Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت خواجہ حذیفہ مرعشی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ حذیفہ ۔ لقب: سدید الدین، المرعشی، رکن الکعبہ ۔ والد کا اسمِ گرامی: ابنِ قتادہ ۔
تحصیلِ علم:
سات سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا تھا ۔ حضرت خواجہ فضیل بن عیاض، اور خواجہ ابراہیم بن ادہم کی صحبت میں کامل و اکمل ہوئے ۔ آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے سب سے بڑے عالم اور فقیہ بے بدل تھے ۔ فقہ و تصوف میں آپ نے کثیر مفید کتب تصنیف فرمائیں ۔
بیعت و خلافت:
ظاہری علوم میں تکمیل کے بعد حضرت خضر علیہ السلام کی راہنمائی میں حضرت ابراہیم بن ادہم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ تکمیلِ سلوک کے بعد آپ نے خرقۂ خلافت حضرت خواجہ ابراہیم بن ادہم سے حاصل کیا، اور حضرت خواجہ ابراہیم نے جو نعمت حضرت خضر علیہ السلام، حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ اور خواجہ فضیل بن عیاض علیہ الرحمہ سے حاصل کی تھی آخر عمر میں آپ نے تمام خواجہ حذیفہ کے حوالہ کر دی اور اپنا جانشین مقرر فرما دیا ۔
سیرت و خصائص:
قطبِ وقت شیخ العصر علامۃ الدہر حضرت خواجہ سدید الدین حذیفہ مرعشی رکن الکعبہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۔
آپ اپنے وقت کے بہت بڑے عالم، محدث، اور فقیہ العصر تھے ۔ زہد و تقویٰ ، عبادت و ریاضت ، علم و عمل میں یکتائے زمانہ تھے ۔
شوقِ تلاوتِ قرآن:
ایک ختمِ قرآن دن میں اور ایک رات میں کرتے تھے ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ تیس سال تک با وضو رہے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ ہمیشہ روزہ سے رہتے اور چھ دن کے بعد افطار کیا کرتے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے اہل دل کی غذا تو لا الہ اللہ محمد رسول الله ﷺ ہے ۔
آپ کا شمار اکابر مشائخ اور پیشوائے اولیائے صاحب اسرار میں ہوتا ہے ۔ علم ِسلوک میں آپ کی تصانیف بہت ہیں ۔ آپ مجرد زندگی بسر کرتے تھے ۔ نہ بیوی تھی نہ بچے ۔ سارا وقت ذکر و اذکار ، مجاہدہ و مراقبہ میں مشغول رہتے تھے ۔ آپ جس درویش کو دیکھتے ان کا بے حد احترام و اکرام بجا لاتے تھے اور ان سے فیض طلب کرتے تھے ۔
عاجزی و انکساری:
آپ ہمیشہ ٹاٹ پہنتے تھے اور خلوت میں بیٹھے آہ و بکا میں مصروف رہتے تھے ۔ جب لوگوں نے پوچھا کہ اس قدر گریہ و زاری کا سبب کیا ہے تو فرمایا کہ اس وجہ سے روتا ہوں کہ مجھے معلوم نہیں کہ قیامت کے دن میں فریق فی الجنۃ کے زمرہ میں ہونگا یا فریق فی السعیر کے زمرہ میں ۔ یہ سُن کر ایک شخص نے کہا: کہ جب آپ کو یہ بات معلوم نہیں ہے تو پھر آپ لوگوں کو کیوں مرید کرتے ہیں؟ اور راہ راست سے ان کو کیوں دور کرتے ہیں؟ ۔ اس پر آپ نے نعرہ لگایا اور بے ہوش ہو کر گِر پڑے جب ہوش میں آئے تو ہاتف سے آواز آئی اور تمام حاضرین نے یہ آواز سنی کہ اے حذیفہ :میں تمہیں دوست رکھتا ہوں اور محمد مصطفیٰ ﷺ کی معیت میں بہشت میں جگہ دوں گا ۔ اس مجلس میں تین ہزار کفار بھی موجود تھے غیبی آواز سن کر تمام مسلمان ہو گئے ۔
آنحضرت ﷺ کا وعدۂ جنّت:
سیر الاقطاب میں ہے: کہ جب حضرت حذیفہ مرعشی قدس سرہٗ زیارتِ روضۂ رسول اللہ ﷺ سے مشرف ہوئے اور آنحضرت ﷺ کے جمال جہاں آراء کا مشاہدہ کیا تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ مجھے اس بات سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں مجھے دوزخ میں نہ ڈال دیا جائے ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: تم بہشت میں میرے ساتھ ہوگے اور جو شخص تیرے ساتھ واصل ہوگا وہ بھی بہشت میں آئے گا۔
ہر سال حج:
حضرت اقدس نے ستر سال تک بے ضرورت گھر سے باہر قدم نہ رکھا تھا، لیکن جب حجاجِ کرام حج سے واپس آ کر آپ سے ملتے تو بیان کرتے تھے کہ ہم نے آپ کو اپنے ساتھ کعبۃ اللہ اور بیت المقدس میں دیکھا ہے ۔
وصال:
آپ کا وصال 14 شوال المکرم 252ھ میں ہوا ۔ آپ کا مزار شریف بصرہ میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیاء ، اقتباس الانوار ، سیر الاقطاب
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-sadeeduddin-huzaifa-marashi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ حذیفہ ۔ لقب: سدید الدین، المرعشی، رکن الکعبہ ۔ والد کا اسمِ گرامی: ابنِ قتادہ ۔
تحصیلِ علم:
سات سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا تھا ۔ حضرت خواجہ فضیل بن عیاض، اور خواجہ ابراہیم بن ادہم کی صحبت میں کامل و اکمل ہوئے ۔ آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے سب سے بڑے عالم اور فقیہ بے بدل تھے ۔ فقہ و تصوف میں آپ نے کثیر مفید کتب تصنیف فرمائیں ۔
بیعت و خلافت:
ظاہری علوم میں تکمیل کے بعد حضرت خضر علیہ السلام کی راہنمائی میں حضرت ابراہیم بن ادہم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ تکمیلِ سلوک کے بعد آپ نے خرقۂ خلافت حضرت خواجہ ابراہیم بن ادہم سے حاصل کیا، اور حضرت خواجہ ابراہیم نے جو نعمت حضرت خضر علیہ السلام، حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ اور خواجہ فضیل بن عیاض علیہ الرحمہ سے حاصل کی تھی آخر عمر میں آپ نے تمام خواجہ حذیفہ کے حوالہ کر دی اور اپنا جانشین مقرر فرما دیا ۔
سیرت و خصائص:
قطبِ وقت شیخ العصر علامۃ الدہر حضرت خواجہ سدید الدین حذیفہ مرعشی رکن الکعبہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۔
آپ اپنے وقت کے بہت بڑے عالم، محدث، اور فقیہ العصر تھے ۔ زہد و تقویٰ ، عبادت و ریاضت ، علم و عمل میں یکتائے زمانہ تھے ۔
شوقِ تلاوتِ قرآن:
ایک ختمِ قرآن دن میں اور ایک رات میں کرتے تھے ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ تیس سال تک با وضو رہے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ ہمیشہ روزہ سے رہتے اور چھ دن کے بعد افطار کیا کرتے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے اہل دل کی غذا تو لا الہ اللہ محمد رسول الله ﷺ ہے ۔
آپ کا شمار اکابر مشائخ اور پیشوائے اولیائے صاحب اسرار میں ہوتا ہے ۔ علم ِسلوک میں آپ کی تصانیف بہت ہیں ۔ آپ مجرد زندگی بسر کرتے تھے ۔ نہ بیوی تھی نہ بچے ۔ سارا وقت ذکر و اذکار ، مجاہدہ و مراقبہ میں مشغول رہتے تھے ۔ آپ جس درویش کو دیکھتے ان کا بے حد احترام و اکرام بجا لاتے تھے اور ان سے فیض طلب کرتے تھے ۔
عاجزی و انکساری:
آپ ہمیشہ ٹاٹ پہنتے تھے اور خلوت میں بیٹھے آہ و بکا میں مصروف رہتے تھے ۔ جب لوگوں نے پوچھا کہ اس قدر گریہ و زاری کا سبب کیا ہے تو فرمایا کہ اس وجہ سے روتا ہوں کہ مجھے معلوم نہیں کہ قیامت کے دن میں فریق فی الجنۃ کے زمرہ میں ہونگا یا فریق فی السعیر کے زمرہ میں ۔ یہ سُن کر ایک شخص نے کہا: کہ جب آپ کو یہ بات معلوم نہیں ہے تو پھر آپ لوگوں کو کیوں مرید کرتے ہیں؟ اور راہ راست سے ان کو کیوں دور کرتے ہیں؟ ۔ اس پر آپ نے نعرہ لگایا اور بے ہوش ہو کر گِر پڑے جب ہوش میں آئے تو ہاتف سے آواز آئی اور تمام حاضرین نے یہ آواز سنی کہ اے حذیفہ :میں تمہیں دوست رکھتا ہوں اور محمد مصطفیٰ ﷺ کی معیت میں بہشت میں جگہ دوں گا ۔ اس مجلس میں تین ہزار کفار بھی موجود تھے غیبی آواز سن کر تمام مسلمان ہو گئے ۔
آنحضرت ﷺ کا وعدۂ جنّت:
سیر الاقطاب میں ہے: کہ جب حضرت حذیفہ مرعشی قدس سرہٗ زیارتِ روضۂ رسول اللہ ﷺ سے مشرف ہوئے اور آنحضرت ﷺ کے جمال جہاں آراء کا مشاہدہ کیا تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ مجھے اس بات سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں مجھے دوزخ میں نہ ڈال دیا جائے ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: تم بہشت میں میرے ساتھ ہوگے اور جو شخص تیرے ساتھ واصل ہوگا وہ بھی بہشت میں آئے گا۔
ہر سال حج:
حضرت اقدس نے ستر سال تک بے ضرورت گھر سے باہر قدم نہ رکھا تھا، لیکن جب حجاجِ کرام حج سے واپس آ کر آپ سے ملتے تو بیان کرتے تھے کہ ہم نے آپ کو اپنے ساتھ کعبۃ اللہ اور بیت المقدس میں دیکھا ہے ۔
وصال:
آپ کا وصال 14 شوال المکرم 252ھ میں ہوا ۔ آپ کا مزار شریف بصرہ میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیاء ، اقتباس الانوار ، سیر الاقطاب
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-sadeeduddin-huzaifa-marashi
scholars.pk
Hazrat Khawaja Sadeeduddin Huzaifa Marashi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
سید ابو تراب المعروف شاہ گدا حسینی قادری شطاری لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ حسینی سید تھے ۔ شیراز کے رہنے والے تھے ۔ طلب خدا وندی کے شوق نے آپ کو شیراز سے ہندوستان پہنچایا ۔ گجرات آئے ۔ اور شیخ وجیہ الدین گجراتی کی خدمت میں پہنچے ۔ مرید ہوئے اور تکمیل کو پہنچے ۔ مرشد کی وفات کے بعد لاہور آئے اور مستقل سکونت اختیار کر لی ۔
سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
آپ کی آبائی نسبت حضرت امام جعفر صادق رضی الله تعالیٰ عنہ سے ان واسطوں سے ملتی ہے ۔
سید ابو تراب ۔ بن نجیب الدین بن سید شمس الدین بن اسد الدین بن زین الدین المشہور زین العابدین بن یونس بن عبد الوہاب بن عبد الہادی بن ابو البرکات بن انور علی بن عبد الطیف بن محمد شریف بن ابو المظفر بن سید عبد الباقی بن ابو الحسن بن عبد العزیز شیرازی ۔ بن سید عبد اللہ بن محمد امین بن قدرت اللہ بن سید موسیٰ بن مسعود بن صادق نبی احمد بن سید باقر بن حسن بن زید بن جعفر بن محمود بن ہارون بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق رضی اللہ عنہم ۔
بیعت و خلافت:
شطاریہ سلسلۂ تصوف میں آپ شیخ وجیہ الدین گجراتی وہ سید محمد غوث گوالیاری وہ سید حمید وہ سید قاذن اور وہ سید عبد اللہ شطاری کے مرید تھے ۔ آپ کا سلسلہ قادریہ حضرت غوث الاعظم کے ساتھ ان واسطوں سے ملتا ہے۔ سید ابوتراب شیخ وجیہہ الدین گجراتی سید محمد غوث گوالیاری شیخ طیغوری حاجی شیخ عبد الفتح المخاطب بہ ہدایت اللہ سرمست ۔ شیخ شاہ قاذن شیخ عبد الوہاب شیخ عبد الرؤف شیخ محمود ۔ شیخ عبد الغفار ۔ شیخ محمد ۔ شیخ عبد الرحیم ۔ سید ابو بکر تاج الدین ۔ سیدنا عبد القادر غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنہم ـ
سید ابو تراب کے چھ خلفاء تھے ۔ قاضی محمد لاہوری ۔ آپ کا مزار لاہور کے قریب ہی ہے ۔ شیخ فاضل آپ دہلی میں آسودۂ خاک ہیں ۔ شاہ جمال جن کا مدفن رہتاس میں ہے ۔ لعل گدا ۔ احمد گدا شہباز گدا یہ تینوں بزرگ آپ کے پہلو میں آسودۂ خاک ہیں ۔
وصال:
آپ کی وفات بتاریخ 14 شوال ۱۰۷۱ھ کو ہوئی ۔ آپ کا مزار لاہور میں ہے ۔
شہ گدا سیّد وَلیِ متّقی
گفت تاریخ وصالِ او خرد
بندہ حق خاک پائے بو تراب
شد ولی سیّد گدائے بو تراب
۱۰۷۱ھ
قاضی محمد افضل جو آپ کے دربار کے عالم دین اور خلیفہ خاص تھے ۱۰۹۰ھ میں واصل بحق ہوئے ۔ ان کی تاریخ وفات ان اشعار سے نکلتی ہے ۔
کریم اکرم و شیخ مکرّم
وصالش قطب افضل اہل دل گو
۱۰۹۲ھ
شہِ اہل کرم افضل محمد
دگر پاکیزہ دم افضل محمد
۱۰۹۲ھ
( خذینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/syed-abu-turab-shah-gada-hussaini-qadri-shattari-lahori
آپ حسینی سید تھے ۔ شیراز کے رہنے والے تھے ۔ طلب خدا وندی کے شوق نے آپ کو شیراز سے ہندوستان پہنچایا ۔ گجرات آئے ۔ اور شیخ وجیہ الدین گجراتی کی خدمت میں پہنچے ۔ مرید ہوئے اور تکمیل کو پہنچے ۔ مرشد کی وفات کے بعد لاہور آئے اور مستقل سکونت اختیار کر لی ۔
سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
آپ کی آبائی نسبت حضرت امام جعفر صادق رضی الله تعالیٰ عنہ سے ان واسطوں سے ملتی ہے ۔
سید ابو تراب ۔ بن نجیب الدین بن سید شمس الدین بن اسد الدین بن زین الدین المشہور زین العابدین بن یونس بن عبد الوہاب بن عبد الہادی بن ابو البرکات بن انور علی بن عبد الطیف بن محمد شریف بن ابو المظفر بن سید عبد الباقی بن ابو الحسن بن عبد العزیز شیرازی ۔ بن سید عبد اللہ بن محمد امین بن قدرت اللہ بن سید موسیٰ بن مسعود بن صادق نبی احمد بن سید باقر بن حسن بن زید بن جعفر بن محمود بن ہارون بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق رضی اللہ عنہم ۔
بیعت و خلافت:
شطاریہ سلسلۂ تصوف میں آپ شیخ وجیہ الدین گجراتی وہ سید محمد غوث گوالیاری وہ سید حمید وہ سید قاذن اور وہ سید عبد اللہ شطاری کے مرید تھے ۔ آپ کا سلسلہ قادریہ حضرت غوث الاعظم کے ساتھ ان واسطوں سے ملتا ہے۔ سید ابوتراب شیخ وجیہہ الدین گجراتی سید محمد غوث گوالیاری شیخ طیغوری حاجی شیخ عبد الفتح المخاطب بہ ہدایت اللہ سرمست ۔ شیخ شاہ قاذن شیخ عبد الوہاب شیخ عبد الرؤف شیخ محمود ۔ شیخ عبد الغفار ۔ شیخ محمد ۔ شیخ عبد الرحیم ۔ سید ابو بکر تاج الدین ۔ سیدنا عبد القادر غوث الاعظم رضی الله تعالیٰ عنہم ـ
سید ابو تراب کے چھ خلفاء تھے ۔ قاضی محمد لاہوری ۔ آپ کا مزار لاہور کے قریب ہی ہے ۔ شیخ فاضل آپ دہلی میں آسودۂ خاک ہیں ۔ شاہ جمال جن کا مدفن رہتاس میں ہے ۔ لعل گدا ۔ احمد گدا شہباز گدا یہ تینوں بزرگ آپ کے پہلو میں آسودۂ خاک ہیں ۔
وصال:
آپ کی وفات بتاریخ 14 شوال ۱۰۷۱ھ کو ہوئی ۔ آپ کا مزار لاہور میں ہے ۔
شہ گدا سیّد وَلیِ متّقی
گفت تاریخ وصالِ او خرد
بندہ حق خاک پائے بو تراب
شد ولی سیّد گدائے بو تراب
۱۰۷۱ھ
قاضی محمد افضل جو آپ کے دربار کے عالم دین اور خلیفہ خاص تھے ۱۰۹۰ھ میں واصل بحق ہوئے ۔ ان کی تاریخ وفات ان اشعار سے نکلتی ہے ۔
کریم اکرم و شیخ مکرّم
وصالش قطب افضل اہل دل گو
۱۰۹۲ھ
شہِ اہل کرم افضل محمد
دگر پاکیزہ دم افضل محمد
۱۰۹۲ھ
( خذینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/syed-abu-turab-shah-gada-hussaini-qadri-shattari-lahori
scholars.pk
Syed Abu Turab Shah Gada Hussaini Qadri Shattari Lahori
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2