🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
خطیب اسلام حضرت علامہ مفتی حافظ عبدالقادر کلہوڑو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

خطیب اسلام لحن داوٗد حضرت علامہ مفتی حافظ عبد القادر بن حاجی میر محمد کلہوڑو ۹، ستمبر ۱۹۱۹ء کو گوٹھ فاضل کلہوڑو عرف کارڑا (تحصیل ڈوکری ضلع لاڑکانہ میں رولد ہوئے ۔

تعلیم و تربیت:
ابتدا میں گوٹھ کی مسجد شریف میں ناظرہ قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد چروا ہے کاکام کیا اور ساتھ میں پانچ پارے حفظ کر لئے۔ آپ کو حصول علم کا بہت شوق تھا، اس کے ساتھ نہایت ذہین و ذکی تھے ۔ آپ کی قسمت کا ستارہ چمکا کہ آپ کے ہی گوٹھ میں فقیر کامل حضرت استاد الحفاظ امام بخش سومرو ؒ(بانی درگاہ حافظ امام بخش ضلع لاڑکانہ ) کی آمد ہوئی انہوں نے گوہر نایاب کو پہچان لیا فرمایا: بیٹا !میرے ساتھ چلیں میرے مدرسہ میں قرآن مجید حفظ کریں ‘‘ ۔ حافظ عبدالقادر اسی وقت حضرت حافظ صاحب کے ساتھ آپ کے کمدرسہ غوثیہ آئے، وہیں رہ کر ۱۵ ماہ کی قلیل مدت میں حفظ قرآن کا عظیم اعزاز حاصل کیا۔ بعد فراغت ایک ختم تراویح استاد صاحب کے پاس اور دوسرا ختم قرآن تراویح فرید آباد میں کیا۔ ایک روز حضرت حافظ صاحب نے اپنے ہونہار شاگرد حافظ عبدالقادر کو درگا ہ مشوری شریف لے گئے جہاں جامعہ عر بیہ قاسم العلوم دارالافتاء الشرعی میں داخل کروایا ۔

حافظ عبد القادر نے فقیہ اعظم ، استاد العلماء شیخ الحدیث ، بحر العلو م و الفیوض ، حضرت علامہ مفتی الحاج محمد قاسم مشوری قدس سرہ کی خدمت عالیہ میں رہ کر سات سال قبل عرصہ میں درس نظامی کی تکمیل کی۔ اس کے بعد علم میراث میں ملکہ اور فتاویٰ نویسی سیکھی اور سالانہ جلسہ جشن عید میلاد النبی ﷺ میں آپ کی دستا ر فضیلت ہوئی۔

بیعت:
آپ نے سلسلہ عالیہ قادریہ راشدیہ میں حضرت فقیہ اعظم تاج العارفین حضرت سرکار مشوری قدس سرہ الا قدس کے دست اقدس پر بیعت ہو کر روحانی تعلیم و تربیت حاصل کی۔ حافظ صاحب کو اپنے پیرو مرشد سے بے پناہ عقیدت و محبت تھی ۔

درس و تدریس:
بعد فراغت آپ کے جامعہ عربیہ قاسم العلوم مادر علمی سے تدریس کا آغاز کیا۔ اور حضور قبلہ عالم کی زیر سر پرستی میں فتاویٰ نویسی کا کام بھی شروع کیا۔ اس کے علاوہ ۱۹۴۶ء میں اپنے گوٹھ میں ’’مدرسہ غوثیہ ‘‘ قائم کیا، جہاں حفظ قرآن کا کام عروج کو پہنچایا ، کئی حفاظ کرام فارغ التحصیل ہوئے ۔ اس طرح ائمہ مساجد و ختم تراویح کی ضرورت کو پورا کیا۔ آخر عمر میں حضرت قبلہ عالم سید ی مرشدی سندی مولائی و ملجائی قدس سرہ کے حکم کے مطابق شہر لاڑکانہ کی مرکز ی جامع مسجد قاسمیہ قدیم عید گاہ میں امامت و خطابت ، اور درس و تدریس کا مشغلہ انتقال تک جاری رکھا ۔

خطابت:
ڈویژن لاڑکانہ کے نامور خطباء میں آپ کا شمار ہوتا تھا ۔ آپ کی آواز لحن داوٗد ی تھی ، لوگ دوردراز علاقو ں سے آپ کا خطاب سننے آتے تھے ۔ آپ جب قرآن مجید کی تلاوت فرماتے تو ماحو ل میں سکوت طاری ہو جاتا اور اس طرح بعض ہندو قرآن پاک سن کر مسلمان ہو گئے ۔ آپ کا وعظ گویا جادو تھا جو کہ دل و دماغ پر اثر انداز ہوتا تھا ۔ زندگی بھر وعظ کے ذریعے مسلک حقہ اہل سنت و جماعت کی خوب تبلیغ و ترویج فرماتے رہے۔

حافظ عبدالقادر دلائل الخیرات شریف کے عامل تھے ، اپنے پیرو مرشد کے عطا کردہ تمام و ظائف و اور اد کو پابند سے ورد میں رکھتے تھے۔

پردہ عورت:
حضور قبلہ عالم کی تصنیف لطیف ’’پردہ عورت ‘‘کی جب چھپائی کا مرحلہ آیا تو درگاہ شریف کے کتب خانہ میں پردہ عورت کا ایک ایسا نسخہ سامنے آیا جو کہ پریس کیلئے صاف لکھائی میں لکھا گیا تھا ۔ پتہ لگنے پر معلوم ہوا کہ یہ خوشنو یسی علامہ حافظ عبدالقادر کی ہے آپ کی خوشخطی نے بہت متاثر کیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ حضرت قبلہ عالم کے فتاویٰ ، تحریر اور کتاب کی نقل تیار کرنے کا بھی جذبہ رکھتے تھے ۔ اس کی ایک نقل راقم الحروف راشدی کے کتب خانہ میں بھی ہے۔

شادی و اولاد:
آپ نے ایک شادی کی جس سے ۴ بیٹے اور ۴ بیٹیا ں تولد ہوئیں ۔

۱۔ حافظ احمد علی عباسی صدر جمعیت علماء پاکستان لاڑکانہ
۲۔ حافظ غلام بشیر
۳۔ حافظ نذیر احمد
۴۔ منیر احمد ۔

آپ کی بڑی بیٹی اور ایک بھتیجی قرآن پاک کی حافظہ اور آپ کی شاگر د ہیں ۔
1
تلامذہ:
آپ کے شاگردوں میں آپ کے صاحبزادوں کے علاوہ بعض نام معلوم ہو سکے ۔

حافظ محمد موسیٰ بروہی ۔ محمد رمضان (تحصیل گمبٹ ) حافظ شفیع محمد بھٹو (قاضی بھٹہ ، گمبٹ ) سید غلام مصطفی شاہ (میہڑ ) حافظ مولا بخش بھٹو (آبڑی تحصیل قمبر ) حافظ محمد حسن شیخ ( لاڑکانہ ) حافظ محمد عیسیٰ کھوکھر ( ڈوکری ) حافظ دھنی بخش جمالی (لاڑکانہ )

وصال:
حضرت علامہ مفتی حافظ عبد القادر کو آخر عمر میں دوران تقریر یا محفل میں گریہ کرتے دیکھا گیا بہت ہی رقیق القلب تھے ۔ آخر عمر میں طبیعت ناساز تھی ، جامع مسجد قاسمہ سے اپنے گوٹھ منتقل ہوئے اور ۱۹ شوال المکرم ۱۴۰۴ ھ بمطابق ۱۹، جولائی ۱۹۸۴ء کو ۶۵ سال کی عمر میں بروز جمعرات فجر کی اذان کے وقت انتقال کیا۔

حضور قبلہ عالم نے نماز جنازہ کی امامت فرمائی اور گوٹھ فاضل کلہوڑو میں آپ کی مزار شریف ہے۔ جہاں پر ہر سال عرس کی تقریب منعقد ہوتی ہے۔

[ حافظ احمد علی عباسی صاحب نے مواد فراہم کیا فقیر مشکور ہے ]

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-hafiz-abdul-qadir-kalhoro
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ العارف، حضرت علامہ مولانا محمد ظریف فیضی رحمۃ اللہ تعالی علیہ

ولادت: ۱۹۱۰ء
والدِ محترم: حضرت مولانا الہٰی بخش قادری متوفی ۱۳۷۰ھ

ابتدائی تعلیم:
جامعہ جلالیہ اوچ شریف مولانا قطب الدین صاحب، والدِ محترم مولانا الہٰی بخش قادری صاحب۔

تکمیل:
علوم عقلیہ نقلیہ بمع دورۂ حدیث شریف حضرت مولانا خواجہ فیض محمد شاہ جمالی علیہ الرحمہ حضرت مولانا غلام محمد گھوٹوی۔

بیعت:
حضرت مولانا خواجہ فیض محمد شاہ جمالی علیہ الرحمہ۔

خلافت:
حضرت مولانا خواجہ فیض محمد شاہ جمالی، مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان قطب مدینہ مولانا ضیاءالدین مدنی علیہم الرحمہ۔

تدریس:
جامعہ مدینۃ العلوم اوچ شریف، جامعہ جلالیہ دربارِ مخدوم جلال الدین بخاری جامعہ گیلانیہ دربار محبوب سبحانی اوچ شریف مدرسہ مخدوم غلام میراں شاہ صاحب جمال الدین والی رحیم یار خاں جامعہ فیضیہ رضویہ احمد پور شرقیہ۔

تلامذہ:
حضرت علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی، علامہ مفتی غلام سرور قادری، حضرت علامہ عبدالحکیم، حضرت مولانا غلام رسول سورتی وغیرہُم۔

وصال:
۱۹ شوال المکرّم ۱۴۱۹ھ احمد پور شرقیہ ضلع بہادل پور ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-muhammad-zareef-faizi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مرشدِ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ سید ابو الحسین احمد نوری ماہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

سراج العارفین سید شاہ ابو الحسین احمد نوری بن شاہ ظہور حسن بن حضرت شاہ آل رسول (علیہم الرحمہ)

تاریخِ ولادت:
19 شوال 1255ھ، مطابق 26 دسمبر 1839ء بروز جمعرات پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم و تربیت اور پرورش دادی صاحبہ اور دادا بزرگوار (شاہ آلِ رسول علیہ الرحمہ) کے آغوشِ رحمت میں ہوئی۔ مدرسین خانقاہ برکاتیہ سے مختلف علوم و فنون کی تحصیل و تکمیل ہوئی ۔جن میں بالخصوص مولانا شاہ محمد سعید بدایونی المتوفی 1277ھ، مولانا فضل اللہ جالیسری المتوفی 1283ھ، مولانا نور احمد بدایونی المتوفی 1302ھ، اور مولانا ہدایت علی بریلوی المتوفی 1322ھ (علیہم الرحمہ) ہیں ۔

بیعت و خلافت:
12 ربیع الاوّل 1267ھ میں دادا بزرگوار خاتم الاکابر شاہ آلِ رسول مارہروی علیہ الرحمہ سے 12 سال کی عمر میں بیعت ہوئے اور اجازتِ مطلقہ سے مشرف کیے گئے۔

سیرت و خصائص:
حضرت جلیل البرکات نورالعارفین مولانا سید شاہ ابو الحسین احمد نوری مارہروی علیہ الرحمہ بالخصوص خاندانِ برکات اور بالعموم عالمِ اسلام کے لئے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت تھے ۔

آپ وہ شخصیت ہیں جن کی تربیت، وقت کے ایک ولیِ کامل کے ذریعے ہوئی ۔ چھوٹی سی عمر میں آپکی تربیت ، ریاضت و مجاہدہ کی کثرت دیکھ کر آپکی دادی صاحبہ، شاہ آلِ رسول علیہ الرحمہ سے فرماتیں! "کیا اس بچے کو بھی اپنی طرح فقیر کر دوگے؟" حضور فرماتے، ہاں! فقیر کر دوں‌گا! "اور ایسا فقیر ہوگا کہ بڑے بڑے بادشاہ اور امراء اس کے آگے سر جھکا دیں گے" ۔

آپ نے اپنے پوتے کو تمام علوم ظاہری و باطنی کی تعلیم دیکر جملہ رموز واسرار اور اپنے اسلاف ِ کرام کا سچا جانشین اور خانوادہ برکاتیہ کی تمام روحانی نعمتوں کا وارثِ کامل بنا دیا ۔

آپ علیہ الرحمہ سرورِ عالم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کا پر تو تھے ۔ میراثِ مصطفیٰ ﷺ (علوم ِ نبویہ) کے سچے وارث تھے ۔ عقیدے میں حد درجہ تصلب تھا ۔ شریعت کی پوری پابندی تھی ۔

محرمات تو دور مکروہات سے بھی حد درجہ احتیاط فرماتے تھے ۔ ریاضت و مجاہدہ، سخاوت و کرم، مخلوقِ خدا کی حاجت روائی، غرباء و مساکین کی مشکل کشائی ، اور ان سے انس و محبت ، بالخصوص سنی مسلمانوں کی خیر خواہی، اور ہر وقت انکے لئے دست بَدُعا رہنا، بد مذہبوں سے دوری ،فساق و فجار سے وحشت، اور اہلِ سلسلہ کی خیر خواہی سرکار نور کے اخلاقِ نورانی کے صرف چند گوشے ہیں ۔

میلا لگا ہے، شانِ مسیحا کی دید ہے
مردے جلا رہا ہے خرام ِ ابوالحسین

ذرّہ کو مہر ،قطرہ کو دریا کرے ابھی
گر جوش زن ہوبخشش عامِ ابوالحسین

وصال:
11 رجب 1324ھ میں آفتابِ طریقت غروب ہو گیا ۔ مارہرہ مطہرہ میں آپکا مزار منبعِ فیوض و برکات ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-abul-hussain-ahmed-noori-marharvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-10-1444 ᴴ | 09-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-10-1444 ᴴ | 10-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1