Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت خواجہ حذیفہ مرعشی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ حذیفہ ۔ لقب: سدید الدین، المرعشی، رکن الکعبہ ۔ والد کا اسمِ گرامی: ابنِ قتادہ ۔
تحصیلِ علم:
سات سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا تھا ۔ حضرت خواجہ فضیل بن عیاض، اور خواجہ ابراہیم بن ادہم کی صحبت میں کامل و اکمل ہوئے ۔ آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے سب سے بڑے عالم اور فقیہ بے بدل تھے ۔ فقہ و تصوف میں آپ نے کثیر مفید کتب تصنیف فرمائیں ۔
بیعت و خلافت:
ظاہری علوم میں تکمیل کے بعد حضرت خضر علیہ السلام کی راہنمائی میں حضرت ابراہیم بن ادہم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ تکمیلِ سلوک کے بعد آپ نے خرقۂ خلافت حضرت خواجہ ابراہیم بن ادہم سے حاصل کیا، اور حضرت خواجہ ابراہیم نے جو نعمت حضرت خضر علیہ السلام، حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ اور خواجہ فضیل بن عیاض علیہ الرحمہ سے حاصل کی تھی آخر عمر میں آپ نے تمام خواجہ حذیفہ کے حوالہ کر دی اور اپنا جانشین مقرر فرما دیا ۔
سیرت و خصائص:
قطبِ وقت شیخ العصر علامۃ الدہر حضرت خواجہ سدید الدین حذیفہ مرعشی رکن الکعبہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۔
آپ اپنے وقت کے بہت بڑے عالم، محدث، اور فقیہ العصر تھے ۔ زہد و تقویٰ ، عبادت و ریاضت ، علم و عمل میں یکتائے زمانہ تھے ۔
شوقِ تلاوتِ قرآن:
ایک ختمِ قرآن دن میں اور ایک رات میں کرتے تھے ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ تیس سال تک با وضو رہے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ ہمیشہ روزہ سے رہتے اور چھ دن کے بعد افطار کیا کرتے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے اہل دل کی غذا تو لا الہ اللہ محمد رسول الله ﷺ ہے ۔
آپ کا شمار اکابر مشائخ اور پیشوائے اولیائے صاحب اسرار میں ہوتا ہے ۔ علم ِسلوک میں آپ کی تصانیف بہت ہیں ۔ آپ مجرد زندگی بسر کرتے تھے ۔ نہ بیوی تھی نہ بچے ۔ سارا وقت ذکر و اذکار ، مجاہدہ و مراقبہ میں مشغول رہتے تھے ۔ آپ جس درویش کو دیکھتے ان کا بے حد احترام و اکرام بجا لاتے تھے اور ان سے فیض طلب کرتے تھے ۔
عاجزی و انکساری:
آپ ہمیشہ ٹاٹ پہنتے تھے اور خلوت میں بیٹھے آہ و بکا میں مصروف رہتے تھے ۔ جب لوگوں نے پوچھا کہ اس قدر گریہ و زاری کا سبب کیا ہے تو فرمایا کہ اس وجہ سے روتا ہوں کہ مجھے معلوم نہیں کہ قیامت کے دن میں فریق فی الجنۃ کے زمرہ میں ہونگا یا فریق فی السعیر کے زمرہ میں ۔ یہ سُن کر ایک شخص نے کہا: کہ جب آپ کو یہ بات معلوم نہیں ہے تو پھر آپ لوگوں کو کیوں مرید کرتے ہیں؟ اور راہ راست سے ان کو کیوں دور کرتے ہیں؟ ۔ اس پر آپ نے نعرہ لگایا اور بے ہوش ہو کر گِر پڑے جب ہوش میں آئے تو ہاتف سے آواز آئی اور تمام حاضرین نے یہ آواز سنی کہ اے حذیفہ :میں تمہیں دوست رکھتا ہوں اور محمد مصطفیٰ ﷺ کی معیت میں بہشت میں جگہ دوں گا ۔ اس مجلس میں تین ہزار کفار بھی موجود تھے غیبی آواز سن کر تمام مسلمان ہو گئے ۔
آنحضرت ﷺ کا وعدۂ جنّت:
سیر الاقطاب میں ہے: کہ جب حضرت حذیفہ مرعشی قدس سرہٗ زیارتِ روضۂ رسول اللہ ﷺ سے مشرف ہوئے اور آنحضرت ﷺ کے جمال جہاں آراء کا مشاہدہ کیا تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ مجھے اس بات سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں مجھے دوزخ میں نہ ڈال دیا جائے ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: تم بہشت میں میرے ساتھ ہوگے اور جو شخص تیرے ساتھ واصل ہوگا وہ بھی بہشت میں آئے گا۔
ہر سال حج:
حضرت اقدس نے ستر سال تک بے ضرورت گھر سے باہر قدم نہ رکھا تھا، لیکن جب حجاجِ کرام حج سے واپس آ کر آپ سے ملتے تو بیان کرتے تھے کہ ہم نے آپ کو اپنے ساتھ کعبۃ اللہ اور بیت المقدس میں دیکھا ہے ۔
وصال:
آپ کا وصال 14 شوال المکرم 252ھ میں ہوا ۔ آپ کا مزار شریف بصرہ میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیاء ، اقتباس الانوار ، سیر الاقطاب
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-sadeeduddin-huzaifa-marashi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ حذیفہ ۔ لقب: سدید الدین، المرعشی، رکن الکعبہ ۔ والد کا اسمِ گرامی: ابنِ قتادہ ۔
تحصیلِ علم:
سات سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا تھا ۔ حضرت خواجہ فضیل بن عیاض، اور خواجہ ابراہیم بن ادہم کی صحبت میں کامل و اکمل ہوئے ۔ آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے سب سے بڑے عالم اور فقیہ بے بدل تھے ۔ فقہ و تصوف میں آپ نے کثیر مفید کتب تصنیف فرمائیں ۔
بیعت و خلافت:
ظاہری علوم میں تکمیل کے بعد حضرت خضر علیہ السلام کی راہنمائی میں حضرت ابراہیم بن ادہم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ تکمیلِ سلوک کے بعد آپ نے خرقۂ خلافت حضرت خواجہ ابراہیم بن ادہم سے حاصل کیا، اور حضرت خواجہ ابراہیم نے جو نعمت حضرت خضر علیہ السلام، حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ اور خواجہ فضیل بن عیاض علیہ الرحمہ سے حاصل کی تھی آخر عمر میں آپ نے تمام خواجہ حذیفہ کے حوالہ کر دی اور اپنا جانشین مقرر فرما دیا ۔
سیرت و خصائص:
قطبِ وقت شیخ العصر علامۃ الدہر حضرت خواجہ سدید الدین حذیفہ مرعشی رکن الکعبہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۔
آپ اپنے وقت کے بہت بڑے عالم، محدث، اور فقیہ العصر تھے ۔ زہد و تقویٰ ، عبادت و ریاضت ، علم و عمل میں یکتائے زمانہ تھے ۔
شوقِ تلاوتِ قرآن:
ایک ختمِ قرآن دن میں اور ایک رات میں کرتے تھے ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ تیس سال تک با وضو رہے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ ہمیشہ روزہ سے رہتے اور چھ دن کے بعد افطار کیا کرتے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے اہل دل کی غذا تو لا الہ اللہ محمد رسول الله ﷺ ہے ۔
آپ کا شمار اکابر مشائخ اور پیشوائے اولیائے صاحب اسرار میں ہوتا ہے ۔ علم ِسلوک میں آپ کی تصانیف بہت ہیں ۔ آپ مجرد زندگی بسر کرتے تھے ۔ نہ بیوی تھی نہ بچے ۔ سارا وقت ذکر و اذکار ، مجاہدہ و مراقبہ میں مشغول رہتے تھے ۔ آپ جس درویش کو دیکھتے ان کا بے حد احترام و اکرام بجا لاتے تھے اور ان سے فیض طلب کرتے تھے ۔
عاجزی و انکساری:
آپ ہمیشہ ٹاٹ پہنتے تھے اور خلوت میں بیٹھے آہ و بکا میں مصروف رہتے تھے ۔ جب لوگوں نے پوچھا کہ اس قدر گریہ و زاری کا سبب کیا ہے تو فرمایا کہ اس وجہ سے روتا ہوں کہ مجھے معلوم نہیں کہ قیامت کے دن میں فریق فی الجنۃ کے زمرہ میں ہونگا یا فریق فی السعیر کے زمرہ میں ۔ یہ سُن کر ایک شخص نے کہا: کہ جب آپ کو یہ بات معلوم نہیں ہے تو پھر آپ لوگوں کو کیوں مرید کرتے ہیں؟ اور راہ راست سے ان کو کیوں دور کرتے ہیں؟ ۔ اس پر آپ نے نعرہ لگایا اور بے ہوش ہو کر گِر پڑے جب ہوش میں آئے تو ہاتف سے آواز آئی اور تمام حاضرین نے یہ آواز سنی کہ اے حذیفہ :میں تمہیں دوست رکھتا ہوں اور محمد مصطفیٰ ﷺ کی معیت میں بہشت میں جگہ دوں گا ۔ اس مجلس میں تین ہزار کفار بھی موجود تھے غیبی آواز سن کر تمام مسلمان ہو گئے ۔
آنحضرت ﷺ کا وعدۂ جنّت:
سیر الاقطاب میں ہے: کہ جب حضرت حذیفہ مرعشی قدس سرہٗ زیارتِ روضۂ رسول اللہ ﷺ سے مشرف ہوئے اور آنحضرت ﷺ کے جمال جہاں آراء کا مشاہدہ کیا تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ مجھے اس بات سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں مجھے دوزخ میں نہ ڈال دیا جائے ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: تم بہشت میں میرے ساتھ ہوگے اور جو شخص تیرے ساتھ واصل ہوگا وہ بھی بہشت میں آئے گا۔
ہر سال حج:
حضرت اقدس نے ستر سال تک بے ضرورت گھر سے باہر قدم نہ رکھا تھا، لیکن جب حجاجِ کرام حج سے واپس آ کر آپ سے ملتے تو بیان کرتے تھے کہ ہم نے آپ کو اپنے ساتھ کعبۃ اللہ اور بیت المقدس میں دیکھا ہے ۔
وصال:
آپ کا وصال 14 شوال المکرم 252ھ میں ہوا ۔ آپ کا مزار شریف بصرہ میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیاء ، اقتباس الانوار ، سیر الاقطاب
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-sadeeduddin-huzaifa-marashi
scholars.pk
Hazrat Khawaja Sadeeduddin Huzaifa Marashi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
سید ابو تراب المعروف شاہ گدا حسینی قادری شطاری لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ حسینی سید تھے ۔ شیراز کے رہنے والے تھے ۔ طلب خدا وندی کے شوق نے آپ کو شیراز سے ہندوستان پہنچایا ۔ گجرات آئے ۔ اور شیخ وجیہ الدین گجراتی کی خدمت میں پہنچے ۔ مرید ہوئے اور تکمیل کو پہنچے ۔ مرشد کی وفات کے بعد لاہور آئے اور مستقل سکونت اختیار کر لی ۔
سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
آپ کی آبائی نسبت حضرت امام جعفر صادق رضی الله تعالیٰ عنہ سے ان واسطوں سے ملتی ہے ۔
سید ابو تراب ۔ بن نجیب الدین بن سید شمس الدین بن اسد الدین بن زین الدین المشہور زین العابدین بن یونس بن عبد الوہاب بن عبد الہادی بن ابو البرکات بن انور علی بن عبد الطیف بن محمد شریف بن ابو المظفر بن سید عبد الباقی بن ابو الحسن بن عبد العزیز شیرازی ۔ بن سید عبد اللہ بن محمد امین بن قدرت اللہ بن سید موسیٰ بن مسعود بن صادق نبی احمد بن سید باقر بن حسن بن زید بن جعفر بن محمود بن ہارون بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق رضی اللہ عنہم ۔
بیعت و خلافت:
شطاریہ سلسلۂ تصوف میں آپ شیخ وجیہ الدین گجراتی وہ سید محمد غوث گوالیاری وہ سید حمید وہ سید قاذن اور وہ سید عبد اللہ شطاری کے مرید تھے ۔ آپ کا سلسلہ قادریہ حضرت غوث الاعظم کے ساتھ ان واسطوں سے ملتا ہے۔ سید ابوتراب شیخ وجیہہ الدین گجراتی سید محمد غوث گوالیاری شیخ طیغوری حاجی شیخ عبد الفتح المخاطب بہ ہدایت اللہ سرمست ۔ شیخ شاہ قاذن شیخ عبد الوہاب شیخ عبد الرؤف شیخ محمود ۔ شیخ عبد الغفار ۔ شیخ محمد ۔ شیخ عبد الرحیم ۔ سید ابو بکر تاج الدین ۔ سیدنا عبد القادر غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنہم ـ
سید ابو تراب کے چھ خلفاء تھے ۔ قاضی محمد لاہوری ۔ آپ کا مزار لاہور کے قریب ہی ہے ۔ شیخ فاضل آپ دہلی میں آسودۂ خاک ہیں ۔ شاہ جمال جن کا مدفن رہتاس میں ہے ۔ لعل گدا ۔ احمد گدا شہباز گدا یہ تینوں بزرگ آپ کے پہلو میں آسودۂ خاک ہیں ۔
وصال:
آپ کی وفات بتاریخ 14 شوال ۱۰۷۱ھ کو ہوئی ۔ آپ کا مزار لاہور میں ہے ۔
شہ گدا سیّد وَلیِ متّقی
گفت تاریخ وصالِ او خرد
بندہ حق خاک پائے بو تراب
شد ولی سیّد گدائے بو تراب
۱۰۷۱ھ
قاضی محمد افضل جو آپ کے دربار کے عالم دین اور خلیفہ خاص تھے ۱۰۹۰ھ میں واصل بحق ہوئے ۔ ان کی تاریخ وفات ان اشعار سے نکلتی ہے ۔
کریم اکرم و شیخ مکرّم
وصالش قطب افضل اہل دل گو
۱۰۹۲ھ
شہِ اہل کرم افضل محمد
دگر پاکیزہ دم افضل محمد
۱۰۹۲ھ
( خذینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/syed-abu-turab-shah-gada-hussaini-qadri-shattari-lahori
آپ حسینی سید تھے ۔ شیراز کے رہنے والے تھے ۔ طلب خدا وندی کے شوق نے آپ کو شیراز سے ہندوستان پہنچایا ۔ گجرات آئے ۔ اور شیخ وجیہ الدین گجراتی کی خدمت میں پہنچے ۔ مرید ہوئے اور تکمیل کو پہنچے ۔ مرشد کی وفات کے بعد لاہور آئے اور مستقل سکونت اختیار کر لی ۔
سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
آپ کی آبائی نسبت حضرت امام جعفر صادق رضی الله تعالیٰ عنہ سے ان واسطوں سے ملتی ہے ۔
سید ابو تراب ۔ بن نجیب الدین بن سید شمس الدین بن اسد الدین بن زین الدین المشہور زین العابدین بن یونس بن عبد الوہاب بن عبد الہادی بن ابو البرکات بن انور علی بن عبد الطیف بن محمد شریف بن ابو المظفر بن سید عبد الباقی بن ابو الحسن بن عبد العزیز شیرازی ۔ بن سید عبد اللہ بن محمد امین بن قدرت اللہ بن سید موسیٰ بن مسعود بن صادق نبی احمد بن سید باقر بن حسن بن زید بن جعفر بن محمود بن ہارون بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق رضی اللہ عنہم ۔
بیعت و خلافت:
شطاریہ سلسلۂ تصوف میں آپ شیخ وجیہ الدین گجراتی وہ سید محمد غوث گوالیاری وہ سید حمید وہ سید قاذن اور وہ سید عبد اللہ شطاری کے مرید تھے ۔ آپ کا سلسلہ قادریہ حضرت غوث الاعظم کے ساتھ ان واسطوں سے ملتا ہے۔ سید ابوتراب شیخ وجیہہ الدین گجراتی سید محمد غوث گوالیاری شیخ طیغوری حاجی شیخ عبد الفتح المخاطب بہ ہدایت اللہ سرمست ۔ شیخ شاہ قاذن شیخ عبد الوہاب شیخ عبد الرؤف شیخ محمود ۔ شیخ عبد الغفار ۔ شیخ محمد ۔ شیخ عبد الرحیم ۔ سید ابو بکر تاج الدین ۔ سیدنا عبد القادر غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنہم ـ
سید ابو تراب کے چھ خلفاء تھے ۔ قاضی محمد لاہوری ۔ آپ کا مزار لاہور کے قریب ہی ہے ۔ شیخ فاضل آپ دہلی میں آسودۂ خاک ہیں ۔ شاہ جمال جن کا مدفن رہتاس میں ہے ۔ لعل گدا ۔ احمد گدا شہباز گدا یہ تینوں بزرگ آپ کے پہلو میں آسودۂ خاک ہیں ۔
وصال:
آپ کی وفات بتاریخ 14 شوال ۱۰۷۱ھ کو ہوئی ۔ آپ کا مزار لاہور میں ہے ۔
شہ گدا سیّد وَلیِ متّقی
گفت تاریخ وصالِ او خرد
بندہ حق خاک پائے بو تراب
شد ولی سیّد گدائے بو تراب
۱۰۷۱ھ
قاضی محمد افضل جو آپ کے دربار کے عالم دین اور خلیفہ خاص تھے ۱۰۹۰ھ میں واصل بحق ہوئے ۔ ان کی تاریخ وفات ان اشعار سے نکلتی ہے ۔
کریم اکرم و شیخ مکرّم
وصالش قطب افضل اہل دل گو
۱۰۹۲ھ
شہِ اہل کرم افضل محمد
دگر پاکیزہ دم افضل محمد
۱۰۹۲ھ
( خذینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/syed-abu-turab-shah-gada-hussaini-qadri-shattari-lahori
scholars.pk
Syed Abu Turab Shah Gada Hussaini Qadri Shattari Lahori
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت خواجہ محمد زاہد وخشی علیہ الرحمہ
وخش نزد حصار علاقہ بخارا (۸۵۲ھ/ ۱۴۴۸ء۔۔۔۹۳۶ھ/ ۱۵۲۹ء)
قطعۂ تاریخ وصال:
خواجہ احرار کی نظر کے طفیل
مل گیا غیب سے سنِ رحلت
خوش طبیعت تھے اور خوش اوصاف
’’خواجہ زاہد خلیفۂ اسلاف‘‘
۱۵۲۹ء
صاؔبر براری، کراچی
آپ کی ولادت باسعادت:
قصبہ وخش نزد حصار علاقہ بخارا میں ۱۴ شوال ۸۵۲ھ / ۱۱ دسمبر ۱۴۴۸ء کو ہوئی ۔ آپ کا انتساب طریقہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ عبید اللہ احرار قدس سرہ سے ہے ۔ آپ حضرت خواجہ یعقوب چرخی قدس سرہ کے نواسہ ہیں اور ذکر کی تلقین اُن کے کسی خلیفہ سے حاصل کی تھی ۔ جب حضرت احرار قدس سرہ کے رشد و ہدایت کا آوازہ آپ کے کان میں پہنچا تو حصار سے سمر قند کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر محلہ وانسرائے میں قیام فرما ہوئے ۔ یہاں سے حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کی خانقاہ شریف تین کوس (چھ میل) کے فاصلہ پر تھی ۔ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کو بذریعہ کشف معلوم ہو گیا کہ مولانا خواجہ زاہد ہماری ملاقات کے لیے آ رہے ہیں ۔ اُن کے دل میں آیا کہ آپ کا استقبال کرنا چاہیے عین دوپہر کے وقت فرمایا کہ سواری کا اونٹ لاؤ، اس پر سوار ہوکر تمام مریدین کو ساتھ لے کر چل پڑے کسی کو معلوم نہ تھا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں ۔ آپ نے اونٹ کو اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ جہاں چاہے چلا جائے۔ جب حضرت خواجہ، آپ کی قیام گاہ پر پہنچے تو اونٹ خود بخود رک گیا ۔ اور حضرت خواجہ اُتر پڑے ۔
آپ کو حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کی تشریف آوری کی خبر ہوئی تو بے اختیار دوڑے آئے، حضرت کا استقبال کیا اور پاؤں کا بوسہ لیا پھر خلوت میں اپنے و اردات و معاملات و مقامات حضرت خواجہ قدس سرہ کی خدمت میں پیش کیے اور بیعت کی خواہش کی۔ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نے بیعت کرکے اُسی مجلس میں درجۂ تکمیل تک پہنچا دیا اور خلافت عطا کرکے وہیں سے رخصت کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت خواجہ قد س سرہ کے بعض اصحاب آتشِ غیرت سے جلنے لگے کہ مولانا زاہد کو آپ نے پہلی ہی صحبت میں خلافت عطا فرمادی۔ حالانکہ ہم برسوں سے آپ کی خدمت کر رہے ہیں، مگر ہم پر یہ عنایت نہیں فرمائی۔ حضرت خواجہ قدس سرہ نے فرمایا کہ مولانا زاہد، چراغ اور تیل بتی تیار کرکے ہمارے پاس آئے تھے۔ ہم نے صرف روشن کرکے رخصت کردیا۔ یہ معاملہ حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کے تصرفِ عظیم اور آپ (مولانا خواجہ زاہد ) کے کمال استعداد و قابلیت پر دلالت کرتا ہے۔
آپ حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کے خلیفۂ اعظم تھے۔ علمِ ظاہری و باطنی میں خوب وافر حصہ رکھتے تھے۔ فقر و تجرید اور توحید میں مقاماتِ عالیہ پر فائز تھے۔ بیعت ہونے سے قبل برسوں ریاضت و مجاہدہ میں مشغول رہے تھے۔
وفات:
آپ کی رحلت یکم ربیع اول ۹۳۶ھ/ ۱۵۲۹ء کو وخش میں ہوئی اور وہیں مزار مقدس بنا جو مرجع خواص و علوم ہے۔
(تاریخِ مشائخ نقشبند)
مولانا محمد زاہد و خشی قدس سرہ
نسبت و تعلق:
آپ کا انتساب طریقہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ احرار سے ہے۔ بقول شیخ شرف الدین محمد کشمیری مجددی صاحب روضۃ السلام آپ خواجہ یعقوب چرخی کے رشتہ دار بلکہ نواسہ ہیں۔ آپ نے ذکر کی تلقین ان کے کسی خلیفہ سے حاصل کی تھی۔ جب خواجہ احرار کے ارشاد کا آوازہ آپ کے کان میں پہنچا تو حصار سے سمر قند کی طرف روانہ ہوئے۔ اور سمر قند میں پہنچ کر محلّہ و انسرا میں اترے۔ محلّہ و انسرا سے حضرت خواجہ کا مسکن تین کوس پر تھا۔ حضرت کو بذریعہ کشف معلوم ہوگیا کہ مولانا زاہد ہماری ملاقات کے لیے آرہے ہیں آپ کے دل میں آیا کہ مولانا کے استقبال کے لیے نکلیں۔ عین دوپہر کے وقت آپ نے فرمایا کہ سواری کا اونٹ لاؤ۔ آپ اس پر سوار ہوگئے۔ تمام مریدین ساتھ تھے۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں۔ آپ نے اونٹ کو اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ جہاں چاہے چلا جائے۔ جب حضرت مولانا کی قیام گاہ پر پہنچے۔ تو اُونٹ خود بخود رُک گیا۔ اور حضرت اُتر پڑے۔ مولانا کو حضرت کی تشریف آوری کی خبر ہوئی تو بے اختیار دوڑے آئے۔ اور حضرت کا استقبال کیا۔ اور آپ کے پاؤں کو بوسہ دیا۔ مولانا نے خلوت میں اپنے واردات و معاملات حضرت کے آگے پیش کیے اور بیعت کی خواہش کی۔ حضرت نے آپ کی بیعت کرکے اُسی مجلس میں درجہ تکمیل تک پہنچادیا۔ اور خلافت عطا کرکے وہیں سے رخصت کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت کے بعض اصحاب آتش غیرت میں جلنے لگے۔ کہ مولانا محمد زاہد کو آپ نے پہلی ہی صحبت میں خلاف عطا فرمادی۔ حالانکہ ہم برسوں سے آپ کی خدمت کر رہے ہیں۔ مگر ہم پر یہ عنایت نہیں فرمائی۔ حضرت نے فرمایا کہ مولانا زاہد چراغ اور تیل بتی تیار کرکے ہمارے پاس آئے تھے۔ ہم نے اس کو صرف روشن کرکے رخصت کردیا۔ یہ معاملہ حضرت خواجہ کے تصرف کے تصرف عظیم اور مولانا کے کمال استعداد و قابلیت پر دلالت کرتا ہے۔
وخش نزد حصار علاقہ بخارا (۸۵۲ھ/ ۱۴۴۸ء۔۔۔۹۳۶ھ/ ۱۵۲۹ء)
قطعۂ تاریخ وصال:
خواجہ احرار کی نظر کے طفیل
مل گیا غیب سے سنِ رحلت
خوش طبیعت تھے اور خوش اوصاف
’’خواجہ زاہد خلیفۂ اسلاف‘‘
۱۵۲۹ء
صاؔبر براری، کراچی
آپ کی ولادت باسعادت:
قصبہ وخش نزد حصار علاقہ بخارا میں ۱۴ شوال ۸۵۲ھ / ۱۱ دسمبر ۱۴۴۸ء کو ہوئی ۔ آپ کا انتساب طریقہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ عبید اللہ احرار قدس سرہ سے ہے ۔ آپ حضرت خواجہ یعقوب چرخی قدس سرہ کے نواسہ ہیں اور ذکر کی تلقین اُن کے کسی خلیفہ سے حاصل کی تھی ۔ جب حضرت احرار قدس سرہ کے رشد و ہدایت کا آوازہ آپ کے کان میں پہنچا تو حصار سے سمر قند کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر محلہ وانسرائے میں قیام فرما ہوئے ۔ یہاں سے حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کی خانقاہ شریف تین کوس (چھ میل) کے فاصلہ پر تھی ۔ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کو بذریعہ کشف معلوم ہو گیا کہ مولانا خواجہ زاہد ہماری ملاقات کے لیے آ رہے ہیں ۔ اُن کے دل میں آیا کہ آپ کا استقبال کرنا چاہیے عین دوپہر کے وقت فرمایا کہ سواری کا اونٹ لاؤ، اس پر سوار ہوکر تمام مریدین کو ساتھ لے کر چل پڑے کسی کو معلوم نہ تھا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں ۔ آپ نے اونٹ کو اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ جہاں چاہے چلا جائے۔ جب حضرت خواجہ، آپ کی قیام گاہ پر پہنچے تو اونٹ خود بخود رک گیا ۔ اور حضرت خواجہ اُتر پڑے ۔
آپ کو حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کی تشریف آوری کی خبر ہوئی تو بے اختیار دوڑے آئے، حضرت کا استقبال کیا اور پاؤں کا بوسہ لیا پھر خلوت میں اپنے و اردات و معاملات و مقامات حضرت خواجہ قدس سرہ کی خدمت میں پیش کیے اور بیعت کی خواہش کی۔ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نے بیعت کرکے اُسی مجلس میں درجۂ تکمیل تک پہنچا دیا اور خلافت عطا کرکے وہیں سے رخصت کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت خواجہ قد س سرہ کے بعض اصحاب آتشِ غیرت سے جلنے لگے کہ مولانا زاہد کو آپ نے پہلی ہی صحبت میں خلافت عطا فرمادی۔ حالانکہ ہم برسوں سے آپ کی خدمت کر رہے ہیں، مگر ہم پر یہ عنایت نہیں فرمائی۔ حضرت خواجہ قدس سرہ نے فرمایا کہ مولانا زاہد، چراغ اور تیل بتی تیار کرکے ہمارے پاس آئے تھے۔ ہم نے صرف روشن کرکے رخصت کردیا۔ یہ معاملہ حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کے تصرفِ عظیم اور آپ (مولانا خواجہ زاہد ) کے کمال استعداد و قابلیت پر دلالت کرتا ہے۔
آپ حضرت خواجہ احرار قدس سرہ کے خلیفۂ اعظم تھے۔ علمِ ظاہری و باطنی میں خوب وافر حصہ رکھتے تھے۔ فقر و تجرید اور توحید میں مقاماتِ عالیہ پر فائز تھے۔ بیعت ہونے سے قبل برسوں ریاضت و مجاہدہ میں مشغول رہے تھے۔
وفات:
آپ کی رحلت یکم ربیع اول ۹۳۶ھ/ ۱۵۲۹ء کو وخش میں ہوئی اور وہیں مزار مقدس بنا جو مرجع خواص و علوم ہے۔
(تاریخِ مشائخ نقشبند)
مولانا محمد زاہد و خشی قدس سرہ
نسبت و تعلق:
آپ کا انتساب طریقہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ احرار سے ہے۔ بقول شیخ شرف الدین محمد کشمیری مجددی صاحب روضۃ السلام آپ خواجہ یعقوب چرخی کے رشتہ دار بلکہ نواسہ ہیں۔ آپ نے ذکر کی تلقین ان کے کسی خلیفہ سے حاصل کی تھی۔ جب خواجہ احرار کے ارشاد کا آوازہ آپ کے کان میں پہنچا تو حصار سے سمر قند کی طرف روانہ ہوئے۔ اور سمر قند میں پہنچ کر محلّہ و انسرا میں اترے۔ محلّہ و انسرا سے حضرت خواجہ کا مسکن تین کوس پر تھا۔ حضرت کو بذریعہ کشف معلوم ہوگیا کہ مولانا زاہد ہماری ملاقات کے لیے آرہے ہیں آپ کے دل میں آیا کہ مولانا کے استقبال کے لیے نکلیں۔ عین دوپہر کے وقت آپ نے فرمایا کہ سواری کا اونٹ لاؤ۔ آپ اس پر سوار ہوگئے۔ تمام مریدین ساتھ تھے۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں۔ آپ نے اونٹ کو اس کے حال پر چھوڑ دیا کہ جہاں چاہے چلا جائے۔ جب حضرت مولانا کی قیام گاہ پر پہنچے۔ تو اُونٹ خود بخود رُک گیا۔ اور حضرت اُتر پڑے۔ مولانا کو حضرت کی تشریف آوری کی خبر ہوئی تو بے اختیار دوڑے آئے۔ اور حضرت کا استقبال کیا۔ اور آپ کے پاؤں کو بوسہ دیا۔ مولانا نے خلوت میں اپنے واردات و معاملات حضرت کے آگے پیش کیے اور بیعت کی خواہش کی۔ حضرت نے آپ کی بیعت کرکے اُسی مجلس میں درجہ تکمیل تک پہنچادیا۔ اور خلافت عطا کرکے وہیں سے رخصت کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت کے بعض اصحاب آتش غیرت میں جلنے لگے۔ کہ مولانا محمد زاہد کو آپ نے پہلی ہی صحبت میں خلاف عطا فرمادی۔ حالانکہ ہم برسوں سے آپ کی خدمت کر رہے ہیں۔ مگر ہم پر یہ عنایت نہیں فرمائی۔ حضرت نے فرمایا کہ مولانا زاہد چراغ اور تیل بتی تیار کرکے ہمارے پاس آئے تھے۔ ہم نے اس کو صرف روشن کرکے رخصت کردیا۔ یہ معاملہ حضرت خواجہ کے تصرف کے تصرف عظیم اور مولانا کے کمال استعداد و قابلیت پر دلالت کرتا ہے۔
❤1
وصال مبارک:
مولانا محمد زاہد قدس سرہ کا وصال موضع وخش [۱] میں غرہ ربیع الاول ۹۳۶ھ میں ہوا اور وہیں دفن ہوئے ـ
(حضرات القدس مصنفہ شیخ خواجہ بدر الدین سر ہندی خلیفہ مجد الف ثانی ۔ خزینہ الاصفیا ۔ مصنفہ جناب مفتی غلام سرور لاہوری) [۱۔ معجم البلدان یا قوت حموی میں ہے کہ وخش نواح بلخ میں ولایت ختلان کا ایک شہر ہے ۔ ختل سے یہ شہر اس قدر متصل ہے کہ دونوں ایک بستی سمجھے جاتے ہیں ۔ یہ بڑی بستی دریائے جیحوں کے کنارے پر ہے ۔ وہاں شاہی عمارتیں ہیں ۔ حضرات القدس میں ہے کہ وخش ایک گاؤں کا نام ہے جو حصار کے مضافات سے ہے ۔ ]
( مشائخِ نقشبندیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-zahid-wakhashi
مولانا محمد زاہد قدس سرہ کا وصال موضع وخش [۱] میں غرہ ربیع الاول ۹۳۶ھ میں ہوا اور وہیں دفن ہوئے ـ
(حضرات القدس مصنفہ شیخ خواجہ بدر الدین سر ہندی خلیفہ مجد الف ثانی ۔ خزینہ الاصفیا ۔ مصنفہ جناب مفتی غلام سرور لاہوری) [۱۔ معجم البلدان یا قوت حموی میں ہے کہ وخش نواح بلخ میں ولایت ختلان کا ایک شہر ہے ۔ ختل سے یہ شہر اس قدر متصل ہے کہ دونوں ایک بستی سمجھے جاتے ہیں ۔ یہ بڑی بستی دریائے جیحوں کے کنارے پر ہے ۔ وہاں شاہی عمارتیں ہیں ۔ حضرات القدس میں ہے کہ وخش ایک گاؤں کا نام ہے جو حصار کے مضافات سے ہے ۔ ]
( مشائخِ نقشبندیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-zahid-wakhashi
scholars.pk
Hazrat Molana Muhammad Zahid Khashi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا سید احمد اشرف کچھوچھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اسمِ گرامی: آپ کا اسمِ گرامی سید احمد اشرف تھا اور آپ عالمِ ربانی، عارف باللہ، مشہور آفاق بزرگ، اعلی ٰ حضرت ، محبوب رحمانی سید شاہ علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزندِ اکبر تھے۔
تاریخِ ولادت:
مولانا سید احمد اشرف رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 14 شوال المکرم 1286 ھ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اساتذۂ کچھوچھہ سے حاصل کی، پھر بارگاہِ رضویت میں آکر علم کاٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر بنے،نیز درسیات کی تکمیل بھی اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت الشاہ مولانا احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے کی۔
بیعت و خلافت:
حضرت مولانا سید احمد اشرف کچھوچھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے والد ماجد سید شاہ علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید وخلیفہ تھے۔
سیرت و خصائص:
عالمِ ربانی، عارف باللہ، حضرت مولانا سید احمد اشرف کچھوچھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان کے روشن کئے ہوئے چراغوں میں سے ایک چراغ تھے ۔
مولانا سید احمد کچھوچھوی علیہ الرحمہ صاحبِ قناعت ، تقوی و زہد کے حامل اور باطنی حسن آرستہ تھے۔ آپ نے اپنے سینے سےعالمِ انسانیت کو مستفیض کیا اور ان کی ذہنی واخلاقی تربیت کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی ۔
سائلین آپ کی بارگاہ میں شرعی مسئلہ لے کے آتے تو آپ ایسا جواب عطا فرماتے کہ اس کی تشنگی دور ہوجاتی اور اگر کوئی روحانی یا اپنی پریشانی ذکر کرتا کو آپ کامل طریقے سے اس کابھی حل فرما دیتے ۔
ردِ بد مذہبیت کے سلسلے میں آپ نے بھر پور کار کردگی پیش کی، بدمذہبوں کی طرف سے آنے والے ہر اعتراض کا دندان شکن جواب دیا ۔
آپ کا وجودِ مسعود بدمذہبوں کے لئے قہر خداندی تھا۔آپ نے کئی باطل عقائد والوں کو اپنی باتوں سے قائل کرکے دائرۂ اسلام میں داخل کیا۔
تاریخِ وصال:
حضرت مولانا سید احمد اشرف کچھوچھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا وصال 1343 ھ میں ہوا۔
ماخذ و مراجع: تذکرۂ علماء اہلسنت
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-ahmed-sharif-kacho-chowi
اسمِ گرامی: آپ کا اسمِ گرامی سید احمد اشرف تھا اور آپ عالمِ ربانی، عارف باللہ، مشہور آفاق بزرگ، اعلی ٰ حضرت ، محبوب رحمانی سید شاہ علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزندِ اکبر تھے۔
تاریخِ ولادت:
مولانا سید احمد اشرف رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 14 شوال المکرم 1286 ھ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اساتذۂ کچھوچھہ سے حاصل کی، پھر بارگاہِ رضویت میں آکر علم کاٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر بنے،نیز درسیات کی تکمیل بھی اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت الشاہ مولانا احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے کی۔
بیعت و خلافت:
حضرت مولانا سید احمد اشرف کچھوچھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے والد ماجد سید شاہ علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید وخلیفہ تھے۔
سیرت و خصائص:
عالمِ ربانی، عارف باللہ، حضرت مولانا سید احمد اشرف کچھوچھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان کے روشن کئے ہوئے چراغوں میں سے ایک چراغ تھے ۔
مولانا سید احمد کچھوچھوی علیہ الرحمہ صاحبِ قناعت ، تقوی و زہد کے حامل اور باطنی حسن آرستہ تھے۔ آپ نے اپنے سینے سےعالمِ انسانیت کو مستفیض کیا اور ان کی ذہنی واخلاقی تربیت کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی ۔
سائلین آپ کی بارگاہ میں شرعی مسئلہ لے کے آتے تو آپ ایسا جواب عطا فرماتے کہ اس کی تشنگی دور ہوجاتی اور اگر کوئی روحانی یا اپنی پریشانی ذکر کرتا کو آپ کامل طریقے سے اس کابھی حل فرما دیتے ۔
ردِ بد مذہبیت کے سلسلے میں آپ نے بھر پور کار کردگی پیش کی، بدمذہبوں کی طرف سے آنے والے ہر اعتراض کا دندان شکن جواب دیا ۔
آپ کا وجودِ مسعود بدمذہبوں کے لئے قہر خداندی تھا۔آپ نے کئی باطل عقائد والوں کو اپنی باتوں سے قائل کرکے دائرۂ اسلام میں داخل کیا۔
تاریخِ وصال:
حضرت مولانا سید احمد اشرف کچھوچھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا وصال 1343 ھ میں ہوا۔
ماخذ و مراجع: تذکرۂ علماء اہلسنت
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-ahmed-sharif-kacho-chowi
scholars.pk
Hazrat Molana Syed Ahmed Sharif Kachochowi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2👍1
حضرت یادگارِ سلف مولانا شاہ محمد عارف اللہ قادری میرٹھی ثم راولپنڈی علیہ الرحمہ
ولادت:
صیغمِ اسلام حضرت مولانا شاہ محمد عارف اللہ قادری میرٹھی بن حضرت مولانا شاہ محمد حبیب اللہ قادری رضوی ۱۴ شوال المکرم ۱۳۲۷ھ / ۲۹ اکتوبر ۱۹۰۹ء بروز جمعۃ المبارک میرٹھ (ہندوستان) میں پیدا ہوئے ۔
آپ کے والد مکرم، اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ کے خلیفہ مجاز تھے ۔
تعلیم و تربیت:
آپ نے ابتدائی تعلیم مدرسہ امداد الاسلام اور مدرسہ قومیہ عربیہ میرٹھ (ہند) میں حاصل کی اور انتہائی کتب معقولات و منقولات میرٹھ کی قدیم درس گاہ مدرسہ اسلامیہ عربیہ میں پڑھ کر ۲۵ نومبر ۱۹۳۳ء کو سندِ فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی ۔ بعد ازاں عربی، فارسی اور انگریزی کے امتحانات الٰہ آباد یونیورسٹی سے پاس کیے ۔
دینی و ملی خدمات:
علومِ قدیمہ و جدیدہ کی تحصیل و تکمیل کے بعد آپ نے خاندانی دستور کے مطابق والد گرامی کے حکم سے جامع مسجد خیرالمساجد میرٹھ میں خطابت جمعہ و عیدین کے فرائض انجام دینے شروع کیے ۔ اس کے علاوہ تبلیغی دورے کرکے غیر مسلموں کو اسلام کی صداقت و حقانیت سے روشناس کیا ۔ آپ کا انداز، تقریر نہایت پیارا اور دل کش ہے ۔ یہ انداز آپ نے حضرت مولانا شاہ محمد عبدالعلیم [۱] صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ سے سیکھا اور جلد ہی ایک نامور مقرر کی حیثیت سے مصروف ہوگئے ۔ کچھ مدت بعد آپ نے شہر کے مختلف رفاہی و تبلیغی اداروں اور انجمنوں کے سرپرست بن کر خدمتِ خلق کا فریضہ باحسن وجوہ انجام دیا ۔
[۱۔ والد ماجد قائد اہل سنّت علامہ شاہ احمد نورانی، صدر جمعیت علماء پاکستان (مرتب)]
تحریکِ پاکستان میں آپ کا حصّہ:
پاکستان (ایک اسلامی خطہ) کے حصول کی خاطر مسلمانانِ ہند کی نمائندہ جماعت مسلم لیگ میدانِ عمل میں آئی تو دیگر سنی اکابر کی طرح آپ بھی مسلم لیگ کے ہمنوا ہو گئے اور مسلم لیگ کا پیغام گلی گلی، کوچے کوچے اور گھر گھر پہنچانے کے لیے دورے شروع کر دیے، نواب محمد اسماعیل خان صدر صبوائی مسلم لیگ (یوپی) کی زیرِ قیادت شہری مسلم لیگ پولیٹیکل کل کانفرنس میرٹھ (منعقدہ ۳۱ دسمبر ۱۹۴۵ء و یکم و ۲ جنوری ۱۹۴۶) میں مجلس استقبالیہ کے صدر کی حیثیت سے شرکت کی اور ۱۸۵۷ء سے لے کر تحریکِ پاکستان تک مسلمانوں کی جد و جہد آزادی پر ’’ مختصر صدارتی خطبہ ‘‘ پڑھا ۔
آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس ہند (منعقدہ ۳۰ اپریل ۱۹۴۶ء) کو کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کرنے کے لیے صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی اور حضرت محدث کچھوچھوی رحمہا اللہ کی معیت میں ملک کے طول و عرض (یوپی ۔ سی پی ۔ بہار، پنجاب اور مشرقی و مغربی بنگال) کے دور ے کرتے رہے ۔ اس کانفرنس نے جد و جہد آزادی کو ایک نئی روح بخشی ۔ مجاہد ملت مولانا عبد الحامد بدایونی اور مولانا صبغۃ اللہ فرنگی محلی کی رفاقت میں آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسوں، کانفرنسوں اور بعض مشاورتی مجلسوں میں بھی شرکت کرتے رہے، یہاں تک کہ پاکستان معرضِ وجود میں آگیا ۔
حج بیت اللہ و ہجرت:
۱۹۴۹ء میں آپ پہلی مرتبہ حج بیت اللہ و زیارت روضۂ رسول علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے مشرف ہوئے ۔ جب وطن واپس پہنچے تو معلوم ہوا کہ تحریکِ پاکستان میں حصہ لینے اور مسلم لیگ کا سر گرم رکن ہونے کے جرم میں گرفتاری کا حکم صادر ہو چکا ہے ۔ اطلاع ملتے ہی آپ صرف جائداد کے کاغذ لے کر دہلی پہنچے اور بعد میں براستہ بمبئی بذریعہ بحری جہاز پاکستان پہنچ گئے ۔
ولادت:
صیغمِ اسلام حضرت مولانا شاہ محمد عارف اللہ قادری میرٹھی بن حضرت مولانا شاہ محمد حبیب اللہ قادری رضوی ۱۴ شوال المکرم ۱۳۲۷ھ / ۲۹ اکتوبر ۱۹۰۹ء بروز جمعۃ المبارک میرٹھ (ہندوستان) میں پیدا ہوئے ۔
آپ کے والد مکرم، اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ کے خلیفہ مجاز تھے ۔
تعلیم و تربیت:
آپ نے ابتدائی تعلیم مدرسہ امداد الاسلام اور مدرسہ قومیہ عربیہ میرٹھ (ہند) میں حاصل کی اور انتہائی کتب معقولات و منقولات میرٹھ کی قدیم درس گاہ مدرسہ اسلامیہ عربیہ میں پڑھ کر ۲۵ نومبر ۱۹۳۳ء کو سندِ فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی ۔ بعد ازاں عربی، فارسی اور انگریزی کے امتحانات الٰہ آباد یونیورسٹی سے پاس کیے ۔
دینی و ملی خدمات:
علومِ قدیمہ و جدیدہ کی تحصیل و تکمیل کے بعد آپ نے خاندانی دستور کے مطابق والد گرامی کے حکم سے جامع مسجد خیرالمساجد میرٹھ میں خطابت جمعہ و عیدین کے فرائض انجام دینے شروع کیے ۔ اس کے علاوہ تبلیغی دورے کرکے غیر مسلموں کو اسلام کی صداقت و حقانیت سے روشناس کیا ۔ آپ کا انداز، تقریر نہایت پیارا اور دل کش ہے ۔ یہ انداز آپ نے حضرت مولانا شاہ محمد عبدالعلیم [۱] صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ سے سیکھا اور جلد ہی ایک نامور مقرر کی حیثیت سے مصروف ہوگئے ۔ کچھ مدت بعد آپ نے شہر کے مختلف رفاہی و تبلیغی اداروں اور انجمنوں کے سرپرست بن کر خدمتِ خلق کا فریضہ باحسن وجوہ انجام دیا ۔
[۱۔ والد ماجد قائد اہل سنّت علامہ شاہ احمد نورانی، صدر جمعیت علماء پاکستان (مرتب)]
تحریکِ پاکستان میں آپ کا حصّہ:
پاکستان (ایک اسلامی خطہ) کے حصول کی خاطر مسلمانانِ ہند کی نمائندہ جماعت مسلم لیگ میدانِ عمل میں آئی تو دیگر سنی اکابر کی طرح آپ بھی مسلم لیگ کے ہمنوا ہو گئے اور مسلم لیگ کا پیغام گلی گلی، کوچے کوچے اور گھر گھر پہنچانے کے لیے دورے شروع کر دیے، نواب محمد اسماعیل خان صدر صبوائی مسلم لیگ (یوپی) کی زیرِ قیادت شہری مسلم لیگ پولیٹیکل کل کانفرنس میرٹھ (منعقدہ ۳۱ دسمبر ۱۹۴۵ء و یکم و ۲ جنوری ۱۹۴۶) میں مجلس استقبالیہ کے صدر کی حیثیت سے شرکت کی اور ۱۸۵۷ء سے لے کر تحریکِ پاکستان تک مسلمانوں کی جد و جہد آزادی پر ’’ مختصر صدارتی خطبہ ‘‘ پڑھا ۔
آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس ہند (منعقدہ ۳۰ اپریل ۱۹۴۶ء) کو کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کرنے کے لیے صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی اور حضرت محدث کچھوچھوی رحمہا اللہ کی معیت میں ملک کے طول و عرض (یوپی ۔ سی پی ۔ بہار، پنجاب اور مشرقی و مغربی بنگال) کے دور ے کرتے رہے ۔ اس کانفرنس نے جد و جہد آزادی کو ایک نئی روح بخشی ۔ مجاہد ملت مولانا عبد الحامد بدایونی اور مولانا صبغۃ اللہ فرنگی محلی کی رفاقت میں آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسوں، کانفرنسوں اور بعض مشاورتی مجلسوں میں بھی شرکت کرتے رہے، یہاں تک کہ پاکستان معرضِ وجود میں آگیا ۔
حج بیت اللہ و ہجرت:
۱۹۴۹ء میں آپ پہلی مرتبہ حج بیت اللہ و زیارت روضۂ رسول علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے مشرف ہوئے ۔ جب وطن واپس پہنچے تو معلوم ہوا کہ تحریکِ پاکستان میں حصہ لینے اور مسلم لیگ کا سر گرم رکن ہونے کے جرم میں گرفتاری کا حکم صادر ہو چکا ہے ۔ اطلاع ملتے ہی آپ صرف جائداد کے کاغذ لے کر دہلی پہنچے اور بعد میں براستہ بمبئی بذریعہ بحری جہاز پاکستان پہنچ گئے ۔
❤2