🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
ائیں گے ۔

تلبیس ذریتِ ابلیس:روافض کی طرح خوارج(وہابیہ ودیابنہ)بھی اہل سنت کےنامور علماء ومشائخ کواپنےکھاتےمیں ڈالنےکی سعی لاحاصل میں مصروف ہیں۔تاکہ ان سےاپناتعلق ظاہرکرکےسادہ لوح عوام کےایمان پر آسانی سےڈاکہ ڈالا جاسکے۔کیونکہ پاک وہند کی عوام کی اکثریت اولیاء وصلحاء کوماننےوالی ہے،اس لئےانہوں نےبھی اب پیری مریدی کی دوکانیں سجالیں ہیں۔حالانکہ ان کاپیرتو’’شیخ ِنجد‘‘ہے۔مولانا شیخ عبدالرحمن نقشبندی مجددی سکھروی﷫کاتعلق اہل حق اہل سنت وجماعت سےتھا۔جوپیرہوگا وہ سنی ہوگا،کبھی بےادب پیرنہیں ہوسکتا۔جتنےبھی اولیاء گزرےہیں سب کےسب سنی صحیح العقیدہ تھے۔آپ کےصحیح العقیدہ سنی ہونےکےچند دلائل:

1۔قاطعِ وہابیت ونجدیت،نبیرۂ حضرت مجددالفِ ثانی حضرت خواجہ محمد حسن جان سرہندی﷫کااپنی کتاب’’تذکرۃ الصلحاء فی بیان الاتقیاء‘‘میں ان کاذکرکرنا،اور ان کی تعریف وتوصیف کرناان کی سنیت کی بہت بڑی دلیل ہے۔

2۔آپ حضرت علامہ مولانا محمد یعقوب ہمایونی ﷫کےشاگرد اورحضرت خواجہ عبدالقیوم جان مجددی﷫کےمریدوخلیفہ تھے۔

3۔آپ کی ایک قلمی کتاب میں وظیفہ’’یاشیخ عبدالقادرجیلانی شیئا للہ‘‘لکھاہواتھا،اور دیابنہ کےنزدیک یہ شرک وحرام ہے۔(تذکرہ خانوادہ شاہجمالی:5)

4۔جامع المنقول والمعقول حضرت علامہ پیرمحمد اکرم شاہ جمالی﷫فرماتےہیں:’’جب میں حضرت کےمزارپرحاضر ہواتھا،تومزار اقدس پرجوتختی نصب تھی جس پر کچھ ابیات درج تھے،اورکناروں پر۔۔۔یا اللہ،اور یامحمدتحریرتھا‘‘۔(ایضا:5)

5۔آپ کی اولاد الحمد للہ سنی ہے۔اسی طرح آپ میلاد شریف کرتےتھے۔سرکارِ دوعالم ﷺکےلئےعلمِ غیب اورآپﷺکونور من نوراللہ کاعقیدہ رکھتےتھے۔(ایضا:7)

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 23 شوال المکرم 1314ھ مطابق مارچ 1897ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار سکھر شہر کے وسط میں گھنٹہ گھر کے قریب قبرستان میں واقع ہے ۔

ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔ سندھ کے صوفیائے نقشبند ۔ تذکرہ مشاہیر سندھ ۔ تذکرۃ الصلحاء فی بیان الاتقیاء ۔ تذکرہ خانوادہ شاہ جمالی ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-abdul-rahman-sukkur-
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ سیدعلی بغدادی﷫

نام ونسب: اسم گرامی: شیخ سید علی بغدادی﷫۔لقب:زبدۃ الاصفیاء۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: شیخ سید علی بغدادی بن سید محی الدین ابو نصربن عمادالدین ابو صالح نصرعلیہم الرحمۃ والرضوان۔آپ کاخاندانی تعلق ساداتِ کرام کےعالی گھرانےسےہے۔والدگرامی سلسلہ عالیہ قادریہ کےامام اور شیخِ طریقت اورامام الوقت تھے۔

مقامِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت بغداد معلیٰ عراق میں ہوئی۔(تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ:271)

تحصیلِ علم: آپ کی تعلیم وتربیت اپنے والدِ گرامی کےزیر سایہ ہوئی۔دیگر مشائخِ وقت سے بھی مختلف علوم وفنون میں اوربالخصوص فقہ وحدیث میں بغداد کےماہرین ِ علم سےعلمی استفادہ کیا۔تحصیلِ علم کےبعد درس وتدریس میں مصروف ہوگئے۔کثیرمخلوقِ خدانےآپ سےاکتساب علم کیا۔(ایضا:271)

بیعت وخلافت: آپ اپنے والد گرامی سید محی الدین ابونصر﷫کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے،اور آپ کاشمار والد گرامی کےارشد خلفاء میں ہوتا تھا۔

سیرت وخصائص: شیخ المشائخ،قدوۃ الاولیاء،زبدۃ الاصفیاء،امام العرفاء،عاشق ِ محبوبِ خدا،واقفِ اسرارِ جلی وخفی،سیدناعلی ﷫،آپ علیہ الرحمہ سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کےاکیسویں امام اور شیخِ طریقت ہیں۔آپ اکمل الکملاء،اور مرجع الاصفیاء،عجیب شان کےمالک تھے۔آپ تمام علومِ ظاہری وباطنی میں یکتائے روزگار تھے۔تمام معاملات ومقامات میں شانِ رفیرع کےمالک تھے۔عالی ہمت،مروت کےشہسوار،سخاوت وبخشش،جودوعطاء میں اپنی مثال آپ تھے۔تجرید وتفرید توحیدومشاہدہ میں فانیِ اورطریقت میں مجتہد کےمقام پر فائز تھے۔شریعت وطریقت کےجامع،اور عبادت وریاضت ،اور زہدوتقویٰ عالی ہمت اور باکمال تھے۔مریدین و متوسلین کی تربیت،اوران کےمسائل کےحل کواولین ترجیح دیتے تھے۔کوئی بھی سائل دروازےسے خالی نہیں جاتاتھا۔محتاجوں،غریبوں،مسکینوں،بیواؤں اورفقراء ویتامیٰ سےبےحد محبت اوران کی دل جوئی وغمگساری فرماتے تھے۔آپ کےخلفاء میں حضرت سید موسیٰ ﷫مرشدِ خلائق ہوئے۔

تاریخِ وصال: آپ کاوصال 23/شوال المکرم 739ھ مطابق مئی/1339ء کوہوا۔مزار پرانوار بغداد شریف میں مرجعِ خلائق ہے۔

ماخذ مراجع: تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ۔

شجرہ شریف میں اس طرح ذکر ہے:

طورِ عرفان وعلو وحمد وحسنیٰ وبہا۔۔۔۔۔۔۔ دے علیؔ موسیٰ حسن احمد بہا کےواسطے

شیخ الاسلام اعلیٰ حضرت﷫فرماتے ہیں:

جان نصری یا محی الدین فانصر وانتصر
اے علی ؔ اے شہر یار مرتضی ٰ امداد کن

https://scholars.pk/ur/scholar/syedna-sheikh-ali-baghdadi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شمس العلماء علامہ عبد الحق خیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
عبد الحق ۔ لقب: شمس العلماء ۔ خیر البلاد " قصبہ خیر آباد " کی نسبت سے خیرآبادی کہلائے ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
علامہ عبد الحق خیر آبادی بن امام المناطقہ مجاہدِ جنگ آزادی علامہ فضلِ حق خیر آبادی بن علامہ فضلِ امام خیر آبادی (علیہم الرحمہ) ۔ (خیر آباد ضلع سیتا پور، ریاست اتر پردیش انڈیا میں واقع ہے، یہ قصبہ سیتا پور سے 6 کلو میٹر، اور لکھنؤ سے 75 کلو میٹر دہلی لکھنؤ ہائی پر واقع ہے۔)

تاریخِ ولادت:
آپ 1244ھ بمطابق ستمبر 1828ء کو دہلی میں پیدا ہوئے، حضرت مولانا سید شاہ مصباح الحسن پھپھوندی اپنے استاذ مولانا ہدایت اللہ خاں جون پوری کی روایت سے فرماتے تھے: کہ حضرت علامہ خیر آبادی نے آپ کے عقیقہ میں ساٹھ ہزار روپے خرچ کیے تھے ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے تمام علوم عقلیہ ونقلیہ کی تحصیل و تکمیل اپنے والد ماجد سے کی ۔1258ھ میں سولہ برس کی عمر میں سندِ فراغت حاصل کی، مشاہیر علمائے دہلی، مفتی صدر الدین وغیرہ علیہم الرحمہ نے جلسۂ دستار بندی میں شرکت کی ۔ ایک مرتبہ مولانا اکرام اللہ شہابی نے آپ سے پوچھا کہ بھائی صاحب! دنیا میں " حکیم " کا اطلاق کن کن پر ہے؟ آپ نے فرمایا: ساڑھے تین حکیم (منطقی و فلسفی) دنیا میں ہیں ۔ اول ۔ رسطو ۔ دوم ۔ فارابی ۔ تیسرے ۔ والد ماجد اور نصف بندہ ۔ (باغیِ ہندوستان، ص:184)

بیعت و خلافت:
آپ امام العارفین حضرت خواجہ شاہ اللہ بخش تونسوی علیہ الرحمہ کے مرید تھے ۔

سیرت و خصائص:
امام المناطقہ، رئیس الفلاسفہ، جامع المنقولِ والمعقول، سلسلۂ خیر آبادیت کے مورثِ اعلیٰ شمس العلماء حضرت علامہ عبد الحق خیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ فنِ منطق و حکمت میں امام وقت اور فن نحو و لغت کے بڑے ماہر اور بہت ہی سنجیدہ اور باوقار، پوری سمجھ کے مالک اور اچھی تعبیر والے اور مسالک استدلال سے اچھے باخبر ، طبیعت میں لطافت، گفتگو کے بہتر ، نادر باتوں کو اس عمدگی سے بیان فرماتے کہ اس کی پوری تعریف کرنی ممکن ہی نہیں ہے ، اور ان کی مجلسیں ہی لوگوں کے ذہن ان کی عقلوں کے مطابق ہوتیں اور گفتگو اس انداز سے کرتے تھے کہ مشکل سے مشکل مسائل ذہن میں آسانی سے بِٹھا دیتے تھے ۔

کسی کو کسی موضوع میں آپ کی مخالفت کی ہمت نہ ہوتی ، اور آپ کے فرمان ماننے ہی پڑتے ۔ درس کی دھوم تھی، طلبہ اکناف عالم سے آپ کے دریائے علم سے اپنی پیاس بجھانے کے لیے پہنچتے تھے ۔ طلبہ پر بہت شفیق تھے، جو طالب علم ایک سبق پڑھ لیتا پھر آپ کا درس نہ چھوڑتا ۔

آپ اپنی ذات کے اعتبار سے بہت ہی خوبصورت ، اچھے چہرے والے، بہت با اخلاق، غرباء کے ہمدرد اور انگریزی وضع و معاشرت سے تَنفُّر خصوصی اوصاف تھے ۔

آپ نے بہت گذا طبیعت پائی تھی، صوفیاء کے حالات و واقعات بہت شوق سے سنتے اور پڑھتے تھے ۔ آپ کے سامنے جب بزرگان دین کے مجاہدات و ریاضات اور مصائب کے واقعات بیان کیے جاتے تو بے اختیار سیلاب اشک رواں ہو جاتا ۔

جذبۂ حریت آپ کو میراث میں ملا تھا ۔ اسلئے جذبۂ حریت آپ کی رگ رگ میں موجود تھا ۔ ساری زندگی انگریز اور انگریزی تہذیب سے سخت نفرت کرتے رہے ۔

علامہ عبد الحق خیر آبادی علیہ الرحمہ کی وصیت: آپ نے فرمایا: جب انگریز ہندوستان سے چلے جائیں تو میری قبر پر خبر کر دی جائے ۔ چنانچہ 15 اگست 1947ء کو مولوی سید نجم الحسن رضوی خیر آبادی نے مولانا عبد الحق کے مدفن درگاہ مخدومیہ خیر آباد ضلع سیتا پور پر ایک جمِ غفیر کے ساتھ حاضر ہو کر میلاد شریف کے بعد قبر پر فاتحہ خوانی کی اور اس طرح پورے پچاس سال کے بعد انگریزی سلطنت کے خاتمہ کی خبر سنا کر وصیت پوری کی ۔ (مقدمہ زبدۃ الحکمۃ، ص: 12)

وصال:
23 شوال المکرم 1316ھ، بمطابق 1899ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کی قبرِ انور خیر آباد میں مخدوم شیخ سعد کی درگاہ کے احاطے میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلِ سنت ۔ خیر آبادیت ۔ نزہۃ الخواطر ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-abdul-haq-khairabadi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-10-1444 ᴴ | 13-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-10-1444 ᴴ | 14-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-10-1444 ᴴ | 14-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-10-1444 ᴴ | 14-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1