🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-10-1444 ᴴ | 06-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-10-1444 ᴴ | 06-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
نبیرۂ بیہقی وقت، علامہ مفتی محمد اکرام المحسن فیضی رحمۃ اللہ تعالی علیہ
عالم،فاضل، مصنف،محقق، صاحبِ اوصافِ حمیدہ ، نبیرۂ بیہقیِ وقت حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اکرام المحسن فیضی زید علمہ وشرفہ۔اللہ جل شانہ نے آپ کو قلیل عمر میں علم وفضل کے شرف سےہمکنار فرمایاہے۔آپ کاخاندان علم وفضل،تقویٰ وشرافت کےلحاظ سےہرزمانےمیں ممتاز رہاہے۔
خاندانی شجرہ اس طرح ہے:
مفتی محمد اکرام المحسن فیضی زید مجدہ بن استاذ العلماء مناظر اسلام حضرت علامہ مفتی محمد محسن فیضی مدظلہ العالی بن امام المناظرین ،شیخ القرآن ، بیہقیِ وقت علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی بن استاذ الاساتذہ عارف باللہ حضرت علامہ مولاناپیرمحمد ظریف فیضی بن استاذ العلماء عارف کامل علامہ مولانا الہی بخش قادری بن مولانا حاجی پیربخش علیہم الرحمۃ والرضوان۔
آپ کی ولادت باسعادت 16/شوال المکرم 1405ھ،مطابق 5/جولائی 1985ء کوتحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور میں شیخ القرآن علامہ مفتی منظوراحمد فیضی رحمہ اللہ تعالی کے گھر پر ہوئی۔جب چارسال،چار ماہ،چار دن کی عمر کو پہنچےتو 12/ربیع الاول شریف کےمبارک دن کےموقع پر سندیلہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان میں قدوۃ السالکین ،زبدۃ العارفین ،جانشین حضرت شاہجمالی کریم قلندر وقت ،غوث زماں حضرت علامہ مولانا پیر خواجہ غلام یسین شاہجمالی علیہ الرحمہ نےرسم بسم اللہ اورفاتحہ شریف پڑھائی اوراسی وقت بیعت بھی فرمالیا۔پھر جد امجد علامہ پیر محمد ظریف فیضی علیہ الرحمہ ودیگر قراء کرام سےجامعہ فیضیہ رضویہ نوانی جامع مسجد احمد پور شرقیہ میں قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی۔
جد امجد علامہ پیرمحمد ظریف فیضی علیہ الرحمہ کے وصال ۱۴۱۵ھ/۱۹۹۵ء کے بعد حضرت بیہقی وقت رحمہ اللہ تعالی نے اپنے شاگرد کے شاگرد استاذ العلماء محقق اہل سنت حضرت علامہ مفتی عبدالمجید سعیدی مدظلہ العالی کے پاس بھیجا جہاں آپ ۲۰۰۱ء/۱۴۲۱ھ تک رہے اورابتدائی کتب سےلیکر درجہ سادسہ تک مکمل کتب آپ کے پاس پڑھیں۔
مفتی صاحب کی زیرنگرانی افتاءکی مشق ،اوربالخصوص علم المیراث میں مہارت حاصل کی۔زمانۂ طالب علمی میں میراث کےفتاویٰ جات آپ تحریرکرتے۔
کچھ عرصہ ذاتی طور پر شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اقبال سعیدی علیہ الرحمہ کےہاں اکتساب ِ علم کیا۔
۲۰۰۲ء/۱۴۲۲ھ میں جدبزرگوار بیہقی وقت علامہ مفتی منظور احمد فیضی رحمہ اللہ جامعۃ المدینہ گلستان جوہر کراچی بطور شیخ الحدیث تشریف لائے تو آپ کو بھی ساتھ لےگئے جہاں درجہ سادسہ میں داخلہ لیا اپنے جد امجد رحمہ اللہ ودیگر اساتذہ سے علوم کی تکمیل کی نیز دورہ حدیث اپنے جد امجد بیہقی وقت ودیگر اساتذہ سے پڑھا اور25/نومبر ۲۰۰۴ء /۱۰ شوال المکرم ۱۴۲۴ھ عالمی مرکز فیضان مدینہ کراچی میں دستارِ فضیلت سے نوازے گئے ۔بعدازفراغت درسِ نظامی حضرت بیہقیِ وقت سے دوبارہ صحاح ستہ ومشکوٰۃ شریف،وکتب تصوف سبع سنابل وغیرہ سبقاً پڑھیں نیز حضرت بیہقیِ وقت سے ہی تخصص فی الفقہ کیا۔جس میں شامی،رسم المفتی،الاشباہ والنظائر وغیرہ کتب شامل تھیں نیز ان کی زیر نگرانی فتاوی جاری کئے ۔
1421ھ رمضان المبارک میں جامعہ رضویہ مصباح القرآن ملتان میں دورۂ تفسیر،1423ھ،میں دارلعلوم امجدیہ کراچی دورۂ ختمِ نبوت حضرت علیہ الرحمہ سےپڑھا۔2004ءمیں شہادۃ العالمیہ فی العلوم العربیہ والاسلامیہ تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان کے امتحان میں کامیابی حاصل کی ۔علم التجوید و مقدمہ جزری وغیرہ کتب تجوید پڑھ کر زینت القراء قاری غلام رسول لاہوری رحمہ اللہ سے تجوید کی سند حاصل کی ۔
2005ء میں دارالعلوم برکاتیہ کراچی جب آپ کے جد امجد بیہقی وقت رحمہ اللہ نے کچھ عرصہ حدیث شریف پڑھائی تو آپ کو اپنے ساتھ مدرس مقرر فرمایا اور ابن ماجہ وموطا امام محمد کے اسباق آپ کے سپرد کئے ۔اس کےبعد جامعہ فیضیہ رضویہ احمد پورشرقیہ میں جد امجد علیہ الرحمہ کے ساتھ دورہ حدیث وموقوف علیہ کادرس دیا ۔
2006 میں دارالافتاء اہلسنت کنزالایمان مسجد کراچی میں حضرت علامہ مفتی محمد قاسم قادری مدظلہ العالی کی نگرانی میں افتاء کےفرائض انجام دئیے۔2006ء میں انجمن ضیاء طیبہ کھارادرکراچی میں افتاء،وتحقیق کےشعبے سےوابستہ ہوئے۔ماشاءا للہ اس وقت انجمن ضیاء طیبہ میں رئیس دارالافتاء،اورانتظامی امورمیں سرپرستِ اعلیٰ ہیں۔ادارہ آپ کےزیرسرپرستی ترقی کی منازل طےکررہاہے۔نیز جامعہ فیضیہ رضویہ فیض الاسلام کے جملہ امور کا انتظام و انصرام و نگرانی بھی کررہے ہیں اسی طرح مدارس کی تعطیلات کےموقع پر جامعہ فیضیہ رضویہ فیض الاسلام احمد پور شرقیہ سالانہ دورہ تفسیر وتجوید وتصوف کا اہتمام کرتے ہیں بلکہ خود بھی تدریسی فرائض سرانجام دیتے ہیں ۔
2007ء میں دورۂ تصوف دارالمصطفیٰ تریم یمن میں شرکت کی جہاں تصوف کی مشہور کتاب عوارف المعارف کادرس علامہ سید حبیب عمر بن حفیظ ،فقہ مقارن کا درس مفتی تریم علامہ حبیب علی مشہور سے لیا اور سند حاصل کی ۔
آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں حضرت پیر خواجہ غلام یسین شاہجم
عالم،فاضل، مصنف،محقق، صاحبِ اوصافِ حمیدہ ، نبیرۂ بیہقیِ وقت حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اکرام المحسن فیضی زید علمہ وشرفہ۔اللہ جل شانہ نے آپ کو قلیل عمر میں علم وفضل کے شرف سےہمکنار فرمایاہے۔آپ کاخاندان علم وفضل،تقویٰ وشرافت کےلحاظ سےہرزمانےمیں ممتاز رہاہے۔
خاندانی شجرہ اس طرح ہے:
مفتی محمد اکرام المحسن فیضی زید مجدہ بن استاذ العلماء مناظر اسلام حضرت علامہ مفتی محمد محسن فیضی مدظلہ العالی بن امام المناظرین ،شیخ القرآن ، بیہقیِ وقت علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی بن استاذ الاساتذہ عارف باللہ حضرت علامہ مولاناپیرمحمد ظریف فیضی بن استاذ العلماء عارف کامل علامہ مولانا الہی بخش قادری بن مولانا حاجی پیربخش علیہم الرحمۃ والرضوان۔
آپ کی ولادت باسعادت 16/شوال المکرم 1405ھ،مطابق 5/جولائی 1985ء کوتحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور میں شیخ القرآن علامہ مفتی منظوراحمد فیضی رحمہ اللہ تعالی کے گھر پر ہوئی۔جب چارسال،چار ماہ،چار دن کی عمر کو پہنچےتو 12/ربیع الاول شریف کےمبارک دن کےموقع پر سندیلہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان میں قدوۃ السالکین ،زبدۃ العارفین ،جانشین حضرت شاہجمالی کریم قلندر وقت ،غوث زماں حضرت علامہ مولانا پیر خواجہ غلام یسین شاہجمالی علیہ الرحمہ نےرسم بسم اللہ اورفاتحہ شریف پڑھائی اوراسی وقت بیعت بھی فرمالیا۔پھر جد امجد علامہ پیر محمد ظریف فیضی علیہ الرحمہ ودیگر قراء کرام سےجامعہ فیضیہ رضویہ نوانی جامع مسجد احمد پور شرقیہ میں قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی۔
جد امجد علامہ پیرمحمد ظریف فیضی علیہ الرحمہ کے وصال ۱۴۱۵ھ/۱۹۹۵ء کے بعد حضرت بیہقی وقت رحمہ اللہ تعالی نے اپنے شاگرد کے شاگرد استاذ العلماء محقق اہل سنت حضرت علامہ مفتی عبدالمجید سعیدی مدظلہ العالی کے پاس بھیجا جہاں آپ ۲۰۰۱ء/۱۴۲۱ھ تک رہے اورابتدائی کتب سےلیکر درجہ سادسہ تک مکمل کتب آپ کے پاس پڑھیں۔
مفتی صاحب کی زیرنگرانی افتاءکی مشق ،اوربالخصوص علم المیراث میں مہارت حاصل کی۔زمانۂ طالب علمی میں میراث کےفتاویٰ جات آپ تحریرکرتے۔
کچھ عرصہ ذاتی طور پر شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اقبال سعیدی علیہ الرحمہ کےہاں اکتساب ِ علم کیا۔
۲۰۰۲ء/۱۴۲۲ھ میں جدبزرگوار بیہقی وقت علامہ مفتی منظور احمد فیضی رحمہ اللہ جامعۃ المدینہ گلستان جوہر کراچی بطور شیخ الحدیث تشریف لائے تو آپ کو بھی ساتھ لےگئے جہاں درجہ سادسہ میں داخلہ لیا اپنے جد امجد رحمہ اللہ ودیگر اساتذہ سے علوم کی تکمیل کی نیز دورہ حدیث اپنے جد امجد بیہقی وقت ودیگر اساتذہ سے پڑھا اور25/نومبر ۲۰۰۴ء /۱۰ شوال المکرم ۱۴۲۴ھ عالمی مرکز فیضان مدینہ کراچی میں دستارِ فضیلت سے نوازے گئے ۔بعدازفراغت درسِ نظامی حضرت بیہقیِ وقت سے دوبارہ صحاح ستہ ومشکوٰۃ شریف،وکتب تصوف سبع سنابل وغیرہ سبقاً پڑھیں نیز حضرت بیہقیِ وقت سے ہی تخصص فی الفقہ کیا۔جس میں شامی،رسم المفتی،الاشباہ والنظائر وغیرہ کتب شامل تھیں نیز ان کی زیر نگرانی فتاوی جاری کئے ۔
1421ھ رمضان المبارک میں جامعہ رضویہ مصباح القرآن ملتان میں دورۂ تفسیر،1423ھ،میں دارلعلوم امجدیہ کراچی دورۂ ختمِ نبوت حضرت علیہ الرحمہ سےپڑھا۔2004ءمیں شہادۃ العالمیہ فی العلوم العربیہ والاسلامیہ تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان کے امتحان میں کامیابی حاصل کی ۔علم التجوید و مقدمہ جزری وغیرہ کتب تجوید پڑھ کر زینت القراء قاری غلام رسول لاہوری رحمہ اللہ سے تجوید کی سند حاصل کی ۔
2005ء میں دارالعلوم برکاتیہ کراچی جب آپ کے جد امجد بیہقی وقت رحمہ اللہ نے کچھ عرصہ حدیث شریف پڑھائی تو آپ کو اپنے ساتھ مدرس مقرر فرمایا اور ابن ماجہ وموطا امام محمد کے اسباق آپ کے سپرد کئے ۔اس کےبعد جامعہ فیضیہ رضویہ احمد پورشرقیہ میں جد امجد علیہ الرحمہ کے ساتھ دورہ حدیث وموقوف علیہ کادرس دیا ۔
2006 میں دارالافتاء اہلسنت کنزالایمان مسجد کراچی میں حضرت علامہ مفتی محمد قاسم قادری مدظلہ العالی کی نگرانی میں افتاء کےفرائض انجام دئیے۔2006ء میں انجمن ضیاء طیبہ کھارادرکراچی میں افتاء،وتحقیق کےشعبے سےوابستہ ہوئے۔ماشاءا للہ اس وقت انجمن ضیاء طیبہ میں رئیس دارالافتاء،اورانتظامی امورمیں سرپرستِ اعلیٰ ہیں۔ادارہ آپ کےزیرسرپرستی ترقی کی منازل طےکررہاہے۔نیز جامعہ فیضیہ رضویہ فیض الاسلام کے جملہ امور کا انتظام و انصرام و نگرانی بھی کررہے ہیں اسی طرح مدارس کی تعطیلات کےموقع پر جامعہ فیضیہ رضویہ فیض الاسلام احمد پور شرقیہ سالانہ دورہ تفسیر وتجوید وتصوف کا اہتمام کرتے ہیں بلکہ خود بھی تدریسی فرائض سرانجام دیتے ہیں ۔
2007ء میں دورۂ تصوف دارالمصطفیٰ تریم یمن میں شرکت کی جہاں تصوف کی مشہور کتاب عوارف المعارف کادرس علامہ سید حبیب عمر بن حفیظ ،فقہ مقارن کا درس مفتی تریم علامہ حبیب علی مشہور سے لیا اور سند حاصل کی ۔
آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں حضرت پیر خواجہ غلام یسین شاہجم
❤1
الی علیہ الرحمہ سےبیعت ہیں۔آپ کو عرب و عجم کے نامورعلماء ومشائخ نے اجازت وخلافت نیز علوم و سلاسل وحدیث وتفسیر وفقہ کی اسناد عطا فرمائیں۔
پاک وہند کےبزرگوں میں آپ کے جد امجد بیہقیِ وقت حضرت علامہ مفتی منظور احمد فیضی علیہ الرحمہ نےمدینہ منورہ میں خلافت و اجازت نیز اعمال واشغال علوم اسلامیہ ،حدیث وتفسیر وفقہ وغیرہ کی اجازت عطا فرمائی ۔نیز نبیرۂ اعلیٰ حضرت تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد اختر رضاخان الازہری رحمہ اللہ تعالی ،جگر گوشہ حضور شاہجمالی کریم پیر طریقت حضرت خواجہ پیر محمد اکرم شاہجمالی رحمہ اللہ تعالی ،جگر گوشہ حضور شاہجمالی کریم پیر طریقت حضرت خواجہ پیر محمد اعظم شاہجمالی رحمہ اللہ تعالی، شیخ الاسلام جانشین محدث اعظم ہند حضرت علامہ سید محمدمدنی میاں اشرفی جیلانی مدظلہ العالی ، شرف ملت علامہ عبدالحکیم شرف قادری رحمہ اللہ تعالی وغیرہم نے معقول ومنقول وحدیث وسلاسل طریقت کی اجازت و خلافت و اسناد عطا فرمائیں ۔
نیز مدینہ منورہ کے شیخ سید مالک سنوسی رحمہ اللہ ،شیخ حبیب زین سمیط باعلوی ،مکہ مکرمہ کے محدث علامہ سید حامد بن علوی کاف رحمہ اللہ ،شیخ سید عباس علوی مالکی مکی رحمہ اللہ ،مفتی شافعیہ شیخ سیداحمد رقیمی مکی ، محدث احساء علامہ سید ابرہیم خلیفہ حسنی،علامہ مفسر محمد علی صابونی وغیرہم
نیز شام کے قطب علامہ شیخ سید محمد فاتح کتانی،علامہ شیخ عبداللطیف صالح فرفوررحمہ اللہ ،جامع اموی کے امام و خطیب شیخ نزار بن محمد خطیب رحمہ اللہ ،شام کے مورخ جلیل شیخ محمد مطیع الحافظ،شیخ عدنان مجد دمشقی ،شیخ محمد عربی دغلی رحمہ اللہ وغیرہم
نیز مصر کے سابق مفتی اعظم و جامعۃ الازہر کے شیخ علی جمعہ شاذلی ،محدث مصر شیخ محمد ابراہیم عبدالباعث کتانی ،علماء ازہر کے شیخ شیخ معوض عوض ابراہیم ،شیخ عبد الرحیم جاد بدرالدین رحمہ اللہ،شیخ صلاح الدین تجانی ،شیخ رفعت فوزی عبدالمطلب،شیخ احمد محمد حافظ تیجانی رحمہ اللہ تعالی وغیرہم
نیزیمن کے علماء میں دارالمصطفی تریم کے مہتمم عظیم مبلغ اسلام شیخ حبیب عمر بن محمد بن سالم حفیظ ،مفتی تریم شیخ حبیب علی مشہور،حضرموت کے علماء کے سرتاج شیخ حبیب سالم شاطری رحمہ اللہ تعالی ،علامہ شیخ حبیب احمد بن علوی حبشی رحمہ اللہ ،شیخ محمد بن علوی عید روس باعلوی رحمہ اللہ ،شیخ عبدالرحمن بن علوی حبشی رحمہ اللہ وغیرہم
نیز مراکش کے شیخ سید عبدالرحمن بن شیخ عبدالحی کتانی ،شیخ سید ادریس بن محمد بن جعفر کتانی،محدث مراکش شیخ عبداللہ بن عبدالقادرتلیدی ،شیخ محمد بن حماد صقلی رحمہ اللہ ،شیخ محمد یوسف کتانی رحمہ اللہ وغیرہم
ترکی استنبول کی قدیم جامع مسجد الفاتح کے مدرس نیز علامہ کوثری کے تلمیذ رشید علامہ شیخ امین سراج حنفی، کویت کے سابق وزیر اوقاف علامہ شیخ سید یوسف ہاشم رفاعی رحمہ اللہ ، مفتی اعظم عراق شیخ سید رافع طہ رفاعی،امام اعظم ابوحنیفہ کے دربار سے متصل جامع امام اعظم اعظمیہ بغداد کے خطیب مجمع الفقہ العراقی کے سربراہ علامہ احمد حسن طہ ،نیز مجمع الفقہ العراقی بغداد عراق کے ہی علامہ محمد محروس مدرس اعظمی حنفی ،اردن کے شیخ معمر یوسف عمر عتوم جرشی رحمہ اللہ ،افغانستان کے علامہ شیخ عبید اللہ جانفداء نقیبی نہرکاریزی،جزائر کے شیخ معمر طاہر آیت عجلت، نیجیریا کے مفتی اعظم شیخ ابراہیم صالح حسینی ،انڈونیشیا کے شیخ حبیب علی بن محمد حداد ،لیبیا کے شیخ عبدالسلام بزنطی وغیرہم نے اپنی اسناد و اجازات سے نوازا ۔
سنی صحیح العقیدہ علماء عرب سے آپ کے گہرے روابط ہیں اور وہاں کے سنی علماءنے بھی آپ سے اجازتیں حاصل کیں ۔
ماشاء اللہ مفتی صاحب ِقلم آدمی ہیں،عربی، اردوپر مہارت رکھتےہیں،کئی عربی رسائل و کتب کےاردو زبان میں ترجمہ کرچکےہیں،ہنوز تالیف کا سلسلہ جاری ہے۔اللہ تعالی اور ترقی اور قلم میں برکت عطاء فرمائے۔مفتی صاحب،صاحبِ ذوق شخصیت کے مالک ہیں،خشک مولوی،اورجاہل وبےعمل پیروں سےدور رہناپسند کرتےہیں۔تصنع وبناوٹ،ریاء تفاخر سےکوسوں دور ،اورہرمعاملےمیں سادگی پسند ہیں،البرکۃ مع اکابرکم پرعمل پیراہوکر زمانےکے رسمی تکلفات ومعاملات سے بےنیاز،اورخلوص وعاجزی کی مثال ہیں۔
تالیفات :
القول القوی فی امامۃ الصبی
النور والضیاء فی امامۃ النساء
بیہقی وقت
12 ربیع الاول تاریخ ولادت یا وفات
ذاکر نائیک کی یزید سے محبت
ڈاکٹر اسرار کی حضرت علی سے دشمنی
تین اہم فتاوی
امیر المومنین فی الحدیث کون ؟
تقاریظ رضا بر تصانیف اہل صفا 3جلد
محفل میلاد اور علماء عرب 2 جلد
علی سے پوچھ کتنا عظیم ہے صدیق
امام احمد رضا اور عقیدہ توحید
امام احمد رضا اور کتانی علماء
پاک وہند کےبزرگوں میں آپ کے جد امجد بیہقیِ وقت حضرت علامہ مفتی منظور احمد فیضی علیہ الرحمہ نےمدینہ منورہ میں خلافت و اجازت نیز اعمال واشغال علوم اسلامیہ ،حدیث وتفسیر وفقہ وغیرہ کی اجازت عطا فرمائی ۔نیز نبیرۂ اعلیٰ حضرت تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد اختر رضاخان الازہری رحمہ اللہ تعالی ،جگر گوشہ حضور شاہجمالی کریم پیر طریقت حضرت خواجہ پیر محمد اکرم شاہجمالی رحمہ اللہ تعالی ،جگر گوشہ حضور شاہجمالی کریم پیر طریقت حضرت خواجہ پیر محمد اعظم شاہجمالی رحمہ اللہ تعالی، شیخ الاسلام جانشین محدث اعظم ہند حضرت علامہ سید محمدمدنی میاں اشرفی جیلانی مدظلہ العالی ، شرف ملت علامہ عبدالحکیم شرف قادری رحمہ اللہ تعالی وغیرہم نے معقول ومنقول وحدیث وسلاسل طریقت کی اجازت و خلافت و اسناد عطا فرمائیں ۔
نیز مدینہ منورہ کے شیخ سید مالک سنوسی رحمہ اللہ ،شیخ حبیب زین سمیط باعلوی ،مکہ مکرمہ کے محدث علامہ سید حامد بن علوی کاف رحمہ اللہ ،شیخ سید عباس علوی مالکی مکی رحمہ اللہ ،مفتی شافعیہ شیخ سیداحمد رقیمی مکی ، محدث احساء علامہ سید ابرہیم خلیفہ حسنی،علامہ مفسر محمد علی صابونی وغیرہم
نیز شام کے قطب علامہ شیخ سید محمد فاتح کتانی،علامہ شیخ عبداللطیف صالح فرفوررحمہ اللہ ،جامع اموی کے امام و خطیب شیخ نزار بن محمد خطیب رحمہ اللہ ،شام کے مورخ جلیل شیخ محمد مطیع الحافظ،شیخ عدنان مجد دمشقی ،شیخ محمد عربی دغلی رحمہ اللہ وغیرہم
نیز مصر کے سابق مفتی اعظم و جامعۃ الازہر کے شیخ علی جمعہ شاذلی ،محدث مصر شیخ محمد ابراہیم عبدالباعث کتانی ،علماء ازہر کے شیخ شیخ معوض عوض ابراہیم ،شیخ عبد الرحیم جاد بدرالدین رحمہ اللہ،شیخ صلاح الدین تجانی ،شیخ رفعت فوزی عبدالمطلب،شیخ احمد محمد حافظ تیجانی رحمہ اللہ تعالی وغیرہم
نیزیمن کے علماء میں دارالمصطفی تریم کے مہتمم عظیم مبلغ اسلام شیخ حبیب عمر بن محمد بن سالم حفیظ ،مفتی تریم شیخ حبیب علی مشہور،حضرموت کے علماء کے سرتاج شیخ حبیب سالم شاطری رحمہ اللہ تعالی ،علامہ شیخ حبیب احمد بن علوی حبشی رحمہ اللہ ،شیخ محمد بن علوی عید روس باعلوی رحمہ اللہ ،شیخ عبدالرحمن بن علوی حبشی رحمہ اللہ وغیرہم
نیز مراکش کے شیخ سید عبدالرحمن بن شیخ عبدالحی کتانی ،شیخ سید ادریس بن محمد بن جعفر کتانی،محدث مراکش شیخ عبداللہ بن عبدالقادرتلیدی ،شیخ محمد بن حماد صقلی رحمہ اللہ ،شیخ محمد یوسف کتانی رحمہ اللہ وغیرہم
ترکی استنبول کی قدیم جامع مسجد الفاتح کے مدرس نیز علامہ کوثری کے تلمیذ رشید علامہ شیخ امین سراج حنفی، کویت کے سابق وزیر اوقاف علامہ شیخ سید یوسف ہاشم رفاعی رحمہ اللہ ، مفتی اعظم عراق شیخ سید رافع طہ رفاعی،امام اعظم ابوحنیفہ کے دربار سے متصل جامع امام اعظم اعظمیہ بغداد کے خطیب مجمع الفقہ العراقی کے سربراہ علامہ احمد حسن طہ ،نیز مجمع الفقہ العراقی بغداد عراق کے ہی علامہ محمد محروس مدرس اعظمی حنفی ،اردن کے شیخ معمر یوسف عمر عتوم جرشی رحمہ اللہ ،افغانستان کے علامہ شیخ عبید اللہ جانفداء نقیبی نہرکاریزی،جزائر کے شیخ معمر طاہر آیت عجلت، نیجیریا کے مفتی اعظم شیخ ابراہیم صالح حسینی ،انڈونیشیا کے شیخ حبیب علی بن محمد حداد ،لیبیا کے شیخ عبدالسلام بزنطی وغیرہم نے اپنی اسناد و اجازات سے نوازا ۔
سنی صحیح العقیدہ علماء عرب سے آپ کے گہرے روابط ہیں اور وہاں کے سنی علماءنے بھی آپ سے اجازتیں حاصل کیں ۔
ماشاء اللہ مفتی صاحب ِقلم آدمی ہیں،عربی، اردوپر مہارت رکھتےہیں،کئی عربی رسائل و کتب کےاردو زبان میں ترجمہ کرچکےہیں،ہنوز تالیف کا سلسلہ جاری ہے۔اللہ تعالی اور ترقی اور قلم میں برکت عطاء فرمائے۔مفتی صاحب،صاحبِ ذوق شخصیت کے مالک ہیں،خشک مولوی،اورجاہل وبےعمل پیروں سےدور رہناپسند کرتےہیں۔تصنع وبناوٹ،ریاء تفاخر سےکوسوں دور ،اورہرمعاملےمیں سادگی پسند ہیں،البرکۃ مع اکابرکم پرعمل پیراہوکر زمانےکے رسمی تکلفات ومعاملات سے بےنیاز،اورخلوص وعاجزی کی مثال ہیں۔
تالیفات :
القول القوی فی امامۃ الصبی
النور والضیاء فی امامۃ النساء
بیہقی وقت
12 ربیع الاول تاریخ ولادت یا وفات
ذاکر نائیک کی یزید سے محبت
ڈاکٹر اسرار کی حضرت علی سے دشمنی
تین اہم فتاوی
امیر المومنین فی الحدیث کون ؟
تقاریظ رضا بر تصانیف اہل صفا 3جلد
محفل میلاد اور علماء عرب 2 جلد
علی سے پوچھ کتنا عظیم ہے صدیق
امام احمد رضا اور عقیدہ توحید
امام احمد رضا اور کتانی علماء
❤1
انوار فیضیہ
حضرت شاہجمالی کریم کا فیضان علمی
تذکرہ خانوادہ شاہجمالی
منھج الحافظ ابن حجر العسقلانی فی المسائل الخلافیۃ (عربی)
حافظ عسقلانی کے عقائد و نظریات
الجواھر المضیۃفی اسانید الفیضیۃ (عربی)
سود کی نحوست
ضیاء امہات المومنین
تراجم :
مغفرت کی بشارتیں ترجمہ (معرفۃ الخصال المکفرۃ للذنوب المقدمۃ والموخرۃ )
فضائل اہلبیت (احیاء المیت )
تالیفات میلاد تعارف، تحقیق (التالیف المولدیۃ )
نہایۃ المرام فی معرفۃ من سماہ خیر الانام ﷺ
تحقیق وتخریج وحواشی :
امام اعظم اور فقہ حنفی
مقام رسول ﷺ 5جلد(زیرطبع)
فتاوی فیضیہ6 جلد (زیر طبع)
تعارف چند محدثین ،مورخین کا
گیارھویں کی شرعی حیثیت
کتاب الدعوات والاذکار من کلام اللہ الغفار وحبیبہ ﷺسید الابرار وسائر الاخیار
اعلام الاذکیاء باثبات علوم الغیب لخاتم الانبیاء ﷺ
اعلام اہل العصر بحکم سنت الفجر
الکلام المفید فی احکام التقلید
افہام الاغبیاء بحیاۃ الانبیاء والاولیاء
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-ikram-ul-mohsin-faizi
حضرت شاہجمالی کریم کا فیضان علمی
تذکرہ خانوادہ شاہجمالی
منھج الحافظ ابن حجر العسقلانی فی المسائل الخلافیۃ (عربی)
حافظ عسقلانی کے عقائد و نظریات
الجواھر المضیۃفی اسانید الفیضیۃ (عربی)
سود کی نحوست
ضیاء امہات المومنین
تراجم :
مغفرت کی بشارتیں ترجمہ (معرفۃ الخصال المکفرۃ للذنوب المقدمۃ والموخرۃ )
فضائل اہلبیت (احیاء المیت )
تالیفات میلاد تعارف، تحقیق (التالیف المولدیۃ )
نہایۃ المرام فی معرفۃ من سماہ خیر الانام ﷺ
تحقیق وتخریج وحواشی :
امام اعظم اور فقہ حنفی
مقام رسول ﷺ 5جلد(زیرطبع)
فتاوی فیضیہ6 جلد (زیر طبع)
تعارف چند محدثین ،مورخین کا
گیارھویں کی شرعی حیثیت
کتاب الدعوات والاذکار من کلام اللہ الغفار وحبیبہ ﷺسید الابرار وسائر الاخیار
اعلام الاذکیاء باثبات علوم الغیب لخاتم الانبیاء ﷺ
اعلام اہل العصر بحکم سنت الفجر
الکلام المفید فی احکام التقلید
افہام الاغبیاء بحیاۃ الانبیاء والاولیاء
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-ikram-ul-mohsin-faizi
scholars.pk
Hazrat Allama Mufti Ikram-ul-Mohsin Faizi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شیخ سارنگ چشتی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: شیخ سارنگ لکھنوی ۔ حضرت شیخ سارنگ ابتدائی زندگی میں ہندوؤں کے بہت بڑے روساء اور امراء میں شمار ہوتے تھے ۔ دامن اسلام میں آئے اس وقت آپ کی ہمشیرہ سلطان محمد بن فیروز شاہ بادشاہ دہلی کی بیوی بنی تھیں۔ آپ اسی وساطت سے دربار دہلی سے منسلک ہوگئے تھے۔ اور ملک سارنگ کہلاتے تھے۔ اسی دوران آپ نے ہندوستان کا سارنگ شہر آباد کیا تھا جب سید مخدوم جلال الدین اوچی اور سیّد صدر الدین راجن قتال دہلی میں تشریف لائے تو ان دنوں شیخ سارنگ ایک خوبرو اور نوخیز نوجوان تھے۔ بادشاہ نے ان دونوں بزرگان دین کے کھانے کی خدمت شیخ سارنگ کے سپرد کی ہوئی تھی۔ ایک دن حضرت راجن قتال نے کہا۔ سارنگ! اگر تم پانچوں نمازیں باقاعدگی سے پڑھنا شروع کردو تو میں حضرت مخدوم جہانیاں کے کھانے کا تبرک کھلاؤں گا چونکہ اس وقت ان کی ہدایت کا وقت آپہنچا تھا۔ اس نے یہ شرط اسی وقت قبول کرلی۔ اور پانچوں نمازین باقاعدگی سے ادا کرنا شروع کردیں۔ چنانچہ آپ کو حضرت مخدوم جہانیاں کا پس خوردہ تبرک اچھا لگا۔ شیخ سارنگ کو اس کھانے میں ایک عجیب لذّت میسر آئی۔ ایک دن حضرت صدر الدین قتال نے کہا سارنگ اگر تم ہر روز نماز اشراق اور چاشت باقاعدگی سے پڑھنا شروع کردو تو میں اور تم اکٹھے بیٹھ کر ایک دسترخوان پر کھانا کھایا کریں گے انہوں نے یہ بات بھی قبول کرلی۔ اب مخدوم جہانیاں صدر الدین قتال اور ملک سارنگ ایک ہی دسترخوان پرکھانا کھانے لگے۔ اس قربت سے شیخ سارنگ کے دل میں روحانی روشنیاں گھر کرنے لگیں۔حضرت صدرالدین راجن قتال کی کوششوں سےدامن اسلام میں داخل ہوئے۔
بیعت وخلافت: آپ شیخ قوام الدین قدس سرہ کے مرید ہوگئے اور اس طرح آپ کو سلسلہ چشتیہ سہروردیہ کا فیض ملنے لگا۔
سیرت وخصائص: صاحبِ ترک وتجرید،فردِ فرید،حضرت سارنگ چشتی سہروردی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ ۔آپ ابتداً ہندو تھے۔حضرت مخدوم جہانیاں اور شیخ صدرالدین راجن قتال کی کوششوں سےمشرف بااسلام ہوئے۔آپ کی ہمشیرہ سلطان محمد کی زوجہ تھیں۔اس لئےآپ شاہی محل میں رہنےلگے تھے۔شاہانہ زندگی بسر کرتےتھے۔شاہانہ جاہ وجلال تھا۔جب اللہ والوں کی نظر نےکایا پلٹ دی۔پھر جب حضرت سلطان فیروز شاہ کا انتقال ہوگیا تو ان کی جگہ سلطان محمد بن سلطان محمد تخت نشین ہوئے تو حضرت سارنگ کا دل دربار شاہی سے اچاٹ ہوگیا۔ آپ سب کچھ چھوڑ کر اللہ کی یاد میں مشغول ہوگئے تمام مال و متاع غریبوں میں تقسیم کردیا۔
آپ اہل و عیال کو لے کر پا پیادہ حج کو روانہ ہوگئے چونکہ پیادہ چلنا جانتے نہ تھے قافلہ سے پیچھے رہ گئے پاؤں میں چھالے پڑ گئے قافلہ دُور نکل گیا۔ ایک دن اپنے اہل و عیال کو کہنے لگے۔ اب میں بھی اور تم لوگ بھی تھک کر چوڑ ہوگئے ہیں۔ اٹھو اور میرے پیچھے پیچھے چلو۔ ابھی تین قدم اٹھائے تھے کہ آپ قافلہ میں پہنچ گئے اور مدینہ پاک کے قرب میں جا پہنچے حج کے بعد ایک عرصہ تک مکہ اور مدینہ میں قیام کر کے حرمین الشرفین کی مجاوری میں رہے۔
ایک عرصہ بعد واپس ہندوستان آئے۔ اور حضرت شیخ یوسف بدھ ایرچی کی مجلس میں رہنے لگے۔ آپ سے خرقۂ خلافت پایا اسی اثنا میں اپنے پیر و مرشد کی صحبت میں زیارت کرنے لکھنو آیا کرتے تھے جب حضرت شیخ قوام الدین قدس سرہ کی وفات کا وقت آیا تو آپ نے فرمایا کاش آج شیخ سارنگ میرے پاس ہوتے تو میں انہیں خرقۂ خلافت دیتا آپ نے پھر بھی لوگوں کو اپنا ایک ان سِلا کفن دے کر کہا کہ جب شیخ سارنگ آئیں۔ تو انہیں میرا یہ تحفہ دے دینا آپ بعد از وفات لکھنو آئے تو اپنے شیخ کا تبرک کفن حاصل کیا۔ پھر حضرت شیخ مینا کو روحانی تربیت دے کر حضرت شیخ قوام الدین کو سجادہ نشین مقرر فرما دیا۔آپ شغل باطن اور ذکر خفی میں ہمہ تن مشغول رہتےتھے۔ترک و تجرید، عبادات و مجاہدات و توکل و قناعت، تحمل اور بردباری میں اپنی مثال آپ تھے۔
تاریخی یادگار:
مشہور شہر " سارنگ پور " آپ نے اپنے نام پر آباد کیا تھا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 16/شوال 848 ھ کو ہوا۔مزار شریف لکھنؤ میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔ اخبار الاخیار ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-makhdoom-sheikh-saarang-chishti
نام و نسب:
اسم گرامی: شیخ سارنگ لکھنوی ۔ حضرت شیخ سارنگ ابتدائی زندگی میں ہندوؤں کے بہت بڑے روساء اور امراء میں شمار ہوتے تھے ۔ دامن اسلام میں آئے اس وقت آپ کی ہمشیرہ سلطان محمد بن فیروز شاہ بادشاہ دہلی کی بیوی بنی تھیں۔ آپ اسی وساطت سے دربار دہلی سے منسلک ہوگئے تھے۔ اور ملک سارنگ کہلاتے تھے۔ اسی دوران آپ نے ہندوستان کا سارنگ شہر آباد کیا تھا جب سید مخدوم جلال الدین اوچی اور سیّد صدر الدین راجن قتال دہلی میں تشریف لائے تو ان دنوں شیخ سارنگ ایک خوبرو اور نوخیز نوجوان تھے۔ بادشاہ نے ان دونوں بزرگان دین کے کھانے کی خدمت شیخ سارنگ کے سپرد کی ہوئی تھی۔ ایک دن حضرت راجن قتال نے کہا۔ سارنگ! اگر تم پانچوں نمازیں باقاعدگی سے پڑھنا شروع کردو تو میں حضرت مخدوم جہانیاں کے کھانے کا تبرک کھلاؤں گا چونکہ اس وقت ان کی ہدایت کا وقت آپہنچا تھا۔ اس نے یہ شرط اسی وقت قبول کرلی۔ اور پانچوں نمازین باقاعدگی سے ادا کرنا شروع کردیں۔ چنانچہ آپ کو حضرت مخدوم جہانیاں کا پس خوردہ تبرک اچھا لگا۔ شیخ سارنگ کو اس کھانے میں ایک عجیب لذّت میسر آئی۔ ایک دن حضرت صدر الدین قتال نے کہا سارنگ اگر تم ہر روز نماز اشراق اور چاشت باقاعدگی سے پڑھنا شروع کردو تو میں اور تم اکٹھے بیٹھ کر ایک دسترخوان پر کھانا کھایا کریں گے انہوں نے یہ بات بھی قبول کرلی۔ اب مخدوم جہانیاں صدر الدین قتال اور ملک سارنگ ایک ہی دسترخوان پرکھانا کھانے لگے۔ اس قربت سے شیخ سارنگ کے دل میں روحانی روشنیاں گھر کرنے لگیں۔حضرت صدرالدین راجن قتال کی کوششوں سےدامن اسلام میں داخل ہوئے۔
بیعت وخلافت: آپ شیخ قوام الدین قدس سرہ کے مرید ہوگئے اور اس طرح آپ کو سلسلہ چشتیہ سہروردیہ کا فیض ملنے لگا۔
سیرت وخصائص: صاحبِ ترک وتجرید،فردِ فرید،حضرت سارنگ چشتی سہروردی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ ۔آپ ابتداً ہندو تھے۔حضرت مخدوم جہانیاں اور شیخ صدرالدین راجن قتال کی کوششوں سےمشرف بااسلام ہوئے۔آپ کی ہمشیرہ سلطان محمد کی زوجہ تھیں۔اس لئےآپ شاہی محل میں رہنےلگے تھے۔شاہانہ زندگی بسر کرتےتھے۔شاہانہ جاہ وجلال تھا۔جب اللہ والوں کی نظر نےکایا پلٹ دی۔پھر جب حضرت سلطان فیروز شاہ کا انتقال ہوگیا تو ان کی جگہ سلطان محمد بن سلطان محمد تخت نشین ہوئے تو حضرت سارنگ کا دل دربار شاہی سے اچاٹ ہوگیا۔ آپ سب کچھ چھوڑ کر اللہ کی یاد میں مشغول ہوگئے تمام مال و متاع غریبوں میں تقسیم کردیا۔
آپ اہل و عیال کو لے کر پا پیادہ حج کو روانہ ہوگئے چونکہ پیادہ چلنا جانتے نہ تھے قافلہ سے پیچھے رہ گئے پاؤں میں چھالے پڑ گئے قافلہ دُور نکل گیا۔ ایک دن اپنے اہل و عیال کو کہنے لگے۔ اب میں بھی اور تم لوگ بھی تھک کر چوڑ ہوگئے ہیں۔ اٹھو اور میرے پیچھے پیچھے چلو۔ ابھی تین قدم اٹھائے تھے کہ آپ قافلہ میں پہنچ گئے اور مدینہ پاک کے قرب میں جا پہنچے حج کے بعد ایک عرصہ تک مکہ اور مدینہ میں قیام کر کے حرمین الشرفین کی مجاوری میں رہے۔
ایک عرصہ بعد واپس ہندوستان آئے۔ اور حضرت شیخ یوسف بدھ ایرچی کی مجلس میں رہنے لگے۔ آپ سے خرقۂ خلافت پایا اسی اثنا میں اپنے پیر و مرشد کی صحبت میں زیارت کرنے لکھنو آیا کرتے تھے جب حضرت شیخ قوام الدین قدس سرہ کی وفات کا وقت آیا تو آپ نے فرمایا کاش آج شیخ سارنگ میرے پاس ہوتے تو میں انہیں خرقۂ خلافت دیتا آپ نے پھر بھی لوگوں کو اپنا ایک ان سِلا کفن دے کر کہا کہ جب شیخ سارنگ آئیں۔ تو انہیں میرا یہ تحفہ دے دینا آپ بعد از وفات لکھنو آئے تو اپنے شیخ کا تبرک کفن حاصل کیا۔ پھر حضرت شیخ مینا کو روحانی تربیت دے کر حضرت شیخ قوام الدین کو سجادہ نشین مقرر فرما دیا۔آپ شغل باطن اور ذکر خفی میں ہمہ تن مشغول رہتےتھے۔ترک و تجرید، عبادات و مجاہدات و توکل و قناعت، تحمل اور بردباری میں اپنی مثال آپ تھے۔
تاریخی یادگار:
مشہور شہر " سارنگ پور " آپ نے اپنے نام پر آباد کیا تھا ۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 16/شوال 848 ھ کو ہوا۔مزار شریف لکھنؤ میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔ اخبار الاخیار ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-makhdoom-sheikh-saarang-chishti
scholars.pk
Hazrat Makhdoom Sheikh Saarang Chishti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
قطب مکہ مکرمہ شیخ الدلائل حضرت علامہ شیخ عبد الحق الہ آبادی مہاجر مکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد عبد الحق ۔ لقب: شیخ الدلائل، قطبِ مکۃ المکرمہ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
محمد عبدالحق بن شاہ محمد بن یار محمد مہاجر مکی (علیہم الرحمہ) ۔ آپ صدیقی النسب تھے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 1252ھ بمطابق 1836ء میں الہ آباد (انڈیا) میں پیداہوئے۔
تحصیلِ علم:
مولانا تراب علی لکھنوی اور مولانا عبد اللہ صاحب وغیرہ سے درسیات پڑھیں۔ایک وقت آیا کہ آپ مفسر،محدث متکلم اور اپنے وقت کے عظیم فقیہ وصوفی،اور شیخ الدلائل کے لقب سے مشہور ہوئے۔
بیعت و خلافت:
حضرت مولانا عبد اللہ صاحب گور کھپوری سے بیعت ہوئے۔
سیرت و خصائص:
آپ مفسر، فقیہ حنفی اور اس کے اصول کے عالم و فلسفی اور تصوف میں سیدنا محی الدین ابن عربی قدس سرہ کے طریقہ پر تھے۔ ہندوستان میں تعلیم پائی،1283ھ میں حج کیا اور چار سال مدینہ طیبہ میں اقامت پزیر رہے، پھر مکہ معظّمہ میں سکونت اختیار کی ، شیخ الدلائل کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے حجاج آپ سے بیعت اور دلائل شریف کی اجازت حاصل کرتے۔ آپ بہت بڑے ولی اللہ، عالم باعمل ، متقی شب زندہ دار اور بہت عبادت گزار بزرگ تھے۔ اہل مکہ مکرمہ آپ کو قطب مکہ مکرمہ کہا کرتے تھے۔ اما م اہلسنت مولانا شاہ احمد رضاخاں قادری قدس سرہ دوسرے سفر حج میں آپ کی قیام گاہ پر بار بار حاضر ہوئے۔
سیدنا امام احمد رضا قادری قدس سرہ فرماتے ہیں :فقیر دعوتوں کے علاوہ صرف چار جگہ ملنے کوجاتا ہے۔مولانا شیخ صالح کمال ، شیخ العلماء محمد سعید ،اور مولانا عبد الحق مہاجر الہٰ آبادی اور کتب خانے میں مولانا سعید اسمعٰیل کے پاس۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)
حضرت مولانا عبد الحق الہٰ آبادی کو چالیس سال سے زائدمکہ معظّمہ میں گزرے تھے، کبھی شریف (حاکم)کے ہاں تشریف نہ لے گئے۔مولانا اسماعیل وغیرہ ان کے تلامذہ فرماتے تھے:کہ یہ محض خرق عادت ہے۔مولانا کا دم بہت غنیمت تھا، ہندی تھے مگر ان کے انوار مکہ مکرمہ میں چمک رہے تھے ۔ التز اماً ہر سال حج کرتے۔مولانا سید اسمٰعیل فرماتے تھے: کہ ایک سال زمانہ حج میں حضرت مولانا عبد الحق صاحب بہت علیل اور صاحب فراش تھے ، نویں تاریخ کواپنے تلامذہ سے کہا : مجھے حرم شریف میں لے چلو!کئی آدمی اٹھا کر لائے ، کعبہ معظمہ کے سامنے بٹھایا ، زمزم شریف منگا کر پیا اور دعا کی یاالہی !مجھےحج سے محروم نہ رکھ ! اسی وقت مولاتعالیٰ نے قوت عطا فرمائی کہ اٹھ کر اپنے پاؤں سے عرفات شریف گئے اور حج ادا کیا۔ امام اہل سنت مجدد اعظم احمد رضاخاں قادری قدس سرہ العزیز مکہ مکرمہ کے علماء کا تذکرہ کرتے ہوئےآپ کے بارے میں یوں ارشاد فرماتے ہیں:علماء کی خدمت سے شرف لو خصوصا اکابر ، جیسے آج کل مولانا مولوی عبد الحق صاحب مہاجر الہٰ آبادی آپ حمید یہ محل کے قریب تشریف فرما اور مسلمانانِ ہند کے لئے رحمت مجسم ہیں ۔
وصال:
16 شوال المکرم 1333ھ میں آپ کا وصال ہوا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-abdul-haq-alah-abadi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد عبد الحق ۔ لقب: شیخ الدلائل، قطبِ مکۃ المکرمہ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
محمد عبدالحق بن شاہ محمد بن یار محمد مہاجر مکی (علیہم الرحمہ) ۔ آپ صدیقی النسب تھے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 1252ھ بمطابق 1836ء میں الہ آباد (انڈیا) میں پیداہوئے۔
تحصیلِ علم:
مولانا تراب علی لکھنوی اور مولانا عبد اللہ صاحب وغیرہ سے درسیات پڑھیں۔ایک وقت آیا کہ آپ مفسر،محدث متکلم اور اپنے وقت کے عظیم فقیہ وصوفی،اور شیخ الدلائل کے لقب سے مشہور ہوئے۔
بیعت و خلافت:
حضرت مولانا عبد اللہ صاحب گور کھپوری سے بیعت ہوئے۔
سیرت و خصائص:
آپ مفسر، فقیہ حنفی اور اس کے اصول کے عالم و فلسفی اور تصوف میں سیدنا محی الدین ابن عربی قدس سرہ کے طریقہ پر تھے۔ ہندوستان میں تعلیم پائی،1283ھ میں حج کیا اور چار سال مدینہ طیبہ میں اقامت پزیر رہے، پھر مکہ معظّمہ میں سکونت اختیار کی ، شیخ الدلائل کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے حجاج آپ سے بیعت اور دلائل شریف کی اجازت حاصل کرتے۔ آپ بہت بڑے ولی اللہ، عالم باعمل ، متقی شب زندہ دار اور بہت عبادت گزار بزرگ تھے۔ اہل مکہ مکرمہ آپ کو قطب مکہ مکرمہ کہا کرتے تھے۔ اما م اہلسنت مولانا شاہ احمد رضاخاں قادری قدس سرہ دوسرے سفر حج میں آپ کی قیام گاہ پر بار بار حاضر ہوئے۔
سیدنا امام احمد رضا قادری قدس سرہ فرماتے ہیں :فقیر دعوتوں کے علاوہ صرف چار جگہ ملنے کوجاتا ہے۔مولانا شیخ صالح کمال ، شیخ العلماء محمد سعید ،اور مولانا عبد الحق مہاجر الہٰ آبادی اور کتب خانے میں مولانا سعید اسمعٰیل کے پاس۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)
حضرت مولانا عبد الحق الہٰ آبادی کو چالیس سال سے زائدمکہ معظّمہ میں گزرے تھے، کبھی شریف (حاکم)کے ہاں تشریف نہ لے گئے۔مولانا اسماعیل وغیرہ ان کے تلامذہ فرماتے تھے:کہ یہ محض خرق عادت ہے۔مولانا کا دم بہت غنیمت تھا، ہندی تھے مگر ان کے انوار مکہ مکرمہ میں چمک رہے تھے ۔ التز اماً ہر سال حج کرتے۔مولانا سید اسمٰعیل فرماتے تھے: کہ ایک سال زمانہ حج میں حضرت مولانا عبد الحق صاحب بہت علیل اور صاحب فراش تھے ، نویں تاریخ کواپنے تلامذہ سے کہا : مجھے حرم شریف میں لے چلو!کئی آدمی اٹھا کر لائے ، کعبہ معظمہ کے سامنے بٹھایا ، زمزم شریف منگا کر پیا اور دعا کی یاالہی !مجھےحج سے محروم نہ رکھ ! اسی وقت مولاتعالیٰ نے قوت عطا فرمائی کہ اٹھ کر اپنے پاؤں سے عرفات شریف گئے اور حج ادا کیا۔ امام اہل سنت مجدد اعظم احمد رضاخاں قادری قدس سرہ العزیز مکہ مکرمہ کے علماء کا تذکرہ کرتے ہوئےآپ کے بارے میں یوں ارشاد فرماتے ہیں:علماء کی خدمت سے شرف لو خصوصا اکابر ، جیسے آج کل مولانا مولوی عبد الحق صاحب مہاجر الہٰ آبادی آپ حمید یہ محل کے قریب تشریف فرما اور مسلمانانِ ہند کے لئے رحمت مجسم ہیں ۔
وصال:
16 شوال المکرم 1333ھ میں آپ کا وصال ہوا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-abdul-haq-alah-abadi
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Adbul Haq Alehi Abadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1