🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-10-1444 ᴴ | 10-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-10-1444 ᴴ | 10-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
افراط و تفریط کی زندہ مثال 😡
#نعرہ_لگانے_والوں_نے " لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی " کو نہ سمجھا، اس عظیم بارگاہ کا ادب نہ کیا ـ 😢

#اور_مقرر نے " #ذاکر کے ساتھ
#مذکور کو بھی برا کہا. 😡😡
Hasan Noori Gondvi

اِس خبیثِ اعظمِ ہند نے مریدوں کے ساتھ ساتھ پیر (حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ) کو بھی حرامی کہا ... لعنت ہو اِس نام نہاد حشمتی بنام شمائل رضا حشمتی خبیث پر
https://t.me/islaamic_Knowledge/50352

یاد رہے ہمیں دونوں سے اتفاق نہیں
مولانا حسن نوری گونڈوی
FaceBook Link → Click
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مفتی اعظم پاکستان، حضرت علامہ ابو البرکات سید احمد قادری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید احمد ۔ کنیت: ابو
البرکات ۔ لقب: مفتیِ اعظم پاکستان

سلسلۂ نسب:
ابو البرکات سید احمد قادری بن سید دیدار علی شاہ بن سید نجف علی شاہ ۔آپ کے جد ِاعلیٰ سید خلیل شاہ علیہ الرحمہ" مشہد مقدس " سے ہندوستان تشریف لائے اور " ریاست الور " میں قیام پذیر ہوئے ۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام موسیٰ رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتاہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ 1319ھ بمطابق 1901ء کو بمقام (محلہ نواب پورہ، ضلع "الور" صوبہ آندھرا پردیش، انڈیا) میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
جس طرح آپ کا تعلق ایک عظیم علمی خاندان سے ہے، اسی طرح آپ کی تربیت بھی نہایت مہتم بالشان طریقے سے ہوئی، قرآن مجید الور ہی کے حافظ عبد الحکیم، حافظ عبد العزیز اور حافظ قادر علی سے پڑھا۔ صرف و نحو کی ابتدائی کتب علامہ سید ظہور اللہ سے اور اکثر کتب اپنے والد ماجد سے پڑھیں، فنون کی انتہائی کتب قاضی مبارک، حمداللہ، افق المبین، صدرا، شمس بازغہ اور شرح عقائد نسفی وغیرہ، جمیع کتب احادیث اور کتب طب مراد آباد میں حضرت صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی (علیہم الرحمہ) سے پڑھیں اور 1919ء میں مراد آباد سے ہی سندِ فراغت و دستارِ فضیلت حاصل کی ۔

بیعت و خلافت:
آپ کو بیعت خلافت شیخ المشائخ شبیہِ غوث الاعظم حضرت علامہ سید شاہ علی حسین اشرفی علیہ الرحمہ سے حاصل تھی۔

امام اہل سنت سے سندات کا حصول:
1919ء میں آپ امام اہل سنت مولانا الشاہ احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کی صحبت میں رہے اور آپ کے حکم پر فتویٰ نویسی کے فرائض سر انجام دیتے رہے ۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو جمیع علوم و فنون کی سند اور وظائف و خلافتِ عامہ کی اجازت مرحمت فرمائی ۔

سیرت و خصائص:
رئیس المحققین، سند المدرسین، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، مفتیِ اعظم پاکستان حضرت علامہ ابو البرکات سید احمد القادری الوری اشرفی نعیمی رضوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ حضرت مفتیِ اعظم پاکستان کی ساری زندگی تبلیغِ دین اور علومِ عربیہ کی تدریس میں گزری اور سینکڑوں تشنگانِ علم نے سیرابی حاصل کی ۔ آپ کے تلامذہ میں ایسے حضرات بھی ہیں جو آسمانِ شہرت پر آفتاب و ماہتاب بن کر چمکے، اور مسلکِ حق اہلِ سنت و جماعت کے فروغ اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا ۔ ایک عرصہ تک والد ماجد کے ساتھ آگرہ میں مقیم رہ کر درس و تدریس میں مصروف رہے اور بعد میں انہیں کے ہمراہ لاہور پہنچے،اور تدریس و تعلیم میں مشغول ہوئے، 1354ھ میں والد ماجد کی وفات کے بعد "دار العلوم حزب الاحناف" کے رئیس اور شیخ الحدیث مقرر ہوئے ۔ علوم متداولہ میں مہارت تامہ آپ کو ابتداہی سے حاصل تھی۔جب آپ مسندِ تدریس پر رونق افروز ہوئےتودور دراز شہروں سے باذوق طلباء نے ہجوم در ہجوم آکر آپ سے اخذ علوم کیا ۔ اس وقت پاکستان کے اکثر علماء آپ کے سلسلۂ تلمذ سے وابستہ ہیں۔ آپ کی ذات قدسی صفات مرجع علماء وفضلاء اور پاکستان میں اسلام کا مستحکم ستون ہے درس وتدریس کے علاوہ خطبات میں بھی آپ کو کمال حاصل تھا ۔

ترویج و اشاعت مذہب اہل سنت اور ادیان باطلہ وہابیوں، دیوبندیوں، مرزائیوں کی تردید وظیفۂ زندگی رہا۔سعودی فتنۂ انہدامات مقابرِ مقدسہ کے زمانہ نجدی نظریات وعقائد پر آپ تنقید فرمارہے تھے، کہ ایک نجدی العقیدہ شخص نے خنجر جفا سے آپ پر حملہ کر دیا، مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو محفوظ رکھا ۔ آپ نے دیوبندیوں کے" حکیم الامت مولوی اشرفعلی تھانوی" کو لاہور میں مناظرے کے لئے للکارا مگر اس کو شیرِ اہل سنت کے سامنے آنے کی جرأت نہ ہوئی ۔

ادبی خدمات:
اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت علیہ الرحمہ نے جب فتاویٰ رضویہ کی کی جلد اول کے چھپوانے کا اہتمام فرمایا تو اس کی نظرِ ثانی اور طباعت کی مکمل ذمہ داری آپ پر ہی رکھی گئی تھی ۔ بہارِ شریعت کے ابتدائی حصے آپ نے تصحیح کے ساتھ طبع کرئے ۔ اسیطرح سنیوں کا تاریخی رسالہ "ماہنامہ سوادِ اعظم مراد آباد" کا پہلا شمارہ آپ کی ادارت سےشائع ہوا ۔

دینی وسیاسی تحریکات میں حصہ:
آپ " آل انڈیا سنی کانفرنس " کےبانیان میں سے تھے ۔ تحریکِ پاکستان میں بھرپور طریقے سے حصہ لیا ۔ 1953 میں " تحریک ختمِ نبوت " لاہور کا عظیم الشان جلوس آپکی قیادت میں نکلا تھا ۔ محبتِ مصطفیٰ ﷺ اور عظمتِ مقامِ مصطفیٰ ﷺ کے جرم میں ایک عرصے تک مقید رہے۔

وصال:
20 شوال المکرم 1398ھ، بمطابق 24 ستمبر 1978ء کو علم و عمل کا یہ پیکر اس دارِ فانی سے رخصت ہوا اور علمی دنیا میں نہ پُر ہونے والا خلا پیدا ہو گیا، آپ کی قبرِ انور دارلعلوم حزب الاحناف لاہور میں ہے۔

ماخذ و مراجع:
تعارف علمائے اہلِ سنت ۔ تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔ روشن دریچے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abul-barkaat-syed-ahmed-qadri
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-10-1444 ᴴ | 10-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
20-10-1444 ᴴ | 11-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1