🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-11-1444 ᴴ | 22-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-11-1444 ᴴ | 22-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-11-1444 ᴴ | 22-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-11-1444 ᴴ | 22-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا صوفی حمید اللہ انڑ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بن الحاج صوفی غلام قادر انڑ گوٹھ نو آباد (تحصیل ڈوکری ضلع لاڑکانہ) میں 11،اکتوبر 1915ء کو تولد ہوئے۔

تعلیم و تربیت
آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے گھر میں ہوئی۔ والد ماجد دیندار ، صوفی منش، خدا رسیدہ درویش اور مہمان نواز شخصیت کے مالک تھے۔ صوفی غلام قادر دین کی خدمت کا جذبہ رکھتے تھے اسی جذبہ کے تحت گوٹھ میں دینی مدرسہ قائم کر رکھا تھا، جہاں حضرت مولانا غلام محمد شاہانی (جو کہ علم معقول و منقول کے ماہر استاد تھے) تدریس کے فرائض انجام دیتے تھے۔

صوفی حمید اللہ نے پہلے مولانا غلام محمد سے تعلیم حاصل کی۔ اجمیر شریف (انڈیا) سے حضرت مولانا علامہ عبداللہ (جو کہ علم منطق کالم اور فلسفہ کے ماہر استاد تھے) کو مدعو فرما کر مدرسہ مدرس مقرر کیا، ان کی خدمت میں بھی رہ کر اکتساب فیض کیا۔ اس کے بعد بیڑو چانڈیو (گوٹھ) کی درسگاہ میں ایک سال رہ کر مولاناغلام رسول عباسی سے بقیہ کتب پڑھ کر نصاب مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے اور دستار فضیلت سے مشرف ہوئے۔

درس و تدریس:
بعد فراغت آبائی گوٹھ میں والد محترم کی قائم کردہ درسگاہ سے تدریس کا آغاز کیا لیکن سیلاب کی وجہ سے آبائی گوٹھ کو خیربادکہہ کر گوٹھ پٹھان (تحصیل ڈوکری) میں مستقل سکونت اختیار کی، وہاں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ 1970ء میں گوٹھ پٹھان سے لاڑکانہ شہر شفٹ ہو کر آئے اور محلہ قافلہ اسراء نزد بہشتی مسجد میں رہائش اختیار کی اوراپنے استاد محترم حضرت مولانا غلام رسول عباسی کے مدرسہ سے متصل اللہ والی مسجد با قرانی روڈ لاڑکانہ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔

تلامذہ:
آپ کے نامور تلامذہ درج ذیل ہیں

علامہ مولانا ہدایت اللہ آریجوی مہتمم مدرسہ جامعہ حسنیہ رضویہ آریجہ

علاہ مولانا خیر محمد رضوی متہمم مدرسہ عربیہ حنفیہ غوثیہ کلیکٹری مسجد لاڑکانہ

مولانا مفتی غلام محمد قاسمی مہتمم دارالعلوم غوثیہ رضویہ قاسمیہ کوئٹہ

مولانا مفتی محمد وارث قاسمی مہتمم دارالعلوم قاسمیہ کوئٹہ

مولاناابو الفیض محمد حسن قلندرانی قاسمی خطیب حیدرآباد

مولانا محمد عالم بروہی خضدار

مولانا قاری خیر محمد قاسمی خطیب جامع مسجد شیخ زید کالونی لاڑکانہ

مولانا مولاداد سہڑو

بیعت و عقیدت:
یہ معلوم نہ ہو سکا کہ آپ کن سے بیعت تھے البتہ فقیہ اعظم حضور فیض گنجور ، بحر العلوم والفیوض ، تاج العارفین، امام المیراث ، حضرت علامہ مفتی محمد قاسم المثوری قدس سرہٗ سے نہایت عقیدت رکھتے تھے اور حضرت کی زیارت و صحبت کیلئے درگاہ مشوری شریف اکثر حاضری دیاکرتے تھے۔

عادات و خصائل:
مولانا حمید اللہ عالم باعمل، گم نام صوفی، کم گو، گوشہ نشین، طلباء پر مہربان، اپنے گوٹھ میں طلباء کے بسترے کھانے پینے کی ذمہ داری خوب نبھاتے تھے، تمام اخراجات اپنی زمہ داری سے پورے کرتے تھے۔ مدرسہ کے اخراجات کیلئے چندہ کی تکلیف گوارہ نہیں فرماتے تھے۔ زندگی بھر تصفیہ نفس کا درس دیتے رہے۔ ایسے با اخلاق و مروت عالم آج کہاں ہیں؟ علمی استعداد کا یہ عالم تھا کہ مشکل لا ینحل مسائل کو چٹکیوں میں حل فرمادیا کرتے تھے اور دوران درس منطق فلسفہ و کلام کے مشکل مقامات پر ایسی دلکش و پر اثر تقریر فرماتے کہ مسئلہ آسانی سے دماغ میں بیٹھ جاتا ۔ عبادت کا یہ عالم تھا کہ ساری رات تسبیح و تحلیل ، ذکر شریف ، درود شریف اور نوافل کی ادائیگی میں بسر ہوا کرتی تھی۔

سفر حرمین شریفین:
1973ء میں حج بیت اللہ اور روضہ رسول ﷺ کی حاضری و زیارت کی سعادت حاصل ہوئی۔

منصب و ملازمت:
ایک بار صدر پاکستان جنرل ایوب خان کے دور حکومت میں آپ یونین کونسل پٹھان کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ دوران منصب حق سچ، عدل و انصاف، خدمت خلق، خدا ترسی اور ہمدردی کا بول بالا کر دیا۔ کسانوں کے مسائل حل کرانے میں خاص دلچسپی سے کام لیا۔ فلاح و ترقی کے خوب کام سر انجام دیئے۔ بیوہ خواتین، یتیم، جسمانی معذور اور غریبوں کی مالی امداد کی۔ راشن اور سلائی مشینیں تقسیم کیں، انہوں نے ہمیشہ غریبوں کے دکھوں کو اپنا دکھ سمجھا۔

شادی و اولاد:
آپ نے ایک شادی کی جس کے بطن سے تین بیٹیاں اور تین بیٹے تولد ہوئے ۔

عطاء اللہ
ثناء اللہ
حافظ محمد رف نالے مٹھوانڑ

وصال:
علامہ حمید اللہ انڑ نے 24 ، رجب المرجب 1411ھ بمطابق 21فروری 1990ء کو انتقال کیا ۔ نما جنازہ شیخ طریقت تاج السالکین حضرت میاں علی محمد مشوری القادری علیہ الرحمۃ (سجادہ نشین درگاہ مشوری شریف) کی اقتداء میں ادا ہوئی۔ شہر لاڑکانہ میں درگارہ شریف حضرت قائم شاہ بخاری علیہ الرحمۃ کے زیر سایہ قبرستان میں آخری آرامگاہ واقع ہے۔

حافظ نالے مٹھوانڑ۔ حافظ عبدالستار ابڑو کے ارسال کردہ مواد سے سوانح ترتیب دی گئی۔

( انوارِعلماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-sufi-hameedullah
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شاہ ابو سعید مجددی رام پوری رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب:
اسم گرامی:حضرت شاہ ابوسعیدرحمۃ اللہ علیہ۔لقب:عارف باللہ۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:آپ کا سلسلہ نسب حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ سے بایں طور ملتا ہے: حضرت مولانا شاہ ابو سعید مجددی رام پوری بن شاہ صفی القدر بن شاہ عزیز القدر بن شاہ عیسیٰ بن خواجہ سیف الدین بن خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی حضرت مجدد الفِ ثانی (علیہم الرحمۃ والرضوان)۔(تذکرہ کاملان رام پور:14)

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 2/ذیقعد 1196ھ،مطابق اکتوبر1782ءکورام پور(انڈیا) میں ہوئی۔

تحصیل علم:تقریباً دس سال کی عمر میں آپ نے قرآن شریف حفظ کرلیا بعد ازاں قاری نسیم ﷫ سے علم تجوید حاصل کیا۔ آپ قرآن مجید ایسی ترتیل سے پڑھا کرتے تھے کہ سننے والے محو ہوجایا کرتے۔ حتیٰ کہ جب آپ حرم مکہ معظّمہ میں وارد ہوئے تو اہلِ عرب نے آپ کی قرأت سُن کر تعریف و تحسین کی۔ حفظ قرآن کے بعد علوم عقلیہ و نقلیہ مفتی شرف الدین اور مولانا رفیع الدین بن شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے حاصل کیے ۔حدیث کی سند اپنے مرشد سے اور حضرت شاہ سراج احمد بن حضرت محمد مرشد مجددی اور شاہ عبد العزیز دہلوی سے حاصل کی۔(تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ:439)

بیعت وخلافت: اپنے والد گرامی سےآبائی طریقے پر مرید ہوئے،اور والد صاحب﷫ کےایماء پر حضرت شاہ درگاہی ﷫ سےبیعت ہوئے۔حضرت شاہ صاحب درگاہی﷫ نے آپ کے حال پر بڑی عنایت فرمائی اور چند ہی روز میں آپ کو اجازت و خلافت عطا فرمائی۔ابھی تشنگی باقی تھی آپ نےحضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی﷫ کوخط لکھا،انہوں نےجواب میں ارشاد فرمایا: کہ اس وقت میری نظر میں حضرت شاہ غلام علی دہلوی﷫ سےبہترکوئی نہیں۔پھر آپ حضرت شاہ غلام علی دہلوی﷫ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ابتدا سے انتہا تک تمام سلوک مجددیہ بتفصیل وکمال ان سے حاصل کیا۔شاہ صاحب﷫نے خاص عنایت فرماکر خلافت سےمشرف فرمایا،اور اپنی خانقاہ میں اپنا قائم مقام بنایا۔(ایضا:439)

سیرت وخصائص: امام العلماء والعارفین،سندالمتقین،آفتاب شریعت،ماہتاب طریقت،مجمع البحرین حضرت شاہ ابوسعید مجددی رام پوری ﷫۔آپ علیہ الرحمہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کےاہم شیخ طریقت اور عارف باللہ مجددوقت حضرت شاہ غلام علی دہلوی ﷫کےخلیفۂ اعظم تھے۔آپ ﷫تمام علوم ومعارف کے جامع تھاورحضرت امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی ﷫کے خاندان کےفرد فرید تھے۔ابتدائے عمر ہی سے آثارِسعید آپ میں پائے جاتے تھے۔ فرماتے تھے کہ مجھے اوائل عمر میں شہر لکھنؤ جانے کا اتفاق ہوا۔ ہم ایک مکان میں اُترے راستے میں ایک درویش ستر برہنہ بیٹھا ہوتا مگر جب وہ مجھے دیکھتا تو ستر درست کرلیتا۔ کسی نے اُس سے سبب دریافت کیا۔ اُس نے جواب دیا کہ ایک وقت آنے والا ہے کہ ان کو ایسا منصب حاصل ہوگا کہ اپنے اقارب کے مرجع ہوں گے چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آیا۔(تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ:438)

عین تحصیل علم میں خدا طلبی کا شوق پیدا ہو۔ پہلے اپنے والد بزرگوار سے ارادت کی جو اپنے آبائے کرام کے طریقہ پر مستقیم اور تارک دنیا اور ہر وقت اوراد و اشغال میں مشغول رہتے تھے پھر اُن کی اجازت سے حضرت شاہ درگاہی کی خدمت میں حاضر ہوئے جن کا سلسلہ دو واسطہ سے حضرت خواجہ محمد زبیر قدس سرہ سے ملتا ہے۔ حضرت شاہ درگاہی کو استغراق اس قدر رہتا تھا کہ نماز کے وقت مرید آپ کو آگاہ کردیا کرتے تھے اور توجہ ایسی تیز تھی کہ اگر ایک وقت میں سو آدمیوں کی طرف متوجہ ہوتے تو سب بیہوش ہوجایا کرتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب نے آپ کے حال پر بڑی عنایت فرمائی اور چند ہی روز میں آپ کو اجازت و خلافت عطا فرمائی۔ آپ کے بہت سے مرید ہوگئے اور حلقہ میں بیہوشی و وجد اور صَیحہ (چیخ)و نعرہ ہوا کرتا۔ چوں کہ نسبت مجددیہ میں یہ امور مرتفع ہوجاتے ہیں اور صحابہ کرام کی مثل کمال افسردگی اور آسودگی میں عمر گزرتی ہے۔ایک مرتبہ رامپور میں حضرت شاہ غلام علی﷫ کی بھی زیارت کی تھی اس لیے ابھی طلبِ خدا باقی تھی آپ رامپور سے دہلی تشریف لے گئے وہاں پہنچ کر قاضی ثناء اللہ پانی پتی کو اپنی خدا طلبی کے بارے میں ایک خط لکھا۔ جس کے جواب میں حضرت قاضی صاحب نے نہایت تعظیم سے آپ کو تحریر فرمایا کہ اس وقت شاہ غلام علی سے بہتر کوئی نہیں۔ پس آپ بتاریخ 7 محرم الحرام 1225ھ میں حضرت شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ابتدا سے انتہا تک تمام سلوک مجددیہ بکمال تفصیل حاصل کیا۔

خاص عنایت:حضرت شاہ غلام علی قدس سرہ آپ کے حال پر خاص عنایت فرماتے تھے چنانچہ ماہ صفر 1230ھ میں حضرت نے آپ کو اپنے سینے سے لگایا اور دیر تک توجہ فرمائی اور اپنی ضمنیت سے مشرف فرمایا اور 11/ جمادی الاول 1231ھ میں فرمایا:’’میرے بعد اس مکان میں میاں ابو سعید بیٹھیں اور حلقہ و مراقبہ اور درس حدیث وتفسیر میں مشغول ہوں‘‘۔ حضرت کی ایسی عنایات بعض لوگوں پر ناگوار گزرتی تھیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں:’’بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کے حال پر اس قدر عنایت کس واسطے ہے وہ یہ نہیں سمجھتے کہ میاں ابو سعید اپنے پانچ
1