🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-10-1444 ᴴ | 20-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-10-1444 ᴴ | 20-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-10-1444 ᴴ | 20-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-10-1444 ᴴ | 20-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
مولانا غلام محی الدین بگوی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا غلام محی الدین بگوی ۔ لقب: فاضلِ اجل، عالمِ بے بدل ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا غلام محی الدین بن حافظ نور حیات بن حافظ محمد شِفا بن حافظ نور محمد بگوی علیہم الرحمہ ۔

آپ کا تعلق ایک علمی خاندان سے تھا۔علم کے ساتھ ساتھ تقویٰ کی دولت سے بھی مالا مال تھے ۔ بالخصوص آپ کے والد گرامی حافظ نور حیات شب بیدار اور باعمل حافظِ قرآن اور صاحبِ کرامات تھے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز پیر ماہ ِمحرم الحرام 1210ھ مطابق جولائی 1795ء کو موضع ’’بُگہ‘‘ نزد بھیرہ ضلع سرگودھا میں ہوئی۔حدائق الحنفیہ کے مصنف از مولانا فقیر محمد جہلمی نےصفحہ نمبر 494 پر آپ کا سنِ ولادت 1203ھ تحریر کیا ہے ۔ مگر آپ کے پوتے جناب مولانا ظہور احمد بگوی علیہ الرحمہ ’’تذکرہ مشائخِ بگہ‘‘ میں اپنے خاندانی کاغذات و دستاویزات کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ آپ کا صحیح سنِ ولادت 1210ھ ہے ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت و جماعت لاہور:145)

ولادت سے قبل بشارت:
آپ کو صغر سنی میں آپ کے والد ماجد جو ایک مقبول الٰہی اور صاحب کرامات بزرگ تھے۔اپنے دیگر تینوں فرزندوں سے زیادہ پیار کرتے اور اکثر اوقات اپنے پاس رکھا کرتے تھے چنانچہ ان کا قول ہے کہ میں نے ایک شب سحری کے وقت دریا ئےمُوکے کنارے پر تہجد پڑھنے کا ارادہ کیا اوراپنےبیٹےغلام محی الدین کو اپنے ہمراہ اٹھالیا اور دریا کے کنارے کپڑا بچھا کر اس کو لٹادیا اورخودوضو کر کے نوافل میں مشغول ہوگیا،میرے اور اس کے درمیان کچھ فاصلہ تھا اور رات اندھیری تھی کسی قدر دیر کے بعد مجھےیہ خیال گزرا کہ ایسا نہ ہوکہ کوئی درندہ بچے کو اذیت نہ پہنچائے، اپنے پاس لاکر لٹادوں۔جب میں اس کے پاس گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کو ایک سفیدریش مبارک صورت آدمی اپنی گود میں لیے بیٹھاہے۔میں نے اس کو کوئی بزرگ سمجھ کر کہا کہ آپ اس لڑکے کے حق میں دعا کریں کہ عالم با عمل ہو۔انہوں نے جواب دیا کہ یہ ازل سے ہی عالم باعمل ہے اور اس سے لوگوں کو بہت فیض حاصل ہوگا۔یہ کہتے ہی وہ آنکھوں سے غائب ہوگئے،سو خدا نے ایسا ہی کیا۔آپ کے ہم عصروں کی روایت ہےکہ آپ حالت صِغر سنی میں لڑکوں کے ساتھ نہ کھیلتے اور اکثر خاموش رہتے اور لڑکوں کو ہدایت کرتے تھے اور آپ کا خوف ورعب احترام ہم عُمربچوں پر رہتا تھا۔(حدائق الحنفیہ:494/علمائے اہل سنت وجماعت لاہور:145)

تحصیلِ علم:
چار برس چار ماہ کی عمر یعنی 1214ھ میں حافظ حسن صاحب مرحوم کی شاگردی میں آئے ۔ حافظ حسن صاحب اپنے شاگردوں کوپیٹنےمیں بدنام تھے۔مگر آپ کی ذہانت کاکرشمہ ہےکہ اتنا سخت استاد ایک دن بھی آپ پرہاتھ نہ اٹھا سکا ۔ بروایت حافظ حسن مشہور ہے کہ میں لڑکوں کے حق میں بڑا جبار تھا مگر انہوں نے مجھ سے کبھی مار نہیں کھائی،یہ لڑکوں میں خاموش بیٹھے رہتے تھے اور مجھ کو خیال ہوتا تھا کہ ان کو سبق یاد نہ ہوا ہوگا مگر جب میں کہتا تھا کہ سبق سناؤ تو یہ فوراً سبق سنا دیتے ۔ (حدائق الحنفیہ:495)

آپ نےتھوڑے عرصے میں قرآن شریف ختم کر لیا تھا مگر حفظ نہیں کیا تھا لیکن چونکہ آپ بڑے خوش آواز تھے اس لیے جب ماہِ رمضان آیا تو لوگوں نے آپ کے والد ماجد سے درخواست کی کہ اس رمضان میں غلام محی الدین سے قرآن شریف نوافل میں سننا چاہئے ۔ اس پر آپ سے آپ کے والد نے پوچھا کہ تم قرآن شریف سنا سکو گے؟ آپ نے کہا کہ اگر آپ میرے ساتھ ایک پارہ روز دور کر لیا کریں تو میں سُنا دوں گا پس اس طرح سے آپ نے اسی رمضان میں قرآن شریف حفظ کرلیا اور سنادیا۔آپ سے پوچھا گیا کہ آپ تمام دن میں یاد کیا کرتے تھے؟فرمایا کچھ نہیں صرف وقت ِچاشت تک ایک پارہ حفظ ہوجاتا تھا۔(تذکرہ علمائےاہل سنت وجماعت لاہور:146)

پھر آپ نے علم پڑھنا شروع کیا،صغر سنی میں یہ ذکاوت تھی کہ علمائے پنجاب کہتے تھے کہ اے لڑکے تمہیں پنجاب میں کوئی تعلیم نہیں دے سکے گا ،تم دہلی چلےجاؤ۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ اپنے چھوٹے بھائی مولانا احمد الدین بگوی کوساتھ لےکردہلی روانہ ہوئے۔اس وقت احمد الدین کی عمر آٹھ سال تھی اور دسواں پارہ حفظ کرتے تھے۔مگر دہلی پہنچنے تک انہوں نے بھی قرآن حفظ کرلیا پس آپ بارہ برس تک دہلی میں رہے۔اس عرصے میں اگرچہ دونوں بھائیوں نے علم معقول ومنقول متفرق علماء سے پڑھا،مگر علمِ حدیث مولانا شاہ محمداسحاق دہلوی﷫سے حاصل کیا اور اس کی سند کےلئےحضرت مولاناشاہ عبد العزیزمحدث دہلوی﷫ کے پاس لے گئے،انہوں نے آپ سے علمِ حدیث میں بہت سے سوالات کیے جن کے جواب آپ نے ایسے عمدہ دیے کہ شاہ صاحب نہایت خوش ہوئے اور انہوں نے علمِ حدیث کی سند دےکر دعا فرمائی انشاء اللہ تعالیٰ آپ سے بڑا فیض جاری ہوگا اورنصیحت کی کہ جب تم وطن واپس جاؤ تو ایسی کوئی بات نہ کرنا جس سے لوگوں میں تفرقہ پڑے۔(حدائق الحنفیہ: 495 / تذکرہ علمائے اہل سنت وجماعت لاہور ص:147)

بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میںشیخ الاسلام حضرت شاہ غلام علی دہلوی نقشبندی کے مرید ہوئے ۔
2
سیرت و خصائص:
جامع المنقول والمعقول، امام العلماء والفضلاء، رئیس الاصفیاء، خادم حدیثِ مصطفیٰ، وارث علومِ مجتبیٰ، عالمِ شریعت، عارفِ طریقت حضرت علامہ مولانا غلام محی الدین بگوی ۔آپ عالمِ اجل فاضلِ اکمل، فقیہ العصر، محدثِ بے بدل، صاحب کمالات صوری و معنوی تھے ۔ علمِ شریعت و طریقت کی تحصیل و تکمیل کرکے آپ اپنے آبائی علاقہ موضع بگہ واپس تشریف لائے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب آپ کے والد گرامی مولانا حافظ نور حیات کا وصال ہو چکا تھا ۔ سکھوں کے تخت و تاراج سے مسلمانوں کی معاشی اور مذہبی زندگی روبہ زوال تھی ۔ اسلامی تہذیب کے آثار مٹائے جا رہے تھے ۔ مسلمان مایوسی کے عالم میں دل گرفتہ ہو چکے تھے ۔ ایسے پر فتن و مشکل حالات میں مولانا غلام محی الدین نےمسند ارشاد پر قدم رکھا، اور پورے عزم کے ساتھ دین اسلام کی خدمت کرنے لگے ۔

آپ کےخلوص وللہیت اورعلمی پختگی نےسارے پنجاب کواپنی طرف متوجہ کرلیا۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کےوزیر فقیر عزیز الدین مرحوم موضع بگہ میں میں آئے اورمولانا کی علمی قابلیت سےاتنے متأثر ہوئے کہ لاہور جانےکی تمنا کااظہارکیا۔انہیں یقین تھا کہ ایسا فاضل انسان لاہور میں بیٹھ کرزیادہ خدمتِ دین کرسکتاہے۔آپ لاہور پہنچےاور مسجد بازار حکیماں میں شمعِ علم فروزاں کرنےلگے۔پروانگانِ علم ِدین چاروں سمت سے ٹوٹ پڑےاور یہ سنی عالم،مصطفیٰ ﷺکےعلوم سےسینوں کومنورکرنےلگا،اور کفرکےاندھیروں کواپنے علم کےنورسےروشن کردیا۔

غیر مسلم دامنِ اسلام میں: خلقِ خدا سےحسن سلوک اور علم دین کی اشاعت کا نتیجہ تھا کہ ہزاروں اچھوت آپ کےہاتھ پر اسلام لائے،حالانکہ اس وقت اسلام میں داخل ہونا توکجا اسلام پرقائم رہنا بھی بڑامشکل کام تھا۔آپ اپنی اخوت،مساوات اور حمیت اسلامی کےعلمی مظہر تھے۔غیرمسلم بھی آپ کےاخلاق وکردارسےمتأثر ہوئے بغیر نہ رہتےتھے۔(تذکرہ علمائےاہل سنت وجماعت لاہور:148)

علمِ حدیث کی اشاعت:
حضرت علامہ مولانا غلام محی الدین کی درس گاہ علم حدیث کی تدریس کابہت بڑا ادارہ تھا۔پنجاب کی شاید ہی کوئی علمی درس گاہ ہو جس میں اس مکتب حدیث کا فیض یافتہ علم دین نہ پڑھا رہا ہو ۔ آپ سے کم و بیش دوہزار اشخاص نے علم حدیث کی سند حاصل کی۔حضرت علامہ مولانا حافظ ولی اللہ لاہوری آپ کے نامور شاگرد ہیں۔ آپ نےلاہورکےتیس سالہ قیام میں ہزارہا تشنگان علوم دینیہ کو سیراب کیا۔اس تیس سالہ عرصےمیں آپ نےجس خلوص پامردی اور جانفشانی سے علمی کام کیا وہ مثالی حیثیت رکھتا ہے ۔ آپ زندگی کے آخری ایام میں علالت کی حالت میں اپنے وطن قصبہ بگہ تشریف لے گئے ۔ پھر وہیں انتقال ہوا۔آپ کےدو صاحبزادے مولانا غلام محمد بگوی اور مولانا عبدالعزیزبگوی علیہما الرحمہ علمی دنیا میں بڑے مشہور ہوئے۔مولانا غلام محمد بگوی ایک عرصے تک شاہی مسجد لاہور کے خطیب رہے ۔ مولانا عبد العزیز بگوی بھیرہ کی مرکزی مسجد کے خطیب رہے ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال بروز پیر 30 شوال المکرم 1273ھ مطابق 22 جون 1857ء ہوا ۔ موضع بگہ، نزد بھیرہ ضلع سرگودھا میں آرام فرما ہیں ۔

ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ علمائے اہل سنت و جماعت لاہور ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molvi-ghulam-mohiuddin-bagwi
2👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1