Forwarded from ✍ | العِلْمُ نُور | 📚
"المؤمنُ كثيرُ الآلام في بدنهِ أو أهلهِ أو ماله، وذلك مُكفّر لسيئاته ورافعٌ لدرجاته".
"مومن اپنے بدن یا اپنے اہل وعیال یا اپنے مال میں(کسی نہ کسی وجہ سے) کثرتِ غم میں مبتلا رہتا ہے تو اس کے ذریعے اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور اس کے درجات بلند ہوتے ہیں "_
[شرح النووي على مسلم ]
اللہ اللہ
•262•
"مومن اپنے بدن یا اپنے اہل وعیال یا اپنے مال میں(کسی نہ کسی وجہ سے) کثرتِ غم میں مبتلا رہتا ہے تو اس کے ذریعے اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور اس کے درجات بلند ہوتے ہیں "_
[شرح النووي على مسلم ]
اللہ اللہ
•262•
Forwarded from ✍ | العِلْمُ نُور | 📚
عزت و ذلت
"جس نے سخاوت کی عزت پائی اور جس نے بخل کیا ذلت اٹھائی"_
◆امام حسن رضی اللہ عنہ
•263•
"جس نے سخاوت کی عزت پائی اور جس نے بخل کیا ذلت اٹھائی"_
◆امام حسن رضی اللہ عنہ
•263•
Forwarded from ✍ | العِلْمُ نُور | 📚
کسب معاش
طلب الكسب فريضة على كل مسلم، كما أن طلب العلم فريضة .
•[کتاب الکسب ص.71]
” حلال کمائی کی طلب ہر مسلمان پر اسی طرح فرض ہے جیسا کہ علم دین سیکھنا فرض ہے “۔
◈امام محمد بن حسن شیبانی علیہ الرحمہ
"Halal Kamayi Ki Talab Har Musalman Par Esi Tarah Farz Hai Jaisa Ke Ilm E Deen Sikhna Farz Hai"_
•Imam Muhammad Bin Hasan Shaibani(Rahmatullah Aleh)
•264•
طلب الكسب فريضة على كل مسلم، كما أن طلب العلم فريضة .
•[کتاب الکسب ص.71]
” حلال کمائی کی طلب ہر مسلمان پر اسی طرح فرض ہے جیسا کہ علم دین سیکھنا فرض ہے “۔
◈امام محمد بن حسن شیبانی علیہ الرحمہ
"Halal Kamayi Ki Talab Har Musalman Par Esi Tarah Farz Hai Jaisa Ke Ilm E Deen Sikhna Farz Hai"_
•Imam Muhammad Bin Hasan Shaibani(Rahmatullah Aleh)
•264•
Forwarded from ✍ | العِلْمُ نُور | 📚
🔆لباس🔆
"ﻭﮨﺎﮞ ﻟﺒﺎﺱ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ،
ﺍﻭﺭ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﺎﺭﮮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮﮞ ﻭﮨﺎﮞ ﻟﺒﺎﺱ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ"_
~ﻭﺍﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﻭﺍﺻﻒ
•265•
"ﻭﮨﺎﮞ ﻟﺒﺎﺱ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ،
ﺍﻭﺭ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﺎﺭﮮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮﮞ ﻭﮨﺎﮞ ﻟﺒﺎﺱ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ"_
~ﻭﺍﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﻭﺍﺻﻒ
•265•
Forwarded from ◆❍ نقوشِ حدیث ❍◆ (فیضان سرور مصباحی)
الإمام الحافظ الزاهد أبو إسحاق إبراهيم الحربي (٢٨٥هـ)، صاحب الكتاب المشهور (غريب الحديث )
«أجمع عقلاء كل أمة على أن النعيم لا يُدرك بالنعيم»).
ہر امت کے عقل مندوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ عیش وعشرت میں رہ کر جنت میں نہیں پہنچا جا سکتا ۔
••┈┈┈┈┈┈┈┈┈┈┈••
«أجمع عقلاء كل أمة على أن النعيم لا يُدرك بالنعيم»).
ہر امت کے عقل مندوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ عیش وعشرت میں رہ کر جنت میں نہیں پہنچا جا سکتا ۔
••┈┈┈┈┈┈┈┈┈┈┈••
Forwarded from ✍ | العِلْمُ نُور | 📚
🌿صف چاہے کوئی سی ہو کمائی حلال ہونا چاہیے🌿
"حضرت سفیان ثوری رحمتہ اللہ تعالی علیہ سے لوگوں نے صف اول کی فضیلت دریافت کی -
تو آپ نے فرمایا پہلے یہ تو دیکھ لو کہ تمہاری کمائیاں حلال سے ہیں یا حرام سے -
صف چاہے آخری ملے لیکن روزی حلال کی ہونی چاہیئے "_
•[رزق حلال کی اہمیت ص.19]
•268•
"حضرت سفیان ثوری رحمتہ اللہ تعالی علیہ سے لوگوں نے صف اول کی فضیلت دریافت کی -
تو آپ نے فرمایا پہلے یہ تو دیکھ لو کہ تمہاری کمائیاں حلال سے ہیں یا حرام سے -
صف چاہے آخری ملے لیکن روزی حلال کی ہونی چاہیئے "_
•[رزق حلال کی اہمیت ص.19]
•268•
Forwarded from ✍ | العِلْمُ نُور | 📚
🍀انسانیت کا سب سے بڑا مرتبہ🍀
حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :
"حلال خالص پر اکتفا کرنا جو ہر طرح کے شک وشبہ سے پاک ہو انسانیت کا سب سے بڑا مرتبہ ہے اس پر وہی لوگ فائز ہو سکتے ہیں جو شدائد و مشکلات برداشت کریں" ۔
•[رزق حلال کی اہمیت ص.19]
•269•
حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :
"حلال خالص پر اکتفا کرنا جو ہر طرح کے شک وشبہ سے پاک ہو انسانیت کا سب سے بڑا مرتبہ ہے اس پر وہی لوگ فائز ہو سکتے ہیں جو شدائد و مشکلات برداشت کریں" ۔
•[رزق حلال کی اہمیت ص.19]
•269•
Forwarded from ✍ | العِلْمُ نُور | 📚
🌿تحقیق کم تخریب زیادہ🌿
🔹حضرت فیض احمد اویسی علیہ الرحمہ نے ایک سوال کے جواب میں کیا ہی خوب بات ارشاد فرمائی :-
تحقیق کم ہے تخریب زیادہ ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ 'ہمچو مادیگرے نیست' کا
مرض چمٹ گیا ہے۔
خود کو محقق بلکہ مجتہد تک سمجھتے ہیں یہاں تک کہ اعلی حضرت کی تحقیق پر اپنی غلط
تحقیق کو ترجیح دیتے ہیں
"محدث اعظم علامہ سردار احمد رضوی رحمة اللہ علیہ فرمایا کرتے اور فقیر کا بھی تجربہ ہوا ہے
کہ جوسنی ہو کر اعلی حضرت قدس سرہ کی تحقیق پر اپنے نظریہ کو ترجیح دیتا ہے تو وہ ہزاروں ٹھوکریں کھاتا ہوا گمراہی کے گڑھے میں گر جاتا ہے ۔ (فقیرتو دعا ہی کر سکتا ہے) اور کیا عرض کروں"-
•[علم کے موتی ص.15-16]
•266•
🔹حضرت فیض احمد اویسی علیہ الرحمہ نے ایک سوال کے جواب میں کیا ہی خوب بات ارشاد فرمائی :-
تحقیق کم ہے تخریب زیادہ ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ 'ہمچو مادیگرے نیست' کا
مرض چمٹ گیا ہے۔
خود کو محقق بلکہ مجتہد تک سمجھتے ہیں یہاں تک کہ اعلی حضرت کی تحقیق پر اپنی غلط
تحقیق کو ترجیح دیتے ہیں
"محدث اعظم علامہ سردار احمد رضوی رحمة اللہ علیہ فرمایا کرتے اور فقیر کا بھی تجربہ ہوا ہے
کہ جوسنی ہو کر اعلی حضرت قدس سرہ کی تحقیق پر اپنے نظریہ کو ترجیح دیتا ہے تو وہ ہزاروں ٹھوکریں کھاتا ہوا گمراہی کے گڑھے میں گر جاتا ہے ۔ (فقیرتو دعا ہی کر سکتا ہے) اور کیا عرض کروں"-
•[علم کے موتی ص.15-16]
•266•
❤2
حضرت عمدۃ المحققین صاحبزادہ سیّد محمد فاروق القادری گڑھی اختیار خان علیہ الرحمۃ
قدیم و جدید علوم کے حسین امتزاج حضرت صاحبزادہ مولانا سید محمد فاروق القادری بن حضرت پیرِ طریقت علامہ حافظ سیّد مغفور القادری(۱۳۹۰ھ) بن جامع علوم و فنون حضرت علّامہ حافظ سردار احمد قادری(م۔۱۱۳۵۰ھ) رحمہما اللہ ۲۵؍ شوال، ۱۳؍ اکتوبر ۱۳۶۳ھ / ۱۹۴۵ء میں شاہ آباد شریف گڑھی اختیار خان بہاولپور ڈویژن میں پیدا ہوئے۔
آپ بخاری سادات کے ایک عظیم علمی و روحانی خانوادہ کے چشم و چراغ ہیں۔ اس خاندان نے تقریباً ایک صدی قبل(۱۹۷۹ء میں) مکران اور سندھ کے راستے بہاول پور(ڈویژن) میں داخل ہوکر علم و حکمت اور رُشد و ہدایت کا فیض جاری کیا۔
آپ کے جدِّ امجد الحاج حافظ سردار احمد قادری(م۱۳۵۰ھ) علومِ دینیہ کے علاوہ جفر، نجوم، ہیئت و غیر ہافنون میں بھی کامل دست نگاہ رکھتے تھے۔ اُردو، سندھی، فارسی اور سرائیکی کے بہت اچھّے شاعر تھے۔ آپ کا سرائیکی اور سندھی کلام آج بھی سندھ کے بعض حلقوں میں نہایت ذوق و شوق سے پڑھا جاتا ہے۔ آپ نے سات مرتبہ پاپیادہ حج کیا اور دو سال تک مدینہ منوّرہ میں قیام پذیر رہے۔ اسی دوران مولانا عبد الباقی لکھنوی ثم مدنی سے تبرکاً دورۂ حدیث کی تکمیل کی۔
آپ کو خاندان خلافت و اجازت کے علاوہ بھرچونڈی شریف کے شیخ ثانی حضرت حافظ محمد عبد اللہ سائیں رحمہ اللہ تعالیٰ سے بھی سلسلۂ عالیہ قادریہ نقشبندیہ میں خلافت و اجازت حاصل تھی سلسلۂ سہروردیہ کی معروف خانقاہ کامارہ شریف(حیدر آباد سندھ) کے تمام صاحبزادگان اور بھرچونڈی شریف کے حضرت پیر عبد الرحمٰن آپ کے خصوصی شاگردو میں شامل تھے۔
حضرت صاحبزادہ فاروق القادری مدظلہ کے والد ماجد حضرت الشیخ الحافظ السیّد مغفور القادری(م۱۲۹۰ھ) عصر حاضر کے جیّد عالم بہترین ادیب، خطیب، شاعر، خطّاط ہونے کے علاوہ بہت سی خوبیوں کے جامع تھے۔ آپ نے تحریکِ پاکستان میں نمایاں حصّہ لیا۔ بنارس سنّی کانفرنس میں شرکت فرمائی۔ سندھ میں جماعت احیاء السلام اور تنظیم المشائخ کے ذریعے قیامِ پاکستان کا راستہ ہموار کیا۔ پھر چونڈی شریف کے صاحبزادگان اور سلسلۂ راشدیہ کے بعض صاحبزادگان کی تعلیم و تربیّت کے فرائض انجام دیے۔ اپنے علاقے میں تعمیرِ مساجدوں مدارس کے علاوہ تبلیغِ دین اور اصلاح اخلاق و احوال کی مہم چلائی اور بڑی حد تک کامیابی حاصل کی۔ آپ نے سندھ اور بہاول پور کے دور دراز علاقوں میں گھر گھر عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رواج دیا۔ ’’عباد الرحمٰن‘‘ آپ کی مشہور تصنیف ہے۔[۱]
[۱۔ ’’تذکرہ اکابرِ اہل سُنت‘‘ مؤلفہ حضرت مولانا محمد عبد الحکیم شرف قادری میں دونوں حضرات کا سوانحی خاکہ ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔]
حضرت صاحبزادہ سیّد محمد فاروق القادری مدظلّہ نے نہایت مہتم بالشّان علمی و روحانی ماحول میں آنکھ کھولی، اور خاندانی روایت کے مطابق بچپن ہی سے علومِ دینیہ کی تحصیل کے لیے وقف کردیے گئے۔ اہل سنّت کی مشہور مرکزی درسگاہ مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان سے آپ نے درسِ نظامی کی تکمیل کی۔
۱۹۶۵ء میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور سے شہادۃ عالمیہ(بی اے) کی سند حاصل کی۔ ۱۹۶۷ء میں اسی یونیورسٹی سے تخصص عربی ادب(ایم اے) کا امتحان پاس کیا اور اپنی جماعت میں اوّل رہے۔
۱۹۶۹ء میں آپ نے باقاعدہ طالب علم کی حیثیت سے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات کا امتحان پاس کیا اور یونیورسٹی میں اول پوزیشن حاصل کرکے سونے کا تمغہ بطورِ اعزاز حاصل کیا۔
۱۹۷۰ء میں والد ماجد علیہ الرحمۃ کے انتقال پر آپ کی دستار بندی کی گئی اور خانقاہ کی جانشینی کی ذمّہ داری آپ کے سپرد کی گئی۔
آپ کو اپنے والد ماجد علیہ الرحمۃ اور حضرت پیر عبد الرحیم شہید علیہ الرحمۃ بھرچونڈی شریف سے اجازت و خلافت حاصل ہے۔
خانقاہی ذمّہ داریوں کے علاوہ آپ جامع مسجد گڑھی اختیار خان میں(رضا کارانہ طور پر) جمعہ و عیدین کا خطبہ ارشاد فرماتے ہیں۔
تعلیم قرآن کے کئی اداروں بالخصوص ادارہ ’’تعلیماتِ اسلامیہ‘‘ کی نگرانی اور تعمیر و ترقی میں کوشاں رہتے ہیں۔
حضرت علّامہ صاحبزادہ سیّد محمد فاروق القادری بلند پایہ محقق اور ادیب ہیں۔ متعدّد اخبارات اور رسائل و جرائد میں علمی، ادبی، اسلامی اور تاریخی موضوعات پر سینکڑوں مضامین لکھ چکے ہیں۔
علاوہ ازیں آپ نے ’’اکابرِ تحریکِ پاکستان‘‘[۱] حصّہ اوّل و دوم پر تحقیقی مقدّمہ لکھا ہے۔ ’’انفاس العارفین‘‘(مصنّفہ حضرت شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی) اور ’’فتوح الغیب‘‘(مصنّفہ حضرت سیّدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کا اُردو میں ترجمہ کیا۔ تحقیق متن فرمائی اور محققانہ ضخیم مقدّمات تحریر فرمائے۔[۲]
[۱۔ یہ کتاب جناب محمد صادق قصوری صاحب کی تالیف ہے۔]
[۲۔ یہ تینوں کتب مکتبۂ ’’المعارف‘‘ کی طرف سے چَھپ چکی ہیں۔]
ایم اے اسلامیات کے امتحان میں ’’مکاتبِ دیو بند و بریلی کے خصوصی مسائل کا جائزہ‘‘ کے موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھا جسے ’’بورڈ آف اسلامک سٹڈیز‘‘ نے پسند کیا۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاعل پور میں
قدیم و جدید علوم کے حسین امتزاج حضرت صاحبزادہ مولانا سید محمد فاروق القادری بن حضرت پیرِ طریقت علامہ حافظ سیّد مغفور القادری(۱۳۹۰ھ) بن جامع علوم و فنون حضرت علّامہ حافظ سردار احمد قادری(م۔۱۱۳۵۰ھ) رحمہما اللہ ۲۵؍ شوال، ۱۳؍ اکتوبر ۱۳۶۳ھ / ۱۹۴۵ء میں شاہ آباد شریف گڑھی اختیار خان بہاولپور ڈویژن میں پیدا ہوئے۔
آپ بخاری سادات کے ایک عظیم علمی و روحانی خانوادہ کے چشم و چراغ ہیں۔ اس خاندان نے تقریباً ایک صدی قبل(۱۹۷۹ء میں) مکران اور سندھ کے راستے بہاول پور(ڈویژن) میں داخل ہوکر علم و حکمت اور رُشد و ہدایت کا فیض جاری کیا۔
آپ کے جدِّ امجد الحاج حافظ سردار احمد قادری(م۱۳۵۰ھ) علومِ دینیہ کے علاوہ جفر، نجوم، ہیئت و غیر ہافنون میں بھی کامل دست نگاہ رکھتے تھے۔ اُردو، سندھی، فارسی اور سرائیکی کے بہت اچھّے شاعر تھے۔ آپ کا سرائیکی اور سندھی کلام آج بھی سندھ کے بعض حلقوں میں نہایت ذوق و شوق سے پڑھا جاتا ہے۔ آپ نے سات مرتبہ پاپیادہ حج کیا اور دو سال تک مدینہ منوّرہ میں قیام پذیر رہے۔ اسی دوران مولانا عبد الباقی لکھنوی ثم مدنی سے تبرکاً دورۂ حدیث کی تکمیل کی۔
آپ کو خاندان خلافت و اجازت کے علاوہ بھرچونڈی شریف کے شیخ ثانی حضرت حافظ محمد عبد اللہ سائیں رحمہ اللہ تعالیٰ سے بھی سلسلۂ عالیہ قادریہ نقشبندیہ میں خلافت و اجازت حاصل تھی سلسلۂ سہروردیہ کی معروف خانقاہ کامارہ شریف(حیدر آباد سندھ) کے تمام صاحبزادگان اور بھرچونڈی شریف کے حضرت پیر عبد الرحمٰن آپ کے خصوصی شاگردو میں شامل تھے۔
حضرت صاحبزادہ فاروق القادری مدظلہ کے والد ماجد حضرت الشیخ الحافظ السیّد مغفور القادری(م۱۲۹۰ھ) عصر حاضر کے جیّد عالم بہترین ادیب، خطیب، شاعر، خطّاط ہونے کے علاوہ بہت سی خوبیوں کے جامع تھے۔ آپ نے تحریکِ پاکستان میں نمایاں حصّہ لیا۔ بنارس سنّی کانفرنس میں شرکت فرمائی۔ سندھ میں جماعت احیاء السلام اور تنظیم المشائخ کے ذریعے قیامِ پاکستان کا راستہ ہموار کیا۔ پھر چونڈی شریف کے صاحبزادگان اور سلسلۂ راشدیہ کے بعض صاحبزادگان کی تعلیم و تربیّت کے فرائض انجام دیے۔ اپنے علاقے میں تعمیرِ مساجدوں مدارس کے علاوہ تبلیغِ دین اور اصلاح اخلاق و احوال کی مہم چلائی اور بڑی حد تک کامیابی حاصل کی۔ آپ نے سندھ اور بہاول پور کے دور دراز علاقوں میں گھر گھر عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رواج دیا۔ ’’عباد الرحمٰن‘‘ آپ کی مشہور تصنیف ہے۔[۱]
[۱۔ ’’تذکرہ اکابرِ اہل سُنت‘‘ مؤلفہ حضرت مولانا محمد عبد الحکیم شرف قادری میں دونوں حضرات کا سوانحی خاکہ ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔]
حضرت صاحبزادہ سیّد محمد فاروق القادری مدظلّہ نے نہایت مہتم بالشّان علمی و روحانی ماحول میں آنکھ کھولی، اور خاندانی روایت کے مطابق بچپن ہی سے علومِ دینیہ کی تحصیل کے لیے وقف کردیے گئے۔ اہل سنّت کی مشہور مرکزی درسگاہ مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان سے آپ نے درسِ نظامی کی تکمیل کی۔
۱۹۶۵ء میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور سے شہادۃ عالمیہ(بی اے) کی سند حاصل کی۔ ۱۹۶۷ء میں اسی یونیورسٹی سے تخصص عربی ادب(ایم اے) کا امتحان پاس کیا اور اپنی جماعت میں اوّل رہے۔
۱۹۶۹ء میں آپ نے باقاعدہ طالب علم کی حیثیت سے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات کا امتحان پاس کیا اور یونیورسٹی میں اول پوزیشن حاصل کرکے سونے کا تمغہ بطورِ اعزاز حاصل کیا۔
۱۹۷۰ء میں والد ماجد علیہ الرحمۃ کے انتقال پر آپ کی دستار بندی کی گئی اور خانقاہ کی جانشینی کی ذمّہ داری آپ کے سپرد کی گئی۔
آپ کو اپنے والد ماجد علیہ الرحمۃ اور حضرت پیر عبد الرحیم شہید علیہ الرحمۃ بھرچونڈی شریف سے اجازت و خلافت حاصل ہے۔
خانقاہی ذمّہ داریوں کے علاوہ آپ جامع مسجد گڑھی اختیار خان میں(رضا کارانہ طور پر) جمعہ و عیدین کا خطبہ ارشاد فرماتے ہیں۔
تعلیم قرآن کے کئی اداروں بالخصوص ادارہ ’’تعلیماتِ اسلامیہ‘‘ کی نگرانی اور تعمیر و ترقی میں کوشاں رہتے ہیں۔
حضرت علّامہ صاحبزادہ سیّد محمد فاروق القادری بلند پایہ محقق اور ادیب ہیں۔ متعدّد اخبارات اور رسائل و جرائد میں علمی، ادبی، اسلامی اور تاریخی موضوعات پر سینکڑوں مضامین لکھ چکے ہیں۔
علاوہ ازیں آپ نے ’’اکابرِ تحریکِ پاکستان‘‘[۱] حصّہ اوّل و دوم پر تحقیقی مقدّمہ لکھا ہے۔ ’’انفاس العارفین‘‘(مصنّفہ حضرت شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی) اور ’’فتوح الغیب‘‘(مصنّفہ حضرت سیّدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کا اُردو میں ترجمہ کیا۔ تحقیق متن فرمائی اور محققانہ ضخیم مقدّمات تحریر فرمائے۔[۲]
[۱۔ یہ کتاب جناب محمد صادق قصوری صاحب کی تالیف ہے۔]
[۲۔ یہ تینوں کتب مکتبۂ ’’المعارف‘‘ کی طرف سے چَھپ چکی ہیں۔]
ایم اے اسلامیات کے امتحان میں ’’مکاتبِ دیو بند و بریلی کے خصوصی مسائل کا جائزہ‘‘ کے موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھا جسے ’’بورڈ آف اسلامک سٹڈیز‘‘ نے پسند کیا۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاعل پور میں
❤1
تخصص عربی ادب کی کلاس میں معروف عربی ادیب جا حظ کی زندگی، خدمات اور افکار پر ایک تحقیقی مقالہ ’’الجاحظ‘‘ تحریر کیا۔
’’فاضل بریلوی اور امور بدعت‘‘ کے نام سے آپ کی تصنیف ’’رضا پبلی کییشنز‘‘ لاہور کی طرف سے چھپ رہی ہے جس میں آپ نے اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خاں قدس سرہ پر مخالفینِ اہل سنّت کی طرف سے لگائے گئے غلط الزامات کا تحقیقی جائزہ لیا ہے۔ اس کے علاوہ ’’صوفیاء کی خدمت‘‘ اور ’’اسلام کی معاشی تعلیمات‘‘ پر بیشتر کام مکمّل کرچکے ہیں۔
تاریخ، تصوّف، قرآن پاک اور سیرۃِ محمدیہ علیٰ صاجہا الصّلوٰۃ والسّلام آپ کے پسندیدہ موضوع ہیں۔ آپ کا زیادہ تر وقت مطالعہ اور تحریر میں گزرتا ہے۔ ملکی و ملّی مسائل کے لیے آپ انقلابی ذہن رکھتے ہیں۔
ایک مکتوب میں اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں:
۱۔ کتاب و سنّت، عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلّم، معقولیّت اور علمی و فکری بنیاد کے بغیر کسی فکر و عقیدے کو اہمیت نہ دینا۔
۲۔ پاکستان کے پورے معاشی اور اقتصادی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی شدید ضرورت ہے اور یہ تبدیلیاں معمولی نہیں، بلکہ انقلابی ہونی چاہئیں۔
۳۔ اسلام کو بحیثیتِ ایک انقلابی فکر اور تحریک کے سمجھنا اور اسی انداز سے اس کی تشریح کرنا اور اسی نقطہ پر لوگوں کو اکھٹّا کرنا۔
۴۔ امراء کے طبقہ کو جو محض جلبِ منفعت اور عیّاشی کے لیے سیاست کو بطورِ مشغلہ اپنائے ہوئے ہے، کچھ وقت کے لیے سیاست سے منع کردینا چاہیے۔[۱]
[۱۔ مکتوب حضرت صاحبزادہ سیّد محمد فاروق القادری بنام حضرت استاذ محترم مولانا محمد عبد الکریم شرف قادری مدظلہ ۱۶؍ اکتوبر ۱۹۷۹ء (محمد صدّیق ہزاروی)]
( تعارف علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-muhammad-farooq-al-qadri
’’فاضل بریلوی اور امور بدعت‘‘ کے نام سے آپ کی تصنیف ’’رضا پبلی کییشنز‘‘ لاہور کی طرف سے چھپ رہی ہے جس میں آپ نے اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خاں قدس سرہ پر مخالفینِ اہل سنّت کی طرف سے لگائے گئے غلط الزامات کا تحقیقی جائزہ لیا ہے۔ اس کے علاوہ ’’صوفیاء کی خدمت‘‘ اور ’’اسلام کی معاشی تعلیمات‘‘ پر بیشتر کام مکمّل کرچکے ہیں۔
تاریخ، تصوّف، قرآن پاک اور سیرۃِ محمدیہ علیٰ صاجہا الصّلوٰۃ والسّلام آپ کے پسندیدہ موضوع ہیں۔ آپ کا زیادہ تر وقت مطالعہ اور تحریر میں گزرتا ہے۔ ملکی و ملّی مسائل کے لیے آپ انقلابی ذہن رکھتے ہیں۔
ایک مکتوب میں اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں:
۱۔ کتاب و سنّت، عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلّم، معقولیّت اور علمی و فکری بنیاد کے بغیر کسی فکر و عقیدے کو اہمیت نہ دینا۔
۲۔ پاکستان کے پورے معاشی اور اقتصادی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی شدید ضرورت ہے اور یہ تبدیلیاں معمولی نہیں، بلکہ انقلابی ہونی چاہئیں۔
۳۔ اسلام کو بحیثیتِ ایک انقلابی فکر اور تحریک کے سمجھنا اور اسی انداز سے اس کی تشریح کرنا اور اسی نقطہ پر لوگوں کو اکھٹّا کرنا۔
۴۔ امراء کے طبقہ کو جو محض جلبِ منفعت اور عیّاشی کے لیے سیاست کو بطورِ مشغلہ اپنائے ہوئے ہے، کچھ وقت کے لیے سیاست سے منع کردینا چاہیے۔[۱]
[۱۔ مکتوب حضرت صاحبزادہ سیّد محمد فاروق القادری بنام حضرت استاذ محترم مولانا محمد عبد الکریم شرف قادری مدظلہ ۱۶؍ اکتوبر ۱۹۷۹ء (محمد صدّیق ہزاروی)]
( تعارف علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-muhammad-farooq-al-qadri
scholars.pk
Molana Syed Muhammad Farooq Al-Qadri Garhi Ikhtiyar Khan
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شہزادۂ غوث الاعظم عبد الوہاب گیلانی
نام کنیت اور القابات:
اسمِ گرامی: سیّد عبد الوہاب گیلانی ۔ کنیت: ابو عبد اللہ ۔ اَلقاب: سیف الدین، فخر الاسلام، جمال الاسلام، قدوۃ العلما، فخر المتکلمین، قدوۃ السالکین، حجۃ علی الصادقین اور امامِ اہلِ طریق و اہلِ حق ۔
حضرت سیّد عبد الوہاب گیلانی محبوبِ سبحانی قطبِ ربانی شہبازِ لامکانی غوث الاعظم سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی کے فرزندِ ارجمند اور جانشیں تھے۔
ولادت:
جس دن سے آپ نے والدہ کے شکمِ مبارک میں قرار پکڑا، اس دن سے جناب غوث الاعظم اس طرف پشت نہ کرتے تھے۔ آپ کی ولادتِ باسعادت ماہِ شعبان المعظّم 522ھ مطابق اگست1128ء کوبغدادِمُعَلّٰی میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ نے اپنے والدِ ماجد سے علم الفقہ اورعلم الحدیث کی تحصیل فرمائی۔ اِس کے بعد ابو غالب احمدبن علی بن احمد المعروف بہ ابن البَنّا اور ابو القاسم سعید بن الحسین، اور ابو بکر محمد بن الزاغوانی وغیرہ سے بھی استماعِ حدیث کیا۔ نیز طلبِ علم کے لیے بلادِ عجم کے دُور دراز شہروں کا سفر کیا اور جیّد علمائےکرام سے استفادہ کیا اور فاضل و متبحر ہوئے۔ سیّد سعد اللہ الموسوی الرضوی القادری نے کتاب بحر السرائر میں آپ کے اساتذہ میں ابی منصور عبد الرحمٰن بن محمد بن الواحد اتفراز اور ابی الحسن محمد بن احمد بن حرفا اور ابی الفضل محمد بن عمر الارموی اور ابی الوقت عبد الاوّل بن عیسیٰ السبخری کے نام بھی تحریر کیے ہیں۔ آپ اپنے وقت کے جمیع ائمۂ حدیث کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے حدیث سماعت فرمائی (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین)۔ آپ نے تحصیلِ علوم و فنون کے بعد 543ھ میں اپنے والدِ بزرگوار کے سامنے اُن کی نیابت میں مدرسۂ سعیدیہ غوثیہ باب الازج میں درس و تدریس میں مصروف ہوگئے۔آپ کے درس سے بہت سے علما وفضلاء ہوئے۔ایک وقت ایسا آیا کہ زمانہ آپ کو فخرالاسلام،قدوۃ العلماء،اورفخرالمتکلمین کےالقابات سےیادکرتا تھا۔کیوں کہ یہ حقیقت ہے۔
؏:بےعلم نتواں راخدا شناخت!
فی زمانہ مشائخِ عظام کے سجادہ نشیں علمِ شریعت توپڑھ نہ سکے ،اِس لیے ’’علمِ لدنی‘‘سےگزارہ کر رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ حضور غوث الاعظم اور اُن کے صاحبزادگان ساری زندگی ’’عُلومِ مصطفیٰ ﷺ‘‘ پڑھتے اورپڑھاتے رہے۔
بیعت و خلافت:
اُنیس (19)سال کی عمر میں 541ھ کو حضرت غوث الثقلین نے آپ کو خلافت سے مشرف فرمایا۔آپ کی باطنی بیعت سَرورِ عالم ﷺ سےتھی۔
سیرت وخصائص:
شیخ الاسلام والمسلمین، فخر المتکلمین، سلطان المشائخ و الاصفیا، قدوۃ العلما، مخزنِ مشاہداتِ ربانی، مَوردِ تجلیاتِ سُبحانی حضرت سیّد عبدالوہاب گیلانی صاحبِ عُلومِ ظاہری و باطنی تھے، حضرت غوث الثقلین شیخ عبد القادر جیلانی کے فرزندِ اکبر اور مرید و خلیفۂ اعظم و سجادہ نشین تھے۔ آپ ظاہری علوم کی تحصیل وتکمیل کے بعد چار سال تک وظائف واواراد میں مشغول رہے۔حضرت غوث الاعظم کی توجہ سے قلیل عرصے میں مَراتبِ عالیہ پر فائز ہوئے۔ آپ اعلیٰ درجے کے فقیہ، محدث، فاضل، زاہد، عابد، شیریں کلام،مفتی اور واعظ تھے۔ آپ کے برادر ان میں سے کوئی ایسا نہیں تھا جس کو آپ پر ترجیح دی جا سکے۔آپ نہایت با مروّت،کریم النفس۔حلیم الطبع،منکسر المزاج،صاف گو،صاحبِ جودوسخا، اورادیبِ کامل تھے۔آپ اہلِ علم و خیر کی تعظیم کرنے والے تھے۔ بڑے عقل مند، متقی اور عزت و فضیلت کے مالک تھے۔ واضح کرامات، قابلِ فخر مقامات، شگفتہ اسرار، روشن بصیرت، عظیم حالات، گراں قدر احوال، خرقِ عادات و افعال، سچی باتوں، بلند ہمتوں اور قیمتی رتبوں کے مالک تھے۔آپ کو معارف میں کمالِ عروج، حقائق میں بہترین راستہ، بلندیوں میں بہت عالی طریقہ سابقین کے مراتب میں پیش قدمی، اہم منازل کی طرف سبقت، انتہائی نامساعد حالات میں ثابت قدمی، علومِ شریعت میں وسیع سینہ حاصل تھا۔ آپ حقائقِ آیات کو ظاہر کرنے والے وسیع کشف اور مشاہدات کے معانی کو کھولنے کی زبردست قدرت رکھتے تھے۔
آپ اُن لوگوں میں سے ایک تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی طرف ظاہر کیا،اوران کے سینوں میں آپ کی ہیبت اور ان کے دلوں میں آپ کی محبت بھردی، اور آپ کو خواص و عوام کے نزدیک قبولیتِ عامّہ عطا فرمائی۔ آپ کو عالم میں تصرف عطا فرمایا، احکامِ ولایت میں آپ کو قدرت دی، حقائقِ اشیاء کو آپ کے لیے تبدیل کر دیا۔ عادتوں کو بدل دیا، آپ کی زبان پر غیب کی باتیں جاری کیں۔ آپ کے ہاتھوں پر امور ِعجیب ظاہر کیے۔ آپ کی زبان پر حکمتیں جاری کیں۔ آپ کو قدوۃ السالکین، حجۃ علی الصادقین اور امامِ اہلِ طریق واہلِ حق کا لقب دیا گیا۔ آپ پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے حضور غوثِ اعظم کے وصال کے بعد اُن کی اَولاد میں سلسلۂ رُشد و ہدایت کی بنیاد رکھی، اورسلف کا طریقہ واضح کیا۔
وصال:
آپ کا وصال 25 شوّال المکرم 593ھ مطابق11 ستمبر 1197ء کو ہوا۔
مزارِ پُر اَنوار:
آپ کا مزار پر انوار بغدادِ معلیٰ مقبرہ حلبیہ میں ہے۔
ماخذ: شریف التواریخ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abdul-wahab-gilani
نام کنیت اور القابات:
اسمِ گرامی: سیّد عبد الوہاب گیلانی ۔ کنیت: ابو عبد اللہ ۔ اَلقاب: سیف الدین، فخر الاسلام، جمال الاسلام، قدوۃ العلما، فخر المتکلمین، قدوۃ السالکین، حجۃ علی الصادقین اور امامِ اہلِ طریق و اہلِ حق ۔
حضرت سیّد عبد الوہاب گیلانی محبوبِ سبحانی قطبِ ربانی شہبازِ لامکانی غوث الاعظم سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی کے فرزندِ ارجمند اور جانشیں تھے۔
ولادت:
جس دن سے آپ نے والدہ کے شکمِ مبارک میں قرار پکڑا، اس دن سے جناب غوث الاعظم اس طرف پشت نہ کرتے تھے۔ آپ کی ولادتِ باسعادت ماہِ شعبان المعظّم 522ھ مطابق اگست1128ء کوبغدادِمُعَلّٰی میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ نے اپنے والدِ ماجد سے علم الفقہ اورعلم الحدیث کی تحصیل فرمائی۔ اِس کے بعد ابو غالب احمدبن علی بن احمد المعروف بہ ابن البَنّا اور ابو القاسم سعید بن الحسین، اور ابو بکر محمد بن الزاغوانی وغیرہ سے بھی استماعِ حدیث کیا۔ نیز طلبِ علم کے لیے بلادِ عجم کے دُور دراز شہروں کا سفر کیا اور جیّد علمائےکرام سے استفادہ کیا اور فاضل و متبحر ہوئے۔ سیّد سعد اللہ الموسوی الرضوی القادری نے کتاب بحر السرائر میں آپ کے اساتذہ میں ابی منصور عبد الرحمٰن بن محمد بن الواحد اتفراز اور ابی الحسن محمد بن احمد بن حرفا اور ابی الفضل محمد بن عمر الارموی اور ابی الوقت عبد الاوّل بن عیسیٰ السبخری کے نام بھی تحریر کیے ہیں۔ آپ اپنے وقت کے جمیع ائمۂ حدیث کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے حدیث سماعت فرمائی (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین)۔ آپ نے تحصیلِ علوم و فنون کے بعد 543ھ میں اپنے والدِ بزرگوار کے سامنے اُن کی نیابت میں مدرسۂ سعیدیہ غوثیہ باب الازج میں درس و تدریس میں مصروف ہوگئے۔آپ کے درس سے بہت سے علما وفضلاء ہوئے۔ایک وقت ایسا آیا کہ زمانہ آپ کو فخرالاسلام،قدوۃ العلماء،اورفخرالمتکلمین کےالقابات سےیادکرتا تھا۔کیوں کہ یہ حقیقت ہے۔
؏:بےعلم نتواں راخدا شناخت!
فی زمانہ مشائخِ عظام کے سجادہ نشیں علمِ شریعت توپڑھ نہ سکے ،اِس لیے ’’علمِ لدنی‘‘سےگزارہ کر رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ حضور غوث الاعظم اور اُن کے صاحبزادگان ساری زندگی ’’عُلومِ مصطفیٰ ﷺ‘‘ پڑھتے اورپڑھاتے رہے۔
بیعت و خلافت:
اُنیس (19)سال کی عمر میں 541ھ کو حضرت غوث الثقلین نے آپ کو خلافت سے مشرف فرمایا۔آپ کی باطنی بیعت سَرورِ عالم ﷺ سےتھی۔
سیرت وخصائص:
شیخ الاسلام والمسلمین، فخر المتکلمین، سلطان المشائخ و الاصفیا، قدوۃ العلما، مخزنِ مشاہداتِ ربانی، مَوردِ تجلیاتِ سُبحانی حضرت سیّد عبدالوہاب گیلانی صاحبِ عُلومِ ظاہری و باطنی تھے، حضرت غوث الثقلین شیخ عبد القادر جیلانی کے فرزندِ اکبر اور مرید و خلیفۂ اعظم و سجادہ نشین تھے۔ آپ ظاہری علوم کی تحصیل وتکمیل کے بعد چار سال تک وظائف واواراد میں مشغول رہے۔حضرت غوث الاعظم کی توجہ سے قلیل عرصے میں مَراتبِ عالیہ پر فائز ہوئے۔ آپ اعلیٰ درجے کے فقیہ، محدث، فاضل، زاہد، عابد، شیریں کلام،مفتی اور واعظ تھے۔ آپ کے برادر ان میں سے کوئی ایسا نہیں تھا جس کو آپ پر ترجیح دی جا سکے۔آپ نہایت با مروّت،کریم النفس۔حلیم الطبع،منکسر المزاج،صاف گو،صاحبِ جودوسخا، اورادیبِ کامل تھے۔آپ اہلِ علم و خیر کی تعظیم کرنے والے تھے۔ بڑے عقل مند، متقی اور عزت و فضیلت کے مالک تھے۔ واضح کرامات، قابلِ فخر مقامات، شگفتہ اسرار، روشن بصیرت، عظیم حالات، گراں قدر احوال، خرقِ عادات و افعال، سچی باتوں، بلند ہمتوں اور قیمتی رتبوں کے مالک تھے۔آپ کو معارف میں کمالِ عروج، حقائق میں بہترین راستہ، بلندیوں میں بہت عالی طریقہ سابقین کے مراتب میں پیش قدمی، اہم منازل کی طرف سبقت، انتہائی نامساعد حالات میں ثابت قدمی، علومِ شریعت میں وسیع سینہ حاصل تھا۔ آپ حقائقِ آیات کو ظاہر کرنے والے وسیع کشف اور مشاہدات کے معانی کو کھولنے کی زبردست قدرت رکھتے تھے۔
آپ اُن لوگوں میں سے ایک تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی طرف ظاہر کیا،اوران کے سینوں میں آپ کی ہیبت اور ان کے دلوں میں آپ کی محبت بھردی، اور آپ کو خواص و عوام کے نزدیک قبولیتِ عامّہ عطا فرمائی۔ آپ کو عالم میں تصرف عطا فرمایا، احکامِ ولایت میں آپ کو قدرت دی، حقائقِ اشیاء کو آپ کے لیے تبدیل کر دیا۔ عادتوں کو بدل دیا، آپ کی زبان پر غیب کی باتیں جاری کیں۔ آپ کے ہاتھوں پر امور ِعجیب ظاہر کیے۔ آپ کی زبان پر حکمتیں جاری کیں۔ آپ کو قدوۃ السالکین، حجۃ علی الصادقین اور امامِ اہلِ طریق واہلِ حق کا لقب دیا گیا۔ آپ پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے حضور غوثِ اعظم کے وصال کے بعد اُن کی اَولاد میں سلسلۂ رُشد و ہدایت کی بنیاد رکھی، اورسلف کا طریقہ واضح کیا۔
وصال:
آپ کا وصال 25 شوّال المکرم 593ھ مطابق11 ستمبر 1197ء کو ہوا۔
مزارِ پُر اَنوار:
آپ کا مزار پر انوار بغدادِ معلیٰ مقبرہ حلبیہ میں ہے۔
ماخذ: شریف التواریخ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abdul-wahab-gilani
scholars.pk
Hazrat Syed Abdul Wahab Gilani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-10-1444 ᴴ | 15-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
25-10-1444 ᴴ | 16-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2