🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-10-1444 ᴴ | 05-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-10-1444 ᴴ | 05-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت حافظ اکبر امام عبدالرزاق رضی اللہ عنہ

ولادت: ۱۲۶ھ وفات: ۲۱۱ھ

اسم گرامی عبدالزاق ابو بکر کنیت۔ سلسلۂ نسب یہ ہے عبدالرزاق ابو بکر کنیت۔ سلسلۂ نسب یہ ہے عبدالرزاق بن ہمام بن نافع یمن کے پایۂ تخت صنعاء میں ۱۲۶ھ میں آپ کی ولادت ہوئی صنعانی مشہور ہوئے آپ کے والد ہمام ثقہ تابعین میں شمار ہوتے تھے۔ ابتداء میں اپنے والد اور مقامی شیوخ سے علم حاصل کیا تجارت کے لیے اسلامی بلادو امصار کے سفر کیے اور وہاں کے شیوخ سے استفادہ کیا۔ حافظ ذہبی لکھتے ہیں: ‘‘رحل فی تجارۃ الی الشام ولقی الکبار’’ وہ تجارت کی غرض سے شام ہوجاتے اور وہاں کے کبار علماء کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ (تذکرہ، ج۱، ص۳۳۱) غیر معمولی قوت حفظ و ضبط کے مالک تھے ابراہیم بن عباد زہری کا بیان ہے کہ ان کو سترہ ہزار حدیثیں یاد تھیں۔ (الاعلام، ج۲، ص۵۱۹)

امام عبدالرزاق نے بیس سال کی عمر میں تمام علوم متداولہ میں مہارت پیدا کرلی تھی انہوں نے مشہور امام فن معمر بن راشد کی بارگاہ میں کامل سات سال گزارے تھے خود کہتے ہیں ‘‘﷞جالست معمرا سبع سنین’’ (تذکرہ، ج۱، ص۳۳۱) اور ان کے زمانہ میں امام معمر کی مرویات کا ان سے بڑا کوئی حافظہ نہ تھا۔ امام احمد کہتے ہیں ‘‘کان عبدالرزاق یحفظ حدیث معمر’’ (ایضاً) ان کے شیوخ حسب ذیل ہیں:

ہمام، وہب، معمر، عبید اللہ بن عمر عمری، ایمن بن نابل، عکرمہ بن عمار، ابن جریج، اوزاعی، مالک، سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ، عبداللہ بن عمرعمری، زکریا بن اسحاق مکی، جعفر سلیمان، یونس بن سلیمان صنعانی، ابن ابی رواد، اسرائیل، اسماعیل بن عیاش۔ (تہذیب، ج۶،ص۲۷۸)

علم و فضل:

عبدالرزاق بن ہمام علم و فن میں امتیازی شان رکھتے تھے ‘‘تبحر علمی، مہارت فن، قوت حفظ، وضبط’’ میں نہایت بلند مقام پر فائز تھے ان کے علم و فضل کا اعتراف ارباب علم نے اس طرح کیا ہے۔

v خیر الدین زرکلی: ‘‘من حفاظ الحدیث الثقات’’ وہ ثقہ حفاظ حدیث میں سے تھے۔

v علامہ یافعی: ‘‘الحافظ العلامۃ’’ حافظ اور بڑے علم والے تھے۔

v حافظ ذہبی: ‘‘احد الاعلام الثقات’’ وہ بڑے ثقہ عالم تھے۔ (تذکرہ، ج۱، ص۳۳۱)

v ہشام بن یوسف: ‘‘کان عبدالرزاق اعلمنا واحفظنا’’ عبدالرزاق ہم میں سب سے بڑے عالم اور حافظ الحدیث تھے۔ (تہذیب، ج۶، ص۲۷۹)

v احمد بن صالح کہتے ہیں میں نے امام احمد بن حنبل سے پوچھا ‘‘رایت احدا احسن حدیثا من عبدالرزاق قال لا’’ کیا آپ نے کسی کو عبدالرزاق سے عمدہ حدیث والا پایا انہوں نے جواب دیا نہیں۔ (تہذیب، ج۶، ص۲۷۹)

v ابو زرعہ کا بیان ہے میں نے امام احمد سے پوچھا ‘‘من اثبت فی ابن جریج عبدالرزاق او البرسانی قال عبدالرزاق’’۔ (ایضاً)

ماہرین علم حدیث امام عبدالرزاق کی صداقت و عدالت پر متفق ہیں ان کے ثقہ دعا و عادل ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے ان کی احادیث صحاح ستہ میں مرقوم ہیں: حافظ ذہبی لکھتے ہیں ‘‘وثقھہ غیر واحد وحدیثہ فخرج فی الصحاح’’ بہت سے ائمہ فن نے ان کی توثیق کی ہے ان کی احادیث صحاح ستہ کی ساری کتابوں میں میں مذکور ہیں۔ (تذکرہ، ج۱، ص۳۳۱) امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں معمر سے ابن ہمام کی روایت میرے نزدیک تمام بصری علماء سے زیادہ پسندیدہ اور قابل ترجیج ہے نیز یہ بھی فرمایا ابن جریج کے تلامذہ میں عبدرالرزاق اثبت ہیں۔

حلقۂ درس:

امام عبدالرزاق کے فضل و کمال کا شہر سن کر اقصائے عالم سے تشنگان علم کا ہجوم سیل رواں بن کر ان کے پاس آنے لگا اور شہر صنعاء قال اللہ وقال الرسول کے نغموں سے معمور ہوگیا ان کے استاذ معمر بن راشد پیشین گوئی کی تھی ‘‘اما عبدالرزاق فان عاش فخلیق ان تضرب الیہ اکباد الابل’’ اگر عبدالرزاق کی زندگی رہی تو لوگ دور دراز مقامات سے سفر کرکے اس کے گرد ہجوم کریں گے۔ (تہذیب، ج۶، ص۲۷۹) یہ پیشین گوئی حرف بحرف حقیقت ہوکر رہی مورخین کا بیان ہے کہ عہد رسالت کے بعد کوئی شخصیت اتنی مرجوعۂ خلائق اور پرکشش ثابت نہ ہوسکی۔ علامہ یافعی نے آپ کو المرتحل الیہ من الآفاق لکھا ہے یعنی وہ شخص جس کے پاس لوگ مختلف اطراف و اکناف سے آتے تھے۔ (مرأۃ الجنان، ج۲، ص۵۲) ابن اثیر لکھتے ہیں رسول اکرمﷺ کے بعد کسی کے پاس اس قدر کثرت سے لوگ نہیں آئے جتنے ابن ہمام کے پاس آئے۔ (اللباب فی تہذیب الانساب، ج۲، ص۶۱) ابن خلکان لکھتے ہیں ‘‘ما رحل الناس الی احد بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مثل ما رحلوا الیہ رسول اللہ ﷺ کے بعد لوگوں نے کسی کی طرف اتنا سفر نہیں کیا جس قدر لوگ عبدالرزاق کی خدمت میں حاضر ہوئے’’۔ (وفیات الاعیان، ج۲، ص۱۰۳)

آپ کے خرمن علم کے خوشہ چینوں کی تعداد کا اندازہ لگانا از بس دشوار ہے۔ چند اہم اور مشہور تلامذہ یہ ہیں:

ابن عیینہ، معتمر بن سلیمان، وکیع، ابو اسامہ، احمد اسحاق، علی یحییٰ، ابو خثیمہ، احمد بن صالح، ابراہیم بن موسیٰ، عبداللہ بن محمد مسندی، سلمہ بن شبیب، عمرو الناقد، ابن ابی عمر، حجاج بن شاعر، یحییٰ بن جعفر بیکندی، یحییٰ بن موسیٰ، اسحاق
1
بن ابراہیم، سعدی، اسحاق بن منصور کو سج، احمد بن یوسف سلمی، حسن بن علی خلال، عبدالرحمٰن بن بشر بن حکم، عبد بن حمید، محمد بن رافع، محمد بن مہران حمال، محمود بن غیلان، محمد بن یحییٰ ذہلی، ابو مسعود رازی، اسحاق بن ابراہیم دبری۔ (تہذیب التہذیب، ج۶، ص۲۷۸)

الزام تشیع:

بعض علمائے جرح و تعدیل نے آپ کو نقد و جرح کا بھی نشانہ بنایا ہے مگر تحقیق سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان اعتراضات کی کوئی اصل نہیں ان پر ایک اعتراض رفض و تشیع کی طرف میلاد کابھی ہے مگر اس بارے میں خود آپ نے فرمایا: ‘‘واللہ ما انشرح صدری قط ان افضل علیا علیٰ ابی بکر و عمر’’ بخدا میں اس بات پر کبھی راضی نہیں ہوا کہ میں علی کو ابو بکر اور عمر پر فضیلت دوں۔ (تذکرہ، ج۱، ص۳۳۱)

آپ پر الزام تشیع کی حقیقت محض اتنی ہے کہ بعض اکابر کی طرح وہ بھی حضرت علی اوعر اہل بیت کے بڑے گرویدہ تھے لیکن دوسرے صحابہ کے درجات و مراتب کو اہل سنت ہی کی طرح مانتے تھے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے ان کا یہ قول نقل کیاہے۔ مجھ کو یہ جرأت نہیں ہے کہ امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو امیر المومنین حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما پر ترجیح دوں اور میرا دل یاوری نہیں کرتا کہ ان کے تفاضل کو ثابت کروں کیوں کہ امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بہ تواثر ثابت ہے اور یقین کی حد تک پہنچ گیا ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے مجھ کو ان دونوں حضرات پر فضیلت مت دو۔ (بستان المحدثین، ص۸۰)

تصانیف:
امام عبدالرزاق متعدد کتابوں کے مصنف بھی تھے مگر ان کی اکثر کتابیں امتداد زمانہ کی وجہ سے ناپید ہوچکتی ہیں بعض کے نام یہ ہیں جامع سنن عبدالرزاق، کتاب السنن فی الفقہ، کتاب المغازی، تفسیر میں بھی ایک کتاب لکھی تھی۔ مصنف عبدالرزاق، یہ کتاب نہایت اہم اور مشہور کتاب ہے اس میں حدیثوں کو ابواب فقہ پر ترتیب دیا گیا ہے ابو بکر بن ابی شیبہ کی مصنف اگر چہ مجموعی حیثیت سے زیادہ اہم اور وقیع ہے لیکن قدامت کے لحاظ سے وہ بھی اس مصنف سے کم پایہ ہے مصنف عبدالرزاق کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی اکثر حدیثیں ثلاثی ہیں۔ شاہ عبدالعزیز محدثدہلوی لکھتے ہیں اس کی اکثر حدیثیں ثلاثی ہیں عجیب بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی مصنف کو شمائل پر ختم کیا ہے اور شمائل کو حضور ﷺ کے موئے مبارک کے ذکر پر تمام کیا چناں چہ اس کے آخر میں یہ حدیث ہے ‘‘حدثنا معمر عن ثابت عن انس قال کان شعر النبی صلی اللہ علیہ وسلم الٰی انصاف اذنیہ’’ حضرت انس فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے موئے مبارک آپ کے کانوں کے نصف حصہ تک پہنچتے تھے۔ (بستان المحدثین، ص۸۰)

وفات:
آپ وصال ماہ شوال ۲۱۱ھ میں ہوا ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedi-abdul-razzaq
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ یحیی بن عمار شیبانی ہراتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ ہرات کے عظیم مشائخ میں سے تھے، آپ عبد اللہ بن خفیف کی صحبت میں وقت گزارتے تھے ـ

سب سے پہلے ہرات میں جو شخص علم تصوّف، رسوم دینیہ اور اتباع سنت وہ آپ کی شخصیت تھی ـ

چنانچہ قاضی ابو عمر بسطامی رحمۃ اللہ علیہ ہرات میں آئے، حضرت خواجہ یحییٰ کی مجالس میں حاضری دی تو کہنے لگے میں مشرق و مغرب کے تمام ممالک میں گیا ہوں، مگر میں نے ہرات میں دین کو تر و تازہ پایا، اور یہ حضرت شیبانی رحمۃ اللہ علیہ کی کوششوں کا نتیجہ ہے ۔

وصال:
آپ کی وفات ۴۰۲ھ میں ہوئی ۔

رفت زین عالم چو یحییٰ زندہ دل
گفت عابد نامور یحییٰ بگو
۴۰۲ھ



عقل بہر سالِ نقل آنجوان
نیز یحییٰ قطب ربانی بخواں
۴۰۲ھ

( خزینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khuwaja-yahya-bin-ammar-shaibani-hirati
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
غسیل الملائکہ شہید غزوہ احد حضرت سیدنا حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

نام و نسب:
حنظلہ بن ابی عامر الراہب عمرو بن صیفی بن زید بن امیہ بن ضیعہ۔

جب کہ بعض اہل علم نے آپ کا نام و نسب یوں بیان کیا ہے: حنظلہ رضی اللہ عنہ بن عمرو ابی عامر الراہب بن صیفی بن نعمان بن مالک بن امیہ بن ضبیعہ بن زید بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس بن حارثہ۔ آپ انصار کے اوس قبیلے سے ہیں۔

آپ کا والد عمر و بن صیفی، مدینہ منورہ میں راہب کی حیثیت سے معروف تھا۔ اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرمﷺ کو جس منصب، مرتبے اور اعزازات سے نوازا تھا۔ حنظلہ رضی اللہ عنہ کے والد ابو عامر صیفی اور رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی ابن سلول کو اس کی وجہ سے آپ سے از حد بغض تھا۔ عبد اللہ بن ابی تو بظاہر ایمان لے آیا البتہ اس نے اپنے نفاق کو پوشیدہ رکھا۔ جب کہ آپ کا والد ابو عامر صیفی مدینہ منورہ چھوڑ کر مکہ مکرمہ چلاگیا اور غزوۂ احد کے موقع پر وہ مسلمانوں کے خلاف لڑائی میں شرکت کے لیے کفار قریش کا ہم نوابن کر آیا۔ تو رسول اللہﷺ نے اسے“ فاسق ابو عامر ”قرار دیا۔ اور جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کے ہاتھوں مکہ مکرمہ فتح کرایا تو یہ وہاں سے راہِ فرار اختیار کر کے سر زمین روم کی طرف جا کر ہر قل سے جا ملا۔ اور کفر کی حالت میں مر گیا۔

کنانہ بن عبد یالیل اور علقمہ بن علاثہ بھی اس کے ہمراہ روم چلے گئے تھے۔ ابو عامر کی میراث اور ترکے کے بارے میں ان کے مابین اختلاف ہوا تو دونوں نے اپنا مقدمہ ہر قل کے سامنے پیش کیا۔ تو اس نے اس کا ترکہ کنانہ بن عبد یا لیل کو دینے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ یہ دونوں (ابو عامر اور کنانہ بن عبد یا لیل) شہری ہیں اور تم (علقمہ بن علاثہ) خانہ بدوش ہو۔

ابو عامر راہب، فاسق کی وفات ہر قل کے ہاں نو یا دس ہجری میں ہوئی۔ اسی ابو عامر، راہب، فاسق کے بیٹے کا نام حنظلہ ہے اور وہ غسیل الملائکہ کے لقب سے ملقب ہیں۔ آپ نے غزوۂ احد میں ابو سفیان بن حرب کے ہاتھوں قتل ہو کر جامِ شہادت نوش فرمایا۔ ابو سفیان کا بیٹا غزوۂ بدر میں قتل ہوا تھا۔ آپ کو قتل کرنے کے بعد ابو سفیان نے کہا: حنظلہ کے بدلے حنظلہ (قتل ہوا)۔ بعض اہل علم کے مطابق آپ نے شداد بن اسود بن شعوب لیثی کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش فرمایا۔

معصب زبیری کا بیان کہ ابو سفیان نے جنگ کے دوران حنظلہ رضی اللہ عنہ کو للکارا تھا تو حنظلہ رضی اللہ عنہ نے اسے پچھاڑ کر نیچے گرالیا تھا اور اس کے اوپر چڑھ بیٹھے تھے۔ اتنے میں شداد بن اسود بن شعوب ادھر آنکلا۔ اس نے ابو سفیان کا ساتھ دیا اور حنطلہ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔

اس بارے میں ابو سفیان نے ایک طویل قصیدہ کہا، اس کا ایک بیت یوں ہے:

(ترجمہ) "اگر میں چاہتا تو سرخ گھوڑا مجھے دشمن سے نجات دلا دیتا اور میں میدانِ جنگ سے فرار ہو جاتا اور شداد بن اسود بن شعوب کا زیرِ بارِ احسان نہ ہوتا۔"

حنظلہ رضی اللہ عنہ نے غزوہ کے لیے روانگی سے قبل اپنی اہلیہ سے مباشرت کی تھی کہ اچانک روانگی کا اعلان ہو گیا۔ رسول اللہﷺ کے ارشاد کی تعمیل اورشوقِ جہاد کی سر شادی میں انہیں غسل کا خیال تک نہ رہا۔ جب آپ شہادت سے سرفراز ہو چکے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسولِ اکرم کو اطلاع دی گئی کہ حنظلہ رضی اللہ عنہ کو فرشتوں نے غسل دے دیا ہے۔

عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان کی زوجہ سے دریافت کیا کہ غزوہ کے لیے آتے وقت حنظلہ رضی اللہ عنہ کس حالت میں تھے تو انہوں نے بتلایا کہ وہ جنبی تھے۔

میں نےابھی ان کے سر کی ایک جانب کو دھویا تھا کہ انہوں نے غزوہ کے لیے روانگی کا سنا تو وہ اسی حالت میں روانہ ہو گئے اور شہید ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے اللہ کے فرشتوں کو دیکھا کہ اسے غسل دے رہے تھے۔

انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ اوس کے لوگ اظہار تفاخر کے طور پر کہا کرتے تھے کہ ہم ایسے معزز لوگ ہیں کہ ہمارے قبیلے کے ایک فرد کو فرشتوں نے غسل دیا ہے اور ہمارے ہی قبیلے کا ایک فرد عاصم رضی اللہ عنہ بن ثابت بن ابی اقلح ہے جس کی شہادت کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے جسم مبارک کو کفار کی دست بُرد سے محفوظ رکھنے کی خاطر شہد کی مکھیوں کا یا بھیڑوں کا پورا جھنڈ بھیج دیا تاکہ کافر ان کے جسم کی بے حرمتی نہ کر سکیں۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اس قدر تیز بارش برسائی کہ بارش کا پانی ان کےجسم کو بہا لے گیا اور وہ دشمن کے ہاتھ نہ آسکا۔

عروہ مزید کہا کرتے تھے کہ ہمارے ہی قبیلے کا ایک فرد خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ جس اکیلے کی گواہی کو اللہ کے رسول ﷺ نے دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیا ہے۔ اسی لیے ان کا لقب "ذوالشہادتین" یعنی دو گواہیوں والا ہے۔ اور ہمارے ہی قبیلے کا ایک فرد سعد بن معاذ رضی اللہ ہے جس کی وفات پر اللہ تعالیٰ کا عرش جھوم اٹھا اور اس کی نماز جنازہ میں ستر ہزار فرشتے شامل ہوئے۔
1👍1
تو اس کے بالمقابل خزرج والوں نے کہا کہ ہمیں یہ شرف حاصل ہے کہ ہمارے قبیلے کے چار ایسے خوش نصیب لوگ ہیں کہ وہ عہد رسالت میں مکمل قرآن پڑھ اور یاد کر چکے تھے یعنی زید بن ثابت، ابو زید ، معاذ بن جبل اور ابی بن کعب (رضی اللہ عنھم اجمعین)۔ ابو عمر ابن عبد البر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اے قبیلہ اوس کےلوگو! صرف تمہارے ہی قبیلے کے لوگ عہد رسالت میں پورا قرآن نہیں پڑھ چکے تھے بلکہ انصار کے علاوہ دیگر بہت سے مسلمان بھی عہد رسالت میں پورا قرآن یاد کر چکے تھے۔ مثلاً عبد اللہ بن مسعود، سالم مولیٰ ابی حذیفہ اور عبد اللہ بن عمرو بن العاص (رضی اللہ عنھم اجمعین)۔

خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ جن کی اکیلے کی گواہی کو رسول اللہ ﷺ نے دو گواہیوں کے برابر قرار دیا اور ان کا لقب "ذوالشہادتین" ہے۔ ان کے متعلق عمارہ خزیمہ سے روایت ہے، ان کے چچا کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ نے سواء بن حارث بن ظالم، بدوی سے ایک گھوڑا خریدا اور اس سے فرمایا: تم میرے ساتھ آؤ تاکہ میں تمہیں اس گھوڑے کی قیمت ادا کروں۔ رسول اللہﷺ تیز تیز چلے جب کہ اعرابی آپ کے پیچھے سست رفتار سے جا رہا تھا۔ کچھ لوگ اس بدوی سے گھوڑے کا سودا کرنے لگے۔ ان میں سے کسی نے رسولِ اکرم ﷺ کی لگائی ہوئی قیمت سے زیادہ قیمت لگا دی۔ وہ لوگ نہیں جانتے تھے کہ رسول اللہﷺ اس سے اس گھوڑے کا سودا کر چکے ہیں۔ وہ لالچ میں آ گیا اس نے رسول اللہﷺ کو زور سے پُکار کر آواز دی اور بولا: اگر گھوڑا خریدنا ہے تو صاف صاف بات کرو ورنہ میں اسے کسی دوسرے کے ہاتھ بیچ دوں۔ آپ نے اس سے فرمایا: کیا میں تمہارے ساتھ اس کا سودا نہیں کر چکا؟ بدوی نے کہا: اللہ کی قسم! بالکل نہیں۔ آپ نے میرے ساتھ اس کا سودا طے نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا: میں تمھارے ساتھ اس قدر قیمت کے عوض سودا طے کر چکا ہوں۔ بدوی کہنے لگا: کوئی گواہ پیش کرو۔ اتنے خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ وہاں آگئے، ساری بات سن کر کہنے لگے: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو نے یہ گھوڑا رسول اللہﷺ کے ہاتھ بیچا ہے۔

نبیﷺ خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم بنیاد پر یہ گواہی دیتے ہو حالانکہ ہمارے سودا طے کرتے وقت تو تم موجود نہ تھے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ سے آسمان کی خبریں سن کر ان کی تصدیق کرتا اور ان کے سچے ہونے پر ایمان رکھتا ہوں، آپ ہمیشہ حق اور سچ ہی کہتے ہیں، ہم تو اس سے بھی بڑی بڑی باتوں پر آپ کی تصدیق کرتے ہیں، آپ اس دنیوی معاملے میں غلط بات نہیں کہہ سکتے۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نے اکیلے خزیمہ رضی اللہ کی گواہی کو دو گواہیوں کے برابر قرار دیا۔

(سنن ابی داؤد، باب اذا علم الحاکم صدق شھادۃ الواحد یجوزنہ ان یقضی بہ، کتاب البیوع، حدیث: ۷، ۳۶،سنن النسائی، البیوع، حدیث : ۴۶۰۱، مسند احمد ۵/۲۱۵/۲۱۶)

یاد رہے کہ رسول اللہﷺ کے گھوڑوں میں سے ایک گھوڑے کا نام "المرتجز" ہے یہ وہی گھوڑا ہے جو آپ نے اس بدوی سے خریدا تھا۔

(القاموس فی باب الزاء وفصل الراء۔ مختصر سنن ابی داؤد للمنذری)

( شہدائے بدر و احد )

https://scholars.pk/ur/scholar/shaheed-e-uhud-syedna-hanzala-bin-abi-amir
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حمزہ، سیّدالشہداء سیّدنا امیر

اسمِ گرامی: امیرحمزہ۔

کنیت: ابوعمارہ۔

لقب: اسداللہ واسدرسول اللہﷺ۔

والدۂ ماجدہ: ہالہ بنتِ اہیب بن عبدِ مناف بن زہرہ۔

حضرت ہالہ نبی اکرم ﷺکی والدۂ ماجدہ حضرت آمنہ﷞ کی چچا زاد بہن تھیں۔ سیّدنا امیرحمزہ ﷜ نبی اکرم ﷺکے چچا اور رضاعی بھائی ہیں۔ ابو لہب کی آزاد کردہ کنیز ثویبہ نے ان دونوں ہستیوں اور حضرت ابو سلمہ بن عبد الاسد مخزومی (حضرت اُمّ المؤمنین امِّ سلمہ﷞کے پہلے شوہر) کو دودھ پلایا تھا۔

نسب:

سیّدالشہداء حضرت سیّدنا امیرحمزہ﷜ کا سلسلۂ نسب اس طرح ہے:

سیّدنا حمزہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوئی بن غالب اِلٰی اٰخِرِہٖ)۔

ولادت:

حضرت حمزہ ﷜ کی عمر نبی اکرم ﷺسے دو سال اور ایک قول کےمطابق چار سال زیادہ تھی۔

قبولِ اسلام:

بعثت کے دوسرے سال اور ایک(ضعیف) قول کے مطابق چھٹے سال مشرف بَہ اسلام ہوئے۔

اسلام لانے کے دن انہوں نے سنا کہ ابو جہل،نبیِ مکرمﷺکی شان میں نازیبا کلمات کہہ رہا ہے، تو آپ نے حرمِ مکہ میں اس کے سر پر اس زور سے کمان ماری کہ اس کا سر پھٹ گیا،اورحضرت حمزہ﷜ نے نبیِ مکرمﷺ سےگزارش کی:

’’بھتیجے! اپنے دین کا کھل کر پرچار کیجیے۔ اللہ تعالیٰ کی قسم ! مجھے دنیا بھر کی دولت بھی دے دی جائے تو میں اپنی قوم کے دین پر رہنا پسند نہیں کروں گا۔‘‘

ان کے اسلام لانے سے رسول اللہﷺ کو تقویت حاصل ہوئی اور مشرکین آپ کی ایذا رسانی سے کسی حد تک رک گئے، بعد ازاں ہجرت کرکے مدینۂ منوّرہ چلے گئے۔

سیرت وخصائص:

سیّد الشہداء حضرت سیّدنا امیرحمزہ﷜ بہادر، سخی،نرم مزاج والے،خوش اخلاق، قریش کے دلاور جوان اور غیرت مندی میں انتہائی بلند مقام کے مالک تھے۔

رسول اللہﷺنے جو پہلا جھنڈا تیار کیا وہ سیّد الشہداء ہی کے لیے تھا، جب 2ھ/623ء میں حضور سیّدِ عالمﷺ نے انہیں قومِ جُھَیْنَہ کے علاقے سیف البحر کی طرف (ایک دستے کے ہمراہ ) بھیجا۔

ابنِ ہشام نے سیّدنا حمزہ﷜ کا ایک شعر نقل کیا، جس کا اردو ترجمہ مندرجۂ ذیل ہے:

ترجمہ: ’’رسول اللہﷺکے حکم پر میں پہلا تلوار چلانے والا تھاجس کے سر پر جھنڈا تھا، یہ جھنڈا مجھ سے پہلے ظاہر نہ ہوا تھا۔‘‘

حضرت سیّد الشہداء جنگِ اُحُد کے دن خاکستری اونٹ اور پھاڑنے والے شیر دکھائی دیتے تھے۔ انہوں نے اپنی تلوار سے مشرکین کو بری طرح خوف زدہ کردیا، کوئی ان کے سامنے ٹھہرتا ہی نہ تھا۔ غزوۂ احد میں آپ نے31 مشرکوں کو جہنم رسید کیا۔ پھر آپ کا پاؤں پھسلا تو آپ تیر اندازوں کی پہاڑی کے پاس واقع وادی میں پشت کے بل گرگئے، زرہ آپ کے پیٹ سے کھل گئی، جبیر بن مطعم کے غلام وحشی بن حرب نے کچھ فاصلے سے خنجر پھینکااور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھوں آپ کو مرتبۂ شہادت سے سرفراز فرمایا۔ یہ واقعہ ہفتے کے دن نصف15؍ شوّال 3 یا 4ہجری (624ء یا 625ء) کو پیش آیا، اُس وقت آپ کی عمر 57 سال تھی۔ ایک قول کے مطابق آپ کی عمر شریف 59 سال تھی۔ پھر مشرکین نے آپ کے اَعضا کاٹے اور پیٹ چاک کیا ، ان کی ایک عورت نے آپ کا جگر نکال کر مُنھ میں ڈالا اور اسے چبایا، لیکن اسے اپنے حلق سے نیچے نہ اتار سکی، ناچا ر ا سے تھوک دیا۔

جب رسول اللہ ﷺ کو یہ اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا:

’’اگر یہ جگر اُس کے پیٹ میں چلا جاتا تو وہ عورت آگ میں داخل نہ ہوتی۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں میرے حمزہ کی اتنی عزّت ہے کہ ان کے جسم کے کسی حصے کو آگ میں داخل نہیں فرمائے گا۔‘‘

جب رسول اللہﷺ تشریف لائے اور آپ کے مثلہ کیے ہوئے جسم کو دیکھا، تو یہ منظر آپ کے دلِ اقدس کے لیے اس قدر تکلیف دہ تھا کہ اس سے زیادہ تکلیف دہ منظر آپ کی نظر سے کبھی نہیں گزراتھا۔

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

’’اے چچا! آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو، کیوں کہ آپ جب تک عمل کرتے رہے، بہت نیکی کرنے والے اور بہت صلہ رحمی کرنے والے تھے۔‘‘

پھر اُن کے جسدِ مبارک کو قبلہ کی جانب رکھا اور ان کے جنازے کے سامنے کھڑے ہوئے اور اس شدت سے روئے کہ قریب تھا کہ آپ پر غشی طاری ہوجاتی۔

نبی اکرم ﷺفرمارہے تھے:

’’اے اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺکے چچا! اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے شیر، اے حمزہ! نیک کام کرنے والے، اے حمزہ! مصیبتوں کے دور کرنے والے، اے حمزہ! رسول اللہﷺ کا دفاع کرنے والے!

یہ بھی فرمایا:

’’ہمارے پاس جبرائیل امین﷤ تشریف لائے اور ہمیں بتایا کہ حضرت حمزہ کے بارے میں ساتوں آسمانوں میں لکھا ہوا ہے:’ حمزہ بن عبد المطلب، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺکے شیر ہیں ‘۔‘‘

حاکم نیشاپوری، مستدرک میں حضرت جابر﷜ سے مرفوعاً (یعنی رسول اللہﷺ کا فرمان) روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حضرت حمزہ بن عبد المطلب شفاعت کرنے والوں کے سردار ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اَفَمَنۡ وَّعَدْنٰہُ وَعْدًا حَسَنًا فَہُوَ لٰقِیۡہِ۔ (پارہ 20، سورۃ القصص: 61)

ترجمہ: ’’تو کیا وہ جسے ہم نے اچھا وعدہ دیا تو وہ اُس سے ملے گا
1
۔‘‘ (کنزالایمان)

سدی کہتے ہیں کہ ’’یہ آیت حضرت حمزہ کے بارے میں نازل ہوئی۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

یٰۤاَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ﴿۲۷﴾٭ۖ ارْجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً ﴿ۚ۲۸﴾(پارہ 30، سورۃ الفجر: 27 تا 28)

ترجمہ: ’’اے اطمینان والی جان! اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اُس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔‘‘

سلفی کہتے ہیں کہ اِس سے مراد حضرت حمزہ ہیں۔

نبی اکرمﷺ نے انہیں ایسی چادر کا کفن پہنایا کہ جب اُسے آپ کے سر پر پھیلاتے تو پاؤں ننگے ہوجاتے اور پاؤں پر پھیلاتے تو سر ننگا ہوجاتا، چنانچہ وہ چادر آپ کے سر پر پھیلادی گئی اور پاؤں پر اذخر (خوشبودار گھاس) ڈال دی گئی۔ انہیں ایک ٹیلے پر دفن کیا، جہاں اس وقت ان کی قبر انور مشہور ہے ۔ اور اس پر عظیم گنبد خلیفہ الناصر لدین اللہ احمد العباسی کی والدہ نے 590 ھ میں تعمیر کروایا۔

لیکن افسوس نجدی حکومت نےخود ساختہ شریعت کا سہارا لیتے ہوئے1925ء میں تمام مزارات کو شہید کردیا،اور اپنے لیے اونچے اونچے محلات تعمیر کرلیے،ہم تمام نجدیوں سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ یہ بڑے بڑے محلات،اورعیاشیاں کس کی سنّت ہیں؟

شہداء زندہ ہیں:

چالیس سال کے بعد شہدائے اُحُد کی قبریں کھولی گئیں تو ان کے جسم تروتازہ تھے،ان کے ہاتھ پاؤں مڑ جاتے تھے اور ان کی قبروں سے کستوری کی خوشبو آتی تھی۔ حضرت حمزہ﷜کے پاؤں پر کدال لگ گیا تو اس سے خون بہنے لگا۔ حضرت جابر﷜کے والدِ ماجد(حضرت عبد اللہ انصاری ﷜) کا ہاتھ چہرے کے زخم سے ہٹایا گیا تو وہاں سے خون بہنے لگا،ہاتھ دوبارہ اسی جگہ رکھ دیا گیا تو خون بند ہو گیا۔

نبی مکرمﷺ اور اہلِ مدینہ کا معمول:

نبی اکرم ﷺ نے شہدائے اُحُد کے بارے میں بیان فرمایا کہ جو شخص قیامت تک ان کی زیارت کرے گا اور ان کی خدمت میں سلام عرض کرے گا تو وہ اسے جواب دیں گے۔

فاطمہ خزاعیہ کا بیان ہے کہ میں ایک دن حضرت سیّد الشہداء جناب حمزہ ﷜کے مزارِ اقدس کی زیارت کے لیے گئی اورمیں نے قبر منوّر کے سامنے کھڑے ہو کر’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَمَّ رَسُوْلِ اللہ!‘‘ کہا تو آ پ نے بآواز ِ بلند قبر کے اندر سے میرے سلام کا جواب دیا جس کو میں نے اپنے کانوں سے سنا۔(حجۃ اللہ علی العالمین، ج2، ص863)

نیک لوگوں کی ایک جماعت نے سنا کہ جس شخص نے شہدائے اُحُد﷢ کی بارگاہ میں سلام عرض کیا تو انہوں نے جواب دیا۔

نبی اکرم ﷺ ہر سال کے آخر میں شہدائے اُحُد﷢ کے مزارات پر تشریف لے جاتے اور فرماتے:

’’سَلَامٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فِنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ!‘‘

اہلِ مدینہ رجب کے مہینے میں حضرت حمزہ﷜کی زیارت کرتے ہیں۔(بحوالہ:سبل الھدی والرشاد، ۴؍۳۷۰؛ البدایۃ والنھایۃ، ۴؍۴۶۔ دلائل النبوۃ، ۳؍۳۰۷۔؛ شرح الصدور، ص ۲۷۴؛ تفسیر الخازن، ۱؍۲۹۷)

تاریخِ شہادت:
بروز، ہفتہ15 شوّال المکرم3ھ، مطابق 624ء کوآپ کی شہادت ہوئی۔اُس وقت آپ کی عمر 57 سال تھی۔ ایک قول کے مطابق آپ کی عمر شریف 59 سال تھی۔

مآخذ و مَراجع:
جالیۃ الکدر فی نظم اسماء شھداءاحد و بدر (علامہ برزنجی) ۔ تذکرہ شہداء احد وبدر ۔ (مجتبیٰ السعیدی)

https://scholars.pk/ur/scholar/shaheed-e-uhud-syed-us-shuhada-hazrat-ameer-hamza
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-10-1444 ᴴ | 05-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-10-1444 ᴴ | 06-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1