سیرت و خصائص:
جامع المنقول والمعقول، امام العلماء والفضلاء، رئیس الاصفیاء، خادم حدیثِ مصطفیٰ، وارث علومِ مجتبیٰ، عالمِ شریعت، عارفِ طریقت حضرت علامہ مولانا غلام محی الدین بگوی ۔آپ عالمِ اجل فاضلِ اکمل، فقیہ العصر، محدثِ بے بدل، صاحب کمالات صوری و معنوی تھے ۔ علمِ شریعت و طریقت کی تحصیل و تکمیل کرکے آپ اپنے آبائی علاقہ موضع بگہ واپس تشریف لائے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب آپ کے والد گرامی مولانا حافظ نور حیات کا وصال ہو چکا تھا ۔ سکھوں کے تخت و تاراج سے مسلمانوں کی معاشی اور مذہبی زندگی روبہ زوال تھی ۔ اسلامی تہذیب کے آثار مٹائے جا رہے تھے ۔ مسلمان مایوسی کے عالم میں دل گرفتہ ہو چکے تھے ۔ ایسے پر فتن و مشکل حالات میں مولانا غلام محی الدین نےمسند ارشاد پر قدم رکھا، اور پورے عزم کے ساتھ دین اسلام کی خدمت کرنے لگے ۔
آپ کےخلوص وللہیت اورعلمی پختگی نےسارے پنجاب کواپنی طرف متوجہ کرلیا۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کےوزیر فقیر عزیز الدین مرحوم موضع بگہ میں میں آئے اورمولانا کی علمی قابلیت سےاتنے متأثر ہوئے کہ لاہور جانےکی تمنا کااظہارکیا۔انہیں یقین تھا کہ ایسا فاضل انسان لاہور میں بیٹھ کرزیادہ خدمتِ دین کرسکتاہے۔آپ لاہور پہنچےاور مسجد بازار حکیماں میں شمعِ علم فروزاں کرنےلگے۔پروانگانِ علم ِدین چاروں سمت سے ٹوٹ پڑےاور یہ سنی عالم،مصطفیٰ ﷺکےعلوم سےسینوں کومنورکرنےلگا،اور کفرکےاندھیروں کواپنے علم کےنورسےروشن کردیا۔
غیر مسلم دامنِ اسلام میں: خلقِ خدا سےحسن سلوک اور علم دین کی اشاعت کا نتیجہ تھا کہ ہزاروں اچھوت آپ کےہاتھ پر اسلام لائے،حالانکہ اس وقت اسلام میں داخل ہونا توکجا اسلام پرقائم رہنا بھی بڑامشکل کام تھا۔آپ اپنی اخوت،مساوات اور حمیت اسلامی کےعلمی مظہر تھے۔غیرمسلم بھی آپ کےاخلاق وکردارسےمتأثر ہوئے بغیر نہ رہتےتھے۔(تذکرہ علمائےاہل سنت وجماعت لاہور:148)
علمِ حدیث کی اشاعت:
حضرت علامہ مولانا غلام محی الدین کی درس گاہ علم حدیث کی تدریس کابہت بڑا ادارہ تھا۔پنجاب کی شاید ہی کوئی علمی درس گاہ ہو جس میں اس مکتب حدیث کا فیض یافتہ علم دین نہ پڑھا رہا ہو ۔ آپ سے کم و بیش دوہزار اشخاص نے علم حدیث کی سند حاصل کی۔حضرت علامہ مولانا حافظ ولی اللہ لاہوری آپ کے نامور شاگرد ہیں۔ آپ نےلاہورکےتیس سالہ قیام میں ہزارہا تشنگان علوم دینیہ کو سیراب کیا۔اس تیس سالہ عرصےمیں آپ نےجس خلوص پامردی اور جانفشانی سے علمی کام کیا وہ مثالی حیثیت رکھتا ہے ۔ آپ زندگی کے آخری ایام میں علالت کی حالت میں اپنے وطن قصبہ بگہ تشریف لے گئے ۔ پھر وہیں انتقال ہوا۔آپ کےدو صاحبزادے مولانا غلام محمد بگوی اور مولانا عبدالعزیزبگوی علیہما الرحمہ علمی دنیا میں بڑے مشہور ہوئے۔مولانا غلام محمد بگوی ایک عرصے تک شاہی مسجد لاہور کے خطیب رہے ۔ مولانا عبد العزیز بگوی بھیرہ کی مرکزی مسجد کے خطیب رہے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال بروز پیر 30 شوال المکرم 1273ھ مطابق 22 جون 1857ء ہوا ۔ موضع بگہ، نزد بھیرہ ضلع سرگودھا میں آرام فرما ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ علمائے اہل سنت و جماعت لاہور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molvi-ghulam-mohiuddin-bagwi
جامع المنقول والمعقول، امام العلماء والفضلاء، رئیس الاصفیاء، خادم حدیثِ مصطفیٰ، وارث علومِ مجتبیٰ، عالمِ شریعت، عارفِ طریقت حضرت علامہ مولانا غلام محی الدین بگوی ۔آپ عالمِ اجل فاضلِ اکمل، فقیہ العصر، محدثِ بے بدل، صاحب کمالات صوری و معنوی تھے ۔ علمِ شریعت و طریقت کی تحصیل و تکمیل کرکے آپ اپنے آبائی علاقہ موضع بگہ واپس تشریف لائے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب آپ کے والد گرامی مولانا حافظ نور حیات کا وصال ہو چکا تھا ۔ سکھوں کے تخت و تاراج سے مسلمانوں کی معاشی اور مذہبی زندگی روبہ زوال تھی ۔ اسلامی تہذیب کے آثار مٹائے جا رہے تھے ۔ مسلمان مایوسی کے عالم میں دل گرفتہ ہو چکے تھے ۔ ایسے پر فتن و مشکل حالات میں مولانا غلام محی الدین نےمسند ارشاد پر قدم رکھا، اور پورے عزم کے ساتھ دین اسلام کی خدمت کرنے لگے ۔
آپ کےخلوص وللہیت اورعلمی پختگی نےسارے پنجاب کواپنی طرف متوجہ کرلیا۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کےوزیر فقیر عزیز الدین مرحوم موضع بگہ میں میں آئے اورمولانا کی علمی قابلیت سےاتنے متأثر ہوئے کہ لاہور جانےکی تمنا کااظہارکیا۔انہیں یقین تھا کہ ایسا فاضل انسان لاہور میں بیٹھ کرزیادہ خدمتِ دین کرسکتاہے۔آپ لاہور پہنچےاور مسجد بازار حکیماں میں شمعِ علم فروزاں کرنےلگے۔پروانگانِ علم ِدین چاروں سمت سے ٹوٹ پڑےاور یہ سنی عالم،مصطفیٰ ﷺکےعلوم سےسینوں کومنورکرنےلگا،اور کفرکےاندھیروں کواپنے علم کےنورسےروشن کردیا۔
غیر مسلم دامنِ اسلام میں: خلقِ خدا سےحسن سلوک اور علم دین کی اشاعت کا نتیجہ تھا کہ ہزاروں اچھوت آپ کےہاتھ پر اسلام لائے،حالانکہ اس وقت اسلام میں داخل ہونا توکجا اسلام پرقائم رہنا بھی بڑامشکل کام تھا۔آپ اپنی اخوت،مساوات اور حمیت اسلامی کےعلمی مظہر تھے۔غیرمسلم بھی آپ کےاخلاق وکردارسےمتأثر ہوئے بغیر نہ رہتےتھے۔(تذکرہ علمائےاہل سنت وجماعت لاہور:148)
علمِ حدیث کی اشاعت:
حضرت علامہ مولانا غلام محی الدین کی درس گاہ علم حدیث کی تدریس کابہت بڑا ادارہ تھا۔پنجاب کی شاید ہی کوئی علمی درس گاہ ہو جس میں اس مکتب حدیث کا فیض یافتہ علم دین نہ پڑھا رہا ہو ۔ آپ سے کم و بیش دوہزار اشخاص نے علم حدیث کی سند حاصل کی۔حضرت علامہ مولانا حافظ ولی اللہ لاہوری آپ کے نامور شاگرد ہیں۔ آپ نےلاہورکےتیس سالہ قیام میں ہزارہا تشنگان علوم دینیہ کو سیراب کیا۔اس تیس سالہ عرصےمیں آپ نےجس خلوص پامردی اور جانفشانی سے علمی کام کیا وہ مثالی حیثیت رکھتا ہے ۔ آپ زندگی کے آخری ایام میں علالت کی حالت میں اپنے وطن قصبہ بگہ تشریف لے گئے ۔ پھر وہیں انتقال ہوا۔آپ کےدو صاحبزادے مولانا غلام محمد بگوی اور مولانا عبدالعزیزبگوی علیہما الرحمہ علمی دنیا میں بڑے مشہور ہوئے۔مولانا غلام محمد بگوی ایک عرصے تک شاہی مسجد لاہور کے خطیب رہے ۔ مولانا عبد العزیز بگوی بھیرہ کی مرکزی مسجد کے خطیب رہے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال بروز پیر 30 شوال المکرم 1273ھ مطابق 22 جون 1857ء ہوا ۔ موضع بگہ، نزد بھیرہ ضلع سرگودھا میں آرام فرما ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ علمائے اہل سنت و جماعت لاہور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molvi-ghulam-mohiuddin-bagwi
scholars.pk
Hazrat Molvi Ghulam Mohiuddin Bagwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-10-1444 ᴴ | 20-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
30-10-1444 ᴴ | 21-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-10-1444 ᴴ | 21-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
30-10-1444 ᴴ | 21-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1