🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-10-1444 ᴴ | 08-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-10-1444 ᴴ | 08-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ محمود الخیر فغنوی فغنوی بخاری رحمۃ اللہ علیہ

الخیر فغنہ نزد بخارا (۶۲۷ھ/ ۱۲۳۰ء۔۔۔ ۷۱۷ھ/ ۱۲۱۷ء) وابکنہ نزد بخارا

قطعۂ تاریخِ وصال:
جانشین تھے وہ خواجہ عارف کے
تھے نگاہوں میں سب کی اے صاؔبر



مرد ہشیار اور شب بیدار
’’خواجہ محمود مہر و ماہِ وقار‘‘
۱۳۱۷ء

(صاؔبر براری، کراچی)

آپ حضرت خواجہ عارف ریوگری رحمۃ اللہ علیہ کے تمام اصحاب میں افضل و اکمل اور خلافت سے ممتاز تھے آپ کی ولادت ۱۸؍شوال ۶۲۷ھ مطابق ۱۲۳۰ء میں موضع الخیر فغنہ نزد وابکنہ (بخارا سے چند میل دور) میں ہوئی۔ ذریعۂ معاش گلکاری (نقاشی، بیل بوٹے کا کام) تھا۔ جب آپ کو اجازتِ ارشاد مل گئی تو آپ نے مصلحتاً اور بتقاضائے وقت ذکر جہر شروع کیا کیونکہ حضرت خواجہ عارف ریوگری رحمہ اللہ نے آخری وقت فرمایا تھا کہ اب وہ وقت آگیا ہے جس کی طرف ہمیں اشارہ ہوا تھا کہ طالبوں کو بربنائے مصلحت ذکر جہر اختیار کرنا پڑے گا۔

مولانا حافظ الدین بخاری رحمۃ اللہ علیہ (جو اس وقت کے بہت بڑے عالم اور خواجہ محمد پارسا قدس سرہ کے جدِّ اعلیٰ تھے) نے رئیس العلماء شمس الآئمہ حلوانی کے اشارے سے علماء عصر کی ایک جماعت کے رو برو حضرت خواجہ محمود رحمہ اللہ سے سوال کیا تھا کہ آپ ذکر جہر کس نیت سے کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا تاکہ سویا ہوا بیدار اور غفلت سے ہشیار ہوجائے۔ راہِ راست پر آجائے اور شریعت و طریقت پر استقامت حاصل کرے اور توبہ و انابت (خدا کی طرف رجوع، انکساری و عاجزی) کی طرف رغبت کرے۔ مولانا نے فرمایا کہ آپ کی نیت درست ہے اور آپ کے لیے یہ شغل جائز ہے لیکن ذکر جہر کی ایک حد مقرر کردیجیے کہ جس سے حقیقت مجاز سے اور بیگانہ، آشنا سے ممتاز ہوجائے۔ اس پر حضرت خواجہ نے فرمایا کہ ذکر جہر اس شخص کے لیے جائز ہے کہ جس کی زبان جھوٹ اور غیبت سے پاک ہو، جس کا حلق حرام و شبہ سے،دل ریا وسمعہ سے اور باطن توجہ بماسوا سے پاک ہو۔

حضرت خواجہ علی رامتینی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ حضرت خواجہ محمود قدس سرہ کے وقت ایک درویش نے حضرت خضر علیہ السلام کو دیکھا اور اُن سے پوچھا کہ اس زمانے مین مشائخ میں سے ایسا کون ہے جو طریقِ استقامت پر ثابت قدم ہوتا کہ اس کا مرید بن کر اُس کی پیروی کروں۔ حضرت خضر علیہ السلام نے جواب دیا کہ حضرت خواجہ محمود الخیر فغنوی۔ خواجہ رامتینی کے بعض اصحاب نے کہا کہ وہ درویش سائل خود خواجہ رامتینی تھے مگر اپنا نام اس وجہ سے نہ لیا کہ یہ ظاہر نہ ہوجائے کہ انہوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو دیکھا ہے۔

آپ صاحبِ کرامت بزرگ تھے جن کی کرامتیں زبان زدِ عام تھیں۔ بطور تبرک ایک کرامت درج ذیل ہے:

ایک روز حضرت خواجہ علی رامتینی رحمۃ اللہ علیہ، خواجہ محمود الخیر فغنوی کے باقی اصحاب کے ساتھ موضع رامتین میں مشغولِ ذکر تھے۔ کیا دیکھتے ہین کہ ایک بہت بڑا سفید پرندہ اُن کے اوپر اڑا چلا آتا ہے۔ جب وہ پرندہ اُن کے عین سرپر آیا تو بزبانِ فصیح بولا ’’اے علی مرد بن اور اپنے کام میں مشغول رہ‘‘۔ یہ بات سن کر تمام اہل مجلس پر ایک کیفیت طاری ہوگئی اور بے ہوش ہوگئے۔ جب ہوش میں آئے تو حضرت خواجہ سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ تھا؟ حضرت خواجہ نے فرمایا کہ وہ حضرت خواجہ محمود فغنوی قدس سرہٗ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ طاقت اور قوت بخشی ہے کہ وہ جس مخلوق کے قالب میں چاہیں متشکل ہوجائیں اور وہ ہمیشہ اس مقام پر پرواز جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام سے کئی ہزار کلمات فرمائے۔ اُس وقت خواجہ و ہتقان قلتی رحمۃ اللہ علیہ بروایتِ دیگر خواجہ دہقان قلبی رحمۃ اللہ علیہ (خلیفہ اول خواجہ اولیائے کبیر رحمۃ اللہ علیہ) کا وقتِ آخر تھا۔ انہوں نے دعا کی تھی یا اللہ! میرے اس آخری وقت میری مدد کے لیے اپنے دوستوں میں سے کسی کو بھیج تاکہ اُس کی برکت سے اپنا ایمان سلامت لے جاؤں، چنانچہ بادشاہِ ربانی حضرت خواجہ محمود فغنوی کی روح مبارک خواجہ وہقان کے پاس پہنچی تھی۔ ان کا خاتمہ بالخیر ہوگیا اور اب واپس تشریف لے گئے ہیں چونکہ اُنہیں میرے حال پر فرط محبت و عنایت تھی لہٰذا اس راہ سے گزرتے ہوئے مجھ پر کرم فرمایا۔
1
واضح رہے کہ حیاتِ دنیوی میں بعض بندگان خدا کو غائیتِ صفا و لطافت سے بغائیت ایزدی اس بات پر قدرت ہوتی ہے کہ جسمِ ظاہری کی قید کے باوجود مختلف بدن تبدیل کرسکیں چونکہ موت کے بعد جبکہ یہ قید رفع ہوجاتی ہے اور طائرِ روح اس  قفس سے آزاد ہوجاتا ہے لہٰذا وہدوسرے بدن  میں تبدیل ہونے پر بطریق اولیٰ قادر ہیں۔ اسے بروز کہتے ہیں۔ بروز  و  تناسخ میں فرق ہے۔ اہل تناسخ عموم و لزوم کے قائل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کوئی روح نفیس ہو یا خسیس، مسلمان ہو یا کافر، انسان ہو یا حیوان کسی بدن سے جدا نہیں ہوتی جب تک کہ کوئی دوسرا بدن اُس کے واسطے تیار نہ ہوتا کہ پہلے بدن سے نکلتے ہی دوسرے میں چلی جائے۔ بخلاف اہل بروز کے کہ اُن کے نزدیک نہ عموم ہے نہ لزوم یعنی اس طائفہ  کے نزدیک یہ کاملین سے خاص ہے اور وہ بھی برجلیل لزوم نہیں۔ کیونکہ موت کے بعد کبھی مصلحت کی بنا پر دوسرے بدن میں ظاہر ہوتے ہیں خواہ وہ بدن اصلی دینوی کی مثل ہو یا نہ ہو اور صورتِ بشری میں ہو یا نہ ہو۔ اور پھر اتمامِ مطلوب کے بعد پس پردہ غائب ہوجاتے ہیں۔ جو لوگ بروز و تناسخ میں فرق نہیں کرتے وہ اولیائے کرام پر بے جا اعتراض اور طعن و تشنیع کرتے ہیں ؎

تاچند کنی ببادہ نوشاں انکار
رندے کہ بود ز بادۂ عرفاں مست

انکار ممکن کہ نیست نیکو ایں کار
زنہار برو طعنہ مکن صد ز نہار

آپ کی وفات ۱۷؍ربیع الاول ۷۱۷ھ مطابق ۱۳۱۷ء کو ہوئی۔ مزار اقدس واہکنہ (نزد بخارا) میں ہے۔ (تاریخِ مشائخ نقشبند)

خواجہ محمود انجیر فغنوی قدس سرہ

افضل و اکمل:
آپ خواجہ عارف قدس سرہ کے تمام اصحاب میں افضل و اکمل اور خلافت سے ممتاز تھے آپ کا مقام ولادت موضع انجیر فغنہ ہے جو علاقہ بخارا میں وابکنہ [۱] کا ایک گاؤں ہے۔ آپ وابکنہ میں رہا کرتے تھے۔ وجہ معاش گل کاری تھی۔ جب آپ کو اجازت ِارشاد مل گئی تو آپ نے بنابر مصلحت و مقتضائے حال طلاب پوشیدہ نہ رہے کہ حیات دنیوی میں بعضے بندگان خدا کو غایت صفا و لطافت سے بعنایات ایزدی اس بات پر قدرت ہوتی ہے کہ باوجود بعد ظاہری کی قید کے مختلف بدن کسب کرسکیں۔ پس موت کے بعد جبکہ یہ قید رفع ہوجاتی ہے اور طائر روح اس قفس سے آزاد ہوجاتا ہے وہ دوسرے بدن کے کسب پر بطریق اولےٰ قادر ہیں۔ اسے بروز کہتے ہیں۔

[۱۔ وابکنہ ایک قصبہ ہے جو چند قریات و مزارح پر شامل ہے اور شہر بخارا سے تین فرسنگ کے فاصلہ پر واقع ہے۔]

بروزا ور تناسخ میں فرق:
بروزا و رتناسخ میں فرق ہے۔ اہلِ تناسخ عموم و لزوم کے قائل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کوئی روح نفیس ہو یا خسیس۔مسلمان ہو یا کافر۔ انسان ہو یا حیوان کسی بدن سے جدا نہیں ہوتی جب تک کہ کوئی دوسرا بدن اس کے واسطے تیار نہ ہو۔ تاکہ پہلے بدن سے نکلتے ہی دوسرے میں چلی جائے۔ بخلاف اہل بروز کے کہ ان کے نزدیک نہ عموم ہے نہ لزوم۔ یعنی اس طائفہ کے نزدیک یہ کاملین سے خاص ہے۔ اور وہ بھی بر سبیل لزوم نہیں۔ کیونکہ موت کے بعد کبھی بنابر مصلحت دوسرے بدن میں ظاہر ہوتے ہیں خواہ وہ بدن اصلی دنیوی کی مثل ہو یا نہ ہو اور صورت بشری میں ہو یا نہ ہو اور پھر اتمام ِمطلوب کے بعد پس پردہ سے غائب ہوجاتے ہیں۔ جو لوگ بروز و تناسخ میں فرق نہیں کرتے وہ اولیائے کرام پر بیجا اعتراض و طعن کرتے ہیں۔

تا چند کئی ببادہ نوشاں انکار
انکار مکن کہ نیست نیکو ایں کار
رندے کہ بود زبادۂ عرفاں مست
زنہار بروطعنہ مکن صد زنہار

وصال مُبارک:
حضرت خواجہ محمود قدس سرہ کا سنہ وفات بعضوں نے ۱۷ ربیع الاول ۷۱۷ھ لکھا ہے۔آپ کا مزار مبارک وابکنہ میں ہے۔ (رشحات۔ روائح)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-abul-khair-mehmood-faghnavi-bukhari
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا حکیم محمد ابراہیم لاکھو علیہ الرحمہ

حکیم مولانا حافظ محمد ابراہم بن محمد عباس لاکھو (گوٹھ مٹھا خان جو کھیہ تحصیل دولت پور صفن ضلع نواب شاہ) تقریباً ۱۲۴۳ھ کو تولد ہوئے۔ میاں محمد ابراہم کو بچپن میں چہرے پر ماتا ہوئی جس کے سبب آنکھوں کی روشنی ختم ہوگئی۔ اس کے ساتھ ساتھ بچپن ہی میں والدین انتقال کر گئے اس طرح سخت تکالیف میں پرورش پائی۔ کفالت کا ذمہ آپ کے چچا نے اپنے سر اٹھایا۔

تعلیم و تربیت:
گوٹھ دودوبگھیہ میں آخوند ہارون کے پاس قرآن شریف ناظرہ پڑھا ۔ اس کے بعد مورو میں نامور فقیہ عالم حضرت علامہ مفتی قاضی عبدالرئوف کے مدرسہ میں داخل ہو کر سب سے پہلے قرآن مجید حفظ کیا اس کے بعد فارسی عربی کی کتابیں پڑھ کر درس نظامی مکمل کیا۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد اسی درسگاہ میں طب میں تحصیل کی ۔ آنکھیں نہ ہونے کی وجہ سے رب کریم نے انہیں آنکھوں والی توانائی دماغ میںودیعت فرمائی تھی۔ یہی سبب تھا کہ وہ قوی الحافظہ تھے اور تمام کتابیں حفظ تھیں۔

بیعت:
حضرت میاں محمد ابراہیم سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں درگاہ خنیاری شریف (ضلع نواب شاہ) کے کسی بزرگ سے دست بیعت ھتے۔مرشد سے بے حد عقیدت رکھتے تھے ان کے بتائے ہوئے اوراد و وظائف کو پابندی سے ورد میں رکھتے تھے اور اکثر مرشد خانہ حاضری دیتے تھے۔

درس و تدریس:
بعد فراغت گوٹھ مٹھا خان جو کھیہ میں مدرسہ قائم کیا اور درس و تدریس کا آغاز کیا۔ لیکن رشتہ داروں کی اذیت و تکالیف کے سبب اپنے شاگرد مولانا تاج محمد بگھیو کے مشورے پر دودوبگھیہ میں اقامت کا فیصلہ کیا۔ گوٹھ دودو بگھیہ کے رئیس میاں احسان بگھیو (والد مفتی محمد دائود بگھیو مرحوم) نے استقبال کیا اور قیام کیلئے تیار شدہ گھر دیئے۔ دودو بگھیہ میں مدرسہ قائم کیا اور دن رات درس و تدریس کا شغل جاری رکھا، بہت علم کے پیاسے پیاس بجھانے آئے اور سیراب ہو کر گئے۔

تلامذہ:
آپ کے شاگردوں میں سے بعض کے اسماء درض ذیل ہیں:

٭ حکیم مولانا میاں محمد حسین لاکھو (صاحبزادہ)
٭ مولانا میاں حبیب اللہ لاکھو (صاحبزادہ)
٭ مولانا محمد دائود میمن (دولت پور صفن)
٭ مولانا محمد اسماعیل گچیرے والے
٭ مولانا محمد صالح بگھیہ
٭ مولانا محمد افضل ڈاہری
٭ مولانا تاج محمد بگھیہ
٭ حکیم حاجی الف جوکھیو
٭ قاضی محمد یوسف
٭ مولانا رضا محمد راہو وغیرہ

تصنیف و تالیف:
آپ نے فتاویٰ ، دینی و طبی کتابیں اپنے صاحبزادے میاں محمد حسین لاکھو سے املا کروائیں جو کہ زمانہ کی گردش کی سبب ضائع ہوگئیں۔

حکمت:
میاں صاحب بیماروں کا جسمانی علاج بھی کرتے تھے اور شاگردوں کو علم طب بھی پڑھاتے تھے۔ اور خواتین کو دیسی طبی نسخے بتا کر چھوٹے بڑے مرض میں خود کفیل بناتے تھے۔ خواتین بھی نسخے یاد کرکے نیم حکیم بن گئی تھیں۔

شادی و اولاد:
میاں صاحب نے تین شادیاں کیں۔ صرف ایک بیوی سے دو بیٹے (۱) مولانا میاں محدم حسین (۲) مولانا حبیب اللہ تولد ہوئے جو کہ آپ کے شاگر ارشد اور عالم دین و درویش صفت انسان تھے۔

ہم عصر:
حضرت میاں محمد ابراہیم کے ہمعصر نامور علماء و مشائخ میں مولانا غلام محمد نقشبندی ملکانی شریف، مولانا عبدالرزاق بوبک (تحصیل سیوہن شریف) اور مولانا عبداللطیف (ہالا) وغیرہ مشہور ہیں۔

وصال:
حضرت مولانا محمد ابراہیم ، عالم با عمل ، شریعت مطہرہ کے پابند طلباء پرمہربان سخی مہمان نواز، اساتذہ و مرش دکریم کے نہایت ادیب یہاں تک کہ اساتذہ کرام کا احتراماً نام نہیں لیتے تھے بلکہ القاب سے یاد کرتے تھے۔ شب بیدار اور عشق مصطفی ﷺ میںلبریز دل رکھتے تھے۔ میاں محمد ابراہم آخری دنوں میں بیمار ہوگئے اور ۱۸ شوال المکرم ۱۳۱۹ھ/ ۱۹۰۲ء کو انتقال کیا اور گوٹھ دودو بگھیہ کے قبرستان میں دفن کئے گئے جہاں آج بھی آپ کا آستانہ آباد ہے۔

[مواد کے حصول کے سلسلے میں حکیم غلام رسول لاکھو صاحب کے مشکور ہیں]

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-muhammad-ibrahim-lakho
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا سید شاہ غلام مصطفیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نو شاہ ثالث حضرت مولانا سید شاہ غلام مصطفیٰ ابن حضرت سید شاہ محمد کی پیدائش بروز چہار شنبہ بوقت ظہر ۲۷؍جمادی الاخریٰ ۱۳۰۷؁ھ موافق ۱۸؍فروری ۱۸۹۰؁ء ساہن پال شریف میں ہوئی والد ماجد نے تاریخ کہی ؎

بفضل حق غلام مصطفیٰ زاد
خدا وند! غلام مصطفیٰ باد

آپ مشہور بزرگ حضرت شیخ الاسلام سید شاہ محمد نوشہ گنج بخش المتوفی ۸؍ربیع الاول ۱۰۶۴؁ھ قدس سرہٗ کے سلسلۂ احفاد کے نامور بزرگ تھے، آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے پائی، اور فارسی علم و ادب کی تحصیل کے بعد حضرت مولانا محمد شیخ احمد حنفی سے بمقام دھر یکان ضلع گجرات کے پاس پہونچے، مولانا شاہ محمد جید فضلائے وقت تھے، اور حضرت مولانا سید شاہ غلامقادر نوشاہی صاحب ساہن پالوی المتوفی ۱۳۰۶؁ھ سے تلمذ کی نسبت رکھتے تھے، انکی وفات ۱۳۲۸ ؁ھ میں ہوئی، آپ نے علم تجوید کے قواعد حافظ عالمالدین ساکن اگرونہ ضلع گجرات سے سیکھے مولانا قاضی محمد امین المتوفی ۱۳۴۸؁ھ سےبھی تحصیل علم کیا، آپ حدیث وتفسیر وفقہ وتصوف سےخاص شغف تھا، انہیں علوم کا مطالعہ کرتے تھے، آپ بکثرت تلاوتقرآن مجید کرتے تھے، ایک اندازہ کے مطابق چارہزار ختم قرآن آپ نے کیا، اپنے والد ماجد کے مُرید وخلیفہ تھے، وہ آپ کے بارے میں فرماتے تھے کہ خدا نے آپ کو ہم سے زیادہ اقبال و مراتب عطا فرمائے ہیں،۔۔۔۔۔آپ نہایت متقی تھے، اکل حلال کے خیال کا یہ حال تھا کہ اگر کسی نے دعوت کی اور آپ کومشتبہ کھانا کھلایا تو فوراً آپ کوتے ہاجاتی، آپ نےسلسلہ عالیہ قادری نوشاہیہ کو خوب فروغ و با، ہزار باگم گشتہ راہوں نے آپ کیتوجہ سے ہدایت پائی، تصنیف و تالیف سے بھی خصوصی تعلق تھا، تفسیر نوشاہی آپ کی شاہکار تالیف ہے۔۱۸؍شوال المکرم ۱۳۸۴؁ھ کو آپ نے وصال فرمایا ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-shah-ghulam-mustafa
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت بہاول شیر قلندر قادری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: سید بہاء الدین گیلانی ۔ لقب: بہاول شیر قلندر حجروی ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید بہاول شاہ بن سید محمود بن سید علاؤالدین المشہور زین العابدین بن سید مسیح الدین (۱) بن سید صدر الدین بن سید ظہیر الدین بن سید شمس الدین بن مؤمن بن سید مشتاق بن سید علی بن سید صالح بن سید قطب الدین بن سید عبدالرزاق بن محبوبِ سبحانی حضرت غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی علیہم الرحمۃ والرضوان ۔ (حدیقۃ الاولیاء، ص:34 / تذکرۂ مقیمی ص:20 / انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام، ص:107) ۔

آپ کے والد ماجد اور پھوپھی تبلیغِ اسلام کی غرض سے ہندوستان میں قصبہ بدایوں میں وارد ہوئے تھے ۔ آپ کے والد گرامی اپنے وقت کے جید عالم و عارف تھے ۔ عبادت و ریاضت زہد و تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے ۔ آج بھی ان کا مزار بدایوں میں مرجعِ خلائق ہے ۔ (انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام، ص:107)

(۱) صرف تذکرۂ مقیمی میں سید مسیح الدین کی جگہ سید فتح اللہ آیا ہے، ہو سکتا ہے کہ یہ لقب ہو ۔ (تونسوی ؔغفرلہ)

تاریخِ ولادت:
مؤرخ اہل سنت مفتی غلام سرور لاہوری﷫ نےحدیقۃ الاولیاء میں تحریر فرمایا ہے: کہ آپ کی عمر مبارک دوسو پچاس برس ہوئی،اور وصال 973ھ میں ہوا،تو اس لحاظ سے تاریخِ ولادت723ھ، مطابق 1323ء بنتی ہے ۔ آپ کی پیدائش بغداد معلیٰ میں ہوئی۔کم سنی میں میں والد کے ہمراہ ہندوستان ورود ہوا تھا ۔ (حدیقۃ الاولیاء، ص:35)

تحصیلِ علم:
تعلیم و تربیت اپنے پدر بزرگوار سے پائی تھی۔ اِن کی وفات کے بعد پھوپھی نے جو اپنے وقت کی زاہدہ و عابدہ خاتون تھیں۔ انھوں نے اپنے سایۂ عاطفت میں لے لیا۔تعلیم وتربیت پرخصوصی توجہ دی اوراس ذمہ داری کواحسن انداز میں پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔اس وقت کےعلوم مروجہ کی تعلیم کی تکمیل فرمائی۔(حدیقۃ الاولیاء، ص:35)

بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں شیخ عبدالجلال صحرائی﷫ کےخلیفہ تھے ۔ آپ کا سلسلہ طریقت صرف نو واسطوں سےحضرت شہنشاہ بغداد ﷫سے متصل ہوتا ہے ۔

سیرت و خصائص:
غوث الوقت، قطب الاقطاب، رئیس الابدال، صاحبِ نسبتِ غوثیہ، مردِ قلندر، حضرت سید بہاء الدین گیلانی المعروف بہاول شیر قلندر ﷫ ۔آپ ﷫ علم و فضل، زہد و تقدس، عبادت و مجاہدہ اور خوارق و کرامت میں مشائخ قادریہ میں درجۂ بلند رکھتے تھے ۔ جذب و سکر اور ذوق و شوق کا طبیعت پر بے حد غلبہ تھا ۔ آپ نے بڑی طویل عمر پائی تھی۔ کہا جاتا ہے مشائخ قادریہ میں سے آج تک کسی نے اتنی بڑی عمر نہیں پائی۔ روایت ہے ایک سو برس کی عمر میں آپ کی داڑھی نکلی تھی۔ تین مرتبہ بارہ بارہ سال کی خلوت میں بیٹھے تھے۔ ایک دفعہ حالتِ استغراق و جذب و سکر میں اتنا طویل عرصہ ایک غار میں بیٹھے کہ جس پتھر کے ساتھ پشت تکیہ گاہ تھی جب وہاں سے اٹھے تو پشت کا کچھ چمڑہ اس پتھر کے ساتھ لگا رہ گیا ۔

یہ بھی روایت ہےکہ ایک دفعہ آپ خلوت سے اٹھ کر اس مقام پر آبیٹھے جہاں اب قصبہ حجرہ آباد ہے۔ اُس وقت یہاں دریا بہتا تھا۔ دریا کے کنارے پر آپ نے حجرہ و خانقاہ تعمیر کیا اور سکونت پذیر ہوگئے۔ زمیندارانِ قوم دھُول جن کی ملکیت میں وہ زمین تھی آپ کو وہاں سے اُٹھ جانے کے لیے کہا۔ حضرت نے وہاں سے کچھ دُور جاکر قیام کرلیا۔ وہاں بھی یہی معاملہ پیش آیا۔ اس دفعہ آپ جلال میں آگئے اور دریا کو حکم دیا کہ یہاں سے ہٹ جائے اور ہمارے رہنے کے لیے جگہ خالی کردے۔ دریا فی الفور وہاں سے دُور تک ہٹ گیا اور ایک بلند ٹیلہ دریا سے نکل آیا جس پر آپ نے قیام فر مالیا۔ آپ کا یہ تصرف دیکھ کر وہاں کے تمام زمیندار حلقۂ ارادت میں داخل ہوگئے۔

ایک دفعہ آپ حضرت شیخ داؤد چونی وال﷫ شیر گڑھی کی ملاقات کے لیے آئے۔ مگر شیخ داؤد آپ کے رعب و ہیبت سے اتنے مرعوب ہوئے کہ گھر سے باہر نہ نکلے۔ آپ نے کچھ عرصہ انتظار کرنے کے بعد فرمایا: ’’مرغی انڈوں پر بیٹھی ہوئی ہے۔ باہر نہیں آتی تو کوئی مضائقہ نہیں‘‘۔ یہ کہہ کر واپس چلے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ آپ ہی کے ارشاد کا اثر تھا کہ شیخ داؤد﷫ بڑے کثیر اولاد ہوئے۔ جس ہئیت میں آپ ﷫ شیخ، داؤد﷫ سے ملنے آئے تھے وُہ یہ تھی کہ شیر پر سوار تھے اور ہاتھ میں کوڑے کی بجائے سانپ تھا۔

آپ کے بڑے صاحبزادے اور خلیفے کا نام سید محمد نور شاہ گیلانی تھا۔یہ بھی اپنے وقت کےخدارسیدہ بزرگ تھے۔جب سید بہاول شیر قلندر﷫ کاوصال ہوا توسید نور محمد حاضر نہ تھے۔ان کی غیر موجودگی میں ہی دفنائےگئے۔جب واپس آئے تو دیدار والد کےلئے سخت بےتاب ہوئے،اور چاہا کہ قبر کھدواکر باپ کاچہرہ دیکھ لوں ۔اس ارادےسےقبر پر خیمہ نصب کردیا۔سب کونکال دیا۔تنہائی میں اپنے ہاتھ سےقبر کو کھودا اور زیارت کی۔اس وقت ناگہاں ایک معمار (مستری) جو حضرت کےمریدوں میں سےتھا بےاختیار اندر آ گیا ۔ چونکہ بلا اجازت اندر آیا تھا اس لئے بنائی سلب ہوگئی ۔
1