ہوئے ۔
عطاء اللہ
ثناء اللہ
حافظ محمد رف نالے مٹھوانڑ
وصال:
علامہ حمید اللہ انڑ نے 24 ، رجب المرجب 1411ھ بمطابق 21فروری 1990ء کو انتقال کیا ۔ نما جنازہ شیخ طریقت تاج السالکین حضرت میاں علی محمد مشوری القادری علیہ الرحمۃ (سجادہ نشین درگاہ مشوری شریف) کی اقتداء میں ادا ہوئی۔ شہر لاڑکانہ میں درگارہ شریف حضرت قائم شاہ بخاری علیہ الرحمۃ کے زیر سایہ قبرستان میں آخری آرامگاہ واقع ہے۔
حافظ نالے مٹھوانڑ۔ حافظ عبدالستار ابڑو کے ارسال کردہ مواد سے سوانح ترتیب دی گئی۔
( انوارِعلماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-sufi-hameedullah
scholars.pk
Hazrat Molana Sufi Hameedullah
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شاہ ابو سعید مجددی رام پوری رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسم گرامی:حضرت شاہ ابوسعیدرحمۃ اللہ علیہ۔لقب:عارف باللہ۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:آپ کا سلسلہ نسب حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ سے بایں طور ملتا ہے: حضرت مولانا شاہ ابو سعید مجددی رام پوری بن شاہ صفی القدر بن شاہ عزیز القدر بن شاہ عیسیٰ بن خواجہ سیف الدین بن خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی حضرت مجدد الفِ ثانی (علیہم الرحمۃ والرضوان)۔(تذکرہ کاملان رام پور:14)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 2/ذیقعد 1196ھ،مطابق اکتوبر1782ءکورام پور(انڈیا) میں ہوئی۔
تحصیل علم:تقریباً دس سال کی عمر میں آپ نے قرآن شریف حفظ کرلیا بعد ازاں قاری نسیم سے علم تجوید حاصل کیا۔ آپ قرآن مجید ایسی ترتیل سے پڑھا کرتے تھے کہ سننے والے محو ہوجایا کرتے۔ حتیٰ کہ جب آپ حرم مکہ معظّمہ میں وارد ہوئے تو اہلِ عرب نے آپ کی قرأت سُن کر تعریف و تحسین کی۔ حفظ قرآن کے بعد علوم عقلیہ و نقلیہ مفتی شرف الدین اور مولانا رفیع الدین بن شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے حاصل کیے ۔حدیث کی سند اپنے مرشد سے اور حضرت شاہ سراج احمد بن حضرت محمد مرشد مجددی اور شاہ عبد العزیز دہلوی سے حاصل کی۔(تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ:439)
بیعت وخلافت: اپنے والد گرامی سےآبائی طریقے پر مرید ہوئے،اور والد صاحب کےایماء پر حضرت شاہ درگاہی سےبیعت ہوئے۔حضرت شاہ صاحب درگاہی نے آپ کے حال پر بڑی عنایت فرمائی اور چند ہی روز میں آپ کو اجازت و خلافت عطا فرمائی۔ابھی تشنگی باقی تھی آپ نےحضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی کوخط لکھا،انہوں نےجواب میں ارشاد فرمایا: کہ اس وقت میری نظر میں حضرت شاہ غلام علی دہلوی سےبہترکوئی نہیں۔پھر آپ حضرت شاہ غلام علی دہلوی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ابتدا سے انتہا تک تمام سلوک مجددیہ بتفصیل وکمال ان سے حاصل کیا۔شاہ صاحبنے خاص عنایت فرماکر خلافت سےمشرف فرمایا،اور اپنی خانقاہ میں اپنا قائم مقام بنایا۔(ایضا:439)
سیرت وخصائص: امام العلماء والعارفین،سندالمتقین،آفتاب شریعت،ماہتاب طریقت،مجمع البحرین حضرت شاہ ابوسعید مجددی رام پوری ۔آپ علیہ الرحمہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کےاہم شیخ طریقت اور عارف باللہ مجددوقت حضرت شاہ غلام علی دہلوی کےخلیفۂ اعظم تھے۔آپ تمام علوم ومعارف کے جامع تھاورحضرت امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی کے خاندان کےفرد فرید تھے۔ابتدائے عمر ہی سے آثارِسعید آپ میں پائے جاتے تھے۔ فرماتے تھے کہ مجھے اوائل عمر میں شہر لکھنؤ جانے کا اتفاق ہوا۔ ہم ایک مکان میں اُترے راستے میں ایک درویش ستر برہنہ بیٹھا ہوتا مگر جب وہ مجھے دیکھتا تو ستر درست کرلیتا۔ کسی نے اُس سے سبب دریافت کیا۔ اُس نے جواب دیا کہ ایک وقت آنے والا ہے کہ ان کو ایسا منصب حاصل ہوگا کہ اپنے اقارب کے مرجع ہوں گے چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آیا۔(تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ:438)
عین تحصیل علم میں خدا طلبی کا شوق پیدا ہو۔ پہلے اپنے والد بزرگوار سے ارادت کی جو اپنے آبائے کرام کے طریقہ پر مستقیم اور تارک دنیا اور ہر وقت اوراد و اشغال میں مشغول رہتے تھے پھر اُن کی اجازت سے حضرت شاہ درگاہی کی خدمت میں حاضر ہوئے جن کا سلسلہ دو واسطہ سے حضرت خواجہ محمد زبیر قدس سرہ سے ملتا ہے۔ حضرت شاہ درگاہی کو استغراق اس قدر رہتا تھا کہ نماز کے وقت مرید آپ کو آگاہ کردیا کرتے تھے اور توجہ ایسی تیز تھی کہ اگر ایک وقت میں سو آدمیوں کی طرف متوجہ ہوتے تو سب بیہوش ہوجایا کرتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب نے آپ کے حال پر بڑی عنایت فرمائی اور چند ہی روز میں آپ کو اجازت و خلافت عطا فرمائی۔ آپ کے بہت سے مرید ہوگئے اور حلقہ میں بیہوشی و وجد اور صَیحہ (چیخ)و نعرہ ہوا کرتا۔ چوں کہ نسبت مجددیہ میں یہ امور مرتفع ہوجاتے ہیں اور صحابہ کرام کی مثل کمال افسردگی اور آسودگی میں عمر گزرتی ہے۔ایک مرتبہ رامپور میں حضرت شاہ غلام علی کی بھی زیارت کی تھی اس لیے ابھی طلبِ خدا باقی تھی آپ رامپور سے دہلی تشریف لے گئے وہاں پہنچ کر قاضی ثناء اللہ پانی پتی کو اپنی خدا طلبی کے بارے میں ایک خط لکھا۔ جس کے جواب میں حضرت قاضی صاحب نے نہایت تعظیم سے آپ کو تحریر فرمایا کہ اس وقت شاہ غلام علی سے بہتر کوئی نہیں۔ پس آپ بتاریخ 7 محرم الحرام 1225ھ میں حضرت شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ابتدا سے انتہا تک تمام سلوک مجددیہ بکمال تفصیل حاصل کیا۔
خاص عنایت:حضرت شاہ غلام علی قدس سرہ آپ کے حال پر خاص عنایت فرماتے تھے چنانچہ ماہ صفر 1230ھ میں حضرت نے آپ کو اپنے سینے سے لگایا اور دیر تک توجہ فرمائی اور اپنی ضمنیت سے مشرف فرمایا اور 11/ جمادی الاول 1231ھ میں فرمایا:’’میرے بعد اس مکان میں میاں ابو سعید بیٹھیں اور حلقہ و مراقبہ اور درس حدیث وتفسیر میں مشغول ہوں‘‘۔ حضرت کی ایسی عنایات بعض لوگوں پر ناگوار گزرتی تھیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں:’’بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کے حال پر اس قدر عنایت کس واسطے ہے وہ یہ نہیں سمجھتے کہ میاں ابو سعید اپنے پانچ
نام ونسب:
اسم گرامی:حضرت شاہ ابوسعیدرحمۃ اللہ علیہ۔لقب:عارف باللہ۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:آپ کا سلسلہ نسب حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ سے بایں طور ملتا ہے: حضرت مولانا شاہ ابو سعید مجددی رام پوری بن شاہ صفی القدر بن شاہ عزیز القدر بن شاہ عیسیٰ بن خواجہ سیف الدین بن خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی حضرت مجدد الفِ ثانی (علیہم الرحمۃ والرضوان)۔(تذکرہ کاملان رام پور:14)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 2/ذیقعد 1196ھ،مطابق اکتوبر1782ءکورام پور(انڈیا) میں ہوئی۔
تحصیل علم:تقریباً دس سال کی عمر میں آپ نے قرآن شریف حفظ کرلیا بعد ازاں قاری نسیم سے علم تجوید حاصل کیا۔ آپ قرآن مجید ایسی ترتیل سے پڑھا کرتے تھے کہ سننے والے محو ہوجایا کرتے۔ حتیٰ کہ جب آپ حرم مکہ معظّمہ میں وارد ہوئے تو اہلِ عرب نے آپ کی قرأت سُن کر تعریف و تحسین کی۔ حفظ قرآن کے بعد علوم عقلیہ و نقلیہ مفتی شرف الدین اور مولانا رفیع الدین بن شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے حاصل کیے ۔حدیث کی سند اپنے مرشد سے اور حضرت شاہ سراج احمد بن حضرت محمد مرشد مجددی اور شاہ عبد العزیز دہلوی سے حاصل کی۔(تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ:439)
بیعت وخلافت: اپنے والد گرامی سےآبائی طریقے پر مرید ہوئے،اور والد صاحب کےایماء پر حضرت شاہ درگاہی سےبیعت ہوئے۔حضرت شاہ صاحب درگاہی نے آپ کے حال پر بڑی عنایت فرمائی اور چند ہی روز میں آپ کو اجازت و خلافت عطا فرمائی۔ابھی تشنگی باقی تھی آپ نےحضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی کوخط لکھا،انہوں نےجواب میں ارشاد فرمایا: کہ اس وقت میری نظر میں حضرت شاہ غلام علی دہلوی سےبہترکوئی نہیں۔پھر آپ حضرت شاہ غلام علی دہلوی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ابتدا سے انتہا تک تمام سلوک مجددیہ بتفصیل وکمال ان سے حاصل کیا۔شاہ صاحبنے خاص عنایت فرماکر خلافت سےمشرف فرمایا،اور اپنی خانقاہ میں اپنا قائم مقام بنایا۔(ایضا:439)
سیرت وخصائص: امام العلماء والعارفین،سندالمتقین،آفتاب شریعت،ماہتاب طریقت،مجمع البحرین حضرت شاہ ابوسعید مجددی رام پوری ۔آپ علیہ الرحمہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کےاہم شیخ طریقت اور عارف باللہ مجددوقت حضرت شاہ غلام علی دہلوی کےخلیفۂ اعظم تھے۔آپ تمام علوم ومعارف کے جامع تھاورحضرت امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی کے خاندان کےفرد فرید تھے۔ابتدائے عمر ہی سے آثارِسعید آپ میں پائے جاتے تھے۔ فرماتے تھے کہ مجھے اوائل عمر میں شہر لکھنؤ جانے کا اتفاق ہوا۔ ہم ایک مکان میں اُترے راستے میں ایک درویش ستر برہنہ بیٹھا ہوتا مگر جب وہ مجھے دیکھتا تو ستر درست کرلیتا۔ کسی نے اُس سے سبب دریافت کیا۔ اُس نے جواب دیا کہ ایک وقت آنے والا ہے کہ ان کو ایسا منصب حاصل ہوگا کہ اپنے اقارب کے مرجع ہوں گے چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آیا۔(تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ:438)
عین تحصیل علم میں خدا طلبی کا شوق پیدا ہو۔ پہلے اپنے والد بزرگوار سے ارادت کی جو اپنے آبائے کرام کے طریقہ پر مستقیم اور تارک دنیا اور ہر وقت اوراد و اشغال میں مشغول رہتے تھے پھر اُن کی اجازت سے حضرت شاہ درگاہی کی خدمت میں حاضر ہوئے جن کا سلسلہ دو واسطہ سے حضرت خواجہ محمد زبیر قدس سرہ سے ملتا ہے۔ حضرت شاہ درگاہی کو استغراق اس قدر رہتا تھا کہ نماز کے وقت مرید آپ کو آگاہ کردیا کرتے تھے اور توجہ ایسی تیز تھی کہ اگر ایک وقت میں سو آدمیوں کی طرف متوجہ ہوتے تو سب بیہوش ہوجایا کرتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب نے آپ کے حال پر بڑی عنایت فرمائی اور چند ہی روز میں آپ کو اجازت و خلافت عطا فرمائی۔ آپ کے بہت سے مرید ہوگئے اور حلقہ میں بیہوشی و وجد اور صَیحہ (چیخ)و نعرہ ہوا کرتا۔ چوں کہ نسبت مجددیہ میں یہ امور مرتفع ہوجاتے ہیں اور صحابہ کرام کی مثل کمال افسردگی اور آسودگی میں عمر گزرتی ہے۔ایک مرتبہ رامپور میں حضرت شاہ غلام علی کی بھی زیارت کی تھی اس لیے ابھی طلبِ خدا باقی تھی آپ رامپور سے دہلی تشریف لے گئے وہاں پہنچ کر قاضی ثناء اللہ پانی پتی کو اپنی خدا طلبی کے بارے میں ایک خط لکھا۔ جس کے جواب میں حضرت قاضی صاحب نے نہایت تعظیم سے آپ کو تحریر فرمایا کہ اس وقت شاہ غلام علی سے بہتر کوئی نہیں۔ پس آپ بتاریخ 7 محرم الحرام 1225ھ میں حضرت شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ابتدا سے انتہا تک تمام سلوک مجددیہ بکمال تفصیل حاصل کیا۔
خاص عنایت:حضرت شاہ غلام علی قدس سرہ آپ کے حال پر خاص عنایت فرماتے تھے چنانچہ ماہ صفر 1230ھ میں حضرت نے آپ کو اپنے سینے سے لگایا اور دیر تک توجہ فرمائی اور اپنی ضمنیت سے مشرف فرمایا اور 11/ جمادی الاول 1231ھ میں فرمایا:’’میرے بعد اس مکان میں میاں ابو سعید بیٹھیں اور حلقہ و مراقبہ اور درس حدیث وتفسیر میں مشغول ہوں‘‘۔ حضرت کی ایسی عنایات بعض لوگوں پر ناگوار گزرتی تھیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں:’’بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کے حال پر اس قدر عنایت کس واسطے ہے وہ یہ نہیں سمجھتے کہ میاں ابو سعید اپنے پانچ
❤1
سو مریدوں کو چھوڑ کر میرے پاس آیا ہے اور اس سے پہلے وہ خرقہ خلافت دوسرے مشائخ سے لے چکے ہیں پس اپنے مرشد کی عین حیات میں انہوں نے خلافت و اجازت کو چھوڑ کر میری بیعت کا حلقہ اپنے اخلاص کی گردن میں ڈالا اور پیری کو چھوڑ کر مریدی کی طرف آگئے وہ کس طرح مورد عنایت اور مصدر ہمت نہ ہوں‘‘۔جمادی الاولیٰ 1233ھ میں حضرت نے آپ کو قیومیت کی بشارت دی اور فرمایا: ’’مجھے الہام ہوا ہے اس لیے تجھ سے ارشاد کیا گیا‘‘۔الغرض آپ پندرہ سال حضرت شاہ صاحب کی خدمت میں رہے حضرت نے اپنے مرض موت میں آپ کو بذریعہ خط لکھنو سے بلایا اور خانقاہ کا نظام آپ کےسپرد کیا۔ حضرت شاہ صاحب کے انتقال کے بعد آپ قریباً نو سال تک مسندِ ارشاد پر ہے۔ اور طالبانِ خدا نے بکثرت آپ سے استفادہ کیا۔ اس عرصے میں آپ نے تلخی و سختی اور فقر و فاقہ اور تمام تکالیف جو اولیاء اللہ کاشیوہ ہیں خندہ پیشانی سے استقبال کیا۔(ایضا:440)
فضل وکمال: آپ کےایک مرید میاں محمد اصغر کا بیان ہے کہ کبھی کبھی نمازِ تہجد مجھ سے فوت ہوجاتی تھی میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا۔ فرمایا کہ ہمارے خادم سے کہہ دو کہ تہجد کے وقت ہمیں یاد دلا دیا کرے۔ اُٹھا کر بٹھادینا ہمارا ذمہ ہے باقی تمہارا اختیار ہے چناں چہ ایسا ہی ہوا کہ گویا کوئی مجھے تہجد کےوقت اٹھاکر بٹھا دیتا ہے۔اسی طرح آپ کے ایک اور مرید پر ایسا استغراق غالب ہوا کہ خلوت میں نماز کے وقت قبلہ کی پہچان نہ رہتی اُس نے مجبور ہوکر آپ سے عرض کیا آپ نے فرمایا کہ تحریمہ کے وقت میری طرف متوجہ ہوا کر میں تجھے قبلہ کی طرف متوجہ کردیا کروں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوتا کہ جب وہ تحریمہ کے وقت آپ کی طرف متوجہ ہوتا تو آپ ظاہر ہوکر قبلہ کی طرف اشارہ کردیتے اور یہ اتفاق مدتوں تک رہا۔یہی مرید صاحب استغراق بیان کرتا ہے کہ ایک مرتبہ اہلِ خانقاہ میں جھگڑا پیدا ہوا۔ اور بہت شور و شغب ہوا رات کے وقت میں نے خواب دیکھا کہ جناب سرور عالم ﷺ خانقاہ میں تشریف لائے اور خفا ہوکر فرماتے ہیں کہ فلاں فلاں شخص کو خانقاہ سے نکال دو اِس خوف سے کہ کہیں میرا نام بھی نہ لے لیں اُس مرید کی آنکھ کھل گئی۔ یہ حیران و پریشان آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ اُس وقت تہجد کےلئے وضو فرما رہے تھے اُس کو دیکھ کر فرمایا کہ تم کیوں گھبراتے ہو۔ تمہارا نام تو نہیں لیا نمازِ صبح کے بعد آپ نے اُن اشخاص کو جن کا نام جناب رسالت مآب ﷺ نے لیا تھا خانقاہ سے نکال دیا۔(ایضا:441)
تاریخِ وصال: 22/رمضان کو ریاست ٹونک میں علیل ہوئے،صاحبزادہ حضرت شاہ عبد الغنی محدث شہیر ہمراہ تھے،سکرات موت شروع ہوئی تو ان کو وصیت فرمائی کہ اتباع سُنّت کرنا،اور اہل دنیا سے پرہیز کرنا،اگر دنیا داروں کے پاس جاؤگےتو ذلیل وخوار ہوجاؤگے،ورنہ دُنیا دار کُتّوں کی طرح تمہارے دروازے پر چکر لگائیں گے۔ پھر حافظ سے سورۂ یٰسین کی تلاوت کے لیے فرمایا،تین بار سُن کر فرمایا۔اب نہ پڑھو،بہت تھوڑاٹائم باقی ہے۔عید الفطر بروز ہفتہ 1250ھ مطابق 31/جنوری 1835ءکوعصر و مغرب کے درمیان انگشت شہادت کو حرکت دیتے ہوئے واصل بااللہ ہوئے۔لاش تابوت میں رکھ کر دہلی لائی گئی۔چالیس روز بعد حضرت شاہ غلام علی قدس سرہٗ کے پہلو میں دفن کیے گئے۔اتنی مدت گذرنے کے بعد بھی معلومہوتا تھا کہ ابھی غسل دیا گیا ہےروئی سے خوشبو آتی تھی،جسے لوگ بطور تبرک لے گئے۔(تذکرہ علمائے اہل سنت:13)
ماخذ و مراجع:
تذکرہ کاملان رام پور ۔ تذکرہ مشائخ نقشبندیہ ۔ تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abu-saeed-mujadidi-rampuri
فضل وکمال: آپ کےایک مرید میاں محمد اصغر کا بیان ہے کہ کبھی کبھی نمازِ تہجد مجھ سے فوت ہوجاتی تھی میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا۔ فرمایا کہ ہمارے خادم سے کہہ دو کہ تہجد کے وقت ہمیں یاد دلا دیا کرے۔ اُٹھا کر بٹھادینا ہمارا ذمہ ہے باقی تمہارا اختیار ہے چناں چہ ایسا ہی ہوا کہ گویا کوئی مجھے تہجد کےوقت اٹھاکر بٹھا دیتا ہے۔اسی طرح آپ کے ایک اور مرید پر ایسا استغراق غالب ہوا کہ خلوت میں نماز کے وقت قبلہ کی پہچان نہ رہتی اُس نے مجبور ہوکر آپ سے عرض کیا آپ نے فرمایا کہ تحریمہ کے وقت میری طرف متوجہ ہوا کر میں تجھے قبلہ کی طرف متوجہ کردیا کروں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوتا کہ جب وہ تحریمہ کے وقت آپ کی طرف متوجہ ہوتا تو آپ ظاہر ہوکر قبلہ کی طرف اشارہ کردیتے اور یہ اتفاق مدتوں تک رہا۔یہی مرید صاحب استغراق بیان کرتا ہے کہ ایک مرتبہ اہلِ خانقاہ میں جھگڑا پیدا ہوا۔ اور بہت شور و شغب ہوا رات کے وقت میں نے خواب دیکھا کہ جناب سرور عالم ﷺ خانقاہ میں تشریف لائے اور خفا ہوکر فرماتے ہیں کہ فلاں فلاں شخص کو خانقاہ سے نکال دو اِس خوف سے کہ کہیں میرا نام بھی نہ لے لیں اُس مرید کی آنکھ کھل گئی۔ یہ حیران و پریشان آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ اُس وقت تہجد کےلئے وضو فرما رہے تھے اُس کو دیکھ کر فرمایا کہ تم کیوں گھبراتے ہو۔ تمہارا نام تو نہیں لیا نمازِ صبح کے بعد آپ نے اُن اشخاص کو جن کا نام جناب رسالت مآب ﷺ نے لیا تھا خانقاہ سے نکال دیا۔(ایضا:441)
تاریخِ وصال: 22/رمضان کو ریاست ٹونک میں علیل ہوئے،صاحبزادہ حضرت شاہ عبد الغنی محدث شہیر ہمراہ تھے،سکرات موت شروع ہوئی تو ان کو وصیت فرمائی کہ اتباع سُنّت کرنا،اور اہل دنیا سے پرہیز کرنا،اگر دنیا داروں کے پاس جاؤگےتو ذلیل وخوار ہوجاؤگے،ورنہ دُنیا دار کُتّوں کی طرح تمہارے دروازے پر چکر لگائیں گے۔ پھر حافظ سے سورۂ یٰسین کی تلاوت کے لیے فرمایا،تین بار سُن کر فرمایا۔اب نہ پڑھو،بہت تھوڑاٹائم باقی ہے۔عید الفطر بروز ہفتہ 1250ھ مطابق 31/جنوری 1835ءکوعصر و مغرب کے درمیان انگشت شہادت کو حرکت دیتے ہوئے واصل بااللہ ہوئے۔لاش تابوت میں رکھ کر دہلی لائی گئی۔چالیس روز بعد حضرت شاہ غلام علی قدس سرہٗ کے پہلو میں دفن کیے گئے۔اتنی مدت گذرنے کے بعد بھی معلومہوتا تھا کہ ابھی غسل دیا گیا ہےروئی سے خوشبو آتی تھی،جسے لوگ بطور تبرک لے گئے۔(تذکرہ علمائے اہل سنت:13)
ماخذ و مراجع:
تذکرہ کاملان رام پور ۔ تذکرہ مشائخ نقشبندیہ ۔ تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abu-saeed-mujadidi-rampuri
scholars.pk
Hazrat-Shah-Abu-Saeed-Mujadidi-Rampuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
مناظر اعظم حضرت علامہ مولانا محمدعمر اچھروی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد عمر ۔ لقب: مناظرِ اسلام ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا محمد عمر بن مولانا محمد امین بن عبدالمالک قریشی ۔ آپ حضرت غلام محی الدین قصوری علیہ الرحمہ کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 1901ء کو قصبہ "شیر و کانہ" ضلع قصور پنجاب (پاکستان ) میں پیداہوئے۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی۔ علوم دینیہ مولانا صلاح الدین، مولوی محمد حسین لکھوی،مولوی عطاء اللہ لکھوی،مولوی محمد عالم سنبھلی(لاہور)سے پڑھے۔ امام اہلسنت امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ کے شاگرد رشید مولانا محمد حسین (امام و خطیب پلٹن فیروز پور)کے ہاں کچھ عرصہ زیر تعلیم رہے ۔آپ نے مدرسہ رحیمیہ دہلی میں درس حدیث کی تحصیل کی اور سند مولوی عبداللہ روپڑی اہل حدیث،سے حاصل کی۔مولانا احمد علی سہارنپوری تلمیذ رشید مولانا احمد علی میٹھی سے دوبارہ حدیث شریف کا درس لیا۔آپ نے مختلف مسالک کے مدرسوں سے اسلئے تعلیم حاصل کی تاکہ ان لوگوں میں رہ کر ان کی حقیقت معلوم کرسکیں،کیوں کہ اس وقت خاص کر غیرمقلدین ودیوبندیوں کافتنہ ہندوستان میں نیا نیا ظاہر ہواتھا، اور لوگوں کو ان کی حقیقت کا صحیح علم بھی نہ ہواتھا۔یہی وجہ ہے کہ آپ ان کے خلاف اہلسنت کے کامیاب مناظر تھے۔
بیعت و خلافت:
آپ شیرِ ربانی حضرت شیر محمد شرقپوری علیہ الرحمہ کےمرید،اور حضرت سید محمد اسماعیل شاہ المعروف "حضرت کرمانوالہ"کے فیض یافتہ تھے۔
سیرت و خصائص:
جامع المنقولِ والمعقول، استاذ العلماء، قاطعِ مرزائیت و نجدیت و وہابیت، حامیِ قرآن وسنت ،مناظرِ اعظم حضرت علامہ مولانا محمد عمر اچھروی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ کی ذات علماء وعوام میں محتاجِ تعارف نہیں۔قیامِ پاکستان سے قبل 1940ء میں مولانا کی شہرت لاہورسے نکل کر پورےبرِ صغیر میں پھیل گئی تھی۔مولانا کوقدرت نے تمام علومِ متداولہ میں بالعموم اور "علم المناظرہ" میں بالخصوص وافر حصہ عطافرمایاتھا۔مناظرے میں یہ کمال حاصل تھا کہ مخالفین کے بڑے بڑےمناظر مقابلے میں آنے سے گھبراتے تھے،اگرکوئی آجاتا پہلےتووہ بھاگنے پر مجبورہوجاتا،جیساکہ ان کے کےبڑوں کامعروف طریقہ رہاہے،ورنہ شکست اس کامقدرہوتی۔آپ علیہ الرحمہ تقریباً فرقِ باطلہ سے 50 کامیاب مناظرے کیے جس میں آپ ہمیشہ فاتح رہے،اور شکست باطل کامقدررہی۔(الحمدللہ علیٰ ذالک)۔ آپ کی ایک خاص یہ بات بھی تھی کہ پورے برصغیر (پاک وہند)میں آپ کو جب بھی مناظرہ کیلئے بلایاجاتا ،آپ ہمیشہ مناظرے کے لئے تیار رہتے تھے۔
آپ نے مسلک اہل سنت و جماعت کے تحفظ کے لئے تحریری اور تقریری کو ششوں میں تمام عمر صرف کی۔آپ ایک ایسی شخصیت کے حامل تھے جنہیں بلا تخصیص تمام مذاہب باطلہ کے مقابلے میں پیش کیا جا سکتا تھا۔وسعت علم اور حاضر جوابی میں ان کی نظیر پیش نہیں کی جا سکتی،تقویٰ اور پرہیزگاری میں اپنی مثال آپ تھے۔ دوران تقریر آیات قرآنیہ سے اس کثرت سے استدلال کرتے تھے کہ عقل دنگ رہ جاتی تھی۔ہر روز قرآن مجید کے پانچ پاروں کی تلاوت اور شب بیدار ی آپ کے معمولات میں سے تھے۔آپ نے تحریک ِ پاکستان اور تحریک ختمِ نبوت میں بھرپور کرداراداکیا۔
وصال:
2 ذیقعدہ 1391ھ،بمطابق 21 دسمبر 1971ء، بروز منگل کو حیاتِ جاودانی کی طرف تشریف لے گئے ۔ مفتیٔ اعظم پاکستان حضرت علامہ ابو البرکات سید احمد دامت بر کاتہم العالیہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔
ماخذ و مراجع:
مولانا محمد عمر اچھروی کی علمی خدمات ۔ تعارف علمائے اہلِ سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-umar-acharwi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد عمر ۔ لقب: مناظرِ اسلام ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا محمد عمر بن مولانا محمد امین بن عبدالمالک قریشی ۔ آپ حضرت غلام محی الدین قصوری علیہ الرحمہ کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 1901ء کو قصبہ "شیر و کانہ" ضلع قصور پنجاب (پاکستان ) میں پیداہوئے۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی۔ علوم دینیہ مولانا صلاح الدین، مولوی محمد حسین لکھوی،مولوی عطاء اللہ لکھوی،مولوی محمد عالم سنبھلی(لاہور)سے پڑھے۔ امام اہلسنت امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ کے شاگرد رشید مولانا محمد حسین (امام و خطیب پلٹن فیروز پور)کے ہاں کچھ عرصہ زیر تعلیم رہے ۔آپ نے مدرسہ رحیمیہ دہلی میں درس حدیث کی تحصیل کی اور سند مولوی عبداللہ روپڑی اہل حدیث،سے حاصل کی۔مولانا احمد علی سہارنپوری تلمیذ رشید مولانا احمد علی میٹھی سے دوبارہ حدیث شریف کا درس لیا۔آپ نے مختلف مسالک کے مدرسوں سے اسلئے تعلیم حاصل کی تاکہ ان لوگوں میں رہ کر ان کی حقیقت معلوم کرسکیں،کیوں کہ اس وقت خاص کر غیرمقلدین ودیوبندیوں کافتنہ ہندوستان میں نیا نیا ظاہر ہواتھا، اور لوگوں کو ان کی حقیقت کا صحیح علم بھی نہ ہواتھا۔یہی وجہ ہے کہ آپ ان کے خلاف اہلسنت کے کامیاب مناظر تھے۔
بیعت و خلافت:
آپ شیرِ ربانی حضرت شیر محمد شرقپوری علیہ الرحمہ کےمرید،اور حضرت سید محمد اسماعیل شاہ المعروف "حضرت کرمانوالہ"کے فیض یافتہ تھے۔
سیرت و خصائص:
جامع المنقولِ والمعقول، استاذ العلماء، قاطعِ مرزائیت و نجدیت و وہابیت، حامیِ قرآن وسنت ،مناظرِ اعظم حضرت علامہ مولانا محمد عمر اچھروی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ کی ذات علماء وعوام میں محتاجِ تعارف نہیں۔قیامِ پاکستان سے قبل 1940ء میں مولانا کی شہرت لاہورسے نکل کر پورےبرِ صغیر میں پھیل گئی تھی۔مولانا کوقدرت نے تمام علومِ متداولہ میں بالعموم اور "علم المناظرہ" میں بالخصوص وافر حصہ عطافرمایاتھا۔مناظرے میں یہ کمال حاصل تھا کہ مخالفین کے بڑے بڑےمناظر مقابلے میں آنے سے گھبراتے تھے،اگرکوئی آجاتا پہلےتووہ بھاگنے پر مجبورہوجاتا،جیساکہ ان کے کےبڑوں کامعروف طریقہ رہاہے،ورنہ شکست اس کامقدرہوتی۔آپ علیہ الرحمہ تقریباً فرقِ باطلہ سے 50 کامیاب مناظرے کیے جس میں آپ ہمیشہ فاتح رہے،اور شکست باطل کامقدررہی۔(الحمدللہ علیٰ ذالک)۔ آپ کی ایک خاص یہ بات بھی تھی کہ پورے برصغیر (پاک وہند)میں آپ کو جب بھی مناظرہ کیلئے بلایاجاتا ،آپ ہمیشہ مناظرے کے لئے تیار رہتے تھے۔
آپ نے مسلک اہل سنت و جماعت کے تحفظ کے لئے تحریری اور تقریری کو ششوں میں تمام عمر صرف کی۔آپ ایک ایسی شخصیت کے حامل تھے جنہیں بلا تخصیص تمام مذاہب باطلہ کے مقابلے میں پیش کیا جا سکتا تھا۔وسعت علم اور حاضر جوابی میں ان کی نظیر پیش نہیں کی جا سکتی،تقویٰ اور پرہیزگاری میں اپنی مثال آپ تھے۔ دوران تقریر آیات قرآنیہ سے اس کثرت سے استدلال کرتے تھے کہ عقل دنگ رہ جاتی تھی۔ہر روز قرآن مجید کے پانچ پاروں کی تلاوت اور شب بیدار ی آپ کے معمولات میں سے تھے۔آپ نے تحریک ِ پاکستان اور تحریک ختمِ نبوت میں بھرپور کرداراداکیا۔
وصال:
2 ذیقعدہ 1391ھ،بمطابق 21 دسمبر 1971ء، بروز منگل کو حیاتِ جاودانی کی طرف تشریف لے گئے ۔ مفتیٔ اعظم پاکستان حضرت علامہ ابو البرکات سید احمد دامت بر کاتہم العالیہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔
ماخذ و مراجع:
مولانا محمد عمر اچھروی کی علمی خدمات ۔ تعارف علمائے اہلِ سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-umar-acharwi
scholars.pk
Hazrat Molana Muhammad Umer Acharwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت خواجہ عبدالرحمن سرہندی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسمِ گرامی: خواجہ عبدالرحمن سرہندی۔لقب:مجددی،سرہندی،قندھاری،ثم سندھی۔والد کا اسمِ گرامی: خواجہ عبدالقیوم سر ہندی تھا۔آپ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سر ہندی علیہ الرحمہ کے خانوادہ سےتعلق رکھنے والی وہ پہلی شخصیت ہیں جو سندھ آکر رہائش پذیر ہوئی اور جس سے مجددی سلسلہ کو سندھ میں فروغ حاصل ہوا ۔ آپ کا سلسلہ نسب صرف نو واسطوں سے حضرت امام ربانی سے اور اکتالیس واسطوں سے امیر المومنین خلیفہ المسلمین حضرت سید نا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔
تاریخِ ولادت: 1244ھ/بمطابق 1808ء ،کو احمد شاہی شہر (قندھار ، افغانستان ) میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم: آپ نے اپنے علاقہ کے مقتدر علماء بالخصوص ملا حبیب اللہ قندھاری(موٗ لف کتا ب مغتنم )سے علوم ظاہری کی تحصیل کی اور سترہ سال کی عمر تک تمام علوم متداولہ میں کامل دسترس حاصل کر لی ۔
بیعت و خلافت : علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد اپنے والد گرامی سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدد یہ میں بیعت ہو کر کما لات باطنی کی تحصیل کی۔ 1270ھ کو جب آپ کے والد ماجد انتقال فرما گئے تو آپ ان کی جگہ پر مسند نشین ہو گئے ۔
سیرت وخصائص: آپ حضور پر نور سید عالم ﷺ کے اخلاق و شمائل کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر دولت سے سر فراز فرمایا تھا آپ کے اندر غرور و تکبر کا شائبہ تک نہ تھا ، آپ کا طرز بودو باش انتہائی سادہ تھا ، مریدین جونذرانے پیش کرتے تھے وہ آپ اکثر فقراء میں تقسیم فرما دیا کرتے تھے ۔ دنیاوی ساز و سامان میں اگر کسی چیز کی طرف آپ کو رغبت تھی تو وہ عمدہ عمدہ دینی کتابیں تھیں ۔
سفر حرمین شریفین: آپ نے سات مرتبہ حرمین شریفین کا سفر اختیار فرمایا یعنی سات بار روضہ رسول مقبول ﷺ کی حاضری کی سعادت عظمیٰ حاصل کی۔ احترام سادات کرام : حضو ر پر نور ﷺ سے آپ کو عشق کی حد تک محبت تھی ۔ محبت خود آداب سکھا دیتی ہے۔ آپ نے اپنے محبوب نبی پاک ﷺ کا کس طرح ادب کیا اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہو سکتا ہے کہ ایک روز محمد یوسف صاحب نے حضرت سے دریافت کیا کہ بعض لوگ کہیں سے آئے ہیں اور اپنے آپ کو سید بتلاتے ہیں اب نہ معلوم وہ حقیقت میں سید بھی ہیں یا نہیں لہذا ان کی کیا تعظیم کریں ۔ آپ نے فرمایا :چونکہ آنحضرت ﷺ کانا م نامی اور اسم گرامی درمیان میں آگیا ہے ، لہذا اب ان کی تعظیم فرض ہو گئی ۔ اگر بالفرض وہ شخص سید ہوا تو وہ تعظیم کا حقدار ہے اس کی تعظیم ہو گئی اور اگر سید نہ ہوا تو کم ازکم نام کا ادب تو ہوگیا۔
حاضری مزارات اولیاء اللہ : اولیائے کرام اورصوفیائے کرام کے مزارات پر اکثر حاضری دیا کرتے تھے اور اس کے لئے دور دراز کی مسافتیں طے کیا کرتے تھے ۔ جب کسی ولی کے مزار شریف پر حاضر ہوتے تو وہاں کچھ عرصہ قیام فرما کر اچھی طرح اکتساب فیض فرمایا کرتے تھے ۔ اہل سنت و جماعت احناف کے اکابر علماء کرام کی اکثریت آپ سے بیعت و خلافت کا شرف رکھتی تھی۔
وصال:
حضرت خواجہ عبدالرحمن نے 2 ، ذوالقعدہ 1315ھ ؍ 1898 ء بروز جمعۃ المبارک ضحوہ کبریٰ کے وقت میں71سال کی عمر پاکر واصل بحق ہو گئے ۔ آپ کا مزار مبارک ٹنڈو سائینداد سے چندمیل کے فاصلہ پر اور ٹکھڑ سے جانب شمال ایک میل کی مسافت پر "کوہ گنجہ" کے دامن میں واقع ہے اور مقبرہ شریف کے نام سے مشہور ہے۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلِ سنت سندھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-abdul-rehman-sarhandi
نام ونسب: اسمِ گرامی: خواجہ عبدالرحمن سرہندی۔لقب:مجددی،سرہندی،قندھاری،ثم سندھی۔والد کا اسمِ گرامی: خواجہ عبدالقیوم سر ہندی تھا۔آپ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سر ہندی علیہ الرحمہ کے خانوادہ سےتعلق رکھنے والی وہ پہلی شخصیت ہیں جو سندھ آکر رہائش پذیر ہوئی اور جس سے مجددی سلسلہ کو سندھ میں فروغ حاصل ہوا ۔ آپ کا سلسلہ نسب صرف نو واسطوں سے حضرت امام ربانی سے اور اکتالیس واسطوں سے امیر المومنین خلیفہ المسلمین حضرت سید نا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔
تاریخِ ولادت: 1244ھ/بمطابق 1808ء ،کو احمد شاہی شہر (قندھار ، افغانستان ) میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم: آپ نے اپنے علاقہ کے مقتدر علماء بالخصوص ملا حبیب اللہ قندھاری(موٗ لف کتا ب مغتنم )سے علوم ظاہری کی تحصیل کی اور سترہ سال کی عمر تک تمام علوم متداولہ میں کامل دسترس حاصل کر لی ۔
بیعت و خلافت : علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد اپنے والد گرامی سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدد یہ میں بیعت ہو کر کما لات باطنی کی تحصیل کی۔ 1270ھ کو جب آپ کے والد ماجد انتقال فرما گئے تو آپ ان کی جگہ پر مسند نشین ہو گئے ۔
سیرت وخصائص: آپ حضور پر نور سید عالم ﷺ کے اخلاق و شمائل کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر دولت سے سر فراز فرمایا تھا آپ کے اندر غرور و تکبر کا شائبہ تک نہ تھا ، آپ کا طرز بودو باش انتہائی سادہ تھا ، مریدین جونذرانے پیش کرتے تھے وہ آپ اکثر فقراء میں تقسیم فرما دیا کرتے تھے ۔ دنیاوی ساز و سامان میں اگر کسی چیز کی طرف آپ کو رغبت تھی تو وہ عمدہ عمدہ دینی کتابیں تھیں ۔
سفر حرمین شریفین: آپ نے سات مرتبہ حرمین شریفین کا سفر اختیار فرمایا یعنی سات بار روضہ رسول مقبول ﷺ کی حاضری کی سعادت عظمیٰ حاصل کی۔ احترام سادات کرام : حضو ر پر نور ﷺ سے آپ کو عشق کی حد تک محبت تھی ۔ محبت خود آداب سکھا دیتی ہے۔ آپ نے اپنے محبوب نبی پاک ﷺ کا کس طرح ادب کیا اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہو سکتا ہے کہ ایک روز محمد یوسف صاحب نے حضرت سے دریافت کیا کہ بعض لوگ کہیں سے آئے ہیں اور اپنے آپ کو سید بتلاتے ہیں اب نہ معلوم وہ حقیقت میں سید بھی ہیں یا نہیں لہذا ان کی کیا تعظیم کریں ۔ آپ نے فرمایا :چونکہ آنحضرت ﷺ کانا م نامی اور اسم گرامی درمیان میں آگیا ہے ، لہذا اب ان کی تعظیم فرض ہو گئی ۔ اگر بالفرض وہ شخص سید ہوا تو وہ تعظیم کا حقدار ہے اس کی تعظیم ہو گئی اور اگر سید نہ ہوا تو کم ازکم نام کا ادب تو ہوگیا۔
حاضری مزارات اولیاء اللہ : اولیائے کرام اورصوفیائے کرام کے مزارات پر اکثر حاضری دیا کرتے تھے اور اس کے لئے دور دراز کی مسافتیں طے کیا کرتے تھے ۔ جب کسی ولی کے مزار شریف پر حاضر ہوتے تو وہاں کچھ عرصہ قیام فرما کر اچھی طرح اکتساب فیض فرمایا کرتے تھے ۔ اہل سنت و جماعت احناف کے اکابر علماء کرام کی اکثریت آپ سے بیعت و خلافت کا شرف رکھتی تھی۔
وصال:
حضرت خواجہ عبدالرحمن نے 2 ، ذوالقعدہ 1315ھ ؍ 1898 ء بروز جمعۃ المبارک ضحوہ کبریٰ کے وقت میں71سال کی عمر پاکر واصل بحق ہو گئے ۔ آپ کا مزار مبارک ٹنڈو سائینداد سے چندمیل کے فاصلہ پر اور ٹکھڑ سے جانب شمال ایک میل کی مسافت پر "کوہ گنجہ" کے دامن میں واقع ہے اور مقبرہ شریف کے نام سے مشہور ہے۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلِ سنت سندھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-abdul-rehman-sarhandi
scholars.pk
Hazrat Khawaja Abdul Rehman Sarhandi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت شیخ صفی الدین ابو الفتح اسحاق سہروردی اردبیلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مشائخ کبار اور اولیاء کرام میں صاحب کرامات عظیم مانے جاتے تھے۔ نفحات الانس میں لکھا ہے کہ شیخ نجیب الدین حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے بغداد کو روانہ ہونے لگے تو شیخ شمس الدین صفی بھی آپ کے ساتھ تھے شیخ شمس الدین نے آپ سے قرآن سیکھا۔ اور شیخ نجیب الدین نے بعض خصوصی مقامات عبور کیے اس طرح دونوں نے خرقہ خلافت بھی حاصل کیا۔ اور شیراز کی طرف روانہ ہوگئے۔
آپ کی وفات ۷۳۵ھ میں ہے۔
شیخ شمس الدین صفی موسوی
سال ترحیلش چو جستم از خرد
آل احمد بود اولاد علی
گفت ہاتف شمس دین کامل صفی
۷۳۵ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-safiuddin-bin-ishaq-ardabili
مشائخ کبار اور اولیاء کرام میں صاحب کرامات عظیم مانے جاتے تھے۔ نفحات الانس میں لکھا ہے کہ شیخ نجیب الدین حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے بغداد کو روانہ ہونے لگے تو شیخ شمس الدین صفی بھی آپ کے ساتھ تھے شیخ شمس الدین نے آپ سے قرآن سیکھا۔ اور شیخ نجیب الدین نے بعض خصوصی مقامات عبور کیے اس طرح دونوں نے خرقہ خلافت بھی حاصل کیا۔ اور شیراز کی طرف روانہ ہوگئے۔
آپ کی وفات ۷۳۵ھ میں ہے۔
شیخ شمس الدین صفی موسوی
سال ترحیلش چو جستم از خرد
آل احمد بود اولاد علی
گفت ہاتف شمس دین کامل صفی
۷۳۵ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-safiuddin-bin-ishaq-ardabili
scholars.pk
Hazrat Shah Safiuddin Bin Ishaq
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1