🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-10-1444 ᴴ | 12-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-10-1444 ᴴ | 12-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-10-1444 ᴴ | 12-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-10-1444 ᴴ | 12-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانی رحمۃ اللہ علیہ
غجدوان نزد بخارا (۴۳۵ھ/۱۰۴۴ء۔۔۔ ۵۷۵ھ/ ۱۱۷۹ء) غجدوان نزد بخارا
قطعۂ تاریخِ وصال:
عمر بھر آپ نے فرمائی ہے دیں کی تبلیغ
ہے بزرگوں کی روایت سے یہ روشن صابر
ہم پہ اللہ کا انعام ہیں عبدالخالق
’’حامیِ داعیِ اسلام ہیں عبدالخالق‘‘
۱۱۷۹ء
(صاؔبر براری، کراچی)
آپ حضرت خواجہ یوسف ہمدانی رحمہ اللہ کے خلیفۂ اعظم، سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے سردار اور طبقۂ خواجگان کے سرِ دفتر ہیں۔ آپ ہمیشہ راہِ صدق و صفاء متابعتِ شرع و سنتِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور مخالفتِ بدعت و ہوا میں ساعی و کوشاں رہے۔ آپ کی ولادت ۲۲؍شعبان ۴۳۵ھ/ ۱۰۴۴ء کو غجدوان میں ہوئی۔
آپ کے والدِ گرامی قدر کا نام عبدالجمیل یا عبد الجلیل ہے جو امام عبدالجمیل (یا عبدالجلیل) کے نام سے مشہور و متعارف تھے۔ وہ اپنے وقت کے مقتدر پیشوا، عالمِ ظاہر و باطن اور حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی اولادِ امجاد میں سے تھے۔ چونکہ اُن کی شادی روم کے شاہی خاندان میں ہوئی تھی۔ اس لیے روم میں رہا کرتے تھے اور حضرت خضر علیہ السلام کے صحبت دار تھے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اُن کو بشارت دی تھی کہ تمہارے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ اس کا نام عبدالخالق رکھنا۔ حوادث روزگار کے سبب روم سے نکل کر ماوراء النہر کی طرف نکلے اور ولایتِ بخارا میں پہنچ کر بخارا سے چھ فرسنگ (اٹھارہ میل) کے فاصلے پر غجدان میں سکونت پذیر ہوئے جہاں آفتابِ طریقت اور ماہتابِ معرفت خواجہ عبدالخالق متولد ہوئے اور پرورش پائی۔
حضرت خواجہ عبدالخالق رحمہ اللہ نے تعلیم حضرت شیخ صدرالدین قاضیٔ بخارا سے پائی اور اجازتِ ذکرِ خفی و ذکرِ نفی و اثبات حضرت خضر علیہ السلام سے پائی۔ حضرت خواجۂ خواجگان خواجہ بہاؤ الدین نقشبند بخاری قدس سرہ فرماتے ہیں کہ جن دنوں خواجہ عبداالخالق اپنے استاد شیخ صدرالدین کے حضور تفسیر پڑھ رہے تھے تو جب اس آیت پر پہنچے:
اُدْعُوْ رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ (اعراف۔ ع ۷)
’’تم اپنے رب کو زاری اور پوشیدگی کے ساتھ پکارو تحقیق وہ حد سے زیادہ تجاوز کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا‘‘۔
تو آپ نے استاد سے پوچھا کہ اس پوشیدگی کی حقیقت اور اُس کا طریقہ کیا ہے؟ اگر ذاکر بلند آواز سے ذکر کرے یا ذکر کرتے وقت اعضاء سے حرکت کرے تو غیر شخص اُس ذکر سے واقف ہوجاتا ہے اور اگر دل سے کرے تو بحکمِ حدیث شریف الشیطان یجری من الانسان مجری الدم (ابوداؤد) (شیطان انسان میں خون کی طرح چلتا ہے) شیطان ذکر سے واقف ہوجاتا ہے۔ اُستاد نے فرمایا کہ یہ علمِ لدنی ہے، اگر خدا نے چاہا تو اہل اللہ میں سے کوئی تمہیں مل جائے گا اور بتادے گا۔ اس کے بعد آپ اولیاء اللہ کی تلاش میں رہے یہاں تک کہ ایک روز حضرت خضر علیہ السلام سے شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے تمہیں اپنی فرزندی میں قبول کیا اور تمہیں ایک سبق بتاتا ہوں ، اُسے ہمیشہ دہراتے رہنا تم پر اسرار کھل جائیں گے پھر وقوفِ عددی کی تعلیم دی اور فرمایا کہ حوض میں اترو، غوطہ لگاؤ اور دل سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُوْل اللہ کہو، آپ نے اسی طرح کیا اور اس ورد میں مشغول و مصروف رہے۔ یہاں تک کہ بہت سے اسرار کھل گئے۔ بعد ازاں جب حضرت یوسف ہمدانی بخارا میں تشریف لائے تو جب تک ان کا قیام بخارا میں رہا۔ اُن کی خدمت میں حاضر ہوکر فیوض و برکات حاصل کرتے رہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت خضر علیہ السلام آپ کے پیر سبق ہیں اور حضرت خواجہ یوسف ہمدانی پیر صحبت و پیرِ خرقہ، اگرچہ خواجہ یوسف ہمدانی رحمہ اللہ اور اُن کے مشائخ ذکر بالجہر کیا کرتے تھے لیکن چونکہ آپ کو ذکرِ خفی کی تلقین حضرت خضر علیہ السلام سے تھی بدیں وجہ حضرت خواجہ ابویوسف ہمدانی رحمہ اللہ نے اس میں رد و بدل نہیں کیا بلکہ فرمایا کہ جس طرح تمہیں تلقین ہوئی ہے کیے جاؤ۔
آپ نے اپنی بعض تحریروں میں ذکر کیا ہے کہ جب حضرت خضر علیہ السلام نے مجھے حضرت خواجہ ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کے سپرد کیا تو اُس وقت میری عمر بائیس سال کی تھی ایک مدت کے بعد حضرت خواجہ ابویوسف رحمہ اللہ خراسان میں آگئے تو آپ ریاضات و مجاہدات میں مشغول ہوگئے اور اپنے حالات پوشیدہ رکھا کرتے تھے ملک شام میں بہت سے لوگ آپ کے مرید ہوگئے اور وہاں خانقاہ و آستانہ بن گیا۔
ایک روز ایک درویش نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر خدا تعالیٰ مجھے یہ اختیار دے کہ دوزخ و بہشت میں سے ایک کو اختیار کرلے تو میں دوزخ کو اختیار کروں گا۔ کیونکہ میں تمام عمر اپنے نفس کی خواہش پر نہیں چلا اور اُس صورت میں بہشت میرے نفس کی مراد ہوگی، آپ نے اُس درویش کی بات کی تردید کی اور فرمایا کہ بندے کو اختیار سے کیا کام؟ جہاں مالک بھیجے لا جائے اور جہاں ٹھہرائے ٹھہرجائے۔ بندگی اسی چیز کا نام ہے ناکہ جو تم کہہ رہے ہو، اُس درویش نے پوچھا کہ سالکانِ طریقت پر شیطان کا غلبہ ہوتا ہے کہ نہیں، آپ نے فرمایا جو سالک مقامِ فنائے نفس کو
غجدوان نزد بخارا (۴۳۵ھ/۱۰۴۴ء۔۔۔ ۵۷۵ھ/ ۱۱۷۹ء) غجدوان نزد بخارا
قطعۂ تاریخِ وصال:
عمر بھر آپ نے فرمائی ہے دیں کی تبلیغ
ہے بزرگوں کی روایت سے یہ روشن صابر
ہم پہ اللہ کا انعام ہیں عبدالخالق
’’حامیِ داعیِ اسلام ہیں عبدالخالق‘‘
۱۱۷۹ء
(صاؔبر براری، کراچی)
آپ حضرت خواجہ یوسف ہمدانی رحمہ اللہ کے خلیفۂ اعظم، سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے سردار اور طبقۂ خواجگان کے سرِ دفتر ہیں۔ آپ ہمیشہ راہِ صدق و صفاء متابعتِ شرع و سنتِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور مخالفتِ بدعت و ہوا میں ساعی و کوشاں رہے۔ آپ کی ولادت ۲۲؍شعبان ۴۳۵ھ/ ۱۰۴۴ء کو غجدوان میں ہوئی۔
آپ کے والدِ گرامی قدر کا نام عبدالجمیل یا عبد الجلیل ہے جو امام عبدالجمیل (یا عبدالجلیل) کے نام سے مشہور و متعارف تھے۔ وہ اپنے وقت کے مقتدر پیشوا، عالمِ ظاہر و باطن اور حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی اولادِ امجاد میں سے تھے۔ چونکہ اُن کی شادی روم کے شاہی خاندان میں ہوئی تھی۔ اس لیے روم میں رہا کرتے تھے اور حضرت خضر علیہ السلام کے صحبت دار تھے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اُن کو بشارت دی تھی کہ تمہارے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ اس کا نام عبدالخالق رکھنا۔ حوادث روزگار کے سبب روم سے نکل کر ماوراء النہر کی طرف نکلے اور ولایتِ بخارا میں پہنچ کر بخارا سے چھ فرسنگ (اٹھارہ میل) کے فاصلے پر غجدان میں سکونت پذیر ہوئے جہاں آفتابِ طریقت اور ماہتابِ معرفت خواجہ عبدالخالق متولد ہوئے اور پرورش پائی۔
حضرت خواجہ عبدالخالق رحمہ اللہ نے تعلیم حضرت شیخ صدرالدین قاضیٔ بخارا سے پائی اور اجازتِ ذکرِ خفی و ذکرِ نفی و اثبات حضرت خضر علیہ السلام سے پائی۔ حضرت خواجۂ خواجگان خواجہ بہاؤ الدین نقشبند بخاری قدس سرہ فرماتے ہیں کہ جن دنوں خواجہ عبداالخالق اپنے استاد شیخ صدرالدین کے حضور تفسیر پڑھ رہے تھے تو جب اس آیت پر پہنچے:
اُدْعُوْ رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ (اعراف۔ ع ۷)
’’تم اپنے رب کو زاری اور پوشیدگی کے ساتھ پکارو تحقیق وہ حد سے زیادہ تجاوز کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا‘‘۔
تو آپ نے استاد سے پوچھا کہ اس پوشیدگی کی حقیقت اور اُس کا طریقہ کیا ہے؟ اگر ذاکر بلند آواز سے ذکر کرے یا ذکر کرتے وقت اعضاء سے حرکت کرے تو غیر شخص اُس ذکر سے واقف ہوجاتا ہے اور اگر دل سے کرے تو بحکمِ حدیث شریف الشیطان یجری من الانسان مجری الدم (ابوداؤد) (شیطان انسان میں خون کی طرح چلتا ہے) شیطان ذکر سے واقف ہوجاتا ہے۔ اُستاد نے فرمایا کہ یہ علمِ لدنی ہے، اگر خدا نے چاہا تو اہل اللہ میں سے کوئی تمہیں مل جائے گا اور بتادے گا۔ اس کے بعد آپ اولیاء اللہ کی تلاش میں رہے یہاں تک کہ ایک روز حضرت خضر علیہ السلام سے شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے تمہیں اپنی فرزندی میں قبول کیا اور تمہیں ایک سبق بتاتا ہوں ، اُسے ہمیشہ دہراتے رہنا تم پر اسرار کھل جائیں گے پھر وقوفِ عددی کی تعلیم دی اور فرمایا کہ حوض میں اترو، غوطہ لگاؤ اور دل سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُوْل اللہ کہو، آپ نے اسی طرح کیا اور اس ورد میں مشغول و مصروف رہے۔ یہاں تک کہ بہت سے اسرار کھل گئے۔ بعد ازاں جب حضرت یوسف ہمدانی بخارا میں تشریف لائے تو جب تک ان کا قیام بخارا میں رہا۔ اُن کی خدمت میں حاضر ہوکر فیوض و برکات حاصل کرتے رہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت خضر علیہ السلام آپ کے پیر سبق ہیں اور حضرت خواجہ یوسف ہمدانی پیر صحبت و پیرِ خرقہ، اگرچہ خواجہ یوسف ہمدانی رحمہ اللہ اور اُن کے مشائخ ذکر بالجہر کیا کرتے تھے لیکن چونکہ آپ کو ذکرِ خفی کی تلقین حضرت خضر علیہ السلام سے تھی بدیں وجہ حضرت خواجہ ابویوسف ہمدانی رحمہ اللہ نے اس میں رد و بدل نہیں کیا بلکہ فرمایا کہ جس طرح تمہیں تلقین ہوئی ہے کیے جاؤ۔
آپ نے اپنی بعض تحریروں میں ذکر کیا ہے کہ جب حضرت خضر علیہ السلام نے مجھے حضرت خواجہ ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کے سپرد کیا تو اُس وقت میری عمر بائیس سال کی تھی ایک مدت کے بعد حضرت خواجہ ابویوسف رحمہ اللہ خراسان میں آگئے تو آپ ریاضات و مجاہدات میں مشغول ہوگئے اور اپنے حالات پوشیدہ رکھا کرتے تھے ملک شام میں بہت سے لوگ آپ کے مرید ہوگئے اور وہاں خانقاہ و آستانہ بن گیا۔
ایک روز ایک درویش نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر خدا تعالیٰ مجھے یہ اختیار دے کہ دوزخ و بہشت میں سے ایک کو اختیار کرلے تو میں دوزخ کو اختیار کروں گا۔ کیونکہ میں تمام عمر اپنے نفس کی خواہش پر نہیں چلا اور اُس صورت میں بہشت میرے نفس کی مراد ہوگی، آپ نے اُس درویش کی بات کی تردید کی اور فرمایا کہ بندے کو اختیار سے کیا کام؟ جہاں مالک بھیجے لا جائے اور جہاں ٹھہرائے ٹھہرجائے۔ بندگی اسی چیز کا نام ہے ناکہ جو تم کہہ رہے ہو، اُس درویش نے پوچھا کہ سالکانِ طریقت پر شیطان کا غلبہ ہوتا ہے کہ نہیں، آپ نے فرمایا جو سالک مقامِ فنائے نفس کو
نہ پہنچا ہو غصہ کے وقت شیطان اُس پر قابو پاتا ہے لیکن جو اُس مقام پر پہنچ گیا ہو اُس کو غصہ نہیں آتا بلکہ غیرت آتی ہے اور جہاں غیرت ہوتی ہے وہاں سے شیطان بھاگ جاتا ہے اور یہ صفت اُس شخص میں ہوتی ہے جو کتاب اللہ کو دائیں ہاتھ میں اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بائیں ہاتھ میں لیے ہوئے ہو اور اُن دونوں کی روشنی میں راستہ چلتا ہو۔
ایک روز آپ اپنے عبادت خانے میں رو رہے تھے، مریدوں نے عرض کیا کہ آپ کے اقوال و افعال ایسے عمدہ اور اچھے ہیں کہ اُن کی نظیر نہیں ملتی، پھر یہ رونے اور خوف کھانے کی وجہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کی بے نیازی کا خیال کرتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جان قلب و روح سے نکلا چاہتی ہے، خوف اس وجہ سے آتا ہے کہ شاید بلا ارادہ اور نادانستہ طور پر مجھ سے کوئی ایسا کام سرزد ہوجائے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہو، آپ جس جگہ بیٹھتے تو خوفِ خدا کی وجہ سے حالت ایسی ہوتی کہ گویا آپ کو قتل کرنے کے لیے بٹھایا گیا ہے۔
کرامات:
۱۔ ایک دن آپ کثیرالتعداد مجمع کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک نوجوان لباس زاہدانہ پہنے جانماز کندھے پر ڈالے ہوئے آیا اور ایک کونہ میں بیٹھ گیا، آپ نے اُسے بغور دیکھا اور خاموشی اختیار فرمائی، تھوڑی دیر کے بعد وہ جوان اُٹھا اور کہنے لگا کہ حدیث شریف میں جو آیا ہے اَتَّقُوا فَرسْتَ مُوْمِن فَاِنَّہٗ یَنْظِرْ بِنُوْرِ اللہ۔ (مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے) اس کا مطلب کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنا زنار توڑ ڈال اور مشرف بہ ایمان ہوجا۔ جوان نے کہا خدا نہ کرے کہ میں زنار پہنوں، آپ نے خادم کو اشارہ کیا، خادم نے اس کے کپڑے اتار کر دیکھا تو زنار موجود تھا۔ اس جوان نے فی الفور زنار توڑ کر توبہ کی اور ایمان قبول کرلیا۔ اس پر آپ نے لوگوں سے فرمایا، یارو! آؤ ہم بھی اس نومسلم کی طرح زنار توڑ ڈالیں اور ایمان لائیں جس طرح اس نے زنارِ ظاہری توڑا ہے ہم اپنے زنارِ باطنی (خودپسندی) کو توڑ ڈالیں تاکہ اس کی طرح ہم بھی بخشے جاویں، یہ سن کر حاضرین پر عجب کیفیت طاری ہوئی اور سب کے سب آپ کے قدموں پر گر کر توبہ کرنے لگے۔
۲۔ بخارا شہر میں ایک عورت مجذوبہ برہنہ حالت میں گلی کوچوں میں پھرا کرتی تھی، لوگوں نے اُس سے پوچھا کہ تو کپڑے کیوں نہیں پہنتی، وہ کہنے لگی کہ اس شہر میں کوئی مرد ہے کہ جس سے پردہ کروں؟ ایک روز صبح کے وقت نانبائی کی دکان پر گئی، تنور گرم تھا، اُس میں چھلانگ لگادی اور کہا کہ اس کا منہ بند کردو کیونکہ ایک مرد اس شہر میں داخل ہوگیا ہے، اُس سے اپنے آپ کو چھپاتی ہوں، تھوڑی بعد لوگوں نے تنور کا منہ کھولا اور پوچھا کہ کیا حال ہے۔ اُس نے کہا کپڑے لاؤ تاکہ پہنوں، چنانچہ کپڑے لائے گئے، وہ کپڑے پہن کر تنور سے صحیح سلامت نکلی۔ ایک بال کا بھی نقصان نہیں ہوا تھا، سب لوگ حیران رہ گئے کہ یہ تو ولیہ ہے، سب نے قسم دے کر پوچھا کہ سچ بتا وہ مرد کون ہے جس سے تو پردہ کرتی ہے؟ اس نے کہا کہ میرے ساتھ آؤ کہ میں اُن کی زیارت کو جا رہی ہوں۔ وہ سیدھی آپ (خواجہ عبدالخالق) کے پاس گئی جبکہ آپ ابھی ابھی غجدوان سے آکر بخارا شہر میں داخل ہوئے تھے، آپ اُسے دیکھ کر تعظیم کے لیے اُٹھے اور آپس میں کچھ باتیں ہوئیں جو وہی سمجھی یا آپ سمجھے۔
۳۔ ایک مرتبہ آپ مع مریدوں کے حجِ بیت اللہ کے لیے جا رہے تھے۔ راہ میں شدتِ پیاس نے غلبہ کیا۔ ناگاہ ایک کنویں پر پہنچے مگر وہاں رسی اور ڈول نہ تھا۔ نہایت مایوسی ہوئی، آپ نے فرمایا کہ میں تو نماز پڑھتا ہوں، تم پانی پیو اور وضو کرو، مریدوں نے جو یہ سنا تو سمجھ گئے کہ اس میں کچھ بھید ہے، پھر کنویں پر گئے تو آپ کی برکت سے پانی کناروں تک آگیا تھا۔ سب نے جی بھر کر پانی پیا اور وضو کیا، ایک شخص نے ایک برتن پانی سے بھرلیا تو پانی فی الفور کنویں کی تہہ تک پہنچ گیا یہ بات کسی نے آپ سے عرض کی تو فرمایا: یاروں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہ کیا ورنہ پانی قیامت تک اُوپر ہی رہتا۔
۴۔ آپ کی ولایت اس مرتبہ تک پہنچ گئی تھی کہ ہر نماز کے وقت آپ کو خانہ کعبہ جاتے اور واپس آجاتے۔
جب آپ کا آخری وقت آیا تو مرید و فرزند وہاں موجود تھے۔ آپ نے آنکھ کھول کر فرمایا: ’’اے عزیزو! خوشخبری ہو کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہے اور اپنی رضا کی بشارت دی ہے‘‘۔ تمام لوگ رونے لگے اور عرض کی کہ ہمارے لیے بھی دعا فرمائیں، آپ نے فرمایا تم کو بھی بشارت ہو اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے کہ جو شخص اس طریقہ پر تا آخر استقامت رکھے گا میں اس پر رحمت کروں گاو راُسے بخش دوں گا، کوشش کرو کہ اس طریقہ سے علیحدہ نہ رہو‘‘۔ تھوڑی دیر بعد آواز آئی یٰاَیّھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃ ارجعِی الیٰ ربک رَاضیۃ مرضیہ لوگوں نے جو خیال کیا تو آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کرچکی تھی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ تاریخ وفات ۱۲؍ربیع الاوّل ۵۷۵ھ/ ۱۱۷۹ء ہے۔ مرقد اقدس غجدوان نزد بخارا م
ایک روز آپ اپنے عبادت خانے میں رو رہے تھے، مریدوں نے عرض کیا کہ آپ کے اقوال و افعال ایسے عمدہ اور اچھے ہیں کہ اُن کی نظیر نہیں ملتی، پھر یہ رونے اور خوف کھانے کی وجہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کی بے نیازی کا خیال کرتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جان قلب و روح سے نکلا چاہتی ہے، خوف اس وجہ سے آتا ہے کہ شاید بلا ارادہ اور نادانستہ طور پر مجھ سے کوئی ایسا کام سرزد ہوجائے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہو، آپ جس جگہ بیٹھتے تو خوفِ خدا کی وجہ سے حالت ایسی ہوتی کہ گویا آپ کو قتل کرنے کے لیے بٹھایا گیا ہے۔
کرامات:
۱۔ ایک دن آپ کثیرالتعداد مجمع کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک نوجوان لباس زاہدانہ پہنے جانماز کندھے پر ڈالے ہوئے آیا اور ایک کونہ میں بیٹھ گیا، آپ نے اُسے بغور دیکھا اور خاموشی اختیار فرمائی، تھوڑی دیر کے بعد وہ جوان اُٹھا اور کہنے لگا کہ حدیث شریف میں جو آیا ہے اَتَّقُوا فَرسْتَ مُوْمِن فَاِنَّہٗ یَنْظِرْ بِنُوْرِ اللہ۔ (مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے) اس کا مطلب کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنا زنار توڑ ڈال اور مشرف بہ ایمان ہوجا۔ جوان نے کہا خدا نہ کرے کہ میں زنار پہنوں، آپ نے خادم کو اشارہ کیا، خادم نے اس کے کپڑے اتار کر دیکھا تو زنار موجود تھا۔ اس جوان نے فی الفور زنار توڑ کر توبہ کی اور ایمان قبول کرلیا۔ اس پر آپ نے لوگوں سے فرمایا، یارو! آؤ ہم بھی اس نومسلم کی طرح زنار توڑ ڈالیں اور ایمان لائیں جس طرح اس نے زنارِ ظاہری توڑا ہے ہم اپنے زنارِ باطنی (خودپسندی) کو توڑ ڈالیں تاکہ اس کی طرح ہم بھی بخشے جاویں، یہ سن کر حاضرین پر عجب کیفیت طاری ہوئی اور سب کے سب آپ کے قدموں پر گر کر توبہ کرنے لگے۔
۲۔ بخارا شہر میں ایک عورت مجذوبہ برہنہ حالت میں گلی کوچوں میں پھرا کرتی تھی، لوگوں نے اُس سے پوچھا کہ تو کپڑے کیوں نہیں پہنتی، وہ کہنے لگی کہ اس شہر میں کوئی مرد ہے کہ جس سے پردہ کروں؟ ایک روز صبح کے وقت نانبائی کی دکان پر گئی، تنور گرم تھا، اُس میں چھلانگ لگادی اور کہا کہ اس کا منہ بند کردو کیونکہ ایک مرد اس شہر میں داخل ہوگیا ہے، اُس سے اپنے آپ کو چھپاتی ہوں، تھوڑی بعد لوگوں نے تنور کا منہ کھولا اور پوچھا کہ کیا حال ہے۔ اُس نے کہا کپڑے لاؤ تاکہ پہنوں، چنانچہ کپڑے لائے گئے، وہ کپڑے پہن کر تنور سے صحیح سلامت نکلی۔ ایک بال کا بھی نقصان نہیں ہوا تھا، سب لوگ حیران رہ گئے کہ یہ تو ولیہ ہے، سب نے قسم دے کر پوچھا کہ سچ بتا وہ مرد کون ہے جس سے تو پردہ کرتی ہے؟ اس نے کہا کہ میرے ساتھ آؤ کہ میں اُن کی زیارت کو جا رہی ہوں۔ وہ سیدھی آپ (خواجہ عبدالخالق) کے پاس گئی جبکہ آپ ابھی ابھی غجدوان سے آکر بخارا شہر میں داخل ہوئے تھے، آپ اُسے دیکھ کر تعظیم کے لیے اُٹھے اور آپس میں کچھ باتیں ہوئیں جو وہی سمجھی یا آپ سمجھے۔
۳۔ ایک مرتبہ آپ مع مریدوں کے حجِ بیت اللہ کے لیے جا رہے تھے۔ راہ میں شدتِ پیاس نے غلبہ کیا۔ ناگاہ ایک کنویں پر پہنچے مگر وہاں رسی اور ڈول نہ تھا۔ نہایت مایوسی ہوئی، آپ نے فرمایا کہ میں تو نماز پڑھتا ہوں، تم پانی پیو اور وضو کرو، مریدوں نے جو یہ سنا تو سمجھ گئے کہ اس میں کچھ بھید ہے، پھر کنویں پر گئے تو آپ کی برکت سے پانی کناروں تک آگیا تھا۔ سب نے جی بھر کر پانی پیا اور وضو کیا، ایک شخص نے ایک برتن پانی سے بھرلیا تو پانی فی الفور کنویں کی تہہ تک پہنچ گیا یہ بات کسی نے آپ سے عرض کی تو فرمایا: یاروں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہ کیا ورنہ پانی قیامت تک اُوپر ہی رہتا۔
۴۔ آپ کی ولایت اس مرتبہ تک پہنچ گئی تھی کہ ہر نماز کے وقت آپ کو خانہ کعبہ جاتے اور واپس آجاتے۔
جب آپ کا آخری وقت آیا تو مرید و فرزند وہاں موجود تھے۔ آپ نے آنکھ کھول کر فرمایا: ’’اے عزیزو! خوشخبری ہو کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہے اور اپنی رضا کی بشارت دی ہے‘‘۔ تمام لوگ رونے لگے اور عرض کی کہ ہمارے لیے بھی دعا فرمائیں، آپ نے فرمایا تم کو بھی بشارت ہو اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے کہ جو شخص اس طریقہ پر تا آخر استقامت رکھے گا میں اس پر رحمت کروں گاو راُسے بخش دوں گا، کوشش کرو کہ اس طریقہ سے علیحدہ نہ رہو‘‘۔ تھوڑی دیر بعد آواز آئی یٰاَیّھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃ ارجعِی الیٰ ربک رَاضیۃ مرضیہ لوگوں نے جو خیال کیا تو آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کرچکی تھی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ تاریخ وفات ۱۲؍ربیع الاوّل ۵۷۵ھ/ ۱۱۷۹ء ہے۔ مرقد اقدس غجدوان نزد بخارا م
👍1
یں باعثِ تسکین عاشقاں ہے۔
ارشادات قدسیہ:
آپ کے کلماتِ قدسیہ میں آپ کی اصطلاحات ہیں جن پر طریقۂ نقشبندیہ کی بنا ہے، یہ آٹھ کلمے ہیں، ۱۔ ہوش دردم، ۲۔ نظر بر قدم، ۳۔ سفر ور وطن، ۴۔ خلوت در انجمن، ۵۔یاد کرد، ۶۔باز گشت، ۷۔نگاہداشت، ۸۔ یادشات۔ ان آٹھ کے علاوہ تین کلمے اور بھی ہیں جو مصطلحاتِ نقشبندیہ میں سے ہیں۔ ۱۔وقوفِ عددی، ۲۔وقوفِ زمانی، ۳۔وقوفِ قلبی۔ ان گیارہ کلمات پر طریقہ عالیہ نقشبندیہ کی بنیاد ہے جن کی مختصر سی تشریح درجِ ذیل ہے۔
۱۔ ہوش دردم:
اس سے مراد یہ ہے کہ سالک کا ہر سانس حضور و آگاہی سے ہو نہ کہ غفلت سے یعنی کسی سانس میں خدا سے غافل نہ رہے۔ حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبند قدس سرہ فرماتے ہیں کہ کسی سانس کو ضائع نہ ہونے دو، سانس کے خروج و دخول میں اور خروج و دخول کے درمیان محافظت چاہیے کہ کوئی وقفہ غفلت کا نہ پایا جائے۔
۲۔ نظر بر قدم:
اس سے مراد یہ ہے کہ نظر اپنے پاؤں کی پشت پر رکھے تاکہ بے جا نظر نہ پڑے اور دل محسوساتِ متفرقہ سے پراگندہ نہ ہوجائے۔ پس راہ چلتے اِدھر اُدھر نہ دیکھے کہ موجبِ فساد عظیم و مانع حصولِ مقصود ہے۔ یہ عمل تفرقہ بیرونی کے دفعیہ کے لیے ہے جیسا کہ ہوش دردم تفرقہ اندرونی کے دفیعہ کے واسطے ہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ سالک کا قدمِ باطن اُس کی نظرِ باطن سے پیچھے نہ رہے۔ رُشحات میں ہے کہ شاید نظر برقدم، سُرعتِ سیر کی طرف اشارہ ہے یعنی مسافت ہستی کے قطع کرنے اور عقباتِ خود پرستی کے طے کرنے میں قدم نظر سے پیچھے نہ رہے بلکہ منتہائے نظر پر پڑے۔ چنانچہ مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند قدس سرہ کی مدح میں فرماتے ہیں ؎
بسکہ خود کردہ بسرعت سفر
باز نماندہ قدمش از نظر
۳۔ سفر در وطن:
یعنی سیرورا نفس سے مراد صفاتِ ذمیمہ سے صفاتِ حمیدہ کی طرف انتقال کرنا ہے۔ خواجگانِ نقشبندیہ نے مقام بقا میں جو سیرانفسی سے تعلق رکھتا ہے۔ بجائے سیر آفاقی کے اسی سفر کیفی کو اختیار کیا ہے۔ اور سفر ظاہر اتنا ہی کرتے ہیں کہ پیرِ کامل تک پہنچ جائیں۔ دوسری حرکت جائز نہیں رکھتے اور ملازمتِ شیخ سے دوری نہیں چاہتے اور ملکۂ آگاہی کے لیے پوری پوری کوشش کرتے ہیں اس لیے وہ سیر آفاقی کو جو دور دراز راستہ ہے حتی الامکان پسند نہیں کرتے بلکہ سیر انفسی کے ضمن میں اُسے قطع کرتے ہیں اور ملکۂ آگاہی کے حصول کے بعد سفر کرتے ہیں یا اقامت۔ دوسرے سلسلوں میں سلوک کو سیرِ آفاقی سے شروع کرتے ہیں اور سیر انفسی پر ختم کرتے ہیں۔ سیر انفسی سے شروع کرنا سلسلۂ نقشبندیہ کا خاصہ ہے۔ اندراج نہایت در بدایت کے یہی معنی ہیں کہ سیر انفسی جو دوسروں کی نہایت (انتہاء) ہے وہ اکابرِ نقشبندیہ کی ہدایت (ابتداء) ہے۔
واضح رہے کہ سیر آفاقی مطلوب کو اپنے سے باہر ڈھونڈنا ہے اور سیر انفسی اپنے میں آنا اور اپنے دل کے گرد پھرنا ہے ؎
ہمچو نابینا مبر ہر سوئے دست
با تو زیر گلیم است ہر چہ ہست
مگر شہود انفسی میں گرفتار نہ رہنا چاہیے اور اس کو مطلوب کے ظلال میں سے ایک ظل تصور کرنا چاہیے کیونکہ حضرت حق سبحانہ تعالیٰ جیسا کہ ورائے آفاق ہے، ورائے نفس بھی ہے۔ پس اس کو آفاق و انفس سے باہر طلب کرنا چاہیے۔
۴۔ خلوت در انجمن:
اِس سے مراد یہ ہے کہ انجمن میں جو محلِ تفرقہ ہے۔ ازراہِ باطن مطلوب کے ساتھ خلوت رکھے اور غفلت کو دل میں راہ نہ دے۔ ظاہر میں خلائق کے ساتھ اور باطن میں حق کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ابتداء میں یہ معاملہ بتکلف ہوتا ہے اور انتہا میں بے تکلف ؎
از بروں درمیانِ بازارم
وز دروں خلو تیست بایارم
حضرت خواجہ اولیائے کبیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خلوت در انجمن یہ ہے کہ سالک اگر بازار میں جائے تو ذکر میں استغراق کے سبب سے کوئی آواز نہ سنے۔ حضرت خواجہ عبیداللہ احرار قدس سرہ کا قول ہے کہ ذکر میں جہد و اہتمامِ بلیغ کے ساتھ مشغول ہونے سے سالک کو پانچ چھ روز میں یہ دولت حاصل ہوجاتی ہے۔ حضرت خواجۂ خواجگان خواجہ بہاء الدین نقشبند بخاری قدس سرہ نے اس کلمہ کی جو تشریح کی ہے وہ آگے آئے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ مشائخِ نقشبندیہ بجائے چلہ کے اسی خلوت پر قناعت کرتے ہیں کیونکہ حاصلِ چلہ اس میں داخل ہے اور آفات سے دور ہے۔
۵۔ یاد کرد:
اس سے مراد یہ ہے کہ ہر وقت ذکر میں مشگول رہے خواہ زبانی ہو یا قلبی۔ ذکر کی تلقین کا طریق بیان کرنے کی یہاں ضرورت نہیں۔
۶۔ بازگشت:
اس سے مراد یہ ہے کہ جب ذاکر بطریقِ معہود کلمۂ توحید کا ذکروں سے کرے تو ہر بار کلمۂ توحید کے بعد زبانِ دل سے کہے خدایا مقصود میرا تُو ہے اور تیری رضا۔ مشائخ نقشبندیہ کا معمول یہ ہے کہ کلمۂ توحیدکے تلفظ کے ضمن میں لا مقصود ملاحظہ کرتے ہیں کیونکہ جو معبود ہوتا ہے وہ مقصود ہوتا ہے جیسا کہ آیہ اَفَرَءیْتَ من اتَّخذَ اِلھَہٗ ھَوَہُ سے ظاہر ہے۔
۷۔ نگاہداشت:
اس سے مراد یہ ہے کہ قلب کو خطرات و حدیثِ نفس سے نگاہ میں رکھا جائے یعنی کلمہ طیبہ کے تکرار کے وقت ماسوا قلب میں خطور نہ کرے۔ خطرات کے دور کرنے کے ل
ارشادات قدسیہ:
آپ کے کلماتِ قدسیہ میں آپ کی اصطلاحات ہیں جن پر طریقۂ نقشبندیہ کی بنا ہے، یہ آٹھ کلمے ہیں، ۱۔ ہوش دردم، ۲۔ نظر بر قدم، ۳۔ سفر ور وطن، ۴۔ خلوت در انجمن، ۵۔یاد کرد، ۶۔باز گشت، ۷۔نگاہداشت، ۸۔ یادشات۔ ان آٹھ کے علاوہ تین کلمے اور بھی ہیں جو مصطلحاتِ نقشبندیہ میں سے ہیں۔ ۱۔وقوفِ عددی، ۲۔وقوفِ زمانی، ۳۔وقوفِ قلبی۔ ان گیارہ کلمات پر طریقہ عالیہ نقشبندیہ کی بنیاد ہے جن کی مختصر سی تشریح درجِ ذیل ہے۔
۱۔ ہوش دردم:
اس سے مراد یہ ہے کہ سالک کا ہر سانس حضور و آگاہی سے ہو نہ کہ غفلت سے یعنی کسی سانس میں خدا سے غافل نہ رہے۔ حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبند قدس سرہ فرماتے ہیں کہ کسی سانس کو ضائع نہ ہونے دو، سانس کے خروج و دخول میں اور خروج و دخول کے درمیان محافظت چاہیے کہ کوئی وقفہ غفلت کا نہ پایا جائے۔
۲۔ نظر بر قدم:
اس سے مراد یہ ہے کہ نظر اپنے پاؤں کی پشت پر رکھے تاکہ بے جا نظر نہ پڑے اور دل محسوساتِ متفرقہ سے پراگندہ نہ ہوجائے۔ پس راہ چلتے اِدھر اُدھر نہ دیکھے کہ موجبِ فساد عظیم و مانع حصولِ مقصود ہے۔ یہ عمل تفرقہ بیرونی کے دفعیہ کے لیے ہے جیسا کہ ہوش دردم تفرقہ اندرونی کے دفیعہ کے واسطے ہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ سالک کا قدمِ باطن اُس کی نظرِ باطن سے پیچھے نہ رہے۔ رُشحات میں ہے کہ شاید نظر برقدم، سُرعتِ سیر کی طرف اشارہ ہے یعنی مسافت ہستی کے قطع کرنے اور عقباتِ خود پرستی کے طے کرنے میں قدم نظر سے پیچھے نہ رہے بلکہ منتہائے نظر پر پڑے۔ چنانچہ مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند قدس سرہ کی مدح میں فرماتے ہیں ؎
بسکہ خود کردہ بسرعت سفر
باز نماندہ قدمش از نظر
۳۔ سفر در وطن:
یعنی سیرورا نفس سے مراد صفاتِ ذمیمہ سے صفاتِ حمیدہ کی طرف انتقال کرنا ہے۔ خواجگانِ نقشبندیہ نے مقام بقا میں جو سیرانفسی سے تعلق رکھتا ہے۔ بجائے سیر آفاقی کے اسی سفر کیفی کو اختیار کیا ہے۔ اور سفر ظاہر اتنا ہی کرتے ہیں کہ پیرِ کامل تک پہنچ جائیں۔ دوسری حرکت جائز نہیں رکھتے اور ملازمتِ شیخ سے دوری نہیں چاہتے اور ملکۂ آگاہی کے لیے پوری پوری کوشش کرتے ہیں اس لیے وہ سیر آفاقی کو جو دور دراز راستہ ہے حتی الامکان پسند نہیں کرتے بلکہ سیر انفسی کے ضمن میں اُسے قطع کرتے ہیں اور ملکۂ آگاہی کے حصول کے بعد سفر کرتے ہیں یا اقامت۔ دوسرے سلسلوں میں سلوک کو سیرِ آفاقی سے شروع کرتے ہیں اور سیر انفسی پر ختم کرتے ہیں۔ سیر انفسی سے شروع کرنا سلسلۂ نقشبندیہ کا خاصہ ہے۔ اندراج نہایت در بدایت کے یہی معنی ہیں کہ سیر انفسی جو دوسروں کی نہایت (انتہاء) ہے وہ اکابرِ نقشبندیہ کی ہدایت (ابتداء) ہے۔
واضح رہے کہ سیر آفاقی مطلوب کو اپنے سے باہر ڈھونڈنا ہے اور سیر انفسی اپنے میں آنا اور اپنے دل کے گرد پھرنا ہے ؎
ہمچو نابینا مبر ہر سوئے دست
با تو زیر گلیم است ہر چہ ہست
مگر شہود انفسی میں گرفتار نہ رہنا چاہیے اور اس کو مطلوب کے ظلال میں سے ایک ظل تصور کرنا چاہیے کیونکہ حضرت حق سبحانہ تعالیٰ جیسا کہ ورائے آفاق ہے، ورائے نفس بھی ہے۔ پس اس کو آفاق و انفس سے باہر طلب کرنا چاہیے۔
۴۔ خلوت در انجمن:
اِس سے مراد یہ ہے کہ انجمن میں جو محلِ تفرقہ ہے۔ ازراہِ باطن مطلوب کے ساتھ خلوت رکھے اور غفلت کو دل میں راہ نہ دے۔ ظاہر میں خلائق کے ساتھ اور باطن میں حق کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ابتداء میں یہ معاملہ بتکلف ہوتا ہے اور انتہا میں بے تکلف ؎
از بروں درمیانِ بازارم
وز دروں خلو تیست بایارم
حضرت خواجہ اولیائے کبیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خلوت در انجمن یہ ہے کہ سالک اگر بازار میں جائے تو ذکر میں استغراق کے سبب سے کوئی آواز نہ سنے۔ حضرت خواجہ عبیداللہ احرار قدس سرہ کا قول ہے کہ ذکر میں جہد و اہتمامِ بلیغ کے ساتھ مشغول ہونے سے سالک کو پانچ چھ روز میں یہ دولت حاصل ہوجاتی ہے۔ حضرت خواجۂ خواجگان خواجہ بہاء الدین نقشبند بخاری قدس سرہ نے اس کلمہ کی جو تشریح کی ہے وہ آگے آئے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ مشائخِ نقشبندیہ بجائے چلہ کے اسی خلوت پر قناعت کرتے ہیں کیونکہ حاصلِ چلہ اس میں داخل ہے اور آفات سے دور ہے۔
۵۔ یاد کرد:
اس سے مراد یہ ہے کہ ہر وقت ذکر میں مشگول رہے خواہ زبانی ہو یا قلبی۔ ذکر کی تلقین کا طریق بیان کرنے کی یہاں ضرورت نہیں۔
۶۔ بازگشت:
اس سے مراد یہ ہے کہ جب ذاکر بطریقِ معہود کلمۂ توحید کا ذکروں سے کرے تو ہر بار کلمۂ توحید کے بعد زبانِ دل سے کہے خدایا مقصود میرا تُو ہے اور تیری رضا۔ مشائخ نقشبندیہ کا معمول یہ ہے کہ کلمۂ توحیدکے تلفظ کے ضمن میں لا مقصود ملاحظہ کرتے ہیں کیونکہ جو معبود ہوتا ہے وہ مقصود ہوتا ہے جیسا کہ آیہ اَفَرَءیْتَ من اتَّخذَ اِلھَہٗ ھَوَہُ سے ظاہر ہے۔
۷۔ نگاہداشت:
اس سے مراد یہ ہے کہ قلب کو خطرات و حدیثِ نفس سے نگاہ میں رکھا جائے یعنی کلمہ طیبہ کے تکرار کے وقت ماسوا قلب میں خطور نہ کرے۔ خطرات کے دور کرنے کے ل
یے کلمہ طیبہ حبسِ دوم کے ساتھ مفید ہے۔
۸۔ یادداشت:
اس سے مراد یہ ہے کہ دوامِ آگاہی بحق سبحانہ برسبیلِ ذوق ؎
وارم ہمہ جاباہمہ کس درہمہ خیال
دردِل ز تو آرزو و در دیدہ خیال
اگر دوامِ آگاہی اس قدر غالب ہو کہ کثرتِ کونیہ اُس کی مزاحم نہ ہو بلکہ اپنے وجود کا بھی شعور نہ رہے تو اسے فناء کہتے ہیں اگر اس بے شعوری کا شعور بھی نہ رہے تو اسے فنائے فنا بولتے ہیں اور عین الیقین بھی کہتے ہیں۔
* انتباہ: حضرت خواجہ ناصرالدین عبیداللہ احرار قدس سرہ نے آخیر کے چار کلموں کی تشریں یوں فرمائی ہے کہ یاد کرو سے مراد ذکر میں تکلف ہے یعنی جس ذکر کی شیخ سے تلقین ہوتی ہے اُس کے تکرار میں بتکلف مشغول رہے، یہاں تک کہ مرتبۂ حضور حاصل ہوجائے اور بازگشت سے مراد رجوع بحق سبحانہ بدیں طور پر کہ جتنی بار کلمہ طیبہ کا ذکر کرے ہر بار اُس کلمہ کے بعد دل میں خیال کرے کہ خدایا مقصود میرا تو ہے اور تیری رضا۔ اور نگاہداشت سے مراد ہے اس رجوع کی محافظت بغیر زبان سے کہنے کے وار یاد داشت سے مراد نگاہداشت میں رسوخ ہے۔
* وقوفِ عددی: سے مراد ذکرِ نفی و اثبات میں عددِ ذکر سے واقف رہنا ہے یعنی ذاکر اس ذکر میں سانس کو عددِ طاق پر چھوڑے نہ کہ جفت پر ، کہتے ہیں کہ آداب و شرائط کی رعایت کے ساتھ ایک سانس میں ۲۱ بار نفی و اثبات کرنا مثمرِ فناء ہے۔ حضرت خواجہ علاء الدین عطار قدس سرہ فرماتے ہیں کہ زیادہ کہنا شرط نہیں جو کچھ کہے وقوف سے کہے جب عدد ۲۱ سے تجاوز کر جائے اور اثر ظاہر نہ ہو تو اس عمل کی بے حاصلی کی دلیل ہے۔ اثرِ ذکر یہ ہے کہ زمانِ نفی میں وجود بشریت منفی ہوجائے اور زمانِ اثبات میں جذباتِ الٰہی کے تصرفات کے آثار میں کوئی اثرمحسوس ہو۔ یہ جو کلامِ خواجگان میں آیا ہے کہ فلاں بزرگ نے فلاں شخص کو وقوفِ عددی کا امر فرمایا اس سے مراد ذکر قلبی مع رعایتِ عدد ہے نہ کہ فقط رعایت عدد۔
* وقوفِ زمانی: اس کے دومعنی ہیں۔ ایک یہ کہ سالک کو چاہیے کہ واقفِ نفس رہے اور پاس انفاس کو ملحوظ رکھے یعنی ہر وقت خیال رکھے کہ سانس حضور میں گزرتا ہے یا غفلت میں دوسرے معنے یہ ہیں کہ بندہ ہر وقت اپنے حال سے واقف رہے، اگر وقت طاعت میں گزرا ہے تو شکر بجالائے اور اگر معسیت میں گزرا ہے تو عذر خواہی کرے۔ اسی طرح حالتِ بسط میں شکر اور حالتِ قبض میں استغفار کرے۔ صوفی کرام کی اصطلاح میں اسے محاسبہ کہتے ہیں، قول باری تعالیٰ: وَاَنِیْبُوْا اِلٰی رَبِّکُمْ وَاَسْلِمُوْا لَہ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاتِیْکُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ[۱] اور قول حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ حَاسبوا قبل ان تحاسبوا[۲] میں اسی محاسبہ کی طرف اشارہ ہے۔
[۱۔اور رجوع کرو اپنے رب کی طرف اور اُس کی فرمانبرداری کرو پہلے اس سے کہ آوے تم پر عذاب۔ پھر کوئی تمہاری مدد کو نہ آئے گا۔(پ۲۴ سورہ زمر۔ ع ۶)]
[۲۔تم محاسبہ کرو پہلے اس سے کہ محاسبہ کیے جاؤ۔]
* وقوفِ قلبی: اس کے دو معنیٰ ہیں، ایک یہ کہ ذکر کے وقت دل حق سبحانہ سے واقف و آگاہ رہے اور یہ مقولہ یاداشت سے ہے۔ دوسرے معنیٰ یہ ہیں کہ بندہ اثنائے ذکر میں قلبِ صنوبری کی طرف متوجہ رہے اور اُسے ذکر میں مشغول کرےاور ذکر اور ذکر کے مفہوم سے غافل نہ ہونے دے۔ حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند قدس سرہ نے ذکر میں حبسِ دم اور رعایت عدد کو لازم قرار نہیں دیا مگر وقوف قلبی بہر دو معنیٰ کو ضروری سمجھا ہے۔ آیہ یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اذْکُرُو اللہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا [۱] میں اسی وقوفِ قلبی کی طرف اشارہ ہے۔ حضرت عروۃ الوثقیٰ خواجہ محمد معصوم قدس سرہ فرماتے ہیں کہ وقوفِ قلبی یہ ہے کہ دل کا نگران و واقف رہے اور قطع نظر ذکر کرکے اُس کی طرف توجہ رکھے تاکہ اس میں تفرقہ راہ نہ پائے اور وہ ماسوائے نقوش سے منقش نہ ہوجائے۔ کہتے ہیں کہ دل بے کار نہیں رہتا یا ماسوا سے ملا رہتا ہے یا مطلوبِ حقیقی سے۔ جب دل ماسوا سے ممنوع ہوگیا تو اُسے مطلوب کی طرف توجہ سے چارہ نہ ہوگا، غرض تم دل کو دشمن سے باز رکھو، دوست کی طلبی کی حاجت نہیں، وہ خود جلوہ گر ہوجائے گا۔
[۱۔ اے ایمان والو! خداکو بہت یاد کرو۔ (پ۲۲۔ سورہ احزاب۔ ع ۶)]
(ب) آپ کا ایک وصیت نامہ آدابِ طریقت کے بارے میں ہے جسے آپ نے اپنے خلیفہ و فرزندِ معنوی خواجہ اولیائے کبیر قدس سرہ کے لیے لکھا ہے۔ ترجمہ ملاحظہ ہو جو سلسلہ نقشبندیہ کے متوسلین کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
’’پیارے فرزند! میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ تقویٰ کو اپنا شعار بناؤ، وظائف و عبادات کی پابندی رکھو، اپنے حالات کی نگہبانی کرتے رہو، خدا تعالیٰ سے ہمیشہ ڈرتے رہو، خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق کو نگاہ میں رکھو۔ ماں باپ اور تمام مشائخ کے حقوق کا خیال رکھو تاکہ ان خصلتوں سے تم رضائے خدا سے مشرف ہوجاؤ۔ خدا تعالیٰ کا حکم بجالاؤ تاکہ وہ تمہارا حافظ رہے۔ تم پر لازم ہے کہ قرآن شریف کا پڑھنا ترک نہ کرو، تلاوت بلند آواز سے ہو یا آہستہ، زبانی ہو یا دیکھ کر۔ قرآن م
۸۔ یادداشت:
اس سے مراد یہ ہے کہ دوامِ آگاہی بحق سبحانہ برسبیلِ ذوق ؎
وارم ہمہ جاباہمہ کس درہمہ خیال
دردِل ز تو آرزو و در دیدہ خیال
اگر دوامِ آگاہی اس قدر غالب ہو کہ کثرتِ کونیہ اُس کی مزاحم نہ ہو بلکہ اپنے وجود کا بھی شعور نہ رہے تو اسے فناء کہتے ہیں اگر اس بے شعوری کا شعور بھی نہ رہے تو اسے فنائے فنا بولتے ہیں اور عین الیقین بھی کہتے ہیں۔
* انتباہ: حضرت خواجہ ناصرالدین عبیداللہ احرار قدس سرہ نے آخیر کے چار کلموں کی تشریں یوں فرمائی ہے کہ یاد کرو سے مراد ذکر میں تکلف ہے یعنی جس ذکر کی شیخ سے تلقین ہوتی ہے اُس کے تکرار میں بتکلف مشغول رہے، یہاں تک کہ مرتبۂ حضور حاصل ہوجائے اور بازگشت سے مراد رجوع بحق سبحانہ بدیں طور پر کہ جتنی بار کلمہ طیبہ کا ذکر کرے ہر بار اُس کلمہ کے بعد دل میں خیال کرے کہ خدایا مقصود میرا تو ہے اور تیری رضا۔ اور نگاہداشت سے مراد ہے اس رجوع کی محافظت بغیر زبان سے کہنے کے وار یاد داشت سے مراد نگاہداشت میں رسوخ ہے۔
* وقوفِ عددی: سے مراد ذکرِ نفی و اثبات میں عددِ ذکر سے واقف رہنا ہے یعنی ذاکر اس ذکر میں سانس کو عددِ طاق پر چھوڑے نہ کہ جفت پر ، کہتے ہیں کہ آداب و شرائط کی رعایت کے ساتھ ایک سانس میں ۲۱ بار نفی و اثبات کرنا مثمرِ فناء ہے۔ حضرت خواجہ علاء الدین عطار قدس سرہ فرماتے ہیں کہ زیادہ کہنا شرط نہیں جو کچھ کہے وقوف سے کہے جب عدد ۲۱ سے تجاوز کر جائے اور اثر ظاہر نہ ہو تو اس عمل کی بے حاصلی کی دلیل ہے۔ اثرِ ذکر یہ ہے کہ زمانِ نفی میں وجود بشریت منفی ہوجائے اور زمانِ اثبات میں جذباتِ الٰہی کے تصرفات کے آثار میں کوئی اثرمحسوس ہو۔ یہ جو کلامِ خواجگان میں آیا ہے کہ فلاں بزرگ نے فلاں شخص کو وقوفِ عددی کا امر فرمایا اس سے مراد ذکر قلبی مع رعایتِ عدد ہے نہ کہ فقط رعایت عدد۔
* وقوفِ زمانی: اس کے دومعنی ہیں۔ ایک یہ کہ سالک کو چاہیے کہ واقفِ نفس رہے اور پاس انفاس کو ملحوظ رکھے یعنی ہر وقت خیال رکھے کہ سانس حضور میں گزرتا ہے یا غفلت میں دوسرے معنے یہ ہیں کہ بندہ ہر وقت اپنے حال سے واقف رہے، اگر وقت طاعت میں گزرا ہے تو شکر بجالائے اور اگر معسیت میں گزرا ہے تو عذر خواہی کرے۔ اسی طرح حالتِ بسط میں شکر اور حالتِ قبض میں استغفار کرے۔ صوفی کرام کی اصطلاح میں اسے محاسبہ کہتے ہیں، قول باری تعالیٰ: وَاَنِیْبُوْا اِلٰی رَبِّکُمْ وَاَسْلِمُوْا لَہ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاتِیْکُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ[۱] اور قول حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ حَاسبوا قبل ان تحاسبوا[۲] میں اسی محاسبہ کی طرف اشارہ ہے۔
[۱۔اور رجوع کرو اپنے رب کی طرف اور اُس کی فرمانبرداری کرو پہلے اس سے کہ آوے تم پر عذاب۔ پھر کوئی تمہاری مدد کو نہ آئے گا۔(پ۲۴ سورہ زمر۔ ع ۶)]
[۲۔تم محاسبہ کرو پہلے اس سے کہ محاسبہ کیے جاؤ۔]
* وقوفِ قلبی: اس کے دو معنیٰ ہیں، ایک یہ کہ ذکر کے وقت دل حق سبحانہ سے واقف و آگاہ رہے اور یہ مقولہ یاداشت سے ہے۔ دوسرے معنیٰ یہ ہیں کہ بندہ اثنائے ذکر میں قلبِ صنوبری کی طرف متوجہ رہے اور اُسے ذکر میں مشغول کرےاور ذکر اور ذکر کے مفہوم سے غافل نہ ہونے دے۔ حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند قدس سرہ نے ذکر میں حبسِ دم اور رعایت عدد کو لازم قرار نہیں دیا مگر وقوف قلبی بہر دو معنیٰ کو ضروری سمجھا ہے۔ آیہ یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اذْکُرُو اللہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا [۱] میں اسی وقوفِ قلبی کی طرف اشارہ ہے۔ حضرت عروۃ الوثقیٰ خواجہ محمد معصوم قدس سرہ فرماتے ہیں کہ وقوفِ قلبی یہ ہے کہ دل کا نگران و واقف رہے اور قطع نظر ذکر کرکے اُس کی طرف توجہ رکھے تاکہ اس میں تفرقہ راہ نہ پائے اور وہ ماسوائے نقوش سے منقش نہ ہوجائے۔ کہتے ہیں کہ دل بے کار نہیں رہتا یا ماسوا سے ملا رہتا ہے یا مطلوبِ حقیقی سے۔ جب دل ماسوا سے ممنوع ہوگیا تو اُسے مطلوب کی طرف توجہ سے چارہ نہ ہوگا، غرض تم دل کو دشمن سے باز رکھو، دوست کی طلبی کی حاجت نہیں، وہ خود جلوہ گر ہوجائے گا۔
[۱۔ اے ایمان والو! خداکو بہت یاد کرو۔ (پ۲۲۔ سورہ احزاب۔ ع ۶)]
(ب) آپ کا ایک وصیت نامہ آدابِ طریقت کے بارے میں ہے جسے آپ نے اپنے خلیفہ و فرزندِ معنوی خواجہ اولیائے کبیر قدس سرہ کے لیے لکھا ہے۔ ترجمہ ملاحظہ ہو جو سلسلہ نقشبندیہ کے متوسلین کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
’’پیارے فرزند! میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ تقویٰ کو اپنا شعار بناؤ، وظائف و عبادات کی پابندی رکھو، اپنے حالات کی نگہبانی کرتے رہو، خدا تعالیٰ سے ہمیشہ ڈرتے رہو، خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق کو نگاہ میں رکھو۔ ماں باپ اور تمام مشائخ کے حقوق کا خیال رکھو تاکہ ان خصلتوں سے تم رضائے خدا سے مشرف ہوجاؤ۔ خدا تعالیٰ کا حکم بجالاؤ تاکہ وہ تمہارا حافظ رہے۔ تم پر لازم ہے کہ قرآن شریف کا پڑھنا ترک نہ کرو، تلاوت بلند آواز سے ہو یا آہستہ، زبانی ہو یا دیکھ کر۔ قرآن م
جید کو غور و تفکر اور خوف و گریہ سے پڑھو، اور تمام امور میں قرآن کی پناہ لو کیونکہ بندوں پر خدا کی حجت قرآن کریم ہے ۔ علمِ فقہ کی طلب سے ایک قدم بھی دور نہ رہو اور حدیث کا علم سیکھو۔ جاہل صوفیوں سے دور رہو کیونکہ وہ دین کے چور اور مسلمانوں کے رہزن ہیں۔ تم پر لازم ہے کہ مذہب اہل سنت و جماعت کے پابند رہو اور آئمہ سلف کے مسلک کو اختیار کرو کیونکہ جو نئی باتیں پیدا ہوئی ہیں وہ گمراہی ہیں۔ عورتوں، نوجوانوں، بدعتیوں اور دولتمندوں سے صحبت مت رکھو کیونکہ یہ دین کو برباد کردیتے ہیں اور دنیا سے دو روٹی پر قناعت کرو، اگر صحبت رکھو تو فقیروں سے رکھو، ہمیشہ خلوت نشین رہو اور حلال کھاؤ کیونکہ حلال نیکی کی کنجی ہے، حرام سے بچو ورنہ خدا تعالیٰ سے دور ہوجاؤ گے۔ اسی پر ثابت رہنا تاکہ کل کو دوزخ کی آگ میں نہ جاؤ، حلال پہنو تاکہ عبادت کی لذت پاؤ، حق تعالیٰ کی جلالت سے ڈرتے رہو اور بھولو مت کہ ایک روز تم موقفِ حساب میں کھڑے ہو گے۔ رات دن نماز بہت پڑھا کرو اور جماعت کو ترک نہ کرو، امام و مؤذن نہ بنو، قبالہ پر اپنا نام نہ لکھو۔ محکمہ قضا میں حاضر نہ ہو۔ خارج از طریقت بادشاہوں کی صحبت میں نہ بیٹھو، لوگوں کی وصیتوں میں دخل نہ دو اور لوگوں سے بھاگو کہ جس طرح شیر سے بھاگتے ہیں تم پر لازم ہے کہ گمنام رہو تاکہ نیک نام ہوجاؤ، تم پر لازم ہے کہ سفر بہت کرو تاکہ تمہارا نفس خواہ ہوجائے، خانقاہ نہ بناؤ اور نہ خانقاہ میں رہو، کسی کی مدح سے مغرور اور کسی کی مذمت سے غمگین نہ ہو۔ بندوں کی مدح و مذمت تمہارے نفس کے نزدیک برابر ہونی چاہیے لوگوں سے حسن خلق سے معاملہ کرو، تم پر لازم ہے کہ تمام حالات میں ادب سے رہو، برے بھلے تمام مخلوقات پر رحم کرو تمہیں قہقہہ مار کر ہنسنا نہ چاہیے کیونکہ قہقہہ غفلت کے
سبب سے ہوتا ہے اور دل کو مردہ کردیتا ہے۔ حضور سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قیامت کے اہوال و شدائد جو مجھے معلوم ہیں اگر تم کو معلوم ہوجائیں تو خندہ (ہنسنا) تھوڑا اور رویا زیادہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نڈر اور اس کی رحمت سے ناامید نہ رہو۔ خوف و امید میں زندگی بسر کرو کیونکہ سالکوں کو کبھی خوف ہوتا ہے اور کبھی امید۔
اے فرزند! شیخ اپنے مرید کے لیے بمنزلہ باپ کے ہے بلکہ باپ سے بھی زیادہ مشفق کیونکہ وہ مرید کو مقامِ قرب میں پہنچا دیتا ہے۔ اگر ہوسکے تو نکاح مت کر، ورنہ طالبِ دنیا بن جاؤ گے اور دنیا کی طلب میں دین کو برباد کردو گے۔ اگر تمہارا نفس نکاح کا مشتاق ہو تو روزے رکھو اور آخرت کے غم میں رہو اور موت کو بہت یاد کرو، طالبِ ریاست مت بنو کیونکہ جو طالبِ ریاست ہو اُسے سالکِ طریقت نہ کہنا چاہیے تم پر لازم ہے کہ فقر میں پرہیز و دیانت اور پرہیزگاری و علم کے ساتھ پاکیزہ رہو اور خدا تعالیٰ کے رستے میں ثابت قدم رہو۔ جاہلوں سے بچو جان و ت ن و مال سے مشائخ کی خدمت کرو، اُن کے دلوں کا خیال رکھو، اُن کی پیروی کرو، اُن کے سیر و سلوک پر نگاہ رکھو۔ اُن میں سے کسی کا انکار نہ کرو سوائے اُن چیزوں کے جو خلافِ شرع ہوں، اگر تم مشائخ کا انکار کرو گے تو کبھی کامیاب نہ ہو گے لوگوں سے کوئی چیز مت مانگو اور کل کے لیے ذخیرہ نہ کرو، حق تعالیٰ کے ذخیروں پر بھروسہ کرو کیونکہ وہ ارشاد فرماتا ہے اے فرزندِ آدم! میں ہر روز تیری روزی تجھے پہنچا دیتا ہوں تو اپنے آپ کو تکلیف نہ دے۔ مقامِ توکل میں قدم رکھو کیونکہ حق تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ (سورۃ الطلاق آیہ۳)
’’جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ اس کے لیے کافی ہے‘‘۔
پس جان لو کہ رزق قسمت میں لکھا ہوا ہے جوان مرد سخی بنو۔ جو کچھ خدا تعالیٰ نے تمہیں دیا ہے تم خلقِ خدا پر خرچ کرو۔ بخل و حسد سے دور رہو کیونکہ بخیل اور حاسد قیامت کے دن دوزخ میں ہوں گے۔ اپنے آپ کو آراستہ مت کرو کیونکہ ظاہر کا آراستہ باطن کی خرابی ہے۔ خدا تعالیٰ کے وعدہ پر بھروسہ کرو اور تمام خلائق سے نااُمید ہوجاؤ اور اُن سے اُنس نہ پکرو۔ سچ بولو اور ڈرو مت۔ مخلوقات میں کسی سے صحبت نہ رکھو کیونکہ وہ تمہارے دین کو برباد کردیں گے اور تم خدا تعالیٰ سے دور ہوجاؤ گے۔ تم پر لازم ہے کہ اپنے نفس کی ضروریات کا خیال رکھو تاکہ وہ درست ہوجائے۔ اپنے نفس کی عزت نہ کرو۔ غیر ضروری باتوں سے زبان کو بند رکھو اور ہمیشہ لوگوں کو نصیحت کرتے رہو، تم پر لازم ہے کہ کم بولو، کم کھاؤ، کم سوؤ اور جلدی اٹھو۔ سماع میں زیادہ نہ بیٹھو کیونکہ سماع کی کثرت سے نفاق پیدا ہوتا ہے اور دل مردہ ہوجاتا ہے۔ سماع کا انکار نہ کرو کیونکہ اصحابِ سماع بہت ہیں۔ سماع روا (جائز) نہیں مگر اس شخص کے لیے جس کا دل زندہ اور نفس مردہ ہو، ورنہ نماز، روزے میں مصروف و مشغول ہونا بہتر ہے۔ چاہیے کہ تمہارا بول غمگین، تمہارا بدن بیمار، تمہاری آنکھ روتی، تمہارا عمل خالص، تمہاری دعا مجاہدہ کے ساتھ، تمہارا کپڑا پرانا، تمہارے رفیق درویش، تمہارا گھر مسجد، تمہارا مال کتبِ دین، تمہاری آرائش،
سبب سے ہوتا ہے اور دل کو مردہ کردیتا ہے۔ حضور سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قیامت کے اہوال و شدائد جو مجھے معلوم ہیں اگر تم کو معلوم ہوجائیں تو خندہ (ہنسنا) تھوڑا اور رویا زیادہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نڈر اور اس کی رحمت سے ناامید نہ رہو۔ خوف و امید میں زندگی بسر کرو کیونکہ سالکوں کو کبھی خوف ہوتا ہے اور کبھی امید۔
اے فرزند! شیخ اپنے مرید کے لیے بمنزلہ باپ کے ہے بلکہ باپ سے بھی زیادہ مشفق کیونکہ وہ مرید کو مقامِ قرب میں پہنچا دیتا ہے۔ اگر ہوسکے تو نکاح مت کر، ورنہ طالبِ دنیا بن جاؤ گے اور دنیا کی طلب میں دین کو برباد کردو گے۔ اگر تمہارا نفس نکاح کا مشتاق ہو تو روزے رکھو اور آخرت کے غم میں رہو اور موت کو بہت یاد کرو، طالبِ ریاست مت بنو کیونکہ جو طالبِ ریاست ہو اُسے سالکِ طریقت نہ کہنا چاہیے تم پر لازم ہے کہ فقر میں پرہیز و دیانت اور پرہیزگاری و علم کے ساتھ پاکیزہ رہو اور خدا تعالیٰ کے رستے میں ثابت قدم رہو۔ جاہلوں سے بچو جان و ت ن و مال سے مشائخ کی خدمت کرو، اُن کے دلوں کا خیال رکھو، اُن کی پیروی کرو، اُن کے سیر و سلوک پر نگاہ رکھو۔ اُن میں سے کسی کا انکار نہ کرو سوائے اُن چیزوں کے جو خلافِ شرع ہوں، اگر تم مشائخ کا انکار کرو گے تو کبھی کامیاب نہ ہو گے لوگوں سے کوئی چیز مت مانگو اور کل کے لیے ذخیرہ نہ کرو، حق تعالیٰ کے ذخیروں پر بھروسہ کرو کیونکہ وہ ارشاد فرماتا ہے اے فرزندِ آدم! میں ہر روز تیری روزی تجھے پہنچا دیتا ہوں تو اپنے آپ کو تکلیف نہ دے۔ مقامِ توکل میں قدم رکھو کیونکہ حق تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ (سورۃ الطلاق آیہ۳)
’’جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ اس کے لیے کافی ہے‘‘۔
پس جان لو کہ رزق قسمت میں لکھا ہوا ہے جوان مرد سخی بنو۔ جو کچھ خدا تعالیٰ نے تمہیں دیا ہے تم خلقِ خدا پر خرچ کرو۔ بخل و حسد سے دور رہو کیونکہ بخیل اور حاسد قیامت کے دن دوزخ میں ہوں گے۔ اپنے آپ کو آراستہ مت کرو کیونکہ ظاہر کا آراستہ باطن کی خرابی ہے۔ خدا تعالیٰ کے وعدہ پر بھروسہ کرو اور تمام خلائق سے نااُمید ہوجاؤ اور اُن سے اُنس نہ پکرو۔ سچ بولو اور ڈرو مت۔ مخلوقات میں کسی سے صحبت نہ رکھو کیونکہ وہ تمہارے دین کو برباد کردیں گے اور تم خدا تعالیٰ سے دور ہوجاؤ گے۔ تم پر لازم ہے کہ اپنے نفس کی ضروریات کا خیال رکھو تاکہ وہ درست ہوجائے۔ اپنے نفس کی عزت نہ کرو۔ غیر ضروری باتوں سے زبان کو بند رکھو اور ہمیشہ لوگوں کو نصیحت کرتے رہو، تم پر لازم ہے کہ کم بولو، کم کھاؤ، کم سوؤ اور جلدی اٹھو۔ سماع میں زیادہ نہ بیٹھو کیونکہ سماع کی کثرت سے نفاق پیدا ہوتا ہے اور دل مردہ ہوجاتا ہے۔ سماع کا انکار نہ کرو کیونکہ اصحابِ سماع بہت ہیں۔ سماع روا (جائز) نہیں مگر اس شخص کے لیے جس کا دل زندہ اور نفس مردہ ہو، ورنہ نماز، روزے میں مصروف و مشغول ہونا بہتر ہے۔ چاہیے کہ تمہارا بول غمگین، تمہارا بدن بیمار، تمہاری آنکھ روتی، تمہارا عمل خالص، تمہاری دعا مجاہدہ کے ساتھ، تمہارا کپڑا پرانا، تمہارے رفیق درویش، تمہارا گھر مسجد، تمہارا مال کتبِ دین، تمہاری آرائش،