🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-10-1444 ᴴ | 07-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-10-1444 ᴴ | 07-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#یوم_ولادت_ماہ_رمضان_المبارک #یوم_وصال_ماہ_شوال_المکرم https://t.me/islaamic_Knowledge/50131
قائد اہلسنت، قائد ملت اسلامیہ، حضرت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ 🌹 یوم وصال 16 شوال المکرم 1424 ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مختصر سوانح حیات ↶
https://t.me/islaamic_Knowledge/50131
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ قادر بخش جہانخیلی علیہ الرحمہ

سلسلۂ نسب:
آپ کا سلسلہ نسب یوں ہے ۔ خواجہ قادر بخش بن دیدار بخش بن شیر محمد خان بن غلام محمد خان بن ممریز خاں بن موکل خاں بن مصری خان ۔

آپ کے مورث اعلیٰ مصری خاں قصبہ کلال گو علاقہ غزنی میں رہا کرتے تھے۔ موکل خان جو احمد شاہ درانی کے اعلیٰ رکن سلطنت تھے۔ ایک درویش با کمال گلزار محمد خاں قم مہمند زئی ملک افغانستان سے سلسلہ قادریہ میں بیعت ہوئے۔ ان کے پیر نے بغرض تعلیم و تلقین اپنے دو خلیفے شیر خاں غازی اور حاجی مڈکی ان کے ساتھ کردیے۔ جب موکل خاں پنجاب کو آئے تو وہ ہر دو ساتھ تھے۔ آپ ضلع ہوشیار پور میں جہانخیل کی زمین پر آباد ہوئے۔ ہر دو خلیفوں کی پختہ قبریں اس وقت ہائی سکول خالقیہ کی جدید جامع مسجد کے عقب میں جانب غرب موجود ہیں۔ شیر محمد خان ریاست منڈی میں ملازم ہوئے۔

والد محترم کی پیدائش و دیگر حالات:
جب ان کی عمر ساڑھے بتیس سال کی ہوئی تو ۱۳۰۴ھ میں دیدار بخش پیدا ہوئے۔ دیدار بخش بعارضہ چیچک بیمار ہوگئے اور چند روز میں داعی اجل کو لبیک کہا۔ جب بچہ کو کفن پہناکر لے چلے تو والدہ نے کہا کہ مجھے دکھلادو۔ جب نوش اس کے ہاتھ میں دی گئی تو وہ دوسری طرف سے نکل کر ایک مسیحادم درویش با کمال نادر علی شاہ نام کی خدمت میں پہنچی شاہ صاحب حسب معمول آنکھیں بند کیے مراقب بیٹھے تھے اُن کی گود میں لٹاکر چلی آئی۔ چاہ صاحب نے خادم کو بلاکر پوچھا کہ میرے زانو پر نمدار چیز کون رکھ گیا ہے۔ خادم نے عرض کیا کہ بیوہ شیر محمد خان اپنے اکلوتے بچہ کی نعش رکھ گئی ہے۔ آپ نے فرمایا: اس کو پانی میں ڈال دو چنانچہ ایسا ہی کیا گیا کہ ایک گڑھے میں جس قدرے پانی تھا لٹادیا گیا اور آپ سر بسجدہ بارگاہِ رب العزت میں خلوص دل سے گڑ گڑا کر دعا کرنے لگے۔ دریائے رحمت الٰہی جوش میں آیا پہلے بچہ کا انگوٹھا ہلا پھر تمام بدن میں جان پڑ گئی۔ شاہ صاحب نے سجدہ سے سر اُٹھایا تو بچہ کو زندہ پایا۔ اور اللہ تعالیٰ کا شکر بجالائے۔ والدہ کو خبر ہوئی تو خوشی میں دوڑی آئی۔ اور بچہ کو گود میں لے کر شاہ صاحب کے قدموں پر لٹادیا۔ اور عرض کیا یہ آپ ہی کا ہے۔ آپ ہی کے قدموں میں رہے گا۔ یہ کہہ کر واپس گھر چلی گئی اس طرح دیدار بخش نے شاہ صاحب کے ہاں پرورش پائی اور علم ظاہری سے فارغ ہوکر ان ہی سے بیعت ہوئے۔ چوبیس سال کی عمر میں شاہ صاحب نے ان کو خرقہ خلافت و دستارِ فضیلت سے مشرف فرمایا۔ جب شاہ صاحب کی عمر ایک سو پچیس سال کی ہوئی تو آپ نے اس دارِ فانی سے انتقال فرمایا آپ کا مزار مبارک کوٹ عبدالخالق کے متصل واقع ہے دیدار بخش نہایت غمگین ہوئے اور چھ ماہ کے بعد وہاں سے کشمیر چلے گئے۔ اور مہاراجہ کشمیر کے ہاں ملازم ہوگئے۔ دورانِ ملازمت میں بھی آپ سے لوگوں کو بہت فیض پہنچا۔ جب آپ کی عمر ۳۳ برس کی ہوئی تو ایک مجذوب احمد شاہ نام نے آپ سے فرمایا کہ خان صاحب! تم اپنے وطن میں جاکر شادی کرو۔ تمہاری پشت سے ایک قطب پیدا ہونے والا ہے۔ آپ انکار کرتے رہے۔ مگر مجذوب اصرار کرتا رہا۔ یہاں تک کہ ایک سال کے بعد راجہ کشمیر سے رخصت لے کر وطن کی طرف روانہ ہوئے۔ اثنائے راہ میں موضع دینا نگر میں ایک صاحب خدمت درویش نے فرمایا کہ ضلع ہوشیار پور میں موضع میانی سے پرے بستی جلال خاں ہے۔ وہاں تمہاری شادی ہوگی۔ منکوحہ کا نام زہرہ خاتون ہوگا اور اُس کے بطن سے ایک قطب پیدا ہوگا۔ آپ وہاں سے بستی جلال خاں میں پہنچے۔ یہاں کے باشندوں کی رشتہ داری قدیم سے جہانخیلاں میں تھی۔ یہاں آپ کی یہاں آپ کی نسبت گامن خان کی دختر نیک اختر زہرہ خاتون سے قرار پائی۔ آپ یہاں سے اپنے وطن جہانخیلاں میں پہنچے جو بستی مذکور سے پندرہ کوس ہے۔ اوروہاں سے تاریخ مقررہ پر بستی جلال خاں میں آکر رسوم نکاح ادا کی گئیں۔

ولادت باسعادت:
کہتے ہیں کہ آپ کے ہاں حضرت خواجہ قادر بخش بروز دو شنبہ ۱۷ شوال ۱۳۳۷ھ مطابق ۱۸۲۲ء میں پیدا ہوئے۔ اتفاقات حسنہ سے ہے کہ الفاظ خواجہ قادر بخش سے ہی تاریخ ولادت مطابق سنہ عیسوی نکل آتی ہے۔

تحصیل علم ظاہر و باطن:
حضرت خواجہ قادر بخش نے پانچ سال کی عمر میں قرآن مجید پڑھنا شروع کیا اور سات سال کی عمر میں ختم کیا۔ ان ہی ایام میں آپ کے والد ماجد نے کشمیر میں وفات پائی۔ اُن کا مزار کشمیر ہی میں پنجابی پیر کے نام سے مشہور ہے۔ بارہ سال کی عمر تک آپ کتب اردو و فارسی اور دینیات میں مشغول رہے۔ پھر کھیتی کرنے لگے۔ چودہ سال کی عمر میں کھیتی کا کام چھوڑ کر تن تنہا لدہیانہ میں آکر مقیم ہوئے۔

فوج کی ملازمت:
چونکہ عمر چھوٹی تھی۔ یہاں انگریزی فوج میں ترم بجانے پر مامور ہوئے۔ دوران ملازمت میں شاہ کابل اور سلطنت برطانیہ میں جنگ شروع ہوئی۔ اور انگریزی افواج نے کابل پر چڑھائی کی وہ رسالہ بھی
1👍1