🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
دور ہے۔

یاد کرد:

یاد کردؔ سے مراد یہ ہے کہ ہر وقت ذکر میں مشغول رہے خواہ زبانی ہو یا قلبی۔ ذکر کی تلقین کا طریق بیان کرنے کی یہاں ضرورت نہیں۔

باز گشت:

بازگشتؔ سے مراد یہ ہے کہ جب ذاکر بطریق معہود کلمہ توحید کا ذکر دل سے کرے۔ تو ہر بار کلمہ توحید کے بعد زبان دل سے کہے۔ خدایا میر مقصود تو ،اور تیری رضا ہے۔ مشائخ نقشبندیہ کا معمول یہ ہے کہ کلمہ توحید کے تلفظ کے ضمن میں لا مقصود ملاحظہ کرتے ہیں۔ کیونکہ جو معبود ہوتا ہے وہ مقصود ہوتا ہے جیسا کہ آیۃ اَفَرَأَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰھَہٗ ھَوٰہٗ سے ظاہر ہے۔

یاد داشتؔ سے مراد ہے دوام آگاہی بحق سبحانہ بر سبیل ذوق۔

دارم ہمہ جابا ہمہ کس در ہمہ حال
در دل ز تو آرزو در دیدہ خیال

اگر دوام آگاہی اس قدر غالب ہو کہ کثرت کونیہ اس کی مزاحم نہ ہو بلکہ اپنے وجود کا بھی شعور نہ رہے۔ تو اسے فناء کہتے ہیں۔ اگر اس بے شعوری کا شعور بھی نہ رہے تو اسے فناء سے فناء بولتے ہیں۔ اور جمع الجمع اور عین الیقین بھی کہتے ہیں۔

انتباہ۔ حضرت خواجہ احرار قدس سرہ نے اخیر کے چار کلموں کی تشریح یوں فرمائی ہے کہ یاد کرو سے مراد ذکر میں تکلف ہے یعنی ذکر جس کی تلقین شیخ سے ہوتی ہے اس کے تکرار میں بتکلف مشغول رہے یہاں تک کہ مرتبہ حضور حاصل ہوجائے۔ اور بازگشت سے مراد رجوع بحق سبحانہ بدیں طور کہ جتنی بار کلمہ طیبہ کا ذکر کرے۔ ہر بار اس کلمہ کے بعد دل میں خیال کرے کہ خدایا مقصود میرا تو ہے، اور تیری رضا۔ اور نگاہداشت سے مراد ہے اس رجوع کی محافظت بغیر زبان سے کہنے کے۔ اور یاد داشت سے مراد نگاہداشت میں رسوخ ہے۔

وقوف عددی:

وقوف عددی سے مراد ذکر نفی و اثبات میں عدد ذکر سے واقف رہنا ہے یعنی ذاکر اس ذکر میں سانس کو عدد طاق پر چھوڑے نہ کہ جفت پر۔ کہتے ہیں کہ آداب و شرائط کی رعایت کے ساتھ ایک سانس میں ۲۱ بار نفی و اثبات کرنا مثمر فناء ہے۔ حضرت علاء الدین عطار فرماتے ہیں کہ زیادہ کہنا شرط نہیں جو کچھ کہے وقوف سے کہے۔ جب عدد ۲۱ سے تجاوز کر جائے اور اثر ظاہر نہ ہو تو یہ اس عمل کی بیجاہونیکی دلیل ہے۔ اثر ذکریہ ہے کہ زمان نفی میں وجود بشریت منفی ہوجائے اور زمان اثبات میں جذبات الٰہی کے تصرفات کے آثار میں سے کوئی اثر محسوس ہو۔ یہ جو کلام خواجگان میں آیا ہے کہ فلاں بزرگ نے فلاں شخص کو وقف عدد کا امر فرمایا اس سے مراد ذکر قلبی مع رعایت عدد ہے نہ کہ فقط رعایت عدد۔

وقوف زمانی کے مفہوم:

وقوف زمانی کے دو معنٰی ہیں۔ ایک یہ کہ سالک کو چاہیے کہ واقف ِنفس رہے اور پاس انفاس کو ملحوظ رکھے۔ یعنی ہر وقت خیال رکھے کہ سانس حضور میں گزرتا ہے یا غفلت میں۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ بندہ ہر وقت اپنے حال سے واقف رہے۔ اگر وقت طاعت میں گذرا ہے تو شکر بجا لائے اور اگر معصیت میں گزرا ہے تو عذر خواہی(توبہ) کرے۔ اسی طرح حالت بسط میں شکر اور حالت قبض میں استغفار کرے۔ صوفیہ کرام کی اصطلاح میں اسے محاسبہ کہتے ہیں۔ قول باری تعالیٰ ہے ’’رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَo [۱] اور قول حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ’’حَاسِبُوْا قَبْل اَنْ تُحَاسَبُوا‘‘ میں اسی محاسبہ کی طرف اشارہ ہے۔[۲]

[۱۔ اور رجوع کرو اپنے رب کی طرف اور اُس کی فرنبرداری کرو پہلے اس سے کہ آئے تم پر عذاب۔ پھر کوئی تمہاری مدد کو نہ آئے گا۔ (پ ۲۴۔ زمر۔ ع۔۶)]

[۲۔ تم محاسبہ کرو پہلے اس سے کہ محاسبہ کیے جاؤ۔]

وقوف قلبی کے مفہوم:

وقوف قلبی کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ ذکر کے وقت دل حق سبحانہ سے واقف و آگاہ رہے۔ اور یہ مقولہ یاد داشت سے ہے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ بندہ اثنائے ذکر میں قلب صنوبری کی طرف متوجہ رہے اور اسے ذکر میں مشغول کرے اور ذکر اور ذکر کے مفہوم سے غافل نہ ہونے دے۔ حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند قدس سرہ نے ذکر میں حبس دم اور رعایت عدد کو لازم قرار نہیں دیا۔ مگر وقف قلبی ذکر جہر شروع کیا۔ کیونکہ حضرت خواجہ عارف﷫ نے اخیر وقت میں فرمایا تھا کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ جس کی طرف ہمیں اشارہ ہوا تھا کہ ایک وقت آنے والا ہے جبکہ طالبوں کو بنابر مصلحت ذکر جہر اختیار کرنا پڑے گا۔ مولانا حافظ الدین بخاری ﷫نے جو اس وقت کے بڑے عالم اور خواجہ محمد پارسا قدس سرہ کے جد اعلیٰ تھے رئیس العلماء شمس الائمہ حلوانی﷫ کے اشارے سے علما ء ِوقت کی ایک جماعت کے روبرو حضرت خواجہ محمود ﷫سے استفتاء کیا کہ آپ ذکر جہر کس نیت سے کرتے ہیں آپ نے فرمایا تاکہ سویا ہوا بیدار اور غفلت سے ہوشیار ہوجائے۔ اور راہ راست پر آجائے اور شریعت و طریقت پر استقامت حاصل کرے اور توبہ و انابت (جو ہر نیکی کی اصل ہے) کی طرف رغبت کرے۔ مولانا نے فرمایا کہ آپ کی نیت درست ہے اور آپ کے لیے یہ شغل جائز ہے۔ لیکن ذکر جہر کی ایک حد مقرر کر دیجیے کہ جس سے حقیقت مجاز سے اور بیگانہ آشنا سے ممتاز ہو جائے۔ اس پر حضرت خواجہ ﷫نے فرمایا کہ ذکر جہر اس شخص کے لیے جائز ہے کہ جس کی زبان جھوٹ اور غیبت سے
پاک ہو۔ اور جس کا حلق حرام و شبہ سے اور دل ریا و سمعہ سے اور باطن توجہ ما سوا سے پاک ہو۔

حضرت خواجہ علی رامیتنی ﷫ کا بیان ہے کہ حضرت خواجہ محمود قدس سرہ کے وقت میں ایک درویش نے حضرت خضر علیہ السلام کو دیکھا اور ان سے پوچھا کہ اس زمانے میں مشائخ میں سے ایسا کون ہے جو طریق استقامت پر ثابت قدم ہوتا کہ اس کا مرید بن کر اس کی پیروی کروں۔ حضرت خضر علیہ السلام نے جواب دیا کہ خواجہ محمود انجیر فغنوی۔ خواجہ رامیتنی کے بعض اصحاب نے کہا کہ وہ درویش سائل خود خواجہ علی رامیتنی تھے۔ مگر اپنا نام بدیں خیال نہ لیا کہ یہ ظاہر نہ ہو جائے کہ آپ نے حضرت خضر علیہ السلام کو دیکھا ہے۔

سفید پرندہ:

ایک روز خواجہ علی رامیتنی خواجہ محمود کے باقی اصحاب کے ساتھ موضع رامتین میں ذکر میں مشغول تھے کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بڑا سفید پرندہ ان کے اوپر اڑا چلا جاتا ہے۔ جب وہ پرندہ ان کے عین سمت الراس پر آیا تو فصیح زبان سے بولا۔ اے علی مردانہ باش۔ یہ دیکھ کر اصحاب پر ایک کیفیت طاری ہوگئی اور وہ بیہوش ہوگئے۔ جب ہوش میں آئے تو حضرت خواجہ﷫ سے پوچھا کہ یہ کیا تھا ہم نے دیکھا اور سنا۔ حضرت خواجہ نے فرمایا کہ وہ خواجہ محمود قدس سرہ تھے۔ حق سبحانہ نے ان کو کرامت عطا فرمائی ہے کہ وہ ہمیشہ اس مقام پر پرواز کرتے ہیں۔ جہاں حق سبحانہ نے حضرت موسیٰ کلیم اللہ سے کئی ہزار کلمات فرمائے۔ اس وقت آپ خواجہ دہقان قلتی ﷫کے سرہانے گئے تھے جو خواجہ اولیائے کبیر﷫ کے پہلے خلیفہ ہیں۔ خواجہ دہقان کا اخیر وقت تھا۔ انہوں نے باری تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی تھی کہ خدایا ! دمِ اخیر میں اپنے دوستوں میں سے کسی کو میرے پاس میری مدد کے لیے بھیج دے۔ چنانچہ خواجہ محمود ﷫ بحکم ربانی خواجہ دہقان ﷫کے پاس بغرض امداد تشریف لے گئے تھے۔ وہاں سے واپس آتے ہوئے اس راہ سے گزرے ہیں۔ بہر دو معنی کو ضروری سمجھا ہے۔ آیۃ ’’یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًا‘‘ [۱] میں اسی وقوف قلبی کی طرف اشارہ ہے۔ حضرت عروۃ الوثقیٰ خواجہ معصوم قدس سرہ فرماتے ہیں کہ وقوف قلبی یہ ہے کہ دل کا نگران و واقف رہے۔ اور قطع نظر ذکر کے اس کی طرف توجہ رکھے۔ تاکہ اس میں تفرقہ راہ نہ پائےاور وہ ماسوا کے نقوش سے مثقش نہ ہوجائے۔ کہتے ہیں کہ دل بےکار نہیں رہتا۔ یا ماسوا سے ملا رہتا ہے۔ یا مطلوب حقیقی سے۔ جب دل ماسوا سے ممنوع ہوگیا۔ تو اسے مطلوب کی طرف توجہ سے چارہ نہ ہوگا۔ غرض تم دل کو دشمن سے باز رکھو۔ دوست کی طلب حاجت نہیں۔ وہ خود جلوہ گر ہوجائے گا۔ (انیس الطالبین۔ نفحات۔ رشحات)۔

[۱۔ اے ایمان والو! خدا کو بہت یاد کرو۔ (پ ۲۲ احزاب۔ ع ۶)]

( مشائخِ نقشبندیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-abdul-khaliq-gajadwani
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مفتی مالکیہ شیخ محمد عابد بن حسین مالکی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
آپ علیہ الرحمہ کا اسمِ گرامی شیخ عابد بن حسین بن ابراہیم بن حسین بن محمد بن عامر تھا۔ اور آپ محمد عابد کے نام سے مشہور ہوئے ۔ (رحمۃ اللہ علیہم)

تاریخ و مقامِ ولادت:
شیخ محمد عابد بن حسین مالکی رحمۃ اللہ علیہ 17 رجب المرجب 1275 ھ کو اتوار کے دن مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔

تحصیلِ علم:
شیخ محمد عابد بن حسین مالکی رحمۃ اللہ علیہ کے والدماجد مفتی مالکیہ شیخ حسین رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی ظاہری وروحانی تربیت کرنے میں تمام تر جہد سے کام لیاتاآنکہ آپ نے اس فرزند کی کامل تربیت فرماکر انتقال کیا۔ اس کے مزید علوم کے حصول کے لئے مدرسہ صولتیہ میں ڈاخل ہوکر جلیل القدر علماء سے مختلف فنون پر دسترس حاصل کی۔

سیرت و خصائص:
شیخ محمد عابد بن حسین مالکی رحمۃ اللہ علیہ متقی ، پرہزگار، جواد وسخی اور وسیع القلب جیسے صفات کے حامل شخص تھے۔آپ علیہ الرحمہ حرم شریف میں مدرس رہے اور استاذ العلماء ہوئے۔ اعلاء کلمۃالحق میں کسی لیت ولعل سے کام نہیں لیا اور وقت کے حکمرانوں کے جاہ و جلال سے خوف زدہ نہ ہوئے۔ سالہا سال جلا وطنی میں بسر کی جہاں اور جس حال میں رہے علم کے چراغ جلاتے رہے۔آپ علیہ الرحمہ نے اشاعتِ اہلسنت اور دفاع اہلسنت کے سلسلے میں کئی کتابیں تصنیف کیں ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے عمر میں محض تین سال چھوٹے تھے لیکن اس تمام تر علم وفضل کے باوجود اعلیٰ حضرت کی عظمت کا اقرار کرتے تھے۔

تاریخِ وصال:
شیخ محمد عابد بن حسین مالکی رحمۃ اللہ علیہٍ کاوصال22 شوال 1340 ھ/بمطابق جون 1922 ء کو ہوا۔

ماخذ و مراجع:
امام احمد رضا محدث بریلوی اور علماء مکہ مکرمہٍ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-sheikh-aabid-bin-hussain-maliki-mufti
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
ظہیر الدین حضرت مولانا محمد بن عمر  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
محمد بن عمر بن محمد نوجاباذی[1]: ظہیر الدین لقب،شہر نوجاباذ میں جو بخارا کے علاقہ میں واقع ہے۔۲۲؍ماہِ شوال۲۱۶؁ھ میں پیدا ہوئے۔اپنے وقت کے شیخ، عالم،فقیہ،عارف مذہب تھے۔فقہ شمس الائمہ کردری سے حاصل کی۔کتاب کشف الایہام الرفع الاوہام اور کشف الاسرار فی اصول الفقہ وغیرہ تصنیف کیں اور دمشق میں تشریف لائے اور بغداد میں درس دیا۔

1۔ ظہیر الدین ابو المسفر بخاری وفات ۶۶۸ھ

حدائق الحنفیہ

https://scholars.pk/ur/scholar/zaheeruddin-hazrat-molana-muhammad-bin-umar

#یوم_ولادت_ماہ_شوال_المکرم
https://t.me/islaamic_Knowledge/50445
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-10-1444 ᴴ | 12-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-10-1444 ᴴ | 13-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-10-1444 ᴴ | 13-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-10-1444 ᴴ | 13-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1