🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
مرفوع یا موقوف کا اختلاف ہوتو اس کا ذکر کردیتے ہیں۔

۹۔ اگر کوئی حدیث معلل ہوتو علت خفیہ بیان کردیتے ہیں۔

۱۰۔ جو روایات منکر یا ضعف ہوں تو اس کی تصریح کردیتے ہیں۔

۱۱۔ بعض اوقات راویوں کے اسماء کنیٰ اور القاب کی وضاحت کرتے ہیں۔

۱۲۔ اس کتاب میں تکرار سے حتی الامکان گریز کیا ہے۔

حافظ ابو عبداللہ محمد بن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ امام ابو داؤد نے اپنی اس کتاب میں احادیث درج کرنے کے لیے یہ شرط مقرر کی ہے وہ احادیث متصل السند اور صحیح ہوں اور وہ احادیث ایسے راویوں سے مروی ہوں جن کے ترک پر اجماع نہ ہوا ہو۔ اور علامہ خطابی لکھتے ہیں کہ ابو داؤد کی کتاب صحیح اور حسن دونوں قسم کی احادیث کی جامع ہے اور ان کی اس کتاب میں احادیث سقیمہ سے مقلوب اور مجہول روایات اصلاً نہیں ہیں۔ (مقدمۃ التعلیق الممجد، ص۴)

اخلاق و کردار:

امام ابو داؤد علم و فن ممتاز ہونے کے ساتھ سیرت و کردار کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز تھے۔ زہدو تقویٰ، عبادت و ریاضت، جاہ و منصب سے اجتناب آپ کا شیوہ تھا۔ یٰسین ہروی فرماتے ہیں:

‘‘وہ بے مثال عالم و حافظ ہونے کے علاوہ عبادت و ریاضت، عفت و پاکدامنی خیر و صلاح ورع و تقویٰ میں بھی منفرد خصوصیات کے مالک تھے۔’’ (تہذیب التہذیب، ج۴، ص۱۵۱)

آداب شریعت کی پابندی اور سنت نبوی کے اتباع کا خاص اہتمام تھا ان کی امامت حدیث اور شان عبادت دیکھ کر موسیٰ بن ہارون نے کہا:

‘‘خلق ابو داؤد فی الدنیا للحدیث وفی الاخرۃ للجنۃ’’

امام ابو داؤد دنیا میں خدمت حدیث اور آخرت میں جنت کے لیے پید اکیے گئے ہیں۔ (ایضاً)

امام صاحب دنیا اور لذائذ دنیا سے بے پرواہ تھے امراء سلاطین کی ہر گز پرواہ نہ رکتے بلکہ ان کے نارو امطالبات کو ان کے رو برو رد کردیتے۔ ایک دن امیر ابو احمد موقف آپ کے پاس آیا اور کہا میں تین درخواستیں لے کر حاضر ہوا ہوں ایک تو یہ کہ آپ بصرہ میں مستقل قیام فرمائیں تاکہ مختلف مقامات کے طالبان حدیث آپ سے استفادہ کرسکیں۔ دوسرے میرے بچوں کو سنن کی تعلیم دیں تیسرے روایت اور درس حدیث کے حلقوں میں میرے بچوں کے لیے مخصوص نشست کا اہتمام فرمادیں۔ امام صاحب نے فرمایا کہ کہ پہلی دونوں باتیں مناسب ہیں لیکن تیسری بات ناممکن ہے علم کے معاملے میں تشریف ووضیع اعلیٰ و ادنیٰ سب برابر ہیں اس لیے کوئی امتیاز نہیں برتا جاسکتا چناں چہ امیر کے لڑکے عام لوگوں کی طرح حلقۂ درس میں شریک ہوکر سماع حدیث کرتے۔ (دیباچہ غایۃ المقصود)

وفات:
آپ کی وفات ۱۶ شوال بروز جمعہ ۲۷۵ھ ۷۳ سال کی عمر میں ہوئی ۔ عباس بن عبد الواحد نے نماز جنازہ پڑھائی ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedi-abu-dawood-suleman-sajistan
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
قائد اہلسنت، قائد ملت اسلامیہ، حضرت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: علامہ شاہ احمد نورانی صدّیقی ۔ القابات: قائدِ اہلِ سنّت ، قائدِ ملّتِ اسلامیہ، امامِ انقلاب، مجاہدِ اسلام، حق و صداقت کی نشانی، غازیِ ختم نبوّت، عالمی مبلغ اسلام، یاد گارِ اسلاف ۔

سلسلۂ نسب:
علامہ شاہ احمد نورانی بن شیخ الاسلام مولانا عبد العلیم صدّیقی بن شاہ عبد الحکیم صدّیقی (علیہم الرحمۃ) ۔

آپ کا سلسلۂ نسب 39 واسطوں سے خلیفۂ اوّل حضرت سیّدنا صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ملتا ہے ۔ آپ کی والدۂ محترمہ بھی صدّیقی تھیں ۔ اس لحاظ سے آپ نجیب الطرفین ’’ صدّیقی ‘‘ ہیں ۔

تاریخِ ولادت:
آپ 17 رمضان المبارک 1344ھ، بمطابق یکم اپریل 1926ء کو محلّہ مشائخاں ’’ میرٹھ ‘‘ ہندوستان میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
علامہ شاہ احمد نورانی صدّیقی نے آٹھ سال کی عمر میں قرآنِ پاک حفظ کرلیا تھا۔ حفظِ قرآن کے بعد ثانوی تعلیم کے لیے ایسے اسکول میں داخلہ لیا جہاں ذریعۂ تعلیم عربی تھی ۔ عربک کالج میرٹھ سے بھی ڈگریاں حاصل کیں ۔ درسِ نظامی کی کتبِ متداولہ مدرسۂ اسلامیہ قومیہ میرٹھ میں استاذ العلماء امام النحو حضرت علامہ مولانا سیّد غلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمۃ سے پڑھیں ۔

دستار بندی کے موقع پر ایک پُر وقار تقریب کا انعقاد ہوا جس میں آپ کے استادِ محترم حضرت علامہ مولانا سیّد غلام جیلانی میرٹھی، آپ کے والدِ ماجد مولانا شاہ عبدالعلیم صدّیقی قادری اور صدر الافاضل مولانا سیّد نعیم الدین مراد آبادی کے علاوہ شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حضرت مولانا شاہ مصطفیٰ رضا خاں (علیہم الرحمہ) بھی مسند افروز تھے ۔

آپ پاکستان کے واحد سیاست دان تھے جن کو سترہ زبانوں پر عبور حاصل تھا۔

بیعت و خلافت:
عالمی مبلغِ اسلام خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا شاہ عبد العلیم صدّیقی کے مرید و خلیفہ اور جانشینِ صادق تھے، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت قطبِ مدینہ شاہ ضیاء الدین احمد قادری مدنی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے بھی آپ کو خلافت حاصل تھی ۔

سیرت و خصائص:
قائدِ اہلِ سنّت، قائدِ ملتِ اسلامیہ، امام ِانقلاب ، مجاہدِ اسلام، حق و صداقت کی نشانی، غازیِ ختمِ نبوّت، عالمی مبلغ اسلام، یاد گارِ اسلاف، نابغۂٔ روزگار، خاندانِ صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے رجلِ رشید حضرت علامہ مولانا امام الشاہ احمد نورانی صدّیقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ اسمِ بامسمّٰی تھے ۔ آپ اپنےنام کی طرح قول و عمل اورسیرت و کردار کے بھی نورانی تھے ۔ آپ جامع الکمالات اور جامع الصفات شخصیت کے مالک تھے ۔ قرآنِ حکیم و قصیدۂ بُردہ شریف اور دلائل الخیرات و حزب البحر کے عامل، شیخِ کامل، سادہ طبیعت، نرم مزاج، دھیمی آواز، شیریں گفتار، گورا رنگ، باریک ہونٹ، نورانی چہرہ ، سنّتِ نبوی سے آراستہ، اخلاقِ مصطفوی ﷺ کے پیکر، اخلاص کی جیتی جاگتی تصویر، مہمان نواز، غریب پرور، متوکّل، خوفِ خدا و عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے سر شار، مدبّرانہ سوچ ، قائدانہ صلاحتیوں سے ممتاز تھے ۔

اقلیمِ سیاست کے ایک ایسے عظیم کردار تھے کہ اصول پسندی، حق گوئی و بے باکی اور جرأت ان کا نشان تھا ۔ شخصی حکمرانی ہو یا فوجی آمروں کی من مانیاں، علامہ نے ایک بااصول، راست گو، نڈر سیاسی مدبّر اور قائد کی صورت میں نہ صرف کلمۂ حق ادا کیا بلکہ اس کے لیے ہر طرح کی صعوبت و مشکل برداشت کی ۔ مولانا دنیائے اسلام میں کلمۂ حق بلند کرنے والے کی حیثیت سے ہمیشہ زندہ و جاوید رہیں گے۔ آپ نے دنیاکے کونے کونے میں اسلام کا پیغامِ ہدایت پہنچایا اور ہزاروں بلکہ لاکھوں گم گشتگانِ راہ کو صراطِ مستقیم دکھائی ۔

آپ کی تبلیغ سے لاکھوں غیر مسلموں نے دولتِ اسلام سے اپنا دامن بھرا جن میں پادری، راہب، وکلا، انجینئرز، ڈاکٹرز اور دیگر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے لوگ شامل ہیں۔ وہ زیرک سیاست دان، علومِ قدیم و جدید کے ماہر، درویش صفت، متوکّل فقیر کے علاوہ شیخ طریقت بھی تھے، لیکن وہ روایتی پیر نہیں تھے۔ اپنی نمائش وشہرت کے سخت مخالف تھے۔ اپنی نمائش کے لیے انہوں نے کبھی بھی کوئی راہ ہموار نہیں کی۔ ہمیشہ کسر ِنفسی، عاجزی، تواضع و سادگی سے کام لیتے تھے۔ اپنی دینی کاوشوں کو چھپاتے رہتے تھے۔ کسی کے زورداراصرار کے بعد بیعت میں لیتے تھے، لیکن پھر بھی اس سے شریعتِ مطہرہ پر سختی سے پابندی کا عہد لیتے تھے ۔
1
ہر دور و عہد میں مولانا کو وزارت، گورنری اور پلاٹ پرمٹ کی پیش کش ہوئی۔ اقتدار کی لونڈی نے باربار چوکھٹ پر دستک دی لیکن آپ نے کمالِ استقلال سے ہر بار پیش کش ٹھکرادی۔ کچھی میمن مسجد صدر سے متصل ماسٹر ہاؤس کے ایک پرانے معمولی اور کرائے کے فلیٹ میں پوری زندگی درویشانہ بسر کی ۔ 
             ؎
لوگ کیا کیا بِک گئے تو نے نہیں بیچے اُصول
تیرے دامن کو بہت ہے دولتِ عشقِ رسولﷺ

آپ ملکی و بین الاقوامی بہت سے اداروں اور تنظیموں کے بانی تھے، جن میں سے ایک دعوتِ اسلامی بھی ہے ۔ آپ نابغۂ روز گار شخصیت کے مالک تھے۔ آپ کی شخصیت کا ہر پہلو روشن اور شان دار ہے اور ہر ایک وسعت کا متقاضی ہے ۔

وصال:
قائدِ اہلِ سنّت علامہ شاہ احمد نورانی صدّیقی نے 16 شوّال 1424ھ مطابق 11 دسمبر 2003ء بروزِ جمعرات اسلام آباد میں بارہ بج کر بیس منٹ پر دوپہر کو 80 سال کی عمر میں انتقال کیا۔آپ کی قبرِ انور حضرت عبد اللہ شاہ غازی علیہ الرحمۃ کے مزارکے احاطے میں ہے۔

ماخذ و مراجع:
اَنوارِ علمائے اہلِ سنّت (سندھ) تعارف علمائے اہلِ سنّت ، روشن دریچے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-shah-ahmed-noorani-siddiqui
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-10-1444 ᴴ | 06-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-10-1444 ᴴ | 07-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-10-1444 ᴴ | 07-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-10-1444 ᴴ | 07-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1