سید ابو تراب المعروف شاہ گدا حسینی قادری شطاری لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ حسینی سید تھے ۔ شیراز کے رہنے والے تھے ۔ طلب خدا وندی کے شوق نے آپ کو شیراز سے ہندوستان پہنچایا ۔ گجرات آئے ۔ اور شیخ وجیہ الدین گجراتی کی خدمت میں پہنچے ۔ مرید ہوئے اور تکمیل کو پہنچے ۔ مرشد کی وفات کے بعد لاہور آئے اور مستقل سکونت اختیار کر لی ۔
سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
آپ کی آبائی نسبت حضرت امام جعفر صادق رضی الله تعالیٰ عنہ سے ان واسطوں سے ملتی ہے ۔
سید ابو تراب ۔ بن نجیب الدین بن سید شمس الدین بن اسد الدین بن زین الدین المشہور زین العابدین بن یونس بن عبد الوہاب بن عبد الہادی بن ابو البرکات بن انور علی بن عبد الطیف بن محمد شریف بن ابو المظفر بن سید عبد الباقی بن ابو الحسن بن عبد العزیز شیرازی ۔ بن سید عبد اللہ بن محمد امین بن قدرت اللہ بن سید موسیٰ بن مسعود بن صادق نبی احمد بن سید باقر بن حسن بن زید بن جعفر بن محمود بن ہارون بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق رضی اللہ عنہم ۔
بیعت و خلافت:
شطاریہ سلسلۂ تصوف میں آپ شیخ وجیہ الدین گجراتی وہ سید محمد غوث گوالیاری وہ سید حمید وہ سید قاذن اور وہ سید عبد اللہ شطاری کے مرید تھے ۔ آپ کا سلسلہ قادریہ حضرت غوث الاعظم کے ساتھ ان واسطوں سے ملتا ہے۔ سید ابوتراب شیخ وجیہہ الدین گجراتی سید محمد غوث گوالیاری شیخ طیغوری حاجی شیخ عبد الفتح المخاطب بہ ہدایت اللہ سرمست ۔ شیخ شاہ قاذن شیخ عبد الوہاب شیخ عبد الرؤف شیخ محمود ۔ شیخ عبد الغفار ۔ شیخ محمد ۔ شیخ عبد الرحیم ۔ سید ابو بکر تاج الدین ۔ سیدنا عبد القادر غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنہم ـ
سید ابو تراب کے چھ خلفاء تھے ۔ قاضی محمد لاہوری ۔ آپ کا مزار لاہور کے قریب ہی ہے ۔ شیخ فاضل آپ دہلی میں آسودۂ خاک ہیں ۔ شاہ جمال جن کا مدفن رہتاس میں ہے ۔ لعل گدا ۔ احمد گدا شہباز گدا یہ تینوں بزرگ آپ کے پہلو میں آسودۂ خاک ہیں ۔
وصال:
آپ کی وفات بتاریخ 14 شوال ۱۰۷۱ھ کو ہوئی ۔ آپ کا مزار لاہور میں ہے ۔
شہ گدا سیّد وَلیِ متّقی
گفت تاریخ وصالِ او خرد
بندہ حق خاک پائے بو تراب
شد ولی سیّد گدائے بو تراب
۱۰۷۱ھ
قاضی محمد افضل جو آپ کے دربار کے عالم دین اور خلیفہ خاص تھے ۱۰۹۰ھ میں واصل بحق ہوئے ۔ ان کی تاریخ وفات ان اشعار سے نکلتی ہے ۔
کریم اکرم و شیخ مکرّم
وصالش قطب افضل اہل دل گو
۱۰۹۲ھ
شہِ اہل کرم افضل محمد
دگر پاکیزہ دم افضل محمد
۱۰۹۲ھ
( خذینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/syed-abu-turab-shah-gada-hussaini-qadri-shattari-lahori
آپ حسینی سید تھے ۔ شیراز کے رہنے والے تھے ۔ طلب خدا وندی کے شوق نے آپ کو شیراز سے ہندوستان پہنچایا ۔ گجرات آئے ۔ اور شیخ وجیہ الدین گجراتی کی خدمت میں پہنچے ۔ مرید ہوئے اور تکمیل کو پہنچے ۔ مرشد کی وفات کے بعد لاہور آئے اور مستقل سکونت اختیار کر لی ۔
سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
آپ کی آبائی نسبت حضرت امام جعفر صادق رضی الله تعالیٰ عنہ سے ان واسطوں سے ملتی ہے ۔
سید ابو تراب ۔ بن نجیب الدین بن سید شمس الدین بن اسد الدین بن زین الدین المشہور زین العابدین بن یونس بن عبد الوہاب بن عبد الہادی بن ابو البرکات بن انور علی بن عبد الطیف بن محمد شریف بن ابو المظفر بن سید عبد الباقی بن ابو الحسن بن عبد العزیز شیرازی ۔ بن سید عبد اللہ بن محمد امین بن قدرت اللہ بن سید موسیٰ بن مسعود بن صادق نبی احمد بن سید باقر بن حسن بن زید بن جعفر بن محمود بن ہارون بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق رضی اللہ عنہم ۔
بیعت و خلافت:
شطاریہ سلسلۂ تصوف میں آپ شیخ وجیہ الدین گجراتی وہ سید محمد غوث گوالیاری وہ سید حمید وہ سید قاذن اور وہ سید عبد اللہ شطاری کے مرید تھے ۔ آپ کا سلسلہ قادریہ حضرت غوث الاعظم کے ساتھ ان واسطوں سے ملتا ہے۔ سید ابوتراب شیخ وجیہہ الدین گجراتی سید محمد غوث گوالیاری شیخ طیغوری حاجی شیخ عبد الفتح المخاطب بہ ہدایت اللہ سرمست ۔ شیخ شاہ قاذن شیخ عبد الوہاب شیخ عبد الرؤف شیخ محمود ۔ شیخ عبد الغفار ۔ شیخ محمد ۔ شیخ عبد الرحیم ۔ سید ابو بکر تاج الدین ۔ سیدنا عبد القادر غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنہم ـ
سید ابو تراب کے چھ خلفاء تھے ۔ قاضی محمد لاہوری ۔ آپ کا مزار لاہور کے قریب ہی ہے ۔ شیخ فاضل آپ دہلی میں آسودۂ خاک ہیں ۔ شاہ جمال جن کا مدفن رہتاس میں ہے ۔ لعل گدا ۔ احمد گدا شہباز گدا یہ تینوں بزرگ آپ کے پہلو میں آسودۂ خاک ہیں ۔
وصال:
آپ کی وفات بتاریخ 14 شوال ۱۰۷۱ھ کو ہوئی ۔ آپ کا مزار لاہور میں ہے ۔
شہ گدا سیّد وَلیِ متّقی
گفت تاریخ وصالِ او خرد
بندہ حق خاک پائے بو تراب
شد ولی سیّد گدائے بو تراب
۱۰۷۱ھ
قاضی محمد افضل جو آپ کے دربار کے عالم دین اور خلیفہ خاص تھے ۱۰۹۰ھ میں واصل بحق ہوئے ۔ ان کی تاریخ وفات ان اشعار سے نکلتی ہے ۔
کریم اکرم و شیخ مکرّم
وصالش قطب افضل اہل دل گو
۱۰۹۲ھ
شہِ اہل کرم افضل محمد
دگر پاکیزہ دم افضل محمد
۱۰۹۲ھ
( خذینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/syed-abu-turab-shah-gada-hussaini-qadri-shattari-lahori
scholars.pk
Syed Abu Turab Shah Gada Hussaini Qadri Shattari Lahori
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت خواجہ محمد زاہد وخشی علیہ الرحمہ
وخش نزد حصار علاقہ بخارا (۸۵۲ھ/ ۱۴۴۸ء۔۔۔۹۳۶ھ/ ۱۵۲۹ء)
قطعۂ تاریخ وصال:
خواجہ احرار کی نظر کے طفیل
مل گیا غیب سے سنِ رحلت
خوش طبیعت تھے اور خوش اوصاف
’’خواجہ زاہد خلیفۂ اسلاف‘‘
۱۵۲۹ء
صاؔبر براری، کراچی
آپ کی ولادت باسعادت:
قصبہ وخش نزد حصار علاقہ بخارا میں ۱۴ شوال ۸۵۲ھ / ۱۱ دسمبر ۱۴۴۸ء کو ہوئی ۔ آپ کا انتساب طریقہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ عبید اللہ احرار قدس سرہ سے ہے ۔ آپ حضرت خواجہ یعقوب چرخی قدس سرہ کے نواسہ ہیں اور ذکر کی تلقین اُن کے کسی خلیفہ سے حاصل کی تھی ۔ جب حضرت احرار قدس سرہ کے رشد و ہدایت کا آوازہ آپ کے کان میں پہنچا تو حصار سے سمر قند کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر محلہ وانسرائے میں قیام فرما ہوئے ۔ یہاں سے حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کی خانقاہ شریف تین کوس (چھ میل) کے فاصلہ پر تھی ۔ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کو بذریعہ کشف معلوم ہو گیا کہ مولانا خواجہ زاہد ہماری ملاقات کے لیے آ رہے ہیں ۔ اُن کے دل میں آیا کہ آپ کا استقبال کرنا چاہیے عین دوپہر کے وقت فرمایا کہ سواری کا اونٹ لاؤ، اس پر سوار ہوکر تمام مریدین کو ساتھ لے کر چل پڑے کسی کو معلوم نہ تھا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں ۔ آپ نے اونٹ کو اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ جہاں چاہے چلا جائے۔ جب حضرت خواجہ، آپ کی قیام گاہ پر پہنچے تو اونٹ خود بخود رک گیا ۔ اور حضرت خواجہ اُتر پڑے ۔
آپ کو حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کی تشریف آوری کی خبر ہوئی تو بے اختیار دوڑے آئے، حضرت کا استقبال کیا اور پاؤں کا بوسہ لیا پھر خلوت میں اپنے و اردات و معاملات و مقامات حضرت خواجہ قدس سرہ کی خدمت میں پیش کیے اور بیعت کی خواہش کی۔ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نے بیعت کرکے اُسی مجلس میں درجۂ تکمیل تک پہنچا دیا اور خلافت عطا کرکے وہیں سے رخصت کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت خواجہ قد س سرہ کے بعض اصحاب آتشِ غیرت سے جلنے لگے کہ مولانا زاہد کو آپ نے پہلی ہی صحبت میں خلافت عطا فرمادی۔ حالانکہ ہم برسوں سے آپ کی خدمت کر رہے ہیں، مگر ہم پر یہ عنایت نہیں فرمائی۔ حضرت خواجہ قدس سرہ نے فرمایا کہ مولانا زاہد، چراغ اور تیل بتی تیار کرکے ہمارے پاس آئے تھے۔ ہم نے صرف روشن کرکے رخصت کردیا۔ یہ معاملہ حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کے تصرفِ عظیم اور آپ (مولانا خواجہ زاہد ) کے کمال استعداد و قابلیت پر دلالت کرتا ہے۔
آپ حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کے خلیفۂ اعظم تھے۔ علمِ ظاہری و باطنی میں خوب وافر حصہ رکھتے تھے۔ فقر و تجرید اور توحید میں مقاماتِ عالیہ پر فائز تھے۔ بیعت ہونے سے قبل برسوں ریاضت و مجاہدہ میں مشغول رہے تھے۔
وفات:
آپ کی رحلت یکم ربیع اول ۹۳۶ھ/ ۱۵۲۹ء کو وخش میں ہوئی اور وہیں مزار مقدس بنا جو مرجع خواص و علوم ہے۔
(تاریخِ مشائخ نقشبند)
مولانا محمد زاہد و خشی قدس سرہ
نسبت و تعلق:
آپ کا انتساب طریقہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ احرار سے ہے۔ بقول شیخ شرف الدین محمد کشمیری مجددی صاحب روضۃ السلام آپ خواجہ یعقوب چرخی کے رشتہ دار بلکہ نواسہ ہیں۔ آپ نے ذکر کی تلقین ان کے کسی خلیفہ سے حاصل کی تھی۔ جب خواجہ احرار کے ارشاد کا آوازہ آپ کے کان میں پہنچا تو حصار سے سمر قند کی طرف روانہ ہوئے۔ اور سمر قند میں پہنچ کر محلّہ و انسرا میں اترے۔ محلّہ و انسرا سے حضرت خواجہ کا مسکن تین کوس پر تھا۔ حضرت کو بذریعہ کشف معلوم ہوگیا کہ مولانا زاہد ہماری ملاقات کے لیے آرہے ہیں آپ کے دل میں آیا کہ مولانا کے استقبال کے لیے نکلیں۔ عین دوپہر کے وقت آپ نے فرمایا کہ سواری کا اونٹ لاؤ۔ آپ اس پر سوار ہوگئے۔ تمام مریدین ساتھ تھے۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں۔ آپ نے اونٹ کو اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ جہاں چاہے چلا جائے۔ جب حضرت مولانا کی قیام گاہ پر پہنچے۔ تو اُونٹ خود بخود رُک گیا۔ اور حضرت اُتر پڑے۔ مولانا کو حضرت کی تشریف آوری کی خبر ہوئی تو بے اختیار دوڑے آئے۔ اور حضرت کا استقبال کیا۔ اور آپ کے پاؤں کو بوسہ دیا۔ مولانا نے خلوت میں اپنے واردات و معاملات حضرت کے آگے پیش کیے اور بیعت کی خواہش کی۔ حضرت نے آپ کی بیعت کرکے اُسی مجلس میں درجہ تکمیل تک پہنچادیا۔ اور خلافت عطا کرکے وہیں سے رخصت کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت کے بعض اصحاب آتش غیرت میں جلنے لگے۔ کہ مولانا محمد زاہد کو آپ نے پہلی ہی صحبت میں خلاف عطا فرمادی۔ حالانکہ ہم برسوں سے آپ کی خدمت کر رہے ہیں۔ مگر ہم پر یہ عنایت نہیں فرمائی۔ حضرت نے فرمایا کہ مولانا زاہد چراغ اور تیل بتی تیار کرکے ہمارے پاس آئے تھے۔ ہم نے اس کو صرف روشن کرکے رخصت کردیا۔ یہ معاملہ حضرت خواجہ کے تصرف کے تصرف عظیم اور مولانا کے کمال استعداد و قابلیت پر دلالت کرتا ہے۔
وخش نزد حصار علاقہ بخارا (۸۵۲ھ/ ۱۴۴۸ء۔۔۔۹۳۶ھ/ ۱۵۲۹ء)
قطعۂ تاریخ وصال:
خواجہ احرار کی نظر کے طفیل
مل گیا غیب سے سنِ رحلت
خوش طبیعت تھے اور خوش اوصاف
’’خواجہ زاہد خلیفۂ اسلاف‘‘
۱۵۲۹ء
صاؔبر براری، کراچی
آپ کی ولادت باسعادت:
قصبہ وخش نزد حصار علاقہ بخارا میں ۱۴ شوال ۸۵۲ھ / ۱۱ دسمبر ۱۴۴۸ء کو ہوئی ۔ آپ کا انتساب طریقہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ عبید اللہ احرار قدس سرہ سے ہے ۔ آپ حضرت خواجہ یعقوب چرخی قدس سرہ کے نواسہ ہیں اور ذکر کی تلقین اُن کے کسی خلیفہ سے حاصل کی تھی ۔ جب حضرت احرار قدس سرہ کے رشد و ہدایت کا آوازہ آپ کے کان میں پہنچا تو حصار سے سمر قند کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر محلہ وانسرائے میں قیام فرما ہوئے ۔ یہاں سے حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کی خانقاہ شریف تین کوس (چھ میل) کے فاصلہ پر تھی ۔ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کو بذریعہ کشف معلوم ہو گیا کہ مولانا خواجہ زاہد ہماری ملاقات کے لیے آ رہے ہیں ۔ اُن کے دل میں آیا کہ آپ کا استقبال کرنا چاہیے عین دوپہر کے وقت فرمایا کہ سواری کا اونٹ لاؤ، اس پر سوار ہوکر تمام مریدین کو ساتھ لے کر چل پڑے کسی کو معلوم نہ تھا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں ۔ آپ نے اونٹ کو اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ جہاں چاہے چلا جائے۔ جب حضرت خواجہ، آپ کی قیام گاہ پر پہنچے تو اونٹ خود بخود رک گیا ۔ اور حضرت خواجہ اُتر پڑے ۔
آپ کو حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کی تشریف آوری کی خبر ہوئی تو بے اختیار دوڑے آئے، حضرت کا استقبال کیا اور پاؤں کا بوسہ لیا پھر خلوت میں اپنے و اردات و معاملات و مقامات حضرت خواجہ قدس سرہ کی خدمت میں پیش کیے اور بیعت کی خواہش کی۔ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نے بیعت کرکے اُسی مجلس میں درجۂ تکمیل تک پہنچا دیا اور خلافت عطا کرکے وہیں سے رخصت کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت خواجہ قد س سرہ کے بعض اصحاب آتشِ غیرت سے جلنے لگے کہ مولانا زاہد کو آپ نے پہلی ہی صحبت میں خلافت عطا فرمادی۔ حالانکہ ہم برسوں سے آپ کی خدمت کر رہے ہیں، مگر ہم پر یہ عنایت نہیں فرمائی۔ حضرت خواجہ قدس سرہ نے فرمایا کہ مولانا زاہد، چراغ اور تیل بتی تیار کرکے ہمارے پاس آئے تھے۔ ہم نے صرف روشن کرکے رخصت کردیا۔ یہ معاملہ حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کے تصرفِ عظیم اور آپ (مولانا خواجہ زاہد ) کے کمال استعداد و قابلیت پر دلالت کرتا ہے۔
آپ حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کے خلیفۂ اعظم تھے۔ علمِ ظاہری و باطنی میں خوب وافر حصہ رکھتے تھے۔ فقر و تجرید اور توحید میں مقاماتِ عالیہ پر فائز تھے۔ بیعت ہونے سے قبل برسوں ریاضت و مجاہدہ میں مشغول رہے تھے۔
وفات:
آپ کی رحلت یکم ربیع اول ۹۳۶ھ/ ۱۵۲۹ء کو وخش میں ہوئی اور وہیں مزار مقدس بنا جو مرجع خواص و علوم ہے۔
(تاریخِ مشائخ نقشبند)
مولانا محمد زاہد و خشی قدس سرہ
نسبت و تعلق:
آپ کا انتساب طریقہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ احرار سے ہے۔ بقول شیخ شرف الدین محمد کشمیری مجددی صاحب روضۃ السلام آپ خواجہ یعقوب چرخی کے رشتہ دار بلکہ نواسہ ہیں۔ آپ نے ذکر کی تلقین ان کے کسی خلیفہ سے حاصل کی تھی۔ جب خواجہ احرار کے ارشاد کا آوازہ آپ کے کان میں پہنچا تو حصار سے سمر قند کی طرف روانہ ہوئے۔ اور سمر قند میں پہنچ کر محلّہ و انسرا میں اترے۔ محلّہ و انسرا سے حضرت خواجہ کا مسکن تین کوس پر تھا۔ حضرت کو بذریعہ کشف معلوم ہوگیا کہ مولانا زاہد ہماری ملاقات کے لیے آرہے ہیں آپ کے دل میں آیا کہ مولانا کے استقبال کے لیے نکلیں۔ عین دوپہر کے وقت آپ نے فرمایا کہ سواری کا اونٹ لاؤ۔ آپ اس پر سوار ہوگئے۔ تمام مریدین ساتھ تھے۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں۔ آپ نے اونٹ کو اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ جہاں چاہے چلا جائے۔ جب حضرت مولانا کی قیام گاہ پر پہنچے۔ تو اُونٹ خود بخود رُک گیا۔ اور حضرت اُتر پڑے۔ مولانا کو حضرت کی تشریف آوری کی خبر ہوئی تو بے اختیار دوڑے آئے۔ اور حضرت کا استقبال کیا۔ اور آپ کے پاؤں کو بوسہ دیا۔ مولانا نے خلوت میں اپنے واردات و معاملات حضرت کے آگے پیش کیے اور بیعت کی خواہش کی۔ حضرت نے آپ کی بیعت کرکے اُسی مجلس میں درجہ تکمیل تک پہنچادیا۔ اور خلافت عطا کرکے وہیں سے رخصت کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت کے بعض اصحاب آتش غیرت میں جلنے لگے۔ کہ مولانا محمد زاہد کو آپ نے پہلی ہی صحبت میں خلاف عطا فرمادی۔ حالانکہ ہم برسوں سے آپ کی خدمت کر رہے ہیں۔ مگر ہم پر یہ عنایت نہیں فرمائی۔ حضرت نے فرمایا کہ مولانا زاہد چراغ اور تیل بتی تیار کرکے ہمارے پاس آئے تھے۔ ہم نے اس کو صرف روشن کرکے رخصت کردیا۔ یہ معاملہ حضرت خواجہ کے تصرف کے تصرف عظیم اور مولانا کے کمال استعداد و قابلیت پر دلالت کرتا ہے۔
❤1
وصال مبارک:
مولانا محمد زاہد قدس سرہ کا وصال موضع وخش [۱] میں غرہ ربیع الاول ۹۳۶ھ میں ہوا اور وہیں دفن ہوئے ـ
(حضرات القدس مصنفہ شیخ خواجہ بدر الدین سر ہندی خلیفہ مجد الف ثانی ۔ خزینہ الاصفیا ۔ مصنفہ جناب مفتی غلام سرور لاہوری) [۱۔ معجم البلدان یا قوت حموی میں ہے کہ وخش نواح بلخ میں ولایت ختلان کا ایک شہر ہے ۔ ختل سے یہ شہر اس قدر متصل ہے کہ دونوں ایک بستی سمجھے جاتے ہیں ۔ یہ بڑی بستی دریائے جیحوں کے کنارے پر ہے ۔ وہاں شاہی عمارتیں ہیں ۔ حضرات القدس میں ہے کہ وخش ایک گاؤں کا نام ہے جو حصار کے مضافات سے ہے ۔ ]
( مشائخِ نقشبندیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-zahid-wakhashi
مولانا محمد زاہد قدس سرہ کا وصال موضع وخش [۱] میں غرہ ربیع الاول ۹۳۶ھ میں ہوا اور وہیں دفن ہوئے ـ
(حضرات القدس مصنفہ شیخ خواجہ بدر الدین سر ہندی خلیفہ مجد الف ثانی ۔ خزینہ الاصفیا ۔ مصنفہ جناب مفتی غلام سرور لاہوری) [۱۔ معجم البلدان یا قوت حموی میں ہے کہ وخش نواح بلخ میں ولایت ختلان کا ایک شہر ہے ۔ ختل سے یہ شہر اس قدر متصل ہے کہ دونوں ایک بستی سمجھے جاتے ہیں ۔ یہ بڑی بستی دریائے جیحوں کے کنارے پر ہے ۔ وہاں شاہی عمارتیں ہیں ۔ حضرات القدس میں ہے کہ وخش ایک گاؤں کا نام ہے جو حصار کے مضافات سے ہے ۔ ]
( مشائخِ نقشبندیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-zahid-wakhashi
scholars.pk
Hazrat Molana Muhammad Zahid Khashi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا سید احمد اشرف کچھوچھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اسمِ گرامی: آپ کا اسمِ گرامی سید احمد اشرف تھا اور آپ عالمِ ربانی، عارف باللہ، مشہور آفاق بزرگ، اعلی ٰ حضرت ، محبوب رحمانی سید شاہ علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزندِ اکبر تھے۔
تاریخِ ولادت:
مولانا سید احمد اشرف رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 14 شوال المکرم 1286 ھ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اساتذۂ کچھوچھہ سے حاصل کی، پھر بارگاہِ رضویت میں آکر علم کاٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر بنے،نیز درسیات کی تکمیل بھی اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت الشاہ مولانا احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے کی۔
بیعت و خلافت:
حضرت مولانا سید احمد اشرف کچھوچھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے والد ماجد سید شاہ علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید وخلیفہ تھے۔
سیرت و خصائص:
عالمِ ربانی، عارف باللہ، حضرت مولانا سید احمد اشرف کچھوچھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان کے روشن کئے ہوئے چراغوں میں سے ایک چراغ تھے ۔
مولانا سید احمد کچھوچھوی علیہ الرحمہ صاحبِ قناعت ، تقوی و زہد کے حامل اور باطنی حسن آرستہ تھے۔ آپ نے اپنے سینے سےعالمِ انسانیت کو مستفیض کیا اور ان کی ذہنی واخلاقی تربیت کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی ۔
سائلین آپ کی بارگاہ میں شرعی مسئلہ لے کے آتے تو آپ ایسا جواب عطا فرماتے کہ اس کی تشنگی دور ہوجاتی اور اگر کوئی روحانی یا اپنی پریشانی ذکر کرتا کو آپ کامل طریقے سے اس کابھی حل فرما دیتے ۔
ردِ بد مذہبیت کے سلسلے میں آپ نے بھر پور کار کردگی پیش کی، بدمذہبوں کی طرف سے آنے والے ہر اعتراض کا دندان شکن جواب دیا ۔
آپ کا وجودِ مسعود بدمذہبوں کے لئے قہر خداندی تھا۔آپ نے کئی باطل عقائد والوں کو اپنی باتوں سے قائل کرکے دائرۂ اسلام میں داخل کیا۔
تاریخِ وصال:
حضرت مولانا سید احمد اشرف کچھوچھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا وصال 1343 ھ میں ہوا۔
ماخذ و مراجع: تذکرۂ علماء اہلسنت
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-ahmed-sharif-kacho-chowi
اسمِ گرامی: آپ کا اسمِ گرامی سید احمد اشرف تھا اور آپ عالمِ ربانی، عارف باللہ، مشہور آفاق بزرگ، اعلی ٰ حضرت ، محبوب رحمانی سید شاہ علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزندِ اکبر تھے۔
تاریخِ ولادت:
مولانا سید احمد اشرف رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 14 شوال المکرم 1286 ھ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اساتذۂ کچھوچھہ سے حاصل کی، پھر بارگاہِ رضویت میں آکر علم کاٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر بنے،نیز درسیات کی تکمیل بھی اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت الشاہ مولانا احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے کی۔
بیعت و خلافت:
حضرت مولانا سید احمد اشرف کچھوچھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے والد ماجد سید شاہ علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید وخلیفہ تھے۔
سیرت و خصائص:
عالمِ ربانی، عارف باللہ، حضرت مولانا سید احمد اشرف کچھوچھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان کے روشن کئے ہوئے چراغوں میں سے ایک چراغ تھے ۔
مولانا سید احمد کچھوچھوی علیہ الرحمہ صاحبِ قناعت ، تقوی و زہد کے حامل اور باطنی حسن آرستہ تھے۔ آپ نے اپنے سینے سےعالمِ انسانیت کو مستفیض کیا اور ان کی ذہنی واخلاقی تربیت کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی ۔
سائلین آپ کی بارگاہ میں شرعی مسئلہ لے کے آتے تو آپ ایسا جواب عطا فرماتے کہ اس کی تشنگی دور ہوجاتی اور اگر کوئی روحانی یا اپنی پریشانی ذکر کرتا کو آپ کامل طریقے سے اس کابھی حل فرما دیتے ۔
ردِ بد مذہبیت کے سلسلے میں آپ نے بھر پور کار کردگی پیش کی، بدمذہبوں کی طرف سے آنے والے ہر اعتراض کا دندان شکن جواب دیا ۔
آپ کا وجودِ مسعود بدمذہبوں کے لئے قہر خداندی تھا۔آپ نے کئی باطل عقائد والوں کو اپنی باتوں سے قائل کرکے دائرۂ اسلام میں داخل کیا۔
تاریخِ وصال:
حضرت مولانا سید احمد اشرف کچھوچھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا وصال 1343 ھ میں ہوا۔
ماخذ و مراجع: تذکرۂ علماء اہلسنت
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-ahmed-sharif-kacho-chowi
scholars.pk
Hazrat Molana Syed Ahmed Sharif Kachochowi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2👍1
حضرت یادگارِ سلف مولانا شاہ محمد عارف اللہ قادری میرٹھی ثم راولپنڈی علیہ الرحمہ
ولادت:
صیغمِ اسلام حضرت مولانا شاہ محمد عارف اللہ قادری میرٹھی بن حضرت مولانا شاہ محمد حبیب اللہ قادری رضوی ۱۴ شوال المکرم ۱۳۲۷ھ / ۲۹ اکتوبر ۱۹۰۹ء بروز جمعۃ المبارک میرٹھ (ہندوستان) میں پیدا ہوئے ۔
آپ کے والد مکرم، اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ کے خلیفہ مجاز تھے ۔
تعلیم و تربیت:
آپ نے ابتدائی تعلیم مدرسہ امداد الاسلام اور مدرسہ قومیہ عربیہ میرٹھ (ہند) میں حاصل کی اور انتہائی کتب معقولات و منقولات میرٹھ کی قدیم درس گاہ مدرسہ اسلامیہ عربیہ میں پڑھ کر ۲۵ نومبر ۱۹۳۳ء کو سندِ فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی ۔ بعد ازاں عربی، فارسی اور انگریزی کے امتحانات الٰہ آباد یونیورسٹی سے پاس کیے ۔
دینی و ملی خدمات:
علومِ قدیمہ و جدیدہ کی تحصیل و تکمیل کے بعد آپ نے خاندانی دستور کے مطابق والد گرامی کے حکم سے جامع مسجد خیرالمساجد میرٹھ میں خطابت جمعہ و عیدین کے فرائض انجام دینے شروع کیے ۔ اس کے علاوہ تبلیغی دورے کرکے غیر مسلموں کو اسلام کی صداقت و حقانیت سے روشناس کیا ۔ آپ کا انداز، تقریر نہایت پیارا اور دل کش ہے ۔ یہ انداز آپ نے حضرت مولانا شاہ محمد عبدالعلیم [۱] صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ سے سیکھا اور جلد ہی ایک نامور مقرر کی حیثیت سے مصروف ہوگئے ۔ کچھ مدت بعد آپ نے شہر کے مختلف رفاہی و تبلیغی اداروں اور انجمنوں کے سرپرست بن کر خدمتِ خلق کا فریضہ باحسن وجوہ انجام دیا ۔
[۱۔ والد ماجد قائد اہل سنّت علامہ شاہ احمد نورانی، صدر جمعیت علماء پاکستان (مرتب)]
تحریکِ پاکستان میں آپ کا حصّہ:
پاکستان (ایک اسلامی خطہ) کے حصول کی خاطر مسلمانانِ ہند کی نمائندہ جماعت مسلم لیگ میدانِ عمل میں آئی تو دیگر سنی اکابر کی طرح آپ بھی مسلم لیگ کے ہمنوا ہو گئے اور مسلم لیگ کا پیغام گلی گلی، کوچے کوچے اور گھر گھر پہنچانے کے لیے دورے شروع کر دیے، نواب محمد اسماعیل خان صدر صبوائی مسلم لیگ (یوپی) کی زیرِ قیادت شہری مسلم لیگ پولیٹیکل کل کانفرنس میرٹھ (منعقدہ ۳۱ دسمبر ۱۹۴۵ء و یکم و ۲ جنوری ۱۹۴۶) میں مجلس استقبالیہ کے صدر کی حیثیت سے شرکت کی اور ۱۸۵۷ء سے لے کر تحریکِ پاکستان تک مسلمانوں کی جد و جہد آزادی پر ’’ مختصر صدارتی خطبہ ‘‘ پڑھا ۔
آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس ہند (منعقدہ ۳۰ اپریل ۱۹۴۶ء) کو کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کرنے کے لیے صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی اور حضرت محدث کچھوچھوی رحمہا اللہ کی معیت میں ملک کے طول و عرض (یوپی ۔ سی پی ۔ بہار، پنجاب اور مشرقی و مغربی بنگال) کے دور ے کرتے رہے ۔ اس کانفرنس نے جد و جہد آزادی کو ایک نئی روح بخشی ۔ مجاہد ملت مولانا عبد الحامد بدایونی اور مولانا صبغۃ اللہ فرنگی محلی کی رفاقت میں آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسوں، کانفرنسوں اور بعض مشاورتی مجلسوں میں بھی شرکت کرتے رہے، یہاں تک کہ پاکستان معرضِ وجود میں آگیا ۔
حج بیت اللہ و ہجرت:
۱۹۴۹ء میں آپ پہلی مرتبہ حج بیت اللہ و زیارت روضۂ رسول علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے مشرف ہوئے ۔ جب وطن واپس پہنچے تو معلوم ہوا کہ تحریکِ پاکستان میں حصہ لینے اور مسلم لیگ کا سر گرم رکن ہونے کے جرم میں گرفتاری کا حکم صادر ہو چکا ہے ۔ اطلاع ملتے ہی آپ صرف جائداد کے کاغذ لے کر دہلی پہنچے اور بعد میں براستہ بمبئی بذریعہ بحری جہاز پاکستان پہنچ گئے ۔
ولادت:
صیغمِ اسلام حضرت مولانا شاہ محمد عارف اللہ قادری میرٹھی بن حضرت مولانا شاہ محمد حبیب اللہ قادری رضوی ۱۴ شوال المکرم ۱۳۲۷ھ / ۲۹ اکتوبر ۱۹۰۹ء بروز جمعۃ المبارک میرٹھ (ہندوستان) میں پیدا ہوئے ۔
آپ کے والد مکرم، اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ کے خلیفہ مجاز تھے ۔
تعلیم و تربیت:
آپ نے ابتدائی تعلیم مدرسہ امداد الاسلام اور مدرسہ قومیہ عربیہ میرٹھ (ہند) میں حاصل کی اور انتہائی کتب معقولات و منقولات میرٹھ کی قدیم درس گاہ مدرسہ اسلامیہ عربیہ میں پڑھ کر ۲۵ نومبر ۱۹۳۳ء کو سندِ فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی ۔ بعد ازاں عربی، فارسی اور انگریزی کے امتحانات الٰہ آباد یونیورسٹی سے پاس کیے ۔
دینی و ملی خدمات:
علومِ قدیمہ و جدیدہ کی تحصیل و تکمیل کے بعد آپ نے خاندانی دستور کے مطابق والد گرامی کے حکم سے جامع مسجد خیرالمساجد میرٹھ میں خطابت جمعہ و عیدین کے فرائض انجام دینے شروع کیے ۔ اس کے علاوہ تبلیغی دورے کرکے غیر مسلموں کو اسلام کی صداقت و حقانیت سے روشناس کیا ۔ آپ کا انداز، تقریر نہایت پیارا اور دل کش ہے ۔ یہ انداز آپ نے حضرت مولانا شاہ محمد عبدالعلیم [۱] صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ سے سیکھا اور جلد ہی ایک نامور مقرر کی حیثیت سے مصروف ہوگئے ۔ کچھ مدت بعد آپ نے شہر کے مختلف رفاہی و تبلیغی اداروں اور انجمنوں کے سرپرست بن کر خدمتِ خلق کا فریضہ باحسن وجوہ انجام دیا ۔
[۱۔ والد ماجد قائد اہل سنّت علامہ شاہ احمد نورانی، صدر جمعیت علماء پاکستان (مرتب)]
تحریکِ پاکستان میں آپ کا حصّہ:
پاکستان (ایک اسلامی خطہ) کے حصول کی خاطر مسلمانانِ ہند کی نمائندہ جماعت مسلم لیگ میدانِ عمل میں آئی تو دیگر سنی اکابر کی طرح آپ بھی مسلم لیگ کے ہمنوا ہو گئے اور مسلم لیگ کا پیغام گلی گلی، کوچے کوچے اور گھر گھر پہنچانے کے لیے دورے شروع کر دیے، نواب محمد اسماعیل خان صدر صبوائی مسلم لیگ (یوپی) کی زیرِ قیادت شہری مسلم لیگ پولیٹیکل کل کانفرنس میرٹھ (منعقدہ ۳۱ دسمبر ۱۹۴۵ء و یکم و ۲ جنوری ۱۹۴۶) میں مجلس استقبالیہ کے صدر کی حیثیت سے شرکت کی اور ۱۸۵۷ء سے لے کر تحریکِ پاکستان تک مسلمانوں کی جد و جہد آزادی پر ’’ مختصر صدارتی خطبہ ‘‘ پڑھا ۔
آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس ہند (منعقدہ ۳۰ اپریل ۱۹۴۶ء) کو کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کرنے کے لیے صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی اور حضرت محدث کچھوچھوی رحمہا اللہ کی معیت میں ملک کے طول و عرض (یوپی ۔ سی پی ۔ بہار، پنجاب اور مشرقی و مغربی بنگال) کے دور ے کرتے رہے ۔ اس کانفرنس نے جد و جہد آزادی کو ایک نئی روح بخشی ۔ مجاہد ملت مولانا عبد الحامد بدایونی اور مولانا صبغۃ اللہ فرنگی محلی کی رفاقت میں آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسوں، کانفرنسوں اور بعض مشاورتی مجلسوں میں بھی شرکت کرتے رہے، یہاں تک کہ پاکستان معرضِ وجود میں آگیا ۔
حج بیت اللہ و ہجرت:
۱۹۴۹ء میں آپ پہلی مرتبہ حج بیت اللہ و زیارت روضۂ رسول علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے مشرف ہوئے ۔ جب وطن واپس پہنچے تو معلوم ہوا کہ تحریکِ پاکستان میں حصہ لینے اور مسلم لیگ کا سر گرم رکن ہونے کے جرم میں گرفتاری کا حکم صادر ہو چکا ہے ۔ اطلاع ملتے ہی آپ صرف جائداد کے کاغذ لے کر دہلی پہنچے اور بعد میں براستہ بمبئی بذریعہ بحری جہاز پاکستان پہنچ گئے ۔
❤2
پاکستان میں آمد اور تبلیغ دین:
ہندوستان سے ہجرت فرما کر آپ کچھ عرصہ کراچی اور خوشاب (سرگودھا) میں رہے اور پھر راولپنڈی میں مستقل طور پر رہائش پذیر ہوگئے ۔ راولپنڈی میں آپ نے خطابت کا سلسلہ شروع کیا اور اندرونِ ملک تبلیغی دورے بھی شروع کر دِیے ۔ ۱۹۵۱ء میں جمعیت علماء پاکستان راولپنڈی کے صدر منتخب ہوگئے [۱] ۔
[۱۔] اب چونکہ آپ بوجہ پیرانہ سالی کمزور ہوچکے ہیں، اس لیے آپ کی سرپرستی میں جمعیت کی راولپنڈی شاخ کا صدر حضرت مولانا سید عبد القادر شاہ جیلانی ایم اے ایل ایل بی ۔ پی ایچ ڈی فاضل مدینہ یونیورسٹی کو منتخب کیا گیا ۔ امید واثق ہے کہ حضرت شاہ صاحب کی بال صلاحیت شخصیت جمعیت (راولپنڈی) کو بامِ عروج پر پہنچائے گی ۔ (محمد صدیق ہزاروی)
راولپنڈی میں ہی ایک دارالعلوم ’’ احسن المدارس ‘‘ قائم کیا اور مارچ ۱۹۵۳ء میں ” ماہنامہ سالک ‘‘ جاری کیا جو بارہ سال تک مذہب و ملت کی خدمات سر انجام دیتا رہا ۔
پسِ دیوارِ زنداں:
۱۹۵۳ء میں جب تحریک ختم نبوت چلی تو آپ بھی اس میں شریک ہوئے (اس تحریک کے صدر علامہ ابو الحسنات سید محمد احمد قادری رحمہ اللہ تھے اور آپ کی قیادت میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء نے تحفظ ختمِ نبوت کی خاطر جدوجہد کی) اس سلسلے میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرتے رہے ۔
۱۴ اگست ۱۹۵۹ کو پہلے مارشل لاء کے نفاذ پر اس وقت کے ڈپٹی کمشنر جی ایم یزدانی ملک کے نامناسب رویے پر جامع مسجد مرکزی راولپنڈی کی خطابت سے مستعفی ہوگئے ۔ ملک کے طول و عرض سے خطابت کی پیشکش ہوئی، لیکن آپ نے باصرار جامع مسجد واہ فیکٹری کی خطابت منظور فرمالی ۔
آپ نے ہندو پاک کے علاوہ دیگر ممالک میں دینِ اسلام کی تبلیغ فرمائی اور لاتعداد غیر مسلموں کو دولتِ ایمان سے مشرف کیا۔ ۱۹۶۸ء میں آپ بغداد، نجف اشرف، کربلا اور کاظمین سے ہوتے ہوئے انگلستان پہنچے اور آٹھ ماہ تک قیام فرماکر لندن، ڈیوزبری، برمنگھم، کیتھلے، بریڈ فورڈ اور دیگر بہت سے شہروں میں خطاب کیا۔ آپ کی پُر اثر تقریر سے متاثر ہوکر بے شمار عیسائیوں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔
۲۱؍اپریل ۱۹۷۴ء کو پھر انگلستان میں ورلڈ اسلامک مشن کی کانفرنس میں شرکت فرمائی[۱]۔ اور اگست تک مختلف شہروں اور قصبوں میں تبلیغی خدمات سر انجام دیتے رہے۔
[۱۔ اس کانفرنس کی صدارت مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی صدر جمعیت علماء پاکستان نے کی اور آپ ہی ورلڈ اسلامک مشن کے صدر منتخب ہوئے، جبکہ جنرل سیکرٹری کے لیے علامہ ارشد القادری کا انتخاب ہوا۔ محمد صادق قصوری، اکابرِ تحریک پاکستان ص۱۰۲]
حضرت مولانا شاہ عارف اللہ قادری اپنی بیعت کے بارے میں ’’میری بیعت‘‘ کے عنوان کے تحت خود لکھتے ہیں: میرا سلسلۂ طریقت علی حسین گیلانی قدس سرہ (کچھوچھہ شریف) سے نہ صرف وابستہ ہے (۲۰؍ربیع الاوّل شریف ۱۹۵۱ء کو بیعت کاشرف حاصل ہوا) بلکہ تاج خلافت و خرقۂ اجازت بھی عطا فرمایا گیا، لیکن اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ سے حسنِ عقیدت و محبت اور سلسلۂ عالیہ رضویہ کے فیوض و برکات سے بہرور ہونے کے لیے ۳۰؍جون ۱۹۴۴ء کو حضرت والد ماجد علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوا، اور حضرت صاحب نے تمام اوراد و معمولات کی اجازت کے ساتھ تبرکات بھی مرحمت فرمائے جو بحمدہٖ تعالیٰ میرے پاس محفوظ ہیں۔[۱]
[۱۔ مولانا شاہ محمد عارف اللہ قادری، افکارِ حبیب رضا، ص۱۹]
( تعارف علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-muhammad-arifullah-qadri-meerathi
ہندوستان سے ہجرت فرما کر آپ کچھ عرصہ کراچی اور خوشاب (سرگودھا) میں رہے اور پھر راولپنڈی میں مستقل طور پر رہائش پذیر ہوگئے ۔ راولپنڈی میں آپ نے خطابت کا سلسلہ شروع کیا اور اندرونِ ملک تبلیغی دورے بھی شروع کر دِیے ۔ ۱۹۵۱ء میں جمعیت علماء پاکستان راولپنڈی کے صدر منتخب ہوگئے [۱] ۔
[۱۔] اب چونکہ آپ بوجہ پیرانہ سالی کمزور ہوچکے ہیں، اس لیے آپ کی سرپرستی میں جمعیت کی راولپنڈی شاخ کا صدر حضرت مولانا سید عبد القادر شاہ جیلانی ایم اے ایل ایل بی ۔ پی ایچ ڈی فاضل مدینہ یونیورسٹی کو منتخب کیا گیا ۔ امید واثق ہے کہ حضرت شاہ صاحب کی بال صلاحیت شخصیت جمعیت (راولپنڈی) کو بامِ عروج پر پہنچائے گی ۔ (محمد صدیق ہزاروی)
راولپنڈی میں ہی ایک دارالعلوم ’’ احسن المدارس ‘‘ قائم کیا اور مارچ ۱۹۵۳ء میں ” ماہنامہ سالک ‘‘ جاری کیا جو بارہ سال تک مذہب و ملت کی خدمات سر انجام دیتا رہا ۔
پسِ دیوارِ زنداں:
۱۹۵۳ء میں جب تحریک ختم نبوت چلی تو آپ بھی اس میں شریک ہوئے (اس تحریک کے صدر علامہ ابو الحسنات سید محمد احمد قادری رحمہ اللہ تھے اور آپ کی قیادت میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء نے تحفظ ختمِ نبوت کی خاطر جدوجہد کی) اس سلسلے میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرتے رہے ۔
۱۴ اگست ۱۹۵۹ کو پہلے مارشل لاء کے نفاذ پر اس وقت کے ڈپٹی کمشنر جی ایم یزدانی ملک کے نامناسب رویے پر جامع مسجد مرکزی راولپنڈی کی خطابت سے مستعفی ہوگئے ۔ ملک کے طول و عرض سے خطابت کی پیشکش ہوئی، لیکن آپ نے باصرار جامع مسجد واہ فیکٹری کی خطابت منظور فرمالی ۔
آپ نے ہندو پاک کے علاوہ دیگر ممالک میں دینِ اسلام کی تبلیغ فرمائی اور لاتعداد غیر مسلموں کو دولتِ ایمان سے مشرف کیا۔ ۱۹۶۸ء میں آپ بغداد، نجف اشرف، کربلا اور کاظمین سے ہوتے ہوئے انگلستان پہنچے اور آٹھ ماہ تک قیام فرماکر لندن، ڈیوزبری، برمنگھم، کیتھلے، بریڈ فورڈ اور دیگر بہت سے شہروں میں خطاب کیا۔ آپ کی پُر اثر تقریر سے متاثر ہوکر بے شمار عیسائیوں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔
۲۱؍اپریل ۱۹۷۴ء کو پھر انگلستان میں ورلڈ اسلامک مشن کی کانفرنس میں شرکت فرمائی[۱]۔ اور اگست تک مختلف شہروں اور قصبوں میں تبلیغی خدمات سر انجام دیتے رہے۔
[۱۔ اس کانفرنس کی صدارت مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی صدر جمعیت علماء پاکستان نے کی اور آپ ہی ورلڈ اسلامک مشن کے صدر منتخب ہوئے، جبکہ جنرل سیکرٹری کے لیے علامہ ارشد القادری کا انتخاب ہوا۔ محمد صادق قصوری، اکابرِ تحریک پاکستان ص۱۰۲]
حضرت مولانا شاہ عارف اللہ قادری اپنی بیعت کے بارے میں ’’میری بیعت‘‘ کے عنوان کے تحت خود لکھتے ہیں: میرا سلسلۂ طریقت علی حسین گیلانی قدس سرہ (کچھوچھہ شریف) سے نہ صرف وابستہ ہے (۲۰؍ربیع الاوّل شریف ۱۹۵۱ء کو بیعت کاشرف حاصل ہوا) بلکہ تاج خلافت و خرقۂ اجازت بھی عطا فرمایا گیا، لیکن اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ سے حسنِ عقیدت و محبت اور سلسلۂ عالیہ رضویہ کے فیوض و برکات سے بہرور ہونے کے لیے ۳۰؍جون ۱۹۴۴ء کو حضرت والد ماجد علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوا، اور حضرت صاحب نے تمام اوراد و معمولات کی اجازت کے ساتھ تبرکات بھی مرحمت فرمائے جو بحمدہٖ تعالیٰ میرے پاس محفوظ ہیں۔[۱]
[۱۔ مولانا شاہ محمد عارف اللہ قادری، افکارِ حبیب رضا، ص۱۹]
( تعارف علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-muhammad-arifullah-qadri-meerathi
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Muhammad Arifullah Qadri Meerathi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
مجدد الفِ ثانی حضرت شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شیخ احمد ۔ کنیت: ابو البرکات ۔ القاب: بدر الدین، امامِ ربانی، مجدد الفِ ثانی، قیومِ زمان، وغیرہ ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
آپ کا شجرۂ نسب امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس طرح ملتا ہے ـ شیخ احمد بن شیخ عبد الاحد بن شیخ زین العابدین بن شیخ عبد الحی بن شیخ محمد بن شیخ حبیب اللہ بن شیخ رفیع الدین بن شیخ نصیر الدین بن شیخ سلیمان بن شیخ یوسف بن شیخ اسحاق بن شیخ عبد اللہ بن شیخ شعیب بن شیخ احمد بن شیخ یوسف بن شیخ شہاب الدین علی الملقب بہ فرخ شاہ بن شیخ نصیر الدین بن شیخ محمود بن شیخ سلیمان بن شیخ مسعود بن شیخ عبد اللہ الواعظ الاصغر بن شیخ عبد اللہ الواعظ الاکبر بن شیخ ابوالفتح بن شیخ اسحاق بن شیخ ابراہیم بن شیخ ناصر بن شیخ عبد اللہ بن عمر بن حفص بن عاصم بن عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعۃ المبارک 14 شوال المکرم 971ھ، مطابق مئی 1564ءکو سرہند شریف میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
جب آپ سنِ تعلیم کو پہنچے تو آپ کو مکتب میں داخل کر دیا گیا ۔ بعد ازاں اکثر علوم متداولہ والد بزرگوار سے حاصل کرکے سیالکوٹ تشریف لے جاکر معقولات کی بعض کتابیں حضرت مولانا کمال کشمیری رحمۃ اللہ علیہ اور حدیث کی بعض کتابیں مولانا یعقوب کشمیری رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھیں ۔ الغرض آپ سترہ سال کی عمر میں علوم ظاہری کی تحصیل کے سب مرحلے طے کر کے اپنے والد بزرگوار کی خدمت میں حاضر ہوکر تدریس میں مشغول ہو گئے، اور طلبہ کو اپنی برکات سے بہرہ ور فرماتے رہے ۔ اسی اثنامیں آپ نے عربی فارسی میں متعدد رسالے نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ تحریر فرمائے ۔ بہت سے مؤرخین نے لکھا ہے کہ آپ نے بچپن میں قرآنِ مجید حفظ کر لیا تھا ۔ لیکن آپ کے ایک مکتوب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دولت قلعہ گوالیار میں نظر بندی کے زمانے میں حاصل ہوئی ۔ (سیرت مجدد الفِ ثانی:84)
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ باقی باللہ علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، اور خلافت سے سرفراز ہوئے ۔ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت شاہ سکندر علیہ الرحمہ سے اجازت و خلافت حاصل تھی ۔ سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ میں اپنے والدِ گرامی شیخ عبد الاحد سے اجازت و خلافت حاصل تھی ۔ سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں اپنے استادِ محترم مولانا شیخ یعقوب کشمیری علیہ الرحمہ سے اجازت و خلافت حاصل فرمائی ۔حضرت مجدد کو تمام سلاسل میں خلافت حاصل تھی لیکن سلسلہ عالیہ نقشبندیہ سے آپ کو خاص لگاؤ تھا ۔ آپ ہی کے دم سے اس سلسلے کو پاک و ہند میں اور دیگر ممالک میں فروغ حاصل ہوا ۔
سیرت و خصائص:
عالی مرتبت، عظیم البرکت، قیومِ ملت، خزینۃ الرحمت، محدث رحمانی، غوث صمدانی، امام ربانی، مجدد الف ثانی، حضرت ابو البرکات شیخ احمد فاروقی نقشبندی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کے والد بزرگوار کا بیان ہے کہ آپ کی ولادت سے پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ تمام جہان میں ظلمت پھیل گئی ہے ۔سُور، بندر اور ریچھ لوگوں کو ہلاک کر رہے ہیں، اسی اثناء میں میرے سینے سے ایک نور نکلا اور اُس میں ایک تخت ظاہر ہوا ۔ اُس تخت پر ایک شخص تکیہ لگائے بیٹھا ہے اور اُس کے سامنے تمام ظالموں، زندیقوں اور ملحدوں کو بکرے کی طرح ذبح کر رہے ہیں اور کوئی شخص بآواز بلند کہہ رہا ہے: وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُط اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا ۔ "اور فرما دو! سچ آ گیا اور باطل مٹ گیا بے شک باطل مٹنے والا ہے " ۔ اس خواب کی تعبیر حضرت قدس سرہ نے شاہ کمال کیتھلی رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کی ۔ انہوں نے فرمایا کہ تمہارے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا جس سےالحاد و بدعت کی تاریکی دُور ہوگی ۔ یہ تعبیر بالکل درست نکلی ۔
واقعی ایسا ہوا اللہ جل شانہ نے حضرت مجدد کو اپنے دین کی خدمت کے لئے چن لیا تھا ۔ صبر و شکر، تسلیم و رضا حسبِ حال ہر ایک کی تعظیم، لوگوں پر شفقت، صلۂ رحمی، اربابِ حقوق کی رعایت، مریضوں کی عیادت، سلام میں سبقت، کلام میں نرمی آپ کا شیوۂ حسنہ تھا ۔ آپ کا طریقۂ عمل بر عزیمت تھا ۔ عبادات و عادات میں نہایت احتیاط اور سنت کا کمال اتباع ملحوظ تھا ۔ آج یہود و نصاریٰ صوفی ازم کی بات کرتے ہیں، اور ان کے سرمائے سے " انٹرنیشنل صوفی کانفرنسز " کا انعقاد کیا جا رہا ہے ۔ اس میں پلپلے، جاہل، دین و ملت فروش نام نہاد صوفیوں کی بھر مار ہوتی ہے ۔ جن کے ہاں دینِ اسلام کی ثانوی حیثیت بھی نہیں ہے ۔ ان کی صورت و سیرت اس بات کی گواہی دے رہی ہوتی ہیں ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شیخ احمد ۔ کنیت: ابو البرکات ۔ القاب: بدر الدین، امامِ ربانی، مجدد الفِ ثانی، قیومِ زمان، وغیرہ ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
آپ کا شجرۂ نسب امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس طرح ملتا ہے ـ شیخ احمد بن شیخ عبد الاحد بن شیخ زین العابدین بن شیخ عبد الحی بن شیخ محمد بن شیخ حبیب اللہ بن شیخ رفیع الدین بن شیخ نصیر الدین بن شیخ سلیمان بن شیخ یوسف بن شیخ اسحاق بن شیخ عبد اللہ بن شیخ شعیب بن شیخ احمد بن شیخ یوسف بن شیخ شہاب الدین علی الملقب بہ فرخ شاہ بن شیخ نصیر الدین بن شیخ محمود بن شیخ سلیمان بن شیخ مسعود بن شیخ عبد اللہ الواعظ الاصغر بن شیخ عبد اللہ الواعظ الاکبر بن شیخ ابوالفتح بن شیخ اسحاق بن شیخ ابراہیم بن شیخ ناصر بن شیخ عبد اللہ بن عمر بن حفص بن عاصم بن عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعۃ المبارک 14 شوال المکرم 971ھ، مطابق مئی 1564ءکو سرہند شریف میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
جب آپ سنِ تعلیم کو پہنچے تو آپ کو مکتب میں داخل کر دیا گیا ۔ بعد ازاں اکثر علوم متداولہ والد بزرگوار سے حاصل کرکے سیالکوٹ تشریف لے جاکر معقولات کی بعض کتابیں حضرت مولانا کمال کشمیری رحمۃ اللہ علیہ اور حدیث کی بعض کتابیں مولانا یعقوب کشمیری رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھیں ۔ الغرض آپ سترہ سال کی عمر میں علوم ظاہری کی تحصیل کے سب مرحلے طے کر کے اپنے والد بزرگوار کی خدمت میں حاضر ہوکر تدریس میں مشغول ہو گئے، اور طلبہ کو اپنی برکات سے بہرہ ور فرماتے رہے ۔ اسی اثنامیں آپ نے عربی فارسی میں متعدد رسالے نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ تحریر فرمائے ۔ بہت سے مؤرخین نے لکھا ہے کہ آپ نے بچپن میں قرآنِ مجید حفظ کر لیا تھا ۔ لیکن آپ کے ایک مکتوب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دولت قلعہ گوالیار میں نظر بندی کے زمانے میں حاصل ہوئی ۔ (سیرت مجدد الفِ ثانی:84)
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ باقی باللہ علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، اور خلافت سے سرفراز ہوئے ۔ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت شاہ سکندر علیہ الرحمہ سے اجازت و خلافت حاصل تھی ۔ سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ میں اپنے والدِ گرامی شیخ عبد الاحد سے اجازت و خلافت حاصل تھی ۔ سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں اپنے استادِ محترم مولانا شیخ یعقوب کشمیری علیہ الرحمہ سے اجازت و خلافت حاصل فرمائی ۔حضرت مجدد کو تمام سلاسل میں خلافت حاصل تھی لیکن سلسلہ عالیہ نقشبندیہ سے آپ کو خاص لگاؤ تھا ۔ آپ ہی کے دم سے اس سلسلے کو پاک و ہند میں اور دیگر ممالک میں فروغ حاصل ہوا ۔
سیرت و خصائص:
عالی مرتبت، عظیم البرکت، قیومِ ملت، خزینۃ الرحمت، محدث رحمانی، غوث صمدانی، امام ربانی، مجدد الف ثانی، حضرت ابو البرکات شیخ احمد فاروقی نقشبندی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کے والد بزرگوار کا بیان ہے کہ آپ کی ولادت سے پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ تمام جہان میں ظلمت پھیل گئی ہے ۔سُور، بندر اور ریچھ لوگوں کو ہلاک کر رہے ہیں، اسی اثناء میں میرے سینے سے ایک نور نکلا اور اُس میں ایک تخت ظاہر ہوا ۔ اُس تخت پر ایک شخص تکیہ لگائے بیٹھا ہے اور اُس کے سامنے تمام ظالموں، زندیقوں اور ملحدوں کو بکرے کی طرح ذبح کر رہے ہیں اور کوئی شخص بآواز بلند کہہ رہا ہے: وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُط اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا ۔ "اور فرما دو! سچ آ گیا اور باطل مٹ گیا بے شک باطل مٹنے والا ہے " ۔ اس خواب کی تعبیر حضرت قدس سرہ نے شاہ کمال کیتھلی رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کی ۔ انہوں نے فرمایا کہ تمہارے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا جس سےالحاد و بدعت کی تاریکی دُور ہوگی ۔ یہ تعبیر بالکل درست نکلی ۔
واقعی ایسا ہوا اللہ جل شانہ نے حضرت مجدد کو اپنے دین کی خدمت کے لئے چن لیا تھا ۔ صبر و شکر، تسلیم و رضا حسبِ حال ہر ایک کی تعظیم، لوگوں پر شفقت، صلۂ رحمی، اربابِ حقوق کی رعایت، مریضوں کی عیادت، سلام میں سبقت، کلام میں نرمی آپ کا شیوۂ حسنہ تھا ۔ آپ کا طریقۂ عمل بر عزیمت تھا ۔ عبادات و عادات میں نہایت احتیاط اور سنت کا کمال اتباع ملحوظ تھا ۔ آج یہود و نصاریٰ صوفی ازم کی بات کرتے ہیں، اور ان کے سرمائے سے " انٹرنیشنل صوفی کانفرنسز " کا انعقاد کیا جا رہا ہے ۔ اس میں پلپلے، جاہل، دین و ملت فروش نام نہاد صوفیوں کی بھر مار ہوتی ہے ۔ جن کے ہاں دینِ اسلام کی ثانوی حیثیت بھی نہیں ہے ۔ ان کی صورت و سیرت اس بات کی گواہی دے رہی ہوتی ہیں ۔
❤2
آئیے! اس صوفی کی بات کرتے ہیں، جو امام الاولیاء ہے، دین کا محافظ ہے، قرآن کا حافظ ہے، اسرارِ خدا وندی کا امین ہے، مصطفیٰ کریم ﷺ کی سنتوں کا عامل ہے، عالمِ ربانی ہے ، اور وہ مجدد الفِ ثانی ہے ۔ مغل شہنشاہِ اکبر کے عہدِ حکومت میں اسلام کے سر سبز و شاداب چمن پر ایک بار پھر کفر و الحاد، زندقہ اور بدعت و ضلالت کی گھٹا ٹوپ آندھیاں چھا گئیں ۔ اس نے دینِ حنیف میں ترمیم کرکے ایک نئے دین کی بنیاد رکھی '' دین الٰہی '' کے نام سے ایک ایسا مذہب ایجاد کیا گیا جو شریعتِ محمدیہ علیٰ صاحبھا الصلاۃ والسلام کے سرا سر مخالف اور قرآن و سنت سے انکار و انحراف کے مترادف تھا ۔
دینِ اسلام کی صداقت و عظمت کا وہ چراغ جو ایک ہزار سال سے روشن تھا، شاہِ وقت، علمائے سوء، اور جاہل صوفیوں کے ہاتھوں ٹمٹمانے لگا ۔ دینِ اسلام کی حالت زار جو شہنشاہِ اکبر اور اس کے بعد جہانگیر کے ہاتھوں رہی تھی ۔ اس کی طرف اشارہ حضرت مجدد الف ثانی نے اپنے ایک خط میں جو انہوں نے جہانگیر کے ایک مقرب کو لکھا، یوں بیان فرمائی:
" اسلام کی بے کسی کا یہ حال ہے کہ کفار کھلم کھلا اس پر طعن توڑتے ہیں اور اسلام کے نام لیواؤں کی مذمت کرتے ہیں ۔ وہ ہر کوچہ و بازار میں بے خوف و خطر کفر کے احکام جاری کرتے اور کفار کی مدح و ستائش کرتے ہیں، مسلمان اسلامی احکام کی بجا آوری سے قاصر اور شریعت محمدیہ پر عمل پیرا ہونے سے عاجز ہیں '' ۔ (ایضاً)
دینِ اکبری کو رعایا کے تمام طبقوں کے لئے قابلِ قبول بنانے کے لئے عقیدۂ توحید میں اس قدر ترمیم کی گئی کہ ہندوؤں کی بت پرستی، مجوسیوں کی آتش پرستی اور ویدوں میں بیان کردہ فلسفیانہ موشگافیوں کو نئے دین میں سمیٹ لیا گیا ہے، اس طرح اکبر کا " دینِ الٰہی " مختلف مذاہب کے عقائد و خیالات کا ایک ملغوبہ بن گیا تھا ۔ کتاب اللہ اور سنت رسول الله ﷺ جو دین کی اصل بنیاد تھی، وہ طاقِ نسیاں پر رکھ دی گئیں، سورج کی پرستش چاروں طرف لازمی قرار دی گئی، آگ، پانی، درخت اور گائے کو پوجنا جائز ٹھہرا، اکبر ہر روز خود صبح اُٹھ کر سورج کی پرستش کرتا، اس کے بعد مشتاقانِ دید کے لئے دیوانِ عام میں آ بیٹھتا تھا، لوگ شہنشاہ کے لئے سجدۂ تعظیمی بجا لاتے جسے اس وقت کے دین فروش ملاؤں نے جائز قرار دیا تھا ۔ اس کے بر عکس اسلامی شعائر کو درخورِ اعتنانہ سمجھا گیا اور بادشاہ کو یہ بتلایا گیا کہ دینِ اسلام ایک ہزار سال گزر جانے کے بعد نعوذ باللہ بالکل اسی طرح بےکار اور ناکارہ ہو گیا ہے، جس طرح کہ اسلام سے پہلے کے مذاہب اقتدارِ زمانہ کے ہاتھوں معطل ہو چکے ہیں ۔
ہندو عورتوں سے شادیاں کر لینے کے بعد اکبر کے دِل میں ہندوؤں کے لئے نرم گوشہ پیدا ہو گیا تھا ۔ حکومت کے بڑے بڑے عہدوں پر ہندو فائز تھے، اپنے اقتدار اور شاہ وقت کی نظرِ عنایت نے انہیں اس قدر دلیر کر دیا تھا کہ وہ مسلمانوں کی ہر آن ہر لمحہ دل آزاری کرتے، مسجدیں شہید کر کے وہاں مندر بنائے گئے، ہندوؤں کے برت کا دن آتا تو مسلمانوں کو دن میں کھانے پینے سے حکماً روک دیا جاتا، انہیں حکم ہوتا کہ ان کے چولہوں میں آگ نہ جلے ۔ لیکن جب رمضان المبارک آتا تو ہندو سرِ عام کھاتے، رمضان کی عزت و حرمت کی حفاظت کے لئے بادشاہ کوئی فرمان جاری نہ کرتا تھا ۔ حالات اس حد تک ناساز گار تھے کہ دین کے پنپنے کی کوئی اُمید نظر نہ آتی تھی ۔مگر ہمیشہ یہ ہوا کہ جب بھی دین اسلام پر کوئی آزمائش کا وقت آیا رحمتِ حق میں ارتعاش پیدا ہوا ۔ دین حق کی حفاظت کے لئےکوئی نہ کوئی ہستی ان تِیرہ و تاریک فضاؤں میں نمودار ہوئی جس کی نورانی کرنوں سے کفر و الحاد کی تاریکیاں چھٹ گئیں جس کی ضیاء بار تابانیوں سے بدعت و ضلالت کی آندھیاں ڈھل گئیں جس کی ضَوفشاں شعاعوں سے زند قت کے اندھیرے بھی منور ہوئے اور توحید و سنت کی مشعلیں چمک اُٹھیں ۔
جب کفر و شرک، بدعت و ضلالت اور زندقہ و الحاد کی آندھیاں اپنی تمام تاریکیوں سمیت ہندوستان کی فضا ءپر چھا گئیں تو آسمانِ '' سر ہند '' پر سنت و ہدایت کا آفتاب طلوع ہوا جس کو لوگ شیخ احمد سر ہندی کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ اس آفتاب کی ضیاء پاشیوں سے ظلمت و گمراہی کے اندھیرے کافور ہوئے، اکبر نے جس دین کی بنیاد رکھی تھی اور اعوان و انصارِ حکومت جس کی تبلیغ میں ہمہ تن مصروف تھے، حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو بیخ و بن سے اُکھاڑنے کا تہیہ کیا ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ حق اپنی تمام جلوہ سامانیوں سے طلوع ہوتا ہے ۔ تو باطل کافور کی مانند تحلیل ہو جاتا ہے ۔ بادشاہ کو رعایہ سجدہ کرتی تھی ۔ جب حضرت مجدد الفِ ثانی جہانگیر کے دربار میں پہنچے، اس کو بھی آپ سے یہی توقع تھی، لیکن آپ نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا ۔ آپ نے فرمایا اللہ جل شانہ کی ذات کے علاوہ سجدہ کسی کے لئے جائز نہیں ہے، فرمایا: یہ گردن کٹ تو سکتی ہے لیکن باطل کے آگے جھک نہیں سکتی ۔
دینِ اسلام کی صداقت و عظمت کا وہ چراغ جو ایک ہزار سال سے روشن تھا، شاہِ وقت، علمائے سوء، اور جاہل صوفیوں کے ہاتھوں ٹمٹمانے لگا ۔ دینِ اسلام کی حالت زار جو شہنشاہِ اکبر اور اس کے بعد جہانگیر کے ہاتھوں رہی تھی ۔ اس کی طرف اشارہ حضرت مجدد الف ثانی نے اپنے ایک خط میں جو انہوں نے جہانگیر کے ایک مقرب کو لکھا، یوں بیان فرمائی:
" اسلام کی بے کسی کا یہ حال ہے کہ کفار کھلم کھلا اس پر طعن توڑتے ہیں اور اسلام کے نام لیواؤں کی مذمت کرتے ہیں ۔ وہ ہر کوچہ و بازار میں بے خوف و خطر کفر کے احکام جاری کرتے اور کفار کی مدح و ستائش کرتے ہیں، مسلمان اسلامی احکام کی بجا آوری سے قاصر اور شریعت محمدیہ پر عمل پیرا ہونے سے عاجز ہیں '' ۔ (ایضاً)
دینِ اکبری کو رعایا کے تمام طبقوں کے لئے قابلِ قبول بنانے کے لئے عقیدۂ توحید میں اس قدر ترمیم کی گئی کہ ہندوؤں کی بت پرستی، مجوسیوں کی آتش پرستی اور ویدوں میں بیان کردہ فلسفیانہ موشگافیوں کو نئے دین میں سمیٹ لیا گیا ہے، اس طرح اکبر کا " دینِ الٰہی " مختلف مذاہب کے عقائد و خیالات کا ایک ملغوبہ بن گیا تھا ۔ کتاب اللہ اور سنت رسول الله ﷺ جو دین کی اصل بنیاد تھی، وہ طاقِ نسیاں پر رکھ دی گئیں، سورج کی پرستش چاروں طرف لازمی قرار دی گئی، آگ، پانی، درخت اور گائے کو پوجنا جائز ٹھہرا، اکبر ہر روز خود صبح اُٹھ کر سورج کی پرستش کرتا، اس کے بعد مشتاقانِ دید کے لئے دیوانِ عام میں آ بیٹھتا تھا، لوگ شہنشاہ کے لئے سجدۂ تعظیمی بجا لاتے جسے اس وقت کے دین فروش ملاؤں نے جائز قرار دیا تھا ۔ اس کے بر عکس اسلامی شعائر کو درخورِ اعتنانہ سمجھا گیا اور بادشاہ کو یہ بتلایا گیا کہ دینِ اسلام ایک ہزار سال گزر جانے کے بعد نعوذ باللہ بالکل اسی طرح بےکار اور ناکارہ ہو گیا ہے، جس طرح کہ اسلام سے پہلے کے مذاہب اقتدارِ زمانہ کے ہاتھوں معطل ہو چکے ہیں ۔
ہندو عورتوں سے شادیاں کر لینے کے بعد اکبر کے دِل میں ہندوؤں کے لئے نرم گوشہ پیدا ہو گیا تھا ۔ حکومت کے بڑے بڑے عہدوں پر ہندو فائز تھے، اپنے اقتدار اور شاہ وقت کی نظرِ عنایت نے انہیں اس قدر دلیر کر دیا تھا کہ وہ مسلمانوں کی ہر آن ہر لمحہ دل آزاری کرتے، مسجدیں شہید کر کے وہاں مندر بنائے گئے، ہندوؤں کے برت کا دن آتا تو مسلمانوں کو دن میں کھانے پینے سے حکماً روک دیا جاتا، انہیں حکم ہوتا کہ ان کے چولہوں میں آگ نہ جلے ۔ لیکن جب رمضان المبارک آتا تو ہندو سرِ عام کھاتے، رمضان کی عزت و حرمت کی حفاظت کے لئے بادشاہ کوئی فرمان جاری نہ کرتا تھا ۔ حالات اس حد تک ناساز گار تھے کہ دین کے پنپنے کی کوئی اُمید نظر نہ آتی تھی ۔مگر ہمیشہ یہ ہوا کہ جب بھی دین اسلام پر کوئی آزمائش کا وقت آیا رحمتِ حق میں ارتعاش پیدا ہوا ۔ دین حق کی حفاظت کے لئےکوئی نہ کوئی ہستی ان تِیرہ و تاریک فضاؤں میں نمودار ہوئی جس کی نورانی کرنوں سے کفر و الحاد کی تاریکیاں چھٹ گئیں جس کی ضیاء بار تابانیوں سے بدعت و ضلالت کی آندھیاں ڈھل گئیں جس کی ضَوفشاں شعاعوں سے زند قت کے اندھیرے بھی منور ہوئے اور توحید و سنت کی مشعلیں چمک اُٹھیں ۔
جب کفر و شرک، بدعت و ضلالت اور زندقہ و الحاد کی آندھیاں اپنی تمام تاریکیوں سمیت ہندوستان کی فضا ءپر چھا گئیں تو آسمانِ '' سر ہند '' پر سنت و ہدایت کا آفتاب طلوع ہوا جس کو لوگ شیخ احمد سر ہندی کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ اس آفتاب کی ضیاء پاشیوں سے ظلمت و گمراہی کے اندھیرے کافور ہوئے، اکبر نے جس دین کی بنیاد رکھی تھی اور اعوان و انصارِ حکومت جس کی تبلیغ میں ہمہ تن مصروف تھے، حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو بیخ و بن سے اُکھاڑنے کا تہیہ کیا ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ حق اپنی تمام جلوہ سامانیوں سے طلوع ہوتا ہے ۔ تو باطل کافور کی مانند تحلیل ہو جاتا ہے ۔ بادشاہ کو رعایہ سجدہ کرتی تھی ۔ جب حضرت مجدد الفِ ثانی جہانگیر کے دربار میں پہنچے، اس کو بھی آپ سے یہی توقع تھی، لیکن آپ نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا ۔ آپ نے فرمایا اللہ جل شانہ کی ذات کے علاوہ سجدہ کسی کے لئے جائز نہیں ہے، فرمایا: یہ گردن کٹ تو سکتی ہے لیکن باطل کے آگے جھک نہیں سکتی ۔
❤1
علامہ اقبال فرماتے ہیں: ؎
گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے
جس کے نفسِ گرم سے ہے گرمیٔ احرار
بادشاہ کو درباریوں نے قتل پہ ابھارا، جو شہنشاہ کو سجدہ نہ کرے وہ قتل کا مستحق ہے ۔ لیکن بادشاہ کو قتل کی جرأت نہ ہوئی۔آپ کو"قلعہ گوالیار"میں نظربندکردیا۔آپ نےان حالات میں بھی سلسلہ تبلیغ جاری رکھا ۔بالآخر آپ کی کوششیں رنگ لائیں۔جواسلام پرپابندیاں تھیں وہ ختم کردی گئیں،اسلام کا بول بالا ہوگیا۔ہرطرف اسلام کی بہاریں پھر نظر آنے لگیں۔یہ تھے حقیقی صوفیاء ۔
آج بھی پھروہی حالات ہیں،اسلام کے نام پر قائم ہونے والےاس ملک میں اسلام قبول کرنےپرپابندی لگادی گئی،غیرمسلموں کے تہواروں کو خصوصی طورپرمنایاجانےلگا،ہولی اوردیوالی پرعام تعطیل ہونےلگی۔مندروں اورگرجاگھروں کی تعمیروسرپرستی حکومتی وزراءکررہے ہیں۔زنا،قمار،شراب،وغیرہ کےحکومت کی طرف سےلائسنس جاری ہورہےہیں۔ناچ ڈانس،گانےباجے،بےحیائی کے کاموں کو"ثقافت "کہا جانے لگا۔ان دھندوں سےوابستہ افرادکو "ہیرو "کہا جانے لگا۔اسلام کےنام پرقائم ہونےوالےملک میں کفارکانظام نافذہے۔اسی طرح حال ہی میں " دارالعلوم دیوبند " کا " فتویٰ " آیا ہےجس میں"گائے"کی قربانی کرنےسےمنع کیاگیاہے۔معلوم نہیں ان"فتویٰ فروشوں"نےکس دلیل سےمنع کیا ہے۔ہندوستان میں صرف گائےکےگوشت کےشبہ کی بناءپردن دہاڑےمسلمانوں کوجان سےماردیاجاتاہے۔برمااوردیگرممالک میں مسلمانوں کےحالات ناگفتہ بہ ہیں،کوئی پرسانِ حال نہیں۔الغرض اس وقت جہان میں خونِ مسلم سےارزاں کوئی اورچیزنہیں ہے۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی حالتِ زار پر رحم فرمائے،پھرسے امت کی راہنمائی کےلئےکوئی اور شیخ سرہندی و صلاح الدین ایوبی عطاء فرمائے،اورمسلم حکمرانوں کو حمیّتِ دینی عطاء فرمائے۔(آمین)
وصال:بروز پیر 29/صفرالمظفر1034ھ،مطابق جنوری/1625ءکو وصال فرمایا۔آپ کامزار پرانوار سرہند شریف (انڈیا)میں مرکزِ انوار وتجلیات ہے۔
ماخذمراجع: تاریخ مشائخِ نقشبندیہ۔سیرت مجددالفِ ثانی۔
حکیم الامّت حضرت علامہ اقبال علیہ الرحمہ تربتِ اطہر کے بارے میں یوں فرماتے ہیں:
وہ خاک کہ ہے زیرِ فلک مطلعِ انوار
اس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحبِ اسرار
جس کے نفسِ گرم سے ہے گرمئِ احرار
اللہ نے بر وقت کیا جس کو خبردار
حاضر ہوا میں شیخِ مجدّد کی لحد پر
اس خاک کے ذرّوں سے ہیں شرمندہ ستارے
گردن نہ جُھکی جس کی جہانگیر کے آگے
وہ ہند میں سرمایۂ ملّت کا نگہباں
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ahmed-sirhindi-imam-rabbani-mujaddid
گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے
جس کے نفسِ گرم سے ہے گرمیٔ احرار
بادشاہ کو درباریوں نے قتل پہ ابھارا، جو شہنشاہ کو سجدہ نہ کرے وہ قتل کا مستحق ہے ۔ لیکن بادشاہ کو قتل کی جرأت نہ ہوئی۔آپ کو"قلعہ گوالیار"میں نظربندکردیا۔آپ نےان حالات میں بھی سلسلہ تبلیغ جاری رکھا ۔بالآخر آپ کی کوششیں رنگ لائیں۔جواسلام پرپابندیاں تھیں وہ ختم کردی گئیں،اسلام کا بول بالا ہوگیا۔ہرطرف اسلام کی بہاریں پھر نظر آنے لگیں۔یہ تھے حقیقی صوفیاء ۔
آج بھی پھروہی حالات ہیں،اسلام کے نام پر قائم ہونے والےاس ملک میں اسلام قبول کرنےپرپابندی لگادی گئی،غیرمسلموں کے تہواروں کو خصوصی طورپرمنایاجانےلگا،ہولی اوردیوالی پرعام تعطیل ہونےلگی۔مندروں اورگرجاگھروں کی تعمیروسرپرستی حکومتی وزراءکررہے ہیں۔زنا،قمار،شراب،وغیرہ کےحکومت کی طرف سےلائسنس جاری ہورہےہیں۔ناچ ڈانس،گانےباجے،بےحیائی کے کاموں کو"ثقافت "کہا جانے لگا۔ان دھندوں سےوابستہ افرادکو "ہیرو "کہا جانے لگا۔اسلام کےنام پرقائم ہونےوالےملک میں کفارکانظام نافذہے۔اسی طرح حال ہی میں " دارالعلوم دیوبند " کا " فتویٰ " آیا ہےجس میں"گائے"کی قربانی کرنےسےمنع کیاگیاہے۔معلوم نہیں ان"فتویٰ فروشوں"نےکس دلیل سےمنع کیا ہے۔ہندوستان میں صرف گائےکےگوشت کےشبہ کی بناءپردن دہاڑےمسلمانوں کوجان سےماردیاجاتاہے۔برمااوردیگرممالک میں مسلمانوں کےحالات ناگفتہ بہ ہیں،کوئی پرسانِ حال نہیں۔الغرض اس وقت جہان میں خونِ مسلم سےارزاں کوئی اورچیزنہیں ہے۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی حالتِ زار پر رحم فرمائے،پھرسے امت کی راہنمائی کےلئےکوئی اور شیخ سرہندی و صلاح الدین ایوبی عطاء فرمائے،اورمسلم حکمرانوں کو حمیّتِ دینی عطاء فرمائے۔(آمین)
وصال:بروز پیر 29/صفرالمظفر1034ھ،مطابق جنوری/1625ءکو وصال فرمایا۔آپ کامزار پرانوار سرہند شریف (انڈیا)میں مرکزِ انوار وتجلیات ہے۔
ماخذمراجع: تاریخ مشائخِ نقشبندیہ۔سیرت مجددالفِ ثانی۔
حکیم الامّت حضرت علامہ اقبال علیہ الرحمہ تربتِ اطہر کے بارے میں یوں فرماتے ہیں:
وہ خاک کہ ہے زیرِ فلک مطلعِ انوار
اس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحبِ اسرار
جس کے نفسِ گرم سے ہے گرمئِ احرار
اللہ نے بر وقت کیا جس کو خبردار
حاضر ہوا میں شیخِ مجدّد کی لحد پر
اس خاک کے ذرّوں سے ہیں شرمندہ ستارے
گردن نہ جُھکی جس کی جہانگیر کے آگے
وہ ہند میں سرمایۂ ملّت کا نگہباں
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ahmed-sirhindi-imam-rabbani-mujaddid
scholars.pk
Sheikh Ahmad Sirhindi Mujaddid Alf Sani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1