🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from ◆❍ نقوشِ حدیث ❍◆ (فیضان سرور مصباحی)
سفید عمامہ مبارک
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حضرت سیّدنا ابو سعید خُدرِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ درِدولت سے باہر تشریف لائے جب کہ لوگ زیارت کے لیے جمع تھے اور آپ ﷺ (کی طبیعت مبارک)  کے متعلق پوچھ رہے تھے، پس آپ ﷺ  کپڑا لپیٹے یوں تشریف لائے کہ آپ ﷺ کی چادر مبارک کے دونوں کنارے آپ کے مبارک کندھوں سے لٹک رہے تھے اور سرِاقدس پر سفید عمامہ شریف سجا رکھا تھا۔
(طبقات ابن سعد، ذکر ما قال رسول اللہ ﷺ فی مرضہ الذی مات فیہ للانصار، ۲/ ۱۹۳ )

دھاری دارسرخ عمامہ مبارک
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ  کو اس طرح وضو فرماتے دیکھا ، آپ ﷺ نے قِطری ( سرخ دھاری دار کھردرہ ) عمامہ شریف باندھ رکھا تھا ۔
(ابوداؤد ، کتاب الطہارۃ، باب المسح علی العمامۃ ، ۱/۸۲، حدیث: ۱۴۷)

سبز عمامہ مبارک
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سبز عمامہ شریف بھی رسول اکرم ﷺ سے پہننا ثابت ہے چنانچہ 

علّامہ شیخ عبدالحق محدّث دہلوی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں ، سرکارِ ﷺ کا مبارک عمامہ اکثر سفید اور کبھی سیاہ اور بعض اوقات سبز ہوتا۔ (کشف الالتباس فی استحباب اللباس، ص ۳۸)

حضرت عبد اللہ  ابن عباس رَضِی اللہ تَعالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے: ’’ بَدَر کے روز فرشتوں کی نشانی سفید عمامے اور بروزِ حُنین سبز سبز عمامے تھی‘‘۔  (تفسیر خازن، پ ۹، الانفال، تحت الآیۃ۹، ۲/۱۸۲)
حضرت علّامہ عَبدُالغَنِی بِن اِسمَاعِیل نابُلُسِی حَنَفِی عَلَیہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی اور حضرتِ علّامہ محمد عبد  الرَّءُوف مناوی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ (قربِِ قیامت ) جب حضرت سیِّدنا عیسٰی ﷺ زمین پر تشریف لائیں گے تو آپ کے سرِ اقدس پر سبزسبز عمامہ شریف ہو گا۔ (الحدیقۃ الندیۃ، ۱/۲۷۳، فیض القدیر، حرف الدال ، فصل فی المحلی بال من ھذا الحرف، ۳/۷۱۸، تحت الحدیث:۴۲۵۰، عقدالدرر فی اخبار المنتظر، الفصل الثانی فیما جاء من الآثار الدالۃ علی خروج الدجال الخ، ص۳۴۲) 
صحابۂ کرام رِضوَانُ اللہِ تَعالٰی عَلَیہِم اَجمَعِین سے بھی سبز عمامہ شریف کا ثبوت ملتا ہے چنانچہ
حضرت سیّدنا سلیمان بن ابوعبداللہ تابعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :میں نے دیکھا کہ مہاجرین اولین (صحابہ ) سیاہ، سفید، سرخ، سبزاور زرد رنگ کے سوُتی عمامے باندھا کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب اللباس ، باب من کان یعتم بکور واحد ، ۱۲/۵۴۵، حدیث: ۲۵۴۸۹ واللفظ لہ، مسند اسحاق بن راہویہ، ما یروی عن الاسود بن یزید الخ، ۳/۸۸۲، رقم: ۱۵۵۶)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ  ہمیں حضور اکرم ﷺ کی ہر سنت کو اپنانے کی توفیق عطاء فرمائے ۔۔۔ آمین

منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌸رزق کے لئے محنت کرو آسمان سے سونا چاندی نہیں برستا🌸

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ:
" تم میں سے کسی مسلمان کے لئے یہ ہر گز مناسب نہیں کہ وہ رزق کی طلب کے لئے ہاتھ پیر چلائے بغیر بیٹھ کر بس یہی دعا کرتا رہے کہ (اللهم ارزقني )اے اللہ ! مجھے رزق عطا فرما۔"
"اسے علم ہونا چاہئے کہ آسمان سے سونا
چاندی نہیں برستا"۔

•[احیاء علوم الدین از امام غزالی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ، جلد دوم]

•267•
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from ◆❍ نقوشِ حدیث ❍◆ (محمد ریحان رضا النوری)
حضرت امیر خسرو نے کہا تھا ؎

عید گاہِ ما غریباں کوئے تو
انبساط عید دیدن روئے تو

صد ہزاراں عید قربانت کنم
اے ہلالِ ما خمِ ابروئے تو

( مفہوم: میرے محبوب ! میری عیدگاہ تیرا کوچہ ہے ، اور میری عید کی خوشیاں تیری زیارت میں ہیں ۔
اے میرے چاند مانا کہ عید کی رات کا چاند خم دار ہوتا ہے اور اس کا خم بڑا حسین ہوتا ہے ، لیکن اس کے خم کا تیرے خمِ ابرو سے کیا مقابلہ ۔۔۔۔۔۔۔ میں سو ہزار عیدیں تیرے اَبرو کے خم پر قربان نہ کر دوں ! )
"ہمارے زمانے میں جو اسلامی دنیا ہے اس کی حالت فن عروض کی بحر کی طرح ہے، کہ نام تو بحر(سمندر) کا ہے مگر پانی ایک قطرہ اس میں نہیں "_

◆شکیب ارسلان

•258•
"جس شخص نے ایک سنت بھی ترک کی تو وہ ولی اللہ نہیں ہو سکتا"_

🔹حضرت سلطان العارفین بایزید بسطامی علیہ الرحمہ

•259•
فتنہ

الْحَسَنَ، يَقُولُ: «إِنَّ الْفِتْنَةَ وَاللَّهِ مَا هِيَ إِلَّا عُقُوبَةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ تَحِلُّ بِالنَّاسِ»

"خدا کی قسم فتنہ تو اللہ تعالیٰ کا وہ عذاب ہے جو لوگوں پر نازل ہوتا ہے"_

🔹امام حسن بصری علیہ الرحمہ

•[كتاب العقوبات لابن أبي الدنيا ص.34 : دار ابن حزم، بيروت - لبنان ]
•260•

#کتاب_الفتن 『1』
#الفتن #علامت_قیامت
🌿 شُکر الہی سے ہرگز غافل نہ ہو 🌿

"تم پر انعامات ربانی کا شکر لازم ہے اس لیے کہ شاذ و نادر ہی کبھی ایسا ہوا ہے کہ
کسی قوم سے اللہ تعالی نے کوئی نعمت سلب کر لی پھر دوبارہ انہیں عطا کی ہو"_

🔹امام الاولیاء حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ

الحمدللہ رب العالمین

•261•
‏"المؤمنُ كثيرُ الآلام في بدنهِ أو أهلهِ أو ماله، وذلك مُكفّر لسيئاته ورافعٌ لدرجاته".

"مومن اپنے بدن یا اپنے اہل وعیال یا اپنے مال میں(کسی نہ کسی وجہ سے) کثرتِ غم میں مبتلا رہتا ہے تو اس کے ذریعے اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور اس کے درجات بلند ہوتے ہیں "_

[شرح النووي على مسلم ]

اللہ اللہ

•262•
عزت و ذلت

"جس نے سخاوت کی عزت پائی اور جس نے بخل کیا ذلت اٹھائی"_

◆امام حسن رضی اللہ عنہ

•263•
کسب معاش

طلب الكسب فريضة على كل مسلم، كما أن طلب العلم فريضة .
•[کتاب الکسب ص.71]

” حلال کمائی کی طلب ہر مسلمان پر اسی طرح فرض ہے جیسا کہ علم دین سیکھنا فرض ہے “۔

◈امام محمد بن حسن شیبانی علیہ الرحمہ

"Halal Kamayi Ki Talab Har Musalman Par Esi Tarah Farz Hai Jaisa Ke Ilm E Deen Sikhna Farz Hai"_
•Imam Muhammad Bin Hasan Shaibani(Rahmatullah Aleh)


•264•
🔆لباس🔆

"ﻭﮨﺎﮞ ﻟﺒﺎﺱ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ،
ﺍﻭﺭ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﺎﺭﮮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮﮞ ﻭﮨﺎﮞ ﻟﺒﺎﺱ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ"_

~ﻭﺍﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﻭﺍﺻﻒ

•265•
Forwarded from ◆❍ نقوشِ حدیث ❍◆ (فیضان سرور مصباحی)
الإمام الحافظ الزاهد أبو إسحاق إبراهيم الحربي (٢٨٥هـ)، صاحب الكتاب المشهور (غريب الحديث )

«أجمع عقلاء كل أمة على أن النعيم لا يُدرك بالنعيم»).

ہر امت کے عقل مندوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ عیش وعشرت میں رہ کر جنت میں نہیں پہنچا جا سکتا ۔
••┈┈┈┈┈┈┈┈┈┈┈••
🌿صف چاہے کوئی سی ہو کمائی حلال ہونا چاہیے🌿

"حضرت سفیان ثوری رحمتہ اللہ تعالی علیہ سے لوگوں نے صف اول کی فضیلت دریافت کی -
تو آپ نے فرمایا پہلے یہ تو دیکھ لو کہ تمہاری کمائیاں حلال سے ہیں یا حرام سے -
صف چاہے آخری ملے لیکن روزی حلال کی ہونی چاہیئے "_

•[رزق حلال کی اہمیت ص.19]
•268•
🍀انسانیت کا سب سے بڑا مرتبہ🍀

حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :
"حلال خالص پر اکتفا کرنا جو ہر طرح کے شک وشبہ سے پاک ہو انسانیت کا سب سے بڑا مرتبہ ہے اس پر وہی لوگ فائز ہو سکتے ہیں جو شدائد و مشکلات برداشت کریں" ۔
•[رزق حلال کی اہمیت ص.19]
•269•
🌿تحقیق کم تخریب زیادہ🌿

🔹حضرت فیض احمد اویسی علیہ الرحمہ نے ایک سوال کے جواب میں کیا ہی خوب بات ارشاد فرمائی :-

تحقیق کم ہے تخریب زیادہ ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ 'ہمچو مادیگرے نیست' کا
مرض چمٹ گیا ہے۔
خود کو محقق بلکہ مجتہد تک سمجھتے ہیں یہاں تک کہ اعلی حضرت کی تحقیق پر اپنی غلط
تحقیق کو ترجیح دیتے ہیں

"محدث اعظم علامہ سردار احمد رضوی رحمة اللہ علیہ فرمایا کرتے اور فقیر کا بھی تجربہ ہوا ہے
کہ جوسنی ہو کر اعلی حضرت قدس سرہ کی تحقیق پر اپنے نظریہ کو ترجیح دیتا ہے تو وہ ہزاروں ٹھوکریں کھاتا ہوا گمراہی کے گڑھے میں گر جاتا ہے ۔ (فقیرتو دعا ہی کر سکتا ہے) اور کیا عرض کروں"-
•[علم کے موتی ص.15-16]


•266•
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت عمدۃ المحققین صاحبزادہ سیّد محمد فاروق القادری گڑھی اختیار خان علیہ الرحمۃ


قدیم و جدید علوم کے حسین امتزاج حضرت صاحبزادہ مولانا سید محمد فاروق القادری بن حضرت پیرِ طریقت علامہ حافظ سیّد مغفور القادری(۱۳۹۰ھ) بن جامع علوم و فنون حضرت علّامہ حافظ سردار احمد قادری(م۔۱۱۳۵۰ھ) رحمہما اللہ ۲۵؍ شوال، ۱۳؍ اکتوبر ۱۳۶۳ھ / ۱۹۴۵ء میں شاہ آباد شریف گڑھی اختیار خان بہاولپور ڈویژن میں پیدا ہوئے۔

آپ بخاری سادات کے ایک عظیم علمی و روحانی خانوادہ کے چشم و چراغ ہیں۔ اس خاندان نے تقریباً ایک صدی قبل(۱۹۷۹ء میں) مکران اور سندھ کے راستے بہاول پور(ڈویژن) میں داخل ہوکر علم و حکمت اور رُشد و ہدایت کا فیض جاری کیا۔

آپ کے جدِّ امجد الحاج حافظ سردار احمد قادری(م۱۳۵۰ھ) علومِ دینیہ کے علاوہ جفر، نجوم، ہیئت و غیر ہافنون میں بھی کامل دست نگاہ رکھتے تھے۔ اُردو، سندھی، فارسی اور سرائیکی کے بہت اچھّے شاعر تھے۔ آپ کا سرائیکی اور سندھی کلام آج بھی سندھ کے بعض حلقوں میں نہایت ذوق و شوق سے پڑھا جاتا ہے۔ آپ نے سات مرتبہ پاپیادہ حج کیا اور دو سال تک مدینہ منوّرہ میں قیام پذیر رہے۔ اسی دوران مولانا عبد الباقی لکھنوی ثم مدنی سے تبرکاً دورۂ حدیث کی تکمیل کی۔

آپ کو خاندان خلافت و اجازت کے علاوہ بھرچونڈی شریف کے شیخ ثانی حضرت حافظ محمد عبد اللہ سائیں رحمہ اللہ تعالیٰ سے بھی سلسلۂ عالیہ قادریہ نقشبندیہ میں خلافت و اجازت حاصل تھی سلسلۂ سہروردیہ کی معروف خانقاہ کامارہ شریف(حیدر آباد سندھ) کے تمام صاحبزادگان اور بھرچونڈی شریف کے حضرت پیر عبد الرحمٰن آپ کے خصوصی شاگردو میں شامل تھے۔

حضرت صاحبزادہ فاروق القادری مدظلہ کے والد ماجد حضرت الشیخ الحافظ السیّد مغفور القادری(م۱۲۹۰ھ) عصر حاضر کے جیّد عالم بہترین ادیب، خطیب، شاعر، خطّاط ہونے کے علاوہ بہت سی خوبیوں کے جامع تھے۔ آپ نے تحریکِ پاکستان میں نمایاں حصّہ لیا۔ بنارس سنّی کانفرنس میں شرکت فرمائی۔ سندھ میں جماعت احیاء السلام اور تنظیم المشائخ کے ذریعے قیامِ پاکستان کا راستہ ہموار کیا۔ پھر چونڈی شریف کے صاحبزادگان اور سلسلۂ راشدیہ کے بعض صاحبزادگان کی تعلیم و تربیّت کے فرائض انجام دیے۔ اپنے علاقے میں تعمیرِ مساجدوں مدارس کے علاوہ تبلیغِ دین اور اصلاح اخلاق و احوال کی مہم چلائی اور بڑی حد تک کامیابی حاصل کی۔ آپ نے سندھ اور بہاول پور کے دور دراز علاقوں میں گھر گھر عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رواج دیا۔ ’’عباد الرحمٰن‘‘ آپ کی مشہور تصنیف ہے۔[۱]

[۱۔ ’’تذکرہ اکابرِ اہل سُنت‘‘ مؤلفہ حضرت مولانا محمد عبد الحکیم شرف قادری میں دونوں حضرات کا سوانحی خاکہ ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔]

حضرت صاحبزادہ سیّد محمد فاروق القادری مدظلّہ نے نہایت مہتم بالشّان علمی و روحانی ماحول میں آنکھ کھولی، اور خاندانی روایت کے مطابق بچپن ہی سے علومِ دینیہ کی تحصیل کے لیے وقف کردیے گئے۔ اہل سنّت کی مشہور مرکزی درسگاہ مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان سے آپ نے درسِ نظامی کی تکمیل کی۔

۱۹۶۵ء میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور سے شہادۃ عالمیہ(بی اے) کی سند حاصل کی۔ ۱۹۶۷ء میں اسی یونیورسٹی سے تخصص عربی ادب(ایم اے) کا امتحان پاس کیا اور اپنی جماعت میں اوّل رہے۔

۱۹۶۹ء میں آپ نے باقاعدہ طالب علم کی حیثیت سے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات کا امتحان پاس کیا اور یونیورسٹی میں اول پوزیشن حاصل کرکے سونے کا تمغہ بطورِ اعزاز حاصل کیا۔

۱۹۷۰ء میں والد ماجد علیہ الرحمۃ کے انتقال پر آپ کی دستار بندی کی گئی اور خانقاہ کی جانشینی کی ذمّہ داری آپ کے سپرد کی گئی۔

آپ کو اپنے والد ماجد علیہ الرحمۃ اور حضرت پیر عبد الرحیم شہید علیہ الرحمۃ بھرچونڈی شریف سے اجازت و خلافت حاصل ہے۔

خانقاہی ذمّہ داریوں کے علاوہ آپ جامع مسجد گڑھی اختیار خان میں(رضا کارانہ طور پر) جمعہ و عیدین کا خطبہ ارشاد فرماتے ہیں۔

تعلیم قرآن کے کئی اداروں بالخصوص ادارہ ’’تعلیماتِ اسلامیہ‘‘ کی نگرانی اور تعمیر و ترقی میں کوشاں رہتے ہیں۔

حضرت علّامہ صاحبزادہ سیّد محمد فاروق القادری بلند پایہ محقق اور ادیب ہیں۔ متعدّد اخبارات اور رسائل و جرائد میں علمی، ادبی، اسلامی اور تاریخی موضوعات پر سینکڑوں مضامین لکھ چکے ہیں۔

علاوہ ازیں آپ نے ’’اکابرِ تحریکِ پاکستان‘‘[۱] حصّہ اوّل و دوم پر تحقیقی مقدّمہ لکھا ہے۔ ’’انفاس العارفین‘‘(مصنّفہ حضرت شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی) اور ’’فتوح الغیب‘‘(مصنّفہ حضرت سیّدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کا اُردو میں ترجمہ کیا۔ تحقیق متن فرمائی اور محققانہ ضخیم مقدّمات تحریر فرمائے۔[۲]

[۱۔ یہ کتاب جناب محمد صادق قصوری صاحب کی تالیف ہے۔]

[۲۔ یہ تینوں کتب مکتبۂ ’’المعارف‘‘ کی طرف سے چَھپ چکی ہیں۔]

ایم اے اسلامیات کے امتحان میں ’’مکاتبِ دیو بند و بریلی کے خصوصی مسائل کا جائزہ‘‘ کے موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھا جسے ’’بورڈ آف اسلامک سٹڈیز‘‘ نے پسند کیا۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاعل پور میں
1