🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
خواجہ درویش محمد تونسوی علیہ الرحمہ

نام و نسب:
اسم گرامی: خواجہ درویش محمد

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
خواجہ گل محمد تونسوی بن خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی بن محمد زکریا بن عبد الوہاب بن عمر خان بن خان محمد﷭۔آپ﷫ حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی﷫ کےچھوٹے فرزند اور مادر زادولی تھے۔ان کی کرامات و خوارقات بچپن میں مشہور ہوگئیں تھیں۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1216ھ؍ مطابق 1801ء کوہوئی۔اس وقت خواجہ صاحب قبلۂ عالم خواجہ نور محمد مہاروی﷫کی خدمت میں ’’خانقاہ تاج سرور‘‘ چشتیاں شریف میں تھے۔ان کی مبارک باد کی خبر حضرت کو وہاں ملی تھی۔

تحصیلِ علم:
جب آپ کی عمر چار سال چار ماہ چار دن ہوئی تو آپ کو قرآن شریف پڑھنے کےلئے مکتب بھیجا گیا۔ابتدائی عربی و فارسی اور فقہ و منطق کی کتب مولانا گل محمد صاحب دامانی المعروف میاں صاحب ﷫ اور حافظ حسن نابیناصاحب سےپڑھیں۔دورانِ تعلیم ہی آپ کا وصال ہوگیا۔

بیعت و خلافت:
بیعت اپنے والد گرامی غوث ِ زماں حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی علیہ الرحمہ سے تھے ۔

سیرت و خصائص:
حضرت خواجہ درویش محمد ﷫مادر زاد ولی تھے۔آثارِ سعادت آپ کی پیشانی سےبچپن ہی سے ظاہر تھے۔ منقول ہے کہ ایک درویش حضرت خواجہ صاحب﷫ کے دروازے پر آیا ،اور آواز دی کہ اس گھر میں ایک بچہ مادرزاد ولی پیدا ہوگا، اور اس کےدائیں کندھے پر یہ علامت ہوگی،اور اس کا نام درویش محمد رکھنا۔جب آپ کی پیدائش ہوئی تو اس علامت کو دیکھا گیاتو موجود تھی ۔ پھر اسی وجہ سےآپ کانام درویش محمد رکھاگیا۔آپ نےکبھی پوری روٹی نہیں کھائی۔نصف کھود کھاتے،اور نصف خدا کی راہ میں صدقہ کردیتے۔دورانِ تعلیم سبق سے فراغت کےبعد درویشوں کے کپڑےسیتے۔اسی طرح مدرسے کےطلباء کی بہت خدمت کرتے تھے۔

تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 29؍شوال المکرم 1230ھ مطابق 4 اکتوبر 1815ء کو چودہ سال کی عمر میں ہوا۔آپ کی قبر غربی قبرستان تونسہ شریف میں ہے۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ خواجگانِ چشت اہل بہشت جلد سوم، ص؛ 92 ۔ (مؤلف: خواجہ غیاث اللہ سلیمانی)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-darwesh-muhammad-tansvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا فتح محمد اچھروی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا فتح محمد اچھروی ۔کنیت: ابو المشتاق ۔ لقب: زبدۃ الکاملین، رئیس العلماء الراسخین ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا فتح محمد اچھروی بن میاں امام دین ۔ علیہما الرحمہ ۔

مقامِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت اچھرہ لاہور میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
آپ نےعلماءِ لاہور سے علمی استفادہ کیا۔اپنے وقت کے جید عالم دین وعارف تھے۔بہترین مدرس، صاحبِ تقویٰ وفضیلت عالم تھے ۔ بڑے بڑےاکابرین نے آپ سے اکتساب علم کیا ۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ غلام محی الدین قصوری کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور انہی سے مجاز تھے ۔

سیرت و خصائص:
زبدۃ الکاملین، عمدۃ العارفین، رئیس الفضلاء والمتکلمین، حضرت علامہ مولانا فتح محمد اچھروی ۔

آپ علیہ الرحمہ نے ساری زندگی قال اللہ اور قال رسول اللہ کی صدائیں بلند فرمائیں۔ ایک زمانہ آپ سےفیض یاب ہوا۔ بچپن میں آپ پر چیچک کا شدید حملہ ہوا جس سے ظاہری بینائی زائل ہو گئی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم سے آپ کو وہ نورِ بصیرت و معرفت عطاء ہوا کہ مشائخِ کبار نے آپ سےاستفادہ کیا۔عربی،فارسی،طب،تصوف اور تمام مروجہ علوم میں کامل دسترس رکھتے تھےاور ہر قسم کے طلباء کو شرح و بسط سے درس دیا کرتے تھے۔

ایک دفعہ حضرت خواجہ عبد الرسول قصوری﷫اچھرہ کی ایک مسجدکےقریب سےگزرےدیکھاکہ ایک کتیا اپنے بچوں سمیت اس مسجد سے باہر آرہی ہے۔اس سےآپ کوبہت صدمہ ہواکہ لوگ خانۂ خدا سےاس قدر بےپروا ہ ہو چکے ہیں کہ مساجد حیوانات کی آماہ جگاہ بن چکی ہیں ۔ واپسی پر پھر وہیں سے گزرے تو فرمایا: ’’مجھے اس جگہ نور دکھائی دیتا ہے،یہاں خدا کا نوربر سےگا‘‘۔آپ کی یہ پیشین گوئی اس طرح پوری ہوئی کہ مولانا حافظ فتح محمد﷫نے اس مسجد میں جامعہ فتحیہ جاری کیا جہاں سے بڑے بڑے فضلاء فیض یاب ہوئے اور قال اللہ اور قال الرسول کا سلسلہ جاری رہا۔یہاں کےفضلاء میں سےایک نام ملک المدرسین،امام المناطقہ حضرت علامہ مولانا عطاء محمد بندیالوی﷫کابھی ہے۔

مولانا حافظ فتح محمد تقویٰ و پرہیز گاری میں اپنی مثال آپ تھے ، اپنے گھر میں بوئی ہوئی سبزی سے آپ کا کھانا تیار ہوا کرتا تھا ۔ آپ کی اہلیہ محترمہ بھی تقدس مآب خاتون تھیں ۔ اگرکسی خادمہ کا پکایا ہوا کھانا تناول فرمالیتے تو فوراً قے ہو جاتی ۔ اس دور کے مشائخ عظام مثلاً شیرِربانی حضرت میاں شیر محمد شر قپوری اور حضرت خواجہ محبوب عالم تو کلی خلیفہ حضرت سائیں تو کل شاہ انبالوی وغیر ہماکے آپ کے ساتھ خصوصی تعلقات تھے۔ یہ حضرات اکثر ملاقات کے لئے آپ کے پاس تشریف لایا کرتے تھے ۔ حضرت حافظ صاحب کو بزرگان دین اور مشائخ کرام سے گہری عقیدت تھی ۔ ایک مرتبہ آپ امام ربانی حضرت مجد الف ثانی رحمہ اللہ تعالیٰ کے مزار پر انور پر حاضر ہوئے۔ ایک درویش نے بحالت مراقبہ بارگاہ مجدد میں کرایہ کی درخواست کی ، ارشاد ہوا ، حافظ فتح محمد شاہ سے لے لو،اور ان کی شکل بھی دکھادی،مگر وہ درویش سوال نہ کر سکے،ادھر در بار مجددی سے حافظ صاحب کو ایماء ہوا کہ فلا شخص کو کرایہ دے دیا جائے چنانچہ آپ نے اپنے خادم جمال الدین کو فرمایا کہ یہ مسافر جو احاطۂ درگاہ سے باہر جا رہا ہے،اسے اتنا کرایہ دے دو۔

حضرت حافظ صاحب کے زمانے میں مولوی عبد اللہ چکڑا لوی نے فتنہ انکار حدیث کھڑا کیا تو آپ نے اس کے استیصال کے لئے سعی بلیغ فرمائی اور چکڑا لوی کے رد میں متعدد رسائل تصنیف فرمائے،ان میں سے ایک رسالہ کانام صلوٰۃ القرآن بمتابعۃ حبیب الرحمن المعروف بہ رد چکڑالوی ہے۔اسی طرح آپ کےفیض یافتہ علماءِ کرام نےرد وہابیت وقادیانیت وغیرہ کی خوب خبر لی۔جامعہ فتحیہ اچھرہ جوآپ کی ایک علمی یادگارتھااب وہ دیوبندیوں کے قبضے میں ہے۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 29 شوال المکرم 1335ھ مطابق اگست 1917ء کو ہوا ۔ آپ کی تربت لاہور میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/molana-hafiz-fatah-muhammad-acharwi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت علامہ سیدامیر محمد شاہ الحسینی رحمۃ اللہ تعالی علیہ

و ۱۰۔۱۳۰۹ھ / ف۱۳۷۹ھ / ۱۹۶۰م

آپ اپنے وقت کے اہلِ دل ، صوفی، عالم، بے نظیر عاشقِ رسول ہوئے ہیں۔ آپ کی عمر کا بیشتر حصّہ تعلیم و تعلّم میں گزرا ہے۔ پورے سندھ میں اور اس سے باہر آپ کے تلامذہ کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ تدریس کے ساتھ فتویٰ نویسی میں بھی آپ کو بڑا کمال حاصل تھا۔ دور دور سےفتاوٰی آپ کے پاس آتے تھے۔ آپ کے والدِ ماجد کا نام سیّد سوڈھل شاہ اور دادا کا نام سیّدویدھل شاہ تھا۔ قریہ امینافی ضلع و تحصیل دادومیں اقامت گزیں تھے جہاں پر حضرت سیّد امیر محمد شاہ الحسینی کی ولادت باسعادت ہوئی۔ قرآنِ حکیم میاں الھندو تنیو سے پڑھا۔

(سندھ جا اسلامی درس گاہ، ص ۵۲۳)

اس کے بعد بستی’’پرھیاڑن‘‘ میں مولوی محمدعارف کے پاس فارسی کی تعلیم مکمل کی۔ پھر عربی پڑھنے کے لیے دری دیرو کے قریب مولانا عبدالواجد جلبانی بلوچ کے ہاں آئے لیکن یہاں زیادہ عرصہ نہیں رہ سکے۔ بالآخر ہمایوں اسٹیشن کے قریب ’’میاں کاپٹ‘‘ میں علامہ محمد ہاشم انصاری پھلجی والے کے پاس سلسلۂ تعلیم شروع کردیا۔ مولانا مذکور دادو میں آکر رہنے لگے تو حضرت سیّد امیر محمد شاہ الحسینی بھی یہاں تشریف لے آئے اور یہں دادو میں جیون شاہ کی مسجد میں آپ کی دستارِ فضیلت ہوئی۔ فراغت کے بعد اپنے گاؤں (امینافی شریف) میں تدریس شروع فرما دی اور آخر عمر تک قَالَ اللہُ وَقَالَ الرَّسُوْل کی تعلیم دیتے رہے۔ حضرت سیّد امیر محمد شاہ الحسینی علیہ الرّحمۃ نے ستر سال کی عمر میں ۲۹؍ شوال ۱۳۷۹ھ اپریل ۱۹۲۰ء میں انتقال فرمایا۔ آپ کا مزار امینافی شریف ضلع دادو میں مرجعِ خلائق ہے آپ کے چند مشہور طلبہ کے نام مندرجۂ ذیل ہیں:

۱۔ مولوی فیض محمد بھرگڑی۔ ہجرت کر کے مدینے شریف تشریف لے گئے اور وہاں انتقال فرمایا۔

۲۔ علامہ مولانا حاجی محمد اکتڑائی تحریکِ خلافت کے مشہور کارکن اور علامہ سیّد محمد بخش شاہ جیلانی علیہ الرحمۃ نو خور آئی شریف والے اور مولانا محمد ادریس ڈاھری، واعظ، کے استادِ محترم۔

۳۔ مولوی محمد عثمان میمن مورو۔
۴۔ مولوی محمد داؤد بگھیو مورو۔

۵۔ مولانا پیر غلام نبی جان سر ہندی بن شاہ آغا جان سرہندی رَحِمَھُمُ اللہُ تَعَالٰی۔

۶۔ مولانا سیّد چھٹل شاہ بخاری ۔ خیر پورنا تھن شاہ۔

۷۔ مولانا محمد سہراب چار دن دادو۔

اور ان کے علاوہ بے شمار علما و مشائخ آپ کے شاگرد و مرید ہیں۔

( تذکرہ اولیاءِ سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-syed-ameer-muhammad-shah-hussaini
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
3
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-10-1444 ᴴ | 20-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-10-1444 ᴴ | 20-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
3