🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت بہاول شیر قلندر قادری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: سید بہاء الدین گیلانی ۔ لقب: بہاول شیر قلندر حجروی ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید بہاول شاہ بن سید محمود بن سید علاؤالدین المشہور زین العابدین بن سید مسیح الدین (۱) بن سید صدر الدین بن سید ظہیر الدین بن سید شمس الدین بن مؤمن بن سید مشتاق بن سید علی بن سید صالح بن سید قطب الدین بن سید عبدالرزاق بن محبوبِ سبحانی حضرت غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی علیہم الرحمۃ والرضوان ۔ (حدیقۃ الاولیاء، ص:34 / تذکرۂ مقیمی ص:20 / انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام، ص:107) ۔

آپ کے والد ماجد اور پھوپھی تبلیغِ اسلام کی غرض سے ہندوستان میں قصبہ بدایوں میں وارد ہوئے تھے ۔ آپ کے والد گرامی اپنے وقت کے جید عالم و عارف تھے ۔ عبادت و ریاضت زہد و تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے ۔ آج بھی ان کا مزار بدایوں میں مرجعِ خلائق ہے ۔ (انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام، ص:107)

(۱) صرف تذکرۂ مقیمی میں سید مسیح الدین کی جگہ سید فتح اللہ آیا ہے، ہو سکتا ہے کہ یہ لقب ہو ۔ (تونسوی ؔغفرلہ)

تاریخِ ولادت:
مؤرخ اہل سنت مفتی غلام سرور لاہوری﷫ نےحدیقۃ الاولیاء میں تحریر فرمایا ہے: کہ آپ کی عمر مبارک دوسو پچاس برس ہوئی،اور وصال 973ھ میں ہوا،تو اس لحاظ سے تاریخِ ولادت723ھ، مطابق 1323ء بنتی ہے ۔ آپ کی پیدائش بغداد معلیٰ میں ہوئی۔کم سنی میں میں والد کے ہمراہ ہندوستان ورود ہوا تھا ۔ (حدیقۃ الاولیاء، ص:35)

تحصیلِ علم:
تعلیم و تربیت اپنے پدر بزرگوار سے پائی تھی۔ اِن کی وفات کے بعد پھوپھی نے جو اپنے وقت کی زاہدہ و عابدہ خاتون تھیں۔ انھوں نے اپنے سایۂ عاطفت میں لے لیا۔تعلیم وتربیت پرخصوصی توجہ دی اوراس ذمہ داری کواحسن انداز میں پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔اس وقت کےعلوم مروجہ کی تعلیم کی تکمیل فرمائی۔(حدیقۃ الاولیاء، ص:35)

بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں شیخ عبدالجلال صحرائی﷫ کےخلیفہ تھے ۔ آپ کا سلسلہ طریقت صرف نو واسطوں سےحضرت شہنشاہ بغداد ﷫سے متصل ہوتا ہے ۔

سیرت و خصائص:
غوث الوقت، قطب الاقطاب، رئیس الابدال، صاحبِ نسبتِ غوثیہ، مردِ قلندر، حضرت سید بہاء الدین گیلانی المعروف بہاول شیر قلندر ﷫ ۔آپ ﷫ علم و فضل، زہد و تقدس، عبادت و مجاہدہ اور خوارق و کرامت میں مشائخ قادریہ میں درجۂ بلند رکھتے تھے ۔ جذب و سکر اور ذوق و شوق کا طبیعت پر بے حد غلبہ تھا ۔ آپ نے بڑی طویل عمر پائی تھی۔ کہا جاتا ہے مشائخ قادریہ میں سے آج تک کسی نے اتنی بڑی عمر نہیں پائی۔ روایت ہے ایک سو برس کی عمر میں آپ کی داڑھی نکلی تھی۔ تین مرتبہ بارہ بارہ سال کی خلوت میں بیٹھے تھے۔ ایک دفعہ حالتِ استغراق و جذب و سکر میں اتنا طویل عرصہ ایک غار میں بیٹھے کہ جس پتھر کے ساتھ پشت تکیہ گاہ تھی جب وہاں سے اٹھے تو پشت کا کچھ چمڑہ اس پتھر کے ساتھ لگا رہ گیا ۔

یہ بھی روایت ہےکہ ایک دفعہ آپ خلوت سے اٹھ کر اس مقام پر آبیٹھے جہاں اب قصبہ حجرہ آباد ہے۔ اُس وقت یہاں دریا بہتا تھا۔ دریا کے کنارے پر آپ نے حجرہ و خانقاہ تعمیر کیا اور سکونت پذیر ہوگئے۔ زمیندارانِ قوم دھُول جن کی ملکیت میں وہ زمین تھی آپ کو وہاں سے اُٹھ جانے کے لیے کہا۔ حضرت نے وہاں سے کچھ دُور جاکر قیام کرلیا۔ وہاں بھی یہی معاملہ پیش آیا۔ اس دفعہ آپ جلال میں آگئے اور دریا کو حکم دیا کہ یہاں سے ہٹ جائے اور ہمارے رہنے کے لیے جگہ خالی کردے۔ دریا فی الفور وہاں سے دُور تک ہٹ گیا اور ایک بلند ٹیلہ دریا سے نکل آیا جس پر آپ نے قیام فر مالیا۔ آپ کا یہ تصرف دیکھ کر وہاں کے تمام زمیندار حلقۂ ارادت میں داخل ہوگئے۔

ایک دفعہ آپ حضرت شیخ داؤد چونی وال﷫ شیر گڑھی کی ملاقات کے لیے آئے۔ مگر شیخ داؤد آپ کے رعب و ہیبت سے اتنے مرعوب ہوئے کہ گھر سے باہر نہ نکلے۔ آپ نے کچھ عرصہ انتظار کرنے کے بعد فرمایا: ’’مرغی انڈوں پر بیٹھی ہوئی ہے۔ باہر نہیں آتی تو کوئی مضائقہ نہیں‘‘۔ یہ کہہ کر واپس چلے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ آپ ہی کے ارشاد کا اثر تھا کہ شیخ داؤد﷫ بڑے کثیر اولاد ہوئے۔ جس ہئیت میں آپ ﷫ شیخ، داؤد﷫ سے ملنے آئے تھے وُہ یہ تھی کہ شیر پر سوار تھے اور ہاتھ میں کوڑے کی بجائے سانپ تھا۔

آپ کے بڑے صاحبزادے اور خلیفے کا نام سید محمد نور شاہ گیلانی تھا۔یہ بھی اپنے وقت کےخدارسیدہ بزرگ تھے۔جب سید بہاول شیر قلندر﷫ کاوصال ہوا توسید نور محمد حاضر نہ تھے۔ان کی غیر موجودگی میں ہی دفنائےگئے۔جب واپس آئے تو دیدار والد کےلئے سخت بےتاب ہوئے،اور چاہا کہ قبر کھدواکر باپ کاچہرہ دیکھ لوں ۔اس ارادےسےقبر پر خیمہ نصب کردیا۔سب کونکال دیا۔تنہائی میں اپنے ہاتھ سےقبر کو کھودا اور زیارت کی۔اس وقت ناگہاں ایک معمار (مستری) جو حضرت کےمریدوں میں سےتھا بےاختیار اندر آ گیا ۔ چونکہ بلا اجازت اندر آیا تھا اس لئے بنائی سلب ہوگئی ۔
1
چند سال بعد جب سید نور محمد کاارادہ ہوا کہ والد گرامی کی قبر پرایک گنبد بنائیں تو اس معمار نے عرض کیا اگر میں بینا ہو جاؤں، توحضرت قلندر کا مقبرہ میں اپنے ہاتھوں سے تعمیر کروں گا۔فرمایا: دن بھرجب  تو کام کرتا رہےگا تو بینا رہےگا اور جب کام سے اٹھےگا تو اندھا ہوجائےگا۔چنانچہ جب تک مقبرہ تیار ہوتا رہا ایسا ہی ہوتا رہا۔دن کوبینائی ہوتی اور رات کوختم ہوجاتی۔مقبرہ مکمل ہونے کےبعد دن میں بھی کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔(حدیقۃ الاولیاء:39)

تاریخِ وصال:
آپ کاوصال18/شوال المکرم 973ھ مطابق مئی/1566ء کو بعہدِ جلال الدین محمد اکبر بادشاہ ہوا۔ مزار شریف حجرہ شاہ مقیم تحصیل دیپال پور ضلع اوکاڑا میں زیارت گاہِ خلق ہے۔

ماخذ و مراجع:
حدیقۃ الاولیاء ۔ تذکرہ اولیاء ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ تذکرہ مقیمی ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-bahauddin-gilani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد شریف رضوی ملتان علیہ الرحمہ

فاضل جلیل شیخ الحدیث علامہ محمد شریف رضوی ولد جناب محمد حسن ولد مولانا صالح محمد بھکھڑا شریف (میانوالی) میں پیدا ہوئے۔ [۱]

[۱۔ آپ کی تاریخ پیدائش کا پتہ نہیں چل سکا، البتہ عمر کے حساب سے تقریباً ۱۹۳۲ء بنتی ہے۔]

آپ کے جدِّ امجد مولانا صالح محمد جیّد عالم اور باکرامت ولی تھے۔ زمینداری کے علاوہ علومِ اسلامیہ کی تعلیم میں مصروف رہتے تھے اور طلباء کے کھانے کا انتظام خود اپنے گھر سے کرتے تھے۔

حضرت مولانا محمد شریف رضوی کے والد ماجد نے ابتدائی کتب صرف و نحو اور قرآن مجید اپنے والد محترم سے پڑھا اور پھر ان کے انتقال کی وجہ سے مزید تعلیم حاصل نہ کرسکے۔ قرآن پاک کی تلاوت ان کا بہترین مشغلہ ہے۔ علاوہ ازیں زمینداری کرتے ہیں اور گھر کے تمام امور اپنے ہاتھوں سر انجام دیتے ہیں۔

تحصیلِ علم:
آپ نے فارسی کی ابتدائی تعلیم اپنے چچا حکیم گل محمد سے اپنے گاؤں میں ہی حاصل کی آپ کے چچا ماسٹر تھے، اور فارسی میں ماہر تھے۔ آپ نے مزید تعلیم کے لیے پپلاں ضلع میانوالی کا قصد کیا، جہاں جامعہ محمودیہ رضویہ میں حضرت علامہ محمد حسین شوق اور علامہ مولانا سید احمد سے فنون کی تمام کتب پڑھیں۔ فقہ اسلامی کی مشہور کتاب در مختار سبقاً پڑھ کر جامعہ رضویہ مظہرِ اسلام فیصل آباد میں محدّثِ اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد صاحب رحمہ اللہ سے درس حدیث لیا اور ۱۹۵۶ء میں دستارِ فضیلت اور سندِ فراغت حاصل کی۔

اسی سال آپ کو حضرت محدّثِ اعظم رحمہ اللہ سے بیعت و خلافت کا شرف بھی حاصل ہوا۔

دینی و مِلّی خدمات:
آپ نے تدریسی زندگی کا آغاز جامعہ محمودیہ رضویہ پپلاں سے کیا، پھر حضرت محدّثِ اعظم رحمہ اللہ کے حکم پر کچھ عرصہ راد ہاکشن، شرقپور شریف اور بھائی پھیرو میں تدریسی فرائض سر انجام دینے کے بعد جامعہ رضویہ فیصل آباد میں بخاری شریف کا درس دینا شروع کیا۔

حضرت محدّثِ اعظم رحمہ اللہ کے وصال پر جناب صاحبزادہ قاضی محمد فضلِ رسول اور حضرت مولانا محمد حسین شوق کے مشورے سے اہل سنت و جماعت کے مرکزی دینی درس گاہ مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان میں صدر مدّرس اور شیخ الحدیث کی حیثیت سے چھ سال تک کام کرتے رہے اور پھر ۱۹۶۸ء میں حضرت مولانا مفتی محمد ہدایت اللہ کی معیّت میں ملتان ہی میں جامعہ رضویہ مظہر العلوم کے نام سے ایک دینی ادارہ قائم کیا۔ جہاں آج بھی آپ بحیثیتِ مہتمم اور شیخ الحدیث، فرائضِ منصبی ادا فرما رہے ہیں علاوہ ازیں آپ مختلف مساجد میں خطابت فرماتے رہے اور اب گیارہ سال سے ملتان کی بڑی جامع مسجد، مدینہ مسجد بیرون دہلی گیٹ میں بلا معاوضہ خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے ہیں۔

۱۹۶۳ء میں آپ سوادِ اعظم کی سیاسی جماعت، جمعیّتِ علماء پاکستان سے وابستہ ہوئے ابتداً آپ ملتان کے ضلعی ناظم کی حیثیت سے کام کرتے رہے پھر آپ کو صوبہ پنجاب کا ناظمِ اعلیٰ بنادیا گیا اور اب سینئر مرکزی نائب ناظم کی حیثیت سے جمعیت کے منشور کے مطابق نظامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نفاذ کی خاطر مصروفِ عمل ہیں۔

سابق صدر محمد ایّوب خان مرحوم کے دورِ اقتدار میں خلافِ شریعت اقدامات کے خلاف احتجاج پر ۱۹۶۷ء میں آپ کو گرفتار کر کے مقدمہ چلایا گیا، جو یحییٰ خاں کی مارشل لاء تک چلتا رہا۔

۱۹۷۲ء میں آپ کو بھٹو کے دورِ حکومت میں سوشلزم کے خلاف مہم میں بھر پور حصہ لینے کی وجہ سے دوبارہ گرفتار کیا گیا۔

۱۹۷۴ء کی تحریک ختمِ نبوت میں مجلسِ عمل تحفظِ ختم نبوت کے رُکن کی حیثیت سے آپ نے تحریک میں بھر پور حصہ لیا، جس پر آپ کو گرفتار کیا گیا۔

۱۹۷۷ءکے انتخابات میں آپ صوبائی اسمبلی کے امیدوار تھے جس کا بعد میں قومی اسمبلی کے انتخاب میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کی وجہ سے بائیکاٹ کیا گیا۔ انتخابات میں بھٹو حکومت کی مبیّنہ دھاندلی کے خلاف اور نفاذ مصطفےٰ کی خاطر جب ملک بھر تحریک چلی، تو آپ نے ۱۵؍ مارچ ۱۹۷۷ء کو ملتان میں ایک بہت بڑے جلوس کی قیادت کی جس پر سیکورٹی فورس کے غنڈوں نے بے تحاشہ آنسو گیس استعمال کی اور گولی چلائی اس دوران آپ بیہوش ہوگئے۔

اس کے بعد آپ مسلسل جلوسوں میں نہ صرف شرکت کرتے رہے، بلکہ جلوس سے پہلے خطاب بھی فرماتے رہے۔

حج بیت اللہ شریف:
۱۹۷۳ء میں آپ حج بیت اللہ شریف اور روضۂ رسول علیہ السّلام کی زیارت سے مشرف ہوئے۔
1
چند مشہور تلامذہ:
حضرت مولانا محمد شریف رضوی شعلہ بیاں مقرر اور کا میاب مناظر ہونے کے علاوہ نہایت قابل مدرس ہیں، چنانچہ آپ سے کثیر التعداد طلبا نے اکتساب فیض کیا۔ چند ایک کے نام یہ ہیں:

۱۔       مولانا عبدالمجید مہتمم جامع سردار العلوم فیصل آباد۔
۲۔       مولانا خلیل احمد، چیچہ وطنی۔
۳۔      مولانا محمد  ابراہیم صدر مدّرس جامعہ غوثیہ فریدیہ شجاع آباد۔
۴۔      مولانا عزیز الرحمان، مہتمم جامعہ سلیمانیہ نظامیہ ڈیرہ اسماعیل خان۔
۵۔       حافظ نذیر احمد،  متخصص جامعہ اسلامیہ بہاول پور، مدّرس مظہر العلوم ملتان۔
۶۔ مولانا غلام رسول، متخصص جامعہ اسلامیہ بہاول پور، مدّرس مظہر العلوم ملتان۔
۷۔ مولانا عبداللطیف، مدّرس مدرسہ انوار الابرار ملتان۔
۸۔ مولانا محمد رفیق، کوٹ ادّو۔
۹۔ مولانا امام بخش، حیدر آباد۔

اولاد:
آپ کے چار صاحبزادے اور تین صاحبزادیاں ہیں۔ بڑے صاحبزادے کا نام محمد عبدالعلیم ہے۔ [۱] اور وہ قرآن پاک پڑھنے کے علاوہ ساتویں جماعت کے متعلم ہیں۔ باقی تین صاحبزادوں کے نام محمد عبد الرحیم، محمد عبد الرؤف اور محمد عبد الرسول ہیں۔ [۲]

[۱۔ یہ نام مبلغِ اسلام حضرت مولانا شاہ عبد العلیم صاحب صدیقی، قادری، میرٹھی قدس سرہ العزیز، والد ماجد قائدِ اہل سنّت علامہ شاہ احمد نورانی مدظلہ کے نام پر حضرت محدّثِ اعظم پاکستان رحمہ اللہ کے ارشاد پر رکھا گیا۔]

[۲۔ جملہ کوائف حضرت شیخ الحدیث صاحب سے جامعہ نظامیہ رضویہ کے دارالافتاء میں بالمشافہ حاصل کیے گئے۔ (مرتب)]

وصال:
آپ کا وصال ۱۸، شوال المکرم ۱۴۳۵ھ بمطابق ۱۵ اگست ۲۰۱۴ بعد نماز جمعہ اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔ آپ کی نمازِ جنازہ جامعہ سراجیہ رضویہ جگنھ روض بھکر میں رات دس بجے ادا کی گئی۔

( تعارف علماءِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhammad-sharif
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت امیر خسرو چشتی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: ابوالحسن ۔ لقب: ترک اللہ، یمین الدین ۔ تخلص: امیر خسرو ۔ دہلی کی نسبت سے "دہلوی" کہلائے ۔

والد کا اسمِ گرامی:
امیر سیف الدین لاچین اور نانا کا نام عماد الملک ہے ۔ آپ کے والدِ بزرگوار "بلخ" کے سرداروں میں سے تھے ۔ ہندوستان میں ہجرت کرکے آئے اور شاہی دربار سے منسلک ہو گئے ۔ حضرت امیر خسرو کے والد اور نانا اپنے وقت کے عظیم بزرگ تھے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ 653ھ بمطابق 1255ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم سے لیکر تمام علوم کی تحصیل و تکمیل اپنے نانا عماد الملک سے کی، جو کہ ایک زبردست عالم اور بے نظیر بزرگ تھے، اور خواجہ نظام الدین اولیاء کے مرید تھے ۔ انہوں نے اپنے نواسے کی تربیت میں کوئی کسر باقی نہ رکھی ۔ امیر خسرو علیہ الرحمہ نے بہت جلد تمام علوم میں کمال حاصل کیا، اور اور اپنے وقت کے فضلاء میں شمار ہونے لگے ۔

بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے مرید اور خلیفہ تھے ۔

سیرت و خصائص:
معدنِ صدق و صفاء، کان عشق و وفاء، فنا فی الشیخ، سلطان الشعراء، برہان الفضلاء، طوطیِ ہند، وادیِ خطابت و سخن کے فردِ وحید حضرت خواجہ ابو الحسن امیر خسرو ، محبوب حضرت محبوب الہٰی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ سلطان الشعراء برہان الفضلا وادی خطابت و سخن کے عالم فرید و وحید نوع انسانی کے دونوں جہان میں منتخب اور بے پایاں تھے ۔ مضمون نگاری اور معنی پہنانے کے لیے شعر گوئی اور تمام اقسام سخن میں آپ کو وہ کمال حاصل تھا جو متقدمین و متأخرین شعراء میں سے کسی کو بھی نصیب نہیں ہوا، انہوں نے اپنے اشعار کو اپنے پیر کے فرمان و ارشاد کے مطابق اصفہانی طرز اور نہج پر کہا ہے، لیکن اس کے باوجود آپ صاحب علم و فضل تھے ۔ آپ تصوف کے اوصاف اور درویشوں کے احوال سے متصف تھے ۔ اگرچہ آپ کے تعلقات ملوک سے تھے اور امراء اور ملوک سے خوش طبعی اور بطور ظرافت میل جول تھا، لیکن قلبی طور پر ان تمام کی طرف میلان نہ تھا اس کی ایک واضح دلیل یہ ہے کہ آپ کے اشعار اور کلام میں جو برکات ہیں وہ تمام تر مشائخ ہی کا فیض معلوم ہوتاہے کیونکہ فساق و فجار کے قلوب برکات سے محروم ہوتے ہیں اور ان کے کلام کو قبولیت اور تاثیر قلبی میسر نہیں ہوتی ۔

حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ ہر شب کو تہجد میں قرآن کریم کے سات پارے ختم کیا کرتے تھے ۔ ایک دن شیخ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے آپ سے دریافت کیا اے ترک! تمہاری مشغولیات کا کیا حال ہے؟ عرض کیا یا سیدی! رات کے آخری حصہ میں اکثر و بیشتر آہ و بکا اور گریہ و زاری کا غلبہ رہتا ہے ۔ شیخ نے فرمایا! الحمد للہ کچھ اثرات ظاہر ہو رہے ہیں ۔ آپ کو شیخ نظام الدین اولیاء سے بے انتہا عقیدت اور محبت تھی اور شیخ بھی آپ پر نہایت درجہ شفیق اور عنایت کنندہ تھے ۔ شیخ کی خدمت اور حضور میں اور کسی کو اتنی رازداری اور قربت حاصل نہ تھی جتنی امیر خسرو کو تھی ۔

صاحب سیر الاولیاء آپ کے بارے میں فرماتے ہیں: کہ ایک مرتبہ شیخ نظام الدین اولیاء نے امیر خسرو کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا! کہ میں تمام دنیا سے تنگ آ جاتا ہوں مگر تم سے تنگ نہیں ہوتا ۔ ایک مرتبہ شیخ نے آپ سے اللہ کو درمیان میں رکھ کر یہ وعدہ فرمایا تھا کہ جب جنت میں جائیں گے تو تجھے بھی ان شاء اللہ عزوجل ساتھ لے کر جائیں گے ۔

خلیفۂ اعلیٰ حضرت سید سلیمان شرف بہاری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: کہ حضرت خسرو علیہ الرحمہ کو جو جامعیت مبدأ فیاض سے عطا ہوئی ہے اس طرح کی بخششیں صفحاتِ تاریخ میں بہت کم اور نایاب و نادر ہیں ۔ خصوصاً سر زمینِ ہند کے لئے تو ان کی ذات ایک بے مثل مایۂ ناز و فخر ہے ۔ مختلف پہلؤوں سے ان کی ذات باکمالوں کی صف میں صدر نشیں پائی جاتی ہے۔"

اگر صوفی کی حیثت سے دیکھو تو فانی فی اللہ، ندیم کی حیثیت سے دیکھو تو ارسطوءِ زمانہ، عالم کی حیثیت سے دیکھو تو متبحّر علامہ، موسیقی کی حیثیت سے دیکھو تو امام المجتہد، مؤرخ کی حیثیت سے دیکھو تو بے نظیر محقق، شاعر کی حیثیت سے دیکھو تو ملک الشعراء ۔ ان کے ہر کمال کا دامن نہایت وسیع ہے اور اپنے بیان میں نہایت طوالت پذیر! سچ ہے: ؏: لیس علی اللہ بمستنکر ۔ ان یجمع العالم فی واحد (مقدمہ مثنوی ہشت بہشت، ص:61)

وصال:
آپ کا وصال 18/شوال المکرم 725 ھ بمطابق / اکتوبر 1325ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار حضرت محبوب الہٰی کے پہلو (دہلی، انڈیا) میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
مقدمہ مثنوی ہشت بہشت ۔ اخبار الاخیار ۔ سیر الاولیاء

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-ameer-khusro-chishti
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-10-1444 ᴴ | 08-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-10-1444 ᴴ | 09-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1