🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-10-1444 ᴴ | 13-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-10-1444 ᴴ | 13-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت سید زین العابدین قادری جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و لقب:
آپ کا اصل نام احمد بخش تھا لیکن مشہور زین العابدین کے نام سے ہوئے ہیں ۔
آپ حضور غوث اعظم کی اولاد امجاد سے ہیں ۔ آپ کے والد گرامی کا نام عبد القادر المعروف حاجی شاہ ہے ۔
ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت درگاہ نورائی شریف (حیدر آباد) سندھ ۱۳۳۲ھ ۲۳ شوال المکرم پیر کی شب میں ہوئی ہے ۔ آپ کی ولادت سے پہلے آپ کے والد کے پاس ایک فقیر آیا تھا اور یہ پیش گوئی فرمائی تھی کہ اے حاجی شاہ آپ کو ایک فرزند عطا ہوگا پیدا ہوتے ہی اس کے سامنے دو دانت ہوں گے اور اس کا نام زین العابدین رکھنا ۔ آپ کی ولادت ہوئی اس فقیر کی پیش گوئی کے مطابق دو سامنے والے دانت موجود تھے لیکن زین العابدین نام رکھنا آپ کے والد بھول گئے ۔
پھر وہ فقیر آیا اور دریافت کیا کہ آپ کو میری دعاء سے جو لڑکا ہوا ہے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ آپ کے والد نے فرمایا کہ نام تو ان کا ہم نے احمد بخش رکھا ہے لیکن انہیں زین العابدین کے نام سے ہی پکاریں گے ۔
چنانچہ آپ اسی نام سے مشہور ہو گئے ۔ حضرت سید زین العابدین جیلانی قادری اپنے وقت کے اہل دل عشاق ، صاحب شریعت و طریقت اور باکمال بزرگوں میں سے تھے ۔
بارہ سال کی عمر تک تو مجذوبانہ کیفیت رہی پھر اس میں کچھ افاقہ ہوا تو آپ ہی نے صرف سندھی کی پہلی تک، قرآن شریف اور فارسی گلستان تک تعلیم حاصل کی دو سال تک طبیعت قدرے سالم رہی پھر وہی مجذوبانہ کفییت رہی جو ۲۲ سال کی عمر تک رہی حکماء اور اطباء آپ کے مرض کی صحیح تشخیص نہ کر سکے ـ
پھر آپ کے والد محترم سیدہ ‘‘ اوٹے شریف ’’ والی کی خدمت میں لے گئے، کیوں کہ سیدہ خاتون اپنے وقت کی ولیہ کاملہ تھیں، جب سیدہ نے آپ کو دیکھا تو فرمایا کہ ‘‘ اے زین العابدین کیا حال ہیں؟ ’’آپ نے اس کا جواب سندھی شعر میں دیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ‘‘ اے امی اگر روتا ہوں تو لوگ اسے کھیل سمجھتے ہیں اگر ہنستا ہوں تو دل جلتا ہے میری آنکھوں کو تو اس وقت آرام ملے جب وہ اپنے محبوب کو دیکھیں گے ’’ ـ
حضرت سیدہ خاتون نے بھی اس شعر کا جواب سندھی شعر میں ہی دیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ‘‘دکھی اور پہاڑ نے جو آپس میں باتیں کی ہیں اچھا ہوا کہ کسی نے یہ باتیں سنی نہیں ورنہ دنیا مصیبت میں گرفتار ہو جاتی ’’ ـ
اس کے بعد آپ حضرت زین العابدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے والد سے فرمانے لگیں کہ ان کو عشق الہٰی کی بیماری ہے میرے پاس چھوڑ جائیے ان شاء اللہ صحیح ہو جائےگا ـ
حضرت زین العابدین حضرت سیدہ خاتون کے ہاتھ پر بیعت ہوئے اور خاتون نے آپ کو سلسلۂ قادریہ میں داخل فرمایا کہ خلافت سے نوازا ۔
بعد میں آپ کی طبیعت بِالکل صحیح ہو گئی ۔ آپ کی شادی کے وقت ولی کامل حضرت سید میاں عبد الرسول رفاعی کے چھوٹے صاحبزادہ میاں گدا محی الدین کی صاحبزادی سے ہوئی ۔
حضرت سید زین العابدین جیلانی قادری علیہ الرحمۃ اپنی مرشدہ کے انتقال کے بعد بغداد شریف تشریف لے گئے اور حضرت سید محمد سالم الجیلانی قدس سرہ سے دوبارہ بیعت ہو گئے حضرت نے آپ کو خلعت خلافت سے نوازا ۔ حضرت محمد سالم علیہ الرحمۃ کے وصال فرمانے کے بعد پھر آپ مدینہ منورہ کے مشہور بزرگ حضرت سید احمد بن مختار تارک سلطنت المغرب کے ہاتھ پر سلسلۂ قادریہ میں بیعت ہوئے حضرت موصوف نے بھی اپنی کرم نوازیوں سے آپ کو نوازا اور خرقہ خلافت عطا فرمایا ۔
حضرت سید زین العابدین شاہ جیلانی علیہ الرحمہ جہاں آپ شریعت و طریقت کے میدان کے شہسوار تھے وہاں آپ ایک بہت بڑے عاشق رسول اور عدیم النظیر شاعر بھی تھے آخری عمر میں تو یہ حالت تھی کہ کلام گفتگو، تقریر مقفی اور مسجع پر مشتمل ہوا کرتی تھی، آپ نے تقریباً چودہ زبانوں میں شعر پر طبع آزمائی فرمائی ۔
مشرک زبانوں پر مشتمل ایک شعر درج ذیل ہے۔
سندھی
دم دم وانھیان در تنھنجی تی پلھو پائی پالٹھار
سرائیکی
مولی مینوں جلد ملا دیں سائیں مدینہ دی سرکار
انگریزی
نیوز ڈؤنٹ گو یئز
پشتو
استرگادں تہ اؤگر
بلوچی
گندگاں شمشم نیز نظر۔ ھگ شون ایں اسرار
عربی
اھدنا الصراط المستقیم
فارسی
مارا بدہ راہ کریم
اردو
بخش کرو جنت نعیم
سرائیکی
ترت ملاویں تھدں یار
فارسی اردو
دستگیر دس مرا ضعیف زنیل کا ذرا: من چہ گویم دلبرا
پنجابی سندھی
آوے پنڈ پھٹ کل اختیار
اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلا شبہ شرح صدر عطا فرمایا تھا جب آپ گفتگو فرماتے کسی بڑے سے بڑے عالم، دانشور، وکیل اور مدبر کو مجال دم زدن نہیں ہوتی تھی ۔ آپ کے برادرِ اکبر حضرت سید علامہ و مولانا محمد بخش شاہ آپ کو بھٹائی ثانی کہا کرتے تھے ۔
نام و لقب:
آپ کا اصل نام احمد بخش تھا لیکن مشہور زین العابدین کے نام سے ہوئے ہیں ۔
آپ حضور غوث اعظم کی اولاد امجاد سے ہیں ۔ آپ کے والد گرامی کا نام عبد القادر المعروف حاجی شاہ ہے ۔
ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت درگاہ نورائی شریف (حیدر آباد) سندھ ۱۳۳۲ھ ۲۳ شوال المکرم پیر کی شب میں ہوئی ہے ۔ آپ کی ولادت سے پہلے آپ کے والد کے پاس ایک فقیر آیا تھا اور یہ پیش گوئی فرمائی تھی کہ اے حاجی شاہ آپ کو ایک فرزند عطا ہوگا پیدا ہوتے ہی اس کے سامنے دو دانت ہوں گے اور اس کا نام زین العابدین رکھنا ۔ آپ کی ولادت ہوئی اس فقیر کی پیش گوئی کے مطابق دو سامنے والے دانت موجود تھے لیکن زین العابدین نام رکھنا آپ کے والد بھول گئے ۔
پھر وہ فقیر آیا اور دریافت کیا کہ آپ کو میری دعاء سے جو لڑکا ہوا ہے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ آپ کے والد نے فرمایا کہ نام تو ان کا ہم نے احمد بخش رکھا ہے لیکن انہیں زین العابدین کے نام سے ہی پکاریں گے ۔
چنانچہ آپ اسی نام سے مشہور ہو گئے ۔ حضرت سید زین العابدین جیلانی قادری اپنے وقت کے اہل دل عشاق ، صاحب شریعت و طریقت اور باکمال بزرگوں میں سے تھے ۔
بارہ سال کی عمر تک تو مجذوبانہ کیفیت رہی پھر اس میں کچھ افاقہ ہوا تو آپ ہی نے صرف سندھی کی پہلی تک، قرآن شریف اور فارسی گلستان تک تعلیم حاصل کی دو سال تک طبیعت قدرے سالم رہی پھر وہی مجذوبانہ کفییت رہی جو ۲۲ سال کی عمر تک رہی حکماء اور اطباء آپ کے مرض کی صحیح تشخیص نہ کر سکے ـ
پھر آپ کے والد محترم سیدہ ‘‘ اوٹے شریف ’’ والی کی خدمت میں لے گئے، کیوں کہ سیدہ خاتون اپنے وقت کی ولیہ کاملہ تھیں، جب سیدہ نے آپ کو دیکھا تو فرمایا کہ ‘‘ اے زین العابدین کیا حال ہیں؟ ’’آپ نے اس کا جواب سندھی شعر میں دیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ‘‘ اے امی اگر روتا ہوں تو لوگ اسے کھیل سمجھتے ہیں اگر ہنستا ہوں تو دل جلتا ہے میری آنکھوں کو تو اس وقت آرام ملے جب وہ اپنے محبوب کو دیکھیں گے ’’ ـ
حضرت سیدہ خاتون نے بھی اس شعر کا جواب سندھی شعر میں ہی دیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ‘‘دکھی اور پہاڑ نے جو آپس میں باتیں کی ہیں اچھا ہوا کہ کسی نے یہ باتیں سنی نہیں ورنہ دنیا مصیبت میں گرفتار ہو جاتی ’’ ـ
اس کے بعد آپ حضرت زین العابدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے والد سے فرمانے لگیں کہ ان کو عشق الہٰی کی بیماری ہے میرے پاس چھوڑ جائیے ان شاء اللہ صحیح ہو جائےگا ـ
حضرت زین العابدین حضرت سیدہ خاتون کے ہاتھ پر بیعت ہوئے اور خاتون نے آپ کو سلسلۂ قادریہ میں داخل فرمایا کہ خلافت سے نوازا ۔
بعد میں آپ کی طبیعت بِالکل صحیح ہو گئی ۔ آپ کی شادی کے وقت ولی کامل حضرت سید میاں عبد الرسول رفاعی کے چھوٹے صاحبزادہ میاں گدا محی الدین کی صاحبزادی سے ہوئی ۔
حضرت سید زین العابدین جیلانی قادری علیہ الرحمۃ اپنی مرشدہ کے انتقال کے بعد بغداد شریف تشریف لے گئے اور حضرت سید محمد سالم الجیلانی قدس سرہ سے دوبارہ بیعت ہو گئے حضرت نے آپ کو خلعت خلافت سے نوازا ۔ حضرت محمد سالم علیہ الرحمۃ کے وصال فرمانے کے بعد پھر آپ مدینہ منورہ کے مشہور بزرگ حضرت سید احمد بن مختار تارک سلطنت المغرب کے ہاتھ پر سلسلۂ قادریہ میں بیعت ہوئے حضرت موصوف نے بھی اپنی کرم نوازیوں سے آپ کو نوازا اور خرقہ خلافت عطا فرمایا ۔
حضرت سید زین العابدین شاہ جیلانی علیہ الرحمہ جہاں آپ شریعت و طریقت کے میدان کے شہسوار تھے وہاں آپ ایک بہت بڑے عاشق رسول اور عدیم النظیر شاعر بھی تھے آخری عمر میں تو یہ حالت تھی کہ کلام گفتگو، تقریر مقفی اور مسجع پر مشتمل ہوا کرتی تھی، آپ نے تقریباً چودہ زبانوں میں شعر پر طبع آزمائی فرمائی ۔
مشرک زبانوں پر مشتمل ایک شعر درج ذیل ہے۔
سندھی
دم دم وانھیان در تنھنجی تی پلھو پائی پالٹھار
سرائیکی
مولی مینوں جلد ملا دیں سائیں مدینہ دی سرکار
انگریزی
نیوز ڈؤنٹ گو یئز
پشتو
استرگادں تہ اؤگر
بلوچی
گندگاں شمشم نیز نظر۔ ھگ شون ایں اسرار
عربی
اھدنا الصراط المستقیم
فارسی
مارا بدہ راہ کریم
اردو
بخش کرو جنت نعیم
سرائیکی
ترت ملاویں تھدں یار
فارسی اردو
دستگیر دس مرا ضعیف زنیل کا ذرا: من چہ گویم دلبرا
پنجابی سندھی
آوے پنڈ پھٹ کل اختیار
اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلا شبہ شرح صدر عطا فرمایا تھا جب آپ گفتگو فرماتے کسی بڑے سے بڑے عالم، دانشور، وکیل اور مدبر کو مجال دم زدن نہیں ہوتی تھی ۔ آپ کے برادرِ اکبر حضرت سید علامہ و مولانا محمد بخش شاہ آپ کو بھٹائی ثانی کہا کرتے تھے ۔
❤1
آپ کی محفل میں ہر وقت مولود خوانی اور نعت خوانی ہوا کرتی تھی ۔ ہر وقت حضور اکرم ﷺ کے عشق و محبت میں ڈوبے ہوا کرتے تھے جب بھی حضور ﷺ کا نام نامی اسم گرامی سنتے تو آنکھوں سے آنسوؤں کا سیل رواں جاری ہو جاتا تھا ۔
آپ کے کلام کے مجموعہ تقریباً ہزار گیارہ سو کے قریب ہیں جن میں چند زیور طباعت سے آراستہ ہوئے ہیں اور اباقی غیر مطبوعہ ہیں ۔
مطبوعات میں سے:
۱: قصہ حضرت یوسف علیہ السلام و زلیخا ۔ سندھی ۔
۲: شہادت کربلا ۔ سندھی
۳: مداحون شریف ۔ سندھی
۴: شان مجاہد سفر ناموں ۔ سندھی
۵: بیاض جیلانی ۔ سندھی
۶: خطبات جمعہ و عیدین سندھی قابل ذکر ہیں ۔
حضرت کی عقیدت وارادت کا حلقہ بہت وسیع ہے ملک اور ملک سے باہر آپ کے مریدین و متولین موجود ہیں ۔ آپ نے ۸ حج ادا فرمائے اور ایک حج خشکی کے ذریعہ عراق و بغداد کربلا اور شاہ نجف اشرف ہوتے ہوئے مدینہ شریف گئے ۔
آپ ہر سال ۱۲ ربیع الاول کو عید میلاد النبی ﷺ کا خاص شاندار اہتمام فرماتے تھے جس میں علماء کرام حضور ﷺ کا میلاد شریف بیان کرتے تھے اور ہر ماہ گیارہویں کابھی اہتمام فرماتے تھے جس کو اب تک آپ کے جانشین بڑے فرزند حضرت حافظ محمد عارف شاہ جیلانی اور چھوٹے پیر حضرت غلام جیلانی شاہ جیلانی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
وصال:
اتنی بے شمار خوبیوں کا حامل اللہ کا ولی، عاشق رسول ﷺ میدان فصاحت و بلاغت اور سخن کے شہسوار ۱۲ محرم الحرام ۱۳۹۳ھ / ۱۹۷۳ء ۶۳ سال کی عمر میں واصل بحق ہو گئے ۔
مزار شریف:
آپ کا مزار پر انوار نورائی پھلیلی نہر کے کنار ے ضلع حیدر آباد میں زیارت گاہ خلائق ہے ۔ ہر سال آپ کا یوم وصال ۲۱ محرم کو بڑے شان و شوکت سے منایا جاتا ہے ۔
( تذکرہ اولیاءِ سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-zain-ul-abideen-qadri-jilani
آپ کے کلام کے مجموعہ تقریباً ہزار گیارہ سو کے قریب ہیں جن میں چند زیور طباعت سے آراستہ ہوئے ہیں اور اباقی غیر مطبوعہ ہیں ۔
مطبوعات میں سے:
۱: قصہ حضرت یوسف علیہ السلام و زلیخا ۔ سندھی ۔
۲: شہادت کربلا ۔ سندھی
۳: مداحون شریف ۔ سندھی
۴: شان مجاہد سفر ناموں ۔ سندھی
۵: بیاض جیلانی ۔ سندھی
۶: خطبات جمعہ و عیدین سندھی قابل ذکر ہیں ۔
حضرت کی عقیدت وارادت کا حلقہ بہت وسیع ہے ملک اور ملک سے باہر آپ کے مریدین و متولین موجود ہیں ۔ آپ نے ۸ حج ادا فرمائے اور ایک حج خشکی کے ذریعہ عراق و بغداد کربلا اور شاہ نجف اشرف ہوتے ہوئے مدینہ شریف گئے ۔
آپ ہر سال ۱۲ ربیع الاول کو عید میلاد النبی ﷺ کا خاص شاندار اہتمام فرماتے تھے جس میں علماء کرام حضور ﷺ کا میلاد شریف بیان کرتے تھے اور ہر ماہ گیارہویں کابھی اہتمام فرماتے تھے جس کو اب تک آپ کے جانشین بڑے فرزند حضرت حافظ محمد عارف شاہ جیلانی اور چھوٹے پیر حضرت غلام جیلانی شاہ جیلانی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
وصال:
اتنی بے شمار خوبیوں کا حامل اللہ کا ولی، عاشق رسول ﷺ میدان فصاحت و بلاغت اور سخن کے شہسوار ۱۲ محرم الحرام ۱۳۹۳ھ / ۱۹۷۳ء ۶۳ سال کی عمر میں واصل بحق ہو گئے ۔
مزار شریف:
آپ کا مزار پر انوار نورائی پھلیلی نہر کے کنار ے ضلع حیدر آباد میں زیارت گاہ خلائق ہے ۔ ہر سال آپ کا یوم وصال ۲۱ محرم کو بڑے شان و شوکت سے منایا جاتا ہے ۔
( تذکرہ اولیاءِ سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-zain-ul-abideen-qadri-jilani
scholars.pk
Hazrat Zain ul Abideen Syed Qadri Jilani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت مولانا احمد یار مہر قادری رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسم گرامی: مولانا احمد یار مہر۔لقب: استاذالعلماء۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: حضرت علامہ مولانا احمد یار مہر قادری بن مولانا عبدالغفار علیہما الرحمہ۔آپ کےوالد گرامی حضرت مولانا عبدالغفار مہر اپنےوقت کےجید عالم ِ دین تھے، استاد الاساتذہ حضرت علامہ خلیفہ محمد یعقوب ہمایونی علیہ الرحمۃ کے شاگرد ارشد تھے۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ:66)
مقامِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت درگاہ شریف آف خان گڑھ تحصیل گھوٹکی سندھ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم: خان گڑھ میں والد ماجد کی درسگاہ میں انہی کی نگرانی میں دینی تعلیم و تربیت حاصل کی۔
بیعت وخلافت:مولانا احمد یار پینتیس سال کی عمر میں جنید وقت حضرت حافظ محمد صدیق علیہ الرحمۃ بانی درگاہ بھر چونڈی شریف کے دست اقدس پر سلسلہ قادریہ راشدیہ میں بیعت ہوئے۔مرشدِ کریم سے بے پناہ محبت کے سبب مختصر سی مدت میں منازل طے کی۔ بیس سال کی عمر میں والد گرامی مولانا عبدالغفار انتقال کر گئے تھے۔ والدگرامی قدر کے انتقال کے بعد آپ سجادہ نشین مقرر ہوئے بے شمار نفوس آپ سے مرید ہوکرفیض یاب ہوئے۔
سیرت وخصائص: عالم وعارف،جامع علوم نقلیہ وعقلیہ،خادم احادیثِ نبویہ،عامل سنت مصطفویہ حضرت علامہ مولانا احمد یار مہرقادری۔آپ علیہ الرحمہ اپنےوقت کےجید عالم دین اور صوفیِ باصفا تھے۔مسلک حق اہل سنت وجماعت کی ترویج واشاعت میں خوب کام کیا۔آپ کےوالد گرامی مولانا عبدالغفارمہرایک جید عالم اور صاحبِ ذوق صوفی تھے۔ان کےپاکیزہ مشن کی ترقی وتکمیل کےلئے مولانا نےاہم کردار اداکیا۔یہی وجہ ہے کہ عارف کامل حضرت مولانا احمد یار قادری نے مشکوٰۃ شریف کا سندھی ترجمہ اور حاشیہ ’’مراۃ التشریح‘‘ 7 جلدوں میں اپنے احباب علماء سے تیار کروایا۔ یہ سندھی شرح500 کی تعداد میں عباسی پریس (عباسی کتب خانہ جونا مارکیٹ کراچی ) سے مولانا شیر محمد گلال نے 5/ ذوالقعدہ 1351ھ کو شائع کیا ۔ اس پر مولانا احمد یار نے خود حاشیہ تحریر کیا تھا۔
مولانااحمدیارمہرنےہندو پاک کےنامور اکابرین اور بزرگان دین کےمزارات مقدس کی حاضری کےلئےاسفار کیے۔اسی طرح اکابرین کےایام بھی بڑےاحتشام کےساتھ مناتےتھے۔آپ سندھی زبان کے بلند پایہ شاعر تھے۔آپ کا کلام رسائل کی صورت میں شائع ہوا ہے۔آپ کا کلام سہ حرفیاں،مناجات،مدح،مولود،نعت،غزل،منقبت اور کافیوں پر مشتمل ہے۔ ادبی اور فنی لحاظ سے آپ کے کلام کا درجہ بلند ہے۔ بعض غزلیات میں فارسی اور سندھی مصرعوں کا حسین امتزاج پیش کیا ہے۔
تاریخِ وصال: مولانا احمد یار نے 23/ شوال المکرم 1353ھ بمطابق 1943ء کو درگاہ شریف خان گڑھ (گھوٹکی) میں 63 سال کی عمر میں انتقال کیا۔ وہیں مزار شریف مرجع خلائق ہے۔ سالانہ عرس مبارک ہوتا ہے ۔
ماخذومراجع: انوار علمائےاہل سنت سندھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-ahmad-yar-qadri
نام ونسب: اسم گرامی: مولانا احمد یار مہر۔لقب: استاذالعلماء۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: حضرت علامہ مولانا احمد یار مہر قادری بن مولانا عبدالغفار علیہما الرحمہ۔آپ کےوالد گرامی حضرت مولانا عبدالغفار مہر اپنےوقت کےجید عالم ِ دین تھے، استاد الاساتذہ حضرت علامہ خلیفہ محمد یعقوب ہمایونی علیہ الرحمۃ کے شاگرد ارشد تھے۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ:66)
مقامِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت درگاہ شریف آف خان گڑھ تحصیل گھوٹکی سندھ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم: خان گڑھ میں والد ماجد کی درسگاہ میں انہی کی نگرانی میں دینی تعلیم و تربیت حاصل کی۔
بیعت وخلافت:مولانا احمد یار پینتیس سال کی عمر میں جنید وقت حضرت حافظ محمد صدیق علیہ الرحمۃ بانی درگاہ بھر چونڈی شریف کے دست اقدس پر سلسلہ قادریہ راشدیہ میں بیعت ہوئے۔مرشدِ کریم سے بے پناہ محبت کے سبب مختصر سی مدت میں منازل طے کی۔ بیس سال کی عمر میں والد گرامی مولانا عبدالغفار انتقال کر گئے تھے۔ والدگرامی قدر کے انتقال کے بعد آپ سجادہ نشین مقرر ہوئے بے شمار نفوس آپ سے مرید ہوکرفیض یاب ہوئے۔
سیرت وخصائص: عالم وعارف،جامع علوم نقلیہ وعقلیہ،خادم احادیثِ نبویہ،عامل سنت مصطفویہ حضرت علامہ مولانا احمد یار مہرقادری۔آپ علیہ الرحمہ اپنےوقت کےجید عالم دین اور صوفیِ باصفا تھے۔مسلک حق اہل سنت وجماعت کی ترویج واشاعت میں خوب کام کیا۔آپ کےوالد گرامی مولانا عبدالغفارمہرایک جید عالم اور صاحبِ ذوق صوفی تھے۔ان کےپاکیزہ مشن کی ترقی وتکمیل کےلئے مولانا نےاہم کردار اداکیا۔یہی وجہ ہے کہ عارف کامل حضرت مولانا احمد یار قادری نے مشکوٰۃ شریف کا سندھی ترجمہ اور حاشیہ ’’مراۃ التشریح‘‘ 7 جلدوں میں اپنے احباب علماء سے تیار کروایا۔ یہ سندھی شرح500 کی تعداد میں عباسی پریس (عباسی کتب خانہ جونا مارکیٹ کراچی ) سے مولانا شیر محمد گلال نے 5/ ذوالقعدہ 1351ھ کو شائع کیا ۔ اس پر مولانا احمد یار نے خود حاشیہ تحریر کیا تھا۔
مولانااحمدیارمہرنےہندو پاک کےنامور اکابرین اور بزرگان دین کےمزارات مقدس کی حاضری کےلئےاسفار کیے۔اسی طرح اکابرین کےایام بھی بڑےاحتشام کےساتھ مناتےتھے۔آپ سندھی زبان کے بلند پایہ شاعر تھے۔آپ کا کلام رسائل کی صورت میں شائع ہوا ہے۔آپ کا کلام سہ حرفیاں،مناجات،مدح،مولود،نعت،غزل،منقبت اور کافیوں پر مشتمل ہے۔ ادبی اور فنی لحاظ سے آپ کے کلام کا درجہ بلند ہے۔ بعض غزلیات میں فارسی اور سندھی مصرعوں کا حسین امتزاج پیش کیا ہے۔
تاریخِ وصال: مولانا احمد یار نے 23/ شوال المکرم 1353ھ بمطابق 1943ء کو درگاہ شریف خان گڑھ (گھوٹکی) میں 63 سال کی عمر میں انتقال کیا۔ وہیں مزار شریف مرجع خلائق ہے۔ سالانہ عرس مبارک ہوتا ہے ۔
ماخذومراجع: انوار علمائےاہل سنت سندھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-ahmad-yar-qadri
scholars.pk
Hazrat Allama Molana Ahmad Yar Qadri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا شیخ عبدالرحمن نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسم گرامی: مولانا شیخ عبدالرحمن نقشبندی مجددی سکھروی۔لقب:فاضلِ کامل،عارفِ واصل۔جامع شریعت وطریقت۔والد کااسم گرامی: مولانا کمال الدین۔آبائی وطن بلوچستان تھا۔آپ کےوالد گرامی بلوچستان سےسکھر آئےاور پھر یہیں پہ مستقل سکونت اختیار کرلی۔اس وقت سکھر شہرنیاآباد ہورہاتھا۔(انوار علمائے اہل سنت سندھ:459/سندھ کےصوفیائے نقشبندحصہ دوم:543)
مقامِ ولادت:آپ کی ولادت باسعادت بلوچستان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم مولانا کمال الدین سے حاصل کی ۔ اس کے بعد سندھ کے نامور فقیہ،ممتاز عالم دین ،شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا محمد یعقوب ہمایونی قد س سرہ کی مرکزی درسگاہ ہمایوں شریف میں ظاہری و باطنی تعلیم حاصل کر کے فارغ التحصیل ہوئے ۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ:459)
بیعت و خلافت : حضرت علامہ عبدالرحمن سلسلہ عالیہ نقشبند یہ مجددیہ میں غوث الزماں،قطب الدوراں،حضرت خواجہ عبدالقیوم جان مجددی قندھاری قدس سرہ العزیز کے دستِ بیعت ہوئے ۔ اس کے بعد خلافت سے نوازے گئے ۔
سیرت وخصائص: فاضلِ اجل،عالم اکمل،عارفِ اکبر،ماہر علوم عقلیہ ونقلیہ،جامع شریعت وطریقت،واصل بااللہ،عاشق رسول اللہﷺ،حامیِ سنت،ماحیِ کفر وشرک وبدعت،قاطعِ نجدیت ودیوبندیت ووہابیت،حامل لوائے شریعت،حضرت علامہ مولانا شیخ عبدالرحمن نقشبندی مجددی سکھروی ۔آپان شخصیات میں سےہیں جنہوں نےدینِ اسلام کی اشاعت وترویج میں ہرطریقے سےخدمت فرمائی ہے۔سرزمینِ سکھرآپ کی برکت سےمرجع العلم والعلماء بن گئی تھی۔جہاں دوردراز علاقوں سےمتلاشیانِ علم حاضر ہوکراپنی علمی پیاس بجھاتےتھے۔اسی طرح اہل باطن اپناباطن سنوار کرمیخانہ ٔوحدت کےجام لٹاتےتھے۔
درس و تدریس:مولانا عبدالرحمن نےسکھر میں دینی درسگاہ قائم کی،جہاں آپ درس دیاکرتےتھے۔افغانستان،ہندوستان،حجاز مقدس،عراق،شام اور بمبئی وغیرہ دور دراز علاقوں و ممالک سے طلباء سکھر آکر علوم و فیوض اخذ کرتے تھے۔(تذکرۃ الصلحاء:25) ایک روایت کے مطابق آپ جس مسجد شریف میں درس دیا کرتے تھے وہ آج سکھر کی کپڑا مارکیٹ میں مدینہ مسجد کے نام سے موسوم ہے ۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ:459)مولانا عبدالرحمن کے پوتے مولانا غلام محمد کا بیان ہے: روہڑی شریف کے نامور بزرگ و شاعر فقیر قادر بخش بیدلؔ ، مولانا عبدالرحمن کے شاگرد تھے ۔ ایک روز بیدل فقیر شرح جامی کا درس لے رہے تھے کہ اچانک دوران درس ’’عشق ‘‘ کا لفظ آیا ۔ فقیر بیدل رک گئے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور استاد محترم سے عرض کی :حضرت! ’’عشق ‘‘ کا لفظ زمین وآسمان سے بڑا نظر آرہا ہے، میرے لئے یہی کافی ہے اب مجھ سے آگے نہیں پڑھا جاتا۔(تذکرہ مشاہیر سندھ:210)
نوٹ:عزت مآب، محقق، علامہ مولانا صاحبزادہ سید محمد زین العابدین راشدی مدظلہ العالی نے’’انوار علمائےاہل سنت سندھ‘‘میں تحریر فرمایا ہے: کہ حضرت مولانا عبدالرحمن کے ہاتھ پر ایک شخص مسلمان ہوا جس کا نام’’غلام حسین‘‘ رکھا گیا ۔ غلام حسین نے مولانا صاحب کے پاس دینی علوم میں تحصیل کی ۔ مولانا غلام حسین نے فارغ التحصیل ہونے کے بعد حضرت شاہ فیض جمالی فیض آباد احمد انی تحصیل ڈیرہ غازی خان ( پنجاب ) میں مدرسہ قائم کیا ۔ اس مدرسہ سے سندھ کے نامور عالم و مدرس مولانا سید محسن علی شاہ ( میاں جو گوٹھ ) نے استفادہ کیا۔
حقیقت یہ ہےاس کےنام کےکسی بھی شخص نےڈیرہ غازی خان میں مدرسہ قائم نہیں کیا۔دراصل یہاں پہ تسامح ہواہے۔ جس شخص نےآپ کےہاتھ پہ اسلام قبول کیااورعلم وعرفاں کی دولت سےمالا ہوکرجویہاں سےاس علاقے کی طرف گئےتھےان کانام ہے’’مولانا خواجہ محمد نورالدین،والدِ گرامی عارف باللہ حضرت خواجہ فیض محمد شاہجمالی‘‘(خلیفہ حضرت خواجہ شاہ اللہ بخش تونسوی)انہوں نےیہاں پرایک درس قائم کیاتھاجہاں سےایک جہاں فیض یاب ہوا۔(تذکرہ خانوادہ شاہ جمالی:2)
عادات وخصائل : آپ شریعت و طریقت کے پابند،بڑے مہمان نواز،کتنے ہی کیوں نہ مہمان مسافر آجائیں سب آپ کے دستر خوان سے مستفیض ہو کے جاتے تھے ۔ شروع میں آپ نے درس و تدریس کا سلسلہ بھی رکھا لیکن بعد میں آپ ہمہ تن سب کچھ چھوڑ کر مخلوق خدا کی رشد و ہدایت اور ان کی رہبری و رہنمائی میں مصروف ہوگئے چنانچہ آپ کی تبلیغ و ارشاد سے بہت سے کفار دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے اور آپ کے دست حق پرست پر مسلمان ہو کر دارین کی فوز و فلاح سے ہم کنار ہو گئے ۔ حتیٰ کہ اس سلسلہ میں آپ پر مقدمے بھی قائم کئے گئے لیکن آپ کے پایہ استقلال میں ذرہ برابر لغزش نہ آئی اور آپ سب کچھ سہتے ہوئے اعلا ء کلمۃ الحق اور تبلیغ دین مبین میں مصروف رہے اور مسلسل کافروں کو مسلمان کرتے رہے ۔ ( صوفیائے نقشبندحصہ دوم:543)آپ کے چہرہ مبارکہ میں قدرت نے وہ کشش و نورانیت رکھی تھی کہ کافر دیکھ کر بے خود ہو کر کلمہ شریف پڑھ کر مسلمان ہو جاتے تھے اس لئے انگریز گورنمنٹ نے آپ پر پابندی لگائی کہ آپ ہندو آبادی میں نہیں ج
نام ونسب:
اسم گرامی: مولانا شیخ عبدالرحمن نقشبندی مجددی سکھروی۔لقب:فاضلِ کامل،عارفِ واصل۔جامع شریعت وطریقت۔والد کااسم گرامی: مولانا کمال الدین۔آبائی وطن بلوچستان تھا۔آپ کےوالد گرامی بلوچستان سےسکھر آئےاور پھر یہیں پہ مستقل سکونت اختیار کرلی۔اس وقت سکھر شہرنیاآباد ہورہاتھا۔(انوار علمائے اہل سنت سندھ:459/سندھ کےصوفیائے نقشبندحصہ دوم:543)
مقامِ ولادت:آپ کی ولادت باسعادت بلوچستان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم مولانا کمال الدین سے حاصل کی ۔ اس کے بعد سندھ کے نامور فقیہ،ممتاز عالم دین ،شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا محمد یعقوب ہمایونی قد س سرہ کی مرکزی درسگاہ ہمایوں شریف میں ظاہری و باطنی تعلیم حاصل کر کے فارغ التحصیل ہوئے ۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ:459)
بیعت و خلافت : حضرت علامہ عبدالرحمن سلسلہ عالیہ نقشبند یہ مجددیہ میں غوث الزماں،قطب الدوراں،حضرت خواجہ عبدالقیوم جان مجددی قندھاری قدس سرہ العزیز کے دستِ بیعت ہوئے ۔ اس کے بعد خلافت سے نوازے گئے ۔
سیرت وخصائص: فاضلِ اجل،عالم اکمل،عارفِ اکبر،ماہر علوم عقلیہ ونقلیہ،جامع شریعت وطریقت،واصل بااللہ،عاشق رسول اللہﷺ،حامیِ سنت،ماحیِ کفر وشرک وبدعت،قاطعِ نجدیت ودیوبندیت ووہابیت،حامل لوائے شریعت،حضرت علامہ مولانا شیخ عبدالرحمن نقشبندی مجددی سکھروی ۔آپان شخصیات میں سےہیں جنہوں نےدینِ اسلام کی اشاعت وترویج میں ہرطریقے سےخدمت فرمائی ہے۔سرزمینِ سکھرآپ کی برکت سےمرجع العلم والعلماء بن گئی تھی۔جہاں دوردراز علاقوں سےمتلاشیانِ علم حاضر ہوکراپنی علمی پیاس بجھاتےتھے۔اسی طرح اہل باطن اپناباطن سنوار کرمیخانہ ٔوحدت کےجام لٹاتےتھے۔
درس و تدریس:مولانا عبدالرحمن نےسکھر میں دینی درسگاہ قائم کی،جہاں آپ درس دیاکرتےتھے۔افغانستان،ہندوستان،حجاز مقدس،عراق،شام اور بمبئی وغیرہ دور دراز علاقوں و ممالک سے طلباء سکھر آکر علوم و فیوض اخذ کرتے تھے۔(تذکرۃ الصلحاء:25) ایک روایت کے مطابق آپ جس مسجد شریف میں درس دیا کرتے تھے وہ آج سکھر کی کپڑا مارکیٹ میں مدینہ مسجد کے نام سے موسوم ہے ۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ:459)مولانا عبدالرحمن کے پوتے مولانا غلام محمد کا بیان ہے: روہڑی شریف کے نامور بزرگ و شاعر فقیر قادر بخش بیدلؔ ، مولانا عبدالرحمن کے شاگرد تھے ۔ ایک روز بیدل فقیر شرح جامی کا درس لے رہے تھے کہ اچانک دوران درس ’’عشق ‘‘ کا لفظ آیا ۔ فقیر بیدل رک گئے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور استاد محترم سے عرض کی :حضرت! ’’عشق ‘‘ کا لفظ زمین وآسمان سے بڑا نظر آرہا ہے، میرے لئے یہی کافی ہے اب مجھ سے آگے نہیں پڑھا جاتا۔(تذکرہ مشاہیر سندھ:210)
نوٹ:عزت مآب، محقق، علامہ مولانا صاحبزادہ سید محمد زین العابدین راشدی مدظلہ العالی نے’’انوار علمائےاہل سنت سندھ‘‘میں تحریر فرمایا ہے: کہ حضرت مولانا عبدالرحمن کے ہاتھ پر ایک شخص مسلمان ہوا جس کا نام’’غلام حسین‘‘ رکھا گیا ۔ غلام حسین نے مولانا صاحب کے پاس دینی علوم میں تحصیل کی ۔ مولانا غلام حسین نے فارغ التحصیل ہونے کے بعد حضرت شاہ فیض جمالی فیض آباد احمد انی تحصیل ڈیرہ غازی خان ( پنجاب ) میں مدرسہ قائم کیا ۔ اس مدرسہ سے سندھ کے نامور عالم و مدرس مولانا سید محسن علی شاہ ( میاں جو گوٹھ ) نے استفادہ کیا۔
حقیقت یہ ہےاس کےنام کےکسی بھی شخص نےڈیرہ غازی خان میں مدرسہ قائم نہیں کیا۔دراصل یہاں پہ تسامح ہواہے۔ جس شخص نےآپ کےہاتھ پہ اسلام قبول کیااورعلم وعرفاں کی دولت سےمالا ہوکرجویہاں سےاس علاقے کی طرف گئےتھےان کانام ہے’’مولانا خواجہ محمد نورالدین،والدِ گرامی عارف باللہ حضرت خواجہ فیض محمد شاہجمالی‘‘(خلیفہ حضرت خواجہ شاہ اللہ بخش تونسوی)انہوں نےیہاں پرایک درس قائم کیاتھاجہاں سےایک جہاں فیض یاب ہوا۔(تذکرہ خانوادہ شاہ جمالی:2)
عادات وخصائل : آپ شریعت و طریقت کے پابند،بڑے مہمان نواز،کتنے ہی کیوں نہ مہمان مسافر آجائیں سب آپ کے دستر خوان سے مستفیض ہو کے جاتے تھے ۔ شروع میں آپ نے درس و تدریس کا سلسلہ بھی رکھا لیکن بعد میں آپ ہمہ تن سب کچھ چھوڑ کر مخلوق خدا کی رشد و ہدایت اور ان کی رہبری و رہنمائی میں مصروف ہوگئے چنانچہ آپ کی تبلیغ و ارشاد سے بہت سے کفار دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے اور آپ کے دست حق پرست پر مسلمان ہو کر دارین کی فوز و فلاح سے ہم کنار ہو گئے ۔ حتیٰ کہ اس سلسلہ میں آپ پر مقدمے بھی قائم کئے گئے لیکن آپ کے پایہ استقلال میں ذرہ برابر لغزش نہ آئی اور آپ سب کچھ سہتے ہوئے اعلا ء کلمۃ الحق اور تبلیغ دین مبین میں مصروف رہے اور مسلسل کافروں کو مسلمان کرتے رہے ۔ ( صوفیائے نقشبندحصہ دوم:543)آپ کے چہرہ مبارکہ میں قدرت نے وہ کشش و نورانیت رکھی تھی کہ کافر دیکھ کر بے خود ہو کر کلمہ شریف پڑھ کر مسلمان ہو جاتے تھے اس لئے انگریز گورنمنٹ نے آپ پر پابندی لگائی کہ آپ ہندو آبادی میں نہیں ج
❤1
ائیں گے ۔
تلبیس ذریتِ ابلیس:روافض کی طرح خوارج(وہابیہ ودیابنہ)بھی اہل سنت کےنامور علماء ومشائخ کواپنےکھاتےمیں ڈالنےکی سعی لاحاصل میں مصروف ہیں۔تاکہ ان سےاپناتعلق ظاہرکرکےسادہ لوح عوام کےایمان پر آسانی سےڈاکہ ڈالا جاسکے۔کیونکہ پاک وہند کی عوام کی اکثریت اولیاء وصلحاء کوماننےوالی ہے،اس لئےانہوں نےبھی اب پیری مریدی کی دوکانیں سجالیں ہیں۔حالانکہ ان کاپیرتو’’شیخ ِنجد‘‘ہے۔مولانا شیخ عبدالرحمن نقشبندی مجددی سکھرویکاتعلق اہل حق اہل سنت وجماعت سےتھا۔جوپیرہوگا وہ سنی ہوگا،کبھی بےادب پیرنہیں ہوسکتا۔جتنےبھی اولیاء گزرےہیں سب کےسب سنی صحیح العقیدہ تھے۔آپ کےصحیح العقیدہ سنی ہونےکےچند دلائل:
1۔قاطعِ وہابیت ونجدیت،نبیرۂ حضرت مجددالفِ ثانی حضرت خواجہ محمد حسن جان سرہندیکااپنی کتاب’’تذکرۃ الصلحاء فی بیان الاتقیاء‘‘میں ان کاذکرکرنا،اور ان کی تعریف وتوصیف کرناان کی سنیت کی بہت بڑی دلیل ہے۔
2۔آپ حضرت علامہ مولانا محمد یعقوب ہمایونی کےشاگرد اورحضرت خواجہ عبدالقیوم جان مجددیکےمریدوخلیفہ تھے۔
3۔آپ کی ایک قلمی کتاب میں وظیفہ’’یاشیخ عبدالقادرجیلانی شیئا للہ‘‘لکھاہواتھا،اور دیابنہ کےنزدیک یہ شرک وحرام ہے۔(تذکرہ خانوادہ شاہجمالی:5)
4۔جامع المنقول والمعقول حضرت علامہ پیرمحمد اکرم شاہ جمالیفرماتےہیں:’’جب میں حضرت کےمزارپرحاضر ہواتھا،تومزار اقدس پرجوتختی نصب تھی جس پر کچھ ابیات درج تھے،اورکناروں پر۔۔۔یا اللہ،اور یامحمدتحریرتھا‘‘۔(ایضا:5)
5۔آپ کی اولاد الحمد للہ سنی ہے۔اسی طرح آپ میلاد شریف کرتےتھے۔سرکارِ دوعالم ﷺکےلئےعلمِ غیب اورآپﷺکونور من نوراللہ کاعقیدہ رکھتےتھے۔(ایضا:7)
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 23 شوال المکرم 1314ھ مطابق مارچ 1897ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار سکھر شہر کے وسط میں گھنٹہ گھر کے قریب قبرستان میں واقع ہے ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔ سندھ کے صوفیائے نقشبند ۔ تذکرہ مشاہیر سندھ ۔ تذکرۃ الصلحاء فی بیان الاتقیاء ۔ تذکرہ خانوادہ شاہ جمالی ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-abdul-rahman-sukkur-
تلبیس ذریتِ ابلیس:روافض کی طرح خوارج(وہابیہ ودیابنہ)بھی اہل سنت کےنامور علماء ومشائخ کواپنےکھاتےمیں ڈالنےکی سعی لاحاصل میں مصروف ہیں۔تاکہ ان سےاپناتعلق ظاہرکرکےسادہ لوح عوام کےایمان پر آسانی سےڈاکہ ڈالا جاسکے۔کیونکہ پاک وہند کی عوام کی اکثریت اولیاء وصلحاء کوماننےوالی ہے،اس لئےانہوں نےبھی اب پیری مریدی کی دوکانیں سجالیں ہیں۔حالانکہ ان کاپیرتو’’شیخ ِنجد‘‘ہے۔مولانا شیخ عبدالرحمن نقشبندی مجددی سکھرویکاتعلق اہل حق اہل سنت وجماعت سےتھا۔جوپیرہوگا وہ سنی ہوگا،کبھی بےادب پیرنہیں ہوسکتا۔جتنےبھی اولیاء گزرےہیں سب کےسب سنی صحیح العقیدہ تھے۔آپ کےصحیح العقیدہ سنی ہونےکےچند دلائل:
1۔قاطعِ وہابیت ونجدیت،نبیرۂ حضرت مجددالفِ ثانی حضرت خواجہ محمد حسن جان سرہندیکااپنی کتاب’’تذکرۃ الصلحاء فی بیان الاتقیاء‘‘میں ان کاذکرکرنا،اور ان کی تعریف وتوصیف کرناان کی سنیت کی بہت بڑی دلیل ہے۔
2۔آپ حضرت علامہ مولانا محمد یعقوب ہمایونی کےشاگرد اورحضرت خواجہ عبدالقیوم جان مجددیکےمریدوخلیفہ تھے۔
3۔آپ کی ایک قلمی کتاب میں وظیفہ’’یاشیخ عبدالقادرجیلانی شیئا للہ‘‘لکھاہواتھا،اور دیابنہ کےنزدیک یہ شرک وحرام ہے۔(تذکرہ خانوادہ شاہجمالی:5)
4۔جامع المنقول والمعقول حضرت علامہ پیرمحمد اکرم شاہ جمالیفرماتےہیں:’’جب میں حضرت کےمزارپرحاضر ہواتھا،تومزار اقدس پرجوتختی نصب تھی جس پر کچھ ابیات درج تھے،اورکناروں پر۔۔۔یا اللہ،اور یامحمدتحریرتھا‘‘۔(ایضا:5)
5۔آپ کی اولاد الحمد للہ سنی ہے۔اسی طرح آپ میلاد شریف کرتےتھے۔سرکارِ دوعالم ﷺکےلئےعلمِ غیب اورآپﷺکونور من نوراللہ کاعقیدہ رکھتےتھے۔(ایضا:7)
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 23 شوال المکرم 1314ھ مطابق مارچ 1897ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار سکھر شہر کے وسط میں گھنٹہ گھر کے قریب قبرستان میں واقع ہے ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔ سندھ کے صوفیائے نقشبند ۔ تذکرہ مشاہیر سندھ ۔ تذکرۃ الصلحاء فی بیان الاتقیاء ۔ تذکرہ خانوادہ شاہ جمالی ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-abdul-rahman-sukkur-
scholars.pk
Molana Abdul Rehman
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celaebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1👍1
شیخ سیدعلی بغدادی
نام ونسب: اسم گرامی: شیخ سید علی بغدادی۔لقب:زبدۃ الاصفیاء۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: شیخ سید علی بغدادی بن سید محی الدین ابو نصربن عمادالدین ابو صالح نصرعلیہم الرحمۃ والرضوان۔آپ کاخاندانی تعلق ساداتِ کرام کےعالی گھرانےسےہے۔والدگرامی سلسلہ عالیہ قادریہ کےامام اور شیخِ طریقت اورامام الوقت تھے۔
مقامِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت بغداد معلیٰ عراق میں ہوئی۔(تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ:271)
تحصیلِ علم: آپ کی تعلیم وتربیت اپنے والدِ گرامی کےزیر سایہ ہوئی۔دیگر مشائخِ وقت سے بھی مختلف علوم وفنون میں اوربالخصوص فقہ وحدیث میں بغداد کےماہرین ِ علم سےعلمی استفادہ کیا۔تحصیلِ علم کےبعد درس وتدریس میں مصروف ہوگئے۔کثیرمخلوقِ خدانےآپ سےاکتساب علم کیا۔(ایضا:271)
بیعت وخلافت: آپ اپنے والد گرامی سید محی الدین ابونصرکےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے،اور آپ کاشمار والد گرامی کےارشد خلفاء میں ہوتا تھا۔
سیرت وخصائص: شیخ المشائخ،قدوۃ الاولیاء،زبدۃ الاصفیاء،امام العرفاء،عاشق ِ محبوبِ خدا،واقفِ اسرارِ جلی وخفی،سیدناعلی ،آپ علیہ الرحمہ سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کےاکیسویں امام اور شیخِ طریقت ہیں۔آپ اکمل الکملاء،اور مرجع الاصفیاء،عجیب شان کےمالک تھے۔آپ تمام علومِ ظاہری وباطنی میں یکتائے روزگار تھے۔تمام معاملات ومقامات میں شانِ رفیرع کےمالک تھے۔عالی ہمت،مروت کےشہسوار،سخاوت وبخشش،جودوعطاء میں اپنی مثال آپ تھے۔تجرید وتفرید توحیدومشاہدہ میں فانیِ اورطریقت میں مجتہد کےمقام پر فائز تھے۔شریعت وطریقت کےجامع،اور عبادت وریاضت ،اور زہدوتقویٰ عالی ہمت اور باکمال تھے۔مریدین و متوسلین کی تربیت،اوران کےمسائل کےحل کواولین ترجیح دیتے تھے۔کوئی بھی سائل دروازےسے خالی نہیں جاتاتھا۔محتاجوں،غریبوں،مسکینوں،بیواؤں اورفقراء ویتامیٰ سےبےحد محبت اوران کی دل جوئی وغمگساری فرماتے تھے۔آپ کےخلفاء میں حضرت سید موسیٰ مرشدِ خلائق ہوئے۔
تاریخِ وصال: آپ کاوصال 23/شوال المکرم 739ھ مطابق مئی/1339ء کوہوا۔مزار پرانوار بغداد شریف میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ مراجع: تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ۔
شجرہ شریف میں اس طرح ذکر ہے:
طورِ عرفان وعلو وحمد وحسنیٰ وبہا۔۔۔۔۔۔۔ دے علیؔ موسیٰ حسن احمد بہا کےواسطے
شیخ الاسلام اعلیٰ حضرتفرماتے ہیں:
جان نصری یا محی الدین فانصر وانتصر
اے علی ؔ اے شہر یار مرتضی ٰ امداد کن
https://scholars.pk/ur/scholar/syedna-sheikh-ali-baghdadi
نام ونسب: اسم گرامی: شیخ سید علی بغدادی۔لقب:زبدۃ الاصفیاء۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: شیخ سید علی بغدادی بن سید محی الدین ابو نصربن عمادالدین ابو صالح نصرعلیہم الرحمۃ والرضوان۔آپ کاخاندانی تعلق ساداتِ کرام کےعالی گھرانےسےہے۔والدگرامی سلسلہ عالیہ قادریہ کےامام اور شیخِ طریقت اورامام الوقت تھے۔
مقامِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت بغداد معلیٰ عراق میں ہوئی۔(تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ:271)
تحصیلِ علم: آپ کی تعلیم وتربیت اپنے والدِ گرامی کےزیر سایہ ہوئی۔دیگر مشائخِ وقت سے بھی مختلف علوم وفنون میں اوربالخصوص فقہ وحدیث میں بغداد کےماہرین ِ علم سےعلمی استفادہ کیا۔تحصیلِ علم کےبعد درس وتدریس میں مصروف ہوگئے۔کثیرمخلوقِ خدانےآپ سےاکتساب علم کیا۔(ایضا:271)
بیعت وخلافت: آپ اپنے والد گرامی سید محی الدین ابونصرکےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے،اور آپ کاشمار والد گرامی کےارشد خلفاء میں ہوتا تھا۔
سیرت وخصائص: شیخ المشائخ،قدوۃ الاولیاء،زبدۃ الاصفیاء،امام العرفاء،عاشق ِ محبوبِ خدا،واقفِ اسرارِ جلی وخفی،سیدناعلی ،آپ علیہ الرحمہ سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کےاکیسویں امام اور شیخِ طریقت ہیں۔آپ اکمل الکملاء،اور مرجع الاصفیاء،عجیب شان کےمالک تھے۔آپ تمام علومِ ظاہری وباطنی میں یکتائے روزگار تھے۔تمام معاملات ومقامات میں شانِ رفیرع کےمالک تھے۔عالی ہمت،مروت کےشہسوار،سخاوت وبخشش،جودوعطاء میں اپنی مثال آپ تھے۔تجرید وتفرید توحیدومشاہدہ میں فانیِ اورطریقت میں مجتہد کےمقام پر فائز تھے۔شریعت وطریقت کےجامع،اور عبادت وریاضت ،اور زہدوتقویٰ عالی ہمت اور باکمال تھے۔مریدین و متوسلین کی تربیت،اوران کےمسائل کےحل کواولین ترجیح دیتے تھے۔کوئی بھی سائل دروازےسے خالی نہیں جاتاتھا۔محتاجوں،غریبوں،مسکینوں،بیواؤں اورفقراء ویتامیٰ سےبےحد محبت اوران کی دل جوئی وغمگساری فرماتے تھے۔آپ کےخلفاء میں حضرت سید موسیٰ مرشدِ خلائق ہوئے۔
تاریخِ وصال: آپ کاوصال 23/شوال المکرم 739ھ مطابق مئی/1339ء کوہوا۔مزار پرانوار بغداد شریف میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ مراجع: تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ۔
شجرہ شریف میں اس طرح ذکر ہے:
طورِ عرفان وعلو وحمد وحسنیٰ وبہا۔۔۔۔۔۔۔ دے علیؔ موسیٰ حسن احمد بہا کےواسطے
شیخ الاسلام اعلیٰ حضرتفرماتے ہیں:
جان نصری یا محی الدین فانصر وانتصر
اے علی ؔ اے شہر یار مرتضی ٰ امداد کن
https://scholars.pk/ur/scholar/syedna-sheikh-ali-baghdadi
scholars.pk
Syedna Sheikh Ali Baghdadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شمس العلماء علامہ عبد الحق خیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبد الحق ۔ لقب: شمس العلماء ۔ خیر البلاد " قصبہ خیر آباد " کی نسبت سے خیرآبادی کہلائے ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
علامہ عبد الحق خیر آبادی بن امام المناطقہ مجاہدِ جنگ آزادی علامہ فضلِ حق خیر آبادی بن علامہ فضلِ امام خیر آبادی (علیہم الرحمہ) ۔ (خیر آباد ضلع سیتا پور، ریاست اتر پردیش انڈیا میں واقع ہے، یہ قصبہ سیتا پور سے 6 کلو میٹر، اور لکھنؤ سے 75 کلو میٹر دہلی لکھنؤ ہائی پر واقع ہے۔)
تاریخِ ولادت:
آپ 1244ھ بمطابق ستمبر 1828ء کو دہلی میں پیدا ہوئے، حضرت مولانا سید شاہ مصباح الحسن پھپھوندی اپنے استاذ مولانا ہدایت اللہ خاں جون پوری کی روایت سے فرماتے تھے: کہ حضرت علامہ خیر آبادی نے آپ کے عقیقہ میں ساٹھ ہزار روپے خرچ کیے تھے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے تمام علوم عقلیہ ونقلیہ کی تحصیل و تکمیل اپنے والد ماجد سے کی ۔1258ھ میں سولہ برس کی عمر میں سندِ فراغت حاصل کی، مشاہیر علمائے دہلی، مفتی صدر الدین وغیرہ علیہم الرحمہ نے جلسۂ دستار بندی میں شرکت کی ۔ ایک مرتبہ مولانا اکرام اللہ شہابی نے آپ سے پوچھا کہ بھائی صاحب! دنیا میں " حکیم " کا اطلاق کن کن پر ہے؟ آپ نے فرمایا: ساڑھے تین حکیم (منطقی و فلسفی) دنیا میں ہیں ۔ اول ۔ رسطو ۔ دوم ۔ فارابی ۔ تیسرے ۔ والد ماجد اور نصف بندہ ۔ (باغیِ ہندوستان، ص:184)
بیعت و خلافت:
آپ امام العارفین حضرت خواجہ شاہ اللہ بخش تونسوی علیہ الرحمہ کے مرید تھے ۔
سیرت و خصائص:
امام المناطقہ، رئیس الفلاسفہ، جامع المنقولِ والمعقول، سلسلۂ خیر آبادیت کے مورثِ اعلیٰ شمس العلماء حضرت علامہ عبد الحق خیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ فنِ منطق و حکمت میں امام وقت اور فن نحو و لغت کے بڑے ماہر اور بہت ہی سنجیدہ اور باوقار، پوری سمجھ کے مالک اور اچھی تعبیر والے اور مسالک استدلال سے اچھے باخبر ، طبیعت میں لطافت، گفتگو کے بہتر ، نادر باتوں کو اس عمدگی سے بیان فرماتے کہ اس کی پوری تعریف کرنی ممکن ہی نہیں ہے ، اور ان کی مجلسیں ہی لوگوں کے ذہن ان کی عقلوں کے مطابق ہوتیں اور گفتگو اس انداز سے کرتے تھے کہ مشکل سے مشکل مسائل ذہن میں آسانی سے بِٹھا دیتے تھے ۔
کسی کو کسی موضوع میں آپ کی مخالفت کی ہمت نہ ہوتی ، اور آپ کے فرمان ماننے ہی پڑتے ۔ درس کی دھوم تھی، طلبہ اکناف عالم سے آپ کے دریائے علم سے اپنی پیاس بجھانے کے لیے پہنچتے تھے ۔ طلبہ پر بہت شفیق تھے، جو طالب علم ایک سبق پڑھ لیتا پھر آپ کا درس نہ چھوڑتا ۔
آپ اپنی ذات کے اعتبار سے بہت ہی خوبصورت ، اچھے چہرے والے، بہت با اخلاق، غرباء کے ہمدرد اور انگریزی وضع و معاشرت سے تَنفُّر خصوصی اوصاف تھے ۔
آپ نے بہت گذا طبیعت پائی تھی، صوفیاء کے حالات و واقعات بہت شوق سے سنتے اور پڑھتے تھے ۔ آپ کے سامنے جب بزرگان دین کے مجاہدات و ریاضات اور مصائب کے واقعات بیان کیے جاتے تو بے اختیار سیلاب اشک رواں ہو جاتا ۔
جذبۂ حریت آپ کو میراث میں ملا تھا ۔ اسلئے جذبۂ حریت آپ کی رگ رگ میں موجود تھا ۔ ساری زندگی انگریز اور انگریزی تہذیب سے سخت نفرت کرتے رہے ۔
علامہ عبد الحق خیر آبادی علیہ الرحمہ کی وصیت: آپ نے فرمایا: جب انگریز ہندوستان سے چلے جائیں تو میری قبر پر خبر کر دی جائے ۔ چنانچہ 15 اگست 1947ء کو مولوی سید نجم الحسن رضوی خیر آبادی نے مولانا عبد الحق کے مدفن درگاہ مخدومیہ خیر آباد ضلع سیتا پور پر ایک جمِ غفیر کے ساتھ حاضر ہو کر میلاد شریف کے بعد قبر پر فاتحہ خوانی کی اور اس طرح پورے پچاس سال کے بعد انگریزی سلطنت کے خاتمہ کی خبر سنا کر وصیت پوری کی ۔ (مقدمہ زبدۃ الحکمۃ، ص: 12)
وصال:
23 شوال المکرم 1316ھ، بمطابق 1899ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کی قبرِ انور خیر آباد میں مخدوم شیخ سعد کی درگاہ کے احاطے میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلِ سنت ۔ خیر آبادیت ۔ نزہۃ الخواطر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-abdul-haq-khairabadi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبد الحق ۔ لقب: شمس العلماء ۔ خیر البلاد " قصبہ خیر آباد " کی نسبت سے خیرآبادی کہلائے ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
علامہ عبد الحق خیر آبادی بن امام المناطقہ مجاہدِ جنگ آزادی علامہ فضلِ حق خیر آبادی بن علامہ فضلِ امام خیر آبادی (علیہم الرحمہ) ۔ (خیر آباد ضلع سیتا پور، ریاست اتر پردیش انڈیا میں واقع ہے، یہ قصبہ سیتا پور سے 6 کلو میٹر، اور لکھنؤ سے 75 کلو میٹر دہلی لکھنؤ ہائی پر واقع ہے۔)
تاریخِ ولادت:
آپ 1244ھ بمطابق ستمبر 1828ء کو دہلی میں پیدا ہوئے، حضرت مولانا سید شاہ مصباح الحسن پھپھوندی اپنے استاذ مولانا ہدایت اللہ خاں جون پوری کی روایت سے فرماتے تھے: کہ حضرت علامہ خیر آبادی نے آپ کے عقیقہ میں ساٹھ ہزار روپے خرچ کیے تھے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے تمام علوم عقلیہ ونقلیہ کی تحصیل و تکمیل اپنے والد ماجد سے کی ۔1258ھ میں سولہ برس کی عمر میں سندِ فراغت حاصل کی، مشاہیر علمائے دہلی، مفتی صدر الدین وغیرہ علیہم الرحمہ نے جلسۂ دستار بندی میں شرکت کی ۔ ایک مرتبہ مولانا اکرام اللہ شہابی نے آپ سے پوچھا کہ بھائی صاحب! دنیا میں " حکیم " کا اطلاق کن کن پر ہے؟ آپ نے فرمایا: ساڑھے تین حکیم (منطقی و فلسفی) دنیا میں ہیں ۔ اول ۔ رسطو ۔ دوم ۔ فارابی ۔ تیسرے ۔ والد ماجد اور نصف بندہ ۔ (باغیِ ہندوستان، ص:184)
بیعت و خلافت:
آپ امام العارفین حضرت خواجہ شاہ اللہ بخش تونسوی علیہ الرحمہ کے مرید تھے ۔
سیرت و خصائص:
امام المناطقہ، رئیس الفلاسفہ، جامع المنقولِ والمعقول، سلسلۂ خیر آبادیت کے مورثِ اعلیٰ شمس العلماء حضرت علامہ عبد الحق خیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ فنِ منطق و حکمت میں امام وقت اور فن نحو و لغت کے بڑے ماہر اور بہت ہی سنجیدہ اور باوقار، پوری سمجھ کے مالک اور اچھی تعبیر والے اور مسالک استدلال سے اچھے باخبر ، طبیعت میں لطافت، گفتگو کے بہتر ، نادر باتوں کو اس عمدگی سے بیان فرماتے کہ اس کی پوری تعریف کرنی ممکن ہی نہیں ہے ، اور ان کی مجلسیں ہی لوگوں کے ذہن ان کی عقلوں کے مطابق ہوتیں اور گفتگو اس انداز سے کرتے تھے کہ مشکل سے مشکل مسائل ذہن میں آسانی سے بِٹھا دیتے تھے ۔
کسی کو کسی موضوع میں آپ کی مخالفت کی ہمت نہ ہوتی ، اور آپ کے فرمان ماننے ہی پڑتے ۔ درس کی دھوم تھی، طلبہ اکناف عالم سے آپ کے دریائے علم سے اپنی پیاس بجھانے کے لیے پہنچتے تھے ۔ طلبہ پر بہت شفیق تھے، جو طالب علم ایک سبق پڑھ لیتا پھر آپ کا درس نہ چھوڑتا ۔
آپ اپنی ذات کے اعتبار سے بہت ہی خوبصورت ، اچھے چہرے والے، بہت با اخلاق، غرباء کے ہمدرد اور انگریزی وضع و معاشرت سے تَنفُّر خصوصی اوصاف تھے ۔
آپ نے بہت گذا طبیعت پائی تھی، صوفیاء کے حالات و واقعات بہت شوق سے سنتے اور پڑھتے تھے ۔ آپ کے سامنے جب بزرگان دین کے مجاہدات و ریاضات اور مصائب کے واقعات بیان کیے جاتے تو بے اختیار سیلاب اشک رواں ہو جاتا ۔
جذبۂ حریت آپ کو میراث میں ملا تھا ۔ اسلئے جذبۂ حریت آپ کی رگ رگ میں موجود تھا ۔ ساری زندگی انگریز اور انگریزی تہذیب سے سخت نفرت کرتے رہے ۔
علامہ عبد الحق خیر آبادی علیہ الرحمہ کی وصیت: آپ نے فرمایا: جب انگریز ہندوستان سے چلے جائیں تو میری قبر پر خبر کر دی جائے ۔ چنانچہ 15 اگست 1947ء کو مولوی سید نجم الحسن رضوی خیر آبادی نے مولانا عبد الحق کے مدفن درگاہ مخدومیہ خیر آباد ضلع سیتا پور پر ایک جمِ غفیر کے ساتھ حاضر ہو کر میلاد شریف کے بعد قبر پر فاتحہ خوانی کی اور اس طرح پورے پچاس سال کے بعد انگریزی سلطنت کے خاتمہ کی خبر سنا کر وصیت پوری کی ۔ (مقدمہ زبدۃ الحکمۃ، ص: 12)
وصال:
23 شوال المکرم 1316ھ، بمطابق 1899ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کی قبرِ انور خیر آباد میں مخدوم شیخ سعد کی درگاہ کے احاطے میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلِ سنت ۔ خیر آبادیت ۔ نزہۃ الخواطر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-abdul-haq-khairabadi
scholars.pk
Hazrat Allama Molana Abdul Haq khairabadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-10-1444 ᴴ | 13-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-10-1444 ᴴ | 14-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1