🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-10-1444 ᴴ | 12-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-10-1444 ᴴ | 12-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-10-1444 ᴴ | 12-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-10-1444 ᴴ | 12-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانی رحمۃ اللہ علیہ
غجدوان نزد بخارا (۴۳۵ھ/۱۰۴۴ء۔۔۔ ۵۷۵ھ/ ۱۱۷۹ء) غجدوان نزد بخارا
قطعۂ تاریخِ وصال:
عمر بھر آپ نے فرمائی ہے دیں کی تبلیغ
ہے بزرگوں کی روایت سے یہ روشن صابر
ہم پہ اللہ کا انعام ہیں عبدالخالق
’’حامیِ داعیِ اسلام ہیں عبدالخالق‘‘
۱۱۷۹ء
(صاؔبر براری، کراچی)
آپ حضرت خواجہ یوسف ہمدانی رحمہ اللہ کے خلیفۂ اعظم، سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے سردار اور طبقۂ خواجگان کے سرِ دفتر ہیں۔ آپ ہمیشہ راہِ صدق و صفاء متابعتِ شرع و سنتِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور مخالفتِ بدعت و ہوا میں ساعی و کوشاں رہے۔ آپ کی ولادت ۲۲؍شعبان ۴۳۵ھ/ ۱۰۴۴ء کو غجدوان میں ہوئی۔
آپ کے والدِ گرامی قدر کا نام عبدالجمیل یا عبد الجلیل ہے جو امام عبدالجمیل (یا عبدالجلیل) کے نام سے مشہور و متعارف تھے۔ وہ اپنے وقت کے مقتدر پیشوا، عالمِ ظاہر و باطن اور حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی اولادِ امجاد میں سے تھے۔ چونکہ اُن کی شادی روم کے شاہی خاندان میں ہوئی تھی۔ اس لیے روم میں رہا کرتے تھے اور حضرت خضر علیہ السلام کے صحبت دار تھے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اُن کو بشارت دی تھی کہ تمہارے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ اس کا نام عبدالخالق رکھنا۔ حوادث روزگار کے سبب روم سے نکل کر ماوراء النہر کی طرف نکلے اور ولایتِ بخارا میں پہنچ کر بخارا سے چھ فرسنگ (اٹھارہ میل) کے فاصلے پر غجدان میں سکونت پذیر ہوئے جہاں آفتابِ طریقت اور ماہتابِ معرفت خواجہ عبدالخالق متولد ہوئے اور پرورش پائی۔
حضرت خواجہ عبدالخالق رحمہ اللہ نے تعلیم حضرت شیخ صدرالدین قاضیٔ بخارا سے پائی اور اجازتِ ذکرِ خفی و ذکرِ نفی و اثبات حضرت خضر علیہ السلام سے پائی۔ حضرت خواجۂ خواجگان خواجہ بہاؤ الدین نقشبند بخاری قدس سرہ فرماتے ہیں کہ جن دنوں خواجہ عبداالخالق اپنے استاد شیخ صدرالدین کے حضور تفسیر پڑھ رہے تھے تو جب اس آیت پر پہنچے:
اُدْعُوْ رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ (اعراف۔ ع ۷)
’’تم اپنے رب کو زاری اور پوشیدگی کے ساتھ پکارو تحقیق وہ حد سے زیادہ تجاوز کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا‘‘۔
تو آپ نے استاد سے پوچھا کہ اس پوشیدگی کی حقیقت اور اُس کا طریقہ کیا ہے؟ اگر ذاکر بلند آواز سے ذکر کرے یا ذکر کرتے وقت اعضاء سے حرکت کرے تو غیر شخص اُس ذکر سے واقف ہوجاتا ہے اور اگر دل سے کرے تو بحکمِ حدیث شریف الشیطان یجری من الانسان مجری الدم (ابوداؤد) (شیطان انسان میں خون کی طرح چلتا ہے) شیطان ذکر سے واقف ہوجاتا ہے۔ اُستاد نے فرمایا کہ یہ علمِ لدنی ہے، اگر خدا نے چاہا تو اہل اللہ میں سے کوئی تمہیں مل جائے گا اور بتادے گا۔ اس کے بعد آپ اولیاء اللہ کی تلاش میں رہے یہاں تک کہ ایک روز حضرت خضر علیہ السلام سے شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے تمہیں اپنی فرزندی میں قبول کیا اور تمہیں ایک سبق بتاتا ہوں ، اُسے ہمیشہ دہراتے رہنا تم پر اسرار کھل جائیں گے پھر وقوفِ عددی کی تعلیم دی اور فرمایا کہ حوض میں اترو، غوطہ لگاؤ اور دل سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُوْل اللہ کہو، آپ نے اسی طرح کیا اور اس ورد میں مشغول و مصروف رہے۔ یہاں تک کہ بہت سے اسرار کھل گئے۔ بعد ازاں جب حضرت یوسف ہمدانی بخارا میں تشریف لائے تو جب تک ان کا قیام بخارا میں رہا۔ اُن کی خدمت میں حاضر ہوکر فیوض و برکات حاصل کرتے رہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت خضر علیہ السلام آپ کے پیر سبق ہیں اور حضرت خواجہ یوسف ہمدانی پیر صحبت و پیرِ خرقہ، اگرچہ خواجہ یوسف ہمدانی رحمہ اللہ اور اُن کے مشائخ ذکر بالجہر کیا کرتے تھے لیکن چونکہ آپ کو ذکرِ خفی کی تلقین حضرت خضر علیہ السلام سے تھی بدیں وجہ حضرت خواجہ ابویوسف ہمدانی رحمہ اللہ نے اس میں رد و بدل نہیں کیا بلکہ فرمایا کہ جس طرح تمہیں تلقین ہوئی ہے کیے جاؤ۔
آپ نے اپنی بعض تحریروں میں ذکر کیا ہے کہ جب حضرت خضر علیہ السلام نے مجھے حضرت خواجہ ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کے سپرد کیا تو اُس وقت میری عمر بائیس سال کی تھی ایک مدت کے بعد حضرت خواجہ ابویوسف رحمہ اللہ خراسان میں آگئے تو آپ ریاضات و مجاہدات میں مشغول ہوگئے اور اپنے حالات پوشیدہ رکھا کرتے تھے ملک شام میں بہت سے لوگ آپ کے مرید ہوگئے اور وہاں خانقاہ و آستانہ بن گیا۔
ایک روز ایک درویش نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر خدا تعالیٰ مجھے یہ اختیار دے کہ دوزخ و بہشت میں سے ایک کو اختیار کرلے تو میں دوزخ کو اختیار کروں گا۔ کیونکہ میں تمام عمر اپنے نفس کی خواہش پر نہیں چلا اور اُس صورت میں بہشت میرے نفس کی مراد ہوگی، آپ نے اُس درویش کی بات کی تردید کی اور فرمایا کہ بندے کو اختیار سے کیا کام؟ جہاں مالک بھیجے لا جائے اور جہاں ٹھہرائے ٹھہرجائے۔ بندگی اسی چیز کا نام ہے ناکہ جو تم کہہ رہے ہو، اُس درویش نے پوچھا کہ سالکانِ طریقت پر شیطان کا غلبہ ہوتا ہے کہ نہیں، آپ نے فرمایا جو سالک مقامِ فنائے نفس کو
غجدوان نزد بخارا (۴۳۵ھ/۱۰۴۴ء۔۔۔ ۵۷۵ھ/ ۱۱۷۹ء) غجدوان نزد بخارا
قطعۂ تاریخِ وصال:
عمر بھر آپ نے فرمائی ہے دیں کی تبلیغ
ہے بزرگوں کی روایت سے یہ روشن صابر
ہم پہ اللہ کا انعام ہیں عبدالخالق
’’حامیِ داعیِ اسلام ہیں عبدالخالق‘‘
۱۱۷۹ء
(صاؔبر براری، کراچی)
آپ حضرت خواجہ یوسف ہمدانی رحمہ اللہ کے خلیفۂ اعظم، سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے سردار اور طبقۂ خواجگان کے سرِ دفتر ہیں۔ آپ ہمیشہ راہِ صدق و صفاء متابعتِ شرع و سنتِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور مخالفتِ بدعت و ہوا میں ساعی و کوشاں رہے۔ آپ کی ولادت ۲۲؍شعبان ۴۳۵ھ/ ۱۰۴۴ء کو غجدوان میں ہوئی۔
آپ کے والدِ گرامی قدر کا نام عبدالجمیل یا عبد الجلیل ہے جو امام عبدالجمیل (یا عبدالجلیل) کے نام سے مشہور و متعارف تھے۔ وہ اپنے وقت کے مقتدر پیشوا، عالمِ ظاہر و باطن اور حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی اولادِ امجاد میں سے تھے۔ چونکہ اُن کی شادی روم کے شاہی خاندان میں ہوئی تھی۔ اس لیے روم میں رہا کرتے تھے اور حضرت خضر علیہ السلام کے صحبت دار تھے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اُن کو بشارت دی تھی کہ تمہارے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ اس کا نام عبدالخالق رکھنا۔ حوادث روزگار کے سبب روم سے نکل کر ماوراء النہر کی طرف نکلے اور ولایتِ بخارا میں پہنچ کر بخارا سے چھ فرسنگ (اٹھارہ میل) کے فاصلے پر غجدان میں سکونت پذیر ہوئے جہاں آفتابِ طریقت اور ماہتابِ معرفت خواجہ عبدالخالق متولد ہوئے اور پرورش پائی۔
حضرت خواجہ عبدالخالق رحمہ اللہ نے تعلیم حضرت شیخ صدرالدین قاضیٔ بخارا سے پائی اور اجازتِ ذکرِ خفی و ذکرِ نفی و اثبات حضرت خضر علیہ السلام سے پائی۔ حضرت خواجۂ خواجگان خواجہ بہاؤ الدین نقشبند بخاری قدس سرہ فرماتے ہیں کہ جن دنوں خواجہ عبداالخالق اپنے استاد شیخ صدرالدین کے حضور تفسیر پڑھ رہے تھے تو جب اس آیت پر پہنچے:
اُدْعُوْ رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ (اعراف۔ ع ۷)
’’تم اپنے رب کو زاری اور پوشیدگی کے ساتھ پکارو تحقیق وہ حد سے زیادہ تجاوز کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا‘‘۔
تو آپ نے استاد سے پوچھا کہ اس پوشیدگی کی حقیقت اور اُس کا طریقہ کیا ہے؟ اگر ذاکر بلند آواز سے ذکر کرے یا ذکر کرتے وقت اعضاء سے حرکت کرے تو غیر شخص اُس ذکر سے واقف ہوجاتا ہے اور اگر دل سے کرے تو بحکمِ حدیث شریف الشیطان یجری من الانسان مجری الدم (ابوداؤد) (شیطان انسان میں خون کی طرح چلتا ہے) شیطان ذکر سے واقف ہوجاتا ہے۔ اُستاد نے فرمایا کہ یہ علمِ لدنی ہے، اگر خدا نے چاہا تو اہل اللہ میں سے کوئی تمہیں مل جائے گا اور بتادے گا۔ اس کے بعد آپ اولیاء اللہ کی تلاش میں رہے یہاں تک کہ ایک روز حضرت خضر علیہ السلام سے شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے تمہیں اپنی فرزندی میں قبول کیا اور تمہیں ایک سبق بتاتا ہوں ، اُسے ہمیشہ دہراتے رہنا تم پر اسرار کھل جائیں گے پھر وقوفِ عددی کی تعلیم دی اور فرمایا کہ حوض میں اترو، غوطہ لگاؤ اور دل سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُوْل اللہ کہو، آپ نے اسی طرح کیا اور اس ورد میں مشغول و مصروف رہے۔ یہاں تک کہ بہت سے اسرار کھل گئے۔ بعد ازاں جب حضرت یوسف ہمدانی بخارا میں تشریف لائے تو جب تک ان کا قیام بخارا میں رہا۔ اُن کی خدمت میں حاضر ہوکر فیوض و برکات حاصل کرتے رہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت خضر علیہ السلام آپ کے پیر سبق ہیں اور حضرت خواجہ یوسف ہمدانی پیر صحبت و پیرِ خرقہ، اگرچہ خواجہ یوسف ہمدانی رحمہ اللہ اور اُن کے مشائخ ذکر بالجہر کیا کرتے تھے لیکن چونکہ آپ کو ذکرِ خفی کی تلقین حضرت خضر علیہ السلام سے تھی بدیں وجہ حضرت خواجہ ابویوسف ہمدانی رحمہ اللہ نے اس میں رد و بدل نہیں کیا بلکہ فرمایا کہ جس طرح تمہیں تلقین ہوئی ہے کیے جاؤ۔
آپ نے اپنی بعض تحریروں میں ذکر کیا ہے کہ جب حضرت خضر علیہ السلام نے مجھے حضرت خواجہ ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کے سپرد کیا تو اُس وقت میری عمر بائیس سال کی تھی ایک مدت کے بعد حضرت خواجہ ابویوسف رحمہ اللہ خراسان میں آگئے تو آپ ریاضات و مجاہدات میں مشغول ہوگئے اور اپنے حالات پوشیدہ رکھا کرتے تھے ملک شام میں بہت سے لوگ آپ کے مرید ہوگئے اور وہاں خانقاہ و آستانہ بن گیا۔
ایک روز ایک درویش نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر خدا تعالیٰ مجھے یہ اختیار دے کہ دوزخ و بہشت میں سے ایک کو اختیار کرلے تو میں دوزخ کو اختیار کروں گا۔ کیونکہ میں تمام عمر اپنے نفس کی خواہش پر نہیں چلا اور اُس صورت میں بہشت میرے نفس کی مراد ہوگی، آپ نے اُس درویش کی بات کی تردید کی اور فرمایا کہ بندے کو اختیار سے کیا کام؟ جہاں مالک بھیجے لا جائے اور جہاں ٹھہرائے ٹھہرجائے۔ بندگی اسی چیز کا نام ہے ناکہ جو تم کہہ رہے ہو، اُس درویش نے پوچھا کہ سالکانِ طریقت پر شیطان کا غلبہ ہوتا ہے کہ نہیں، آپ نے فرمایا جو سالک مقامِ فنائے نفس کو
نہ پہنچا ہو غصہ کے وقت شیطان اُس پر قابو پاتا ہے لیکن جو اُس مقام پر پہنچ گیا ہو اُس کو غصہ نہیں آتا بلکہ غیرت آتی ہے اور جہاں غیرت ہوتی ہے وہاں سے شیطان بھاگ جاتا ہے اور یہ صفت اُس شخص میں ہوتی ہے جو کتاب اللہ کو دائیں ہاتھ میں اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بائیں ہاتھ میں لیے ہوئے ہو اور اُن دونوں کی روشنی میں راستہ چلتا ہو۔
ایک روز آپ اپنے عبادت خانے میں رو رہے تھے، مریدوں نے عرض کیا کہ آپ کے اقوال و افعال ایسے عمدہ اور اچھے ہیں کہ اُن کی نظیر نہیں ملتی، پھر یہ رونے اور خوف کھانے کی وجہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کی بے نیازی کا خیال کرتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جان قلب و روح سے نکلا چاہتی ہے، خوف اس وجہ سے آتا ہے کہ شاید بلا ارادہ اور نادانستہ طور پر مجھ سے کوئی ایسا کام سرزد ہوجائے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہو، آپ جس جگہ بیٹھتے تو خوفِ خدا کی وجہ سے حالت ایسی ہوتی کہ گویا آپ کو قتل کرنے کے لیے بٹھایا گیا ہے۔
کرامات:
۱۔ ایک دن آپ کثیرالتعداد مجمع کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک نوجوان لباس زاہدانہ پہنے جانماز کندھے پر ڈالے ہوئے آیا اور ایک کونہ میں بیٹھ گیا، آپ نے اُسے بغور دیکھا اور خاموشی اختیار فرمائی، تھوڑی دیر کے بعد وہ جوان اُٹھا اور کہنے لگا کہ حدیث شریف میں جو آیا ہے اَتَّقُوا فَرسْتَ مُوْمِن فَاِنَّہٗ یَنْظِرْ بِنُوْرِ اللہ۔ (مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے) اس کا مطلب کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنا زنار توڑ ڈال اور مشرف بہ ایمان ہوجا۔ جوان نے کہا خدا نہ کرے کہ میں زنار پہنوں، آپ نے خادم کو اشارہ کیا، خادم نے اس کے کپڑے اتار کر دیکھا تو زنار موجود تھا۔ اس جوان نے فی الفور زنار توڑ کر توبہ کی اور ایمان قبول کرلیا۔ اس پر آپ نے لوگوں سے فرمایا، یارو! آؤ ہم بھی اس نومسلم کی طرح زنار توڑ ڈالیں اور ایمان لائیں جس طرح اس نے زنارِ ظاہری توڑا ہے ہم اپنے زنارِ باطنی (خودپسندی) کو توڑ ڈالیں تاکہ اس کی طرح ہم بھی بخشے جاویں، یہ سن کر حاضرین پر عجب کیفیت طاری ہوئی اور سب کے سب آپ کے قدموں پر گر کر توبہ کرنے لگے۔
۲۔ بخارا شہر میں ایک عورت مجذوبہ برہنہ حالت میں گلی کوچوں میں پھرا کرتی تھی، لوگوں نے اُس سے پوچھا کہ تو کپڑے کیوں نہیں پہنتی، وہ کہنے لگی کہ اس شہر میں کوئی مرد ہے کہ جس سے پردہ کروں؟ ایک روز صبح کے وقت نانبائی کی دکان پر گئی، تنور گرم تھا، اُس میں چھلانگ لگادی اور کہا کہ اس کا منہ بند کردو کیونکہ ایک مرد اس شہر میں داخل ہوگیا ہے، اُس سے اپنے آپ کو چھپاتی ہوں، تھوڑی بعد لوگوں نے تنور کا منہ کھولا اور پوچھا کہ کیا حال ہے۔ اُس نے کہا کپڑے لاؤ تاکہ پہنوں، چنانچہ کپڑے لائے گئے، وہ کپڑے پہن کر تنور سے صحیح سلامت نکلی۔ ایک بال کا بھی نقصان نہیں ہوا تھا، سب لوگ حیران رہ گئے کہ یہ تو ولیہ ہے، سب نے قسم دے کر پوچھا کہ سچ بتا وہ مرد کون ہے جس سے تو پردہ کرتی ہے؟ اس نے کہا کہ میرے ساتھ آؤ کہ میں اُن کی زیارت کو جا رہی ہوں۔ وہ سیدھی آپ (خواجہ عبدالخالق) کے پاس گئی جبکہ آپ ابھی ابھی غجدوان سے آکر بخارا شہر میں داخل ہوئے تھے، آپ اُسے دیکھ کر تعظیم کے لیے اُٹھے اور آپس میں کچھ باتیں ہوئیں جو وہی سمجھی یا آپ سمجھے۔
۳۔ ایک مرتبہ آپ مع مریدوں کے حجِ بیت اللہ کے لیے جا رہے تھے۔ راہ میں شدتِ پیاس نے غلبہ کیا۔ ناگاہ ایک کنویں پر پہنچے مگر وہاں رسی اور ڈول نہ تھا۔ نہایت مایوسی ہوئی، آپ نے فرمایا کہ میں تو نماز پڑھتا ہوں، تم پانی پیو اور وضو کرو، مریدوں نے جو یہ سنا تو سمجھ گئے کہ اس میں کچھ بھید ہے، پھر کنویں پر گئے تو آپ کی برکت سے پانی کناروں تک آگیا تھا۔ سب نے جی بھر کر پانی پیا اور وضو کیا، ایک شخص نے ایک برتن پانی سے بھرلیا تو پانی فی الفور کنویں کی تہہ تک پہنچ گیا یہ بات کسی نے آپ سے عرض کی تو فرمایا: یاروں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہ کیا ورنہ پانی قیامت تک اُوپر ہی رہتا۔
۴۔ آپ کی ولایت اس مرتبہ تک پہنچ گئی تھی کہ ہر نماز کے وقت آپ کو خانہ کعبہ جاتے اور واپس آجاتے۔
جب آپ کا آخری وقت آیا تو مرید و فرزند وہاں موجود تھے۔ آپ نے آنکھ کھول کر فرمایا: ’’اے عزیزو! خوشخبری ہو کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہے اور اپنی رضا کی بشارت دی ہے‘‘۔ تمام لوگ رونے لگے اور عرض کی کہ ہمارے لیے بھی دعا فرمائیں، آپ نے فرمایا تم کو بھی بشارت ہو اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے کہ جو شخص اس طریقہ پر تا آخر استقامت رکھے گا میں اس پر رحمت کروں گاو راُسے بخش دوں گا، کوشش کرو کہ اس طریقہ سے علیحدہ نہ رہو‘‘۔ تھوڑی دیر بعد آواز آئی یٰاَیّھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃ ارجعِی الیٰ ربک رَاضیۃ مرضیہ لوگوں نے جو خیال کیا تو آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کرچکی تھی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ تاریخ وفات ۱۲؍ربیع الاوّل ۵۷۵ھ/ ۱۱۷۹ء ہے۔ مرقد اقدس غجدوان نزد بخارا م
ایک روز آپ اپنے عبادت خانے میں رو رہے تھے، مریدوں نے عرض کیا کہ آپ کے اقوال و افعال ایسے عمدہ اور اچھے ہیں کہ اُن کی نظیر نہیں ملتی، پھر یہ رونے اور خوف کھانے کی وجہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کی بے نیازی کا خیال کرتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جان قلب و روح سے نکلا چاہتی ہے، خوف اس وجہ سے آتا ہے کہ شاید بلا ارادہ اور نادانستہ طور پر مجھ سے کوئی ایسا کام سرزد ہوجائے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہو، آپ جس جگہ بیٹھتے تو خوفِ خدا کی وجہ سے حالت ایسی ہوتی کہ گویا آپ کو قتل کرنے کے لیے بٹھایا گیا ہے۔
کرامات:
۱۔ ایک دن آپ کثیرالتعداد مجمع کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک نوجوان لباس زاہدانہ پہنے جانماز کندھے پر ڈالے ہوئے آیا اور ایک کونہ میں بیٹھ گیا، آپ نے اُسے بغور دیکھا اور خاموشی اختیار فرمائی، تھوڑی دیر کے بعد وہ جوان اُٹھا اور کہنے لگا کہ حدیث شریف میں جو آیا ہے اَتَّقُوا فَرسْتَ مُوْمِن فَاِنَّہٗ یَنْظِرْ بِنُوْرِ اللہ۔ (مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے) اس کا مطلب کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنا زنار توڑ ڈال اور مشرف بہ ایمان ہوجا۔ جوان نے کہا خدا نہ کرے کہ میں زنار پہنوں، آپ نے خادم کو اشارہ کیا، خادم نے اس کے کپڑے اتار کر دیکھا تو زنار موجود تھا۔ اس جوان نے فی الفور زنار توڑ کر توبہ کی اور ایمان قبول کرلیا۔ اس پر آپ نے لوگوں سے فرمایا، یارو! آؤ ہم بھی اس نومسلم کی طرح زنار توڑ ڈالیں اور ایمان لائیں جس طرح اس نے زنارِ ظاہری توڑا ہے ہم اپنے زنارِ باطنی (خودپسندی) کو توڑ ڈالیں تاکہ اس کی طرح ہم بھی بخشے جاویں، یہ سن کر حاضرین پر عجب کیفیت طاری ہوئی اور سب کے سب آپ کے قدموں پر گر کر توبہ کرنے لگے۔
۲۔ بخارا شہر میں ایک عورت مجذوبہ برہنہ حالت میں گلی کوچوں میں پھرا کرتی تھی، لوگوں نے اُس سے پوچھا کہ تو کپڑے کیوں نہیں پہنتی، وہ کہنے لگی کہ اس شہر میں کوئی مرد ہے کہ جس سے پردہ کروں؟ ایک روز صبح کے وقت نانبائی کی دکان پر گئی، تنور گرم تھا، اُس میں چھلانگ لگادی اور کہا کہ اس کا منہ بند کردو کیونکہ ایک مرد اس شہر میں داخل ہوگیا ہے، اُس سے اپنے آپ کو چھپاتی ہوں، تھوڑی بعد لوگوں نے تنور کا منہ کھولا اور پوچھا کہ کیا حال ہے۔ اُس نے کہا کپڑے لاؤ تاکہ پہنوں، چنانچہ کپڑے لائے گئے، وہ کپڑے پہن کر تنور سے صحیح سلامت نکلی۔ ایک بال کا بھی نقصان نہیں ہوا تھا، سب لوگ حیران رہ گئے کہ یہ تو ولیہ ہے، سب نے قسم دے کر پوچھا کہ سچ بتا وہ مرد کون ہے جس سے تو پردہ کرتی ہے؟ اس نے کہا کہ میرے ساتھ آؤ کہ میں اُن کی زیارت کو جا رہی ہوں۔ وہ سیدھی آپ (خواجہ عبدالخالق) کے پاس گئی جبکہ آپ ابھی ابھی غجدوان سے آکر بخارا شہر میں داخل ہوئے تھے، آپ اُسے دیکھ کر تعظیم کے لیے اُٹھے اور آپس میں کچھ باتیں ہوئیں جو وہی سمجھی یا آپ سمجھے۔
۳۔ ایک مرتبہ آپ مع مریدوں کے حجِ بیت اللہ کے لیے جا رہے تھے۔ راہ میں شدتِ پیاس نے غلبہ کیا۔ ناگاہ ایک کنویں پر پہنچے مگر وہاں رسی اور ڈول نہ تھا۔ نہایت مایوسی ہوئی، آپ نے فرمایا کہ میں تو نماز پڑھتا ہوں، تم پانی پیو اور وضو کرو، مریدوں نے جو یہ سنا تو سمجھ گئے کہ اس میں کچھ بھید ہے، پھر کنویں پر گئے تو آپ کی برکت سے پانی کناروں تک آگیا تھا۔ سب نے جی بھر کر پانی پیا اور وضو کیا، ایک شخص نے ایک برتن پانی سے بھرلیا تو پانی فی الفور کنویں کی تہہ تک پہنچ گیا یہ بات کسی نے آپ سے عرض کی تو فرمایا: یاروں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہ کیا ورنہ پانی قیامت تک اُوپر ہی رہتا۔
۴۔ آپ کی ولایت اس مرتبہ تک پہنچ گئی تھی کہ ہر نماز کے وقت آپ کو خانہ کعبہ جاتے اور واپس آجاتے۔
جب آپ کا آخری وقت آیا تو مرید و فرزند وہاں موجود تھے۔ آپ نے آنکھ کھول کر فرمایا: ’’اے عزیزو! خوشخبری ہو کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہے اور اپنی رضا کی بشارت دی ہے‘‘۔ تمام لوگ رونے لگے اور عرض کی کہ ہمارے لیے بھی دعا فرمائیں، آپ نے فرمایا تم کو بھی بشارت ہو اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے کہ جو شخص اس طریقہ پر تا آخر استقامت رکھے گا میں اس پر رحمت کروں گاو راُسے بخش دوں گا، کوشش کرو کہ اس طریقہ سے علیحدہ نہ رہو‘‘۔ تھوڑی دیر بعد آواز آئی یٰاَیّھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃ ارجعِی الیٰ ربک رَاضیۃ مرضیہ لوگوں نے جو خیال کیا تو آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کرچکی تھی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ تاریخ وفات ۱۲؍ربیع الاوّل ۵۷۵ھ/ ۱۱۷۹ء ہے۔ مرقد اقدس غجدوان نزد بخارا م
👍1