🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-10-1444 ᴴ | 13-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-10-1444 ᴴ | 13-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-10-1444 ᴴ | 13-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-10-1444 ᴴ | 13-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت سید زین العابدین قادری جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و لقب:
آپ کا اصل نام احمد بخش تھا لیکن مشہور زین العابدین کے نام سے ہوئے ہیں ۔
آپ حضور غوث اعظم کی اولاد امجاد سے ہیں ۔ آپ کے والد گرامی کا نام عبد القادر المعروف حاجی شاہ ہے ۔
ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت درگاہ نورائی شریف (حیدر آباد) سندھ ۱۳۳۲ھ ۲۳ شوال المکرم پیر کی شب میں ہوئی ہے ۔ آپ کی ولادت سے پہلے آپ کے والد کے پاس ایک فقیر آیا تھا اور یہ پیش گوئی فرمائی تھی کہ اے حاجی شاہ آپ کو ایک فرزند عطا ہوگا پیدا ہوتے ہی اس کے سامنے دو دانت ہوں گے اور اس کا نام زین العابدین رکھنا ۔ آپ کی ولادت ہوئی اس فقیر کی پیش گوئی کے مطابق دو سامنے والے دانت موجود تھے لیکن زین العابدین نام رکھنا آپ کے والد بھول گئے ۔
پھر وہ فقیر آیا اور دریافت کیا کہ آپ کو میری دعاء سے جو لڑکا ہوا ہے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ آپ کے والد نے فرمایا کہ نام تو ان کا ہم نے احمد بخش رکھا ہے لیکن انہیں زین العابدین کے نام سے ہی پکاریں گے ۔
چنانچہ آپ اسی نام سے مشہور ہو گئے ۔ حضرت سید زین العابدین جیلانی قادری اپنے وقت کے اہل دل عشاق ، صاحب شریعت و طریقت اور باکمال بزرگوں میں سے تھے ۔
بارہ سال کی عمر تک تو مجذوبانہ کیفیت رہی پھر اس میں کچھ افاقہ ہوا تو آپ ہی نے صرف سندھی کی پہلی تک، قرآن شریف اور فارسی گلستان تک تعلیم حاصل کی دو سال تک طبیعت قدرے سالم رہی پھر وہی مجذوبانہ کفییت رہی جو ۲۲ سال کی عمر تک رہی حکماء اور اطباء آپ کے مرض کی صحیح تشخیص نہ کر سکے ـ
پھر آپ کے والد محترم سیدہ ‘‘ اوٹے شریف ’’ والی کی خدمت میں لے گئے، کیوں کہ سیدہ خاتون اپنے وقت کی ولیہ کاملہ تھیں، جب سیدہ نے آپ کو دیکھا تو فرمایا کہ ‘‘ اے زین العابدین کیا حال ہیں؟ ’’آپ نے اس کا جواب سندھی شعر میں دیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ‘‘ اے امی اگر روتا ہوں تو لوگ اسے کھیل سمجھتے ہیں اگر ہنستا ہوں تو دل جلتا ہے میری آنکھوں کو تو اس وقت آرام ملے جب وہ اپنے محبوب کو دیکھیں گے ’’ ـ
حضرت سیدہ خاتون نے بھی اس شعر کا جواب سندھی شعر میں ہی دیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ‘‘دکھی اور پہاڑ نے جو آپس میں باتیں کی ہیں اچھا ہوا کہ کسی نے یہ باتیں سنی نہیں ورنہ دنیا مصیبت میں گرفتار ہو جاتی ’’ ـ
اس کے بعد آپ حضرت زین العابدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے والد سے فرمانے لگیں کہ ان کو عشق الہٰی کی بیماری ہے میرے پاس چھوڑ جائیے ان شاء اللہ صحیح ہو جائےگا ـ
حضرت زین العابدین حضرت سیدہ خاتون کے ہاتھ پر بیعت ہوئے اور خاتون نے آپ کو سلسلۂ قادریہ میں داخل فرمایا کہ خلافت سے نوازا ۔
بعد میں آپ کی طبیعت بِالکل صحیح ہو گئی ۔ آپ کی شادی کے وقت ولی کامل حضرت سید میاں عبد الرسول رفاعی کے چھوٹے صاحبزادہ میاں گدا محی الدین کی صاحبزادی سے ہوئی ۔
حضرت سید زین العابدین جیلانی قادری علیہ الرحمۃ اپنی مرشدہ کے انتقال کے بعد بغداد شریف تشریف لے گئے اور حضرت سید محمد سالم الجیلانی قدس سرہ سے دوبارہ بیعت ہو گئے حضرت نے آپ کو خلعت خلافت سے نوازا ۔ حضرت محمد سالم علیہ الرحمۃ کے وصال فرمانے کے بعد پھر آپ مدینہ منورہ کے مشہور بزرگ حضرت سید احمد بن مختار تارک سلطنت المغرب کے ہاتھ پر سلسلۂ قادریہ میں بیعت ہوئے حضرت موصوف نے بھی اپنی کرم نوازیوں سے آپ کو نوازا اور خرقہ خلافت عطا فرمایا ۔
حضرت سید زین العابدین شاہ جیلانی علیہ الرحمہ جہاں آپ شریعت و طریقت کے میدان کے شہسوار تھے وہاں آپ ایک بہت بڑے عاشق رسول اور عدیم النظیر شاعر بھی تھے آخری عمر میں تو یہ حالت تھی کہ کلام گفتگو، تقریر مقفی اور مسجع پر مشتمل ہوا کرتی تھی، آپ نے تقریباً چودہ زبانوں میں شعر پر طبع آزمائی فرمائی ۔
مشرک زبانوں پر مشتمل ایک شعر درج ذیل ہے۔
سندھی
دم دم وانھیان در تنھنجی تی پلھو پائی پالٹھار
سرائیکی
مولی مینوں جلد ملا دیں سائیں مدینہ دی سرکار
انگریزی
نیوز ڈؤنٹ گو یئز
پشتو
استرگادں تہ اؤگر
بلوچی
گندگاں شمشم نیز نظر۔ ھگ شون ایں اسرار
عربی
اھدنا الصراط المستقیم
فارسی
مارا بدہ راہ کریم
اردو
بخش کرو جنت نعیم
سرائیکی
ترت ملاویں تھدں یار
فارسی اردو
دستگیر دس مرا ضعیف زنیل کا ذرا: من چہ گویم دلبرا
پنجابی سندھی
آوے پنڈ پھٹ کل اختیار
اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلا شبہ شرح صدر عطا فرمایا تھا جب آپ گفتگو فرماتے کسی بڑے سے بڑے عالم، دانشور، وکیل اور مدبر کو مجال دم زدن نہیں ہوتی تھی ۔ آپ کے برادرِ اکبر حضرت سید علامہ و مولانا محمد بخش شاہ آپ کو بھٹائی ثانی کہا کرتے تھے ۔
نام و لقب:
آپ کا اصل نام احمد بخش تھا لیکن مشہور زین العابدین کے نام سے ہوئے ہیں ۔
آپ حضور غوث اعظم کی اولاد امجاد سے ہیں ۔ آپ کے والد گرامی کا نام عبد القادر المعروف حاجی شاہ ہے ۔
ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت درگاہ نورائی شریف (حیدر آباد) سندھ ۱۳۳۲ھ ۲۳ شوال المکرم پیر کی شب میں ہوئی ہے ۔ آپ کی ولادت سے پہلے آپ کے والد کے پاس ایک فقیر آیا تھا اور یہ پیش گوئی فرمائی تھی کہ اے حاجی شاہ آپ کو ایک فرزند عطا ہوگا پیدا ہوتے ہی اس کے سامنے دو دانت ہوں گے اور اس کا نام زین العابدین رکھنا ۔ آپ کی ولادت ہوئی اس فقیر کی پیش گوئی کے مطابق دو سامنے والے دانت موجود تھے لیکن زین العابدین نام رکھنا آپ کے والد بھول گئے ۔
پھر وہ فقیر آیا اور دریافت کیا کہ آپ کو میری دعاء سے جو لڑکا ہوا ہے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ آپ کے والد نے فرمایا کہ نام تو ان کا ہم نے احمد بخش رکھا ہے لیکن انہیں زین العابدین کے نام سے ہی پکاریں گے ۔
چنانچہ آپ اسی نام سے مشہور ہو گئے ۔ حضرت سید زین العابدین جیلانی قادری اپنے وقت کے اہل دل عشاق ، صاحب شریعت و طریقت اور باکمال بزرگوں میں سے تھے ۔
بارہ سال کی عمر تک تو مجذوبانہ کیفیت رہی پھر اس میں کچھ افاقہ ہوا تو آپ ہی نے صرف سندھی کی پہلی تک، قرآن شریف اور فارسی گلستان تک تعلیم حاصل کی دو سال تک طبیعت قدرے سالم رہی پھر وہی مجذوبانہ کفییت رہی جو ۲۲ سال کی عمر تک رہی حکماء اور اطباء آپ کے مرض کی صحیح تشخیص نہ کر سکے ـ
پھر آپ کے والد محترم سیدہ ‘‘ اوٹے شریف ’’ والی کی خدمت میں لے گئے، کیوں کہ سیدہ خاتون اپنے وقت کی ولیہ کاملہ تھیں، جب سیدہ نے آپ کو دیکھا تو فرمایا کہ ‘‘ اے زین العابدین کیا حال ہیں؟ ’’آپ نے اس کا جواب سندھی شعر میں دیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ‘‘ اے امی اگر روتا ہوں تو لوگ اسے کھیل سمجھتے ہیں اگر ہنستا ہوں تو دل جلتا ہے میری آنکھوں کو تو اس وقت آرام ملے جب وہ اپنے محبوب کو دیکھیں گے ’’ ـ
حضرت سیدہ خاتون نے بھی اس شعر کا جواب سندھی شعر میں ہی دیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ‘‘دکھی اور پہاڑ نے جو آپس میں باتیں کی ہیں اچھا ہوا کہ کسی نے یہ باتیں سنی نہیں ورنہ دنیا مصیبت میں گرفتار ہو جاتی ’’ ـ
اس کے بعد آپ حضرت زین العابدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے والد سے فرمانے لگیں کہ ان کو عشق الہٰی کی بیماری ہے میرے پاس چھوڑ جائیے ان شاء اللہ صحیح ہو جائےگا ـ
حضرت زین العابدین حضرت سیدہ خاتون کے ہاتھ پر بیعت ہوئے اور خاتون نے آپ کو سلسلۂ قادریہ میں داخل فرمایا کہ خلافت سے نوازا ۔
بعد میں آپ کی طبیعت بِالکل صحیح ہو گئی ۔ آپ کی شادی کے وقت ولی کامل حضرت سید میاں عبد الرسول رفاعی کے چھوٹے صاحبزادہ میاں گدا محی الدین کی صاحبزادی سے ہوئی ۔
حضرت سید زین العابدین جیلانی قادری علیہ الرحمۃ اپنی مرشدہ کے انتقال کے بعد بغداد شریف تشریف لے گئے اور حضرت سید محمد سالم الجیلانی قدس سرہ سے دوبارہ بیعت ہو گئے حضرت نے آپ کو خلعت خلافت سے نوازا ۔ حضرت محمد سالم علیہ الرحمۃ کے وصال فرمانے کے بعد پھر آپ مدینہ منورہ کے مشہور بزرگ حضرت سید احمد بن مختار تارک سلطنت المغرب کے ہاتھ پر سلسلۂ قادریہ میں بیعت ہوئے حضرت موصوف نے بھی اپنی کرم نوازیوں سے آپ کو نوازا اور خرقہ خلافت عطا فرمایا ۔
حضرت سید زین العابدین شاہ جیلانی علیہ الرحمہ جہاں آپ شریعت و طریقت کے میدان کے شہسوار تھے وہاں آپ ایک بہت بڑے عاشق رسول اور عدیم النظیر شاعر بھی تھے آخری عمر میں تو یہ حالت تھی کہ کلام گفتگو، تقریر مقفی اور مسجع پر مشتمل ہوا کرتی تھی، آپ نے تقریباً چودہ زبانوں میں شعر پر طبع آزمائی فرمائی ۔
مشرک زبانوں پر مشتمل ایک شعر درج ذیل ہے۔
سندھی
دم دم وانھیان در تنھنجی تی پلھو پائی پالٹھار
سرائیکی
مولی مینوں جلد ملا دیں سائیں مدینہ دی سرکار
انگریزی
نیوز ڈؤنٹ گو یئز
پشتو
استرگادں تہ اؤگر
بلوچی
گندگاں شمشم نیز نظر۔ ھگ شون ایں اسرار
عربی
اھدنا الصراط المستقیم
فارسی
مارا بدہ راہ کریم
اردو
بخش کرو جنت نعیم
سرائیکی
ترت ملاویں تھدں یار
فارسی اردو
دستگیر دس مرا ضعیف زنیل کا ذرا: من چہ گویم دلبرا
پنجابی سندھی
آوے پنڈ پھٹ کل اختیار
اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلا شبہ شرح صدر عطا فرمایا تھا جب آپ گفتگو فرماتے کسی بڑے سے بڑے عالم، دانشور، وکیل اور مدبر کو مجال دم زدن نہیں ہوتی تھی ۔ آپ کے برادرِ اکبر حضرت سید علامہ و مولانا محمد بخش شاہ آپ کو بھٹائی ثانی کہا کرتے تھے ۔
❤1
آپ کی محفل میں ہر وقت مولود خوانی اور نعت خوانی ہوا کرتی تھی ۔ ہر وقت حضور اکرم ﷺ کے عشق و محبت میں ڈوبے ہوا کرتے تھے جب بھی حضور ﷺ کا نام نامی اسم گرامی سنتے تو آنکھوں سے آنسوؤں کا سیل رواں جاری ہو جاتا تھا ۔
آپ کے کلام کے مجموعہ تقریباً ہزار گیارہ سو کے قریب ہیں جن میں چند زیور طباعت سے آراستہ ہوئے ہیں اور اباقی غیر مطبوعہ ہیں ۔
مطبوعات میں سے:
۱: قصہ حضرت یوسف علیہ السلام و زلیخا ۔ سندھی ۔
۲: شہادت کربلا ۔ سندھی
۳: مداحون شریف ۔ سندھی
۴: شان مجاہد سفر ناموں ۔ سندھی
۵: بیاض جیلانی ۔ سندھی
۶: خطبات جمعہ و عیدین سندھی قابل ذکر ہیں ۔
حضرت کی عقیدت وارادت کا حلقہ بہت وسیع ہے ملک اور ملک سے باہر آپ کے مریدین و متولین موجود ہیں ۔ آپ نے ۸ حج ادا فرمائے اور ایک حج خشکی کے ذریعہ عراق و بغداد کربلا اور شاہ نجف اشرف ہوتے ہوئے مدینہ شریف گئے ۔
آپ ہر سال ۱۲ ربیع الاول کو عید میلاد النبی ﷺ کا خاص شاندار اہتمام فرماتے تھے جس میں علماء کرام حضور ﷺ کا میلاد شریف بیان کرتے تھے اور ہر ماہ گیارہویں کابھی اہتمام فرماتے تھے جس کو اب تک آپ کے جانشین بڑے فرزند حضرت حافظ محمد عارف شاہ جیلانی اور چھوٹے پیر حضرت غلام جیلانی شاہ جیلانی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
وصال:
اتنی بے شمار خوبیوں کا حامل اللہ کا ولی، عاشق رسول ﷺ میدان فصاحت و بلاغت اور سخن کے شہسوار ۱۲ محرم الحرام ۱۳۹۳ھ / ۱۹۷۳ء ۶۳ سال کی عمر میں واصل بحق ہو گئے ۔
مزار شریف:
آپ کا مزار پر انوار نورائی پھلیلی نہر کے کنار ے ضلع حیدر آباد میں زیارت گاہ خلائق ہے ۔ ہر سال آپ کا یوم وصال ۲۱ محرم کو بڑے شان و شوکت سے منایا جاتا ہے ۔
( تذکرہ اولیاءِ سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-zain-ul-abideen-qadri-jilani
آپ کے کلام کے مجموعہ تقریباً ہزار گیارہ سو کے قریب ہیں جن میں چند زیور طباعت سے آراستہ ہوئے ہیں اور اباقی غیر مطبوعہ ہیں ۔
مطبوعات میں سے:
۱: قصہ حضرت یوسف علیہ السلام و زلیخا ۔ سندھی ۔
۲: شہادت کربلا ۔ سندھی
۳: مداحون شریف ۔ سندھی
۴: شان مجاہد سفر ناموں ۔ سندھی
۵: بیاض جیلانی ۔ سندھی
۶: خطبات جمعہ و عیدین سندھی قابل ذکر ہیں ۔
حضرت کی عقیدت وارادت کا حلقہ بہت وسیع ہے ملک اور ملک سے باہر آپ کے مریدین و متولین موجود ہیں ۔ آپ نے ۸ حج ادا فرمائے اور ایک حج خشکی کے ذریعہ عراق و بغداد کربلا اور شاہ نجف اشرف ہوتے ہوئے مدینہ شریف گئے ۔
آپ ہر سال ۱۲ ربیع الاول کو عید میلاد النبی ﷺ کا خاص شاندار اہتمام فرماتے تھے جس میں علماء کرام حضور ﷺ کا میلاد شریف بیان کرتے تھے اور ہر ماہ گیارہویں کابھی اہتمام فرماتے تھے جس کو اب تک آپ کے جانشین بڑے فرزند حضرت حافظ محمد عارف شاہ جیلانی اور چھوٹے پیر حضرت غلام جیلانی شاہ جیلانی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
وصال:
اتنی بے شمار خوبیوں کا حامل اللہ کا ولی، عاشق رسول ﷺ میدان فصاحت و بلاغت اور سخن کے شہسوار ۱۲ محرم الحرام ۱۳۹۳ھ / ۱۹۷۳ء ۶۳ سال کی عمر میں واصل بحق ہو گئے ۔
مزار شریف:
آپ کا مزار پر انوار نورائی پھلیلی نہر کے کنار ے ضلع حیدر آباد میں زیارت گاہ خلائق ہے ۔ ہر سال آپ کا یوم وصال ۲۱ محرم کو بڑے شان و شوکت سے منایا جاتا ہے ۔
( تذکرہ اولیاءِ سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-zain-ul-abideen-qadri-jilani
scholars.pk
Hazrat Zain ul Abideen Syed Qadri Jilani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت مولانا احمد یار مہر قادری رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسم گرامی: مولانا احمد یار مہر۔لقب: استاذالعلماء۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: حضرت علامہ مولانا احمد یار مہر قادری بن مولانا عبدالغفار علیہما الرحمہ۔آپ کےوالد گرامی حضرت مولانا عبدالغفار مہر اپنےوقت کےجید عالم ِ دین تھے، استاد الاساتذہ حضرت علامہ خلیفہ محمد یعقوب ہمایونی علیہ الرحمۃ کے شاگرد ارشد تھے۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ:66)
مقامِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت درگاہ شریف آف خان گڑھ تحصیل گھوٹکی سندھ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم: خان گڑھ میں والد ماجد کی درسگاہ میں انہی کی نگرانی میں دینی تعلیم و تربیت حاصل کی۔
بیعت وخلافت:مولانا احمد یار پینتیس سال کی عمر میں جنید وقت حضرت حافظ محمد صدیق علیہ الرحمۃ بانی درگاہ بھر چونڈی شریف کے دست اقدس پر سلسلہ قادریہ راشدیہ میں بیعت ہوئے۔مرشدِ کریم سے بے پناہ محبت کے سبب مختصر سی مدت میں منازل طے کی۔ بیس سال کی عمر میں والد گرامی مولانا عبدالغفار انتقال کر گئے تھے۔ والدگرامی قدر کے انتقال کے بعد آپ سجادہ نشین مقرر ہوئے بے شمار نفوس آپ سے مرید ہوکرفیض یاب ہوئے۔
سیرت وخصائص: عالم وعارف،جامع علوم نقلیہ وعقلیہ،خادم احادیثِ نبویہ،عامل سنت مصطفویہ حضرت علامہ مولانا احمد یار مہرقادری۔آپ علیہ الرحمہ اپنےوقت کےجید عالم دین اور صوفیِ باصفا تھے۔مسلک حق اہل سنت وجماعت کی ترویج واشاعت میں خوب کام کیا۔آپ کےوالد گرامی مولانا عبدالغفارمہرایک جید عالم اور صاحبِ ذوق صوفی تھے۔ان کےپاکیزہ مشن کی ترقی وتکمیل کےلئے مولانا نےاہم کردار اداکیا۔یہی وجہ ہے کہ عارف کامل حضرت مولانا احمد یار قادری نے مشکوٰۃ شریف کا سندھی ترجمہ اور حاشیہ ’’مراۃ التشریح‘‘ 7 جلدوں میں اپنے احباب علماء سے تیار کروایا۔ یہ سندھی شرح500 کی تعداد میں عباسی پریس (عباسی کتب خانہ جونا مارکیٹ کراچی ) سے مولانا شیر محمد گلال نے 5/ ذوالقعدہ 1351ھ کو شائع کیا ۔ اس پر مولانا احمد یار نے خود حاشیہ تحریر کیا تھا۔
مولانااحمدیارمہرنےہندو پاک کےنامور اکابرین اور بزرگان دین کےمزارات مقدس کی حاضری کےلئےاسفار کیے۔اسی طرح اکابرین کےایام بھی بڑےاحتشام کےساتھ مناتےتھے۔آپ سندھی زبان کے بلند پایہ شاعر تھے۔آپ کا کلام رسائل کی صورت میں شائع ہوا ہے۔آپ کا کلام سہ حرفیاں،مناجات،مدح،مولود،نعت،غزل،منقبت اور کافیوں پر مشتمل ہے۔ ادبی اور فنی لحاظ سے آپ کے کلام کا درجہ بلند ہے۔ بعض غزلیات میں فارسی اور سندھی مصرعوں کا حسین امتزاج پیش کیا ہے۔
تاریخِ وصال: مولانا احمد یار نے 23/ شوال المکرم 1353ھ بمطابق 1943ء کو درگاہ شریف خان گڑھ (گھوٹکی) میں 63 سال کی عمر میں انتقال کیا۔ وہیں مزار شریف مرجع خلائق ہے۔ سالانہ عرس مبارک ہوتا ہے ۔
ماخذومراجع: انوار علمائےاہل سنت سندھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-ahmad-yar-qadri
نام ونسب: اسم گرامی: مولانا احمد یار مہر۔لقب: استاذالعلماء۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: حضرت علامہ مولانا احمد یار مہر قادری بن مولانا عبدالغفار علیہما الرحمہ۔آپ کےوالد گرامی حضرت مولانا عبدالغفار مہر اپنےوقت کےجید عالم ِ دین تھے، استاد الاساتذہ حضرت علامہ خلیفہ محمد یعقوب ہمایونی علیہ الرحمۃ کے شاگرد ارشد تھے۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ:66)
مقامِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت درگاہ شریف آف خان گڑھ تحصیل گھوٹکی سندھ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم: خان گڑھ میں والد ماجد کی درسگاہ میں انہی کی نگرانی میں دینی تعلیم و تربیت حاصل کی۔
بیعت وخلافت:مولانا احمد یار پینتیس سال کی عمر میں جنید وقت حضرت حافظ محمد صدیق علیہ الرحمۃ بانی درگاہ بھر چونڈی شریف کے دست اقدس پر سلسلہ قادریہ راشدیہ میں بیعت ہوئے۔مرشدِ کریم سے بے پناہ محبت کے سبب مختصر سی مدت میں منازل طے کی۔ بیس سال کی عمر میں والد گرامی مولانا عبدالغفار انتقال کر گئے تھے۔ والدگرامی قدر کے انتقال کے بعد آپ سجادہ نشین مقرر ہوئے بے شمار نفوس آپ سے مرید ہوکرفیض یاب ہوئے۔
سیرت وخصائص: عالم وعارف،جامع علوم نقلیہ وعقلیہ،خادم احادیثِ نبویہ،عامل سنت مصطفویہ حضرت علامہ مولانا احمد یار مہرقادری۔آپ علیہ الرحمہ اپنےوقت کےجید عالم دین اور صوفیِ باصفا تھے۔مسلک حق اہل سنت وجماعت کی ترویج واشاعت میں خوب کام کیا۔آپ کےوالد گرامی مولانا عبدالغفارمہرایک جید عالم اور صاحبِ ذوق صوفی تھے۔ان کےپاکیزہ مشن کی ترقی وتکمیل کےلئے مولانا نےاہم کردار اداکیا۔یہی وجہ ہے کہ عارف کامل حضرت مولانا احمد یار قادری نے مشکوٰۃ شریف کا سندھی ترجمہ اور حاشیہ ’’مراۃ التشریح‘‘ 7 جلدوں میں اپنے احباب علماء سے تیار کروایا۔ یہ سندھی شرح500 کی تعداد میں عباسی پریس (عباسی کتب خانہ جونا مارکیٹ کراچی ) سے مولانا شیر محمد گلال نے 5/ ذوالقعدہ 1351ھ کو شائع کیا ۔ اس پر مولانا احمد یار نے خود حاشیہ تحریر کیا تھا۔
مولانااحمدیارمہرنےہندو پاک کےنامور اکابرین اور بزرگان دین کےمزارات مقدس کی حاضری کےلئےاسفار کیے۔اسی طرح اکابرین کےایام بھی بڑےاحتشام کےساتھ مناتےتھے۔آپ سندھی زبان کے بلند پایہ شاعر تھے۔آپ کا کلام رسائل کی صورت میں شائع ہوا ہے۔آپ کا کلام سہ حرفیاں،مناجات،مدح،مولود،نعت،غزل،منقبت اور کافیوں پر مشتمل ہے۔ ادبی اور فنی لحاظ سے آپ کے کلام کا درجہ بلند ہے۔ بعض غزلیات میں فارسی اور سندھی مصرعوں کا حسین امتزاج پیش کیا ہے۔
تاریخِ وصال: مولانا احمد یار نے 23/ شوال المکرم 1353ھ بمطابق 1943ء کو درگاہ شریف خان گڑھ (گھوٹکی) میں 63 سال کی عمر میں انتقال کیا۔ وہیں مزار شریف مرجع خلائق ہے۔ سالانہ عرس مبارک ہوتا ہے ۔
ماخذومراجع: انوار علمائےاہل سنت سندھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-ahmad-yar-qadri
scholars.pk
Hazrat Allama Molana Ahmad Yar Qadri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا شیخ عبدالرحمن نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسم گرامی: مولانا شیخ عبدالرحمن نقشبندی مجددی سکھروی۔لقب:فاضلِ کامل،عارفِ واصل۔جامع شریعت وطریقت۔والد کااسم گرامی: مولانا کمال الدین۔آبائی وطن بلوچستان تھا۔آپ کےوالد گرامی بلوچستان سےسکھر آئےاور پھر یہیں پہ مستقل سکونت اختیار کرلی۔اس وقت سکھر شہرنیاآباد ہورہاتھا۔(انوار علمائے اہل سنت سندھ:459/سندھ کےصوفیائے نقشبندحصہ دوم:543)
مقامِ ولادت:آپ کی ولادت باسعادت بلوچستان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم مولانا کمال الدین سے حاصل کی ۔ اس کے بعد سندھ کے نامور فقیہ،ممتاز عالم دین ،شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا محمد یعقوب ہمایونی قد س سرہ کی مرکزی درسگاہ ہمایوں شریف میں ظاہری و باطنی تعلیم حاصل کر کے فارغ التحصیل ہوئے ۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ:459)
بیعت و خلافت : حضرت علامہ عبدالرحمن سلسلہ عالیہ نقشبند یہ مجددیہ میں غوث الزماں،قطب الدوراں،حضرت خواجہ عبدالقیوم جان مجددی قندھاری قدس سرہ العزیز کے دستِ بیعت ہوئے ۔ اس کے بعد خلافت سے نوازے گئے ۔
سیرت وخصائص: فاضلِ اجل،عالم اکمل،عارفِ اکبر،ماہر علوم عقلیہ ونقلیہ،جامع شریعت وطریقت،واصل بااللہ،عاشق رسول اللہﷺ،حامیِ سنت،ماحیِ کفر وشرک وبدعت،قاطعِ نجدیت ودیوبندیت ووہابیت،حامل لوائے شریعت،حضرت علامہ مولانا شیخ عبدالرحمن نقشبندی مجددی سکھروی ۔آپان شخصیات میں سےہیں جنہوں نےدینِ اسلام کی اشاعت وترویج میں ہرطریقے سےخدمت فرمائی ہے۔سرزمینِ سکھرآپ کی برکت سےمرجع العلم والعلماء بن گئی تھی۔جہاں دوردراز علاقوں سےمتلاشیانِ علم حاضر ہوکراپنی علمی پیاس بجھاتےتھے۔اسی طرح اہل باطن اپناباطن سنوار کرمیخانہ ٔوحدت کےجام لٹاتےتھے۔
درس و تدریس:مولانا عبدالرحمن نےسکھر میں دینی درسگاہ قائم کی،جہاں آپ درس دیاکرتےتھے۔افغانستان،ہندوستان،حجاز مقدس،عراق،شام اور بمبئی وغیرہ دور دراز علاقوں و ممالک سے طلباء سکھر آکر علوم و فیوض اخذ کرتے تھے۔(تذکرۃ الصلحاء:25) ایک روایت کے مطابق آپ جس مسجد شریف میں درس دیا کرتے تھے وہ آج سکھر کی کپڑا مارکیٹ میں مدینہ مسجد کے نام سے موسوم ہے ۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ:459)مولانا عبدالرحمن کے پوتے مولانا غلام محمد کا بیان ہے: روہڑی شریف کے نامور بزرگ و شاعر فقیر قادر بخش بیدلؔ ، مولانا عبدالرحمن کے شاگرد تھے ۔ ایک روز بیدل فقیر شرح جامی کا درس لے رہے تھے کہ اچانک دوران درس ’’عشق ‘‘ کا لفظ آیا ۔ فقیر بیدل رک گئے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور استاد محترم سے عرض کی :حضرت! ’’عشق ‘‘ کا لفظ زمین وآسمان سے بڑا نظر آرہا ہے، میرے لئے یہی کافی ہے اب مجھ سے آگے نہیں پڑھا جاتا۔(تذکرہ مشاہیر سندھ:210)
نوٹ:عزت مآب، محقق، علامہ مولانا صاحبزادہ سید محمد زین العابدین راشدی مدظلہ العالی نے’’انوار علمائےاہل سنت سندھ‘‘میں تحریر فرمایا ہے: کہ حضرت مولانا عبدالرحمن کے ہاتھ پر ایک شخص مسلمان ہوا جس کا نام’’غلام حسین‘‘ رکھا گیا ۔ غلام حسین نے مولانا صاحب کے پاس دینی علوم میں تحصیل کی ۔ مولانا غلام حسین نے فارغ التحصیل ہونے کے بعد حضرت شاہ فیض جمالی فیض آباد احمد انی تحصیل ڈیرہ غازی خان ( پنجاب ) میں مدرسہ قائم کیا ۔ اس مدرسہ سے سندھ کے نامور عالم و مدرس مولانا سید محسن علی شاہ ( میاں جو گوٹھ ) نے استفادہ کیا۔
حقیقت یہ ہےاس کےنام کےکسی بھی شخص نےڈیرہ غازی خان میں مدرسہ قائم نہیں کیا۔دراصل یہاں پہ تسامح ہواہے۔ جس شخص نےآپ کےہاتھ پہ اسلام قبول کیااورعلم وعرفاں کی دولت سےمالا ہوکرجویہاں سےاس علاقے کی طرف گئےتھےان کانام ہے’’مولانا خواجہ محمد نورالدین،والدِ گرامی عارف باللہ حضرت خواجہ فیض محمد شاہجمالی‘‘(خلیفہ حضرت خواجہ شاہ اللہ بخش تونسوی)انہوں نےیہاں پرایک درس قائم کیاتھاجہاں سےایک جہاں فیض یاب ہوا۔(تذکرہ خانوادہ شاہ جمالی:2)
عادات وخصائل : آپ شریعت و طریقت کے پابند،بڑے مہمان نواز،کتنے ہی کیوں نہ مہمان مسافر آجائیں سب آپ کے دستر خوان سے مستفیض ہو کے جاتے تھے ۔ شروع میں آپ نے درس و تدریس کا سلسلہ بھی رکھا لیکن بعد میں آپ ہمہ تن سب کچھ چھوڑ کر مخلوق خدا کی رشد و ہدایت اور ان کی رہبری و رہنمائی میں مصروف ہوگئے چنانچہ آپ کی تبلیغ و ارشاد سے بہت سے کفار دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے اور آپ کے دست حق پرست پر مسلمان ہو کر دارین کی فوز و فلاح سے ہم کنار ہو گئے ۔ حتیٰ کہ اس سلسلہ میں آپ پر مقدمے بھی قائم کئے گئے لیکن آپ کے پایہ استقلال میں ذرہ برابر لغزش نہ آئی اور آپ سب کچھ سہتے ہوئے اعلا ء کلمۃ الحق اور تبلیغ دین مبین میں مصروف رہے اور مسلسل کافروں کو مسلمان کرتے رہے ۔ ( صوفیائے نقشبندحصہ دوم:543)آپ کے چہرہ مبارکہ میں قدرت نے وہ کشش و نورانیت رکھی تھی کہ کافر دیکھ کر بے خود ہو کر کلمہ شریف پڑھ کر مسلمان ہو جاتے تھے اس لئے انگریز گورنمنٹ نے آپ پر پابندی لگائی کہ آپ ہندو آبادی میں نہیں ج
نام ونسب:
اسم گرامی: مولانا شیخ عبدالرحمن نقشبندی مجددی سکھروی۔لقب:فاضلِ کامل،عارفِ واصل۔جامع شریعت وطریقت۔والد کااسم گرامی: مولانا کمال الدین۔آبائی وطن بلوچستان تھا۔آپ کےوالد گرامی بلوچستان سےسکھر آئےاور پھر یہیں پہ مستقل سکونت اختیار کرلی۔اس وقت سکھر شہرنیاآباد ہورہاتھا۔(انوار علمائے اہل سنت سندھ:459/سندھ کےصوفیائے نقشبندحصہ دوم:543)
مقامِ ولادت:آپ کی ولادت باسعادت بلوچستان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم مولانا کمال الدین سے حاصل کی ۔ اس کے بعد سندھ کے نامور فقیہ،ممتاز عالم دین ،شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا محمد یعقوب ہمایونی قد س سرہ کی مرکزی درسگاہ ہمایوں شریف میں ظاہری و باطنی تعلیم حاصل کر کے فارغ التحصیل ہوئے ۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ:459)
بیعت و خلافت : حضرت علامہ عبدالرحمن سلسلہ عالیہ نقشبند یہ مجددیہ میں غوث الزماں،قطب الدوراں،حضرت خواجہ عبدالقیوم جان مجددی قندھاری قدس سرہ العزیز کے دستِ بیعت ہوئے ۔ اس کے بعد خلافت سے نوازے گئے ۔
سیرت وخصائص: فاضلِ اجل،عالم اکمل،عارفِ اکبر،ماہر علوم عقلیہ ونقلیہ،جامع شریعت وطریقت،واصل بااللہ،عاشق رسول اللہﷺ،حامیِ سنت،ماحیِ کفر وشرک وبدعت،قاطعِ نجدیت ودیوبندیت ووہابیت،حامل لوائے شریعت،حضرت علامہ مولانا شیخ عبدالرحمن نقشبندی مجددی سکھروی ۔آپان شخصیات میں سےہیں جنہوں نےدینِ اسلام کی اشاعت وترویج میں ہرطریقے سےخدمت فرمائی ہے۔سرزمینِ سکھرآپ کی برکت سےمرجع العلم والعلماء بن گئی تھی۔جہاں دوردراز علاقوں سےمتلاشیانِ علم حاضر ہوکراپنی علمی پیاس بجھاتےتھے۔اسی طرح اہل باطن اپناباطن سنوار کرمیخانہ ٔوحدت کےجام لٹاتےتھے۔
درس و تدریس:مولانا عبدالرحمن نےسکھر میں دینی درسگاہ قائم کی،جہاں آپ درس دیاکرتےتھے۔افغانستان،ہندوستان،حجاز مقدس،عراق،شام اور بمبئی وغیرہ دور دراز علاقوں و ممالک سے طلباء سکھر آکر علوم و فیوض اخذ کرتے تھے۔(تذکرۃ الصلحاء:25) ایک روایت کے مطابق آپ جس مسجد شریف میں درس دیا کرتے تھے وہ آج سکھر کی کپڑا مارکیٹ میں مدینہ مسجد کے نام سے موسوم ہے ۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ:459)مولانا عبدالرحمن کے پوتے مولانا غلام محمد کا بیان ہے: روہڑی شریف کے نامور بزرگ و شاعر فقیر قادر بخش بیدلؔ ، مولانا عبدالرحمن کے شاگرد تھے ۔ ایک روز بیدل فقیر شرح جامی کا درس لے رہے تھے کہ اچانک دوران درس ’’عشق ‘‘ کا لفظ آیا ۔ فقیر بیدل رک گئے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور استاد محترم سے عرض کی :حضرت! ’’عشق ‘‘ کا لفظ زمین وآسمان سے بڑا نظر آرہا ہے، میرے لئے یہی کافی ہے اب مجھ سے آگے نہیں پڑھا جاتا۔(تذکرہ مشاہیر سندھ:210)
نوٹ:عزت مآب، محقق، علامہ مولانا صاحبزادہ سید محمد زین العابدین راشدی مدظلہ العالی نے’’انوار علمائےاہل سنت سندھ‘‘میں تحریر فرمایا ہے: کہ حضرت مولانا عبدالرحمن کے ہاتھ پر ایک شخص مسلمان ہوا جس کا نام’’غلام حسین‘‘ رکھا گیا ۔ غلام حسین نے مولانا صاحب کے پاس دینی علوم میں تحصیل کی ۔ مولانا غلام حسین نے فارغ التحصیل ہونے کے بعد حضرت شاہ فیض جمالی فیض آباد احمد انی تحصیل ڈیرہ غازی خان ( پنجاب ) میں مدرسہ قائم کیا ۔ اس مدرسہ سے سندھ کے نامور عالم و مدرس مولانا سید محسن علی شاہ ( میاں جو گوٹھ ) نے استفادہ کیا۔
حقیقت یہ ہےاس کےنام کےکسی بھی شخص نےڈیرہ غازی خان میں مدرسہ قائم نہیں کیا۔دراصل یہاں پہ تسامح ہواہے۔ جس شخص نےآپ کےہاتھ پہ اسلام قبول کیااورعلم وعرفاں کی دولت سےمالا ہوکرجویہاں سےاس علاقے کی طرف گئےتھےان کانام ہے’’مولانا خواجہ محمد نورالدین،والدِ گرامی عارف باللہ حضرت خواجہ فیض محمد شاہجمالی‘‘(خلیفہ حضرت خواجہ شاہ اللہ بخش تونسوی)انہوں نےیہاں پرایک درس قائم کیاتھاجہاں سےایک جہاں فیض یاب ہوا۔(تذکرہ خانوادہ شاہ جمالی:2)
عادات وخصائل : آپ شریعت و طریقت کے پابند،بڑے مہمان نواز،کتنے ہی کیوں نہ مہمان مسافر آجائیں سب آپ کے دستر خوان سے مستفیض ہو کے جاتے تھے ۔ شروع میں آپ نے درس و تدریس کا سلسلہ بھی رکھا لیکن بعد میں آپ ہمہ تن سب کچھ چھوڑ کر مخلوق خدا کی رشد و ہدایت اور ان کی رہبری و رہنمائی میں مصروف ہوگئے چنانچہ آپ کی تبلیغ و ارشاد سے بہت سے کفار دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے اور آپ کے دست حق پرست پر مسلمان ہو کر دارین کی فوز و فلاح سے ہم کنار ہو گئے ۔ حتیٰ کہ اس سلسلہ میں آپ پر مقدمے بھی قائم کئے گئے لیکن آپ کے پایہ استقلال میں ذرہ برابر لغزش نہ آئی اور آپ سب کچھ سہتے ہوئے اعلا ء کلمۃ الحق اور تبلیغ دین مبین میں مصروف رہے اور مسلسل کافروں کو مسلمان کرتے رہے ۔ ( صوفیائے نقشبندحصہ دوم:543)آپ کے چہرہ مبارکہ میں قدرت نے وہ کشش و نورانیت رکھی تھی کہ کافر دیکھ کر بے خود ہو کر کلمہ شریف پڑھ کر مسلمان ہو جاتے تھے اس لئے انگریز گورنمنٹ نے آپ پر پابندی لگائی کہ آپ ہندو آبادی میں نہیں ج
❤1