تلامذہ:
آپ کے شاگردوں میں آپ کے صاحبزادوں کے علاوہ بعض نام معلوم ہو سکے ۔
حافظ محمد موسیٰ بروہی ۔ محمد رمضان (تحصیل گمبٹ ) حافظ شفیع محمد بھٹو (قاضی بھٹہ ، گمبٹ ) سید غلام مصطفی شاہ (میہڑ ) حافظ مولا بخش بھٹو (آبڑی تحصیل قمبر ) حافظ محمد حسن شیخ ( لاڑکانہ ) حافظ محمد عیسیٰ کھوکھر ( ڈوکری ) حافظ دھنی بخش جمالی (لاڑکانہ )
وصال:
حضرت علامہ مفتی حافظ عبد القادر کو آخر عمر میں دوران تقریر یا محفل میں گریہ کرتے دیکھا گیا بہت ہی رقیق القلب تھے ۔ آخر عمر میں طبیعت ناساز تھی ، جامع مسجد قاسمہ سے اپنے گوٹھ منتقل ہوئے اور ۱۹ شوال المکرم ۱۴۰۴ ھ بمطابق ۱۹، جولائی ۱۹۸۴ء کو ۶۵ سال کی عمر میں بروز جمعرات فجر کی اذان کے وقت انتقال کیا۔
حضور قبلہ عالم نے نماز جنازہ کی امامت فرمائی اور گوٹھ فاضل کلہوڑو میں آپ کی مزار شریف ہے۔ جہاں پر ہر سال عرس کی تقریب منعقد ہوتی ہے۔
[ حافظ احمد علی عباسی صاحب نے مواد فراہم کیا فقیر مشکور ہے ]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-hafiz-abdul-qadir-kalhoro
آپ کے شاگردوں میں آپ کے صاحبزادوں کے علاوہ بعض نام معلوم ہو سکے ۔
حافظ محمد موسیٰ بروہی ۔ محمد رمضان (تحصیل گمبٹ ) حافظ شفیع محمد بھٹو (قاضی بھٹہ ، گمبٹ ) سید غلام مصطفی شاہ (میہڑ ) حافظ مولا بخش بھٹو (آبڑی تحصیل قمبر ) حافظ محمد حسن شیخ ( لاڑکانہ ) حافظ محمد عیسیٰ کھوکھر ( ڈوکری ) حافظ دھنی بخش جمالی (لاڑکانہ )
وصال:
حضرت علامہ مفتی حافظ عبد القادر کو آخر عمر میں دوران تقریر یا محفل میں گریہ کرتے دیکھا گیا بہت ہی رقیق القلب تھے ۔ آخر عمر میں طبیعت ناساز تھی ، جامع مسجد قاسمہ سے اپنے گوٹھ منتقل ہوئے اور ۱۹ شوال المکرم ۱۴۰۴ ھ بمطابق ۱۹، جولائی ۱۹۸۴ء کو ۶۵ سال کی عمر میں بروز جمعرات فجر کی اذان کے وقت انتقال کیا۔
حضور قبلہ عالم نے نماز جنازہ کی امامت فرمائی اور گوٹھ فاضل کلہوڑو میں آپ کی مزار شریف ہے۔ جہاں پر ہر سال عرس کی تقریب منعقد ہوتی ہے۔
[ حافظ احمد علی عباسی صاحب نے مواد فراہم کیا فقیر مشکور ہے ]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-hafiz-abdul-qadir-kalhoro
scholars.pk
Mufti Hafiz Abdul Qadir Kalhoro
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شیخ العارف، حضرت علامہ مولانا محمد ظریف فیضی رحمۃ اللہ تعالی علیہ
ولادت: ۱۹۱۰ء
والدِ محترم: حضرت مولانا الہٰی بخش قادری متوفی ۱۳۷۰ھ
ابتدائی تعلیم:
جامعہ جلالیہ اوچ شریف مولانا قطب الدین صاحب، والدِ محترم مولانا الہٰی بخش قادری صاحب۔
تکمیل:
علوم عقلیہ نقلیہ بمع دورۂ حدیث شریف حضرت مولانا خواجہ فیض محمد شاہ جمالی علیہ الرحمہ حضرت مولانا غلام محمد گھوٹوی۔
بیعت:
حضرت مولانا خواجہ فیض محمد شاہ جمالی علیہ الرحمہ۔
خلافت:
حضرت مولانا خواجہ فیض محمد شاہ جمالی، مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان قطب مدینہ مولانا ضیاءالدین مدنی علیہم الرحمہ۔
تدریس:
جامعہ مدینۃ العلوم اوچ شریف، جامعہ جلالیہ دربارِ مخدوم جلال الدین بخاری جامعہ گیلانیہ دربار محبوب سبحانی اوچ شریف مدرسہ مخدوم غلام میراں شاہ صاحب جمال الدین والی رحیم یار خاں جامعہ فیضیہ رضویہ احمد پور شرقیہ۔
تلامذہ:
حضرت علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی، علامہ مفتی غلام سرور قادری، حضرت علامہ عبدالحکیم، حضرت مولانا غلام رسول سورتی وغیرہُم۔
وصال:
۱۹ شوال المکرّم ۱۴۱۹ھ احمد پور شرقیہ ضلع بہادل پور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-muhammad-zareef-faizi
ولادت: ۱۹۱۰ء
والدِ محترم: حضرت مولانا الہٰی بخش قادری متوفی ۱۳۷۰ھ
ابتدائی تعلیم:
جامعہ جلالیہ اوچ شریف مولانا قطب الدین صاحب، والدِ محترم مولانا الہٰی بخش قادری صاحب۔
تکمیل:
علوم عقلیہ نقلیہ بمع دورۂ حدیث شریف حضرت مولانا خواجہ فیض محمد شاہ جمالی علیہ الرحمہ حضرت مولانا غلام محمد گھوٹوی۔
بیعت:
حضرت مولانا خواجہ فیض محمد شاہ جمالی علیہ الرحمہ۔
خلافت:
حضرت مولانا خواجہ فیض محمد شاہ جمالی، مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان قطب مدینہ مولانا ضیاءالدین مدنی علیہم الرحمہ۔
تدریس:
جامعہ مدینۃ العلوم اوچ شریف، جامعہ جلالیہ دربارِ مخدوم جلال الدین بخاری جامعہ گیلانیہ دربار محبوب سبحانی اوچ شریف مدرسہ مخدوم غلام میراں شاہ صاحب جمال الدین والی رحیم یار خاں جامعہ فیضیہ رضویہ احمد پور شرقیہ۔
تلامذہ:
حضرت علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی، علامہ مفتی غلام سرور قادری، حضرت علامہ عبدالحکیم، حضرت مولانا غلام رسول سورتی وغیرہُم۔
وصال:
۱۹ شوال المکرّم ۱۴۱۹ھ احمد پور شرقیہ ضلع بہادل پور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-muhammad-zareef-faizi
scholars.pk
Muhammad Zarif Faizi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Hazrat Allama Molana Muhammad Zareef Faizi
❤1
مرشدِ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ سید ابو الحسین احمد نوری ماہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
سراج العارفین سید شاہ ابو الحسین احمد نوری بن شاہ ظہور حسن بن حضرت شاہ آل رسول (علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
19 شوال 1255ھ، مطابق 26 دسمبر 1839ء بروز جمعرات پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم و تربیت اور پرورش دادی صاحبہ اور دادا بزرگوار (شاہ آلِ رسول علیہ الرحمہ) کے آغوشِ رحمت میں ہوئی۔ مدرسین خانقاہ برکاتیہ سے مختلف علوم و فنون کی تحصیل و تکمیل ہوئی ۔جن میں بالخصوص مولانا شاہ محمد سعید بدایونی المتوفی 1277ھ، مولانا فضل اللہ جالیسری المتوفی 1283ھ، مولانا نور احمد بدایونی المتوفی 1302ھ، اور مولانا ہدایت علی بریلوی المتوفی 1322ھ (علیہم الرحمہ) ہیں ۔
بیعت و خلافت:
12 ربیع الاوّل 1267ھ میں دادا بزرگوار خاتم الاکابر شاہ آلِ رسول مارہروی علیہ الرحمہ سے 12 سال کی عمر میں بیعت ہوئے اور اجازتِ مطلقہ سے مشرف کیے گئے۔
سیرت و خصائص:
حضرت جلیل البرکات نورالعارفین مولانا سید شاہ ابو الحسین احمد نوری مارہروی علیہ الرحمہ بالخصوص خاندانِ برکات اور بالعموم عالمِ اسلام کے لئے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت تھے ۔
آپ وہ شخصیت ہیں جن کی تربیت، وقت کے ایک ولیِ کامل کے ذریعے ہوئی ۔ چھوٹی سی عمر میں آپکی تربیت ، ریاضت و مجاہدہ کی کثرت دیکھ کر آپکی دادی صاحبہ، شاہ آلِ رسول علیہ الرحمہ سے فرماتیں! "کیا اس بچے کو بھی اپنی طرح فقیر کر دوگے؟" حضور فرماتے، ہاں! فقیر کر دوںگا! "اور ایسا فقیر ہوگا کہ بڑے بڑے بادشاہ اور امراء اس کے آگے سر جھکا دیں گے" ۔
آپ نے اپنے پوتے کو تمام علوم ظاہری و باطنی کی تعلیم دیکر جملہ رموز واسرار اور اپنے اسلاف ِ کرام کا سچا جانشین اور خانوادہ برکاتیہ کی تمام روحانی نعمتوں کا وارثِ کامل بنا دیا ۔
آپ علیہ الرحمہ سرورِ عالم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کا پر تو تھے ۔ میراثِ مصطفیٰ ﷺ (علوم ِ نبویہ) کے سچے وارث تھے ۔ عقیدے میں حد درجہ تصلب تھا ۔ شریعت کی پوری پابندی تھی ۔
محرمات تو دور مکروہات سے بھی حد درجہ احتیاط فرماتے تھے ۔ ریاضت و مجاہدہ، سخاوت و کرم، مخلوقِ خدا کی حاجت روائی، غرباء و مساکین کی مشکل کشائی ، اور ان سے انس و محبت ، بالخصوص سنی مسلمانوں کی خیر خواہی، اور ہر وقت انکے لئے دست بَدُعا رہنا، بد مذہبوں سے دوری ،فساق و فجار سے وحشت، اور اہلِ سلسلہ کی خیر خواہی سرکار نور کے اخلاقِ نورانی کے صرف چند گوشے ہیں ۔
میلا لگا ہے، شانِ مسیحا کی دید ہے
مردے جلا رہا ہے خرام ِ ابوالحسین
ذرّہ کو مہر ،قطرہ کو دریا کرے ابھی
گر جوش زن ہوبخشش عامِ ابوالحسین
وصال:
11 رجب 1324ھ میں آفتابِ طریقت غروب ہو گیا ۔ مارہرہ مطہرہ میں آپکا مزار منبعِ فیوض و برکات ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-abul-hussain-ahmed-noori-marharvi
سراج العارفین سید شاہ ابو الحسین احمد نوری بن شاہ ظہور حسن بن حضرت شاہ آل رسول (علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
19 شوال 1255ھ، مطابق 26 دسمبر 1839ء بروز جمعرات پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم و تربیت اور پرورش دادی صاحبہ اور دادا بزرگوار (شاہ آلِ رسول علیہ الرحمہ) کے آغوشِ رحمت میں ہوئی۔ مدرسین خانقاہ برکاتیہ سے مختلف علوم و فنون کی تحصیل و تکمیل ہوئی ۔جن میں بالخصوص مولانا شاہ محمد سعید بدایونی المتوفی 1277ھ، مولانا فضل اللہ جالیسری المتوفی 1283ھ، مولانا نور احمد بدایونی المتوفی 1302ھ، اور مولانا ہدایت علی بریلوی المتوفی 1322ھ (علیہم الرحمہ) ہیں ۔
بیعت و خلافت:
12 ربیع الاوّل 1267ھ میں دادا بزرگوار خاتم الاکابر شاہ آلِ رسول مارہروی علیہ الرحمہ سے 12 سال کی عمر میں بیعت ہوئے اور اجازتِ مطلقہ سے مشرف کیے گئے۔
سیرت و خصائص:
حضرت جلیل البرکات نورالعارفین مولانا سید شاہ ابو الحسین احمد نوری مارہروی علیہ الرحمہ بالخصوص خاندانِ برکات اور بالعموم عالمِ اسلام کے لئے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت تھے ۔
آپ وہ شخصیت ہیں جن کی تربیت، وقت کے ایک ولیِ کامل کے ذریعے ہوئی ۔ چھوٹی سی عمر میں آپکی تربیت ، ریاضت و مجاہدہ کی کثرت دیکھ کر آپکی دادی صاحبہ، شاہ آلِ رسول علیہ الرحمہ سے فرماتیں! "کیا اس بچے کو بھی اپنی طرح فقیر کر دوگے؟" حضور فرماتے، ہاں! فقیر کر دوںگا! "اور ایسا فقیر ہوگا کہ بڑے بڑے بادشاہ اور امراء اس کے آگے سر جھکا دیں گے" ۔
آپ نے اپنے پوتے کو تمام علوم ظاہری و باطنی کی تعلیم دیکر جملہ رموز واسرار اور اپنے اسلاف ِ کرام کا سچا جانشین اور خانوادہ برکاتیہ کی تمام روحانی نعمتوں کا وارثِ کامل بنا دیا ۔
آپ علیہ الرحمہ سرورِ عالم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کا پر تو تھے ۔ میراثِ مصطفیٰ ﷺ (علوم ِ نبویہ) کے سچے وارث تھے ۔ عقیدے میں حد درجہ تصلب تھا ۔ شریعت کی پوری پابندی تھی ۔
محرمات تو دور مکروہات سے بھی حد درجہ احتیاط فرماتے تھے ۔ ریاضت و مجاہدہ، سخاوت و کرم، مخلوقِ خدا کی حاجت روائی، غرباء و مساکین کی مشکل کشائی ، اور ان سے انس و محبت ، بالخصوص سنی مسلمانوں کی خیر خواہی، اور ہر وقت انکے لئے دست بَدُعا رہنا، بد مذہبوں سے دوری ،فساق و فجار سے وحشت، اور اہلِ سلسلہ کی خیر خواہی سرکار نور کے اخلاقِ نورانی کے صرف چند گوشے ہیں ۔
میلا لگا ہے، شانِ مسیحا کی دید ہے
مردے جلا رہا ہے خرام ِ ابوالحسین
ذرّہ کو مہر ،قطرہ کو دریا کرے ابھی
گر جوش زن ہوبخشش عامِ ابوالحسین
وصال:
11 رجب 1324ھ میں آفتابِ طریقت غروب ہو گیا ۔ مارہرہ مطہرہ میں آپکا مزار منبعِ فیوض و برکات ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-abul-hussain-ahmed-noori-marharvi
scholars.pk
Hazrat Syed Shah Abul Hussain Ahmed Noori Marharvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-10-1444 ᴴ | 09-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-10-1444 ᴴ | 10-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-10-1444 ᴴ | 10-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-10-1444 ᴴ | 10-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1