🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت علامہ حافظ سید حسین احمد کاظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ

مولانا حافط سید حسین احمد کاظمی بن مولانا حافظ حاجی سید جمیل احمد کاظمی امروہہ (یوپی ، انڈیا) میں ۱۸ اکتوبر ۱۹۲۲ء کو تولد ہوئے ۔

تعلیم و تربیت:
آپ نے اپنے والد کے ہاں تعلیم کا آغاز کیا اور سات سال کی عمر میں انہی کے پاس قرآن مجید حفظ کیا ۔ مولانا قاری محمد مصلح الدین صدیقی سے علم قرأت و تجوید کی تعلیم حاصل کی ۔ مولوی عالم فاضل کے امتحانات کراچی بورڈ سے پاس کئے ۔

بیعت:
آپ اپنے چچا جان غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی ملتانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے دست بیعت ہوئے ۔

شادی و اولاد:
آپ نے شادی کی ۔ سات بیٹے اور دو بیٹیاں تولد ہوئیں ۔

۱۔ سید عبدالرحمن کاظمی مرحوم
۲۔ سید حمزہ احمد کاظمی
۳۔سید محمد حسین کاظمی مرحوم
۴۔ سید شرف احمد کاظمی
۵۔ سید ظفر احمد کاظمی
۶۔ حافظ سید فضل احمد کاظمی
۷۔ سید نثار احمد کاظمی
۸۔ سیدہ آمنہ خاتون
۹۔ سید آصفہ خاتون

امامت و خطابت:
کراچی کی متعدد مساجد میں آپ نے امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دئیے ۔امامت کے ساتھ محلے کے بچوں کو حفظ و ناظرہ قرآن مجید بھی پڑھاتے اور نکاح خوانی کے بھی فرائض سرانجام دیتے رہے۔ جامع مسجد مدینہ لیاقت آباد نمبر ۲ میں پچیس سال امام و خطیب کی حیثیت سے منسلک رہے۔ مسلم پاپولر اسکول نا ظم آباد اور کیانی میمن اسکول میں بھی تقریبا پچیس سالاستاد رہے۔

تلامذہ:
آپ کے شاگردوں کے نام درج ذیل ہیں:

٭ حافظ سید فضل احمد کاظمی
آستانہ سلطانیہ ناظم آباد نمبر ۲

٭ حافظ سلیم احمد خان
٭ حافظ نثار احمد
٭ حافط حمید

عادات و خصائل:
آپ اپنے والد کی طرح نہایت ہی سادہ طبیعت کے مالک تھے ۔ آپ کا زیادہ تر وقت عبادت اور قرآن و حدیث کے مطالعے میں بسر ہوتا تھا ۔ آپ کے مطالعے کا طریقہ یہ تھا کہ آپ سخت دھوپ میں بیٹھ کر مطالعہ کرتے تھے ۔ آپ کے دل میں اللہ و رسول کا عشق اس قدر تھا کہ آپ جس وقت حضور اکرمﷺ کا نام آپ کے لبوں پر آتا تو آپ کے ہونٹ کا نپنے لگتے تھے ۔ آپ جس وقت کوئی آیت قرآنی یا حدیث نبوی بیان کرتے تو ایسا لگتاتھا کہ جیسے آپ حضور پاک ﷺ کا دیدار کر رہے ہوں۔ قرآن مجید حفظ کرنے کے بعد آپ نے سب سے پہلے گیارہ سال کی عمر میں توڑی (انڈیا) میں ایک ہی رات میں ختم قرآن کیا اور آپ اکثر ایک رات میں قرآن پاک سنایا کر تے تھے آپ نے ہمیشہ اپنے شاگردوں کو سادگی سچائی اور نیک اعمال کرنے کی تلقین کی۔ آپ سفید رنگ کا عمامہ اور سفید رنگ کا لباس ہی پسند کر تے تھے ۔ ہر وقت با وضو رہتے تھے۔

وصال:
حافظ سید حسین احمد کاظمی نے یکم ذوالقعدہ ۱۴۱۱ھ بمطابق۔۔۔۔۔۔۱۹۹۱ء بروز جمعرات بوقت رات ساڑھے تین بجے ۶۹ سال کی عمر میں اپنے گھر پر انتقال کیا ۔ آپ کے چھوٹے بھائی سید متین احمد کاظمی نے نماز جنازہ کے فرائض سر انجام دیئے ۔ خاموش کالونی قبرستان (لیاقت آباد) میں تدفین عمل میں آئی۔

[ آپ کے بیٹے حافظ فضل احمد کاظمی صاحب (ناظم آباد ) نے حالات مہیا کئے، فقیر مشکور ہے ]

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-hafiz-syed-hussain-ahmad-kazmi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ پیر محمد فاروق رحمانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت خواجہ محمد فاروق رحمانی بن حضرت محمد فرید بن وزیر حسین نے دہلی ( انڈیا) میں ۱۹۰۲ء کو تولد ہوئے۔ آپ کا خاندان عرب شریف سے ہندوستان کے مغل بادشاہ شہاب الدین محمد شاہجہان کی ایماء پر وطن عزیز کو خیر باد کہہ کر ہندوستان میں وارد ہوا۔ آپ کا قبیلہ نہ صرف فن تعمیرات میں ماہر تھا بلکہ خطاطی ، زرگری ، نقشہ نویسی ، شناخت جواہرات ، مصوری مغل آرٹ ، تلوار وزرہ سازی اور پچی کاری و دیگر فنون میں بھی یگانہ روزگار تھا اس لئے مغلیہ عہد حکومت میں ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ سولہ سال کی عمر میں والدہ کا انتقال ہواپھر کلی طور پر تربیت والدہ کی شفقت کے تحت ہوئی ۔

شادی و اولاد:
۱۹۲۸ء کو چھبیس سال کی عمر میں والدہ ماجد ہ فاطمہ خاتون نے اپنے بھائی شریف اللہ کی دختر نیک اختر امینہ خاتون سے آپ کی شادی کرادی ۔ جن کے بطن سے دو بیٹے اور چھ بیٹیاں تولد ہوئے۔

۱۔ میاں محمد اقبال رحمانی
۲۔ میاں محمد ناصر رحمانی

دونوں کراچی صرافہ مارکیٹ میں اعلیٰ پائے کے جوہری اور جیولرز میں شمار کئے جاتے ہیں ۔ اول ذکر بعد میں سجادہ نشین ہوئے ۔

۳۔ فیروزہ بیگم
۴۔ طاہرہ بیگم
۵۔ فریدہ بیگم
۶۔ ساجدہ بیگم
۷۔ ناصرہ بیگم
۸۔ مسرت بیگم

بیعت و خلافت:
شادی کے دوسال بعد والدہ ماجدہ کا انتقال ہوا تو تنہائی کا احساس ہوا کسی رہبر کامل کی ضرورت محسوس کی اس لئے تلاش مرشد شروع کر رکھی۔ تین سال کے بعد منزل ملی ۱۹۳۸ء کو حضرت شیخ طریقت خواجہ انعام الرحمن قدوسی سہار نپوری ؒ (۱۹۵۴ء ) سے دست بیعت ہوئے۔ حضرت نے آپ کو نسبت چشتیہ صابر یہ اور قادریہ سے سیراب کیا اور بعد میں خلافت سے بھی نواز ے گئے ۔

تعلیم و تربیت:
ابتدائی معلم آپ کی والد ہ ماجدہ ہیں جس کی صحبت میں رہ کر دینی تعلیم و تربیت حاصل کی ۔ آداب زندگی ، صبر ، شکر، درگذر ، توکل اور پرہیز گار جیسی صفات سے متوصف ہوئے۔بچپن سے نماز روزہ کے پابند رہے ۔ والدہ کے انتقال کے بعد مخلوق خدا کو نفع پہچانے کے نقطہ نظر سے علوم نجوم ، ابجدی قمری کے دائرے ، علم بانسہ ، علم ہیئت، علم قیافہ ، علم اسماء ، علم تعبیر رویا سیکھے ۔ علم فقہ حنفیہ، حدیث نبوی ، تفسیر قرآن اور تصوف کے متعلق اردو زبان میں کثرت سے مطالعہ کیا۔ علم جفر اور رمل میں کمال حاصل کیا۔ پھر عملیات کی طرف آئے اور کمال حاصل کیا۔

ذریعۂ معاش:
آپ نے پیری مریدی اور تعویذات کو کبھی بھی ذریعہ معاش نہیں بنایا یہ تمام کام اللہ و رسول کی رضا اور خدمت خلق کے جذبہ سے جاری رکھے ۔

دہلی میں آپ کا اپنا کاروبار چاندنی چوک کے موتی بازار کے ایک بالا خانے پر سونے اور جواہرات کا تھا اور کراچی میں بھی یہی کاروبار جاری رکھا۔ جس سے اپنی ذاتی ، گھر والوں اور حاجت مندوں کی ضروریات کو پورا کرتے تھے۔

پاکستان آمد:
دہلی سے ملتان جہاز میں آئے اور ایک ماہ قیام کے بعد کراچی تشریف لائے اور ان دنوں رنچھوڑ لائن میں ایک کمرے میں رہائش اختیار کی اور رشد و ہدایت و خدمت خلق کا سلسلہ جاری رکھا۔ آپ نے اپنین حالات زندگی خود قلم بند کئے ہیں اس میں تحریک پاکستان کے دور میں دہلی کے ناگفتہ بر حالات بھی تحریر فرمائے ہیں جس کے پڑھنے سے جسم کا بال بال کھڑا ہو جاتا ہے۔ آپ کے نوجوانوں کو ایسے مضامین پڑھنا چاہئے تاکہ انہیں احساس ہو کہ قیام پاکستان نا گریز تھا۔

سفر حرمین شریفین:
۱۹۵۵ء کو پہلا حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ کی حاضری کی سعادت حاصل کی اس کے بعد متعدد باعمرے و حاضری مدینہ منورہ کی سعادت حاصل ہوتی رہی ۔

ہر سفر حج میں کوئی نہ کوئی صاحب سلسلہ بزرگ ساتھ لیتے تھے جن کی خدمات خود اور اہل حلقہ کرتے تھے۔ اس کے علاوہ کوئی معذور شخص مل جاتا جسے ذوق حرمین شریفین ہوتا اس کو بھی ’’قافلہ رحمانی ‘‘ میں ساتھ لے لیتے تھے ۔ سبحان اللہ !

خلفاء:
آپ سے فیض یاب بعض خلفاء کے اسماء درج ذیل ہیں:
٭ چوہدری عمر دین رحمانی (ایم ، اے انگلش)
٭ صوفی سید محمد ظہر الحسن رحمانی موٗ لف ربیع المجالس
٭ ملک ریاض حسین رحمانی بابا
٭ مولانا ابرار احمد رحمانی مشہور خطیب
٭ حافظ قاری ممتاز احمد رحمانی ، خانقاہ ممتازیہ ملیر کراچی

وصال:
حضرت خواجہ محمد فاروق رحمانی نے یکم ذیقعدہ ۱۴۰۳ھ بمطابق ۱۱، اگست ۱۹۸۳ء کو ۸۱سال کی عمر میں انتقال کیا۔

آپ کا آستانہ عالیہ الفاروق جہانگیر روڈ کراچی پر واقع ہے۔

[آپ کے حالات زندگی پر لکھی ہوئی کتاب ’’ربیع المجالس ‘‘موٗلف سید ظہر الحسن رحمانی مطبوعہ حلقہ رحمانی خانقاہ الفاروق کراچی ۱۹۹۵ء سے حالات ماخوذہیں ]


( انوارِ علماءِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-muhammad-farooqi-rehmani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
بابا محمد مہدی سہروردی کبراوی کشمیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ حضرت بابا عبد اللہ کشمیری قدس سرہ کے خلیفہ تھے۔

آپ ہی اپنے پیر روشن ضمیر کی وفات کے بعد مسند ارشاد پر جلوہ فرما ہوئے۔ قوت حلال حاصل کرنے کے لیے زراعت کیا کرتے تھے ایک عرصہ تک بارہ مولیٰ میں قیام پذیر رہے۔

پھر سری نگر کے شہر میں آگئے اور ہدایتِ خلق میں مصروف ہوگئے محلہ اندر وادی میں محفلِ ذکر و فکر بر پا کرتے تھے۔

وصال:
یکم ماہ ذیقعدہ ۱۱۵۰ھ میں وفات پائی۔ اس وقت آپ کی عمر ایک سو پچیس (۱۲۵) سال تھی۔

شیخ مہدی ولی عالی جاہ
سالِ تاریخ رحلتش سرور

رفت چوں ازجہاں بجنت صاف
گفت مخدوم مہدی کشّاف
۱۱۵۰ھ

( خذینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/baba-muhammad-mehdi-soharwardi-kashmiri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت بابا قدس کشمیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ خطہ دلپذیر کشمیر کے بلند رتبہ مشائخ میں سے تھے۔ قبیلہ آہن گراں سے تعلق رکھتے تھے۔ مگر مادر زاد ولی اللہ تھے۔ شیخ العارفین نورالدین ولی نے آپ کی پیدائش سے ایک سو سال پہلے آپ کی پیدائش کی خوشخبری دی اور آپ کے مراتب و کمالات کا اظہار کردیا تھا۔ آپ سے بچپن میں ہی ذوق خدا پرستی کے احوال نمایاں ہونے لگے تھے۔ اور طریقہ ریشاں پر عمل درآمد کرتے تھے۔ ریشی سلسلہ طریقت کشمیر میں بڑا مقبول تھا۔ یہ سلسلہ کبرویہ سلسلۂ طریقت کی ایک شاخ ہے۔ کشمیری زبان میں ریش عابد و زاہد انسان کو کہتے ہیں۔ آپ کو اویسی فیضان حاصل تھا۔ بابا قدس بھی اویسی ہی تھے۔ ظاہری طور پر آپ کو کسی بزرگ سے تعلق نہیں تھا۔ ساری رات قیام کرتے عبادات میں مشغول رہتے خلق محمدی کا عمدہ نمونہ تھے۔ آپ کا دسترخوان مہمان نوازی کے لیے کھلا رہتا تھا۔

آپ ابھی بچے ہی تھے۔ کہ آپ کے گھر ایک مہمان آگئے۔ آپ کی والدہ بازار سے مچھلی لینے گئیں تاکہ اس مہمان کی تواضح کی جاسکے مچھلی بازار سے لاکر ایک طشتری میں رکھی تھی کہ ایک پرندہ غلیواز آیا اور مچھلی اٹھا کر لے گیا۔ بابا قدس نے دیکھا تو فرمایا۔ اگر یہ مچھلی ہمارا مقدر ہوتی تو غلیواز نہ اٹھاتا۔ یہ قدرت کی طرف سے اسی پرندے کا نصیبہ تھا۔ ورنہ وہ کیوں اٹھاتا آپ یہ باتیں کر ہی رہے تھے۔ کہ وہ پرندہ واپس آیا اور مچھلی کو اسی طشتری میں رکھ کر اڑگیا۔

تواریخ اعظمی کے مولّف نے لکھا ہے کہ بابا قدس ہروی زندگی کے آخرین حصے میں شیخ مخدوم حمزہ قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ بیعت کی اور سلسلہ سہروردیہ میں داخل ہوئے۔ خرقہ خلافت حاصل کرلیا۔ حضرت بابا داود خاکی﷫ نے اپنی کتابوں میں آپ کے کمالات اور احوال کو تفصیلی طور پر لکھا ہے۔

آپ کی وفات یکم ماہ ذوالقعدہ ۹۸۶ھ میں ہوئی تھی تاریخ اعظمی نے تاریخ وفات میں یہ شعر لکھا ہے۔

شیخ دین بود اندریں کشمیر اندر عہد خویش

بہر فوتش شیخ دین بود آمد تاریخ سال

( مولّف لکھتے ہیں )

شیخ اقدس مقدس عالم
رحلتش ہست مخزن الانوار
۹۸۶ھ

آنکہ فیضش بدو جہاں جام است
نیز مخدوم قدس اسلام است
۹۸۶ھ

( خزینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-baba-quds-kashmiri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت امام ابو جعفر احمد بن محمد طحاوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: احمد بن محمد ۔ کنیت: ابو جعفر ۔ القاب: الامام، الحافظ، المجتہد ۔

آپ کا پورا نام و نسب اس طرح ہے:
الامام الحافظ ابو جعفر احمد بن محمد بن سلامہ بن عبد الملک بن سلمہ بن سلیم بن جناب الازدی المصری الطحاو ی الحنفی ۔ آپ کا نسبی تعلق یمن کے مشہور قبیلہ ازد کی شاخ حجر سے تھا اسلامی فتوحات کے بعد آپ کا خاندان مصر منتقل ہو کر سکونت گزیں ہو گیا اور یہیں "طحا" نامی ایک گاؤں میں آپ کی ولادت ہوئی ۔ جس کی نسبت سے آپ " طحاوی " کہلاتے ہیں ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت علامہ ابن خلکان کے مطابق 239ھ میں ہوئی ۔

تحصیل علم:
امام طحاوی نے جس وقت آنکھ کھولی پوری فضا علوم و فنون کی عطر بیزیوں سے معطر تھی آپ نے اپنے ماموں ابو ابراہیم مزنی تلمیذ امام شافعی سے علوم اسلامی کی تحصیل کی اور مسلکاً شافعی رہے ۔ مصر کے بعد امام طحاوی شام چلے گئے جہاں قاضی القضاۃ ابو حازم سے فقہ کی تحصیل کی مصر کے علاوہ آپ کے کثیر اساتذہ خراسان، یمن، کوفہ، بصرہ، حجاز شام کے تھے شام سے واپسی کے بعد آپ کے ذوق و جستجوئے علم کا یہ حال تھا کہ مصر کے اندر جب بھی کوئی فقیہ یا محدث وارد ہوتا تو اس کی بارگاہ میں حاضر ہوکر اکتساب علم کرتے۔ اسی لیے آپ کے شیوخ و اساتذہ کی فہرست کافی طویل ہے چند کے اسماء یہ ہیں ۔ ہارون بن سعید عیلی، عبد الغنی بن رفاعہ، یونس بن عبد الاعلیٰ، عیسیٰ بن مشرور، محمد بن عبد اللہ بن عبد الحکم، بحر بن نصر، ابو بکر بن قتیبہ سلیمان بن شعیب ابراہیم مزنی، احمد بن ابی عمران (علیہم الرحمہ)

تبدیلیِ مسلک:
شافعی مسلک ترک کرنے کی وجہ علامہ عبد العزیز پر ہاروی علیہ الرحمہ اس طرح بیان کرتے ہیں ۔

‘‘ ان الطحاوی کان شافعی المذہب فقرأفی کتابہ ان الحاملۃ اذا ماتت ولدا فی بطنھا ولد حتی لم فی بطنھا خلافا لابی حنیفۃ وکان الطحاوی ولدا مشقوقا فقال لا ارضی بمذھب رجل یرضی بھلا کی فترک مذہب الشافعی وصارمن عظماء الجتھدین علی مذھب ابی حنفیۃ’’۔

امام طحاوی ابتداءً شافعی المذھب تھے ایک دن انہوں نے شافعی کی کتاب میں پڑھا کہ جب حاملہ عورت مر جائے اور اس کے پیٹ میں بچہ زندہ ہو تو بچہ نکالنے کے لیے اس کے پیٹ کو چیرا نہیں جائے گا ۔ بر خلاف مذہب امام اعظم ابو حنیفہ ۔ اور امام طحاوی کو مذہب حنفی پر پیٹ چیر کر نکالا گیا تھا ۔ امام طحاوی نے اس کو پڑھ کر کہا میں اس شخص کے مذہب سے راضی نہیں جو میری ہلاکت پر راضی ہو پھر انہوں نے شافعیت کو چھوڑ دیا اور حنفی مسلک کو اختیار کیا اور اس مسلک کے عظیم مجتہد بن گئے ۔ (نبراس، ص۱۱۰) ـ

امام طحاوی کی ذات حدیث و فقہ کی جامع تھی آپ کے تبحر علمی کا شہرہ بلاد اسلامیہ کے دور درواز گوشوں تک پھیلا ہوا تھا یہی وجہ ہے کہ آپ کی بارگاہ میں اسلامی ممالک کے تشنگان علم کھنچ کھنچ کر چلے آرہے تھے آپ نے اپنے تلامذہ کی بہت بڑی جماعت چھوڑی ہے۔

علم و فضل:
امام طحاوی نے علم و فضل اور زہد و تقویٰ میں وہ مرتبہ بلند حاصل کرلیا تھا کہ عوام و خواص ۔ علماء و عمال سبھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور آپ اور کی جلالت علم کے سامنے جبین عقیدت خم کرتے تھے علاوہ ازیں آپ کے علم و فضل کا اعتراف اسلامی دنیا کی مشہور و معروف علمی ہستیوں نے ہر دور میں کیا ہے علامہ عینی فرماتے ہیں۔ ‘‘جن محدثین اور مورخین نے ان کا تذکرہ کیا ہے وہ سب ان کی مدح و توصیف میں متفق ہیں’’۔

حافظ ذہبی:
الامام العلامۃ الحافظ صاحب التصانیف البدیعۃ۔ امام طحاوی بہت بڑے عالم بلند پایہ حافظ حدیث اور اور بہت سی عجیب و غریب کتابوں کے مصنف ہیں (تذکرۃ الحفاظ، ج۳، ص۲۸)

ابن یونس:
‘‘کان ثقۃ ثبتا فقیھا عاقلا لم یخلف مثلہ، ثقہ، ثبت، فقیہ اور عقلمند تھے انہوں نے اپنے پیچھے اپنے جیسا کوئی آدمی نہیں چھوڑا ۔ (ایضاً)

ابو اسحاق شیرازی:
انتھت الی ابی جعفر ریاسۃ اصحاب ابی حنیفہ بمصر، مصر میں امام ابو حنیفہ کے پیرؤں کی سرداری ابو جعفر پر ختم ہے۔ (ایضاً)

علامہ سیوطی:
وہ حدیث و فقہ میں امام، علوم دینیہ کے ماویٰ اور احادیث نبوی کےملجا تھے۔

حافظ عبد البر:
وہ کوفیوں کی روایت اور مسائل فقہ کی سب سے زیادہ معرفت رکھتے تھے اور تمام مذاہب فقہاء کے عالم تھے۔ (لسان المیزان، ج۱، ص۲۷۵)

شاہ عبد العزیز:
نہایت پر ہیزگار۔ فقیہ اور دانشمند تھے۔ مصر میں ریاست حنفیہ کا سہرا انہیں کے سر تھا۔
1
امام طحاوی کی علمی عظمت کا سکہ پورے مصر پر چلتا تھا ان کی شہرت زندگی ہی میں اسلامی دنیا کے ہر ہر گوشے میں پہونچ چکی گھی۔ صرف طبقۂ علماء اور عوام ہی میں ان کی مقبولیت نہ تھی بلکہ اعیان سلطنت اور اصحاب جاہ و منصب آپ کی تعظیم و توقیر میں کوئی دقیقہ اٹھانہ رکھتے۔ اپنے طرز عمل اور اعزاز و احترام کے رویہ سے آپ کی علمی شوکت اقتدار کا اعتراف کرتے۔

شرح معانی الآثار:
علامہ طحاوی کی جملہ تصنیفات میں شہرت و قبول عام شرح معانی الآثار کو حاصل ہوا وہ دوسری تصانیف کے حصہ میں نہ آسکا بلاریب یہ کتاب فن حدیث میں ایک عظیم تصنیف اور حزب احناب کا سرمایۂ افتخار ہے اس کتاب میں حدیث، فقہ اور رجال کے متعدد علوم کو جس حسن اور عمدگی کے ساتھ جمع کردیا گیا ہے صرف مسلک حنفی ہی میں نہیں بلکہ دیگر مکاتبِ فکر میں بھی اس کی نظیر نہیں ملتی۔ علامہ امیر اتقانی فرماتے ہیں: ‘‘فانظر شرح معانی الآثار ھل تری لہ نظیرا فی سائر المذاہب فضلا عن مذھبنا ھذا’’ شرح معانی الآثار پر غور کرو کیا تم ہمارے مذہب حنفی کے علاوہ دوسری مذہب میں بھی اس کی نظیر پاسکتے ہو؟

وصال:
آپ کا وصال 82 سال کی عمر میں یکم ذیقعدہ 321ھ کو ہوا ۔ آپ کا مزار بمقام " قرافہ " مصر میں حضرت امام شافعی کے مزار کے ساتھ ہے ۔

ماخذ و مراجع:
محدثین عظام حیات خدمات ۔ تذکرۃ المحدثین ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-jafar-ahmad-bin-muhammad-tahawi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-10-1444 ᴴ | 21-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-11-1444 ᴴ | 22-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1