حضرت علامہ دین محمد گشکوری بلوچ علیہ الرحمہ
مولانا حافظ دین محمد خان گشکوری بلوچ ماہ رجب المرجب ۱۳۰۸ھ کو گوٹھ پٹ گل محمد لگاری تحصیل جوہی (ضلع دادو ) میں تولد ہوئے۔ آباء و اجداد اصل سبی (بلوچستان) کے تھے، پر دادا اہڈو خان وہاں سے نقل مکانی کرکے اس وقت کے مشہور صوفی بزرگ میاں نصیر محمد کلہوڑو کے زیر سایہ گوٹھ گاڑھی تحصیل ککڑ (ضلع دادو) میں سکونت اختیار کی۔
تعلیم و تربیت:
مولانا دین محمد نے دس سال کی عمر میں گوٹھ کے خلیفہ محمد ڈیپر کے پاس ناظرہ قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی۔ قحط کے سبب گھر والے دوسرے شہر چلے گئے جس کے سبب دو چار سال آپ کی تعلیم متاثر ہوئی۔ اس کے بعد ۱۳۲۲ھ کو اپنے آبائی گوٹھ واپس ہوئے اور تعلیم کو دوبارہ جاری کیا۔ فارسی کی تعلیم گوٹھ ڈیپر تحصیل میہڑ میں مولانا غلام عمر سومرو کے مدرسہ میں حاصل کی۔ اس کے بعد ایک طالب علم محمد ہاشم ملاح کی رفاقت سے ڈگھ بالا تحصیل جوہی گئے جہاں نامور عالم دین مولانا مفتی محمد حنس کھوسہ بلوچ کی خدمات حاسل کی۔ لیکن مفتی محمد حسن کسی ذاتی وجہ سے ایک سال تک درس کو مؤخر کرکے چلے گئے۔ اسلئے مولانا دین محمد دیگر مدادس میں ایک سال تک تعلیم حاسل کرتے رہے مثلاً: مدرسہ گاہی مہیسر (تصحصیل میہڑ) اور رہڑو شریف (تحصیل میہڑ) معلوم ہوا ہے کہ لاڑ کے مدارس مٹیاری، ہالا ، حیدرآباد، میر پور خاص اور ٹنڈو الہیار وغیرہ میں بھی تعلیم حاصل کی تھی۔ میرے خیال (فقیر راشدی غفرلہ) میں مولانا دین محمد اپنے استاد محترم مفتی محمد حسن کی شخصیت اور طریقہ تعلیم سے بہت مانوس تھے اسلئے ان کا دل کہیں نہیں گلا ورنہ فقط ایک سال میں اتنے سارے مدارس تبدیل کرنے کی کیا وجہ تھی؟ یہی وجہ تھی کہ جب ۱۳۲۹ھ کو مولانا مفتی محمد حسن نے درس و تدریس کا دوبارہ سلسلہ شروع کیا تو مولانا دین محمد اپنے استاد محترم کے پاس واپس آگئے ۔ وہیں ۱۳۳۰ھ/۱۹۱۲ء کو فارغ التحصیل ہوئے۔
درس و تدریس:
بعد فراغت اپنے آبائی گوٹھ میں ’’مدرسہ دینی‘‘ کی بنیاد رکھی اور بیس سال وہاں درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس کے بعد سردار حاجی غلام محمد خان برڑو کی دعوت و اصرار پر ان کے گوٹھ برڑا تحصیل ککڑ میں ’’مدرسہ دینیہ‘‘قائم کیا اور درس و تدریس کا سلسلہ وہاں بھی بیس سال تک جاری رکھا۔ مولانا دین محمد چالیس سال کی عمر میں اپنی بیٹی کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے ہوئے انہیں قرآن مجید حفظ کرنے کا شوق دامن گیر ہوا، اکیس ماہ میں قرآن مجید کے حفظ کی دولت سے مالامال ہوئے، اس سے ان کی ذہانت اور قوت حافظہ کا پتہ لگتا ہے۔ یہ بات انہوں نے ’’سوانح حفظ القرآن‘‘ میں تفصیل سے لکھی ہے۔
بیعت:
عمر کے آخری میں ضعیفی و نحیفی کے سبب درس کا سلسلہ موقوف کردیا، تصوف کی طر فمائل ہوئے حضرت خواجہ احمد زمان صدیقی سجادہ نشین لاری شریف (ضلع بدین) کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے۔ بقیہ زندگی ذکر اذکار ، مراقبہ ، شب بیداری اور پرہیزگاری میںبسر کی۔
سفر حرمین شریفین:
۱۳۴۲ھ کو پہلا حج ۱۳۴۵ھ میں دوسرا حج کی ااور ہر بار حج کے بعد مدینہ منورہ کا سفر اختیار کیا اور روضہ انور سید المرسلین خاتم النبیین ﷺ کی حاضری و زیارت کی سعادت حاصل کی۔ جس کا احوال انہوں نے اپنے سفرنامہ مسمی ’’مختصر سفر حج‘‘ میں کیا ہے۔
اولاد:
آپ نے دو شادیاں کیں جس سے تین بیٹیاں اور دو بیٹے تولد ہوئے ۔ لیکن آپ کی زندیگ میں ہی ایک بیٹا اور ایک بیٹی نے انتقال کیا۔ ایک بیٹا مولانا حسن اللہ گشکوری بلوچ اور دو بیٹیاں صاحب اولاد ہیں۔
تلامذہ:
آپ کے تلامذہ میں سے درج ذیل نام معلوم ہو سکے:
۱۔ قاضی دوست محمد بن علی بخش وگھیو
۲۔ مولوی امیر بخش خان برڑو
۳۔مولوی احمد ولی جو کھیو وساکن بیگودیر و تحصیل ککڑضلع دادو
۴۔ مولوی عبدالہادی کھونھا رو ساکن سگھڑ تحصیل ککڑ
۵۔مولوی محمد دلاور بلوچ ۶۔عبدالقیوم خان بن سردار غلام محمد خان برڑو
تصنیف و تالیف:
قلم و قرطاس سے آخر تک تعلق قائم رکھا اور شاندار تحریر ی کام کیا جس میں سے بعض کے اسماء درج ذیل ہیں:
٭نشان بنوت (نظم )
٭مدارج النبوۃ( فارسی )تالیف شیخ عبدالحق محدث دہلوی (۲ جلدیں ) کا منظوم سندھی ترجمہ
٭آئینہ معراج (سندھی )
٭تصدیق الخلفاء ( سندھی )شیعہ کی جانب سے خلافت راشدہ پر اعتراضات و الزامات کے مدلل جوابات
٭کتاب الاعجاز (سندھی )پچپن (۵۵) معجزات نبوی ﷺ کا بیان
٭استاد صرف فارسی مع مقدمہ ٭اسول عشرہ شیعہ مع تقریر دلپذیر
٭سوانح حفظ القرآن مع فضائل قرآن ٭میزان القرآن (منظوم سندھی )
٭قاعدہ ابواب قرآن ٭مختصر سفرحج (فارسی )
٭احراق القلوب
مولانا حافظ دین محمد خان گشکوری بلوچ ماہ رجب المرجب ۱۳۰۸ھ کو گوٹھ پٹ گل محمد لگاری تحصیل جوہی (ضلع دادو ) میں تولد ہوئے۔ آباء و اجداد اصل سبی (بلوچستان) کے تھے، پر دادا اہڈو خان وہاں سے نقل مکانی کرکے اس وقت کے مشہور صوفی بزرگ میاں نصیر محمد کلہوڑو کے زیر سایہ گوٹھ گاڑھی تحصیل ککڑ (ضلع دادو) میں سکونت اختیار کی۔
تعلیم و تربیت:
مولانا دین محمد نے دس سال کی عمر میں گوٹھ کے خلیفہ محمد ڈیپر کے پاس ناظرہ قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی۔ قحط کے سبب گھر والے دوسرے شہر چلے گئے جس کے سبب دو چار سال آپ کی تعلیم متاثر ہوئی۔ اس کے بعد ۱۳۲۲ھ کو اپنے آبائی گوٹھ واپس ہوئے اور تعلیم کو دوبارہ جاری کیا۔ فارسی کی تعلیم گوٹھ ڈیپر تحصیل میہڑ میں مولانا غلام عمر سومرو کے مدرسہ میں حاصل کی۔ اس کے بعد ایک طالب علم محمد ہاشم ملاح کی رفاقت سے ڈگھ بالا تحصیل جوہی گئے جہاں نامور عالم دین مولانا مفتی محمد حنس کھوسہ بلوچ کی خدمات حاسل کی۔ لیکن مفتی محمد حسن کسی ذاتی وجہ سے ایک سال تک درس کو مؤخر کرکے چلے گئے۔ اسلئے مولانا دین محمد دیگر مدادس میں ایک سال تک تعلیم حاسل کرتے رہے مثلاً: مدرسہ گاہی مہیسر (تصحصیل میہڑ) اور رہڑو شریف (تحصیل میہڑ) معلوم ہوا ہے کہ لاڑ کے مدارس مٹیاری، ہالا ، حیدرآباد، میر پور خاص اور ٹنڈو الہیار وغیرہ میں بھی تعلیم حاصل کی تھی۔ میرے خیال (فقیر راشدی غفرلہ) میں مولانا دین محمد اپنے استاد محترم مفتی محمد حسن کی شخصیت اور طریقہ تعلیم سے بہت مانوس تھے اسلئے ان کا دل کہیں نہیں گلا ورنہ فقط ایک سال میں اتنے سارے مدارس تبدیل کرنے کی کیا وجہ تھی؟ یہی وجہ تھی کہ جب ۱۳۲۹ھ کو مولانا مفتی محمد حسن نے درس و تدریس کا دوبارہ سلسلہ شروع کیا تو مولانا دین محمد اپنے استاد محترم کے پاس واپس آگئے ۔ وہیں ۱۳۳۰ھ/۱۹۱۲ء کو فارغ التحصیل ہوئے۔
درس و تدریس:
بعد فراغت اپنے آبائی گوٹھ میں ’’مدرسہ دینی‘‘ کی بنیاد رکھی اور بیس سال وہاں درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس کے بعد سردار حاجی غلام محمد خان برڑو کی دعوت و اصرار پر ان کے گوٹھ برڑا تحصیل ککڑ میں ’’مدرسہ دینیہ‘‘قائم کیا اور درس و تدریس کا سلسلہ وہاں بھی بیس سال تک جاری رکھا۔ مولانا دین محمد چالیس سال کی عمر میں اپنی بیٹی کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے ہوئے انہیں قرآن مجید حفظ کرنے کا شوق دامن گیر ہوا، اکیس ماہ میں قرآن مجید کے حفظ کی دولت سے مالامال ہوئے، اس سے ان کی ذہانت اور قوت حافظہ کا پتہ لگتا ہے۔ یہ بات انہوں نے ’’سوانح حفظ القرآن‘‘ میں تفصیل سے لکھی ہے۔
بیعت:
عمر کے آخری میں ضعیفی و نحیفی کے سبب درس کا سلسلہ موقوف کردیا، تصوف کی طر فمائل ہوئے حضرت خواجہ احمد زمان صدیقی سجادہ نشین لاری شریف (ضلع بدین) کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے۔ بقیہ زندگی ذکر اذکار ، مراقبہ ، شب بیداری اور پرہیزگاری میںبسر کی۔
سفر حرمین شریفین:
۱۳۴۲ھ کو پہلا حج ۱۳۴۵ھ میں دوسرا حج کی ااور ہر بار حج کے بعد مدینہ منورہ کا سفر اختیار کیا اور روضہ انور سید المرسلین خاتم النبیین ﷺ کی حاضری و زیارت کی سعادت حاصل کی۔ جس کا احوال انہوں نے اپنے سفرنامہ مسمی ’’مختصر سفر حج‘‘ میں کیا ہے۔
اولاد:
آپ نے دو شادیاں کیں جس سے تین بیٹیاں اور دو بیٹے تولد ہوئے ۔ لیکن آپ کی زندیگ میں ہی ایک بیٹا اور ایک بیٹی نے انتقال کیا۔ ایک بیٹا مولانا حسن اللہ گشکوری بلوچ اور دو بیٹیاں صاحب اولاد ہیں۔
تلامذہ:
آپ کے تلامذہ میں سے درج ذیل نام معلوم ہو سکے:
۱۔ قاضی دوست محمد بن علی بخش وگھیو
۲۔ مولوی امیر بخش خان برڑو
۳۔مولوی احمد ولی جو کھیو وساکن بیگودیر و تحصیل ککڑضلع دادو
۴۔ مولوی عبدالہادی کھونھا رو ساکن سگھڑ تحصیل ککڑ
۵۔مولوی محمد دلاور بلوچ ۶۔عبدالقیوم خان بن سردار غلام محمد خان برڑو
تصنیف و تالیف:
قلم و قرطاس سے آخر تک تعلق قائم رکھا اور شاندار تحریر ی کام کیا جس میں سے بعض کے اسماء درج ذیل ہیں:
٭نشان بنوت (نظم )
٭مدارج النبوۃ( فارسی )تالیف شیخ عبدالحق محدث دہلوی (۲ جلدیں ) کا منظوم سندھی ترجمہ
٭آئینہ معراج (سندھی )
٭تصدیق الخلفاء ( سندھی )شیعہ کی جانب سے خلافت راشدہ پر اعتراضات و الزامات کے مدلل جوابات
٭کتاب الاعجاز (سندھی )پچپن (۵۵) معجزات نبوی ﷺ کا بیان
٭استاد صرف فارسی مع مقدمہ ٭اسول عشرہ شیعہ مع تقریر دلپذیر
٭سوانح حفظ القرآن مع فضائل قرآن ٭میزان القرآن (منظوم سندھی )
٭قاعدہ ابواب قرآن ٭مختصر سفرحج (فارسی )
٭احراق القلوب
❤1😁1
شاعری:
آپ قادر الکلام شاعر اور ادیب تھے ۔ تخلص ’’پٹائی‘‘ تھا ۔ گوٹھ کا نام ’’پٹ گل محمد لغاری ‘‘۔ پٹ کی معنی ہے پلاٹ ،دھرتی، پٹائی یعنی پلاٹ گوٹھ والے ۔ گوٹھ کی نسبت کی وجہ سے آپ نے پٹائی تخلص اپنایا ۔ تمام کلام نعت ، مولود ، مدح، غزل ، کافی اور جمعہ کے خطبات پر مشتمل ہے جو کہ سندھی ، فارسی ، سرائیکی اور اردو زبانوں پر محیط ہے۔
وصال:
مولانا دین محمد ’’ پٹائی ‘‘ نے ۱۷، شوال المعطم ۱۳۷۹ھ بمطابق ۱۳، اپریل ۱۹۶۰کو انتقال کیا ۔ وصیت کے مطابق انہیں میاں نصیر محمد کلہوڑو (تحصیل ککڑ ضلع دادو) کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-deen-muhammad-gashkori-baloch
آپ قادر الکلام شاعر اور ادیب تھے ۔ تخلص ’’پٹائی‘‘ تھا ۔ گوٹھ کا نام ’’پٹ گل محمد لغاری ‘‘۔ پٹ کی معنی ہے پلاٹ ،دھرتی، پٹائی یعنی پلاٹ گوٹھ والے ۔ گوٹھ کی نسبت کی وجہ سے آپ نے پٹائی تخلص اپنایا ۔ تمام کلام نعت ، مولود ، مدح، غزل ، کافی اور جمعہ کے خطبات پر مشتمل ہے جو کہ سندھی ، فارسی ، سرائیکی اور اردو زبانوں پر محیط ہے۔
وصال:
مولانا دین محمد ’’ پٹائی ‘‘ نے ۱۷، شوال المعطم ۱۳۷۹ھ بمطابق ۱۳، اپریل ۱۹۶۰کو انتقال کیا ۔ وصیت کے مطابق انہیں میاں نصیر محمد کلہوڑو (تحصیل ککڑ ضلع دادو) کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-deen-muhammad-gashkori-baloch
scholars.pk
Allama Deen Muhammad Gashkori Baloch
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شیخ الحدیث علامہ عبد القدیر حسرت حیدر آبادی
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا محمد عبد القدیر صدیقی ۔ لقب: حسرت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا محمد عبدالقدیر صدیقی بن مولانا محمد عبد القادر صدیقی ۔
والد کی طرف سے آپ کا سلسلۂ نسب حضرت صدیق اکبر رضی الله تعالیٰ عنه سے اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضرت امام حسین رضی الله تعالیٰ عنه سے ملتا ہے ۔ والد کی طرف سے صدیقی اور والدہ کی طرف سےحسینی ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 27 رجب المرجب 1288ھ کو محلہ قاضی پورہ حیدر آباد میں اپنے نانا حضرت میر پرورش علی خاں صاحب کے مکان میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، والد بزرگوار حضرت محمد عبد القادر صدیقی اور آپ کے ماموں حضرت سید محمد صدیق عرف خواجہ محبوب اللہ رحمۃ اللہ علیہما نے آپ کو تعلیم دی۔ مدرسہ دارالعلوم سے فراغت کے بعد آپ نے مولوی اور منشی فاضل کی تعلیم پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی۔ فنون سپاہ گری میں مہارت حاصل کی، چنانچہ آپ لٹھ،تلوار،بنوٹ،کشتی اور بندوق چلانے کی لوگوں کو تربیت دیا کرتے تھے۔
بیعت و خلافت:
آپ کے پیر طریقت حضرت سید محمد صدیق عرف خواجہ محبوب اللہ ہیں، جن سے آپ کو بیعت و خلافت حاصل ہوئی۔
سیرت و خصائص:
بحرالعلوم، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، صاحبِ اوصافِ کثیرہ، مفسرِ قرآن، حضرت علامہ مولانا محمد عبد القدیر صدیقی حسرت علیہ الرحمہ
آپ علیہ الرحمہ تمام علومِ جدیدہ و قدیمہ کے جامع تھے ۔ علم کے ساتھ عمل میں بے مثال اور انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء کی تصویر تھے ۔ تمام فنون میں یکساں مہارت رکھتے تھے۔
اللہ رب العزت نے آپ کو دو مرتبہ حج و زیارت کا شرف بخشا۔ آپ نےچارنکاح کئے،اس طرح آپ کے پندرہ صاحبزادے اور پندرہ صاحبزادیاں ہوئیں۔ درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں آپ منفرد مقام رکھتے تھے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں حدیث کےپروفیسراور صدر شعبۂ دینیات کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔جامعہ نظامیہ کے اعزازی ناظم مقرر ہوئے اور جامعہ کی ترقی کے لئے بیش بہا خدمات انجام دیں۔ آپ کے علمی کارناموں میں سب سے بڑا کارنامہ تفسیر قرآن مجید ہے۔ جو’’تفسیر ِصدیقی‘‘کےنام سےمقبول عام ہے اور طالبانِ علم کے لئے عام فہم ہے۔آپ کی پچاس سے زائد کتابیں و رسائل ہیں۔رسالہ مسئلہ عدم نسخ قرآن کی آخری گتھی کو سلجھانے کا سہرا آپ کے سر ہے،جو کہ ایک عظیم کارنامہ ہے،جس کی وجہ سے آپ کو بحر العلوم کہا جاتا ہے۔
فن حدیث میں عبور رکھنے کی وجہ سے آپ نے اہل سنت و جماعت سے تعلق رکھنے والوں کے لئے قرآن و حدیث کی روشنی میں مختلف کتابیں لکھیں، جن کے مطالعہ سے ایمان، نماز، روزہ، زکوۃ، حج اور تصوف و سلوک کے مسائل کو آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔
تاریخِ وصال:
آپ تقریباً سو سال کی عمر میں 17 شوال المکرم 1388ھ کو واصل بحق ہوئے۔ آپ کی آخری آرام گاہ ’’صدیق گلشن‘‘ بہادر پورہ میں ہے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-qadeer-hasrat-hyderabadi
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا محمد عبد القدیر صدیقی ۔ لقب: حسرت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا محمد عبدالقدیر صدیقی بن مولانا محمد عبد القادر صدیقی ۔
والد کی طرف سے آپ کا سلسلۂ نسب حضرت صدیق اکبر رضی الله تعالیٰ عنه سے اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضرت امام حسین رضی الله تعالیٰ عنه سے ملتا ہے ۔ والد کی طرف سے صدیقی اور والدہ کی طرف سےحسینی ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 27 رجب المرجب 1288ھ کو محلہ قاضی پورہ حیدر آباد میں اپنے نانا حضرت میر پرورش علی خاں صاحب کے مکان میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، والد بزرگوار حضرت محمد عبد القادر صدیقی اور آپ کے ماموں حضرت سید محمد صدیق عرف خواجہ محبوب اللہ رحمۃ اللہ علیہما نے آپ کو تعلیم دی۔ مدرسہ دارالعلوم سے فراغت کے بعد آپ نے مولوی اور منشی فاضل کی تعلیم پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی۔ فنون سپاہ گری میں مہارت حاصل کی، چنانچہ آپ لٹھ،تلوار،بنوٹ،کشتی اور بندوق چلانے کی لوگوں کو تربیت دیا کرتے تھے۔
بیعت و خلافت:
آپ کے پیر طریقت حضرت سید محمد صدیق عرف خواجہ محبوب اللہ ہیں، جن سے آپ کو بیعت و خلافت حاصل ہوئی۔
سیرت و خصائص:
بحرالعلوم، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، صاحبِ اوصافِ کثیرہ، مفسرِ قرآن، حضرت علامہ مولانا محمد عبد القدیر صدیقی حسرت علیہ الرحمہ
آپ علیہ الرحمہ تمام علومِ جدیدہ و قدیمہ کے جامع تھے ۔ علم کے ساتھ عمل میں بے مثال اور انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء کی تصویر تھے ۔ تمام فنون میں یکساں مہارت رکھتے تھے۔
اللہ رب العزت نے آپ کو دو مرتبہ حج و زیارت کا شرف بخشا۔ آپ نےچارنکاح کئے،اس طرح آپ کے پندرہ صاحبزادے اور پندرہ صاحبزادیاں ہوئیں۔ درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں آپ منفرد مقام رکھتے تھے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں حدیث کےپروفیسراور صدر شعبۂ دینیات کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔جامعہ نظامیہ کے اعزازی ناظم مقرر ہوئے اور جامعہ کی ترقی کے لئے بیش بہا خدمات انجام دیں۔ آپ کے علمی کارناموں میں سب سے بڑا کارنامہ تفسیر قرآن مجید ہے۔ جو’’تفسیر ِصدیقی‘‘کےنام سےمقبول عام ہے اور طالبانِ علم کے لئے عام فہم ہے۔آپ کی پچاس سے زائد کتابیں و رسائل ہیں۔رسالہ مسئلہ عدم نسخ قرآن کی آخری گتھی کو سلجھانے کا سہرا آپ کے سر ہے،جو کہ ایک عظیم کارنامہ ہے،جس کی وجہ سے آپ کو بحر العلوم کہا جاتا ہے۔
فن حدیث میں عبور رکھنے کی وجہ سے آپ نے اہل سنت و جماعت سے تعلق رکھنے والوں کے لئے قرآن و حدیث کی روشنی میں مختلف کتابیں لکھیں، جن کے مطالعہ سے ایمان، نماز، روزہ، زکوۃ، حج اور تصوف و سلوک کے مسائل کو آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔
تاریخِ وصال:
آپ تقریباً سو سال کی عمر میں 17 شوال المکرم 1388ھ کو واصل بحق ہوئے۔ آپ کی آخری آرام گاہ ’’صدیق گلشن‘‘ بہادر پورہ میں ہے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-qadeer-hasrat-hyderabadi
scholars.pk
Hazrat Molana Abdul Qadeer Hasrat Hyderabadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-10-1444 ᴴ | 07-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-10-1444 ᴴ | 08-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-10-1444 ᴴ | 08-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-10-1444 ᴴ | 08-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1