🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
نبیرۂ بیہقی وقت، علامہ مفتی محمد اکرام المحسن فیضی رحمۃ اللہ تعالی علیہ

عالم،فاضل، مصنف،محقق، صاحبِ اوصافِ حمیدہ ، نبیرۂ بیہقیِ وقت حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اکرام المحسن فیضی زید علمہ وشرفہ۔اللہ جل شانہ نے آپ کو قلیل عمر میں علم وفضل کے شرف سےہمکنار فرمایاہے۔آپ کاخاندان علم وفضل،تقویٰ وشرافت کےلحاظ سےہرزمانےمیں ممتاز رہاہے۔

خاندانی شجرہ اس طرح ہے:
مفتی محمد اکرام المحسن فیضی زید مجدہ بن استاذ العلماء مناظر اسلام حضرت علامہ مفتی محمد محسن فیضی مدظلہ العالی بن امام المناظرین ،شیخ القرآن ، بیہقیِ وقت علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی بن استاذ الاساتذہ عارف باللہ حضرت علامہ مولاناپیرمحمد ظریف فیضی بن استاذ العلماء عارف کامل علامہ مولانا الہی بخش قادری بن مولانا حاجی پیربخش علیہم الرحمۃ والرضوان۔

آپ کی ولادت باسعادت 16/شوال المکرم 1405ھ،مطابق 5/جولائی 1985ء کوتحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور میں شیخ القرآن علامہ مفتی منظوراحمد فیضی رحمہ اللہ تعالی کے گھر پر ہوئی۔جب چارسال،چار ماہ،چار دن کی عمر کو پہنچےتو 12/ربیع الاول شریف کےمبارک دن کےموقع پر سندیلہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان میں قدوۃ السالکین ،زبدۃ العارفین ،جانشین حضرت شاہجمالی کریم قلندر وقت ،غوث زماں حضرت علامہ مولانا پیر خواجہ غلام یسین شاہجمالی علیہ الرحمہ نےرسم بسم اللہ اورفاتحہ شریف پڑھائی اوراسی وقت بیعت بھی فرمالیا۔پھر جد امجد علامہ پیر محمد ظریف فیضی علیہ الرحمہ ودیگر قراء کرام سےجامعہ فیضیہ رضویہ نوانی جامع مسجد احمد پور شرقیہ میں قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی۔

جد امجد علامہ پیرمحمد ظریف فیضی علیہ الرحمہ کے وصال ۱۴۱۵ھ/۱۹۹۵ء کے بعد حضرت بیہقی وقت رحمہ اللہ تعالی نے اپنے شاگرد کے شاگرد استاذ العلماء محقق اہل سنت حضرت علامہ مفتی عبدالمجید سعیدی مدظلہ العالی کے پاس بھیجا جہاں آپ ۲۰۰۱ء/۱۴۲۱ھ تک رہے اورابتدائی کتب سےلیکر درجہ سادسہ تک مکمل کتب آپ کے پاس پڑھیں۔

مفتی صاحب کی زیرنگرانی افتاءکی مشق ،اوربالخصوص علم المیراث میں مہارت حاصل کی۔زمانۂ طالب علمی میں میراث کےفتاویٰ جات آپ تحریرکرتے۔

کچھ عرصہ ذاتی طور پر شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اقبال سعیدی علیہ الرحمہ کےہاں اکتساب ِ علم کیا۔

۲۰۰۲ء/۱۴۲۲ھ میں جدبزرگوار بیہقی وقت علامہ مفتی منظور احمد فیضی رحمہ اللہ جامعۃ المدینہ گلستان جوہر کراچی بطور شیخ الحدیث تشریف لائے تو آپ کو بھی ساتھ لےگئے جہاں درجہ سادسہ میں داخلہ لیا اپنے جد امجد رحمہ اللہ ودیگر اساتذہ سے علوم کی تکمیل کی نیز دورہ حدیث اپنے جد امجد بیہقی وقت ودیگر اساتذہ سے پڑھا اور25/نومبر ۲۰۰۴ء /۱۰ شوال المکرم ۱۴۲۴ھ عالمی مرکز فیضان مدینہ کراچی میں دستارِ فضیلت سے نوازے گئے ۔بعدازفراغت درسِ نظامی حضرت بیہقیِ وقت سے دوبارہ صحاح ستہ ومشکوٰۃ شریف،وکتب تصوف سبع سنابل وغیرہ سبقاً پڑھیں نیز حضرت بیہقیِ وقت سے ہی تخصص فی الفقہ کیا۔جس میں شامی،رسم المفتی،الاشباہ والنظائر وغیرہ کتب شامل تھیں نیز ان کی زیر نگرانی فتاوی جاری کئے ۔

1421ھ رمضان المبارک میں جامعہ رضویہ مصباح القرآن ملتان میں دورۂ تفسیر،1423ھ،میں دارلعلوم امجدیہ کراچی دورۂ ختمِ نبوت حضرت علیہ الرحمہ سےپڑھا۔2004ءمیں شہادۃ العالمیہ فی العلوم العربیہ والاسلامیہ تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان کے امتحان میں کامیابی حاصل کی ۔علم التجوید و مقدمہ جزری وغیرہ کتب تجوید پڑھ کر زینت القراء قاری غلام رسول لاہوری رحمہ اللہ سے تجوید کی سند حاصل کی ۔

2005ء میں دارالعلوم برکاتیہ کراچی جب آپ کے جد امجد بیہقی وقت رحمہ اللہ نے کچھ عرصہ حدیث شریف پڑھائی تو آپ کو اپنے ساتھ مدرس مقرر فرمایا اور ابن ماجہ وموطا امام محمد کے اسباق آپ کے سپرد کئے ۔اس کےبعد جامعہ فیضیہ رضویہ احمد پورشرقیہ میں جد امجد علیہ الرحمہ کے ساتھ دورہ حدیث وموقوف علیہ کادرس دیا ۔

2006 میں دارالافتاء اہلسنت کنزالایمان مسجد کراچی میں حضرت علامہ مفتی محمد قاسم قادری مدظلہ العالی کی نگرانی میں افتاء کےفرائض انجام دئیے۔2006ء میں انجمن ضیاء طیبہ کھارادرکراچی میں افتاء،وتحقیق کےشعبے سےوابستہ ہوئے۔ماشاءا للہ اس وقت انجمن ضیاء طیبہ میں رئیس دارالافتاء،اورانتظامی امورمیں سرپرستِ اعلیٰ ہیں۔ادارہ آپ کےزیرسرپرستی ترقی کی منازل طےکررہاہے۔نیز جامعہ فیضیہ رضویہ فیض الاسلام کے جملہ امور کا انتظام و انصرام و نگرانی بھی کررہے ہیں اسی طرح مدارس کی تعطیلات کےموقع پر جامعہ فیضیہ رضویہ فیض الاسلام احمد پور شرقیہ سالانہ دورہ تفسیر وتجوید وتصوف کا اہتمام کرتے ہیں بلکہ خود بھی تدریسی فرائض سرانجام دیتے ہیں ۔

2007ء میں دورۂ تصوف دارالمصطفیٰ تریم یمن میں شرکت کی جہاں تصوف کی مشہور کتاب عوارف المعارف کادرس علامہ سید حبیب عمر بن حفیظ ،فقہ مقارن کا درس مفتی تریم علامہ حبیب علی مشہور سے لیا اور سند حاصل کی ۔

آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں حضرت پیر خواجہ غلام یسین شاہجم
1
الی علیہ الرحمہ سےبیعت ہیں۔آپ کو عرب و عجم کے نامورعلماء ومشائخ نے اجازت وخلافت نیز علوم و سلاسل وحدیث وتفسیر وفقہ کی اسناد عطا فرمائیں۔

پاک وہند کےبزرگوں میں آپ کے جد امجد بیہقیِ وقت حضرت علامہ مفتی منظور احمد فیضی علیہ الرحمہ نےمدینہ منورہ میں خلافت و اجازت نیز اعمال واشغال علوم اسلامیہ ،حدیث وتفسیر وفقہ وغیرہ کی اجازت عطا فرمائی ۔نیز نبیرۂ اعلیٰ حضرت تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد اختر رضاخان الازہری رحمہ اللہ تعالی ،جگر گوشہ حضور شاہجمالی کریم پیر طریقت حضرت خواجہ پیر محمد اکرم شاہجمالی رحمہ اللہ تعالی ،جگر گوشہ حضور شاہجمالی کریم پیر طریقت حضرت خواجہ پیر محمد اعظم شاہجمالی رحمہ اللہ تعالی، شیخ الاسلام جانشین محدث اعظم ہند حضرت علامہ سید محمدمدنی میاں اشرفی جیلانی مدظلہ العالی ، شرف ملت علامہ عبدالحکیم شرف قادری رحمہ اللہ تعالی وغیرہم نے معقول ومنقول وحدیث وسلاسل طریقت کی اجازت و خلافت و اسناد عطا فرمائیں ۔

نیز مدینہ منورہ کے شیخ سید مالک سنوسی رحمہ اللہ ،شیخ حبیب زین سمیط باعلوی ،مکہ مکرمہ کے محدث علامہ سید حامد بن علوی کاف رحمہ اللہ ،شیخ سید عباس علوی مالکی مکی رحمہ اللہ ،مفتی شافعیہ شیخ سیداحمد رقیمی مکی ، محدث احساء علامہ سید ابرہیم خلیفہ حسنی،علامہ مفسر محمد علی صابونی وغیرہم

نیز شام کے قطب علامہ شیخ سید محمد فاتح کتانی،علامہ شیخ عبداللطیف صالح فرفوررحمہ اللہ ،جامع اموی کے امام و خطیب شیخ نزار بن محمد خطیب رحمہ اللہ ،شام کے مورخ جلیل شیخ محمد مطیع الحافظ،شیخ عدنان مجد دمشقی ،شیخ محمد عربی دغلی رحمہ اللہ وغیرہم

نیز مصر کے سابق مفتی اعظم و جامعۃ الازہر کے شیخ علی جمعہ شاذلی ،محدث مصر شیخ محمد ابراہیم عبدالباعث کتانی ،علماء ازہر کے شیخ شیخ معوض عوض ابراہیم ،شیخ عبد الرحیم جاد بدرالدین رحمہ اللہ،شیخ صلاح الدین تجانی ،شیخ رفعت فوزی عبدالمطلب،شیخ احمد محمد حافظ تیجانی رحمہ اللہ تعالی وغیرہم

نیزیمن کے علماء میں دارالمصطفی تریم کے مہتمم عظیم مبلغ اسلام شیخ حبیب عمر بن محمد بن سالم حفیظ ،مفتی تریم شیخ حبیب علی مشہور،حضرموت کے علماء کے سرتاج شیخ حبیب سالم شاطری رحمہ اللہ تعالی ،علامہ شیخ حبیب احمد بن علوی حبشی رحمہ اللہ ،شیخ محمد بن علوی عید روس باعلوی رحمہ اللہ ،شیخ عبدالرحمن بن علوی حبشی رحمہ اللہ وغیرہم

نیز مراکش کے شیخ سید عبدالرحمن بن شیخ عبدالحی کتانی ،شیخ سید ادریس بن محمد بن جعفر کتانی،محدث مراکش شیخ عبداللہ بن عبدالقادرتلیدی ،شیخ محمد بن حماد صقلی رحمہ اللہ ،شیخ محمد یوسف کتانی رحمہ اللہ وغیرہم

ترکی استنبول کی قدیم جامع مسجد الفاتح کے مدرس نیز علامہ کوثری کے تلمیذ رشید علامہ شیخ امین سراج حنفی، کویت کے سابق وزیر اوقاف علامہ شیخ سید یوسف ہاشم رفاعی رحمہ اللہ ، مفتی اعظم عراق شیخ سید رافع طہ رفاعی،امام اعظم ابوحنیفہ کے دربار سے متصل جامع امام اعظم اعظمیہ بغداد کے خطیب مجمع الفقہ العراقی کے سربراہ علامہ احمد حسن طہ ،نیز مجمع الفقہ العراقی بغداد عراق کے ہی علامہ محمد محروس مدرس اعظمی حنفی ،اردن کے شیخ معمر یوسف عمر عتوم جرشی رحمہ اللہ ،افغانستان کے علامہ شیخ عبید اللہ جانفداء نقیبی نہرکاریزی،جزائر کے شیخ معمر طاہر آیت عجلت، نیجیریا کے مفتی اعظم شیخ ابراہیم صالح حسینی ،انڈونیشیا کے شیخ حبیب علی بن محمد حداد ،لیبیا کے شیخ عبدالسلام بزنطی وغیرہم نے اپنی اسناد و اجازات سے نوازا ۔

سنی صحیح العقیدہ علماء عرب سے آپ کے گہرے روابط ہیں اور وہاں کے سنی علماءنے بھی آپ سے اجازتیں حاصل کیں ۔

ماشاء اللہ مفتی صاحب ِقلم آدمی ہیں،عربی، اردوپر مہارت رکھتےہیں،کئی عربی رسائل و کتب کےاردو زبان میں ترجمہ کرچکےہیں،ہنوز تالیف کا سلسلہ جاری ہے۔اللہ تعالی اور ترقی اور قلم میں برکت عطاء فرمائے۔مفتی صاحب،صاحبِ ذوق شخصیت کے مالک ہیں،خشک مولوی،اورجاہل وبےعمل پیروں سےدور رہناپسند کرتےہیں۔تصنع وبناوٹ،ریاء تفاخر سےکوسوں دور ،اورہرمعاملےمیں سادگی پسند ہیں،البرکۃ مع اکابرکم پرعمل پیراہوکر زمانےکے رسمی تکلفات ومعاملات سے بےنیاز،اورخلوص وعاجزی کی مثال ہیں۔



تالیفات :

القول القوی فی امامۃ الصبی

النور والضیاء فی امامۃ النساء

بیہقی وقت

12 ربیع الاول تاریخ ولادت یا وفات

ذاکر نائیک کی یزید سے محبت

ڈاکٹر اسرار کی حضرت علی سے دشمنی

تین اہم فتاوی

امیر المومنین فی الحدیث کون ؟

تقاریظ رضا بر تصانیف اہل صفا 3جلد

محفل میلاد اور علماء عرب 2 جلد

علی سے پوچھ کتنا عظیم ہے صدیق

امام احمد رضا اور عقیدہ توحید

امام احمد رضا اور کتانی علماء
1
انوار فیضیہ

حضرت شاہجمالی کریم کا فیضان علمی

تذکرہ خانوادہ شاہجمالی

منھج الحافظ ابن حجر العسقلانی فی المسائل الخلافیۃ (عربی)

حافظ عسقلانی کے عقائد و نظریات

الجواھر المضیۃفی اسانید الفیضیۃ (عربی)

سود کی نحوست

ضیاء امہات المومنین

تراجم :

مغفرت کی بشارتیں ترجمہ (معرفۃ الخصال المکفرۃ للذنوب المقدمۃ والموخرۃ )

فضائل اہلبیت (احیاء المیت )

تالیفات میلاد تعارف، تحقیق (التالیف المولدیۃ )

نہایۃ المرام فی معرفۃ من سماہ خیر الانام ﷺ

تحقیق وتخریج وحواشی :

امام اعظم اور فقہ حنفی

مقام رسول ﷺ 5جلد(زیرطبع)

فتاوی فیضیہ6 جلد (زیر طبع)

تعارف چند محدثین ،مورخین کا

گیارھویں کی شرعی حیثیت

کتاب الدعوات والاذکار من کلام اللہ الغفار وحبیبہ ﷺسید الابرار وسائر الاخیار

اعلام الاذکیاء باثبات علوم الغیب لخاتم الانبیاء ﷺ

اعلام اہل العصر بحکم سنت الفجر

الکلام المفید فی احکام التقلید

افہام الاغبیاء بحیاۃ الانبیاء والاولیاء

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-ikram-ul-mohsin-faizi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ سارنگ چشتی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: شیخ سارنگ لکھنوی ۔ حضرت شیخ سارنگ ابتدائی زندگی میں ہندوؤں کے بہت بڑے روساء اور امراء میں شمار ہوتے تھے ۔ دامن اسلام میں آئے اس وقت آپ کی ہمشیرہ سلطان محمد بن فیروز شاہ بادشاہ دہلی کی بیوی بنی تھیں۔ آپ اسی وساطت سے دربار دہلی سے منسلک ہوگئے تھے۔ اور ملک سارنگ کہلاتے تھے۔ اسی دوران آپ نے ہندوستان کا سارنگ شہر آباد کیا تھا جب سید مخدوم جلال الدین اوچی اور سیّد صدر الدین راجن قتال دہلی میں تشریف لائے تو ان دنوں شیخ سارنگ ایک خوبرو اور نوخیز نوجوان تھے۔ بادشاہ نے ان دونوں بزرگان دین کے کھانے کی خدمت شیخ سارنگ کے سپرد کی ہوئی تھی۔ ایک دن حضرت راجن قتال نے کہا۔ سارنگ! اگر تم پانچوں نمازیں باقاعدگی سے پڑھنا شروع کردو تو میں حضرت مخدوم جہانیاں کے کھانے کا تبرک کھلاؤں گا چونکہ اس وقت ان کی ہدایت کا وقت آپہنچا تھا۔ اس نے یہ شرط اسی وقت قبول کرلی۔ اور پانچوں نمازین باقاعدگی سے ادا کرنا شروع کردیں۔ چنانچہ آپ کو حضرت مخدوم جہانیاں کا پس خوردہ تبرک اچھا لگا۔ شیخ سارنگ کو اس کھانے میں ایک عجیب لذّت میسر آئی۔ ایک دن حضرت صدر الدین قتال نے کہا سارنگ اگر تم ہر روز نماز اشراق اور چاشت باقاعدگی سے پڑھنا شروع کردو تو میں اور تم اکٹھے بیٹھ کر ایک دسترخوان پر کھانا کھایا کریں گے انہوں نے یہ بات بھی قبول کرلی۔ اب مخدوم جہانیاں صدر الدین قتال اور ملک سارنگ ایک ہی دسترخوان پرکھانا کھانے لگے۔ اس قربت سے شیخ سارنگ کے دل میں روحانی روشنیاں گھر کرنے لگیں۔حضرت صدرالدین راجن قتال کی کوششوں سےدامن اسلام میں داخل ہوئے۔

بیعت وخلافت: آپ شیخ قوام الدین قدس سرہ کے مرید ہوگئے اور اس طرح آپ کو سلسلہ چشتیہ سہروردیہ کا فیض ملنے لگا۔

سیرت وخصائص: صاحبِ ترک وتجرید،فردِ فرید،حضرت سارنگ چشتی سہروردی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ ۔آپ ابتداً ہندو تھے۔حضرت مخدوم جہانیاں اور شیخ صدرالدین راجن قتال کی کوششوں سےمشرف بااسلام ہوئے۔آپ کی ہمشیرہ سلطان محمد کی زوجہ تھیں۔اس لئےآپ شاہی محل میں رہنےلگے تھے۔شاہانہ زندگی بسر کرتےتھے۔شاہانہ جاہ وجلال تھا۔جب اللہ والوں کی نظر نےکایا پلٹ دی۔پھر جب حضرت سلطان فیروز شاہ کا انتقال ہوگیا تو ان کی جگہ سلطان محمد بن سلطان محمد تخت نشین ہوئے تو حضرت سارنگ کا دل دربار شاہی سے اچاٹ ہوگیا۔ آپ سب کچھ چھوڑ کر اللہ کی یاد میں مشغول ہوگئے تمام مال و متاع غریبوں میں تقسیم کردیا۔

آپ اہل و عیال کو لے کر پا پیادہ حج کو روانہ ہوگئے چونکہ پیادہ چلنا جانتے نہ تھے قافلہ سے پیچھے رہ گئے پاؤں میں چھالے پڑ گئے قافلہ دُور نکل گیا۔ ایک دن اپنے اہل و عیال کو کہنے لگے۔ اب میں بھی اور تم لوگ بھی تھک کر چوڑ ہوگئے ہیں۔ اٹھو اور میرے پیچھے پیچھے چلو۔ ابھی تین قدم اٹھائے تھے کہ آپ قافلہ میں پہنچ گئے اور مدینہ پاک کے قرب میں جا پہنچے حج کے بعد ایک عرصہ تک مکہ اور مدینہ میں قیام کر کے حرمین الشرفین کی مجاوری میں رہے۔

ایک عرصہ بعد واپس ہندوستان آئے۔ اور حضرت شیخ یوسف بدھ ایرچی کی مجلس میں رہنے لگے۔ آپ سے خرقۂ خلافت پایا اسی اثنا میں اپنے پیر و مرشد کی صحبت میں زیارت کرنے لکھنو آیا کرتے تھے جب حضرت شیخ قوام الدین قدس سرہ کی وفات کا وقت آیا تو آپ نے فرمایا کاش آج شیخ سارنگ میرے پاس ہوتے تو میں انہیں خرقۂ خلافت دیتا آپ نے پھر بھی لوگوں کو اپنا ایک ان سِلا کفن دے کر کہا کہ جب شیخ سارنگ آئیں۔ تو انہیں میرا یہ تحفہ دے دینا آپ بعد از وفات لکھنو آئے تو اپنے شیخ کا تبرک کفن حاصل کیا۔ پھر حضرت شیخ مینا کو روحانی تربیت دے کر حضرت شیخ قوام الدین کو سجادہ نشین مقرر فرما دیا۔آپ شغل باطن اور ذکر خفی میں ہمہ تن مشغول رہتےتھے۔ترک و تجرید، عبادات و مجاہدات و توکل و قناعت، تحمل اور بردباری میں اپنی مثال آپ تھے۔

تاریخی یادگار:
مشہور شہر " سارنگ پور " آپ نے اپنے نام پر آباد کیا تھا ۔

تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 16/شوال 848 ھ کو ہوا۔مزار شریف لکھنؤ میں مرجعِ خلائق ہے۔

ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔ اخبار الاخیار ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-makhdoom-sheikh-saarang-chishti
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
قطب مکہ مکرمہ شیخ الدلائل حضرت علامہ شیخ عبد الحق الہ آبادی مہاجر مکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد عبد الحق ۔ لقب: شیخ الدلائل، قطبِ مکۃ المکرمہ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
محمد عبدالحق بن شاہ محمد بن یار محمد مہاجر مکی (علیہم الرحمہ) ۔ آپ صدیقی النسب تھے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 1252ھ بمطابق 1836ء میں الہ آباد (انڈیا) میں پیداہوئے۔

تحصیلِ علم:
مولانا تراب علی لکھنوی اور مولانا عبد اللہ صاحب وغیرہ سے درسیات پڑھیں۔ایک وقت آیا کہ آپ مفسر،محدث متکلم اور اپنے وقت کے عظیم فقیہ وصوفی،اور شیخ الدلائل کے لقب سے مشہور ہوئے۔

بیعت و خلافت:
حضرت مولانا عبد اللہ صاحب گور کھپوری سے بیعت ہوئے۔

سیرت و خصائص:
آپ مفسر، فقیہ حنفی اور اس کے اصول کے عالم و فلسفی اور تصوف میں سیدنا محی الدین ابن عربی قدس سرہ کے طریقہ پر تھے۔ ہندوستان میں تعلیم پائی،1283ھ میں حج کیا اور چار سال مدینہ طیبہ میں اقامت پزیر رہے، پھر مکہ معظّمہ میں سکونت اختیار کی ، شیخ الدلائل کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے حجاج آپ سے بیعت اور دلائل شریف کی اجازت حاصل کرتے۔ آپ بہت بڑے ولی اللہ، عالم باعمل ، متقی شب زندہ دار اور بہت عبادت گزار بزرگ تھے۔ اہل مکہ مکرمہ آپ کو قطب مکہ مکرمہ کہا کرتے تھے۔ اما م اہلسنت مولانا شاہ احمد رضاخاں قادری قدس سرہ دوسرے سفر حج میں آپ کی قیام گاہ پر بار بار حاضر ہوئے۔

سیدنا امام احمد رضا قادری قدس سرہ فرماتے ہیں :فقیر دعوتوں کے علاوہ صرف چار جگہ ملنے کوجاتا ہے۔مولانا شیخ صالح کمال ، شیخ العلماء محمد سعید ،اور مولانا عبد الحق مہاجر الہٰ آبادی اور کتب خانے میں مولانا سعید اسمعٰیل کے پاس۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)

حضرت مولانا عبد الحق الہٰ آبادی کو چالیس سال سے زائدمکہ معظّمہ میں گزرے تھے، کبھی شریف (حاکم)کے ہاں تشریف نہ لے گئے۔مولانا اسماعیل وغیرہ ان کے تلامذہ فرماتے تھے:کہ یہ محض خرق عادت ہے۔مولانا کا دم بہت غنیمت تھا، ہندی تھے مگر ان کے انوار مکہ مکرمہ میں چمک رہے تھے ۔ التز اماً ہر سال حج کرتے۔مولانا سید اسمٰعیل فرماتے تھے: کہ ایک سال زمانہ حج میں حضرت مولانا عبد الحق صاحب بہت علیل اور صاحب فراش تھے ، نویں تاریخ کواپنے تلامذہ سے کہا : مجھے حرم شریف میں لے چلو!کئی آدمی اٹھا کر لائے ، کعبہ معظمہ کے سامنے بٹھایا ، زمزم شریف منگا کر پیا اور دعا کی یاالہی !مجھےحج سے محروم نہ رکھ ! اسی وقت مولاتعالیٰ نے قوت عطا فرمائی کہ اٹھ کر اپنے پاؤں سے عرفات شریف گئے اور حج ادا کیا۔ امام اہل سنت مجدد اعظم احمد رضاخاں قادری قدس سرہ العزیز مکہ مکرمہ کے علماء کا تذکرہ کرتے ہوئےآپ کے بارے میں یوں ارشاد فرماتے ہیں:علماء کی خدمت سے شرف لو خصوصا اکابر ، جیسے آج کل مولانا مولوی عبد الحق صاحب مہاجر الہٰ آبادی آپ حمید یہ محل کے قریب تشریف فرما اور مسلمانانِ ہند کے لئے رحمت مجسم ہیں ۔

وصال:
16 شوال المکرم 1333ھ میں آپ کا وصال ہوا ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-abdul-haq-alah-abadi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث سجستانی رحمۃ اللہ علیہ
ولادت۲۰۲؁ھ وفات: ۲۷۵؁ھ

اسم گرامی سلیمان، کنیت ابو داؤد۔ سلسلۂ نسب یہ ہے سلیمان بن اشعث بن اسحاق بن بشیر بن شداد بن عمر ازدی سجستانی آپ کی ولادت سجستان کے اندر ۲۰۲ھ میں ہوئی۔ ارباب سیرو تاریخ نے سجستان کے محل و وقوع میں اختلاف کیا ہے۔ بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ سجستان بصرہ کے قریب ایک قریہ ہے جہاں ابو داؤد پیدا ہوئے لیکن صحیح قول یہ ہے کہ سجستان ایک شہر کا نام ہے۔ قندھار کے قریب سندھ و ہرات کے درمیان واقع ہے۔ شاہ عبدالعزیزصاحب لکھتے ہیں:

ابن خلکان نے جو یہ لکھا ہے کہ ‘‘نسبۃ الٰی سجستان اوسجستانۃ قریۃ من قری البصرۃ’’ (ان کی نسبت سجستان یا سجستانہ کی طرف ہے جو بصرہ کا ایک قریہ ہے) اس نسبت کی تحقیق میں ان سے غلطی سرزد ہوئی ہے حالانکہ ان کو تاریخ دانی اور تصحیح انساب و نسب میں کمال حاصل ہے چناں چہ شیخ تاج الدین سبکی ان کی یہ عبارت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔ ‘‘وھذا وھم والصواب انہ یسنۃ الی الاقلیم المعروف المتاقم لبلاد الھند’’ یہ ان کا وہم ہے صحیح یہ ہے کہ یہ نسبت اس اقلیم کی طرف ہے جو ہند کے پہلو میں واقع ہے یعنی یہ سیستان کی طرف نسبت ہے جو سندھ و ہرات کے مابین مشہور ملک ہے اور قندھار کے متصل واقع ہے اور چشت جو بزرگان چشتیہ کا وطن ہے وہ بھی اس ملک میں واقع ہے۔ پہلے زمانہ میں بست اس ملک کا پایۂ تخت تھا عرب لوگ اس ملک کی نسبت میں کبھی سنجری بھی کہہ دہتے ہیں۔ (بستان المحدثین، ۸۱، ۱۸)

تحصیل علم:

امام ابو داؤد نے خوش قسمتی سے تاریخ اسلام کا وہ عہد زریں پایا تھا جو حدیث کی ترقی و عروج کا زمانہ تھا ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے دوردراز بلاد اسلامی کا سفر کیا اور اسلامی ممالک کے مشہور شیوخ حدیث سے علم حاصل کیا اور اس ضمن میں بغداد، مصر، شام، حجاز، عراق میں کافی دنوں تک قیام پذیر رہے۔

ابن خلکان تحریر کرتے ہیں: ‘‘طوف البلاد وکتب عن العراقین والخراسیین والشامیین والمصریین والجزریین’’ انہوں نے شہروں کا گشت لگایا عراقی، خراسانی، شامی، مصری اور جزری محدثین سے حدیثیں قلم بند کیں۔ (وفیات الاعیان، ج۱، ص۳۸۲)

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی لکھتے ہیں:

مصر، شام، حجاز عراق، خراسان اور جزیرہ وغیرہا میں خصوصیت کے ساتھ کثرت سے گشت کرکے علم حدیث حاصل کیا۔ حفظ حدیث، اتقان روایت، عبادت و تقویٰ اور صلاح و احتیاط میں بلند درجہ رکھتے تھے۔ (بستان المحدثین، ص۱۸۱)

امام صاحب نے اپنے عہد کےبے شمار محدثین سے سماع کیاان کے شیوخ کے بارے میں حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں ‘‘شیوخہ فی السنن وغیرہا نحو من ثلاث مأۃ نفس’’ سنن وغیرہ میں ان کے شیوخ کی تعداد ۳۰۰ کے قریب ہے۔ (تہذیب التہذیب، ج۴، ص۱۵۱)

کچھ اہم شیوخ حسب ذیل ہیں:

ابو سلمہ تبوذکی، ابو الولید طیالسی، محمد بن کثیر عبدی، مسلم بن ابراہیم، ابو عمر حوضی، ابو توبہ حلبی، سلیمان بن عبدالرحمٰن دمشقی، سعید بن سلیمان واسطی، صفوان بن صالح دمشقی، ابو جعفر نفیلی، احمد، علی، یحییٰ، اسحاق، قطن بن نسیر، عبداللہ بن رجاء، احمد بن یونس، ضریر۔ (تہذیب، ج۴، ص۱۴۹، تذکرہ، ج۲، ص۱۵۲)

ابو داوؤد کے شوق علم کا یہ حال تھا کہ وہ ایک آستین کشادہ اور دوسری تنگ رکھتے تھے پوچھا گیا آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ جواب دیا کشادہ آستین کتابیں رکھنے کے لیے ہے اور دوسری آستین استعمال میں نہیں آتی اس لیے تنگ ہے۔ (تذکرہ، ج۲، ص۱۵۳)

فضل و کمال:

امام ابو ادؤد اپنے زمانہ میں علم حدیث کے عظیم ستون تھے کثرت حدیث اور علوم حدیث کی معرفت میں ان کا پایہ بہت بلند تھا۔ انہیں اپنے اقران و معاصرین پر برتری حاصل تھی چناں چہ آپ کے معاصرین اور بعد میں آنے والے علماء و محدثین نے علم حدیث میں آپ کے کمال کا اعتراف کیا ہے نیز آپ کے زہدو تقویٰ، عبادت و ریاضت عفت و پاکدامنی کی ستائش و تحسین کی ہے۔ ذیل میں ائمہ حدیث اور بعض ارباب تذکرہ کے اقوال درج کیے جاتے ہیں۔

ابن خلکان: ‘‘احد حفاظ الحدیث وعلمہ وعللہ وکان فی الدرجۃ العالیہ من النسک والصلاح’’ وہ حافظ حدیث تھے اور حدیث و علل کے جاننے والے اور عبادت و تقویٰ میں بلند درجہ پر فائز تھے۔ (وفیات الاعیان، ج۱، ص۳۸۲)

ابوبکر خلال: ‘‘ابو داؤد الا مام المقدم فی زمانہ رجل لم یسبقہ الٰی معرفتہ بتخریج العلوم ونصرہ بمواضعہ احد فی زمانہ رجل ورع مقدم’’ ابو داؤد امام اور اپنے زمانہ میں مقدم تھے کوئی ان سے علوم کی تخریج کی معرفت اور اس کے مقام پر اس کی مدد میں سبقت نہ لے گیا۔ وہ اپنے زمانہ میں یکتا اور ورع و تقویٰ میں سب سے آگے تھے۔ (تہذیب التہذیب، ج۴، ص۱۵۱)

احمد بن محمد یاسین ہروی: ‘‘کان احد حفاظ الاسلام للحدیث وعلمہ و عللہ وسندہ فی اعلیٰ درجۃ من النسک والعفاف والصلاح والورع’’ وہ حافظ حدیث تھے اور سند حدیث اور اس کی علل میں ماہر تھے اور عبادت و پاکدامنی، صلاح اور تقویٰ میں اعلیٰ درجہ پر فائز تھے۔ (ایضاً)

محمد بن اسحاق صغانی و ابرا
1👍1
ہیم حربی: ‘‘الین لابی داؤد الحدیث کما الین لداؤد علیہ السلام الحدید’’ ابوداؤد کے لیے علم حدیث کو اس طرح سہل کردیا گیا تھا جیسے حضرت داؤد علیہ السلام کے لیے لوہا ملائم کردیا گیا تھا۔ (ایضاً)

موسیٰ بن بارون: ‘‘خلق ابو داؤد فی الدنیا للحدیث وفی الآخرۃ للجنۃ’’ اللہ تعالیٰ نے ابو داؤد کو دنیا میں خدمت حدیث کے لیے اور آخرت میں جنت کے لیے پیدا کیا تھا۔ (ایضاً)

ابو حاتم بن حبان: ‘‘کان احد الائمۃ الدنیا فقھا وعلما وحفظا ونسکا وورعا و اتقاناً جمع وصنف وذب عن السنن’’ ابو داؤد علم حدیث، علم فقہ، علم و حفظ عبادت و تقویٰ پاکدامنی و خوف خدا میں دنیا والوں کے امام تھے۔ حدیثیں جمع کیں، کتابیں لکھیں اور اس کو آمیزش سے پاک کیا۔ (ایضاً)

حاکم: ‘‘ابو داؤد امام اھل الحدیث فی عصرہ بلا مدافعۃ’’ ابو داؤد اپنے زمانہ میں تمام محدثین کے بلا اختلاف امام تھے۔ (ایضاً)

موسیٰ بن ہارون: ‘‘مارایت اافضل منہ’’ میں نے ان سے افضل شخص نہیں دیکھا۔ (ایضاٍ، ص۱۵۲)

مسلمہ بن قاسم:‘‘کان ثقۃ زاھداً عارفا بالحدیث امام عصرہ فی ذلک’’ ابو داؤد، ثقہ ، زاہد، حدیث کے جاننے والے اور علم حدیث میں اپنے زمانے کے امام تھے۔ (ایضاً)

حافظ ذہبی: الامام الثبت سید الحفاظ آپ پختہ کار امام اور حفاظ حدیث کے سردار ہیں۔ (تذکرہ، ج۲، ص۱۵۲)

حلقۂ درس:

امام ابو داؤد نے جس طرح علم حدیث کی تحصیل میں کاوش و محنت کی اسی طرح احادیث کی اشاعت میں پورے اخلاص کے ساتھ کو شش کرتے رہے اس کام کے لیے انہوں نے حلقۂ درس قائم کیا جس میں طالبان علم نبوت بڑے ذوق شوق کے ساتھ شرکت کرتے اور اپنے دامن کو مالامال کرلیتے امام صاحب کا حلقۂ درس کافی وسیع تھا تلامذہ کی تعداد بے شمار ہے۔ چند اہم تلامذہ یہ ہیں:

ابو علی محمد بن احمد عمرلؤوی، ابو طیب احمد بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن اشنانی، ابو عمر و احمد بن علی بن حسن بصری، ابو سعید احمد بن محمد بن زیاد اعرابی، ابو بکر محمد بن عبدالرزاق بن داسہ، ابو الحسن علی بن حسن بن عبدانصاری، ابو عیسیٰ، اسحاق بن موسیٰ بن سعید رملی، راقہ، ابو اسماہ محمد بن عبدالملک بن یزید رواس، ابو عبداللہ محمد بن احمد بن یعقوب بصری، ابوبکر احمد بن سلیمان نجار، ابو عبیدہ محمد بن علی بن عثمان آجری، اسماعییل بن محمد مطفار، ابو عبدالرحمٰن نسائی، ابو عیسیٰ ترمذی، حرب بن اسماعیل کرمانی، زکریا ساجی، ابوبکر احمد بن محمد بن ہارون الخلال حنبلی، عبداللہ بن احمد بن موسیٰ عبدان رہوازی، ابو بشر محمد بن احمد دولابی، ابو عوانہ یعقوب بن اسحاق اسفرائنی، ابوبکر بن ابی داؤد، ابوبکر عبداللہ بن محمد بن ابی دینار، ابراہیم حمید بن ابراہیم بن یونس عاقولی، ابو حامد احمد بن جعفر اصفہانی، احمد بن معلیٰ بن یزید، دمشقی، احمد بن محمد بن یاسین ہروی، حسن بن صاحب الشاشی، حسین بن ادریس انصاری، عبداللہ بن محمد بن عبدالکریم رازی، علی بن عبدالصمد، محمد بن مخلددوری، محمد بن جعفر بن متفاض الفریابی، ابوبکر محمد بن یحییٰ صولی۔ (تہذیب، ج۴، ص۱۵)

تصانیف اور سنن ابی داؤد:

ابو داؤد صرف حدیث کے ہی مام نہ تھے بلکہ فقہ و اجتہاد اور تفسیر و کلام میں بھی کامل مہارت رکھتے تھے مختلف علوم و فنون پر متعدد تصانیف ان کی تبحر علمی اور جامعیت وکمال کابین ثبوت ہیں ان مصنفات میں کتاب السنن، کتاب المراسل، کتاب المسائل، کتاب الردعلی القدریہ، الناسخ والمنسوخ، کتاب التفرد، کتاب فضائل الانصار، مسند مالک بن انس،کتاب الزہد، دلائل النبوت، کتاب الدعاء، کتاب بدءالوحی، اخبار الخوارج، کتاب شریعۃ التفسیر، فضائل الاعمال، کتاب التفسیر، کتاب نظمالقرآن، کتاب فضائل القرآن، کتاب البعث والنشور، کتاب شریعۃ المقارئ ان تمام تصانیف میں جوکتاب شہرت و قبولیت دوام حاصل کرسکی وہ سنن ابی داؤد ہے اس کتاب کی وجہ تایف کے بارے میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں:

‘‘کان ھھتم جمع الاحادیث اللتی استدل بھا الفقھاء دارت فیھم وبنی علیھا الاحکام علماء الامصار فصنف سننہ وجمع فیھا الصحاح والحسن واللین والصالح للعمل قال ابوداؤد ماذکرت فی کتابی حدیثاً اجمع علی ترکہ وما کان منھا ضعیفا صرح بضعفہ وما کان فیہ علۃ بینھما بوجہ یعرفہ الخائض فی ھذا الشان وترجم علی کل حدیث بما قداستنبط منہ عالم وذھب الیہ ذاھب والذلک صرح الغزالی وغیرہ بان کتابہ کاف للمجتھد’’ ان کی غرض یہ تھی کہ ان احادیث کو جمع کیا جائے ہ اجن سے فقہاء نے استدلال کیا ہے اور ان میں مروج ہوئی ہیں علماء امصارنے ان پر احکام کو مبنی کیا ہے چناں چہ انہوں نے اپنی سنن تصنف کی اور اس میں صحاح، حسن، لین اور قابل عمل احادیث کو جمع کردیا۔ ابو داؤد فرماتے ہیں میں نے اپنی کتاب میں کوئی حدیث ایسی نہیں لکھی جس کے ترک پر سب کا اتفاق ہے اور جو ضعیف تھی اس کے ضعف پر صراحت کردی اور جس میں کسی طرح کی کوئی علت تھی اسے اسی طرح بیان کردیا کہ جس کو علم حدیث میں غور کرنے والا
1
خوب سمجھتا ہے اور ہر وہ حدیث جس سے کسی عالم نے کوئی مسئلہ استنباط کیا اور کسی اہل مذہب نے اس کو اختیار کیا اس پر عنوان لگا دیا یہی وجہ ہے کہ غزالی وغیرہ کی صراحت سے کہ ابو داؤد کی کتاب مجتہد کے لیے کافی ہے۔ (حجۃ اللہ البالغہ، ج۱، ص۳۶۵)

امام ابو داؤد نے اس کتاب میں پانچ لاکھ احادیث سےچار ہزار آٹھ سو احادیث کا انتخاب کیا ہے خود فرماتے ہیں ‘‘کتبت عن رسول اللہ ﷺ خمس ماۃ الف و جمعت فی کتابہ اربعۃ اٰلاف حدیث انتخبت منھا ماضمنتہ ھذا الکتاب، یعنی السنن جمعت فی کتابہ اربعۃ آلاف وثمان مائۃ حدیث ذکرت الصحیح وما یشبھہ ویقاربہ’’

خود فرماتے ہیں میں نے حضورﷺ کی پانچ لاکھ حدیثوں کو لکھا ان میں سے منتخب کرکے اپنی کتاب سنن میں چار ہزار آٹھ سو حدیثوں کو جمع کیا جو صحیح اور اس کے مشابہ و مقارن ہیں۔ (وفیات الاعیان، ج۱، ص۳۸۳)

اس کتاب کی ترتیب و تدوین کے بعد ابو داؤد نے اسے امام احمد بن حنبل کی خدمت میں پیش کیا تو انہوں نے اس سنن کو بہت پسند فرمایا۔ (بستان المحدثین، ص۱۸۱)

سنن ابی داؤد سے قبل کتب احادیث میں مسانید اور جوامع کارواج عام تھا، جس میں سنن اور احکام قصص اور مواعظ اور آداب ہر طرح کی حدیثیں شامل ہوتی تھیں۔ امام ابو داؤد نے سب سے پہلے صرف سنن میں یہ کتاب تالیف کی امت مسلمہ کے اکابر نے اسے ہر زمانے میں عقیدت کی نظر سے دیکھا اور اعتبار کیا۔

یحییٰ بن یحییٰ زکریا ساجی: ‘‘ کتاب اللہ اصل الاسلام وسنن ابی داؤد عھد الاسلام’’ اسلام کی بنیاد قرآن کریم اور اس ستون سنن ابی داؤد ہے۔ (تذکرہ، ج۲، ص۱۵۴)

ابن القیم: ‘‘امام موصوف (ابو داؤد) نے ایسی کتاب لکھی ہے جو مسلمانوں کے درمیان ثابت ہوئی اور اخلاقی مسائل میں فیصلہ کن بن گئی’’۔ (محدثین عظام، ص۹۶۹)

ابو سلمان خطابی: ‘‘قدجمع ابو داؤد فی کتابہ ھذا من الحدیث فی اصول العلم وامھات السنن واحکام الفقہ مالا نعلم متقدما ماسبقہ الیہ ولا متاخرا لحقہ فیہ وقد رزق القبول من کافۃ الناس’’۔

امام ابو داؤد نے اپنی اس سنن میں اصول امہات سنن اور احکام فقہ سے متعلق ایسی حدیثیں جمع کی ہیں کہ ہمارے علم میں نہ توکسی نے اس سے پہلے ایسا مرتب ذخیرہ جمع کیا اور نہ آج تک کوئی ان کے نقش قدم پر چل سکا۔ (معالم السنن، ج۱، ص۸)

محمد بن مخلد: ‘‘ابو داؤد نے سنن مرتب کرنے کے بعد جب لوگوں کے سامنے اس کو بیان کیا تو محدثین نے اس کو مصحف کی طرح قابل اتباع سمجھا’’۔

ابو العلاء محن کا بیان ہے کہ انہوں نے خواب میں نبئ اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ‘‘من اراد یتمسک بالسنن فلیقرأ’’ سنن ابی داؤد، سنن کی ابتاع کی آرزو رکھنے والوں کو سنن ابی داؤد کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ (تذکرۃ المحدثین، ج۱، ص۲۹۴)

ابن العربی: ‘‘دین کے مقدمات کا علم حاصل کرنے کے لیے کتاب اللہ اور سنن ابی داؤد کافی ہیں’’۔ (تذکرۃ الحفاظ، ج۱، ص۱۸۶)

خصوصیات:

ذیل میں سنن ابی داؤد کی کچھ اہم خصوصیات ذکر کی جاتی ہیں۔

۱۔ اس کتابکی امتیازی حیثیت یہ ہے کہ اس کے اندر صرف احکام و مسائل سے متعلق روایات و اخبار جمع کیے گئے ہیں۔ امام ابو داؤد سے پہلے اس قسم کی حدیث کی کتابیں لکھنے کا رواج نہ تھا۔ امام نووی کا بیان ہے کہ اپنی اسی خصوصیت کی بناپر وہ ائمہ حدیث اور علماء آثار کی توجہات کا مرکز بن گئی اور گواس تخصیص کی بنا پر وہ احادیث کے بہت سے ابواب سے خالی ہے لیکن فقہی احادیث کا جتنا بڑا ذخیرہ اس کتاب میں موجود ہے وہ صحاح ستہ کی کسی اور کتاب میں نہیں۔ حافظ ابو جعفر بن زبیر غرناطی متوفیٰ ۷۰۸ھ نے صحاح ستہ کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے ‘‘ولا بی داؤد فی حصر احآدیث الاحکام و استیعابھا مالیس لغیرہ’’ اور فقہی حدیثوں کے حصرو استیعاب کے سلسلہ میں ابو داؤد کو جو خصوصیت حاصل ہے وہ دوسرے مصنفین کو نہیں۔

۲۔ اس کتاب میں امام ابو داؤد نے اپنے علم کے مطابق زیادہ تر صحیح ترین روایات ذکر کی ہیں۔

۳۔ اگر کوئی حدیث دو صحیح طریقوں سے مروی ہو اور ان میں سے ایک طریقہ کاراوی اسناد میں مقدم ہو (یعنی اس کی سند عالی ہو) اور دوسرے طریقہ کا راوی حفظ میں بڑھا ہوا ہو تو امام ابو داؤد ایسی صورت میں پہلے طریقہ کا ذکر کردیتے ہیں۔

۴۔ بسااوقات ایک حدیث کو دو تین سندوں کے ساتھ ذکر کرتے ہیں بشرطیکہ بعض سے متن میں کچھ زیادتی ہو۔

۵۔ جو حدیث بہت طویل ہوتی ہے اسے بتامہ ذکر کردینے سے یہ خوف ہوتا ہے کہ بعض سامعین اس کی غرض کو نہ سمجھ سکیں گے ایسی صورت میں امام ابو داؤد حدیث کا اختصار کردیتے ہیں۔

۶۔ جن احادیث کی اسانید میں کوئی ضعیف ہویا اور کوئی علت خفیہ ہو اس کو امام ابو داؤد بیان کردیتے ہیں اور جس حدیث کی سند کے بارے میں امام ابو داؤد کوئی کلام نہیں کرتے وہ عام طور پر صالح للعمل ہوتی ہے۔

۷۔ عام طور پر امام صاحب نے مشہور راویتیں ذکر کی ہیں شاذ اور غریب روایات اس کتاب میں بہت کم درج ہیں۔ متروک الحدیث سے روایت نہیں کی ہے۔

۸۔ کسی حدیث میں اگر مرفوع یا
1
مرفوع یا موقوف کا اختلاف ہوتو اس کا ذکر کردیتے ہیں۔

۹۔ اگر کوئی حدیث معلل ہوتو علت خفیہ بیان کردیتے ہیں۔

۱۰۔ جو روایات منکر یا ضعف ہوں تو اس کی تصریح کردیتے ہیں۔

۱۱۔ بعض اوقات راویوں کے اسماء کنیٰ اور القاب کی وضاحت کرتے ہیں۔

۱۲۔ اس کتاب میں تکرار سے حتی الامکان گریز کیا ہے۔

حافظ ابو عبداللہ محمد بن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ امام ابو داؤد نے اپنی اس کتاب میں احادیث درج کرنے کے لیے یہ شرط مقرر کی ہے وہ احادیث متصل السند اور صحیح ہوں اور وہ احادیث ایسے راویوں سے مروی ہوں جن کے ترک پر اجماع نہ ہوا ہو۔ اور علامہ خطابی لکھتے ہیں کہ ابو داؤد کی کتاب صحیح اور حسن دونوں قسم کی احادیث کی جامع ہے اور ان کی اس کتاب میں احادیث سقیمہ سے مقلوب اور مجہول روایات اصلاً نہیں ہیں۔ (مقدمۃ التعلیق الممجد، ص۴)

اخلاق و کردار:

امام ابو داؤد علم و فن ممتاز ہونے کے ساتھ سیرت و کردار کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز تھے۔ زہدو تقویٰ، عبادت و ریاضت، جاہ و منصب سے اجتناب آپ کا شیوہ تھا۔ یٰسین ہروی فرماتے ہیں:

‘‘وہ بے مثال عالم و حافظ ہونے کے علاوہ عبادت و ریاضت، عفت و پاکدامنی خیر و صلاح ورع و تقویٰ میں بھی منفرد خصوصیات کے مالک تھے۔’’ (تہذیب التہذیب، ج۴، ص۱۵۱)

آداب شریعت کی پابندی اور سنت نبوی کے اتباع کا خاص اہتمام تھا ان کی امامت حدیث اور شان عبادت دیکھ کر موسیٰ بن ہارون نے کہا:

‘‘خلق ابو داؤد فی الدنیا للحدیث وفی الاخرۃ للجنۃ’’

امام ابو داؤد دنیا میں خدمت حدیث اور آخرت میں جنت کے لیے پید اکیے گئے ہیں۔ (ایضاً)

امام صاحب دنیا اور لذائذ دنیا سے بے پرواہ تھے امراء سلاطین کی ہر گز پرواہ نہ رکتے بلکہ ان کے نارو امطالبات کو ان کے رو برو رد کردیتے۔ ایک دن امیر ابو احمد موقف آپ کے پاس آیا اور کہا میں تین درخواستیں لے کر حاضر ہوا ہوں ایک تو یہ کہ آپ بصرہ میں مستقل قیام فرمائیں تاکہ مختلف مقامات کے طالبان حدیث آپ سے استفادہ کرسکیں۔ دوسرے میرے بچوں کو سنن کی تعلیم دیں تیسرے روایت اور درس حدیث کے حلقوں میں میرے بچوں کے لیے مخصوص نشست کا اہتمام فرمادیں۔ امام صاحب نے فرمایا کہ کہ پہلی دونوں باتیں مناسب ہیں لیکن تیسری بات ناممکن ہے علم کے معاملے میں تشریف ووضیع اعلیٰ و ادنیٰ سب برابر ہیں اس لیے کوئی امتیاز نہیں برتا جاسکتا چناں چہ امیر کے لڑکے عام لوگوں کی طرح حلقۂ درس میں شریک ہوکر سماع حدیث کرتے۔ (دیباچہ غایۃ المقصود)

وفات:
آپ کی وفات ۱۶ شوال بروز جمعہ ۲۷۵ھ ۷۳ سال کی عمر میں ہوئی ۔ عباس بن عبد الواحد نے نماز جنازہ پڑھائی ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedi-abu-dawood-suleman-sajistan
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
قائد اہلسنت، قائد ملت اسلامیہ، حضرت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: علامہ شاہ احمد نورانی صدّیقی ۔ القابات: قائدِ اہلِ سنّت ، قائدِ ملّتِ اسلامیہ، امامِ انقلاب، مجاہدِ اسلام، حق و صداقت کی نشانی، غازیِ ختم نبوّت، عالمی مبلغ اسلام، یاد گارِ اسلاف ۔

سلسلۂ نسب:
علامہ شاہ احمد نورانی بن شیخ الاسلام مولانا عبد العلیم صدّیقی بن شاہ عبد الحکیم صدّیقی (علیہم الرحمۃ) ۔

آپ کا سلسلۂ نسب 39 واسطوں سے خلیفۂ اوّل حضرت سیّدنا صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ملتا ہے ۔ آپ کی والدۂ محترمہ بھی صدّیقی تھیں ۔ اس لحاظ سے آپ نجیب الطرفین ’’ صدّیقی ‘‘ ہیں ۔

تاریخِ ولادت:
آپ 17 رمضان المبارک 1344ھ، بمطابق یکم اپریل 1926ء کو محلّہ مشائخاں ’’ میرٹھ ‘‘ ہندوستان میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
علامہ شاہ احمد نورانی صدّیقی نے آٹھ سال کی عمر میں قرآنِ پاک حفظ کرلیا تھا۔ حفظِ قرآن کے بعد ثانوی تعلیم کے لیے ایسے اسکول میں داخلہ لیا جہاں ذریعۂ تعلیم عربی تھی ۔ عربک کالج میرٹھ سے بھی ڈگریاں حاصل کیں ۔ درسِ نظامی کی کتبِ متداولہ مدرسۂ اسلامیہ قومیہ میرٹھ میں استاذ العلماء امام النحو حضرت علامہ مولانا سیّد غلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمۃ سے پڑھیں ۔

دستار بندی کے موقع پر ایک پُر وقار تقریب کا انعقاد ہوا جس میں آپ کے استادِ محترم حضرت علامہ مولانا سیّد غلام جیلانی میرٹھی، آپ کے والدِ ماجد مولانا شاہ عبدالعلیم صدّیقی قادری اور صدر الافاضل مولانا سیّد نعیم الدین مراد آبادی کے علاوہ شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حضرت مولانا شاہ مصطفیٰ رضا خاں (علیہم الرحمہ) بھی مسند افروز تھے ۔

آپ پاکستان کے واحد سیاست دان تھے جن کو سترہ زبانوں پر عبور حاصل تھا۔

بیعت و خلافت:
عالمی مبلغِ اسلام خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا شاہ عبد العلیم صدّیقی کے مرید و خلیفہ اور جانشینِ صادق تھے، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت قطبِ مدینہ شاہ ضیاء الدین احمد قادری مدنی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے بھی آپ کو خلافت حاصل تھی ۔

سیرت و خصائص:
قائدِ اہلِ سنّت، قائدِ ملتِ اسلامیہ، امام ِانقلاب ، مجاہدِ اسلام، حق و صداقت کی نشانی، غازیِ ختمِ نبوّت، عالمی مبلغ اسلام، یاد گارِ اسلاف، نابغۂٔ روزگار، خاندانِ صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے رجلِ رشید حضرت علامہ مولانا امام الشاہ احمد نورانی صدّیقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ اسمِ بامسمّٰی تھے ۔ آپ اپنےنام کی طرح قول و عمل اورسیرت و کردار کے بھی نورانی تھے ۔ آپ جامع الکمالات اور جامع الصفات شخصیت کے مالک تھے ۔ قرآنِ حکیم و قصیدۂ بُردہ شریف اور دلائل الخیرات و حزب البحر کے عامل، شیخِ کامل، سادہ طبیعت، نرم مزاج، دھیمی آواز، شیریں گفتار، گورا رنگ، باریک ہونٹ، نورانی چہرہ ، سنّتِ نبوی سے آراستہ، اخلاقِ مصطفوی ﷺ کے پیکر، اخلاص کی جیتی جاگتی تصویر، مہمان نواز، غریب پرور، متوکّل، خوفِ خدا و عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے سر شار، مدبّرانہ سوچ ، قائدانہ صلاحتیوں سے ممتاز تھے ۔

اقلیمِ سیاست کے ایک ایسے عظیم کردار تھے کہ اصول پسندی، حق گوئی و بے باکی اور جرأت ان کا نشان تھا ۔ شخصی حکمرانی ہو یا فوجی آمروں کی من مانیاں، علامہ نے ایک بااصول، راست گو، نڈر سیاسی مدبّر اور قائد کی صورت میں نہ صرف کلمۂ حق ادا کیا بلکہ اس کے لیے ہر طرح کی صعوبت و مشکل برداشت کی ۔ مولانا دنیائے اسلام میں کلمۂ حق بلند کرنے والے کی حیثیت سے ہمیشہ زندہ و جاوید رہیں گے۔ آپ نے دنیاکے کونے کونے میں اسلام کا پیغامِ ہدایت پہنچایا اور ہزاروں بلکہ لاکھوں گم گشتگانِ راہ کو صراطِ مستقیم دکھائی ۔

آپ کی تبلیغ سے لاکھوں غیر مسلموں نے دولتِ اسلام سے اپنا دامن بھرا جن میں پادری، راہب، وکلا، انجینئرز، ڈاکٹرز اور دیگر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے لوگ شامل ہیں۔ وہ زیرک سیاست دان، علومِ قدیم و جدید کے ماہر، درویش صفت، متوکّل فقیر کے علاوہ شیخ طریقت بھی تھے، لیکن وہ روایتی پیر نہیں تھے۔ اپنی نمائش وشہرت کے سخت مخالف تھے۔ اپنی نمائش کے لیے انہوں نے کبھی بھی کوئی راہ ہموار نہیں کی۔ ہمیشہ کسر ِنفسی، عاجزی، تواضع و سادگی سے کام لیتے تھے۔ اپنی دینی کاوشوں کو چھپاتے رہتے تھے۔ کسی کے زورداراصرار کے بعد بیعت میں لیتے تھے، لیکن پھر بھی اس سے شریعتِ مطہرہ پر سختی سے پابندی کا عہد لیتے تھے ۔
1
ہر دور و عہد میں مولانا کو وزارت، گورنری اور پلاٹ پرمٹ کی پیش کش ہوئی۔ اقتدار کی لونڈی نے باربار چوکھٹ پر دستک دی لیکن آپ نے کمالِ استقلال سے ہر بار پیش کش ٹھکرادی۔ کچھی میمن مسجد صدر سے متصل ماسٹر ہاؤس کے ایک پرانے معمولی اور کرائے کے فلیٹ میں پوری زندگی درویشانہ بسر کی ۔ 
             ؎
لوگ کیا کیا بِک گئے تو نے نہیں بیچے اُصول
تیرے دامن کو بہت ہے دولتِ عشقِ رسولﷺ

آپ ملکی و بین الاقوامی بہت سے اداروں اور تنظیموں کے بانی تھے، جن میں سے ایک دعوتِ اسلامی بھی ہے ۔ آپ نابغۂ روز گار شخصیت کے مالک تھے۔ آپ کی شخصیت کا ہر پہلو روشن اور شان دار ہے اور ہر ایک وسعت کا متقاضی ہے ۔

وصال:
قائدِ اہلِ سنّت علامہ شاہ احمد نورانی صدّیقی نے 16 شوّال 1424ھ مطابق 11 دسمبر 2003ء بروزِ جمعرات اسلام آباد میں بارہ بج کر بیس منٹ پر دوپہر کو 80 سال کی عمر میں انتقال کیا۔آپ کی قبرِ انور حضرت عبد اللہ شاہ غازی علیہ الرحمۃ کے مزارکے احاطے میں ہے۔

ماخذ و مراجع:
اَنوارِ علمائے اہلِ سنّت (سندھ) تعارف علمائے اہلِ سنّت ، روشن دریچے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-shah-ahmed-noorani-siddiqui
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1