شمس العلماء علامہ عبد الحق خیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبد الحق ۔ لقب: شمس العلماء ۔ خیر البلاد " قصبہ خیر آباد " کی نسبت سے خیرآبادی کہلائے ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
علامہ عبد الحق خیر آبادی بن امام المناطقہ مجاہدِ جنگ آزادی علامہ فضلِ حق خیر آبادی بن علامہ فضلِ امام خیر آبادی (علیہم الرحمہ) ۔ (خیر آباد ضلع سیتا پور، ریاست اتر پردیش انڈیا میں واقع ہے، یہ قصبہ سیتا پور سے 6 کلو میٹر، اور لکھنؤ سے 75 کلو میٹر دہلی لکھنؤ ہائی پر واقع ہے۔)
تاریخِ ولادت:
آپ 1244ھ بمطابق ستمبر 1828ء کو دہلی میں پیدا ہوئے، حضرت مولانا سید شاہ مصباح الحسن پھپھوندی اپنے استاذ مولانا ہدایت اللہ خاں جون پوری کی روایت سے فرماتے تھے: کہ حضرت علامہ خیر آبادی نے آپ کے عقیقہ میں ساٹھ ہزار روپے خرچ کیے تھے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے تمام علوم عقلیہ ونقلیہ کی تحصیل و تکمیل اپنے والد ماجد سے کی ۔1258ھ میں سولہ برس کی عمر میں سندِ فراغت حاصل کی، مشاہیر علمائے دہلی، مفتی صدر الدین وغیرہ علیہم الرحمہ نے جلسۂ دستار بندی میں شرکت کی ۔ ایک مرتبہ مولانا اکرام اللہ شہابی نے آپ سے پوچھا کہ بھائی صاحب! دنیا میں " حکیم " کا اطلاق کن کن پر ہے؟ آپ نے فرمایا: ساڑھے تین حکیم (منطقی و فلسفی) دنیا میں ہیں ۔ اول ۔ رسطو ۔ دوم ۔ فارابی ۔ تیسرے ۔ والد ماجد اور نصف بندہ ۔ (باغیِ ہندوستان، ص:184)
بیعت و خلافت:
آپ امام العارفین حضرت خواجہ شاہ اللہ بخش تونسوی علیہ الرحمہ کے مرید تھے ۔
سیرت و خصائص:
امام المناطقہ، رئیس الفلاسفہ، جامع المنقولِ والمعقول، سلسلۂ خیر آبادیت کے مورثِ اعلیٰ شمس العلماء حضرت علامہ عبد الحق خیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ فنِ منطق و حکمت میں امام وقت اور فن نحو و لغت کے بڑے ماہر اور بہت ہی سنجیدہ اور باوقار، پوری سمجھ کے مالک اور اچھی تعبیر والے اور مسالک استدلال سے اچھے باخبر ، طبیعت میں لطافت، گفتگو کے بہتر ، نادر باتوں کو اس عمدگی سے بیان فرماتے کہ اس کی پوری تعریف کرنی ممکن ہی نہیں ہے ، اور ان کی مجلسیں ہی لوگوں کے ذہن ان کی عقلوں کے مطابق ہوتیں اور گفتگو اس انداز سے کرتے تھے کہ مشکل سے مشکل مسائل ذہن میں آسانی سے بِٹھا دیتے تھے ۔
کسی کو کسی موضوع میں آپ کی مخالفت کی ہمت نہ ہوتی ، اور آپ کے فرمان ماننے ہی پڑتے ۔ درس کی دھوم تھی، طلبہ اکناف عالم سے آپ کے دریائے علم سے اپنی پیاس بجھانے کے لیے پہنچتے تھے ۔ طلبہ پر بہت شفیق تھے، جو طالب علم ایک سبق پڑھ لیتا پھر آپ کا درس نہ چھوڑتا ۔
آپ اپنی ذات کے اعتبار سے بہت ہی خوبصورت ، اچھے چہرے والے، بہت با اخلاق، غرباء کے ہمدرد اور انگریزی وضع و معاشرت سے تَنفُّر خصوصی اوصاف تھے ۔
آپ نے بہت گذا طبیعت پائی تھی، صوفیاء کے حالات و واقعات بہت شوق سے سنتے اور پڑھتے تھے ۔ آپ کے سامنے جب بزرگان دین کے مجاہدات و ریاضات اور مصائب کے واقعات بیان کیے جاتے تو بے اختیار سیلاب اشک رواں ہو جاتا ۔
جذبۂ حریت آپ کو میراث میں ملا تھا ۔ اسلئے جذبۂ حریت آپ کی رگ رگ میں موجود تھا ۔ ساری زندگی انگریز اور انگریزی تہذیب سے سخت نفرت کرتے رہے ۔
علامہ عبد الحق خیر آبادی علیہ الرحمہ کی وصیت: آپ نے فرمایا: جب انگریز ہندوستان سے چلے جائیں تو میری قبر پر خبر کر دی جائے ۔ چنانچہ 15 اگست 1947ء کو مولوی سید نجم الحسن رضوی خیر آبادی نے مولانا عبد الحق کے مدفن درگاہ مخدومیہ خیر آباد ضلع سیتا پور پر ایک جمِ غفیر کے ساتھ حاضر ہو کر میلاد شریف کے بعد قبر پر فاتحہ خوانی کی اور اس طرح پورے پچاس سال کے بعد انگریزی سلطنت کے خاتمہ کی خبر سنا کر وصیت پوری کی ۔ (مقدمہ زبدۃ الحکمۃ، ص: 12)
وصال:
23 شوال المکرم 1316ھ، بمطابق 1899ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کی قبرِ انور خیر آباد میں مخدوم شیخ سعد کی درگاہ کے احاطے میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلِ سنت ۔ خیر آبادیت ۔ نزہۃ الخواطر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-abdul-haq-khairabadi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبد الحق ۔ لقب: شمس العلماء ۔ خیر البلاد " قصبہ خیر آباد " کی نسبت سے خیرآبادی کہلائے ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
علامہ عبد الحق خیر آبادی بن امام المناطقہ مجاہدِ جنگ آزادی علامہ فضلِ حق خیر آبادی بن علامہ فضلِ امام خیر آبادی (علیہم الرحمہ) ۔ (خیر آباد ضلع سیتا پور، ریاست اتر پردیش انڈیا میں واقع ہے، یہ قصبہ سیتا پور سے 6 کلو میٹر، اور لکھنؤ سے 75 کلو میٹر دہلی لکھنؤ ہائی پر واقع ہے۔)
تاریخِ ولادت:
آپ 1244ھ بمطابق ستمبر 1828ء کو دہلی میں پیدا ہوئے، حضرت مولانا سید شاہ مصباح الحسن پھپھوندی اپنے استاذ مولانا ہدایت اللہ خاں جون پوری کی روایت سے فرماتے تھے: کہ حضرت علامہ خیر آبادی نے آپ کے عقیقہ میں ساٹھ ہزار روپے خرچ کیے تھے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے تمام علوم عقلیہ ونقلیہ کی تحصیل و تکمیل اپنے والد ماجد سے کی ۔1258ھ میں سولہ برس کی عمر میں سندِ فراغت حاصل کی، مشاہیر علمائے دہلی، مفتی صدر الدین وغیرہ علیہم الرحمہ نے جلسۂ دستار بندی میں شرکت کی ۔ ایک مرتبہ مولانا اکرام اللہ شہابی نے آپ سے پوچھا کہ بھائی صاحب! دنیا میں " حکیم " کا اطلاق کن کن پر ہے؟ آپ نے فرمایا: ساڑھے تین حکیم (منطقی و فلسفی) دنیا میں ہیں ۔ اول ۔ رسطو ۔ دوم ۔ فارابی ۔ تیسرے ۔ والد ماجد اور نصف بندہ ۔ (باغیِ ہندوستان، ص:184)
بیعت و خلافت:
آپ امام العارفین حضرت خواجہ شاہ اللہ بخش تونسوی علیہ الرحمہ کے مرید تھے ۔
سیرت و خصائص:
امام المناطقہ، رئیس الفلاسفہ، جامع المنقولِ والمعقول، سلسلۂ خیر آبادیت کے مورثِ اعلیٰ شمس العلماء حضرت علامہ عبد الحق خیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ فنِ منطق و حکمت میں امام وقت اور فن نحو و لغت کے بڑے ماہر اور بہت ہی سنجیدہ اور باوقار، پوری سمجھ کے مالک اور اچھی تعبیر والے اور مسالک استدلال سے اچھے باخبر ، طبیعت میں لطافت، گفتگو کے بہتر ، نادر باتوں کو اس عمدگی سے بیان فرماتے کہ اس کی پوری تعریف کرنی ممکن ہی نہیں ہے ، اور ان کی مجلسیں ہی لوگوں کے ذہن ان کی عقلوں کے مطابق ہوتیں اور گفتگو اس انداز سے کرتے تھے کہ مشکل سے مشکل مسائل ذہن میں آسانی سے بِٹھا دیتے تھے ۔
کسی کو کسی موضوع میں آپ کی مخالفت کی ہمت نہ ہوتی ، اور آپ کے فرمان ماننے ہی پڑتے ۔ درس کی دھوم تھی، طلبہ اکناف عالم سے آپ کے دریائے علم سے اپنی پیاس بجھانے کے لیے پہنچتے تھے ۔ طلبہ پر بہت شفیق تھے، جو طالب علم ایک سبق پڑھ لیتا پھر آپ کا درس نہ چھوڑتا ۔
آپ اپنی ذات کے اعتبار سے بہت ہی خوبصورت ، اچھے چہرے والے، بہت با اخلاق، غرباء کے ہمدرد اور انگریزی وضع و معاشرت سے تَنفُّر خصوصی اوصاف تھے ۔
آپ نے بہت گذا طبیعت پائی تھی، صوفیاء کے حالات و واقعات بہت شوق سے سنتے اور پڑھتے تھے ۔ آپ کے سامنے جب بزرگان دین کے مجاہدات و ریاضات اور مصائب کے واقعات بیان کیے جاتے تو بے اختیار سیلاب اشک رواں ہو جاتا ۔
جذبۂ حریت آپ کو میراث میں ملا تھا ۔ اسلئے جذبۂ حریت آپ کی رگ رگ میں موجود تھا ۔ ساری زندگی انگریز اور انگریزی تہذیب سے سخت نفرت کرتے رہے ۔
علامہ عبد الحق خیر آبادی علیہ الرحمہ کی وصیت: آپ نے فرمایا: جب انگریز ہندوستان سے چلے جائیں تو میری قبر پر خبر کر دی جائے ۔ چنانچہ 15 اگست 1947ء کو مولوی سید نجم الحسن رضوی خیر آبادی نے مولانا عبد الحق کے مدفن درگاہ مخدومیہ خیر آباد ضلع سیتا پور پر ایک جمِ غفیر کے ساتھ حاضر ہو کر میلاد شریف کے بعد قبر پر فاتحہ خوانی کی اور اس طرح پورے پچاس سال کے بعد انگریزی سلطنت کے خاتمہ کی خبر سنا کر وصیت پوری کی ۔ (مقدمہ زبدۃ الحکمۃ، ص: 12)
وصال:
23 شوال المکرم 1316ھ، بمطابق 1899ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کی قبرِ انور خیر آباد میں مخدوم شیخ سعد کی درگاہ کے احاطے میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلِ سنت ۔ خیر آبادیت ۔ نزہۃ الخواطر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-abdul-haq-khairabadi
scholars.pk
Hazrat Allama Molana Abdul Haq khairabadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-10-1444 ᴴ | 13-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-10-1444 ᴴ | 14-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-10-1444 ᴴ | 14-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-10-1444 ᴴ | 14-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1