بچ رہا۔
کچھ دکھائی نہ دیا:
کھڑ گولوہار ساکن جہانخیل کا بیان ہے کہ ایک روز میں دس بجے دن کے باغ میں آیا۔ جواب کوٹ کے نام سے مشہور ہے، حضرت خواجہ حجرے میں تھے، باہر کوئی آدمی نہ تھا، میں نے باغ میں سے پانچ سات سیر مرچیں توڑ لیں، اور سر پر رکھ کر گھر چلا۔ جب باغ کی حد سے نکلا تو پھر اندھا ہوگیا۔ واپس ہوکر میں نے مرچیں وہیں رکھ دیں اورگھر کو چلا۔ اتنے میں حضرت خواجہ باہر نکل آئے اور فرمانے لگے، فقیروں کی چیز بلااجازت نہیں لے جایا کرتے، میں یہ سُن کر شرمندہ ہوا، پھر حضرت خواجہ نے اپنے دست مبارک سے اور بہت سی مرچیں مجھے عنایت فرمائیں اسی طرح کا واقعہ متعدد دفعہ ظہور میں آیا ہے۔
درد قولنج سے نجات:
خلیفہ بیگے شاہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک روز میاں عبدالوحید خاں کو ایسا درد قولنج ہوا کہ زندگی کی امید نہ ررہی۔ میں نے حضرت خواجہ سے عرض کیا، آپ نے شکستہ دل ہوکر یوں دعا کی، یا اللہ! آج کل مرچوں کی نلائی کے دن ہیں، آدمی کا ملنا مشکل ہے۔ اگر اُس کی موت کا وقت آگیا ہے تو بھی اُس کی عمر میں ایک سال کا اضافہ فرمادے اور پانی پر دم کرکے بھیجا کہ اُسے پلادو، میں نے جب اسے وہ پانی پلایا تو فوراً آرام ہوگیا، اور ایک سال کے بعد اسی تاریخ و ماہ کو اس کا انتقال ہوگیا۔ سچ ہے ؎
اولیا را ہست قدر ازالہ
تیر جستہ باز آرندش ذراہ
جن کو قابو کرنا:
خلیفہ محمد بخش ساکن ہوشیار پور ناقل ہیں کہ ایک جن نے مجھے بہت ستایا، کبھی سوتے وقت مجھ پر پانی ڈال دیتا، کبھی مجھے اور میری بیوی کو اُٹھاکر دریائے بیاس کی ریتی میں ڈال دیتا۔ اور وہیں کھانا پہنچادیتا، کئی روز ہم وہاں رہتے، میں نے تنگ آکر حضرت خواجہ سے عرض کردیا، آپ نے قرآن شریف کی آیت پڑھ کر انگوٹھے پر دم کیا او رزمین پر دبایا۔ اُسی وقت وہ جن بشکل انسان حاضر ہوا۔ کہنے لگا مجھے بچالو، میں جلتا ہوں، آپ نے فرمایا تو اس غریب کو کیوں ستاتا ہے اُس نے کہا کہ میری اس سے محبت ہے، اور میں اس کے ساتھ ہنسی کیا کرتا ہوں آپ نے فرمایا تیری یہ ہنسی اس کا مرنا ہے میں تجھے نہیں چھوڑنے کا،اس پر اس جن نے بڑے واسطے پیش کیے اور کہا کہ آیندہ میں کبھی اس کے پاس نہ آؤں گا، آپ نے فرمایا تجھے اس کے پاس آنے کی ممانعت نہیں، مگر اسے کسی قسم کی تکلیف نہ دیتا، بعد ازاں وہ گاہے میرے پاس آتا رہا، اور حضرت خواجہ کی نسبت کہتا تھا کہ یہ بڑے بزرگ ہیں۔ مجھے ان سے دہشت آتی ہے میں پہلے کبھی کسی عامل سے نہ ڈرا تھا، آخر کار وہ جن حضرت خواجہ سے بیعت ہوگیا۔ بعد ازاں اس کی بیوی اور کئی اور جن آپ سے بیعت ہوئے۔ اس جن کا نام زمان شاہ تھا ۔ ہوشیار پور میں پہاڑ ی کھیڑے کے پاس جو مسجد ہے وہ اس کے نیچے تہ خانہ میں رہا کرتا تھا۔
تبرکات کی برکت:
میاں ہیرا ساکن غوث گڑھ بیان کرتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت خواجہ ہمارے گاؤں میں تشریف لائے۔ آپ کے ساتھ تیس چالیس درویش تھے۔ کئی آدمیوں نے آپ کی دعوت کی، جب آپ واپس ہونے کے لیے تیار ہوئے تو رات کو میں تنگدستی کی وجہ سے بہت رویا۔ دل میں کہتا تھا کہ آج اگر میرے پاس کچھ ہوتا تو میں بھی حضرت کی دعوت کرتا۔ صح کو حضرت نے مجھے بلا کر فرمایا کہ تیرے گھر میں کچھ ہے بھی۔ عرض کیا حضور پانچ سیر آٹا اُدھار لایا تھا۔ جس میں سےآدھا کھالیا۔ اور اڑھائی سیر باقی ہے۔ آپ نے فرمایا جا اسی کو پکالے میں نے عرض کیا یا حضرت تیس چالیس آدمی ہیں۔ اڑھائی سیر سے کیا ہوگا۔ آپ نے دوبارہ فرمایا میں نے وہی جواب دیا۔ آپ نے فرمایا تجھے اس سے کیا مطلب۔ تو اسی کو پکالے۔ حسب الارشاد میں نے اھائی سیرآٹے کی پتلی پتلی روٹیاں پکوائیں۔ اور ماش کی دال تیار کروائی۔ جب حضرت مع خدام غریب خانہ پر تشریف لائے تو آپ نے وضو کیا اور فرمایا کہ تم بھی وضو کرلو، آپ نے اپنی چادر مبارک دال روٹیوں پر ڈال دی۔ میں نے اس میں سے حضرت کے تمام درویشوں کو کھالایا۔ بعد ازاں اپنے متعلقین اور دیگر پیر بھائیوں کو کھلایا۔ فارغ ہوکر کپڑا جو اٹھایا تو اسی قدر روٹیاں موجود تھیں جتنی پکائی تھیں۔ بعد ازاں حضرت نے مجھے اپنی چادر اور کرتہ اتار کردیا، فرمایا اسے اپنے پاس رکھنا۔ جب تک یہ تیرے گھر میں ہوں گے تجھے معاش کی تنگی نہ ہوگی۔ اُس وقت میرے پاس صرف دو بیل گاڑی کے تھے ان تبرکات کی دو سال کے اندر تیس سالیس بیل اور پانچ چھ نوکر ہوگئے۔ پھر میں نے زمین بھی خریدی۔ لوگ مجھے ادب سے پکارنے لگے۔ اور حکام وقت بھی عزت کی نگاہ سے دیکھنے لگے وہ تبرکات اب تک میرے گھر میں ہیں۔
گستاخ کا انجام:
ایک روز حضرت خواجہ کی مجلس میں یہ تذکرہ ہوا کہ بقول حضرت مجدد الف ثانی ان کے متوسلین بالواسطہ سب بہشتی ہوں گے۔ اس وقت ایک بدعقیدہ مولوی بدرالدین بھی وہاں موجود تھا۔ وہ بولا یہ بات غلط ہے، حضرت خواجہ نے فرمایا کہ جو کچھ انہوں نے فرمایا وہ درست ہے مولوی نے کہا آپ ایسی بات کیوں کہتے ہیں۔ حضور سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف عشرہ مبشرہ کو جنتی کہا ہے، دوسروں کا حال خدا جانے۔ حضرت خواجہ نے فرمایا اے بے ادب! اولیاء کی نکتہ
کچھ دکھائی نہ دیا:
کھڑ گولوہار ساکن جہانخیل کا بیان ہے کہ ایک روز میں دس بجے دن کے باغ میں آیا۔ جواب کوٹ کے نام سے مشہور ہے، حضرت خواجہ حجرے میں تھے، باہر کوئی آدمی نہ تھا، میں نے باغ میں سے پانچ سات سیر مرچیں توڑ لیں، اور سر پر رکھ کر گھر چلا۔ جب باغ کی حد سے نکلا تو پھر اندھا ہوگیا۔ واپس ہوکر میں نے مرچیں وہیں رکھ دیں اورگھر کو چلا۔ اتنے میں حضرت خواجہ باہر نکل آئے اور فرمانے لگے، فقیروں کی چیز بلااجازت نہیں لے جایا کرتے، میں یہ سُن کر شرمندہ ہوا، پھر حضرت خواجہ نے اپنے دست مبارک سے اور بہت سی مرچیں مجھے عنایت فرمائیں اسی طرح کا واقعہ متعدد دفعہ ظہور میں آیا ہے۔
درد قولنج سے نجات:
خلیفہ بیگے شاہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک روز میاں عبدالوحید خاں کو ایسا درد قولنج ہوا کہ زندگی کی امید نہ ررہی۔ میں نے حضرت خواجہ سے عرض کیا، آپ نے شکستہ دل ہوکر یوں دعا کی، یا اللہ! آج کل مرچوں کی نلائی کے دن ہیں، آدمی کا ملنا مشکل ہے۔ اگر اُس کی موت کا وقت آگیا ہے تو بھی اُس کی عمر میں ایک سال کا اضافہ فرمادے اور پانی پر دم کرکے بھیجا کہ اُسے پلادو، میں نے جب اسے وہ پانی پلایا تو فوراً آرام ہوگیا، اور ایک سال کے بعد اسی تاریخ و ماہ کو اس کا انتقال ہوگیا۔ سچ ہے ؎
اولیا را ہست قدر ازالہ
تیر جستہ باز آرندش ذراہ
جن کو قابو کرنا:
خلیفہ محمد بخش ساکن ہوشیار پور ناقل ہیں کہ ایک جن نے مجھے بہت ستایا، کبھی سوتے وقت مجھ پر پانی ڈال دیتا، کبھی مجھے اور میری بیوی کو اُٹھاکر دریائے بیاس کی ریتی میں ڈال دیتا۔ اور وہیں کھانا پہنچادیتا، کئی روز ہم وہاں رہتے، میں نے تنگ آکر حضرت خواجہ سے عرض کردیا، آپ نے قرآن شریف کی آیت پڑھ کر انگوٹھے پر دم کیا او رزمین پر دبایا۔ اُسی وقت وہ جن بشکل انسان حاضر ہوا۔ کہنے لگا مجھے بچالو، میں جلتا ہوں، آپ نے فرمایا تو اس غریب کو کیوں ستاتا ہے اُس نے کہا کہ میری اس سے محبت ہے، اور میں اس کے ساتھ ہنسی کیا کرتا ہوں آپ نے فرمایا تیری یہ ہنسی اس کا مرنا ہے میں تجھے نہیں چھوڑنے کا،اس پر اس جن نے بڑے واسطے پیش کیے اور کہا کہ آیندہ میں کبھی اس کے پاس نہ آؤں گا، آپ نے فرمایا تجھے اس کے پاس آنے کی ممانعت نہیں، مگر اسے کسی قسم کی تکلیف نہ دیتا، بعد ازاں وہ گاہے میرے پاس آتا رہا، اور حضرت خواجہ کی نسبت کہتا تھا کہ یہ بڑے بزرگ ہیں۔ مجھے ان سے دہشت آتی ہے میں پہلے کبھی کسی عامل سے نہ ڈرا تھا، آخر کار وہ جن حضرت خواجہ سے بیعت ہوگیا۔ بعد ازاں اس کی بیوی اور کئی اور جن آپ سے بیعت ہوئے۔ اس جن کا نام زمان شاہ تھا ۔ ہوشیار پور میں پہاڑ ی کھیڑے کے پاس جو مسجد ہے وہ اس کے نیچے تہ خانہ میں رہا کرتا تھا۔
تبرکات کی برکت:
میاں ہیرا ساکن غوث گڑھ بیان کرتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت خواجہ ہمارے گاؤں میں تشریف لائے۔ آپ کے ساتھ تیس چالیس درویش تھے۔ کئی آدمیوں نے آپ کی دعوت کی، جب آپ واپس ہونے کے لیے تیار ہوئے تو رات کو میں تنگدستی کی وجہ سے بہت رویا۔ دل میں کہتا تھا کہ آج اگر میرے پاس کچھ ہوتا تو میں بھی حضرت کی دعوت کرتا۔ صح کو حضرت نے مجھے بلا کر فرمایا کہ تیرے گھر میں کچھ ہے بھی۔ عرض کیا حضور پانچ سیر آٹا اُدھار لایا تھا۔ جس میں سےآدھا کھالیا۔ اور اڑھائی سیر باقی ہے۔ آپ نے فرمایا جا اسی کو پکالے میں نے عرض کیا یا حضرت تیس چالیس آدمی ہیں۔ اڑھائی سیر سے کیا ہوگا۔ آپ نے دوبارہ فرمایا میں نے وہی جواب دیا۔ آپ نے فرمایا تجھے اس سے کیا مطلب۔ تو اسی کو پکالے۔ حسب الارشاد میں نے اھائی سیرآٹے کی پتلی پتلی روٹیاں پکوائیں۔ اور ماش کی دال تیار کروائی۔ جب حضرت مع خدام غریب خانہ پر تشریف لائے تو آپ نے وضو کیا اور فرمایا کہ تم بھی وضو کرلو، آپ نے اپنی چادر مبارک دال روٹیوں پر ڈال دی۔ میں نے اس میں سے حضرت کے تمام درویشوں کو کھالایا۔ بعد ازاں اپنے متعلقین اور دیگر پیر بھائیوں کو کھلایا۔ فارغ ہوکر کپڑا جو اٹھایا تو اسی قدر روٹیاں موجود تھیں جتنی پکائی تھیں۔ بعد ازاں حضرت نے مجھے اپنی چادر اور کرتہ اتار کردیا، فرمایا اسے اپنے پاس رکھنا۔ جب تک یہ تیرے گھر میں ہوں گے تجھے معاش کی تنگی نہ ہوگی۔ اُس وقت میرے پاس صرف دو بیل گاڑی کے تھے ان تبرکات کی دو سال کے اندر تیس سالیس بیل اور پانچ چھ نوکر ہوگئے۔ پھر میں نے زمین بھی خریدی۔ لوگ مجھے ادب سے پکارنے لگے۔ اور حکام وقت بھی عزت کی نگاہ سے دیکھنے لگے وہ تبرکات اب تک میرے گھر میں ہیں۔
گستاخ کا انجام:
ایک روز حضرت خواجہ کی مجلس میں یہ تذکرہ ہوا کہ بقول حضرت مجدد الف ثانی ان کے متوسلین بالواسطہ سب بہشتی ہوں گے۔ اس وقت ایک بدعقیدہ مولوی بدرالدین بھی وہاں موجود تھا۔ وہ بولا یہ بات غلط ہے، حضرت خواجہ نے فرمایا کہ جو کچھ انہوں نے فرمایا وہ درست ہے مولوی نے کہا آپ ایسی بات کیوں کہتے ہیں۔ حضور سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف عشرہ مبشرہ کو جنتی کہا ہے، دوسروں کا حال خدا جانے۔ حضرت خواجہ نے فرمایا اے بے ادب! اولیاء کی نکتہ
❤1
چینی نہ کر، مگر وہ باز نہ آیا، اس پر حضرت خواجہ کو جوش آگیا، فرمانے لگے کہ میں حضرت خواجہ کا ایک ادنیٰ غلام ہوں تاقیامت جو میرے مرید ہوں گے جنتی ہوں گے۔ وہ مولوی اس پر بھی حجت ہی کرتا رہا، آپ نے طیش میں آکر تین بار فرمایا اے کوڑھی! یہاں سے چلا جا۔ چنانچہ وہ اپنے مکان پر جو وہاں سے پانچ کوس پر تھا چلا گیا، مگر وہاں جاتے ہی بیمار ہوگیا اور تمام جسم جذامی ہوگیا وہ دوسرے روز صبح کو حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور تضرع و زاری کے بعد آپ سے معافی مانگی۔ حضور نے پانی کی کلی اُس کے ماتھے پر ماری اور فرمایا تو کیا تیری نسل میں بھی یہ داغ پیشانی پر رہے گا۔ چنانچہ اب تک اس کی اولاد کی پیشانی پر داغ پایا جاتاہے۔
جنتی ہونے کی بشارت:
ایک دن حضرت خواجہ نے درخت توت کی ٹہنی پکڑ کر اپنے خلیفہ بلاقی شاہ سے فرمایا کہ منادی کردو کہ جو شخص آج مجھے دیکھ لے گا جنتی ہوگا۔ یہ الہام خدا تھا۔ بہت سے لوگ حضرت کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ ان میں دو ہندو ماگھی د سوندھی نام بھی تھے۔ ہر دو قوم زر گر سے تھے۔ ماگھی مسلمان ہوگیا۔ دسوندھی ہندو ہی رہا، مگر سنا ہے کہ جب وسوندھی کا انتقال ہوا اور اس کی لاش جلانے لگے تو لاش بالکل نہ جلی۔
سیرت خالقیہ میں حضرت خواجہ کی اور بہت سی کرامتیں مذکور ہیں یہاں نظر بر اختصار سولہ پر اکتفا کیا گیا۔
وصال مبارک:
مسجد کے صحن کے جنوبی گوشہ سے ملحق آپ کا حجرہ تھا، جس میں آپ عبادت کیا کرتے تھے۔ ایک روز عشا کے بعد بارش زور سے ہونے لگی، آپ مع خلیفہ رنگ علی شاہ و بلاقی شاہ رحمہم اللہ تعالیٰ اُس حجرے میں مراقب تھے۔ اچانک اندھیری رات میں آپ نے نطر اُٹھاکرباہر جو دیکھا تو بجلی کی روشنی میں چند نورانی صورتیں بشکل انسان دکھائیں دیں۔ آپ نے خلیفہ بلاقی شاہ سے فرمایا کہ دیکھنا کون ہیں خلیفہ بلاقی شاہ نکل کر ان صورتوں کی جانب بڑھے کہ ناگاہ حجرے کی چھت گر پڑی۔ اور حضرت خواجہ اور خلیفہ رنگ علی شاہ شہید ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
خلیفہ بلاقی شاہ اضطراب میں ادھر ادھر دوڑے اور لوگوں کو جمع کرکے مٹی وغیرہ دور کرکے ہر دو نوش نکلوائیں۔ اس واقعہ جانکاہ سے کہرام مچ گیا۔ اُس وقت حضرت خواجہ کی والدہ ماجدہ اور ان کے ارادتمندوں کی حالت احاطہ بیان سے باہر ہے۔ حضرت خواجہ کا مزار مبارک موجود یتیم خانہ خالقیہ کے ہائی اسکول کی پشت پر ایک چار دیواری ہی میں ہے۔ جس میں اور قبریں بھی ہیں۔ تاریخ شہادت ۱۲۷۲ھ مطابق ۱۸۵۸ھ ہے۔ ؎
حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد
روئے گل سیر ندیدم و بہار آخر شد
ارشاداتِ عالیہ
۱۔ فرمایا کرتے کہ خاندان کے سردار سب میرے سردار ہیں۔ کبھی یہ اشعار پڑھا کرتے ؎
تو نقش نقشبنداں را چہ دانی
گیاہِ سبز داند قدر باراں
ہنوز از کاف کفرت ہم خبر نیست
تو حال پیکر جاں را چہ دانی
تو خشکی قدر باراں را چہ دانی
حقائق ہائے ایماں را چہ دانی
۲۔ حضرت مرشد نا قطب زماں خواجہ توکل شاہ انبالوی قدس سرہ کا بیان ہے کہ میں اکثر دیکھا کرتا تھا کہ حضرت خواجہ کا چہرہ کبھی زرد کبھی سرخ کبھی سبز کبھی سفید ہوجایا کرتا تھا ایک روز میں نے عرض کیا کہ حضور! یہ کیا معاملہ ہے۔ آپ مختلف رنگوں میں نظر آتے ہیں۔ آپ نے فرمایا توکل شاہ! فقیروں کی ایک حالت نہیں ہوتی نہ وہ ایک حالت پر رہتے ہیں جس طرح انوار الٰہی برستے ہیں۔ اُسی طرح سالک کی روحانی حالت بدلتی رہتی ہے۔ انوار الٰہیہ کے مختلف رنگوں پر ہی سالک کے لطائف کے انوار حالت جسمانی سے نمایاں ہوتے ہیں۔ میں نے عرض کیا یا حضرت! ہم پر بھی یہ وارد ہوسکتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ہاں اگر تم اس کیفیت سے عملی طور پر آگاہ ہونا چاہتے ہو۔ تومیاں بلاقی شاہ اور عالم شاہ کو بلا لاؤ، میں دونوں کو بلالایا،آپ نے فرمایا باہر جاکر آنکھیں بند کرکے دیکھو، آپ جوں جوں توجہ فرماتے تھے۔ اُسی طرح انوار کا ورود ہوتا تھا۔ ہر لطیفہ اپنی نسبتی رنگ کی کیفیت دکھلاتا رہا۔ ہم نے انوار کا ورود لطائف پر ہوتا ہوا اور لطائف کو رنگ بدلتے ہوئے دیکھا۔ اور بیرنگی اور بے کیفی کی سیر کی انوار مثل موسلا دھار بارش کے برستے تھے۔ حضرت خواجہ نے فرمایا کہ آنکھیں کھول کر بھی دیکھو، پس میں نے آنکھیں کھول کر جو دیکھا تو وہی کیفیت ظاہر میں بھی اُسی طرح نظر آئی، جس طرح باطن میں اُس کی کیفیت تھی۔ انوار بے رنگ و بے کیف بھی ظاہر ہوئے، آپ نے فرمایا آنکھیں بند کرلو، ہم نے پھر آنکھیں بند کرلیں، آپ نے توجہ دی، پھر ایک ایسا مقام نظر آیا، کہ جس کی سیر کا بیان احاطہ تحریر سے خارج ہے۔
۳۔ آپ نے مولوی پیر محمد صاحب سے فرمایا: بھائی! ایسا ہونا چاہیے کہ اپنے محبوب و مطلوب کے سوا کسی طرف بھی نہ دیکھے۔ تب طالب کمال کو پہنچتا ہے اور انوار رحمانی اس پر وارد ہوتے ہیں، محض عبادت پر منحصر نہیں۔
۴۔ فرمایا یہ پیر کا حق ہے کہ جو معلق گناہ یا تکلیف مرید کو ہو۔ اس سے فوراً مرید کو آگاہ کردے۔
۵۔ پیر کی خدمت میں حاضر ہونے سے مقصود یہی ہونا چاہیے کہ مرشد کے باطنی فیض سے اپنی قلب کا تزکیہ و تصفیہ کرے۔ اگر ماسوا کے خیال
جنتی ہونے کی بشارت:
ایک دن حضرت خواجہ نے درخت توت کی ٹہنی پکڑ کر اپنے خلیفہ بلاقی شاہ سے فرمایا کہ منادی کردو کہ جو شخص آج مجھے دیکھ لے گا جنتی ہوگا۔ یہ الہام خدا تھا۔ بہت سے لوگ حضرت کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ ان میں دو ہندو ماگھی د سوندھی نام بھی تھے۔ ہر دو قوم زر گر سے تھے۔ ماگھی مسلمان ہوگیا۔ دسوندھی ہندو ہی رہا، مگر سنا ہے کہ جب وسوندھی کا انتقال ہوا اور اس کی لاش جلانے لگے تو لاش بالکل نہ جلی۔
سیرت خالقیہ میں حضرت خواجہ کی اور بہت سی کرامتیں مذکور ہیں یہاں نظر بر اختصار سولہ پر اکتفا کیا گیا۔
وصال مبارک:
مسجد کے صحن کے جنوبی گوشہ سے ملحق آپ کا حجرہ تھا، جس میں آپ عبادت کیا کرتے تھے۔ ایک روز عشا کے بعد بارش زور سے ہونے لگی، آپ مع خلیفہ رنگ علی شاہ و بلاقی شاہ رحمہم اللہ تعالیٰ اُس حجرے میں مراقب تھے۔ اچانک اندھیری رات میں آپ نے نطر اُٹھاکرباہر جو دیکھا تو بجلی کی روشنی میں چند نورانی صورتیں بشکل انسان دکھائیں دیں۔ آپ نے خلیفہ بلاقی شاہ سے فرمایا کہ دیکھنا کون ہیں خلیفہ بلاقی شاہ نکل کر ان صورتوں کی جانب بڑھے کہ ناگاہ حجرے کی چھت گر پڑی۔ اور حضرت خواجہ اور خلیفہ رنگ علی شاہ شہید ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
خلیفہ بلاقی شاہ اضطراب میں ادھر ادھر دوڑے اور لوگوں کو جمع کرکے مٹی وغیرہ دور کرکے ہر دو نوش نکلوائیں۔ اس واقعہ جانکاہ سے کہرام مچ گیا۔ اُس وقت حضرت خواجہ کی والدہ ماجدہ اور ان کے ارادتمندوں کی حالت احاطہ بیان سے باہر ہے۔ حضرت خواجہ کا مزار مبارک موجود یتیم خانہ خالقیہ کے ہائی اسکول کی پشت پر ایک چار دیواری ہی میں ہے۔ جس میں اور قبریں بھی ہیں۔ تاریخ شہادت ۱۲۷۲ھ مطابق ۱۸۵۸ھ ہے۔ ؎
حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد
روئے گل سیر ندیدم و بہار آخر شد
ارشاداتِ عالیہ
۱۔ فرمایا کرتے کہ خاندان کے سردار سب میرے سردار ہیں۔ کبھی یہ اشعار پڑھا کرتے ؎
تو نقش نقشبنداں را چہ دانی
گیاہِ سبز داند قدر باراں
ہنوز از کاف کفرت ہم خبر نیست
تو حال پیکر جاں را چہ دانی
تو خشکی قدر باراں را چہ دانی
حقائق ہائے ایماں را چہ دانی
۲۔ حضرت مرشد نا قطب زماں خواجہ توکل شاہ انبالوی قدس سرہ کا بیان ہے کہ میں اکثر دیکھا کرتا تھا کہ حضرت خواجہ کا چہرہ کبھی زرد کبھی سرخ کبھی سبز کبھی سفید ہوجایا کرتا تھا ایک روز میں نے عرض کیا کہ حضور! یہ کیا معاملہ ہے۔ آپ مختلف رنگوں میں نظر آتے ہیں۔ آپ نے فرمایا توکل شاہ! فقیروں کی ایک حالت نہیں ہوتی نہ وہ ایک حالت پر رہتے ہیں جس طرح انوار الٰہی برستے ہیں۔ اُسی طرح سالک کی روحانی حالت بدلتی رہتی ہے۔ انوار الٰہیہ کے مختلف رنگوں پر ہی سالک کے لطائف کے انوار حالت جسمانی سے نمایاں ہوتے ہیں۔ میں نے عرض کیا یا حضرت! ہم پر بھی یہ وارد ہوسکتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ہاں اگر تم اس کیفیت سے عملی طور پر آگاہ ہونا چاہتے ہو۔ تومیاں بلاقی شاہ اور عالم شاہ کو بلا لاؤ، میں دونوں کو بلالایا،آپ نے فرمایا باہر جاکر آنکھیں بند کرکے دیکھو، آپ جوں جوں توجہ فرماتے تھے۔ اُسی طرح انوار کا ورود ہوتا تھا۔ ہر لطیفہ اپنی نسبتی رنگ کی کیفیت دکھلاتا رہا۔ ہم نے انوار کا ورود لطائف پر ہوتا ہوا اور لطائف کو رنگ بدلتے ہوئے دیکھا۔ اور بیرنگی اور بے کیفی کی سیر کی انوار مثل موسلا دھار بارش کے برستے تھے۔ حضرت خواجہ نے فرمایا کہ آنکھیں کھول کر بھی دیکھو، پس میں نے آنکھیں کھول کر جو دیکھا تو وہی کیفیت ظاہر میں بھی اُسی طرح نظر آئی، جس طرح باطن میں اُس کی کیفیت تھی۔ انوار بے رنگ و بے کیف بھی ظاہر ہوئے، آپ نے فرمایا آنکھیں بند کرلو، ہم نے پھر آنکھیں بند کرلیں، آپ نے توجہ دی، پھر ایک ایسا مقام نظر آیا، کہ جس کی سیر کا بیان احاطہ تحریر سے خارج ہے۔
۳۔ آپ نے مولوی پیر محمد صاحب سے فرمایا: بھائی! ایسا ہونا چاہیے کہ اپنے محبوب و مطلوب کے سوا کسی طرف بھی نہ دیکھے۔ تب طالب کمال کو پہنچتا ہے اور انوار رحمانی اس پر وارد ہوتے ہیں، محض عبادت پر منحصر نہیں۔
۴۔ فرمایا یہ پیر کا حق ہے کہ جو معلق گناہ یا تکلیف مرید کو ہو۔ اس سے فوراً مرید کو آگاہ کردے۔
۵۔ پیر کی خدمت میں حاضر ہونے سے مقصود یہی ہونا چاہیے کہ مرشد کے باطنی فیض سے اپنی قلب کا تزکیہ و تصفیہ کرے۔ اگر ماسوا کے خیال
❤1
سے قلب کو خالی کرکے پیر کی خدمت میں حاضر خدمت ہوکر قلب کی طرف متوجہ ہوجائے تو ضرور کچھ نہ کچھ فیضان حاصل ہوتا ہے بقول شخصے۔ ؎
باسوختگان بنیشیں شاید کہ تو ہم سوزی
حضرت خواجہ شمس العرفاں اور آپ کے خلفاء کے مفصل حالات سیرت خالقیہ میں مذکور ہیں جس کا قلمی نسخہ میری نظر سے گزرا تھا مگر اب چھپ گئی ہے۔
(مشائخ نقشبند)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-qadir-bakhsh
باسوختگان بنیشیں شاید کہ تو ہم سوزی
حضرت خواجہ شمس العرفاں اور آپ کے خلفاء کے مفصل حالات سیرت خالقیہ میں مذکور ہیں جس کا قلمی نسخہ میری نظر سے گزرا تھا مگر اب چھپ گئی ہے۔
(مشائخ نقشبند)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-qadir-bakhsh
scholars.pk
Hazrat Khawaja Qadir Bakhsh
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت علامہ مولانا مفتی مظفر احمد دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مفتی مظفر احمد ، حضرت علامہ مفتی محمد مظہر اللہ دہلوی ؒ کے سب سے بڑے صاحبزادے اور نامور اسکالر پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب کے بڑے بھا ئی تھے۔ دہلی میں تولد ہوئے۔ پاکستان بننے کے بعد کراچی منتقل ہو گئے۔
تعلیم و تربیت:
مدرسہ عالیہ جامع مسجد فتح پوری دہلی میں قاری فضل الدین سے آپ نے قرآن مجید حفظ کیا اور تجوید و قراٗت کی تعلیم حاصل کی۔ پھر اسی مدرسہ میں نامور علماء سے علوم عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل کی اور ۱۳۵۱ھ؍ ۱۹۳۲ء میں اسی مدرسہ سے سند الفراغ اور دستار فضیلت حاصل کی۔ اس کے بعد آپ فن طب و حکمت کی جانب متوجہ ہوئے اور اس وقت کے نامور طبیب حکیم جمیل الدین خان سے آپ نے فن طب حاصل کیا۔
بیعت و خلافت:
رسالہ رکن دین کے مصنف حضرت مولانا رکن الدین الوری رحمتہ اللہ علیہ (مدفون الور ، انڈیا) سے سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے اور وہیں الور میں صحبت اختیار کی ۔ پاکستان تشریف لائے تو آپ کے مرشد زادے حضرت مفتی محمد محمود الوری ؒ ( ربانی جامعہ مجددیہ رکن الاسلام ،حیدر آباد ) نے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں آپ کو اجازت و خلافت سے سر فراز فرمایا۔ جب کہ حضرت خواجہ ضیاء معصوم سر ہندی ؒ کے صاحبزادے اور جانشین حضرت پیر غلام محمد مجددی ؒ ( جو کہ ملیر کراچی میں رہائش پذیر تھے ) سے بھی آپ کو چاروں سلاسل میں اجازت و خلافت حاصل تھی ۔
فتاویٰ نویسی:
آپ نے دہلی کے قیام سے لے کر کراچی کے زمانہ قیام تک تقریبا چالیس سال فتاویٰ نویسی کے فرائض انجام دیئے اور اس میدان میں بھی اپنے آباء واجداد کے صحیح جانشین ثابت ہوئے۔ آپ کے فتاویٰ کو دیکھ کر فقہی جزئیات پر آپ کی دسترس ، عقلی اور نقلی دلائل پر آپ کے عبور کا نجوبی اندازہ ہوتاہے۔
امامت و خطابت:
جامع مسجد فتحپوری دہلی کی شاہی امامت آپ کے جدامجد حضرت مولانا محمد مسعود دہلوی کے دور سے چلی آرہی تھی جب کہ حضرت مولانا محمد مسعود ؒ کو ان کے سسرال سے ملی تھی جن کے ہاں شاہان مغلیہ کے دور سے یہ منصب چلا آرہا تھا۔
حضرت علامہ محمد مسعود کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت علامہ مفتی محمد مظہر اللہ دہلوی کو یہ منصب ملا۔ اور ان کے دور میں حضرت مفتی مظفر احمد پندرہ سال کی عمر سے اس مسجد میں نیا بت کے فرائض انجام دیتے رہے۔ نیا بت کے علاوہ آپ فتاویٰ نویسی ، بعد نماز جمعہ درس قرآن اور تبلیغ ، رشد و ہدایت کے کا م بھی سر انجام دیا کرتے تھے۔ بہت سے غیر مسلم آپ کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ آپ تقریبا چھبیس ( ۲۶) سال جامع مسجد فتحپوری دہلی میںا مامت و خطابت اور افتاء کے فرائض انجام دیتے رہے اور ۱۹۴۷ء میں جب پاکستان بنا تو آپ بھی پاکستان تشریف لے آئے اور فر یئر روڈ کراچی میںمستقل سکونت اختیار فرمائی ۔ یہاں سب سے پہلے آپ نے کھوڑی گارڈن کی ایک چھوٹی سی مسجد سے خطابت کا آغاز فرمایا۔ اس کے بعد جامع مسجد آرام باغ میں آپ نے امامت فرمائی ۔ اس کے بعد عید گاہ میدان میں بھی آپ برسوں آنریری خطیب کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے ۔
’’جمعیت اہل سنت ‘‘ کے نام سے آپ نے ایک تنظیم بنائی اور اس کو باقاعدہ رجسٹرڈ کرایا، اس وقت کے مقتدر علماء صدر الافاضل کے بھتیجے مولانا مفتی غلام محی الدین نعیمی ( ڈرگ روڈ ) مولانا ضیاء الدین سہروردی اور مفتی غلام قادر کشمیری ( ماڈل کالونی ) وغیرہ کے ساتھ مل کر اسی پلیٹ فارم سے دینی ملی تحریکوں میں حصہ لیا اور مسلک حقہ اور دین متین کی ترویج و اشاعت کے لئے گراں قدر خدمات انجام دیں ۔ ختم نبوت کی تحریک میں آپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، حتیٰ کے مفتی محمد عمر نعیمی اور علامہ عبدالحامد بدایونی وغیرہ کے ساتھ آپ گرفتار ہوئے اور سینٹرل جیل کراچی میں ایک ساتھ قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں ۔ آپ کے اوصاف و کمالات میں حق گوئی اور بے با کی آپ کی ایک امتیازی صفت تھی۔ صدر ایوب خان کے مارشل لاء میں جب ہر شخص حاکم وقت سے کانپ رہا تھا یہ مرد درویش علی الاعلان بغیر کسی خوف کے جلسوں میں ظالم و جابر حکمرانوں کے خلاف اعلائے کلمۃ الحق کا فریضہ انجام دے رہا تھا ۔ کسی بڑے سے بڑے کا رعب و دبدبہ آپ کو حق بات کہنے سے کبھی باز نہ رکھ سکا۔
(سندھ کے صوفیائے نقشبند مطبوعہ ۱۹۹۷ء )
مفتی مظفر احمد ، حضرت علامہ مفتی محمد مظہر اللہ دہلوی ؒ کے سب سے بڑے صاحبزادے اور نامور اسکالر پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب کے بڑے بھا ئی تھے۔ دہلی میں تولد ہوئے۔ پاکستان بننے کے بعد کراچی منتقل ہو گئے۔
تعلیم و تربیت:
مدرسہ عالیہ جامع مسجد فتح پوری دہلی میں قاری فضل الدین سے آپ نے قرآن مجید حفظ کیا اور تجوید و قراٗت کی تعلیم حاصل کی۔ پھر اسی مدرسہ میں نامور علماء سے علوم عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل کی اور ۱۳۵۱ھ؍ ۱۹۳۲ء میں اسی مدرسہ سے سند الفراغ اور دستار فضیلت حاصل کی۔ اس کے بعد آپ فن طب و حکمت کی جانب متوجہ ہوئے اور اس وقت کے نامور طبیب حکیم جمیل الدین خان سے آپ نے فن طب حاصل کیا۔
بیعت و خلافت:
رسالہ رکن دین کے مصنف حضرت مولانا رکن الدین الوری رحمتہ اللہ علیہ (مدفون الور ، انڈیا) سے سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے اور وہیں الور میں صحبت اختیار کی ۔ پاکستان تشریف لائے تو آپ کے مرشد زادے حضرت مفتی محمد محمود الوری ؒ ( ربانی جامعہ مجددیہ رکن الاسلام ،حیدر آباد ) نے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں آپ کو اجازت و خلافت سے سر فراز فرمایا۔ جب کہ حضرت خواجہ ضیاء معصوم سر ہندی ؒ کے صاحبزادے اور جانشین حضرت پیر غلام محمد مجددی ؒ ( جو کہ ملیر کراچی میں رہائش پذیر تھے ) سے بھی آپ کو چاروں سلاسل میں اجازت و خلافت حاصل تھی ۔
فتاویٰ نویسی:
آپ نے دہلی کے قیام سے لے کر کراچی کے زمانہ قیام تک تقریبا چالیس سال فتاویٰ نویسی کے فرائض انجام دیئے اور اس میدان میں بھی اپنے آباء واجداد کے صحیح جانشین ثابت ہوئے۔ آپ کے فتاویٰ کو دیکھ کر فقہی جزئیات پر آپ کی دسترس ، عقلی اور نقلی دلائل پر آپ کے عبور کا نجوبی اندازہ ہوتاہے۔
امامت و خطابت:
جامع مسجد فتحپوری دہلی کی شاہی امامت آپ کے جدامجد حضرت مولانا محمد مسعود دہلوی کے دور سے چلی آرہی تھی جب کہ حضرت مولانا محمد مسعود ؒ کو ان کے سسرال سے ملی تھی جن کے ہاں شاہان مغلیہ کے دور سے یہ منصب چلا آرہا تھا۔
حضرت علامہ محمد مسعود کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت علامہ مفتی محمد مظہر اللہ دہلوی کو یہ منصب ملا۔ اور ان کے دور میں حضرت مفتی مظفر احمد پندرہ سال کی عمر سے اس مسجد میں نیا بت کے فرائض انجام دیتے رہے۔ نیا بت کے علاوہ آپ فتاویٰ نویسی ، بعد نماز جمعہ درس قرآن اور تبلیغ ، رشد و ہدایت کے کا م بھی سر انجام دیا کرتے تھے۔ بہت سے غیر مسلم آپ کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ آپ تقریبا چھبیس ( ۲۶) سال جامع مسجد فتحپوری دہلی میںا مامت و خطابت اور افتاء کے فرائض انجام دیتے رہے اور ۱۹۴۷ء میں جب پاکستان بنا تو آپ بھی پاکستان تشریف لے آئے اور فر یئر روڈ کراچی میںمستقل سکونت اختیار فرمائی ۔ یہاں سب سے پہلے آپ نے کھوڑی گارڈن کی ایک چھوٹی سی مسجد سے خطابت کا آغاز فرمایا۔ اس کے بعد جامع مسجد آرام باغ میں آپ نے امامت فرمائی ۔ اس کے بعد عید گاہ میدان میں بھی آپ برسوں آنریری خطیب کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے ۔
’’جمعیت اہل سنت ‘‘ کے نام سے آپ نے ایک تنظیم بنائی اور اس کو باقاعدہ رجسٹرڈ کرایا، اس وقت کے مقتدر علماء صدر الافاضل کے بھتیجے مولانا مفتی غلام محی الدین نعیمی ( ڈرگ روڈ ) مولانا ضیاء الدین سہروردی اور مفتی غلام قادر کشمیری ( ماڈل کالونی ) وغیرہ کے ساتھ مل کر اسی پلیٹ فارم سے دینی ملی تحریکوں میں حصہ لیا اور مسلک حقہ اور دین متین کی ترویج و اشاعت کے لئے گراں قدر خدمات انجام دیں ۔ ختم نبوت کی تحریک میں آپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، حتیٰ کے مفتی محمد عمر نعیمی اور علامہ عبدالحامد بدایونی وغیرہ کے ساتھ آپ گرفتار ہوئے اور سینٹرل جیل کراچی میں ایک ساتھ قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں ۔ آپ کے اوصاف و کمالات میں حق گوئی اور بے با کی آپ کی ایک امتیازی صفت تھی۔ صدر ایوب خان کے مارشل لاء میں جب ہر شخص حاکم وقت سے کانپ رہا تھا یہ مرد درویش علی الاعلان بغیر کسی خوف کے جلسوں میں ظالم و جابر حکمرانوں کے خلاف اعلائے کلمۃ الحق کا فریضہ انجام دے رہا تھا ۔ کسی بڑے سے بڑے کا رعب و دبدبہ آپ کو حق بات کہنے سے کبھی باز نہ رکھ سکا۔
(سندھ کے صوفیائے نقشبند مطبوعہ ۱۹۹۷ء )
❤1
آپ کو تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں تولد ہوئیں ۔
۱۔ حافظ قاری محمد ظفر احمد
۲۔ حافظ محمد اظہر احمد
۳۔ حکیم محمد نذر احمد
تصنیف و تالیف :
آپ نے بکثرت فتاویٰ تحریر فرمائے اگر جمع کئے جائیں تو کئی ضخیم مجلدات تیار ہو سکتی ہیں ۔ فتاویٰ کے علاوہ آپ کے علمی مضامین مختلف رسالوں میں شائع ہوتے رہے اور تصنیف و تالیف کا یہ سلسلہ تیس پینتیس سال کا عرصہ جاری رہا۔ ( تذکرہ مظہر مسعود ص ۳۶۹)
آپ کے بعض رسائل کے نام درج ذیل ہیں:
۱۔ عقائد و اعمال
۲۔ الجھاد
۳۔ الدعاء للمجاھد و لغیر المجاھد
یہ رسائل محمد ابراہیم جاپان والے نے بند رروڈ کراچی سے آپ کی زندگی میں شائع کئے تھے ۔
وصال :
مفتی محمد مظفر احمد ۱۷، شوال المعظم ۱۳۹۰ھ بمطابق ۴، دسمبر ۱۹۷۱ء کو انتقال کیا ۔ مفتی محمد محمود الوری نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ آپ کو پاپوش نگر ( ناظم آباد کراچی ) کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-muzaffar-ahmad-dehelvi
scholars.pk
Hazrat Allama Mufti Muzaffar Ahmad Dehelvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت علامہ دین محمد گشکوری بلوچ علیہ الرحمہ
مولانا حافظ دین محمد خان گشکوری بلوچ ماہ رجب المرجب ۱۳۰۸ھ کو گوٹھ پٹ گل محمد لگاری تحصیل جوہی (ضلع دادو ) میں تولد ہوئے۔ آباء و اجداد اصل سبی (بلوچستان) کے تھے، پر دادا اہڈو خان وہاں سے نقل مکانی کرکے اس وقت کے مشہور صوفی بزرگ میاں نصیر محمد کلہوڑو کے زیر سایہ گوٹھ گاڑھی تحصیل ککڑ (ضلع دادو) میں سکونت اختیار کی۔
تعلیم و تربیت:
مولانا دین محمد نے دس سال کی عمر میں گوٹھ کے خلیفہ محمد ڈیپر کے پاس ناظرہ قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی۔ قحط کے سبب گھر والے دوسرے شہر چلے گئے جس کے سبب دو چار سال آپ کی تعلیم متاثر ہوئی۔ اس کے بعد ۱۳۲۲ھ کو اپنے آبائی گوٹھ واپس ہوئے اور تعلیم کو دوبارہ جاری کیا۔ فارسی کی تعلیم گوٹھ ڈیپر تحصیل میہڑ میں مولانا غلام عمر سومرو کے مدرسہ میں حاصل کی۔ اس کے بعد ایک طالب علم محمد ہاشم ملاح کی رفاقت سے ڈگھ بالا تحصیل جوہی گئے جہاں نامور عالم دین مولانا مفتی محمد حنس کھوسہ بلوچ کی خدمات حاسل کی۔ لیکن مفتی محمد حسن کسی ذاتی وجہ سے ایک سال تک درس کو مؤخر کرکے چلے گئے۔ اسلئے مولانا دین محمد دیگر مدادس میں ایک سال تک تعلیم حاسل کرتے رہے مثلاً: مدرسہ گاہی مہیسر (تصحصیل میہڑ) اور رہڑو شریف (تحصیل میہڑ) معلوم ہوا ہے کہ لاڑ کے مدارس مٹیاری، ہالا ، حیدرآباد، میر پور خاص اور ٹنڈو الہیار وغیرہ میں بھی تعلیم حاصل کی تھی۔ میرے خیال (فقیر راشدی غفرلہ) میں مولانا دین محمد اپنے استاد محترم مفتی محمد حسن کی شخصیت اور طریقہ تعلیم سے بہت مانوس تھے اسلئے ان کا دل کہیں نہیں گلا ورنہ فقط ایک سال میں اتنے سارے مدارس تبدیل کرنے کی کیا وجہ تھی؟ یہی وجہ تھی کہ جب ۱۳۲۹ھ کو مولانا مفتی محمد حسن نے درس و تدریس کا دوبارہ سلسلہ شروع کیا تو مولانا دین محمد اپنے استاد محترم کے پاس واپس آگئے ۔ وہیں ۱۳۳۰ھ/۱۹۱۲ء کو فارغ التحصیل ہوئے۔
درس و تدریس:
بعد فراغت اپنے آبائی گوٹھ میں ’’مدرسہ دینی‘‘ کی بنیاد رکھی اور بیس سال وہاں درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس کے بعد سردار حاجی غلام محمد خان برڑو کی دعوت و اصرار پر ان کے گوٹھ برڑا تحصیل ککڑ میں ’’مدرسہ دینیہ‘‘قائم کیا اور درس و تدریس کا سلسلہ وہاں بھی بیس سال تک جاری رکھا۔ مولانا دین محمد چالیس سال کی عمر میں اپنی بیٹی کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے ہوئے انہیں قرآن مجید حفظ کرنے کا شوق دامن گیر ہوا، اکیس ماہ میں قرآن مجید کے حفظ کی دولت سے مالامال ہوئے، اس سے ان کی ذہانت اور قوت حافظہ کا پتہ لگتا ہے۔ یہ بات انہوں نے ’’سوانح حفظ القرآن‘‘ میں تفصیل سے لکھی ہے۔
بیعت:
عمر کے آخری میں ضعیفی و نحیفی کے سبب درس کا سلسلہ موقوف کردیا، تصوف کی طر فمائل ہوئے حضرت خواجہ احمد زمان صدیقی سجادہ نشین لاری شریف (ضلع بدین) کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے۔ بقیہ زندگی ذکر اذکار ، مراقبہ ، شب بیداری اور پرہیزگاری میںبسر کی۔
سفر حرمین شریفین:
۱۳۴۲ھ کو پہلا حج ۱۳۴۵ھ میں دوسرا حج کی ااور ہر بار حج کے بعد مدینہ منورہ کا سفر اختیار کیا اور روضہ انور سید المرسلین خاتم النبیین ﷺ کی حاضری و زیارت کی سعادت حاصل کی۔ جس کا احوال انہوں نے اپنے سفرنامہ مسمی ’’مختصر سفر حج‘‘ میں کیا ہے۔
اولاد:
آپ نے دو شادیاں کیں جس سے تین بیٹیاں اور دو بیٹے تولد ہوئے ۔ لیکن آپ کی زندیگ میں ہی ایک بیٹا اور ایک بیٹی نے انتقال کیا۔ ایک بیٹا مولانا حسن اللہ گشکوری بلوچ اور دو بیٹیاں صاحب اولاد ہیں۔
تلامذہ:
آپ کے تلامذہ میں سے درج ذیل نام معلوم ہو سکے:
۱۔ قاضی دوست محمد بن علی بخش وگھیو
۲۔ مولوی امیر بخش خان برڑو
۳۔مولوی احمد ولی جو کھیو وساکن بیگودیر و تحصیل ککڑضلع دادو
۴۔ مولوی عبدالہادی کھونھا رو ساکن سگھڑ تحصیل ککڑ
۵۔مولوی محمد دلاور بلوچ ۶۔عبدالقیوم خان بن سردار غلام محمد خان برڑو
تصنیف و تالیف:
قلم و قرطاس سے آخر تک تعلق قائم رکھا اور شاندار تحریر ی کام کیا جس میں سے بعض کے اسماء درج ذیل ہیں:
٭نشان بنوت (نظم )
٭مدارج النبوۃ( فارسی )تالیف شیخ عبدالحق محدث دہلوی (۲ جلدیں ) کا منظوم سندھی ترجمہ
٭آئینہ معراج (سندھی )
٭تصدیق الخلفاء ( سندھی )شیعہ کی جانب سے خلافت راشدہ پر اعتراضات و الزامات کے مدلل جوابات
٭کتاب الاعجاز (سندھی )پچپن (۵۵) معجزات نبوی ﷺ کا بیان
٭استاد صرف فارسی مع مقدمہ ٭اسول عشرہ شیعہ مع تقریر دلپذیر
٭سوانح حفظ القرآن مع فضائل قرآن ٭میزان القرآن (منظوم سندھی )
٭قاعدہ ابواب قرآن ٭مختصر سفرحج (فارسی )
٭احراق القلوب
مولانا حافظ دین محمد خان گشکوری بلوچ ماہ رجب المرجب ۱۳۰۸ھ کو گوٹھ پٹ گل محمد لگاری تحصیل جوہی (ضلع دادو ) میں تولد ہوئے۔ آباء و اجداد اصل سبی (بلوچستان) کے تھے، پر دادا اہڈو خان وہاں سے نقل مکانی کرکے اس وقت کے مشہور صوفی بزرگ میاں نصیر محمد کلہوڑو کے زیر سایہ گوٹھ گاڑھی تحصیل ککڑ (ضلع دادو) میں سکونت اختیار کی۔
تعلیم و تربیت:
مولانا دین محمد نے دس سال کی عمر میں گوٹھ کے خلیفہ محمد ڈیپر کے پاس ناظرہ قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی۔ قحط کے سبب گھر والے دوسرے شہر چلے گئے جس کے سبب دو چار سال آپ کی تعلیم متاثر ہوئی۔ اس کے بعد ۱۳۲۲ھ کو اپنے آبائی گوٹھ واپس ہوئے اور تعلیم کو دوبارہ جاری کیا۔ فارسی کی تعلیم گوٹھ ڈیپر تحصیل میہڑ میں مولانا غلام عمر سومرو کے مدرسہ میں حاصل کی۔ اس کے بعد ایک طالب علم محمد ہاشم ملاح کی رفاقت سے ڈگھ بالا تحصیل جوہی گئے جہاں نامور عالم دین مولانا مفتی محمد حنس کھوسہ بلوچ کی خدمات حاسل کی۔ لیکن مفتی محمد حسن کسی ذاتی وجہ سے ایک سال تک درس کو مؤخر کرکے چلے گئے۔ اسلئے مولانا دین محمد دیگر مدادس میں ایک سال تک تعلیم حاسل کرتے رہے مثلاً: مدرسہ گاہی مہیسر (تصحصیل میہڑ) اور رہڑو شریف (تحصیل میہڑ) معلوم ہوا ہے کہ لاڑ کے مدارس مٹیاری، ہالا ، حیدرآباد، میر پور خاص اور ٹنڈو الہیار وغیرہ میں بھی تعلیم حاصل کی تھی۔ میرے خیال (فقیر راشدی غفرلہ) میں مولانا دین محمد اپنے استاد محترم مفتی محمد حسن کی شخصیت اور طریقہ تعلیم سے بہت مانوس تھے اسلئے ان کا دل کہیں نہیں گلا ورنہ فقط ایک سال میں اتنے سارے مدارس تبدیل کرنے کی کیا وجہ تھی؟ یہی وجہ تھی کہ جب ۱۳۲۹ھ کو مولانا مفتی محمد حسن نے درس و تدریس کا دوبارہ سلسلہ شروع کیا تو مولانا دین محمد اپنے استاد محترم کے پاس واپس آگئے ۔ وہیں ۱۳۳۰ھ/۱۹۱۲ء کو فارغ التحصیل ہوئے۔
درس و تدریس:
بعد فراغت اپنے آبائی گوٹھ میں ’’مدرسہ دینی‘‘ کی بنیاد رکھی اور بیس سال وہاں درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس کے بعد سردار حاجی غلام محمد خان برڑو کی دعوت و اصرار پر ان کے گوٹھ برڑا تحصیل ککڑ میں ’’مدرسہ دینیہ‘‘قائم کیا اور درس و تدریس کا سلسلہ وہاں بھی بیس سال تک جاری رکھا۔ مولانا دین محمد چالیس سال کی عمر میں اپنی بیٹی کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے ہوئے انہیں قرآن مجید حفظ کرنے کا شوق دامن گیر ہوا، اکیس ماہ میں قرآن مجید کے حفظ کی دولت سے مالامال ہوئے، اس سے ان کی ذہانت اور قوت حافظہ کا پتہ لگتا ہے۔ یہ بات انہوں نے ’’سوانح حفظ القرآن‘‘ میں تفصیل سے لکھی ہے۔
بیعت:
عمر کے آخری میں ضعیفی و نحیفی کے سبب درس کا سلسلہ موقوف کردیا، تصوف کی طر فمائل ہوئے حضرت خواجہ احمد زمان صدیقی سجادہ نشین لاری شریف (ضلع بدین) کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے۔ بقیہ زندگی ذکر اذکار ، مراقبہ ، شب بیداری اور پرہیزگاری میںبسر کی۔
سفر حرمین شریفین:
۱۳۴۲ھ کو پہلا حج ۱۳۴۵ھ میں دوسرا حج کی ااور ہر بار حج کے بعد مدینہ منورہ کا سفر اختیار کیا اور روضہ انور سید المرسلین خاتم النبیین ﷺ کی حاضری و زیارت کی سعادت حاصل کی۔ جس کا احوال انہوں نے اپنے سفرنامہ مسمی ’’مختصر سفر حج‘‘ میں کیا ہے۔
اولاد:
آپ نے دو شادیاں کیں جس سے تین بیٹیاں اور دو بیٹے تولد ہوئے ۔ لیکن آپ کی زندیگ میں ہی ایک بیٹا اور ایک بیٹی نے انتقال کیا۔ ایک بیٹا مولانا حسن اللہ گشکوری بلوچ اور دو بیٹیاں صاحب اولاد ہیں۔
تلامذہ:
آپ کے تلامذہ میں سے درج ذیل نام معلوم ہو سکے:
۱۔ قاضی دوست محمد بن علی بخش وگھیو
۲۔ مولوی امیر بخش خان برڑو
۳۔مولوی احمد ولی جو کھیو وساکن بیگودیر و تحصیل ککڑضلع دادو
۴۔ مولوی عبدالہادی کھونھا رو ساکن سگھڑ تحصیل ککڑ
۵۔مولوی محمد دلاور بلوچ ۶۔عبدالقیوم خان بن سردار غلام محمد خان برڑو
تصنیف و تالیف:
قلم و قرطاس سے آخر تک تعلق قائم رکھا اور شاندار تحریر ی کام کیا جس میں سے بعض کے اسماء درج ذیل ہیں:
٭نشان بنوت (نظم )
٭مدارج النبوۃ( فارسی )تالیف شیخ عبدالحق محدث دہلوی (۲ جلدیں ) کا منظوم سندھی ترجمہ
٭آئینہ معراج (سندھی )
٭تصدیق الخلفاء ( سندھی )شیعہ کی جانب سے خلافت راشدہ پر اعتراضات و الزامات کے مدلل جوابات
٭کتاب الاعجاز (سندھی )پچپن (۵۵) معجزات نبوی ﷺ کا بیان
٭استاد صرف فارسی مع مقدمہ ٭اسول عشرہ شیعہ مع تقریر دلپذیر
٭سوانح حفظ القرآن مع فضائل قرآن ٭میزان القرآن (منظوم سندھی )
٭قاعدہ ابواب قرآن ٭مختصر سفرحج (فارسی )
٭احراق القلوب
❤1😁1
شاعری:
آپ قادر الکلام شاعر اور ادیب تھے ۔ تخلص ’’پٹائی‘‘ تھا ۔ گوٹھ کا نام ’’پٹ گل محمد لغاری ‘‘۔ پٹ کی معنی ہے پلاٹ ،دھرتی، پٹائی یعنی پلاٹ گوٹھ والے ۔ گوٹھ کی نسبت کی وجہ سے آپ نے پٹائی تخلص اپنایا ۔ تمام کلام نعت ، مولود ، مدح، غزل ، کافی اور جمعہ کے خطبات پر مشتمل ہے جو کہ سندھی ، فارسی ، سرائیکی اور اردو زبانوں پر محیط ہے۔
وصال:
مولانا دین محمد ’’ پٹائی ‘‘ نے ۱۷، شوال المعطم ۱۳۷۹ھ بمطابق ۱۳، اپریل ۱۹۶۰کو انتقال کیا ۔ وصیت کے مطابق انہیں میاں نصیر محمد کلہوڑو (تحصیل ککڑ ضلع دادو) کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-deen-muhammad-gashkori-baloch
آپ قادر الکلام شاعر اور ادیب تھے ۔ تخلص ’’پٹائی‘‘ تھا ۔ گوٹھ کا نام ’’پٹ گل محمد لغاری ‘‘۔ پٹ کی معنی ہے پلاٹ ،دھرتی، پٹائی یعنی پلاٹ گوٹھ والے ۔ گوٹھ کی نسبت کی وجہ سے آپ نے پٹائی تخلص اپنایا ۔ تمام کلام نعت ، مولود ، مدح، غزل ، کافی اور جمعہ کے خطبات پر مشتمل ہے جو کہ سندھی ، فارسی ، سرائیکی اور اردو زبانوں پر محیط ہے۔
وصال:
مولانا دین محمد ’’ پٹائی ‘‘ نے ۱۷، شوال المعطم ۱۳۷۹ھ بمطابق ۱۳، اپریل ۱۹۶۰کو انتقال کیا ۔ وصیت کے مطابق انہیں میاں نصیر محمد کلہوڑو (تحصیل ککڑ ضلع دادو) کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-deen-muhammad-gashkori-baloch
scholars.pk
Allama Deen Muhammad Gashkori Baloch
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شیخ الحدیث علامہ عبد القدیر حسرت حیدر آبادی
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا محمد عبد القدیر صدیقی ۔ لقب: حسرت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا محمد عبدالقدیر صدیقی بن مولانا محمد عبد القادر صدیقی ۔
والد کی طرف سے آپ کا سلسلۂ نسب حضرت صدیق اکبر رضی الله تعالیٰ عنه سے اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضرت امام حسین رضی الله تعالیٰ عنه سے ملتا ہے ۔ والد کی طرف سے صدیقی اور والدہ کی طرف سےحسینی ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 27 رجب المرجب 1288ھ کو محلہ قاضی پورہ حیدر آباد میں اپنے نانا حضرت میر پرورش علی خاں صاحب کے مکان میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، والد بزرگوار حضرت محمد عبد القادر صدیقی اور آپ کے ماموں حضرت سید محمد صدیق عرف خواجہ محبوب اللہ رحمۃ اللہ علیہما نے آپ کو تعلیم دی۔ مدرسہ دارالعلوم سے فراغت کے بعد آپ نے مولوی اور منشی فاضل کی تعلیم پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی۔ فنون سپاہ گری میں مہارت حاصل کی، چنانچہ آپ لٹھ،تلوار،بنوٹ،کشتی اور بندوق چلانے کی لوگوں کو تربیت دیا کرتے تھے۔
بیعت و خلافت:
آپ کے پیر طریقت حضرت سید محمد صدیق عرف خواجہ محبوب اللہ ہیں، جن سے آپ کو بیعت و خلافت حاصل ہوئی۔
سیرت و خصائص:
بحرالعلوم، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، صاحبِ اوصافِ کثیرہ، مفسرِ قرآن، حضرت علامہ مولانا محمد عبد القدیر صدیقی حسرت علیہ الرحمہ
آپ علیہ الرحمہ تمام علومِ جدیدہ و قدیمہ کے جامع تھے ۔ علم کے ساتھ عمل میں بے مثال اور انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء کی تصویر تھے ۔ تمام فنون میں یکساں مہارت رکھتے تھے۔
اللہ رب العزت نے آپ کو دو مرتبہ حج و زیارت کا شرف بخشا۔ آپ نےچارنکاح کئے،اس طرح آپ کے پندرہ صاحبزادے اور پندرہ صاحبزادیاں ہوئیں۔ درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں آپ منفرد مقام رکھتے تھے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں حدیث کےپروفیسراور صدر شعبۂ دینیات کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔جامعہ نظامیہ کے اعزازی ناظم مقرر ہوئے اور جامعہ کی ترقی کے لئے بیش بہا خدمات انجام دیں۔ آپ کے علمی کارناموں میں سب سے بڑا کارنامہ تفسیر قرآن مجید ہے۔ جو’’تفسیر ِصدیقی‘‘کےنام سےمقبول عام ہے اور طالبانِ علم کے لئے عام فہم ہے۔آپ کی پچاس سے زائد کتابیں و رسائل ہیں۔رسالہ مسئلہ عدم نسخ قرآن کی آخری گتھی کو سلجھانے کا سہرا آپ کے سر ہے،جو کہ ایک عظیم کارنامہ ہے،جس کی وجہ سے آپ کو بحر العلوم کہا جاتا ہے۔
فن حدیث میں عبور رکھنے کی وجہ سے آپ نے اہل سنت و جماعت سے تعلق رکھنے والوں کے لئے قرآن و حدیث کی روشنی میں مختلف کتابیں لکھیں، جن کے مطالعہ سے ایمان، نماز، روزہ، زکوۃ، حج اور تصوف و سلوک کے مسائل کو آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔
تاریخِ وصال:
آپ تقریباً سو سال کی عمر میں 17 شوال المکرم 1388ھ کو واصل بحق ہوئے۔ آپ کی آخری آرام گاہ ’’صدیق گلشن‘‘ بہادر پورہ میں ہے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-qadeer-hasrat-hyderabadi
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا محمد عبد القدیر صدیقی ۔ لقب: حسرت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا محمد عبدالقدیر صدیقی بن مولانا محمد عبد القادر صدیقی ۔
والد کی طرف سے آپ کا سلسلۂ نسب حضرت صدیق اکبر رضی الله تعالیٰ عنه سے اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضرت امام حسین رضی الله تعالیٰ عنه سے ملتا ہے ۔ والد کی طرف سے صدیقی اور والدہ کی طرف سےحسینی ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 27 رجب المرجب 1288ھ کو محلہ قاضی پورہ حیدر آباد میں اپنے نانا حضرت میر پرورش علی خاں صاحب کے مکان میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، والد بزرگوار حضرت محمد عبد القادر صدیقی اور آپ کے ماموں حضرت سید محمد صدیق عرف خواجہ محبوب اللہ رحمۃ اللہ علیہما نے آپ کو تعلیم دی۔ مدرسہ دارالعلوم سے فراغت کے بعد آپ نے مولوی اور منشی فاضل کی تعلیم پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی۔ فنون سپاہ گری میں مہارت حاصل کی، چنانچہ آپ لٹھ،تلوار،بنوٹ،کشتی اور بندوق چلانے کی لوگوں کو تربیت دیا کرتے تھے۔
بیعت و خلافت:
آپ کے پیر طریقت حضرت سید محمد صدیق عرف خواجہ محبوب اللہ ہیں، جن سے آپ کو بیعت و خلافت حاصل ہوئی۔
سیرت و خصائص:
بحرالعلوم، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ، صاحبِ اوصافِ کثیرہ، مفسرِ قرآن، حضرت علامہ مولانا محمد عبد القدیر صدیقی حسرت علیہ الرحمہ
آپ علیہ الرحمہ تمام علومِ جدیدہ و قدیمہ کے جامع تھے ۔ علم کے ساتھ عمل میں بے مثال اور انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء کی تصویر تھے ۔ تمام فنون میں یکساں مہارت رکھتے تھے۔
اللہ رب العزت نے آپ کو دو مرتبہ حج و زیارت کا شرف بخشا۔ آپ نےچارنکاح کئے،اس طرح آپ کے پندرہ صاحبزادے اور پندرہ صاحبزادیاں ہوئیں۔ درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں آپ منفرد مقام رکھتے تھے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں حدیث کےپروفیسراور صدر شعبۂ دینیات کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔جامعہ نظامیہ کے اعزازی ناظم مقرر ہوئے اور جامعہ کی ترقی کے لئے بیش بہا خدمات انجام دیں۔ آپ کے علمی کارناموں میں سب سے بڑا کارنامہ تفسیر قرآن مجید ہے۔ جو’’تفسیر ِصدیقی‘‘کےنام سےمقبول عام ہے اور طالبانِ علم کے لئے عام فہم ہے۔آپ کی پچاس سے زائد کتابیں و رسائل ہیں۔رسالہ مسئلہ عدم نسخ قرآن کی آخری گتھی کو سلجھانے کا سہرا آپ کے سر ہے،جو کہ ایک عظیم کارنامہ ہے،جس کی وجہ سے آپ کو بحر العلوم کہا جاتا ہے۔
فن حدیث میں عبور رکھنے کی وجہ سے آپ نے اہل سنت و جماعت سے تعلق رکھنے والوں کے لئے قرآن و حدیث کی روشنی میں مختلف کتابیں لکھیں، جن کے مطالعہ سے ایمان، نماز، روزہ، زکوۃ، حج اور تصوف و سلوک کے مسائل کو آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔
تاریخِ وصال:
آپ تقریباً سو سال کی عمر میں 17 شوال المکرم 1388ھ کو واصل بحق ہوئے۔ آپ کی آخری آرام گاہ ’’صدیق گلشن‘‘ بہادر پورہ میں ہے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-qadeer-hasrat-hyderabadi
scholars.pk
Hazrat Molana Abdul Qadeer Hasrat Hyderabadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-10-1444 ᴴ | 07-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-10-1444 ᴴ | 08-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1