◆❍ نقوشِ حدیث ❍◆
پیارے آقا ﷺ ان رنگوں کو بھی استعمال فرماتے تھے Date: Feb 24 2018Writer By: Social Media DawateislamiCategory: پیارے آقا ﷺ نے مختلف اوقات میں مختلف رنگوں کے عمامے زیبِ سر فرمایا کرتے تھے۔ جن میں سے کچھ کا ذکر کتب احادیث و سیر میں موجود ہے ۔آئیے اس حوالے سے…
آقائے کریم - ﷺ - کے عمامے کے رنگ
❤1
Forwarded from ◆❍ نقوشِ حدیث ❍◆ (فیضان سرور مصباحی)
سفید عمامہ مبارک
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حضرت سیّدنا ابو سعید خُدرِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ درِدولت سے باہر تشریف لائے جب کہ لوگ زیارت کے لیے جمع تھے اور آپ ﷺ (کی طبیعت مبارک) کے متعلق پوچھ رہے تھے، پس آپ ﷺ کپڑا لپیٹے یوں تشریف لائے کہ آپ ﷺ کی چادر مبارک کے دونوں کنارے آپ کے مبارک کندھوں سے لٹک رہے تھے اور سرِاقدس پر سفید عمامہ شریف سجا رکھا تھا۔
(طبقات ابن سعد، ذکر ما قال رسول اللہ ﷺ فی مرضہ الذی مات فیہ للانصار، ۲/ ۱۹۳ )
دھاری دارسرخ عمامہ مبارک
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس طرح وضو فرماتے دیکھا ، آپ ﷺ نے قِطری ( سرخ دھاری دار کھردرہ ) عمامہ شریف باندھ رکھا تھا ۔
(ابوداؤد ، کتاب الطہارۃ، باب المسح علی العمامۃ ، ۱/۸۲، حدیث: ۱۴۷)
سبز عمامہ مبارک
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سبز عمامہ شریف بھی رسول اکرم ﷺ سے پہننا ثابت ہے چنانچہ
علّامہ شیخ عبدالحق محدّث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں ، سرکارِ ﷺ کا مبارک عمامہ اکثر سفید اور کبھی سیاہ اور بعض اوقات سبز ہوتا۔ (کشف الالتباس فی استحباب اللباس، ص ۳۸)
حضرت عبد اللہ ابن عباس رَضِی اللہ تَعالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے: ’’ بَدَر کے روز فرشتوں کی نشانی سفید عمامے اور بروزِ حُنین سبز سبز عمامے تھی‘‘۔ (تفسیر خازن، پ ۹، الانفال، تحت الآیۃ۹، ۲/۱۸۲)
حضرت علّامہ عَبدُالغَنِی بِن اِسمَاعِیل نابُلُسِی حَنَفِی عَلَیہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی اور حضرتِ علّامہ محمد عبد الرَّءُوف مناوی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ (قربِِ قیامت ) جب حضرت سیِّدنا عیسٰی ﷺ زمین پر تشریف لائیں گے تو آپ کے سرِ اقدس پر سبزسبز عمامہ شریف ہو گا۔ (الحدیقۃ الندیۃ، ۱/۲۷۳، فیض القدیر، حرف الدال ، فصل فی المحلی بال من ھذا الحرف، ۳/۷۱۸، تحت الحدیث:۴۲۵۰، عقدالدرر فی اخبار المنتظر، الفصل الثانی فیما جاء من الآثار الدالۃ علی خروج الدجال الخ، ص۳۴۲)
صحابۂ کرام رِضوَانُ اللہِ تَعالٰی عَلَیہِم اَجمَعِین سے بھی سبز عمامہ شریف کا ثبوت ملتا ہے چنانچہ
حضرت سیّدنا سلیمان بن ابوعبداللہ تابعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :میں نے دیکھا کہ مہاجرین اولین (صحابہ ) سیاہ، سفید، سرخ، سبزاور زرد رنگ کے سوُتی عمامے باندھا کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب اللباس ، باب من کان یعتم بکور واحد ، ۱۲/۵۴۵، حدیث: ۲۵۴۸۹ واللفظ لہ، مسند اسحاق بن راہویہ، ما یروی عن الاسود بن یزید الخ، ۳/۸۸۲، رقم: ۱۵۵۶)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں حضور اکرم ﷺ کی ہر سنت کو اپنانے کی توفیق عطاء فرمائے ۔۔۔ آمین
منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حضرت سیّدنا ابو سعید خُدرِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ درِدولت سے باہر تشریف لائے جب کہ لوگ زیارت کے لیے جمع تھے اور آپ ﷺ (کی طبیعت مبارک) کے متعلق پوچھ رہے تھے، پس آپ ﷺ کپڑا لپیٹے یوں تشریف لائے کہ آپ ﷺ کی چادر مبارک کے دونوں کنارے آپ کے مبارک کندھوں سے لٹک رہے تھے اور سرِاقدس پر سفید عمامہ شریف سجا رکھا تھا۔
(طبقات ابن سعد، ذکر ما قال رسول اللہ ﷺ فی مرضہ الذی مات فیہ للانصار، ۲/ ۱۹۳ )
دھاری دارسرخ عمامہ مبارک
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس طرح وضو فرماتے دیکھا ، آپ ﷺ نے قِطری ( سرخ دھاری دار کھردرہ ) عمامہ شریف باندھ رکھا تھا ۔
(ابوداؤد ، کتاب الطہارۃ، باب المسح علی العمامۃ ، ۱/۸۲، حدیث: ۱۴۷)
سبز عمامہ مبارک
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سبز عمامہ شریف بھی رسول اکرم ﷺ سے پہننا ثابت ہے چنانچہ
علّامہ شیخ عبدالحق محدّث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں ، سرکارِ ﷺ کا مبارک عمامہ اکثر سفید اور کبھی سیاہ اور بعض اوقات سبز ہوتا۔ (کشف الالتباس فی استحباب اللباس، ص ۳۸)
حضرت عبد اللہ ابن عباس رَضِی اللہ تَعالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے: ’’ بَدَر کے روز فرشتوں کی نشانی سفید عمامے اور بروزِ حُنین سبز سبز عمامے تھی‘‘۔ (تفسیر خازن، پ ۹، الانفال، تحت الآیۃ۹، ۲/۱۸۲)
حضرت علّامہ عَبدُالغَنِی بِن اِسمَاعِیل نابُلُسِی حَنَفِی عَلَیہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی اور حضرتِ علّامہ محمد عبد الرَّءُوف مناوی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ (قربِِ قیامت ) جب حضرت سیِّدنا عیسٰی ﷺ زمین پر تشریف لائیں گے تو آپ کے سرِ اقدس پر سبزسبز عمامہ شریف ہو گا۔ (الحدیقۃ الندیۃ، ۱/۲۷۳، فیض القدیر، حرف الدال ، فصل فی المحلی بال من ھذا الحرف، ۳/۷۱۸، تحت الحدیث:۴۲۵۰، عقدالدرر فی اخبار المنتظر، الفصل الثانی فیما جاء من الآثار الدالۃ علی خروج الدجال الخ، ص۳۴۲)
صحابۂ کرام رِضوَانُ اللہِ تَعالٰی عَلَیہِم اَجمَعِین سے بھی سبز عمامہ شریف کا ثبوت ملتا ہے چنانچہ
حضرت سیّدنا سلیمان بن ابوعبداللہ تابعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :میں نے دیکھا کہ مہاجرین اولین (صحابہ ) سیاہ، سفید، سرخ، سبزاور زرد رنگ کے سوُتی عمامے باندھا کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب اللباس ، باب من کان یعتم بکور واحد ، ۱۲/۵۴۵، حدیث: ۲۵۴۸۹ واللفظ لہ، مسند اسحاق بن راہویہ، ما یروی عن الاسود بن یزید الخ، ۳/۸۸۲، رقم: ۱۵۵۶)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں حضور اکرم ﷺ کی ہر سنت کو اپنانے کی توفیق عطاء فرمائے ۔۔۔ آمین
منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی
❤2
◆❍ نقوشِ حدیث ❍◆
سفید عمامہ مبارک ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ حضرت سیّدنا ابو سعید خُدرِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ درِدولت سے باہر تشریف لائے جب کہ لوگ زیارت کے لیے جمع تھے اور آپ ﷺ (کی طبیعت مبارک) کے متعلق پوچھ رہے تھے، پس…
سنت کی نیت سے
ان رنگوں کا بھی استعمال کیجیے
ان رنگوں کا بھی استعمال کیجیے
❤1
Forwarded from ✍ | العِلْمُ نُور | 📚
🌸رزق کے لئے محنت کرو آسمان سے سونا چاندی نہیں برستا🌸
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ:
" تم میں سے کسی مسلمان کے لئے یہ ہر گز مناسب نہیں کہ وہ رزق کی طلب کے لئے ہاتھ پیر چلائے بغیر بیٹھ کر بس یہی دعا کرتا رہے کہ (اللهم ارزقني )اے اللہ ! مجھے رزق عطا فرما۔"
"اسے علم ہونا چاہئے کہ آسمان سے سونا
چاندی نہیں برستا"۔
•[احیاء علوم الدین از امام غزالی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ، جلد دوم]
•267•
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ:
" تم میں سے کسی مسلمان کے لئے یہ ہر گز مناسب نہیں کہ وہ رزق کی طلب کے لئے ہاتھ پیر چلائے بغیر بیٹھ کر بس یہی دعا کرتا رہے کہ (اللهم ارزقني )اے اللہ ! مجھے رزق عطا فرما۔"
"اسے علم ہونا چاہئے کہ آسمان سے سونا
چاندی نہیں برستا"۔
•[احیاء علوم الدین از امام غزالی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ، جلد دوم]
•267•
❤1
Forwarded from ◆❍ نقوشِ حدیث ❍◆ (محمد ریحان رضا النوری)
حضرت امیر خسرو نے کہا تھا ؎
عید گاہِ ما غریباں کوئے تو
انبساط عید دیدن روئے تو
صد ہزاراں عید قربانت کنم
اے ہلالِ ما خمِ ابروئے تو
( مفہوم: میرے محبوب ! میری عیدگاہ تیرا کوچہ ہے ، اور میری عید کی خوشیاں تیری زیارت میں ہیں ۔
اے میرے چاند مانا کہ عید کی رات کا چاند خم دار ہوتا ہے اور اس کا خم بڑا حسین ہوتا ہے ، لیکن اس کے خم کا تیرے خمِ ابرو سے کیا مقابلہ ۔۔۔۔۔۔۔ میں سو ہزار عیدیں تیرے اَبرو کے خم پر قربان نہ کر دوں ! )
عید گاہِ ما غریباں کوئے تو
انبساط عید دیدن روئے تو
صد ہزاراں عید قربانت کنم
اے ہلالِ ما خمِ ابروئے تو
( مفہوم: میرے محبوب ! میری عیدگاہ تیرا کوچہ ہے ، اور میری عید کی خوشیاں تیری زیارت میں ہیں ۔
اے میرے چاند مانا کہ عید کی رات کا چاند خم دار ہوتا ہے اور اس کا خم بڑا حسین ہوتا ہے ، لیکن اس کے خم کا تیرے خمِ ابرو سے کیا مقابلہ ۔۔۔۔۔۔۔ میں سو ہزار عیدیں تیرے اَبرو کے خم پر قربان نہ کر دوں ! )
Forwarded from ✍ | العِلْمُ نُور | 📚
"ہمارے زمانے میں جو اسلامی دنیا ہے اس کی حالت فن عروض کی بحر کی طرح ہے، کہ نام تو بحر(سمندر) کا ہے مگر پانی ایک قطرہ اس میں نہیں "_
◆شکیب ارسلان
•258•
◆شکیب ارسلان
•258•
Forwarded from ✍ | العِلْمُ نُور | 📚
"جس شخص نے ایک سنت بھی ترک کی تو وہ ولی اللہ نہیں ہو سکتا"_
🔹حضرت سلطان العارفین بایزید بسطامی علیہ الرحمہ
•259•
🔹حضرت سلطان العارفین بایزید بسطامی علیہ الرحمہ
•259•
Forwarded from ✍ | العِلْمُ نُور | 📚
فتنہ
الْحَسَنَ، يَقُولُ: «إِنَّ الْفِتْنَةَ وَاللَّهِ مَا هِيَ إِلَّا عُقُوبَةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ تَحِلُّ بِالنَّاسِ»
"خدا کی قسم فتنہ تو اللہ تعالیٰ کا وہ عذاب ہے جو لوگوں پر نازل ہوتا ہے"_
🔹امام حسن بصری علیہ الرحمہ
•[كتاب العقوبات لابن أبي الدنيا ص.34 : دار ابن حزم، بيروت - لبنان ]
•260•
#کتاب_الفتن 『1』
#الفتن #علامت_قیامت
الْحَسَنَ، يَقُولُ: «إِنَّ الْفِتْنَةَ وَاللَّهِ مَا هِيَ إِلَّا عُقُوبَةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ تَحِلُّ بِالنَّاسِ»
"خدا کی قسم فتنہ تو اللہ تعالیٰ کا وہ عذاب ہے جو لوگوں پر نازل ہوتا ہے"_
🔹امام حسن بصری علیہ الرحمہ
•[كتاب العقوبات لابن أبي الدنيا ص.34 : دار ابن حزم، بيروت - لبنان ]
•260•
#کتاب_الفتن 『1』
#الفتن #علامت_قیامت
Forwarded from ✍ | العِلْمُ نُور | 📚
🌿 شُکر الہی سے ہرگز غافل نہ ہو 🌿
"تم پر انعامات ربانی کا شکر لازم ہے اس لیے کہ شاذ و نادر ہی کبھی ایسا ہوا ہے کہ
کسی قوم سے اللہ تعالی نے کوئی نعمت سلب کر لی پھر دوبارہ انہیں عطا کی ہو"_
🔹امام الاولیاء حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ
الحمدللہ رب العالمین
•261•
"تم پر انعامات ربانی کا شکر لازم ہے اس لیے کہ شاذ و نادر ہی کبھی ایسا ہوا ہے کہ
کسی قوم سے اللہ تعالی نے کوئی نعمت سلب کر لی پھر دوبارہ انہیں عطا کی ہو"_
🔹امام الاولیاء حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ
الحمدللہ رب العالمین
•261•
Forwarded from ✍ | العِلْمُ نُور | 📚
"المؤمنُ كثيرُ الآلام في بدنهِ أو أهلهِ أو ماله، وذلك مُكفّر لسيئاته ورافعٌ لدرجاته".
"مومن اپنے بدن یا اپنے اہل وعیال یا اپنے مال میں(کسی نہ کسی وجہ سے) کثرتِ غم میں مبتلا رہتا ہے تو اس کے ذریعے اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور اس کے درجات بلند ہوتے ہیں "_
[شرح النووي على مسلم ]
اللہ اللہ
•262•
"مومن اپنے بدن یا اپنے اہل وعیال یا اپنے مال میں(کسی نہ کسی وجہ سے) کثرتِ غم میں مبتلا رہتا ہے تو اس کے ذریعے اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور اس کے درجات بلند ہوتے ہیں "_
[شرح النووي على مسلم ]
اللہ اللہ
•262•
Forwarded from ✍ | العِلْمُ نُور | 📚
عزت و ذلت
"جس نے سخاوت کی عزت پائی اور جس نے بخل کیا ذلت اٹھائی"_
◆امام حسن رضی اللہ عنہ
•263•
"جس نے سخاوت کی عزت پائی اور جس نے بخل کیا ذلت اٹھائی"_
◆امام حسن رضی اللہ عنہ
•263•
Forwarded from ✍ | العِلْمُ نُور | 📚
کسب معاش
طلب الكسب فريضة على كل مسلم، كما أن طلب العلم فريضة .
•[کتاب الکسب ص.71]
” حلال کمائی کی طلب ہر مسلمان پر اسی طرح فرض ہے جیسا کہ علم دین سیکھنا فرض ہے “۔
◈امام محمد بن حسن شیبانی علیہ الرحمہ
"Halal Kamayi Ki Talab Har Musalman Par Esi Tarah Farz Hai Jaisa Ke Ilm E Deen Sikhna Farz Hai"_
•Imam Muhammad Bin Hasan Shaibani(Rahmatullah Aleh)
•264•
طلب الكسب فريضة على كل مسلم، كما أن طلب العلم فريضة .
•[کتاب الکسب ص.71]
” حلال کمائی کی طلب ہر مسلمان پر اسی طرح فرض ہے جیسا کہ علم دین سیکھنا فرض ہے “۔
◈امام محمد بن حسن شیبانی علیہ الرحمہ
"Halal Kamayi Ki Talab Har Musalman Par Esi Tarah Farz Hai Jaisa Ke Ilm E Deen Sikhna Farz Hai"_
•Imam Muhammad Bin Hasan Shaibani(Rahmatullah Aleh)
•264•
Forwarded from ✍ | العِلْمُ نُور | 📚
🔆لباس🔆
"ﻭﮨﺎﮞ ﻟﺒﺎﺱ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ،
ﺍﻭﺭ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﺎﺭﮮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮﮞ ﻭﮨﺎﮞ ﻟﺒﺎﺱ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ"_
~ﻭﺍﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﻭﺍﺻﻒ
•265•
"ﻭﮨﺎﮞ ﻟﺒﺎﺱ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ،
ﺍﻭﺭ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﺎﺭﮮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮﮞ ﻭﮨﺎﮞ ﻟﺒﺎﺱ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ"_
~ﻭﺍﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﻭﺍﺻﻒ
•265•
Forwarded from ◆❍ نقوشِ حدیث ❍◆ (فیضان سرور مصباحی)
الإمام الحافظ الزاهد أبو إسحاق إبراهيم الحربي (٢٨٥هـ)، صاحب الكتاب المشهور (غريب الحديث )
«أجمع عقلاء كل أمة على أن النعيم لا يُدرك بالنعيم»).
ہر امت کے عقل مندوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ عیش وعشرت میں رہ کر جنت میں نہیں پہنچا جا سکتا ۔
••┈┈┈┈┈┈┈┈┈┈┈••
«أجمع عقلاء كل أمة على أن النعيم لا يُدرك بالنعيم»).
ہر امت کے عقل مندوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ عیش وعشرت میں رہ کر جنت میں نہیں پہنچا جا سکتا ۔
••┈┈┈┈┈┈┈┈┈┈┈••
Forwarded from ✍ | العِلْمُ نُور | 📚
🌿صف چاہے کوئی سی ہو کمائی حلال ہونا چاہیے🌿
"حضرت سفیان ثوری رحمتہ اللہ تعالی علیہ سے لوگوں نے صف اول کی فضیلت دریافت کی -
تو آپ نے فرمایا پہلے یہ تو دیکھ لو کہ تمہاری کمائیاں حلال سے ہیں یا حرام سے -
صف چاہے آخری ملے لیکن روزی حلال کی ہونی چاہیئے "_
•[رزق حلال کی اہمیت ص.19]
•268•
"حضرت سفیان ثوری رحمتہ اللہ تعالی علیہ سے لوگوں نے صف اول کی فضیلت دریافت کی -
تو آپ نے فرمایا پہلے یہ تو دیکھ لو کہ تمہاری کمائیاں حلال سے ہیں یا حرام سے -
صف چاہے آخری ملے لیکن روزی حلال کی ہونی چاہیئے "_
•[رزق حلال کی اہمیت ص.19]
•268•
Forwarded from ✍ | العِلْمُ نُور | 📚
🍀انسانیت کا سب سے بڑا مرتبہ🍀
حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :
"حلال خالص پر اکتفا کرنا جو ہر طرح کے شک وشبہ سے پاک ہو انسانیت کا سب سے بڑا مرتبہ ہے اس پر وہی لوگ فائز ہو سکتے ہیں جو شدائد و مشکلات برداشت کریں" ۔
•[رزق حلال کی اہمیت ص.19]
•269•
حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :
"حلال خالص پر اکتفا کرنا جو ہر طرح کے شک وشبہ سے پاک ہو انسانیت کا سب سے بڑا مرتبہ ہے اس پر وہی لوگ فائز ہو سکتے ہیں جو شدائد و مشکلات برداشت کریں" ۔
•[رزق حلال کی اہمیت ص.19]
•269•
Forwarded from ✍ | العِلْمُ نُور | 📚
🌿تحقیق کم تخریب زیادہ🌿
🔹حضرت فیض احمد اویسی علیہ الرحمہ نے ایک سوال کے جواب میں کیا ہی خوب بات ارشاد فرمائی :-
تحقیق کم ہے تخریب زیادہ ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ 'ہمچو مادیگرے نیست' کا
مرض چمٹ گیا ہے۔
خود کو محقق بلکہ مجتہد تک سمجھتے ہیں یہاں تک کہ اعلی حضرت کی تحقیق پر اپنی غلط
تحقیق کو ترجیح دیتے ہیں
"محدث اعظم علامہ سردار احمد رضوی رحمة اللہ علیہ فرمایا کرتے اور فقیر کا بھی تجربہ ہوا ہے
کہ جوسنی ہو کر اعلی حضرت قدس سرہ کی تحقیق پر اپنے نظریہ کو ترجیح دیتا ہے تو وہ ہزاروں ٹھوکریں کھاتا ہوا گمراہی کے گڑھے میں گر جاتا ہے ۔ (فقیرتو دعا ہی کر سکتا ہے) اور کیا عرض کروں"-
•[علم کے موتی ص.15-16]
•266•
🔹حضرت فیض احمد اویسی علیہ الرحمہ نے ایک سوال کے جواب میں کیا ہی خوب بات ارشاد فرمائی :-
تحقیق کم ہے تخریب زیادہ ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ 'ہمچو مادیگرے نیست' کا
مرض چمٹ گیا ہے۔
خود کو محقق بلکہ مجتہد تک سمجھتے ہیں یہاں تک کہ اعلی حضرت کی تحقیق پر اپنی غلط
تحقیق کو ترجیح دیتے ہیں
"محدث اعظم علامہ سردار احمد رضوی رحمة اللہ علیہ فرمایا کرتے اور فقیر کا بھی تجربہ ہوا ہے
کہ جوسنی ہو کر اعلی حضرت قدس سرہ کی تحقیق پر اپنے نظریہ کو ترجیح دیتا ہے تو وہ ہزاروں ٹھوکریں کھاتا ہوا گمراہی کے گڑھے میں گر جاتا ہے ۔ (فقیرتو دعا ہی کر سکتا ہے) اور کیا عرض کروں"-
•[علم کے موتی ص.15-16]
•266•
❤2