🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-10-1444 ᴴ | 09-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-10-1444 ᴴ | 09-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حافظ العلوم حضرت علامہ مفتی محمد ہاشم یاسینی علیہ الرحمۃ
مفتی محمد ہاشم بن محمد بخش سومرو، شہداد کوٹ ( ضلع لاڑکانہ ) میں ۱۲۵۹ھ کو تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
شہداد کوٹ کی نامور دینی درسگاہ میں داخل ہوئے جہاں استاد الکل ، سند الکاملین ، حضرت علامہ نور محمد شہداد کوٹی قدس سرہ سے تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے بعد فارغ التحصیل ہوئے۔
بیعت:
شیخ طریقت ، ولی کامل حضرت مولانا میاں تاج محمد صاحب قادری سجادہ نشین درگاہ کٹبار شریف ( بلوچستان ) کے دست اقدس پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے۔
درس و تدریس:
شہداد کوٹ کی پسگردائی میں گوٹھ بھری سے درس و تدریس کا آغاز کیا، اس کے بعد حضرت مولانا میاں تاج محمد قادری سجادہ نشین درگاہ کٹبار شریف کے اصرار کے پیش نظر ان کی درگاہ شریف پر تدریس کے فرائض انجام دیئے ۔ اس کے بعد نواب اسد اللہ خان رئیسانی بروہی کے اصرار پر رئیسانیوں کے ’’گوٹھ محرم ‘‘میں کافی عرصہ تک فتویٰ وقضاء کے منصب پر فائز رہے۔ پٹھان قوم کے سردار رئیس اللہ بخش خان درانی کی استدعا پر گڑھی یاسین ( ضلع شکار پور) کی جامع مسجد میں امام مقرر ہوئے، متصل ’’مدرسہ ہاشمیہ ‘‘قائم فرمایا اور بقیہ زندگی یہیں درس و تدریس، امامت و فتاویٰ نویسی میں بسر ہوئی۔
اس طرح آپ ساری زندگی علم کی روشنی کو پھیلاتے رہے اور ظلم وجہالت سے بر سر پیکار رہے۔ سندھ ، بلوچستان ، پنجاب اور افغانستان کے طلباء نے آپ سے استفادہ کیا۔
(سندھی ادب کا تنقیدی اپیاس ، ص۵۷۳، ڈاکٹر میمن عبدالمجید سندھی مرحو م)
اولاد:
آپ کو تین بیٹے تولد ہوئے:
(۱) مولانا محمد صالح (۲)صاحب تکبیر مفتی محمد قاسم یاسینی ، صاحب فتاویٰ قاسمیہ (۳) مفتی حافظ محمد ابراہیم ناظم یاسینی
تلامذہ:
آپ سے کثیر تعداد میں طلباء نے استفادہ کیا، ان میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں :
۱۔ قاضی القضاء مفتی میاں گل حسن قادری ، سجادہ نشین درگاہ کٹبار شریف ( مرشد زادہ )
۲۔ علامہ مولانا عبداللہ نو ناری ، رتودیرو ضلع لاڑکانہ ( ان کے شاگرد علامہ خادم حسین جتوئی )
۳۔ مولانا مخدوم غلام مصطفی قادری ، سجادہ نشین درگاہ محمد پور شریف ( پنوعاقل ضلع گھوٹکی )
۴۔ مولانا حاجی محمد مبارک مہر قادری میاں جو گوٹھ ( ضلع شکار پور )
۵۔ مولانا محمد اسماعیل بھلیڈ نہ آباد ( ضلع جیکب آباد )
۶۔ مولانا جمال الدین صحبت پوری صحبت پور ( بلوچستان )
۷۔ مولانا تاج محمد تاج بلوچستانی گوٹھ حبیب خان لاشاری ، ناڑی ، (بلوچستان )
۸۔ مولانا حافظ نور محمد الیاسینی گڑھی یاسین
۹۔ مولانا کریم داد معارفانی چانڈیو مدفون گوٹھ ٹھوڑہی بجار ، تحصیل قمبر ضلع لاڑکانہ
۱۰۔ مولانا غلام عمر معار فانی چانڈیو گوٹھ ڈگھ سومر چانڈیو تحصیل قمبر
۱۱۔ ابو بچل عباسی (رہائش نزد جامع مسجد قاسمیہ ) لاڑکانہ
۱۲۔ مولانا الہٰی بخش گوٹھ کا کیپوتا
(مختصر سوانح حیات مولانا محمد قاسم یاسینی ص ۴، مرتبہ مولانا محمد حسین ایڈیٹر الحنیف ، طبع قدیم سن ندارد)
۱۳۔ مولانا پیر محمد ( غالبا جونانی شریف والے) تحصیل وارہ ضلع لاڑکانہ
۱۴۔ مولانا عنایت اللہ آگرو
۱۵۔ مولانا گل محمد ( سہ ماہی مہران سوانح نمبر ۱۹۵۷ئ)
مناظرہ:
مفتی محمد ہاشم الیاسینی نے علم فقہ کی کتاب ’’ہدایہ شریف ‘‘ ( مؤلف علامہ شیخ ابوالحسن علی بن ابی بکر مرغینا ئی قدس سرہ متوفی ۵۹۴ھ) کی تدریس میں خاص نام حاصل کیا تھا۔ فارغ التحصیل علماء بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر دوبارہ ہدایہ کا درس لیتے تھے۔ اسی طرح مولانا کو مناظرہ میں بھی کمال دسترس اور خداداد ذہانت حاصل تھی، اس لئے ہر مناظرہ میں بفضلہ تعالیٰ فتح و نصرت ان ے قدم چومتی تھی۔
کوئٹہ کا مشہور مناظرہ جس میں مفتی ملا احمد بھاگ ناڑی والے ( بلوچستان ) اور علامۃ الزمان ، مفتی اعظم ، رئیس العلماء مفتی عبدالغفور مفتون ہمایونی قدس سرہ العزیز کے مابین مناظرہ ہوا تھا۔ علامہ ہمایونی کی طرف سے آپ کے ہمعصر دوست مفتی محمد ہاشم یاسینی مناظر مقرر تھے۔ جس مناظرہ میں ملا احمد کو شکست فاش نصیب ہوئی اور شکست کا صدمہ برداشت نہ کر سکے لہذا اسی رات دل کا دورہ پڑا جو کہ جان لیوا ثابت ہوا۔ ( ہمایونی ص ۱۷) ، یہ واقعہ ۱۳۱۰ھ؍ ۱۸۹۲ء کا ہے ۔
مفتی محمد ہاشم بن محمد بخش سومرو، شہداد کوٹ ( ضلع لاڑکانہ ) میں ۱۲۵۹ھ کو تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
شہداد کوٹ کی نامور دینی درسگاہ میں داخل ہوئے جہاں استاد الکل ، سند الکاملین ، حضرت علامہ نور محمد شہداد کوٹی قدس سرہ سے تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے بعد فارغ التحصیل ہوئے۔
بیعت:
شیخ طریقت ، ولی کامل حضرت مولانا میاں تاج محمد صاحب قادری سجادہ نشین درگاہ کٹبار شریف ( بلوچستان ) کے دست اقدس پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے۔
درس و تدریس:
شہداد کوٹ کی پسگردائی میں گوٹھ بھری سے درس و تدریس کا آغاز کیا، اس کے بعد حضرت مولانا میاں تاج محمد قادری سجادہ نشین درگاہ کٹبار شریف کے اصرار کے پیش نظر ان کی درگاہ شریف پر تدریس کے فرائض انجام دیئے ۔ اس کے بعد نواب اسد اللہ خان رئیسانی بروہی کے اصرار پر رئیسانیوں کے ’’گوٹھ محرم ‘‘میں کافی عرصہ تک فتویٰ وقضاء کے منصب پر فائز رہے۔ پٹھان قوم کے سردار رئیس اللہ بخش خان درانی کی استدعا پر گڑھی یاسین ( ضلع شکار پور) کی جامع مسجد میں امام مقرر ہوئے، متصل ’’مدرسہ ہاشمیہ ‘‘قائم فرمایا اور بقیہ زندگی یہیں درس و تدریس، امامت و فتاویٰ نویسی میں بسر ہوئی۔
اس طرح آپ ساری زندگی علم کی روشنی کو پھیلاتے رہے اور ظلم وجہالت سے بر سر پیکار رہے۔ سندھ ، بلوچستان ، پنجاب اور افغانستان کے طلباء نے آپ سے استفادہ کیا۔
(سندھی ادب کا تنقیدی اپیاس ، ص۵۷۳، ڈاکٹر میمن عبدالمجید سندھی مرحو م)
اولاد:
آپ کو تین بیٹے تولد ہوئے:
(۱) مولانا محمد صالح (۲)صاحب تکبیر مفتی محمد قاسم یاسینی ، صاحب فتاویٰ قاسمیہ (۳) مفتی حافظ محمد ابراہیم ناظم یاسینی
تلامذہ:
آپ سے کثیر تعداد میں طلباء نے استفادہ کیا، ان میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں :
۱۔ قاضی القضاء مفتی میاں گل حسن قادری ، سجادہ نشین درگاہ کٹبار شریف ( مرشد زادہ )
۲۔ علامہ مولانا عبداللہ نو ناری ، رتودیرو ضلع لاڑکانہ ( ان کے شاگرد علامہ خادم حسین جتوئی )
۳۔ مولانا مخدوم غلام مصطفی قادری ، سجادہ نشین درگاہ محمد پور شریف ( پنوعاقل ضلع گھوٹکی )
۴۔ مولانا حاجی محمد مبارک مہر قادری میاں جو گوٹھ ( ضلع شکار پور )
۵۔ مولانا محمد اسماعیل بھلیڈ نہ آباد ( ضلع جیکب آباد )
۶۔ مولانا جمال الدین صحبت پوری صحبت پور ( بلوچستان )
۷۔ مولانا تاج محمد تاج بلوچستانی گوٹھ حبیب خان لاشاری ، ناڑی ، (بلوچستان )
۸۔ مولانا حافظ نور محمد الیاسینی گڑھی یاسین
۹۔ مولانا کریم داد معارفانی چانڈیو مدفون گوٹھ ٹھوڑہی بجار ، تحصیل قمبر ضلع لاڑکانہ
۱۰۔ مولانا غلام عمر معار فانی چانڈیو گوٹھ ڈگھ سومر چانڈیو تحصیل قمبر
۱۱۔ ابو بچل عباسی (رہائش نزد جامع مسجد قاسمیہ ) لاڑکانہ
۱۲۔ مولانا الہٰی بخش گوٹھ کا کیپوتا
(مختصر سوانح حیات مولانا محمد قاسم یاسینی ص ۴، مرتبہ مولانا محمد حسین ایڈیٹر الحنیف ، طبع قدیم سن ندارد)
۱۳۔ مولانا پیر محمد ( غالبا جونانی شریف والے) تحصیل وارہ ضلع لاڑکانہ
۱۴۔ مولانا عنایت اللہ آگرو
۱۵۔ مولانا گل محمد ( سہ ماہی مہران سوانح نمبر ۱۹۵۷ئ)
مناظرہ:
مفتی محمد ہاشم الیاسینی نے علم فقہ کی کتاب ’’ہدایہ شریف ‘‘ ( مؤلف علامہ شیخ ابوالحسن علی بن ابی بکر مرغینا ئی قدس سرہ متوفی ۵۹۴ھ) کی تدریس میں خاص نام حاصل کیا تھا۔ فارغ التحصیل علماء بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر دوبارہ ہدایہ کا درس لیتے تھے۔ اسی طرح مولانا کو مناظرہ میں بھی کمال دسترس اور خداداد ذہانت حاصل تھی، اس لئے ہر مناظرہ میں بفضلہ تعالیٰ فتح و نصرت ان ے قدم چومتی تھی۔
کوئٹہ کا مشہور مناظرہ جس میں مفتی ملا احمد بھاگ ناڑی والے ( بلوچستان ) اور علامۃ الزمان ، مفتی اعظم ، رئیس العلماء مفتی عبدالغفور مفتون ہمایونی قدس سرہ العزیز کے مابین مناظرہ ہوا تھا۔ علامہ ہمایونی کی طرف سے آپ کے ہمعصر دوست مفتی محمد ہاشم یاسینی مناظر مقرر تھے۔ جس مناظرہ میں ملا احمد کو شکست فاش نصیب ہوئی اور شکست کا صدمہ برداشت نہ کر سکے لہذا اسی رات دل کا دورہ پڑا جو کہ جان لیوا ثابت ہوا۔ ( ہمایونی ص ۱۷) ، یہ واقعہ ۱۳۱۰ھ؍ ۱۸۹۲ء کا ہے ۔
❤1
تصنیف و تالیف:
آپ نے زیادہ تردرسی کتب پر حواشی تحریر فرمائی ہے ، لیکن اکثر تصانیف ضائع ہو گئی ہیں ، ان میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں :
۱۔ رسالہ نذر و نیاز کے متعلق
۲۔ حاشیہ مالئۃ عامل
۳۔ حاشیہ ہدایۃ النحو
۴۔ حاشیہ بدیع المیزان
۵۔ حاشیہ ایسا غوجی
۶۔ حاشیہ صرف بہائی وغیرہ
شاعری:
شاعری میں بھی دسترس رکھتے تھے۔ شاعری کا کچھ حصہ محفوظ ہے۔ حضرت خواجہ عبدالرحمن سر ہندی کے انتقال پر قطعہ تاریخ وصال کہا۔ جس کے دو شعر درج ذیل ہیں :
شد فلک زاندوہ درخون شفق
شد ملک زافسوس پنہاں در شفق
بود خاص حضرت رب الفلک
’’غفرلہ‘‘ تاریخ اوگفتہ ملک
( ۱۳۱۰ھ )
وصال:
مولانا مفتی محمد ہاشم نے ۱۹، شوال ۱۳۲۲ھ ؍ ۱۹۰۴ ء کو انتقال کیا ۔ آپ کی آخری آرامگاہ گڑھی یاسین کے قبرستان میں زیارت گاہ عام ہے۔ آپ کے وصال پر عارف و فاضل علامہ سید احمد شامی سیلانی ( مدفون بمبئی انڈیا ) نے عربی میں قطعہ تاریخ وصال کہا:
اسفا لفقد العالم الربانی
صدر العلوم و مفخر الاعیان
الکامل المفضال زہدۃ عصرہ
شیخ الکرام وزبۃ العرفان
اعنی محمد ھاشم من قد بدا
ضیفا من الاضیاف للرحمن
بشراہ قد فاز اسعادۃ بالرضا
تاریخہ ’’فی معدل الرضوان‘‘
۱۳۲۲ھ
ہندی شاعر نے کہا:
جست ہندی چوسال رحلت او
گفت ہاتف ’’شد اندرون بہشت‘‘
۱۳۲۲ھ
( بشکریہ: مہران سوانح نمبر ۱۹۵۷ء )
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hafiz-ul-uloom-molana-mufti-muhammad-hashim-yasini
آپ نے زیادہ تردرسی کتب پر حواشی تحریر فرمائی ہے ، لیکن اکثر تصانیف ضائع ہو گئی ہیں ، ان میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں :
۱۔ رسالہ نذر و نیاز کے متعلق
۲۔ حاشیہ مالئۃ عامل
۳۔ حاشیہ ہدایۃ النحو
۴۔ حاشیہ بدیع المیزان
۵۔ حاشیہ ایسا غوجی
۶۔ حاشیہ صرف بہائی وغیرہ
شاعری:
شاعری میں بھی دسترس رکھتے تھے۔ شاعری کا کچھ حصہ محفوظ ہے۔ حضرت خواجہ عبدالرحمن سر ہندی کے انتقال پر قطعہ تاریخ وصال کہا۔ جس کے دو شعر درج ذیل ہیں :
شد فلک زاندوہ درخون شفق
شد ملک زافسوس پنہاں در شفق
بود خاص حضرت رب الفلک
’’غفرلہ‘‘ تاریخ اوگفتہ ملک
( ۱۳۱۰ھ )
وصال:
مولانا مفتی محمد ہاشم نے ۱۹، شوال ۱۳۲۲ھ ؍ ۱۹۰۴ ء کو انتقال کیا ۔ آپ کی آخری آرامگاہ گڑھی یاسین کے قبرستان میں زیارت گاہ عام ہے۔ آپ کے وصال پر عارف و فاضل علامہ سید احمد شامی سیلانی ( مدفون بمبئی انڈیا ) نے عربی میں قطعہ تاریخ وصال کہا:
اسفا لفقد العالم الربانی
صدر العلوم و مفخر الاعیان
الکامل المفضال زہدۃ عصرہ
شیخ الکرام وزبۃ العرفان
اعنی محمد ھاشم من قد بدا
ضیفا من الاضیاف للرحمن
بشراہ قد فاز اسعادۃ بالرضا
تاریخہ ’’فی معدل الرضوان‘‘
۱۳۲۲ھ
ہندی شاعر نے کہا:
جست ہندی چوسال رحلت او
گفت ہاتف ’’شد اندرون بہشت‘‘
۱۳۲۲ھ
( بشکریہ: مہران سوانح نمبر ۱۹۵۷ء )
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hafiz-ul-uloom-molana-mufti-muhammad-hashim-yasini
scholars.pk
Molana Mufti Muhammad Hashim Yasani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celaebrity / Personality (Religious Scholar).This Web Page ha
❤1
حضرت سید عبدالقادر پیر حاجی شاہ جیلانی علیہ الرحمۃ
ف ۱۳۶۳ھ
آپ کا شجرہ اس طرح ہے: سید عبدالقادر جیلانی المعروف پیر حاجی شاہ جیلانی بن حضرت سید سخی بچل شاہ(ثانی) جیلانی بن سید شجاع محمد جیلانی بن سید بچل شاہ (اول) جیلانی بن سید علی اکبر شاہ جیلانی بن حضرت سید فتح محمد شاہ جیلانی بن سید نور محمد جیلانی بن سید اسماعیل جیلانی بن سید ابو الوفا قادری شیخ جیلانی بن سید شیخ شہاب الدین جیلانی بن سید شیخ بدر الدین جیلانی بن سید شاہ علاؤ الدین جیلانی بن سید چراغ الدین بن سید ثمین الدین بن حضرت سید قاضی القضاۃ عماد الدین بن سید شیخ ابو بکر تاج الدین بن حضرت شیخ الشیوخ سیدنا عبدالقادر جیلانی الحسنی والحسینی رضی اللہ تعالیٰ عنہم ورضو عنہ، حضرت عبدالقادر شاہ جیلانی المعروف پیر حاجی شاہ رحمہ اللہ ایک عارف ، کامل اور بے مثال زاہد و عابد تھے۔ فصاحت و بلاغت حاضر جوابی اور قوت گویائی میں آپ کا کوئی ثانی نہیں تھا آپ کے ہمعصر حضرت پیر آغا مولانا محمد حسن جان سرہندی مجددی فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے اس دور میں تین اشخاص اپنے اوصاف میں عدیم النظیر ہیں عباس علی شاہ گالیوں میں محمد اشرف تھیبور پا شریف والے سخا میں اور حضرت پیر حاجی شاہ گفتگو اور قادر الکلامی میں ثانی نہیں رکھتے۔ جو بھی ایک مرتبہ آپ کی محفل میں شریک ہوتا تو آپ کا گرویدہ ہوجاتا۔ درمیانہ قد، گول نورانی چہرہ، گھنی ڈاڑھی آنکھوں سے نور برستا تھا سر پر عمامہ شریف باندھتے تھے۔ آپ نے کئی حج کیے اور دو مرتبہ بغداد شاہ نجف اشرف اور کربلائے معلی گئے۔ حضرت سید احمد اشرف الدین جیلانی قادری سجادہ نشین دوبارہ حضورغوث اعظم بغداد (جن کے پوتے سید یوسف الگیلانی اس وقت صاحب سجادہ ہیں) کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ حضرت مولانا محمد بخش جیلانی فرمایا کرتے تھے کہ والد ماجد حضرت حاجی شاہ بڑے عبادت گذار اور رات کے وقت مسجد کی چھت پر چھپ کر تہجد کی نماز پڑھتے اور ریاضت و عبادت کیا کرتے تھے۔ بزرگان دین کے مزار پر اکثر جایا کرتے تھے۔ آپ ہی کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حاجی شاہ علیہ الرحمۃ کے ایک مرید خاص حضرت حاجی پیر شاہ لکیاری محراب پور تحصیل سکرنڈ ضلع نواب شاہ والے۔ حضرت دادا جان حاجی شاہ کے بنگلے کی تعمیر کے لیے دو کشتیاں سامان کی لاد کر نورائی شریف لائے حضرت قبلہ موصوف کو جب اس بات کا علم ہوا تو آپ نے برہمی کا اظہار فرمایا اور ناراض ہو کر پیر شاہ سے فرمانے لگے کہ میرے والد محترم سخی بچل شاہ لکڑی کے بنے ہوئے مکان میں رہتے تھے لیکن میں نے یہ جرات کی کہ کچا مکان بنوا ڈالا ہے او اب آپ مجھ کو پکا بنوا کے دے رہے ہیں ۔ اس بات سے میں سخت نفرت کرتا ہوں مجھے ہر گز یہ مکان نہیں چاہیے۔ لہٰذا اپنا سامان واپس لے جاؤ اور اگر زیادہ اصرار کیا تو مریدی سے خارج کردوں گا۔ پیر شاہ نے عرض کیا کہ حضور سامان اگر واپس لےگیا تو دنیا ہنسی اڑائے گی تو آپ نے فرمایا کہ اگر دنیا کی ہنسی کا خیال ہے تو اسی سامان سے حضرت ددیا کے پیر کی مزارپر چوکنڈی (روضہ) اور نورائی شریف کی کچی مسجد ہے اس کو پکا بنوا دو۔ چناں چہ اسی سامان سے درگاہ شریف کی چوکنڈی (روضہ) اور مسجد جیلانی تعمیر کروا دی جو آج تک موجود ہے۔ حضرت مولانا محمد بخش شاہ جیلانی علیہ الرحمۃ سے روایت ہے کہ حضرت دادا جان عبدالقادر شاہ جیلانی علیہ الرحمۃ کو حاجی شاہ کہنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی ولادت ۹ ذی الحجہ کو ہوئی تھی۔ آپ نے اپنی وفات والے دن نماز عصر کے بعد تمام حاضرین دربار مریدین اور بستی کے مکینوں کو بلایا اور ان سے رخصت لی، نماز مغرب کے بعد رشتے داروں کو بلایا ان سے بھی رخصت لی۔ نماز عشاء کے بعد اپنے گھر والوں بیٹوں اور بیٹیوں کو جمع فرمایا اور ان سے اپنی زندگی کی آخری محفل سجائی اور مولانا محمد بخش شاہ چوں کہ آپ کے فرزند اکبر تھے ان کو وصیت و نصیحت فرمائی اور فرمایا بیٹے میں اب آپ سے رخصت ہوا چاہتا ہوں اور آج میری یہ آخری محفل ہے اور میرے جانے کا وقت پورا رات کا ایک بجے ہے۔ مولانا صاحب نے فرمایا کہ میں نے حضرت کی نبض (پلس) دیکھی تو اپنے معمول پر تھی ہلکی سی بدن پر حرارت تھی ہمیں بالکل یقین نہیں آرہا تھا کہ آیا ہم سے ابھی ہمارا سایہ اٹھ جائے گا۔ آپ بات چیت بھی بالکل صحیح فرما رہے تھےحتیٰ کہ رات کے ایک بجنے میں صرف ۵ منٹ تھے تو مجھے سورۂ یاسین شریف پڑھنے کا حکم فرمایا او ر اپنے تمام اعضاء خود درست کیے اور باآواز بلند میں فرمایا کہ تم لوگ گواہ ہونا کہ پیر حاجی شاہ دنیا سے باایمان گیا بس آپ نے اونچی آواز سے کلمہ طیبہ پڑھا اور واصل بحق ہوگئے۔ ۶۳ سال کی عمر پائی ۱۹/ شوال المکرم/۱۳۶۳ھ بروز پیر آپ کی تاریخ وفات ہے۔ آپ کا مزار آپ کے والدماجد حضرت سید بچل شاہ جیلانی کے پائنتی نورائی شریف میں واقع اور ماویٰء مخلوق ہے۔
(یہ معلومات میری ذاتی ہیں۔ ۱۲)
(تذکرہ اولیاءِ سندھ )
🌐 → Website
ف ۱۳۶۳ھ
آپ کا شجرہ اس طرح ہے: سید عبدالقادر جیلانی المعروف پیر حاجی شاہ جیلانی بن حضرت سید سخی بچل شاہ(ثانی) جیلانی بن سید شجاع محمد جیلانی بن سید بچل شاہ (اول) جیلانی بن سید علی اکبر شاہ جیلانی بن حضرت سید فتح محمد شاہ جیلانی بن سید نور محمد جیلانی بن سید اسماعیل جیلانی بن سید ابو الوفا قادری شیخ جیلانی بن سید شیخ شہاب الدین جیلانی بن سید شیخ بدر الدین جیلانی بن سید شاہ علاؤ الدین جیلانی بن سید چراغ الدین بن سید ثمین الدین بن حضرت سید قاضی القضاۃ عماد الدین بن سید شیخ ابو بکر تاج الدین بن حضرت شیخ الشیوخ سیدنا عبدالقادر جیلانی الحسنی والحسینی رضی اللہ تعالیٰ عنہم ورضو عنہ، حضرت عبدالقادر شاہ جیلانی المعروف پیر حاجی شاہ رحمہ اللہ ایک عارف ، کامل اور بے مثال زاہد و عابد تھے۔ فصاحت و بلاغت حاضر جوابی اور قوت گویائی میں آپ کا کوئی ثانی نہیں تھا آپ کے ہمعصر حضرت پیر آغا مولانا محمد حسن جان سرہندی مجددی فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے اس دور میں تین اشخاص اپنے اوصاف میں عدیم النظیر ہیں عباس علی شاہ گالیوں میں محمد اشرف تھیبور پا شریف والے سخا میں اور حضرت پیر حاجی شاہ گفتگو اور قادر الکلامی میں ثانی نہیں رکھتے۔ جو بھی ایک مرتبہ آپ کی محفل میں شریک ہوتا تو آپ کا گرویدہ ہوجاتا۔ درمیانہ قد، گول نورانی چہرہ، گھنی ڈاڑھی آنکھوں سے نور برستا تھا سر پر عمامہ شریف باندھتے تھے۔ آپ نے کئی حج کیے اور دو مرتبہ بغداد شاہ نجف اشرف اور کربلائے معلی گئے۔ حضرت سید احمد اشرف الدین جیلانی قادری سجادہ نشین دوبارہ حضورغوث اعظم بغداد (جن کے پوتے سید یوسف الگیلانی اس وقت صاحب سجادہ ہیں) کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ حضرت مولانا محمد بخش جیلانی فرمایا کرتے تھے کہ والد ماجد حضرت حاجی شاہ بڑے عبادت گذار اور رات کے وقت مسجد کی چھت پر چھپ کر تہجد کی نماز پڑھتے اور ریاضت و عبادت کیا کرتے تھے۔ بزرگان دین کے مزار پر اکثر جایا کرتے تھے۔ آپ ہی کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حاجی شاہ علیہ الرحمۃ کے ایک مرید خاص حضرت حاجی پیر شاہ لکیاری محراب پور تحصیل سکرنڈ ضلع نواب شاہ والے۔ حضرت دادا جان حاجی شاہ کے بنگلے کی تعمیر کے لیے دو کشتیاں سامان کی لاد کر نورائی شریف لائے حضرت قبلہ موصوف کو جب اس بات کا علم ہوا تو آپ نے برہمی کا اظہار فرمایا اور ناراض ہو کر پیر شاہ سے فرمانے لگے کہ میرے والد محترم سخی بچل شاہ لکڑی کے بنے ہوئے مکان میں رہتے تھے لیکن میں نے یہ جرات کی کہ کچا مکان بنوا ڈالا ہے او اب آپ مجھ کو پکا بنوا کے دے رہے ہیں ۔ اس بات سے میں سخت نفرت کرتا ہوں مجھے ہر گز یہ مکان نہیں چاہیے۔ لہٰذا اپنا سامان واپس لے جاؤ اور اگر زیادہ اصرار کیا تو مریدی سے خارج کردوں گا۔ پیر شاہ نے عرض کیا کہ حضور سامان اگر واپس لےگیا تو دنیا ہنسی اڑائے گی تو آپ نے فرمایا کہ اگر دنیا کی ہنسی کا خیال ہے تو اسی سامان سے حضرت ددیا کے پیر کی مزارپر چوکنڈی (روضہ) اور نورائی شریف کی کچی مسجد ہے اس کو پکا بنوا دو۔ چناں چہ اسی سامان سے درگاہ شریف کی چوکنڈی (روضہ) اور مسجد جیلانی تعمیر کروا دی جو آج تک موجود ہے۔ حضرت مولانا محمد بخش شاہ جیلانی علیہ الرحمۃ سے روایت ہے کہ حضرت دادا جان عبدالقادر شاہ جیلانی علیہ الرحمۃ کو حاجی شاہ کہنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی ولادت ۹ ذی الحجہ کو ہوئی تھی۔ آپ نے اپنی وفات والے دن نماز عصر کے بعد تمام حاضرین دربار مریدین اور بستی کے مکینوں کو بلایا اور ان سے رخصت لی، نماز مغرب کے بعد رشتے داروں کو بلایا ان سے بھی رخصت لی۔ نماز عشاء کے بعد اپنے گھر والوں بیٹوں اور بیٹیوں کو جمع فرمایا اور ان سے اپنی زندگی کی آخری محفل سجائی اور مولانا محمد بخش شاہ چوں کہ آپ کے فرزند اکبر تھے ان کو وصیت و نصیحت فرمائی اور فرمایا بیٹے میں اب آپ سے رخصت ہوا چاہتا ہوں اور آج میری یہ آخری محفل ہے اور میرے جانے کا وقت پورا رات کا ایک بجے ہے۔ مولانا صاحب نے فرمایا کہ میں نے حضرت کی نبض (پلس) دیکھی تو اپنے معمول پر تھی ہلکی سی بدن پر حرارت تھی ہمیں بالکل یقین نہیں آرہا تھا کہ آیا ہم سے ابھی ہمارا سایہ اٹھ جائے گا۔ آپ بات چیت بھی بالکل صحیح فرما رہے تھےحتیٰ کہ رات کے ایک بجنے میں صرف ۵ منٹ تھے تو مجھے سورۂ یاسین شریف پڑھنے کا حکم فرمایا او ر اپنے تمام اعضاء خود درست کیے اور باآواز بلند میں فرمایا کہ تم لوگ گواہ ہونا کہ پیر حاجی شاہ دنیا سے باایمان گیا بس آپ نے اونچی آواز سے کلمہ طیبہ پڑھا اور واصل بحق ہوگئے۔ ۶۳ سال کی عمر پائی ۱۹/ شوال المکرم/۱۳۶۳ھ بروز پیر آپ کی تاریخ وفات ہے۔ آپ کا مزار آپ کے والدماجد حضرت سید بچل شاہ جیلانی کے پائنتی نورائی شریف میں واقع اور ماویٰء مخلوق ہے۔
(یہ معلومات میری ذاتی ہیں۔ ۱۲)
(تذکرہ اولیاءِ سندھ )
🌐 → Website
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت سید عبدالقادر پیر حاجی شاہ جیلانی علیہ الرحمۃ ف ۱۳۶۳ھ آپ کا شجرہ اس طرح ہے: سید عبدالقادر جیلانی المعروف پیر حاجی شاہ جیلانی بن حضرت سید سخی بچل شاہ(ثانی) جیلانی بن سید شجاع محمد جیلانی بن سید بچل شاہ (اول) جیلانی بن سید علی اکبر شاہ…
https://t.me/islaamic_Knowledge/50291
#یوم_وصال_ماہ_شوال_المکرم
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abdul-qadir-haji-shah-jilani
#یوم_وصال_ماہ_شوال_المکرم
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abdul-qadir-haji-shah-jilani
❤1
صوفی راشد برہان پوری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: سید محمد مطیع اللہ راشد ۔ المعروف: صوفی راشد برہان پوری ۔ سلسلۂ نسب: ضلع دادو سندھ کے قریب قصبہ پاٹ شریف مرکز علم و فضل تھا ، اور یہاں کے سر بر آوردہ صدیقی علماء کا خاندان بھی ٹھٹھہ، گجرات، مالوہ اور دکن ہوتا ہوا خان دیش کے دار الحکومت برہان پور پہنچا ۔ یہ 950 ہجری کا زمانہ ہے ، یہاں فاروقی سلاطین حکمران تھے۔
پاٹ شریف کے اس خانوادے کے دو افراد شیخ محمد طاہر محدث سندھی (مصنف تفسیر قرآن عربی مجمع البحار قلمی) اور بابا قاسم تھے جو علم و فضل اور فقرو تصوف کے آفتاب اور ماہتاب تھے۔ انہوں نےیہاں کےحالات کےپیش نظرسندھ سےبرہان پور کی طرف ہجرت فرمائی۔بادشاہ برہان پور نے ان کی زبردست پزیرائی کی رہائش و درس تدریس کیلئے شاہی محل کی عمارت دے دی ۔ وظائف اور جاگیریں عطا کرکے فکر معاش سے آزاد کردیا اور انہوں نے یکسوئی کے ساتھ ترویج و اشاعت علم پر توجہ مبذول کردی۔ حضرت شیخ قاسم بوجوہ ایلچپور (برار) میں مقیم رہے اور وہیں وصال ہوا۔ جب کہ شیخ محمد طاہر محدث برہان پوری، برہان پور میں رہے۔ حضرت شیخ قاسم کے تین فرزندوں میں حضرت مسیح الاولیاء شیخ عیسی جند اللہ سندھی قدس سرہ العزیز ہی وہ بزرگ ہیں جن کے طفیل آج بھی برہان پور اور اطراف و جوانب میں علوم دینیہ اور روحانی فیوض جاری ہیں۔(تذکرہ انوار علمائے اہل سنت سندھ:288)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1895ء کو ساداتِ کرام کے عظیم خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ننھیال کی طرف سے آپ کو ’’سندھی نژاد‘‘بھی کہا جاسکتا ہے۔ جب کہ اجداد سادات کے عظیم خانوادے کے چشم و چراغ ہیں یعنی حضرت شیخ محمد بن فضل اللہ جو ’’نائب رسول اللہ ‘‘ کے لقب سے مشہور ہیں اور دسویں صدی ہجری میں گجرات میں پیدا ہوئے، برہان پو رمیں رہے اور یہیں آپ کا مزار ہے۔وہ خود لکھتے ہیں: ’’راقم الحروف راشد،شیخ محمد فضل اللہ نائب رسول اللہ کی اولاد نرینہ سے شجرہ نسب مربوط رکھتا ہے اور حضرت مسیح الاولیاء کے اخلاف میں ننھیال ہے اور سسرال بھی ‘‘(انوار علمائے اہل سنت سندھ:288)
تحصیلِ علم:
آپ نے اسکول سے تعلیم حاصل کی جب کہ ان دنوں تعلیم عربی فارسی ہی رائج تھی، اردو فارسی اور ہندی زبانوں پر آپ کو عبور حاصل رہا ہے۔ نہ صر ف یہ بلکہ آپ نہایت خوشخط اور نہایت نفیس طرز تحریر کے حامل بھی رہے ہیں۔
بیعت و خلات:
اس سلسلے میں کوئی راہنمائی نہ مل سکی۔
سیرت و خصائص:
صاحبِ اوصافِ کثیرہ، وخصائلِ حمیدہ، شاعرِ اہل سنت مولانا صوفی راشد برہان پوری علیہ الرحمہ ، آپ صاحبِ ذوق اور صاحبِ علم شخصیت تھے ۔ ساری زندگی علم پروری اور تصنیف وتالیف میں مشغول رہے ۔ برہان پور میں اسکولوں و مختلف اداروں میں شعبۂ تدریس سےوابستہ رہے ۔
شاعری:
نہ صرف نثر نگاری پر عبور تھا بلکہ شاعری سے بھی کما حقہ شغفف رکھتے تھے۔حمد،مناجات،نعت،مناقب اورشہدائے کربلا و اہل بیت کرام کے حضور میں سلام کے نذرانے بھی چار حصوں میں پیش کئے ہیں۔نیزغزل،قصیدہ،رباعی وغیرہ تمام مروجہ اصناف سخن پر دسترس حاصل تھی۔آپ نے اصلاح سخن کیلئے حضرت فخر الدین حاذق برہان پوری سے شرف تلمذ حاصل کیا ۔ آپ کے کلام میں ناسخ لکھنوی کا رنگ نمایاں ہے کیوں کہ آپ کے استاد حضرت حاذق،عشاد لکھنوی سےشرف تلمذ رکھتے تھے اور وہ حضرت ناسخ لکھنوی کے شاگرد رشید اور جانشین تھے۔آپ کی ایک نظم ’’عورت کے درجات‘‘ کو بھی مقبولیت حاصل ہوئی جس میں بچپن ، لڑکپن ، جوانی ، ادھیڑ عمر اور پختہ عمری کے درجات میں اس کی زندگی کے مختلف ادوار بیان فرمائے ہیں۔
انتخاب کلام:
یہ شرف نصیب ہوا ہمیں یہ عطائے رب انام ہے۔۔۔۔کیا اس رسول کا امتی جو پیمبروں کا امام ہے۔
مرا سر مزار رسول سے نہ ہٹائو دیکھو مجاورو!۔۔۔مری آرزوئیں نہ قتل ہوں کہ حرم میں خون حرام ہے
تصنیف و تالیف:
جناب راشد برہان پوری ادیب ، شاعر، محقق، مؤرخ اور صوفی تھے ۔ تاریخ و سوانح اور تصوف سے خاص طبعی میلان رکھتے تھے ۔ آپکی کتاب ’’برہان پور کے سندھی اولیاء‘‘قابل مطالعہ ہے۔اسی طرح ’ تذکرہ حضرت شاہ بھکاری برہان پوری‘التحفۃ المرسلہ الی النبی ﷺ، وحدت الوجود، عورت کے درجات، ریاض الشہداء چار حصے ۔
مولانا راشدی زید مجدہ تحفہ مرسلہ کی تالیف سبب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’حضرت عارف کامل سید محمد بن فضل اللہ العرف نائب رسول اللہ ﷺ برہان پوری جب حج کرنے گئے تو دوران حج مکہ معظمہ میں انڈونیشی علماء کا وحدت الوجود کے مسئلہ پر اختلاف پایا۔ آپ نے اس مسئلہ پر عربی میں مقالہ تحریر کیا اور پھر دربار نبوی ﷺ میں پیش فرما کر قبولیت کی درخواست کی، چنانچہ اس کا نام ’’التحفۃ المرسلہ‘‘ تجویز فرمایا، پھر جاوا اور سماٹرہ تشریف لے گئے اور وہاں کے علماء کو پیش کیا، جس پر سب نے اتفاق کیا اور باہم شیر و شکر ہوگئے۔
نام و نسب:
اسم گرامی: سید محمد مطیع اللہ راشد ۔ المعروف: صوفی راشد برہان پوری ۔ سلسلۂ نسب: ضلع دادو سندھ کے قریب قصبہ پاٹ شریف مرکز علم و فضل تھا ، اور یہاں کے سر بر آوردہ صدیقی علماء کا خاندان بھی ٹھٹھہ، گجرات، مالوہ اور دکن ہوتا ہوا خان دیش کے دار الحکومت برہان پور پہنچا ۔ یہ 950 ہجری کا زمانہ ہے ، یہاں فاروقی سلاطین حکمران تھے۔
پاٹ شریف کے اس خانوادے کے دو افراد شیخ محمد طاہر محدث سندھی (مصنف تفسیر قرآن عربی مجمع البحار قلمی) اور بابا قاسم تھے جو علم و فضل اور فقرو تصوف کے آفتاب اور ماہتاب تھے۔ انہوں نےیہاں کےحالات کےپیش نظرسندھ سےبرہان پور کی طرف ہجرت فرمائی۔بادشاہ برہان پور نے ان کی زبردست پزیرائی کی رہائش و درس تدریس کیلئے شاہی محل کی عمارت دے دی ۔ وظائف اور جاگیریں عطا کرکے فکر معاش سے آزاد کردیا اور انہوں نے یکسوئی کے ساتھ ترویج و اشاعت علم پر توجہ مبذول کردی۔ حضرت شیخ قاسم بوجوہ ایلچپور (برار) میں مقیم رہے اور وہیں وصال ہوا۔ جب کہ شیخ محمد طاہر محدث برہان پوری، برہان پور میں رہے۔ حضرت شیخ قاسم کے تین فرزندوں میں حضرت مسیح الاولیاء شیخ عیسی جند اللہ سندھی قدس سرہ العزیز ہی وہ بزرگ ہیں جن کے طفیل آج بھی برہان پور اور اطراف و جوانب میں علوم دینیہ اور روحانی فیوض جاری ہیں۔(تذکرہ انوار علمائے اہل سنت سندھ:288)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1895ء کو ساداتِ کرام کے عظیم خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ننھیال کی طرف سے آپ کو ’’سندھی نژاد‘‘بھی کہا جاسکتا ہے۔ جب کہ اجداد سادات کے عظیم خانوادے کے چشم و چراغ ہیں یعنی حضرت شیخ محمد بن فضل اللہ جو ’’نائب رسول اللہ ‘‘ کے لقب سے مشہور ہیں اور دسویں صدی ہجری میں گجرات میں پیدا ہوئے، برہان پو رمیں رہے اور یہیں آپ کا مزار ہے۔وہ خود لکھتے ہیں: ’’راقم الحروف راشد،شیخ محمد فضل اللہ نائب رسول اللہ کی اولاد نرینہ سے شجرہ نسب مربوط رکھتا ہے اور حضرت مسیح الاولیاء کے اخلاف میں ننھیال ہے اور سسرال بھی ‘‘(انوار علمائے اہل سنت سندھ:288)
تحصیلِ علم:
آپ نے اسکول سے تعلیم حاصل کی جب کہ ان دنوں تعلیم عربی فارسی ہی رائج تھی، اردو فارسی اور ہندی زبانوں پر آپ کو عبور حاصل رہا ہے۔ نہ صر ف یہ بلکہ آپ نہایت خوشخط اور نہایت نفیس طرز تحریر کے حامل بھی رہے ہیں۔
بیعت و خلات:
اس سلسلے میں کوئی راہنمائی نہ مل سکی۔
سیرت و خصائص:
صاحبِ اوصافِ کثیرہ، وخصائلِ حمیدہ، شاعرِ اہل سنت مولانا صوفی راشد برہان پوری علیہ الرحمہ ، آپ صاحبِ ذوق اور صاحبِ علم شخصیت تھے ۔ ساری زندگی علم پروری اور تصنیف وتالیف میں مشغول رہے ۔ برہان پور میں اسکولوں و مختلف اداروں میں شعبۂ تدریس سےوابستہ رہے ۔
شاعری:
نہ صرف نثر نگاری پر عبور تھا بلکہ شاعری سے بھی کما حقہ شغفف رکھتے تھے۔حمد،مناجات،نعت،مناقب اورشہدائے کربلا و اہل بیت کرام کے حضور میں سلام کے نذرانے بھی چار حصوں میں پیش کئے ہیں۔نیزغزل،قصیدہ،رباعی وغیرہ تمام مروجہ اصناف سخن پر دسترس حاصل تھی۔آپ نے اصلاح سخن کیلئے حضرت فخر الدین حاذق برہان پوری سے شرف تلمذ حاصل کیا ۔ آپ کے کلام میں ناسخ لکھنوی کا رنگ نمایاں ہے کیوں کہ آپ کے استاد حضرت حاذق،عشاد لکھنوی سےشرف تلمذ رکھتے تھے اور وہ حضرت ناسخ لکھنوی کے شاگرد رشید اور جانشین تھے۔آپ کی ایک نظم ’’عورت کے درجات‘‘ کو بھی مقبولیت حاصل ہوئی جس میں بچپن ، لڑکپن ، جوانی ، ادھیڑ عمر اور پختہ عمری کے درجات میں اس کی زندگی کے مختلف ادوار بیان فرمائے ہیں۔
انتخاب کلام:
یہ شرف نصیب ہوا ہمیں یہ عطائے رب انام ہے۔۔۔۔کیا اس رسول کا امتی جو پیمبروں کا امام ہے۔
مرا سر مزار رسول سے نہ ہٹائو دیکھو مجاورو!۔۔۔مری آرزوئیں نہ قتل ہوں کہ حرم میں خون حرام ہے
تصنیف و تالیف:
جناب راشد برہان پوری ادیب ، شاعر، محقق، مؤرخ اور صوفی تھے ۔ تاریخ و سوانح اور تصوف سے خاص طبعی میلان رکھتے تھے ۔ آپکی کتاب ’’برہان پور کے سندھی اولیاء‘‘قابل مطالعہ ہے۔اسی طرح ’ تذکرہ حضرت شاہ بھکاری برہان پوری‘التحفۃ المرسلہ الی النبی ﷺ، وحدت الوجود، عورت کے درجات، ریاض الشہداء چار حصے ۔
مولانا راشدی زید مجدہ تحفہ مرسلہ کی تالیف سبب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’حضرت عارف کامل سید محمد بن فضل اللہ العرف نائب رسول اللہ ﷺ برہان پوری جب حج کرنے گئے تو دوران حج مکہ معظمہ میں انڈونیشی علماء کا وحدت الوجود کے مسئلہ پر اختلاف پایا۔ آپ نے اس مسئلہ پر عربی میں مقالہ تحریر کیا اور پھر دربار نبوی ﷺ میں پیش فرما کر قبولیت کی درخواست کی، چنانچہ اس کا نام ’’التحفۃ المرسلہ‘‘ تجویز فرمایا، پھر جاوا اور سماٹرہ تشریف لے گئے اور وہاں کے علماء کو پیش کیا، جس پر سب نے اتفاق کیا اور باہم شیر و شکر ہوگئے۔
کیا جذبہ تھا کہ اختلاف مٹانے کی غرض اور صحیح فیصلہ سنانے کی غرض سے اس قدر طویل سفر اختیار کیا جس کا دنیوی کوئی فائدہ نہیں تھا۔(انوار علمائے اہل سنت سندھ ، ص:290) اللہ تعالیٰ آج کے علماء کوبھی یہ جذبۂ خیر عطاء فرمائے ۔ آمین
تحریکِ پاکستان میں خدمات: آپ برہان پور میں مسلم لیگ کے سر گرم کارکن تھے۔ آپ کا مکان تحریک پاکستان کا مرکز تھا۔ جذبۂ آزادی کو اجاگر کرنے کیلئے ملی نظمیں لکھتے تھے جنہیں سن کر عوام الناس میں جذبہ حریت بیدار ہوتا اور تحریک پاکستان کیلئے مسلم لیگ میں شامل ہو کر شانے سے شانہ ملا کر شب و روز کام کرتے تھے۔جب پاکستان بن گیا تو وہ انڈین حکومت کی نظر میں کھٹک رہے تھے لہذا احباب کے مشورے پر برہان پور سے نقل مکانی کرکے حیدرآباد دکن ریاست چلے گئے لیکن پھر سقوط حیدرآباد کے بعد پاکستان کراچی سمندری راستہ سے آگئے ان حوادث و عوامل کی وجہ سے آپ کا کتب خانہ تباہ ہوگیا۔ بہت قیمتی علمی سرمایہ تلف اور قلمی نوادرات ضائع ہوگئے۔
تاریخِ وصال:
حضرت راشد برہان پوری نے 19/ شوال المکرم 1379ھ بمطابق 16/ اپریل 1960ء کو ۶۵ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ آپ کی رہائش نمائش (نورانی چورنگی) نزد ختم نبوت مسجد کے پاس تھی اس لئے وہیں نماز جنازہ ہوئی، اس وقت یہ مسجد شریف اہل سنت و جماعت کی تھی بہت بعد میں اس پر وہابیوں نے قبضہ کیا۔شاہ فیصل کالونی گیٹ کے متصل قبرستان میں تدفین ہوئی جہاں آپ کی آخری آرام گاہ ہے۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sufi-rashid-burhan-puri
تحریکِ پاکستان میں خدمات: آپ برہان پور میں مسلم لیگ کے سر گرم کارکن تھے۔ آپ کا مکان تحریک پاکستان کا مرکز تھا۔ جذبۂ آزادی کو اجاگر کرنے کیلئے ملی نظمیں لکھتے تھے جنہیں سن کر عوام الناس میں جذبہ حریت بیدار ہوتا اور تحریک پاکستان کیلئے مسلم لیگ میں شامل ہو کر شانے سے شانہ ملا کر شب و روز کام کرتے تھے۔جب پاکستان بن گیا تو وہ انڈین حکومت کی نظر میں کھٹک رہے تھے لہذا احباب کے مشورے پر برہان پور سے نقل مکانی کرکے حیدرآباد دکن ریاست چلے گئے لیکن پھر سقوط حیدرآباد کے بعد پاکستان کراچی سمندری راستہ سے آگئے ان حوادث و عوامل کی وجہ سے آپ کا کتب خانہ تباہ ہوگیا۔ بہت قیمتی علمی سرمایہ تلف اور قلمی نوادرات ضائع ہوگئے۔
تاریخِ وصال:
حضرت راشد برہان پوری نے 19/ شوال المکرم 1379ھ بمطابق 16/ اپریل 1960ء کو ۶۵ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ آپ کی رہائش نمائش (نورانی چورنگی) نزد ختم نبوت مسجد کے پاس تھی اس لئے وہیں نماز جنازہ ہوئی، اس وقت یہ مسجد شریف اہل سنت و جماعت کی تھی بہت بعد میں اس پر وہابیوں نے قبضہ کیا۔شاہ فیصل کالونی گیٹ کے متصل قبرستان میں تدفین ہوئی جہاں آپ کی آخری آرام گاہ ہے۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sufi-rashid-burhan-puri
scholars.pk
Sufi Rashid Burhan Puri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
خطیب اسلام حضرت علامہ مفتی حافظ عبدالقادر کلہوڑو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
خطیب اسلام لحن داوٗد حضرت علامہ مفتی حافظ عبد القادر بن حاجی میر محمد کلہوڑو ۹، ستمبر ۱۹۱۹ء کو گوٹھ فاضل کلہوڑو عرف کارڑا (تحصیل ڈوکری ضلع لاڑکانہ میں رولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
ابتدا میں گوٹھ کی مسجد شریف میں ناظرہ قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد چروا ہے کاکام کیا اور ساتھ میں پانچ پارے حفظ کر لئے۔ آپ کو حصول علم کا بہت شوق تھا، اس کے ساتھ نہایت ذہین و ذکی تھے ۔ آپ کی قسمت کا ستارہ چمکا کہ آپ کے ہی گوٹھ میں فقیر کامل حضرت استاد الحفاظ امام بخش سومرو ؒ(بانی درگاہ حافظ امام بخش ضلع لاڑکانہ ) کی آمد ہوئی انہوں نے گوہر نایاب کو پہچان لیا فرمایا: بیٹا !میرے ساتھ چلیں میرے مدرسہ میں قرآن مجید حفظ کریں ‘‘ ۔ حافظ عبدالقادر اسی وقت حضرت حافظ صاحب کے ساتھ آپ کے کمدرسہ غوثیہ آئے، وہیں رہ کر ۱۵ ماہ کی قلیل مدت میں حفظ قرآن کا عظیم اعزاز حاصل کیا۔ بعد فراغت ایک ختم تراویح استاد صاحب کے پاس اور دوسرا ختم قرآن تراویح فرید آباد میں کیا۔ ایک روز حضرت حافظ صاحب نے اپنے ہونہار شاگرد حافظ عبدالقادر کو درگا ہ مشوری شریف لے گئے جہاں جامعہ عر بیہ قاسم العلوم دارالافتاء الشرعی میں داخل کروایا ۔
حافظ عبد القادر نے فقیہ اعظم ، استاد العلماء شیخ الحدیث ، بحر العلو م و الفیوض ، حضرت علامہ مفتی الحاج محمد قاسم مشوری قدس سرہ کی خدمت عالیہ میں رہ کر سات سال قبل عرصہ میں درس نظامی کی تکمیل کی۔ اس کے بعد علم میراث میں ملکہ اور فتاویٰ نویسی سیکھی اور سالانہ جلسہ جشن عید میلاد النبی ﷺ میں آپ کی دستا ر فضیلت ہوئی۔
بیعت:
آپ نے سلسلہ عالیہ قادریہ راشدیہ میں حضرت فقیہ اعظم تاج العارفین حضرت سرکار مشوری قدس سرہ الا قدس کے دست اقدس پر بیعت ہو کر روحانی تعلیم و تربیت حاصل کی۔ حافظ صاحب کو اپنے پیرو مرشد سے بے پناہ عقیدت و محبت تھی ۔
درس و تدریس:
بعد فراغت آپ کے جامعہ عربیہ قاسم العلوم مادر علمی سے تدریس کا آغاز کیا۔ اور حضور قبلہ عالم کی زیر سر پرستی میں فتاویٰ نویسی کا کام بھی شروع کیا۔ اس کے علاوہ ۱۹۴۶ء میں اپنے گوٹھ میں ’’مدرسہ غوثیہ ‘‘ قائم کیا، جہاں حفظ قرآن کا کام عروج کو پہنچایا ، کئی حفاظ کرام فارغ التحصیل ہوئے ۔ اس طرح ائمہ مساجد و ختم تراویح کی ضرورت کو پورا کیا۔ آخر عمر میں حضرت قبلہ عالم سید ی مرشدی سندی مولائی و ملجائی قدس سرہ کے حکم کے مطابق شہر لاڑکانہ کی مرکز ی جامع مسجد قاسمیہ قدیم عید گاہ میں امامت و خطابت ، اور درس و تدریس کا مشغلہ انتقال تک جاری رکھا ۔
خطابت:
ڈویژن لاڑکانہ کے نامور خطباء میں آپ کا شمار ہوتا تھا ۔ آپ کی آواز لحن داوٗد ی تھی ، لوگ دوردراز علاقو ں سے آپ کا خطاب سننے آتے تھے ۔ آپ جب قرآن مجید کی تلاوت فرماتے تو ماحو ل میں سکوت طاری ہو جاتا اور اس طرح بعض ہندو قرآن پاک سن کر مسلمان ہو گئے ۔ آپ کا وعظ گویا جادو تھا جو کہ دل و دماغ پر اثر انداز ہوتا تھا ۔ زندگی بھر وعظ کے ذریعے مسلک حقہ اہل سنت و جماعت کی خوب تبلیغ و ترویج فرماتے رہے۔
حافظ عبدالقادر دلائل الخیرات شریف کے عامل تھے ، اپنے پیرو مرشد کے عطا کردہ تمام و ظائف و اور اد کو پابند سے ورد میں رکھتے تھے۔
پردہ عورت:
حضور قبلہ عالم کی تصنیف لطیف ’’پردہ عورت ‘‘کی جب چھپائی کا مرحلہ آیا تو درگاہ شریف کے کتب خانہ میں پردہ عورت کا ایک ایسا نسخہ سامنے آیا جو کہ پریس کیلئے صاف لکھائی میں لکھا گیا تھا ۔ پتہ لگنے پر معلوم ہوا کہ یہ خوشنو یسی علامہ حافظ عبدالقادر کی ہے آپ کی خوشخطی نے بہت متاثر کیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ حضرت قبلہ عالم کے فتاویٰ ، تحریر اور کتاب کی نقل تیار کرنے کا بھی جذبہ رکھتے تھے ۔ اس کی ایک نقل راقم الحروف راشدی کے کتب خانہ میں بھی ہے۔
شادی و اولاد:
آپ نے ایک شادی کی جس سے ۴ بیٹے اور ۴ بیٹیا ں تولد ہوئیں ۔
۱۔ حافظ احمد علی عباسی صدر جمعیت علماء پاکستان لاڑکانہ
۲۔ حافظ غلام بشیر
۳۔ حافظ نذیر احمد
۴۔ منیر احمد ۔
آپ کی بڑی بیٹی اور ایک بھتیجی قرآن پاک کی حافظہ اور آپ کی شاگر د ہیں ۔
خطیب اسلام لحن داوٗد حضرت علامہ مفتی حافظ عبد القادر بن حاجی میر محمد کلہوڑو ۹، ستمبر ۱۹۱۹ء کو گوٹھ فاضل کلہوڑو عرف کارڑا (تحصیل ڈوکری ضلع لاڑکانہ میں رولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
ابتدا میں گوٹھ کی مسجد شریف میں ناظرہ قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد چروا ہے کاکام کیا اور ساتھ میں پانچ پارے حفظ کر لئے۔ آپ کو حصول علم کا بہت شوق تھا، اس کے ساتھ نہایت ذہین و ذکی تھے ۔ آپ کی قسمت کا ستارہ چمکا کہ آپ کے ہی گوٹھ میں فقیر کامل حضرت استاد الحفاظ امام بخش سومرو ؒ(بانی درگاہ حافظ امام بخش ضلع لاڑکانہ ) کی آمد ہوئی انہوں نے گوہر نایاب کو پہچان لیا فرمایا: بیٹا !میرے ساتھ چلیں میرے مدرسہ میں قرآن مجید حفظ کریں ‘‘ ۔ حافظ عبدالقادر اسی وقت حضرت حافظ صاحب کے ساتھ آپ کے کمدرسہ غوثیہ آئے، وہیں رہ کر ۱۵ ماہ کی قلیل مدت میں حفظ قرآن کا عظیم اعزاز حاصل کیا۔ بعد فراغت ایک ختم تراویح استاد صاحب کے پاس اور دوسرا ختم قرآن تراویح فرید آباد میں کیا۔ ایک روز حضرت حافظ صاحب نے اپنے ہونہار شاگرد حافظ عبدالقادر کو درگا ہ مشوری شریف لے گئے جہاں جامعہ عر بیہ قاسم العلوم دارالافتاء الشرعی میں داخل کروایا ۔
حافظ عبد القادر نے فقیہ اعظم ، استاد العلماء شیخ الحدیث ، بحر العلو م و الفیوض ، حضرت علامہ مفتی الحاج محمد قاسم مشوری قدس سرہ کی خدمت عالیہ میں رہ کر سات سال قبل عرصہ میں درس نظامی کی تکمیل کی۔ اس کے بعد علم میراث میں ملکہ اور فتاویٰ نویسی سیکھی اور سالانہ جلسہ جشن عید میلاد النبی ﷺ میں آپ کی دستا ر فضیلت ہوئی۔
بیعت:
آپ نے سلسلہ عالیہ قادریہ راشدیہ میں حضرت فقیہ اعظم تاج العارفین حضرت سرکار مشوری قدس سرہ الا قدس کے دست اقدس پر بیعت ہو کر روحانی تعلیم و تربیت حاصل کی۔ حافظ صاحب کو اپنے پیرو مرشد سے بے پناہ عقیدت و محبت تھی ۔
درس و تدریس:
بعد فراغت آپ کے جامعہ عربیہ قاسم العلوم مادر علمی سے تدریس کا آغاز کیا۔ اور حضور قبلہ عالم کی زیر سر پرستی میں فتاویٰ نویسی کا کام بھی شروع کیا۔ اس کے علاوہ ۱۹۴۶ء میں اپنے گوٹھ میں ’’مدرسہ غوثیہ ‘‘ قائم کیا، جہاں حفظ قرآن کا کام عروج کو پہنچایا ، کئی حفاظ کرام فارغ التحصیل ہوئے ۔ اس طرح ائمہ مساجد و ختم تراویح کی ضرورت کو پورا کیا۔ آخر عمر میں حضرت قبلہ عالم سید ی مرشدی سندی مولائی و ملجائی قدس سرہ کے حکم کے مطابق شہر لاڑکانہ کی مرکز ی جامع مسجد قاسمیہ قدیم عید گاہ میں امامت و خطابت ، اور درس و تدریس کا مشغلہ انتقال تک جاری رکھا ۔
خطابت:
ڈویژن لاڑکانہ کے نامور خطباء میں آپ کا شمار ہوتا تھا ۔ آپ کی آواز لحن داوٗد ی تھی ، لوگ دوردراز علاقو ں سے آپ کا خطاب سننے آتے تھے ۔ آپ جب قرآن مجید کی تلاوت فرماتے تو ماحو ل میں سکوت طاری ہو جاتا اور اس طرح بعض ہندو قرآن پاک سن کر مسلمان ہو گئے ۔ آپ کا وعظ گویا جادو تھا جو کہ دل و دماغ پر اثر انداز ہوتا تھا ۔ زندگی بھر وعظ کے ذریعے مسلک حقہ اہل سنت و جماعت کی خوب تبلیغ و ترویج فرماتے رہے۔
حافظ عبدالقادر دلائل الخیرات شریف کے عامل تھے ، اپنے پیرو مرشد کے عطا کردہ تمام و ظائف و اور اد کو پابند سے ورد میں رکھتے تھے۔
پردہ عورت:
حضور قبلہ عالم کی تصنیف لطیف ’’پردہ عورت ‘‘کی جب چھپائی کا مرحلہ آیا تو درگاہ شریف کے کتب خانہ میں پردہ عورت کا ایک ایسا نسخہ سامنے آیا جو کہ پریس کیلئے صاف لکھائی میں لکھا گیا تھا ۔ پتہ لگنے پر معلوم ہوا کہ یہ خوشنو یسی علامہ حافظ عبدالقادر کی ہے آپ کی خوشخطی نے بہت متاثر کیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ حضرت قبلہ عالم کے فتاویٰ ، تحریر اور کتاب کی نقل تیار کرنے کا بھی جذبہ رکھتے تھے ۔ اس کی ایک نقل راقم الحروف راشدی کے کتب خانہ میں بھی ہے۔
شادی و اولاد:
آپ نے ایک شادی کی جس سے ۴ بیٹے اور ۴ بیٹیا ں تولد ہوئیں ۔
۱۔ حافظ احمد علی عباسی صدر جمعیت علماء پاکستان لاڑکانہ
۲۔ حافظ غلام بشیر
۳۔ حافظ نذیر احمد
۴۔ منیر احمد ۔
آپ کی بڑی بیٹی اور ایک بھتیجی قرآن پاک کی حافظہ اور آپ کی شاگر د ہیں ۔
❤1
تلامذہ:
آپ کے شاگردوں میں آپ کے صاحبزادوں کے علاوہ بعض نام معلوم ہو سکے ۔
حافظ محمد موسیٰ بروہی ۔ محمد رمضان (تحصیل گمبٹ ) حافظ شفیع محمد بھٹو (قاضی بھٹہ ، گمبٹ ) سید غلام مصطفی شاہ (میہڑ ) حافظ مولا بخش بھٹو (آبڑی تحصیل قمبر ) حافظ محمد حسن شیخ ( لاڑکانہ ) حافظ محمد عیسیٰ کھوکھر ( ڈوکری ) حافظ دھنی بخش جمالی (لاڑکانہ )
وصال:
حضرت علامہ مفتی حافظ عبد القادر کو آخر عمر میں دوران تقریر یا محفل میں گریہ کرتے دیکھا گیا بہت ہی رقیق القلب تھے ۔ آخر عمر میں طبیعت ناساز تھی ، جامع مسجد قاسمہ سے اپنے گوٹھ منتقل ہوئے اور ۱۹ شوال المکرم ۱۴۰۴ ھ بمطابق ۱۹، جولائی ۱۹۸۴ء کو ۶۵ سال کی عمر میں بروز جمعرات فجر کی اذان کے وقت انتقال کیا۔
حضور قبلہ عالم نے نماز جنازہ کی امامت فرمائی اور گوٹھ فاضل کلہوڑو میں آپ کی مزار شریف ہے۔ جہاں پر ہر سال عرس کی تقریب منعقد ہوتی ہے۔
[ حافظ احمد علی عباسی صاحب نے مواد فراہم کیا فقیر مشکور ہے ]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-hafiz-abdul-qadir-kalhoro
آپ کے شاگردوں میں آپ کے صاحبزادوں کے علاوہ بعض نام معلوم ہو سکے ۔
حافظ محمد موسیٰ بروہی ۔ محمد رمضان (تحصیل گمبٹ ) حافظ شفیع محمد بھٹو (قاضی بھٹہ ، گمبٹ ) سید غلام مصطفی شاہ (میہڑ ) حافظ مولا بخش بھٹو (آبڑی تحصیل قمبر ) حافظ محمد حسن شیخ ( لاڑکانہ ) حافظ محمد عیسیٰ کھوکھر ( ڈوکری ) حافظ دھنی بخش جمالی (لاڑکانہ )
وصال:
حضرت علامہ مفتی حافظ عبد القادر کو آخر عمر میں دوران تقریر یا محفل میں گریہ کرتے دیکھا گیا بہت ہی رقیق القلب تھے ۔ آخر عمر میں طبیعت ناساز تھی ، جامع مسجد قاسمہ سے اپنے گوٹھ منتقل ہوئے اور ۱۹ شوال المکرم ۱۴۰۴ ھ بمطابق ۱۹، جولائی ۱۹۸۴ء کو ۶۵ سال کی عمر میں بروز جمعرات فجر کی اذان کے وقت انتقال کیا۔
حضور قبلہ عالم نے نماز جنازہ کی امامت فرمائی اور گوٹھ فاضل کلہوڑو میں آپ کی مزار شریف ہے۔ جہاں پر ہر سال عرس کی تقریب منعقد ہوتی ہے۔
[ حافظ احمد علی عباسی صاحب نے مواد فراہم کیا فقیر مشکور ہے ]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-hafiz-abdul-qadir-kalhoro
scholars.pk
Mufti Hafiz Abdul Qadir Kalhoro
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شیخ العارف، حضرت علامہ مولانا محمد ظریف فیضی رحمۃ اللہ تعالی علیہ
ولادت: ۱۹۱۰ء
والدِ محترم: حضرت مولانا الہٰی بخش قادری متوفی ۱۳۷۰ھ
ابتدائی تعلیم:
جامعہ جلالیہ اوچ شریف مولانا قطب الدین صاحب، والدِ محترم مولانا الہٰی بخش قادری صاحب۔
تکمیل:
علوم عقلیہ نقلیہ بمع دورۂ حدیث شریف حضرت مولانا خواجہ فیض محمد شاہ جمالی علیہ الرحمہ حضرت مولانا غلام محمد گھوٹوی۔
بیعت:
حضرت مولانا خواجہ فیض محمد شاہ جمالی علیہ الرحمہ۔
خلافت:
حضرت مولانا خواجہ فیض محمد شاہ جمالی، مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان قطب مدینہ مولانا ضیاءالدین مدنی علیہم الرحمہ۔
تدریس:
جامعہ مدینۃ العلوم اوچ شریف، جامعہ جلالیہ دربارِ مخدوم جلال الدین بخاری جامعہ گیلانیہ دربار محبوب سبحانی اوچ شریف مدرسہ مخدوم غلام میراں شاہ صاحب جمال الدین والی رحیم یار خاں جامعہ فیضیہ رضویہ احمد پور شرقیہ۔
تلامذہ:
حضرت علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی، علامہ مفتی غلام سرور قادری، حضرت علامہ عبدالحکیم، حضرت مولانا غلام رسول سورتی وغیرہُم۔
وصال:
۱۹ شوال المکرّم ۱۴۱۹ھ احمد پور شرقیہ ضلع بہادل پور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-muhammad-zareef-faizi
ولادت: ۱۹۱۰ء
والدِ محترم: حضرت مولانا الہٰی بخش قادری متوفی ۱۳۷۰ھ
ابتدائی تعلیم:
جامعہ جلالیہ اوچ شریف مولانا قطب الدین صاحب، والدِ محترم مولانا الہٰی بخش قادری صاحب۔
تکمیل:
علوم عقلیہ نقلیہ بمع دورۂ حدیث شریف حضرت مولانا خواجہ فیض محمد شاہ جمالی علیہ الرحمہ حضرت مولانا غلام محمد گھوٹوی۔
بیعت:
حضرت مولانا خواجہ فیض محمد شاہ جمالی علیہ الرحمہ۔
خلافت:
حضرت مولانا خواجہ فیض محمد شاہ جمالی، مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان قطب مدینہ مولانا ضیاءالدین مدنی علیہم الرحمہ۔
تدریس:
جامعہ مدینۃ العلوم اوچ شریف، جامعہ جلالیہ دربارِ مخدوم جلال الدین بخاری جامعہ گیلانیہ دربار محبوب سبحانی اوچ شریف مدرسہ مخدوم غلام میراں شاہ صاحب جمال الدین والی رحیم یار خاں جامعہ فیضیہ رضویہ احمد پور شرقیہ۔
تلامذہ:
حضرت علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی، علامہ مفتی غلام سرور قادری، حضرت علامہ عبدالحکیم، حضرت مولانا غلام رسول سورتی وغیرہُم۔
وصال:
۱۹ شوال المکرّم ۱۴۱۹ھ احمد پور شرقیہ ضلع بہادل پور ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-muhammad-zareef-faizi
scholars.pk
Muhammad Zarif Faizi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Hazrat Allama Molana Muhammad Zareef Faizi
❤1
مرشدِ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ سید ابو الحسین احمد نوری ماہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
سراج العارفین سید شاہ ابو الحسین احمد نوری بن شاہ ظہور حسن بن حضرت شاہ آل رسول (علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
19 شوال 1255ھ، مطابق 26 دسمبر 1839ء بروز جمعرات پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم و تربیت اور پرورش دادی صاحبہ اور دادا بزرگوار (شاہ آلِ رسول علیہ الرحمہ) کے آغوشِ رحمت میں ہوئی۔ مدرسین خانقاہ برکاتیہ سے مختلف علوم و فنون کی تحصیل و تکمیل ہوئی ۔جن میں بالخصوص مولانا شاہ محمد سعید بدایونی المتوفی 1277ھ، مولانا فضل اللہ جالیسری المتوفی 1283ھ، مولانا نور احمد بدایونی المتوفی 1302ھ، اور مولانا ہدایت علی بریلوی المتوفی 1322ھ (علیہم الرحمہ) ہیں ۔
بیعت و خلافت:
12 ربیع الاوّل 1267ھ میں دادا بزرگوار خاتم الاکابر شاہ آلِ رسول مارہروی علیہ الرحمہ سے 12 سال کی عمر میں بیعت ہوئے اور اجازتِ مطلقہ سے مشرف کیے گئے۔
سیرت و خصائص:
حضرت جلیل البرکات نورالعارفین مولانا سید شاہ ابو الحسین احمد نوری مارہروی علیہ الرحمہ بالخصوص خاندانِ برکات اور بالعموم عالمِ اسلام کے لئے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت تھے ۔
آپ وہ شخصیت ہیں جن کی تربیت، وقت کے ایک ولیِ کامل کے ذریعے ہوئی ۔ چھوٹی سی عمر میں آپکی تربیت ، ریاضت و مجاہدہ کی کثرت دیکھ کر آپکی دادی صاحبہ، شاہ آلِ رسول علیہ الرحمہ سے فرماتیں! "کیا اس بچے کو بھی اپنی طرح فقیر کر دوگے؟" حضور فرماتے، ہاں! فقیر کر دوںگا! "اور ایسا فقیر ہوگا کہ بڑے بڑے بادشاہ اور امراء اس کے آگے سر جھکا دیں گے" ۔
آپ نے اپنے پوتے کو تمام علوم ظاہری و باطنی کی تعلیم دیکر جملہ رموز واسرار اور اپنے اسلاف ِ کرام کا سچا جانشین اور خانوادہ برکاتیہ کی تمام روحانی نعمتوں کا وارثِ کامل بنا دیا ۔
آپ علیہ الرحمہ سرورِ عالم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کا پر تو تھے ۔ میراثِ مصطفیٰ ﷺ (علوم ِ نبویہ) کے سچے وارث تھے ۔ عقیدے میں حد درجہ تصلب تھا ۔ شریعت کی پوری پابندی تھی ۔
محرمات تو دور مکروہات سے بھی حد درجہ احتیاط فرماتے تھے ۔ ریاضت و مجاہدہ، سخاوت و کرم، مخلوقِ خدا کی حاجت روائی، غرباء و مساکین کی مشکل کشائی ، اور ان سے انس و محبت ، بالخصوص سنی مسلمانوں کی خیر خواہی، اور ہر وقت انکے لئے دست بَدُعا رہنا، بد مذہبوں سے دوری ،فساق و فجار سے وحشت، اور اہلِ سلسلہ کی خیر خواہی سرکار نور کے اخلاقِ نورانی کے صرف چند گوشے ہیں ۔
میلا لگا ہے، شانِ مسیحا کی دید ہے
مردے جلا رہا ہے خرام ِ ابوالحسین
ذرّہ کو مہر ،قطرہ کو دریا کرے ابھی
گر جوش زن ہوبخشش عامِ ابوالحسین
وصال:
11 رجب 1324ھ میں آفتابِ طریقت غروب ہو گیا ۔ مارہرہ مطہرہ میں آپکا مزار منبعِ فیوض و برکات ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-abul-hussain-ahmed-noori-marharvi
سراج العارفین سید شاہ ابو الحسین احمد نوری بن شاہ ظہور حسن بن حضرت شاہ آل رسول (علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
19 شوال 1255ھ، مطابق 26 دسمبر 1839ء بروز جمعرات پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم و تربیت اور پرورش دادی صاحبہ اور دادا بزرگوار (شاہ آلِ رسول علیہ الرحمہ) کے آغوشِ رحمت میں ہوئی۔ مدرسین خانقاہ برکاتیہ سے مختلف علوم و فنون کی تحصیل و تکمیل ہوئی ۔جن میں بالخصوص مولانا شاہ محمد سعید بدایونی المتوفی 1277ھ، مولانا فضل اللہ جالیسری المتوفی 1283ھ، مولانا نور احمد بدایونی المتوفی 1302ھ، اور مولانا ہدایت علی بریلوی المتوفی 1322ھ (علیہم الرحمہ) ہیں ۔
بیعت و خلافت:
12 ربیع الاوّل 1267ھ میں دادا بزرگوار خاتم الاکابر شاہ آلِ رسول مارہروی علیہ الرحمہ سے 12 سال کی عمر میں بیعت ہوئے اور اجازتِ مطلقہ سے مشرف کیے گئے۔
سیرت و خصائص:
حضرت جلیل البرکات نورالعارفین مولانا سید شاہ ابو الحسین احمد نوری مارہروی علیہ الرحمہ بالخصوص خاندانِ برکات اور بالعموم عالمِ اسلام کے لئے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت تھے ۔
آپ وہ شخصیت ہیں جن کی تربیت، وقت کے ایک ولیِ کامل کے ذریعے ہوئی ۔ چھوٹی سی عمر میں آپکی تربیت ، ریاضت و مجاہدہ کی کثرت دیکھ کر آپکی دادی صاحبہ، شاہ آلِ رسول علیہ الرحمہ سے فرماتیں! "کیا اس بچے کو بھی اپنی طرح فقیر کر دوگے؟" حضور فرماتے، ہاں! فقیر کر دوںگا! "اور ایسا فقیر ہوگا کہ بڑے بڑے بادشاہ اور امراء اس کے آگے سر جھکا دیں گے" ۔
آپ نے اپنے پوتے کو تمام علوم ظاہری و باطنی کی تعلیم دیکر جملہ رموز واسرار اور اپنے اسلاف ِ کرام کا سچا جانشین اور خانوادہ برکاتیہ کی تمام روحانی نعمتوں کا وارثِ کامل بنا دیا ۔
آپ علیہ الرحمہ سرورِ عالم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کا پر تو تھے ۔ میراثِ مصطفیٰ ﷺ (علوم ِ نبویہ) کے سچے وارث تھے ۔ عقیدے میں حد درجہ تصلب تھا ۔ شریعت کی پوری پابندی تھی ۔
محرمات تو دور مکروہات سے بھی حد درجہ احتیاط فرماتے تھے ۔ ریاضت و مجاہدہ، سخاوت و کرم، مخلوقِ خدا کی حاجت روائی، غرباء و مساکین کی مشکل کشائی ، اور ان سے انس و محبت ، بالخصوص سنی مسلمانوں کی خیر خواہی، اور ہر وقت انکے لئے دست بَدُعا رہنا، بد مذہبوں سے دوری ،فساق و فجار سے وحشت، اور اہلِ سلسلہ کی خیر خواہی سرکار نور کے اخلاقِ نورانی کے صرف چند گوشے ہیں ۔
میلا لگا ہے، شانِ مسیحا کی دید ہے
مردے جلا رہا ہے خرام ِ ابوالحسین
ذرّہ کو مہر ،قطرہ کو دریا کرے ابھی
گر جوش زن ہوبخشش عامِ ابوالحسین
وصال:
11 رجب 1324ھ میں آفتابِ طریقت غروب ہو گیا ۔ مارہرہ مطہرہ میں آپکا مزار منبعِ فیوض و برکات ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-abul-hussain-ahmed-noori-marharvi
scholars.pk
Hazrat Syed Shah Abul Hussain Ahmed Noori Marharvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1