🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-10-1444 ᴴ | 14-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-10-1444 ᴴ | 14-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-10-1444 ᴴ | 14-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-10-1444 ᴴ | 14-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
سید الصادقین حضرت سید شاہ محمد صادق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
پیدائش:
حضرت سید شاہ محمد صادق قدس سرہٗ کی پیدائش 7 رمضان المبارک 1248ھ کو ہوئی ۔
والد ماجد:
حضرت سید شاہ اولاد رسول قدس سرہٗ۔
بیعت و خلافت:
آپ کو عم مکرم حضرت سید شاہ غلام محی الدین امیر عالم قدس سرہٗ سے بیعت و خلافت ہے ۔ ان کے علاوہ عم اعظم حضرت سید شاہ آل رسول قدس سرہٗ اور اپنے والد ماجدسید شاہ اولاد رسول قدس سرہٗ سے بھی اجازت و خلافت حاصل ہے ۔
زوجہ کا نام:
سیدہ سکینہ بیگم بنت حضرت سید شاہ غلام محی الدین امیر عالم قدس سرہ۔
اولادِ امجاد: دو صاحبزادے تھے:
(۱) حضرت سید شاہ ابو القاسم محمد اسمٰعیل حسن قدس سرہٗ (جن کا لقب شاہ جی میاں ہے) ـ
(۲) حضرت سید شاہ ابو الکاظم محمد ادریس حسن قدس سرہٗ (ان کا لقب ستھرے میاں ہے) ۔
سیتا پور میں قیام: تقریباً 45 سال ۔
مشہور خلیفہ:
(۱) حضرت سید شاہ اسماعیل حسن اور (۲)حضرت سید شاہ ادریس حسن رحمہما اللہ
اہم کار نامے:
آپ نے متعدد دینی و دنیوی کار نامے انجام دیے۔ آب نوشی اور آب پاشی کے لئے متعدد کنویں کھدوائے، باغات لگائے، خانقاہ مارہرہ میں محل سرا حویلی سجادہ نشینی کی از سر نو تعمیر کرائی ،خانقاہ کی مسجد کی مرمت کرائی اور اپنے صاحبزادے حضرت سید شاہ اسماعیل حسن قدس سرہٗ کے حافظ قرآن ہونے پر سیتا پور میں ایک عالی شان مسجد بھی تعمیر کرائی، جو مسجد صادق کے نام سے مشہور ہے۔۔
وصالِ پُر ملال:
24 شوال المکرم بروز جمعرات 1326ھ میں سیتا پور میں ہوا۔
مزار پاک: سیتا پور، یُو پی، ہند میں ۔
بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ، علی گڑھ
دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی
https://scholars.pk/ur/scholar/syed-us-sadiqeen-hazrat-syed-shah-muhammad-sadiq
پیدائش:
حضرت سید شاہ محمد صادق قدس سرہٗ کی پیدائش 7 رمضان المبارک 1248ھ کو ہوئی ۔
والد ماجد:
حضرت سید شاہ اولاد رسول قدس سرہٗ۔
بیعت و خلافت:
آپ کو عم مکرم حضرت سید شاہ غلام محی الدین امیر عالم قدس سرہٗ سے بیعت و خلافت ہے ۔ ان کے علاوہ عم اعظم حضرت سید شاہ آل رسول قدس سرہٗ اور اپنے والد ماجدسید شاہ اولاد رسول قدس سرہٗ سے بھی اجازت و خلافت حاصل ہے ۔
زوجہ کا نام:
سیدہ سکینہ بیگم بنت حضرت سید شاہ غلام محی الدین امیر عالم قدس سرہ۔
اولادِ امجاد: دو صاحبزادے تھے:
(۱) حضرت سید شاہ ابو القاسم محمد اسمٰعیل حسن قدس سرہٗ (جن کا لقب شاہ جی میاں ہے) ـ
(۲) حضرت سید شاہ ابو الکاظم محمد ادریس حسن قدس سرہٗ (ان کا لقب ستھرے میاں ہے) ۔
سیتا پور میں قیام: تقریباً 45 سال ۔
مشہور خلیفہ:
(۱) حضرت سید شاہ اسماعیل حسن اور (۲)حضرت سید شاہ ادریس حسن رحمہما اللہ
اہم کار نامے:
آپ نے متعدد دینی و دنیوی کار نامے انجام دیے۔ آب نوشی اور آب پاشی کے لئے متعدد کنویں کھدوائے، باغات لگائے، خانقاہ مارہرہ میں محل سرا حویلی سجادہ نشینی کی از سر نو تعمیر کرائی ،خانقاہ کی مسجد کی مرمت کرائی اور اپنے صاحبزادے حضرت سید شاہ اسماعیل حسن قدس سرہٗ کے حافظ قرآن ہونے پر سیتا پور میں ایک عالی شان مسجد بھی تعمیر کرائی، جو مسجد صادق کے نام سے مشہور ہے۔۔
وصالِ پُر ملال:
24 شوال المکرم بروز جمعرات 1326ھ میں سیتا پور میں ہوا۔
مزار پاک: سیتا پور، یُو پی، ہند میں ۔
بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ، علی گڑھ
دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی
https://scholars.pk/ur/scholar/syed-us-sadiqeen-hazrat-syed-shah-muhammad-sadiq
scholars.pk
Syed us Sadiqeen Hazrat Syed Shah Muhammad Sadiq
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
فقیہ المفخم، حضرت مفتی اعجاز ولی خاں بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی اعجاز ولی خاں رضوی ۔ لقب: فقیہ المفخم، استاذ العلماء ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
استاذ العلماء فقیہ المفخم مولانا مفتی محمد اعجاز ولی خاں رضوی بن مولانا سردار ولی خاں (متوفی ۶؍ صفر ۱۳۹۵ھ؍ ۱۸؍ فروری۱۹۷۵ء بمقام پیر جو گوٹھ سندھ) بن مولانا ہادی علی خاں بن مولانا رضا علی خاں (جد امجد امام احمد رضا خاں قادری بریلوی)۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 11 ربیع الثانی 1332ھ مطابق 20 مارچ 1914ء کو بریلی شریف میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری فاضل بریلوی قدس سرہٗ سے مفتی محمد اعجاز ولی خاں نے قرآن مجید شروع کیا، اور حافظ عبد الکریم قادری بریلوی سے مکمل کیا ۔ پھر درسی کتابیں متوسطات تک برادر معظم مولانا مفتی تقدس علی خاں رضوی علیہ الرحمہ شیخ الحدیث جامعہ راشدیہ پیر گوٹھ سندھ، مولانا مختار احمد سلطان پوری اور مولانا الشاہ محمد حسنین رضا خاں بریلوی سے پڑھیں ۔ شرح جامی حضور مفتی اعظم علامہ مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی سے اور تفسیر جلالین حضرت مولانا سردار علی خاں علیہ الرحمۃ سے پڑھیں۔
حضرت مفتی اعجاز ولی خاں نے 1352ھ؍ 1929ء میں حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ سے سند حدیث حاصل کی بعد ازاں حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا بریلوی قدس سرہٗ سے بھی سند حدیث حاصل کی۔ پھر مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے صدر الشریعہ مولانا امجد علی رضوی اعظمی علیہ الرحمۃ کی خدمت میں مدرسہ سعیدیہ دادوں میں حاضر ہوئے اور تحصیل علوم کے بعد حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ سے سند حاصل کی۔
بیعت و خلافت:
حضرت مفتی محمد اعجاز ولی خاں علیہ الرحمہ سلسلۂ قادریہ میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری فاضل بریلی قدس سرہٗ سے بیعت ہوئے اور حضور مفتی اعظم علامہ مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلی قدس سرہٗ سے سلسلۂ قادریہ رضویہ میں اجازت وخلافت سے مشرف ہوئے۔
سیرت و خصائص:
استاذ العلماء، رئیس الفقہاء، مرجع الفضلاء، سند الاتقیاء، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ حضرت علامہ مولانا مفتی اعجاز ولی خاں رضوی قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ خاندانِ اعلیٰ حضرت مجدد اسلام کے عظیم فرد اور فقیہ العصر تھے ۔ مفتی محمد اعجاز ولی خاں نے تکمیل علوم کے بعد این، بی ہائی اسکول بریلی میں تدریس کا سلسلہ شروع کیا، پھر کچھ عرصہ دار العلوم منظر اسلام اور کچھ عرصہ دارالعلوم مظہر اسلام (مسجد بی بی جی صاحبہ) بریلی میں پڑھاتے رہے ۔
1945ء میں مفتی اعجاز ولی خاں مدرسہ منہاج العلوم پانی پت متصل مزار مولانا سید غوث علی شاہ پانی پتی قدس سرہٗ تشریف لے گے، اور ایک سال فرائض تدریس انجام دینے کے بعد دار العلوم منظر اسلام بریلی میں چلے آئے۔
تقسیم ملک کے بعد 20 دسمبر 1947ء کو پاکستان آ کر جامعہ محمدی شریف جھنگ میں 1951ء تک شیخ الحدیث رہے۔ بعد ازاں کچھ عرصہ دارالعلوم اہلِ سنت و جماعت جہلم میں رہے، جون 1954ء میں شیخ الحدیث والفقہ کی حیثیت میں جامعہ نعیمیہ لاہور تشریف لے آئے اور تقریباً چھ سال تک بحسن و خوبی کام کیا۔ مفتی محمد اعجاز ولی خاں 1960ء میں جامعہ نعمانیہ لاہور میں شیخ الحدیث مقرر ہوئے، 1973ء میں جامعہ نعمانیہ لاہور کی جانب سے جمعیۃ علماءِ پاکستان سے وابستگی پر اعتراض کیا گیا تو مفتی اعجاز ولی خاں نے استعفیٰ دے دیا،اور جامعہ نظامیہ لاہور میں شیخ الحدیث مقرر ہوگئے، افسوس کہ مفتی محمد اعجاز ولی خاں رضوی جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں صرف دو دن تشریف لائے گزرے تھے کہ مرض وفات لاحق ہوگیا، اور جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور کے طلبہ آپ سے مستفیض نہ ہوسکے۔
تحریکِ پاکستان میں کردار:
حضرت مفتی محمد اعجاز ولی خاں علیہ الرحمۃ 1937ء ہی سے تحریک مسلم لیگ کی حمایت و اعانت فرماتے رہے۔ 1940ء میں جب لاہور میں قرار دادِ پاکستان منظور ہوئی تو مفتی محمد اعجاز ولی خاں نے اس کی حمایت میں دار الافتاء رضوی بریلی سےفتویٰ جاری کیا۔ 1945ء اور 1946ء میں مشرقی پنجاب کا دورہ کر کے پاکستان کے لیے فضا ہموار کی۔ 1953ء میں تحریک ختم نبوت میں حصہ لینے کی بنا پر ایک سودن تک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند رہے۔
قومی سیاست میں کردار:
حضرت مفتی محمد اعجاز ولی خاں ابتداء ہی سے جمعیت علماءِ پاکستان کے معاون رہے۔ حضرت علامہ ابو الحسنات قدس سرہٗ کے دور میں مجلس عاملہ کے رکن اور حضرت علامہ عبد الحامد بدایونی کے دورِ صدارت میں مغربی پاکستان کے صدر رہے ۔ حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی کے دور صدارت میں خازن رہے ۔ مئی 1971ء میں جمعیت علماءِ پاکستان صوبۂ پنجاب کے صدر مقرر کیے گئے، اور جمعیت علماء پاکستان سے وابستگی کی بنا پر منصب شیخ الحدیث سے استعفیٰ دے دیا ۔ (تذکرہ اکابر اہل سنت:65)
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی اعجاز ولی خاں رضوی ۔ لقب: فقیہ المفخم، استاذ العلماء ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
استاذ العلماء فقیہ المفخم مولانا مفتی محمد اعجاز ولی خاں رضوی بن مولانا سردار ولی خاں (متوفی ۶؍ صفر ۱۳۹۵ھ؍ ۱۸؍ فروری۱۹۷۵ء بمقام پیر جو گوٹھ سندھ) بن مولانا ہادی علی خاں بن مولانا رضا علی خاں (جد امجد امام احمد رضا خاں قادری بریلوی)۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 11 ربیع الثانی 1332ھ مطابق 20 مارچ 1914ء کو بریلی شریف میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری فاضل بریلوی قدس سرہٗ سے مفتی محمد اعجاز ولی خاں نے قرآن مجید شروع کیا، اور حافظ عبد الکریم قادری بریلوی سے مکمل کیا ۔ پھر درسی کتابیں متوسطات تک برادر معظم مولانا مفتی تقدس علی خاں رضوی علیہ الرحمہ شیخ الحدیث جامعہ راشدیہ پیر گوٹھ سندھ، مولانا مختار احمد سلطان پوری اور مولانا الشاہ محمد حسنین رضا خاں بریلوی سے پڑھیں ۔ شرح جامی حضور مفتی اعظم علامہ مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی سے اور تفسیر جلالین حضرت مولانا سردار علی خاں علیہ الرحمۃ سے پڑھیں۔
حضرت مفتی اعجاز ولی خاں نے 1352ھ؍ 1929ء میں حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ سے سند حدیث حاصل کی بعد ازاں حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا بریلوی قدس سرہٗ سے بھی سند حدیث حاصل کی۔ پھر مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے صدر الشریعہ مولانا امجد علی رضوی اعظمی علیہ الرحمۃ کی خدمت میں مدرسہ سعیدیہ دادوں میں حاضر ہوئے اور تحصیل علوم کے بعد حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ سے سند حاصل کی۔
بیعت و خلافت:
حضرت مفتی محمد اعجاز ولی خاں علیہ الرحمہ سلسلۂ قادریہ میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری فاضل بریلی قدس سرہٗ سے بیعت ہوئے اور حضور مفتی اعظم علامہ مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلی قدس سرہٗ سے سلسلۂ قادریہ رضویہ میں اجازت وخلافت سے مشرف ہوئے۔
سیرت و خصائص:
استاذ العلماء، رئیس الفقہاء، مرجع الفضلاء، سند الاتقیاء، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ حضرت علامہ مولانا مفتی اعجاز ولی خاں رضوی قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ خاندانِ اعلیٰ حضرت مجدد اسلام کے عظیم فرد اور فقیہ العصر تھے ۔ مفتی محمد اعجاز ولی خاں نے تکمیل علوم کے بعد این، بی ہائی اسکول بریلی میں تدریس کا سلسلہ شروع کیا، پھر کچھ عرصہ دار العلوم منظر اسلام اور کچھ عرصہ دارالعلوم مظہر اسلام (مسجد بی بی جی صاحبہ) بریلی میں پڑھاتے رہے ۔
1945ء میں مفتی اعجاز ولی خاں مدرسہ منہاج العلوم پانی پت متصل مزار مولانا سید غوث علی شاہ پانی پتی قدس سرہٗ تشریف لے گے، اور ایک سال فرائض تدریس انجام دینے کے بعد دار العلوم منظر اسلام بریلی میں چلے آئے۔
تقسیم ملک کے بعد 20 دسمبر 1947ء کو پاکستان آ کر جامعہ محمدی شریف جھنگ میں 1951ء تک شیخ الحدیث رہے۔ بعد ازاں کچھ عرصہ دارالعلوم اہلِ سنت و جماعت جہلم میں رہے، جون 1954ء میں شیخ الحدیث والفقہ کی حیثیت میں جامعہ نعیمیہ لاہور تشریف لے آئے اور تقریباً چھ سال تک بحسن و خوبی کام کیا۔ مفتی محمد اعجاز ولی خاں 1960ء میں جامعہ نعمانیہ لاہور میں شیخ الحدیث مقرر ہوئے، 1973ء میں جامعہ نعمانیہ لاہور کی جانب سے جمعیۃ علماءِ پاکستان سے وابستگی پر اعتراض کیا گیا تو مفتی اعجاز ولی خاں نے استعفیٰ دے دیا،اور جامعہ نظامیہ لاہور میں شیخ الحدیث مقرر ہوگئے، افسوس کہ مفتی محمد اعجاز ولی خاں رضوی جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں صرف دو دن تشریف لائے گزرے تھے کہ مرض وفات لاحق ہوگیا، اور جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور کے طلبہ آپ سے مستفیض نہ ہوسکے۔
تحریکِ پاکستان میں کردار:
حضرت مفتی محمد اعجاز ولی خاں علیہ الرحمۃ 1937ء ہی سے تحریک مسلم لیگ کی حمایت و اعانت فرماتے رہے۔ 1940ء میں جب لاہور میں قرار دادِ پاکستان منظور ہوئی تو مفتی محمد اعجاز ولی خاں نے اس کی حمایت میں دار الافتاء رضوی بریلی سےفتویٰ جاری کیا۔ 1945ء اور 1946ء میں مشرقی پنجاب کا دورہ کر کے پاکستان کے لیے فضا ہموار کی۔ 1953ء میں تحریک ختم نبوت میں حصہ لینے کی بنا پر ایک سودن تک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند رہے۔
قومی سیاست میں کردار:
حضرت مفتی محمد اعجاز ولی خاں ابتداء ہی سے جمعیت علماءِ پاکستان کے معاون رہے۔ حضرت علامہ ابو الحسنات قدس سرہٗ کے دور میں مجلس عاملہ کے رکن اور حضرت علامہ عبد الحامد بدایونی کے دورِ صدارت میں مغربی پاکستان کے صدر رہے ۔ حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی کے دور صدارت میں خازن رہے ۔ مئی 1971ء میں جمعیت علماءِ پاکستان صوبۂ پنجاب کے صدر مقرر کیے گئے، اور جمعیت علماء پاکستان سے وابستگی کی بنا پر منصب شیخ الحدیث سے استعفیٰ دے دیا ۔ (تذکرہ اکابر اہل سنت:65)
❤1
چند یادگاریں:
1954ء میں حضرت داتا گنج بخش قدس سرہٗ کے مزارِ انوار کے قریب جامعہ گنج بخش قائم کیا۔ غالباً 1956ء میں جامعہ مسجد محلہ اسلام پورہ میں خطیب مقرر ہوئے اور وہاں دارالعلوم حامدیہ رضویہ قائم کیا۔ مفتی محمد اعجاز ولی خاں نےگنج بخش کے نام سے ایک ماہ نامہ بھی جاری کیا جو ایک عرصے تک جاری رہنے کے بعد بند ہوگیا۔
علم و فضل:
مفتی محمد اعجاز ولی خاں حسنِ اخلاق، ایثار و قربانی، حق گوئی، صاف دلی، بے نفسی، علم پروری، قوتِ حافظہ، مسائل فقہیہ کے استحضار، صلابت رائے اور تاریخ گوئی میں اپنی مثال آپ تھے۔ بےشمار علماءِ کرام نے مفتی محمد اعجاز ولی خاں سے اکتسابِ فیض کیا۔
تصانیف:
۱۔ قانون میراث
۲۔ تسہیل الواضح خلاصہ النحو الواضح
۳۔ تنویر القرآن (تفسیر قرآن بر حاشیہ کنز الایمان)
۴۔ ترجمہ مکتوبات شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہٗ
۵۔ ترجمہ کشف الاسرار، مختلف کتب پر مقدمہ اور بے شمار فتاویٰ ہیں۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال پرملال 24 شوال المکرم 1393ھ مطابق 20 نومبر 1973ء بروز منگل ہوا ۔ نماز جنازہ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا سید ابو البرکات رضوی نے پڑھائی، میانی صاحب بہاول پور روڈ لاہور میں مولانا غلام محمد ترنم قدس سرہٗ کے سرہانے آخری آرام گاہ بنی۔حضرت مولانا محمد ابراہیم خوشتر صدیقی رضوی نے تاریخی وصال کہی۔
رخصت ہوا جہان سے یہ کون باکمال
بوجھل ہوئی زمیں تو فلک غم سے ہے نڈھال
عقبیٰ کی فکر، دین کا جس کو رہا خیال
از عاقبت بخیر1393ھ ہے اس کا سنِ وصال
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔ مفتیِ اعظم اور ان کے خلفاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-ejaz-wali-khan
1954ء میں حضرت داتا گنج بخش قدس سرہٗ کے مزارِ انوار کے قریب جامعہ گنج بخش قائم کیا۔ غالباً 1956ء میں جامعہ مسجد محلہ اسلام پورہ میں خطیب مقرر ہوئے اور وہاں دارالعلوم حامدیہ رضویہ قائم کیا۔ مفتی محمد اعجاز ولی خاں نےگنج بخش کے نام سے ایک ماہ نامہ بھی جاری کیا جو ایک عرصے تک جاری رہنے کے بعد بند ہوگیا۔
علم و فضل:
مفتی محمد اعجاز ولی خاں حسنِ اخلاق، ایثار و قربانی، حق گوئی، صاف دلی، بے نفسی، علم پروری، قوتِ حافظہ، مسائل فقہیہ کے استحضار، صلابت رائے اور تاریخ گوئی میں اپنی مثال آپ تھے۔ بےشمار علماءِ کرام نے مفتی محمد اعجاز ولی خاں سے اکتسابِ فیض کیا۔
تصانیف:
۱۔ قانون میراث
۲۔ تسہیل الواضح خلاصہ النحو الواضح
۳۔ تنویر القرآن (تفسیر قرآن بر حاشیہ کنز الایمان)
۴۔ ترجمہ مکتوبات شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہٗ
۵۔ ترجمہ کشف الاسرار، مختلف کتب پر مقدمہ اور بے شمار فتاویٰ ہیں۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال پرملال 24 شوال المکرم 1393ھ مطابق 20 نومبر 1973ء بروز منگل ہوا ۔ نماز جنازہ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا سید ابو البرکات رضوی نے پڑھائی، میانی صاحب بہاول پور روڈ لاہور میں مولانا غلام محمد ترنم قدس سرہٗ کے سرہانے آخری آرام گاہ بنی۔حضرت مولانا محمد ابراہیم خوشتر صدیقی رضوی نے تاریخی وصال کہی۔
رخصت ہوا جہان سے یہ کون باکمال
بوجھل ہوئی زمیں تو فلک غم سے ہے نڈھال
عقبیٰ کی فکر، دین کا جس کو رہا خیال
از عاقبت بخیر1393ھ ہے اس کا سنِ وصال
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔ مفتیِ اعظم اور ان کے خلفاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-ejaz-wali-khan
scholars.pk
Ejaz Wali Khan Molana Mufti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Hazrat Molana Mufti Ejaz Wali Khan
❤1
امام الزاہد ، الشیخ الصالح ، شیخ ابو الحسین احمد نوری علیہ الرحمہ
نام ونسب:
اسم گرامی: احمد ۔ کنیت: ابو الحسن ۔لقب: نوری ۔ ’’شیخ ابو الحسن نوری‘‘ کے نام سے معروف ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ احمد بن محمد بن الفتوری علیہم الرحمہ ۔ آپ کے والد ماجد بغشور افغانستان کے رہنے والے تھے ۔ جو ہرات اور مرو کے درمیان کا علاقہ ہے ۔ پھر افغانستان سے بغداد کی طرف ہجرت فرمائی ۔
نوری کہنے کی وجہ تسمیہ:
آپ کو نوری اس لیے کہا جاتا ہے کہ رات کی تاریکی میں گفتگو فرماتے تو منہ سے نور کی کرنیں ظاہر ہوتیں، جن سے سارا ماحول روشن ہو جاتا تھا ۔ آپ نورِ کرامت سے لوگوں کے دلوں کے حالات معلوم کر لیتے، آپ صحراء میں ایک خانقاہ میں رہا کرتے تھے، لوگ آپ کی زیارت کو جاتے تو آپ کی جائے مقام سے نور کی شعاعیں دیکھتے جو آسمان کو چھوتیں ۔ اندھیری رات میں آسانی کے ساتھ اس مقام پر پہنچ جاتے تھے ۔
مقامِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بغداد عراق میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ولادت بغداد میں ہوئی ۔ بغداد اس وقت علم وفن کا اور اسلامی علوم کا گہوارہ تھا ۔ بڑےبڑے علماء و محدثین و مفسرین اور صوفیاء موجود تھے ۔ اسی مرکزِ علم و فن میں آنکھ کھولی ۔ مختلف شیوخ سے علمی و روحانی استفادہ کیا ۔ آپ کا شمار وقت کے جید علماء و صوفیاء میں ہوتا تھا ۔
بیعت وخلافت:
آپ حضرت شیخ سری سقطی کےمرید وخلیفہ تھے۔ اسی طرح حضرت جنید بغدادی کےرفیقِ خاص تھے۔ حضرت شیخ احمد بن احمد جواری سےبھی ملاقات ہے۔ان کےعلاوہ بکثرت مشائخ سےملے ہیں۔
سیرت وخصائص:
پیشوائے اربابِ طریقت،امام ِ شریعت، شیخ المشائخ، امام الآئمہ، بانیِ سلسلہ عالیہ نوریہ حضرت شیخ ابوالحسن نوری رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ کاشمار کباراولیاء کرام اور صوفیاءِ عظام میں ہوتا ہے۔ مشائخ و صوفیہ آپ کو’’ امیر القلو ب‘‘ کے لقب سے یاد کیا کرتے تھے۔بعض صوفیاء آپ کو ’’قمر الصوفیاء‘‘اور ’’طاؤس العباد‘‘ کے نام سے پکارتے تھے ۔آپ نے حضرت شیخ سری سقطی قدس سرہ سے خرقہ خلافت پایا تھا اور حضرت شیخ احمد حواری کی مجالس سے بھی استفادہ کیا، آپ حضرت جنید بغدادی کے معاصر تھے خود مجتہد صاحب مذہب امام طریقت اور سلسلہ نوریہ کے بانی تھے۔
آپ فرمایا کرتے تھے کہ ابتدائے کار میں ایک دن میں دریائے دجلہ پر گیا دو کشتیوں کے درمیان کھڑے ہوکر کہنے لگا، جب تک مجھے ساٹھ سیر کی ایک مچھلی نہ ملے گی میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔دریا سے ایک بہت بڑی مچھلی اچھلی میں کنارے پر لایا، اور کہا الحمدللہ میرا کام ہوگیا، میں نے یہ کرامت حضرت جنید بغدادی کو سنائی، تو آپ نے فرمایا اےابوالحسن اگر مچھلی کی بجائے اتنا بڑا سانپ نکل آتا اور تجھے ڈس لیتا اور تم مرجاتے تو اس سے کہیں بہتر تھا کہ تم اپنی کرامت کا فخریہ اظہار کرتے۔
خلیفہ بغداد کا ایک مقرب خلیل صوفیا کی مخالفت پر کمربستہ ہوا،دربار میں کھڑے ہوکر کہنے لگا۔ امیر المومنین! یہاں ایک ایسی جماعت پیدا ہوئی ہے جو سُرورگاتی ہےاور رقص کرتی ہے،لوگ ان سے دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں وہ خلاف شرع باتیں کرتے ہیں۔ اس طرح ان کی وجہ سے لوگ اسلام سے برگشتہ ہو رہے ہیں،اگر آپ ان زندیقوں کے قلع قمع کرنے کا اختیار دیں تو میں اس فتنہ کو اکھاڑپھینکوں،خلیفہ نے ان لوگوں کو دربار میں طلب کیا، شیخ ابوحمزہ، حضرت شیخ شبلی،حضرت رقام ،حضرت شیخ ابوالحسن نوری اور شیخ الطائفہ حضرت جنید بغدادی کے علاوہ بہت سے صوفیاء حاضرِ دربار ہوئے، رحمۃ اللہ علیہم، خلیفہ نے سب کو قتل کرنے کا حکم دیا۔
جلّاد نے سب سے پہلے حضرت رقام کی گردن اڑانی چاہی مگرحضرت نوری کودکرآگےبڑھےاور اپنی گردن پیش کردی،مسکراتے اور ہنستے ہوئے موت کے سامنے کھڑے ہوگئے،اہل دربار آپ کی اس جرأت پر دنگ رہ گئے، لوگوں نے کہا، اللہ کے بندے تلوار لحاظ نہیں کیا کرتی کہ میرےآگےکون ہے،آپ نے فرمایا میرا طریقۂ تصوف توایثار ہے، یہی میری دنیا کی عزیز ترین چیزہے،میں اپنی زندگی کے چند لمحات اپنے بھائی پر نثار کرنا چاہتا ہوں حالانکہ میں اس زندگی کو آخرت کے ہزار سال سے قیمتی جانتا ہوں۔
خلیفہ نے سنا جلّاد کو کہا ہاتھ روک لو، مجھے علماء وقت سے فتویٰ لینے دو، قاضیِ شہر کو بلایا گیا قاضی نے کہا ان سب میں سے کامل علوم حضرت جنید ہیں، ابو الحسن تو دیوانہ مزاج انسان ہیں، ان سے شرعی مسئلہ کیا پوچھوں، حضرت جنید بغدادی نے قاضی سے پوچھا، حضرت بیس دینار پر زکوٰۃ کتنی دی جائے گی، حضرت شبلی نے بڑھ کرجواب دیا کہ ساڑھے بیس دینارقاضی نے پوچھا کوئی شرعی دلیل،آپ نے فرمایا، سیّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس چالیس ہزار دینار تھےآپ نے سب کے سب دے دیے، اور اپنے پاس کچھ نہ رکھا۔
نام ونسب:
اسم گرامی: احمد ۔ کنیت: ابو الحسن ۔لقب: نوری ۔ ’’شیخ ابو الحسن نوری‘‘ کے نام سے معروف ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ احمد بن محمد بن الفتوری علیہم الرحمہ ۔ آپ کے والد ماجد بغشور افغانستان کے رہنے والے تھے ۔ جو ہرات اور مرو کے درمیان کا علاقہ ہے ۔ پھر افغانستان سے بغداد کی طرف ہجرت فرمائی ۔
نوری کہنے کی وجہ تسمیہ:
آپ کو نوری اس لیے کہا جاتا ہے کہ رات کی تاریکی میں گفتگو فرماتے تو منہ سے نور کی کرنیں ظاہر ہوتیں، جن سے سارا ماحول روشن ہو جاتا تھا ۔ آپ نورِ کرامت سے لوگوں کے دلوں کے حالات معلوم کر لیتے، آپ صحراء میں ایک خانقاہ میں رہا کرتے تھے، لوگ آپ کی زیارت کو جاتے تو آپ کی جائے مقام سے نور کی شعاعیں دیکھتے جو آسمان کو چھوتیں ۔ اندھیری رات میں آسانی کے ساتھ اس مقام پر پہنچ جاتے تھے ۔
مقامِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بغداد عراق میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ولادت بغداد میں ہوئی ۔ بغداد اس وقت علم وفن کا اور اسلامی علوم کا گہوارہ تھا ۔ بڑےبڑے علماء و محدثین و مفسرین اور صوفیاء موجود تھے ۔ اسی مرکزِ علم و فن میں آنکھ کھولی ۔ مختلف شیوخ سے علمی و روحانی استفادہ کیا ۔ آپ کا شمار وقت کے جید علماء و صوفیاء میں ہوتا تھا ۔
بیعت وخلافت:
آپ حضرت شیخ سری سقطی کےمرید وخلیفہ تھے۔ اسی طرح حضرت جنید بغدادی کےرفیقِ خاص تھے۔ حضرت شیخ احمد بن احمد جواری سےبھی ملاقات ہے۔ان کےعلاوہ بکثرت مشائخ سےملے ہیں۔
سیرت وخصائص:
پیشوائے اربابِ طریقت،امام ِ شریعت، شیخ المشائخ، امام الآئمہ، بانیِ سلسلہ عالیہ نوریہ حضرت شیخ ابوالحسن نوری رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ کاشمار کباراولیاء کرام اور صوفیاءِ عظام میں ہوتا ہے۔ مشائخ و صوفیہ آپ کو’’ امیر القلو ب‘‘ کے لقب سے یاد کیا کرتے تھے۔بعض صوفیاء آپ کو ’’قمر الصوفیاء‘‘اور ’’طاؤس العباد‘‘ کے نام سے پکارتے تھے ۔آپ نے حضرت شیخ سری سقطی قدس سرہ سے خرقہ خلافت پایا تھا اور حضرت شیخ احمد حواری کی مجالس سے بھی استفادہ کیا، آپ حضرت جنید بغدادی کے معاصر تھے خود مجتہد صاحب مذہب امام طریقت اور سلسلہ نوریہ کے بانی تھے۔
آپ فرمایا کرتے تھے کہ ابتدائے کار میں ایک دن میں دریائے دجلہ پر گیا دو کشتیوں کے درمیان کھڑے ہوکر کہنے لگا، جب تک مجھے ساٹھ سیر کی ایک مچھلی نہ ملے گی میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔دریا سے ایک بہت بڑی مچھلی اچھلی میں کنارے پر لایا، اور کہا الحمدللہ میرا کام ہوگیا، میں نے یہ کرامت حضرت جنید بغدادی کو سنائی، تو آپ نے فرمایا اےابوالحسن اگر مچھلی کی بجائے اتنا بڑا سانپ نکل آتا اور تجھے ڈس لیتا اور تم مرجاتے تو اس سے کہیں بہتر تھا کہ تم اپنی کرامت کا فخریہ اظہار کرتے۔
خلیفہ بغداد کا ایک مقرب خلیل صوفیا کی مخالفت پر کمربستہ ہوا،دربار میں کھڑے ہوکر کہنے لگا۔ امیر المومنین! یہاں ایک ایسی جماعت پیدا ہوئی ہے جو سُرورگاتی ہےاور رقص کرتی ہے،لوگ ان سے دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں وہ خلاف شرع باتیں کرتے ہیں۔ اس طرح ان کی وجہ سے لوگ اسلام سے برگشتہ ہو رہے ہیں،اگر آپ ان زندیقوں کے قلع قمع کرنے کا اختیار دیں تو میں اس فتنہ کو اکھاڑپھینکوں،خلیفہ نے ان لوگوں کو دربار میں طلب کیا، شیخ ابوحمزہ، حضرت شیخ شبلی،حضرت رقام ،حضرت شیخ ابوالحسن نوری اور شیخ الطائفہ حضرت جنید بغدادی کے علاوہ بہت سے صوفیاء حاضرِ دربار ہوئے، رحمۃ اللہ علیہم، خلیفہ نے سب کو قتل کرنے کا حکم دیا۔
جلّاد نے سب سے پہلے حضرت رقام کی گردن اڑانی چاہی مگرحضرت نوری کودکرآگےبڑھےاور اپنی گردن پیش کردی،مسکراتے اور ہنستے ہوئے موت کے سامنے کھڑے ہوگئے،اہل دربار آپ کی اس جرأت پر دنگ رہ گئے، لوگوں نے کہا، اللہ کے بندے تلوار لحاظ نہیں کیا کرتی کہ میرےآگےکون ہے،آپ نے فرمایا میرا طریقۂ تصوف توایثار ہے، یہی میری دنیا کی عزیز ترین چیزہے،میں اپنی زندگی کے چند لمحات اپنے بھائی پر نثار کرنا چاہتا ہوں حالانکہ میں اس زندگی کو آخرت کے ہزار سال سے قیمتی جانتا ہوں۔
خلیفہ نے سنا جلّاد کو کہا ہاتھ روک لو، مجھے علماء وقت سے فتویٰ لینے دو، قاضیِ شہر کو بلایا گیا قاضی نے کہا ان سب میں سے کامل علوم حضرت جنید ہیں، ابو الحسن تو دیوانہ مزاج انسان ہیں، ان سے شرعی مسئلہ کیا پوچھوں، حضرت جنید بغدادی نے قاضی سے پوچھا، حضرت بیس دینار پر زکوٰۃ کتنی دی جائے گی، حضرت شبلی نے بڑھ کرجواب دیا کہ ساڑھے بیس دینارقاضی نے پوچھا کوئی شرعی دلیل،آپ نے فرمایا، سیّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس چالیس ہزار دینار تھےآپ نے سب کے سب دے دیے، اور اپنے پاس کچھ نہ رکھا۔
❤1