🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت علامہ قاضی لعل محمد مٹیاری علیہ الرحمۃ

بحر العلوم علامہ قاضی لعل محمد مٹیاروی

استاد العلماء والفضلاء علامہ قاضی لعل محمد، مٹیاری (ضلع حیدر آباد سندھ) میں ۲۹، شوال ۱۲۷۴ھ میں تولد ہوئے۔

تعلیم و تربیت:
مٹیاری میں تعلیم و تربیت حاصل کی، آپ کی خوشی نصیبی کہئے کہ ان دنوں مٹیاری میں رئیس العلماء حضرت علامہ حسن اللہ صدیقی (پاٹ شریف ) تدریس کے فرائض انجام دیتے تھے، اور آپ نے خوب ان سے استفادہ کیا۔ ( سندھ جا اسلامی درسگاہ ص ۴۱۳ ص۴۰۰)

قاضی صاحب نے میاں عبدالولی مٹیاروی سے بھی تعلیم حاصل کی جو کہ بے نظیر عالم ، عظیم فقیہ ، مخدوم محمد مٹیاروی کے شاگردار شد تھے اور وہ مخدوم عبدالکریم مٹیاروی بن مخدوم محمد عثمان مٹیاروی سے ، مخدوم عبدالکریم اپنے والد محترم سے جو کہ عالم اور فقیہ تھے، فقہ کی جزئیات پر عبور رکھتے تھے اور اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ وہ نصر پور کے مشہور عالم ، محدث ، فقیہ صوفی نور محمد نصر پوری کے اور وہ امام اہل سنت مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی کے ہونہار شاگرد تھے۔ ( ایضاص ۲۷۱ص ۳۱۰)

درس و تدریس:
اپنے وقت کے عظیم عالم، فاضل جلیل ، محقق مفتی حضرت حاجی حافظ لعل محمد مٹیاروی یوں تو اپنے زمانہ کے بہت بڑے عالم تھے اور تمام علوم میں مہارت رکھتے تھے لیکن علم فقہ اور علم فرائض میں آپ کو خصوصی شہرت اور مہارت حاصل تھی ۔ بڑے بڑے علماء آپکی خدمت میں حاضر ہو کر علم فرائض کی تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔ اس علم کا آپ کے پاس پڑھنا سند کمال اور سبب فخر شمار کیا جاتاتھا۔

حضرت خواجہ عبدالرحمن مجددی جب سندھ تشریف لائے اور ٹکھڑ میں قیام پذیر ہوئے توآپ نے اپنے صاحبزاد گان خصوصا حضرت شیخ الاسلام خواجہ محمد حسن جان سر ہندی کی تعلیم کے لئے حضر ت مولانا قاضی لعل محمد کا انتخاب فرمایا اور حضرت مولانا کو ٹکھڑ بلا کر یہاں آپ سے صاحبزادگان کو تعلیم دلوائی۔

حضرت خواجہ محمد حسن جان سر ہندی جب عرب شریف سے اپنی تعلیم مکمل کر کے واپس سندھ لوٹے تو آپ ٹنڈو غلام علی والے میر صاحبان کی استدعا اور گذارش پر ٹنڈو غلام علی کے مدرسہ میں تدریس کے لئے اپنے استاد محترم حضرت قاضی صاحب کا تقرر فرمایا۔ قاضی صاحب کے حسن اخلاق اور طریقہ تعلیم کے باعث وہ دارالعلوم اس مقام اور شہرت کو پہنچا کہ دور دراز سے طلبا ء تحصیل علوم و فنون کیلئے آنے لگے اور خوب اکتساب فیض کر کے اس خطہ کو علم کی روشنی سے منور کرنے لگے یہاں تقریبا بیس سال آپ نے علوم و فنون کے جوہر لٹائے ۔

ٹنڈو غلام علی ( ضلع بدین ) کے دارالعلوم کے سرپرست میر امام بخش خان جب فوت ہو گئے تو وہ مدرسہ تتر بتر ہو گیا ، کوئی نگاہ داشت اور سر پرستی کرنے والا نہ رہا اس کی رونقیں ختم ہونے لگیں تو خواجہ محمد حسن جان سر ہندی نے اپنے استاد محترم کو اپنے صاحبزادگان حضرت آغا عبداللہ جان مجددی وغیرہ کی تعلیم کے لئے ٹنڈو سائینداد ( ضلع حیدر آباد ) بلا لیا۔ جہاں آپ نے دو سال قیام فرمایا اور صاحبزادگان کو تعلیم دے کر اپنے گوٹھ مٹیاری شریف تشریف لے گئے اور وہیں مستقل رہائش اختیا ر کر لی اور آخر تک یہیں درس و تدریس اور فتویٰ نویسی میں مشغول رہے۔ کثرت تعلیم کے باعث کتب درسیہ آپ کو زبانی یاد ہو گئیں تھیں ۔ چنانچہ آٰخر عمر میں بغیر کتاب کے طلباء کو زبانی پڑھایا کرتے تھے ۔

(سندھ کے صوفیائے نقشبند حصہ دوم ص ۲۷۲)

۱۳۰۰ھ میں مدرسہ صولتیہ ( مکہ مکرمہ ) میں ایک سال اعزازی طور پر حدیث کے مدرس رہے۔

(سندھو )

تلامذہ:
آپ زندگی بھر درس و تدریس سے وابستہ رہے اس لئے تلامذہ کی تعداد کثیر ہے۔ ان میں سے بعض کے اسماء درج ذیل ہیں ۔

٭ قاطع نجدیت حضرت خواجہ محمد حسن جان سر ہندی
٭ پیر طریقت آغا عبداللہ جان سر ہندی
٭ رئیس العلماء مفتی اعظم تھر علامہ محمد عثمان قرانی
٭ صاحبزادہ غلام علی جان بن آغا عبد اللہ جان سر ہندی
٭ مشہور شاعر حافظ حامد ٹکھڑ
٭ مولانا میاں احمد نصر پوری
٭ علامہ مولانا محمد قاسم کالرو عمر کوٹ
٭ سید میران محمد شاہ
٭ مولانا مفتی محمد حسین ٹھٹوی

نوٹ:
پیر حاجی بقادار شاہ مٹیاروی مرحوم کی روایت کے مطابق قاضی صاحب کے تلامذہ کی تعداد ۷۰۰ہے ۔

بیعت:
شیخ طریقت خواجہ عبد الرحمن جان سر ہندی قدس سرہ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں آ پ بیعت تھے۔ ( روز نامہ سندھو حیدرآباد ۱۰ستمبر ۱۹۹۱ء ، مضمون نگار: محبوب علی مٹیاروی )
1
تصنیف و تالیف:
درس و تدریس کی مسلسل مشغولیت کے سبب تصنیف کی جانب کم وقت ملا ہو گا۔ ڈاکٹر جمن ٹالپر لکھتے ہیں : قاضی میاں لعل محمد متعلوی تیرہویں صدی کے اکابر علماء وفقہاء میں سے تھے ۔ جن کے پاس سندھ اور بیرون سندھ سے شرعی مسائل اور وراثت کے متعلق استفتاء آتے رہتے تھے۔ مٹیاری شہر کے قاضی تھے، قاضیوں کی مسجد شریف میں تعلیم وفتویٰ دیتے تھے۔ آپ کا تحریر کردہ مجموعہ تقریبا دو ہزار فتاویٰ پر مشتمل ہے ۔ ( سندھ جا اسلامی درسگاہ ص ۲۷۱)

آپ کی دو تصنیف کا علم ہوا ہے وہ آج بھی مٹیاری میں قلمی صورت میں محفوظ ہیں:

٭ نور العینین فی افضلیت الشیخین: سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہم کی افضلیت پر مشتمل اس کتاب میں ۶۳احادیث مبارکہ درج کی گئی ہیں ۔

٭ شروط الصلوٰۃ (سندھی) وضو غسل طہارت و مسائل نماز پر مشتمل ہے۔

٭ مولانا محمد معروف مٹیاروی نے قاضی صاحب کے تقریبا ۸۳ فتاویٰ کی جمع و ترتیب کا کام کیا تھا ۔ لیکن وہ ابھی تک قلمی صورت میں مولوی عبد اللہ مٹیاروی کے پاس ہے ۔ خدا کرے اشاعت کی کوئی صورت نکل آئے ۔ ( روز نامہ سندھو)

٭ قاضی صاحب نے اپنے ہونہار شاگرد خواجہ حسن جان سر ہندی کی وہابیت دیوبندیت غیر مقلدیت کے رد میں لکھی گئی کتاب ’’اصول الاربعہ فی تردید الوھابیہ ‘‘پر عربی میں تقریظ تحریر فرمائی تھی وہ کتاب کے ساتھ ہندو پاک اور ترکی وغیرہ سے کئی بار چھپ چکی ہے۔

سفر حرمین شریفین:
حضرت خواجہ عبدالرحمن مجددی جب ٹکہڑسے اپنے اہل و عیال کے ہمراہ حرمین شریفین چلے گئے تو حضرت قاضی صاحب بھی آپ کے ہمراہ تھے ۔ لیکن آپ مکہ معظمہ میں حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ کی حاضری کے بعد واپس سندھ تشریف لے آئے تھے۔ جب کہ حضرت نے وہاں پانچ سال قیام فرمایا۔

قاضی صاحب عشق رسول ﷺ سے سر شار دل رکھتے تھے اور آل رسول کے انتہائی ادیب تھے۔

وصال:
7 حضرت قاضی لعل محمد نے ۱۰، ذوالحجہ ۱۳۵۳ھ ؍ ۱۹۳۵ء کو یعنی عین عید الاضحی کے روز مٹیاری میں ۷۹سال کی عمر میں وصال فرمایا اور وہیں مدفون ہوئے ۔ (مونس المخلصین از: آغا جان ۔ صوفیائے نقشبند )

( انوارِ علمائے اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/allama-qazi-lal-muhammad
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
خواجہ درویش محمد تونسوی علیہ الرحمہ

نام و نسب:
اسم گرامی: خواجہ درویش محمد

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
خواجہ گل محمد تونسوی بن خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی بن محمد زکریا بن عبد الوہاب بن عمر خان بن خان محمد﷭۔آپ﷫ حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی﷫ کےچھوٹے فرزند اور مادر زادولی تھے۔ان کی کرامات و خوارقات بچپن میں مشہور ہوگئیں تھیں۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1216ھ؍ مطابق 1801ء کوہوئی۔اس وقت خواجہ صاحب قبلۂ عالم خواجہ نور محمد مہاروی﷫کی خدمت میں ’’خانقاہ تاج سرور‘‘ چشتیاں شریف میں تھے۔ان کی مبارک باد کی خبر حضرت کو وہاں ملی تھی۔

تحصیلِ علم:
جب آپ کی عمر چار سال چار ماہ چار دن ہوئی تو آپ کو قرآن شریف پڑھنے کےلئے مکتب بھیجا گیا۔ابتدائی عربی و فارسی اور فقہ و منطق کی کتب مولانا گل محمد صاحب دامانی المعروف میاں صاحب ﷫ اور حافظ حسن نابیناصاحب سےپڑھیں۔دورانِ تعلیم ہی آپ کا وصال ہوگیا۔

بیعت و خلافت:
بیعت اپنے والد گرامی غوث ِ زماں حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی علیہ الرحمہ سے تھے ۔

سیرت و خصائص:
حضرت خواجہ درویش محمد ﷫مادر زاد ولی تھے۔آثارِ سعادت آپ کی پیشانی سےبچپن ہی سے ظاہر تھے۔ منقول ہے کہ ایک درویش حضرت خواجہ صاحب﷫ کے دروازے پر آیا ،اور آواز دی کہ اس گھر میں ایک بچہ مادرزاد ولی پیدا ہوگا، اور اس کےدائیں کندھے پر یہ علامت ہوگی،اور اس کا نام درویش محمد رکھنا۔جب آپ کی پیدائش ہوئی تو اس علامت کو دیکھا گیاتو موجود تھی ۔ پھر اسی وجہ سےآپ کانام درویش محمد رکھاگیا۔آپ نےکبھی پوری روٹی نہیں کھائی۔نصف کھود کھاتے،اور نصف خدا کی راہ میں صدقہ کردیتے۔دورانِ تعلیم سبق سے فراغت کےبعد درویشوں کے کپڑےسیتے۔اسی طرح مدرسے کےطلباء کی بہت خدمت کرتے تھے۔

تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 29؍شوال المکرم 1230ھ مطابق 4 اکتوبر 1815ء کو چودہ سال کی عمر میں ہوا۔آپ کی قبر غربی قبرستان تونسہ شریف میں ہے۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ خواجگانِ چشت اہل بہشت جلد سوم، ص؛ 92 ۔ (مؤلف: خواجہ غیاث اللہ سلیمانی)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-darwesh-muhammad-tansvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا فتح محمد اچھروی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا فتح محمد اچھروی ۔کنیت: ابو المشتاق ۔ لقب: زبدۃ الکاملین، رئیس العلماء الراسخین ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا فتح محمد اچھروی بن میاں امام دین ۔ علیہما الرحمہ ۔

مقامِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت اچھرہ لاہور میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
آپ نےعلماءِ لاہور سے علمی استفادہ کیا۔اپنے وقت کے جید عالم دین وعارف تھے۔بہترین مدرس، صاحبِ تقویٰ وفضیلت عالم تھے ۔ بڑے بڑےاکابرین نے آپ سے اکتساب علم کیا ۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ غلام محی الدین قصوری کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور انہی سے مجاز تھے ۔

سیرت و خصائص:
زبدۃ الکاملین، عمدۃ العارفین، رئیس الفضلاء والمتکلمین، حضرت علامہ مولانا فتح محمد اچھروی ۔

آپ علیہ الرحمہ نے ساری زندگی قال اللہ اور قال رسول اللہ کی صدائیں بلند فرمائیں۔ ایک زمانہ آپ سےفیض یاب ہوا۔ بچپن میں آپ پر چیچک کا شدید حملہ ہوا جس سے ظاہری بینائی زائل ہو گئی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم سے آپ کو وہ نورِ بصیرت و معرفت عطاء ہوا کہ مشائخِ کبار نے آپ سےاستفادہ کیا۔عربی،فارسی،طب،تصوف اور تمام مروجہ علوم میں کامل دسترس رکھتے تھےاور ہر قسم کے طلباء کو شرح و بسط سے درس دیا کرتے تھے۔

ایک دفعہ حضرت خواجہ عبد الرسول قصوری﷫اچھرہ کی ایک مسجدکےقریب سےگزرےدیکھاکہ ایک کتیا اپنے بچوں سمیت اس مسجد سے باہر آرہی ہے۔اس سےآپ کوبہت صدمہ ہواکہ لوگ خانۂ خدا سےاس قدر بےپروا ہ ہو چکے ہیں کہ مساجد حیوانات کی آماہ جگاہ بن چکی ہیں ۔ واپسی پر پھر وہیں سے گزرے تو فرمایا: ’’مجھے اس جگہ نور دکھائی دیتا ہے،یہاں خدا کا نوربر سےگا‘‘۔آپ کی یہ پیشین گوئی اس طرح پوری ہوئی کہ مولانا حافظ فتح محمد﷫نے اس مسجد میں جامعہ فتحیہ جاری کیا جہاں سے بڑے بڑے فضلاء فیض یاب ہوئے اور قال اللہ اور قال الرسول کا سلسلہ جاری رہا۔یہاں کےفضلاء میں سےایک نام ملک المدرسین،امام المناطقہ حضرت علامہ مولانا عطاء محمد بندیالوی﷫کابھی ہے۔

مولانا حافظ فتح محمد تقویٰ و پرہیز گاری میں اپنی مثال آپ تھے ، اپنے گھر میں بوئی ہوئی سبزی سے آپ کا کھانا تیار ہوا کرتا تھا ۔ آپ کی اہلیہ محترمہ بھی تقدس مآب خاتون تھیں ۔ اگرکسی خادمہ کا پکایا ہوا کھانا تناول فرمالیتے تو فوراً قے ہو جاتی ۔ اس دور کے مشائخ عظام مثلاً شیرِربانی حضرت میاں شیر محمد شر قپوری اور حضرت خواجہ محبوب عالم تو کلی خلیفہ حضرت سائیں تو کل شاہ انبالوی وغیر ہماکے آپ کے ساتھ خصوصی تعلقات تھے۔ یہ حضرات اکثر ملاقات کے لئے آپ کے پاس تشریف لایا کرتے تھے ۔ حضرت حافظ صاحب کو بزرگان دین اور مشائخ کرام سے گہری عقیدت تھی ۔ ایک مرتبہ آپ امام ربانی حضرت مجد الف ثانی رحمہ اللہ تعالیٰ کے مزار پر انور پر حاضر ہوئے۔ ایک درویش نے بحالت مراقبہ بارگاہ مجدد میں کرایہ کی درخواست کی ، ارشاد ہوا ، حافظ فتح محمد شاہ سے لے لو،اور ان کی شکل بھی دکھادی،مگر وہ درویش سوال نہ کر سکے،ادھر در بار مجددی سے حافظ صاحب کو ایماء ہوا کہ فلا شخص کو کرایہ دے دیا جائے چنانچہ آپ نے اپنے خادم جمال الدین کو فرمایا کہ یہ مسافر جو احاطۂ درگاہ سے باہر جا رہا ہے،اسے اتنا کرایہ دے دو۔

حضرت حافظ صاحب کے زمانے میں مولوی عبد اللہ چکڑا لوی نے فتنہ انکار حدیث کھڑا کیا تو آپ نے اس کے استیصال کے لئے سعی بلیغ فرمائی اور چکڑا لوی کے رد میں متعدد رسائل تصنیف فرمائے،ان میں سے ایک رسالہ کانام صلوٰۃ القرآن بمتابعۃ حبیب الرحمن المعروف بہ رد چکڑالوی ہے۔اسی طرح آپ کےفیض یافتہ علماءِ کرام نےرد وہابیت وقادیانیت وغیرہ کی خوب خبر لی۔جامعہ فتحیہ اچھرہ جوآپ کی ایک علمی یادگارتھااب وہ دیوبندیوں کے قبضے میں ہے۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 29 شوال المکرم 1335ھ مطابق اگست 1917ء کو ہوا ۔ آپ کی تربت لاہور میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/molana-hafiz-fatah-muhammad-acharwi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت علامہ سیدامیر محمد شاہ الحسینی رحمۃ اللہ تعالی علیہ

و ۱۰۔۱۳۰۹ھ / ف۱۳۷۹ھ / ۱۹۶۰م

آپ اپنے وقت کے اہلِ دل ، صوفی، عالم، بے نظیر عاشقِ رسول ہوئے ہیں۔ آپ کی عمر کا بیشتر حصّہ تعلیم و تعلّم میں گزرا ہے۔ پورے سندھ میں اور اس سے باہر آپ کے تلامذہ کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ تدریس کے ساتھ فتویٰ نویسی میں بھی آپ کو بڑا کمال حاصل تھا۔ دور دور سےفتاوٰی آپ کے پاس آتے تھے۔ آپ کے والدِ ماجد کا نام سیّد سوڈھل شاہ اور دادا کا نام سیّدویدھل شاہ تھا۔ قریہ امینافی ضلع و تحصیل دادومیں اقامت گزیں تھے جہاں پر حضرت سیّد امیر محمد شاہ الحسینی کی ولادت باسعادت ہوئی۔ قرآنِ حکیم میاں الھندو تنیو سے پڑھا۔

(سندھ جا اسلامی درس گاہ، ص ۵۲۳)

اس کے بعد بستی’’پرھیاڑن‘‘ میں مولوی محمدعارف کے پاس فارسی کی تعلیم مکمل کی۔ پھر عربی پڑھنے کے لیے دری دیرو کے قریب مولانا عبدالواجد جلبانی بلوچ کے ہاں آئے لیکن یہاں زیادہ عرصہ نہیں رہ سکے۔ بالآخر ہمایوں اسٹیشن کے قریب ’’میاں کاپٹ‘‘ میں علامہ محمد ہاشم انصاری پھلجی والے کے پاس سلسلۂ تعلیم شروع کردیا۔ مولانا مذکور دادو میں آکر رہنے لگے تو حضرت سیّد امیر محمد شاہ الحسینی بھی یہاں تشریف لے آئے اور یہں دادو میں جیون شاہ کی مسجد میں آپ کی دستارِ فضیلت ہوئی۔ فراغت کے بعد اپنے گاؤں (امینافی شریف) میں تدریس شروع فرما دی اور آخر عمر تک قَالَ اللہُ وَقَالَ الرَّسُوْل کی تعلیم دیتے رہے۔ حضرت سیّد امیر محمد شاہ الحسینی علیہ الرّحمۃ نے ستر سال کی عمر میں ۲۹؍ شوال ۱۳۷۹ھ اپریل ۱۹۲۰ء میں انتقال فرمایا۔ آپ کا مزار امینافی شریف ضلع دادو میں مرجعِ خلائق ہے آپ کے چند مشہور طلبہ کے نام مندرجۂ ذیل ہیں:

۱۔ مولوی فیض محمد بھرگڑی۔ ہجرت کر کے مدینے شریف تشریف لے گئے اور وہاں انتقال فرمایا۔

۲۔ علامہ مولانا حاجی محمد اکتڑائی تحریکِ خلافت کے مشہور کارکن اور علامہ سیّد محمد بخش شاہ جیلانی علیہ الرحمۃ نو خور آئی شریف والے اور مولانا محمد ادریس ڈاھری، واعظ، کے استادِ محترم۔

۳۔ مولوی محمد عثمان میمن مورو۔
۴۔ مولوی محمد داؤد بگھیو مورو۔

۵۔ مولانا پیر غلام نبی جان سر ہندی بن شاہ آغا جان سرہندی رَحِمَھُمُ اللہُ تَعَالٰی۔

۶۔ مولانا سیّد چھٹل شاہ بخاری ۔ خیر پورنا تھن شاہ۔

۷۔ مولانا محمد سہراب چار دن دادو۔

اور ان کے علاوہ بے شمار علما و مشائخ آپ کے شاگرد و مرید ہیں۔

( تذکرہ اولیاءِ سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-syed-ameer-muhammad-shah-hussaini
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1