امراء / مالداروں سے دوری:
امام بخاری علیہ الرحمہ نے اپنی علمی دیانت اور وقار کو کبھی مجروح نہ ہونے دیا ۔ اپنی ذات اور ضرورت کے لیے امراء و رؤسا کے دروازوں پر ہر گز نہ گئے ۔ ہمیشہ حکمرانوں اور مالداروں سے دور رہتے تھے ۔
جب گھر جا کر پڑھانے کے لئے کہا:
جب حاسدین نے حاکمِ بخارا خالد بن احمد ذہلی سے کہا کہ آپ امام بخاری سے کہیں کہ وہ آپ کے بیٹے کو گھر آکر پڑھایا کریں ۔ حاکمِ بخارا نے اس خواہش کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا میں علم کو سلاطین کے دروازے پر لے جا کر ذلیل کرنا نہیں چاہتا ۔ پڑھنے والے کو میرے درس میں آنا چاہیے ۔
والئ بخارا نے کہا اگر میرا لڑکا درس میں آئے تو وہ عام لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر نہیں پڑھے گا، آپ کو اسے علیحدہ پڑھانا ہوگا ۔ امام بخاری نے جواب دیا میں کسی شخص کو احادیث رسول ﷺ کی سماعت سے نہیں روک سکتا ۔ اس کے بعد آپ کو اپنے وطن سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا گیا ۔
ایک بار آپ کے مضارب تاجر نے پچیس ہزار لے کر دوسرے ملک میں سکونت اختیار کی امام صاحب سے لوگوں نے کہا کہ مقامی حاکم کا خط لے کر اس علاقہ کے حاکم کے پاس پہنچا دو روپیہ آسانی سے مل جائے گا امام بخاری نے فرمایا: اگر میں نے اپنے روپے کے لئے حکام سے سفارش لکھواؤں تو کل یہ حکام میرے دین میں دخل دیں گے اور میں اپنے دین کو دنیا کے عوض ضائع نہیں کرنا چاہتا ۔ آج کل کے علماء کے لئے اس میں عظیم سبق ہے ۔
امام صاحب کا ادب الحدیث:
حدیث شریف کو کتاب میں ذکر کرنے سے پہلےآپ غسل کرتے اور خوشبو لگاتے تھے ۔ اس کے بعد آپ دو رکعت نفل ادا کرتے ۔ پھر اس حدیث کی صحت کے بارے میں استخارہ کرتے اس کے بعد اس حدیث کو اپنی صحیح میں درج کرتے ۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں: کہ امام بخاری علیہ الرحمہ نے ایک مرتبہ مسودہ لکھا ۔ دوسری مرتبہ مبیضہ تیار کیا اور تیسری مرتبہ ہر حدیث کو رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں پیش کرتے اور جس حدیث کے بارے میں بالمشافہ یا خواب کے ذریعے حضور ﷺ سے اجازت مل گئی اور اس کی صحت کا یقین کامل ہو گیا اس کو اپنی صحیح میں درج کر لیا ۔ (الشعۃ اللمعات، ص:10) ۔
وصال:
بروز جمعۃ المبارک، یکم شوال المکرم، 250ھ / بمطابق یکم ستمبر 870ء ۔ 61 سال 11ماہ 18 یوم کی عمر پاکر رسول اللہ ﷺ کی احادیث کی خدمت کرتے ہوئے دارِ فنا سے دارِ بقا کی طرف منتقل ہوئے ۔
قبر مبارک:
خرتنگ نزد سمرقند موجودہ ازبکستان میں محو آرام ہیں ۔ آپ کی قبر مبارک سے مدتوں ایسی خوشبو آتی رہی جو مشک و عنبر سے بھی عمدہ تھی لوگ قبر کی مٹی تبرکاً لےجاتے رہے ۔ (ھدی الساری، ج:2، ص:266) ۔ آپ کی قبر انور پر دعا قبول ہوتی ہے ۔ (ارشاد الساری، ج:1، ص:39)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedi-abu-abdullah-muhammad-bin-ismail-bukhari
امام بخاری علیہ الرحمہ نے اپنی علمی دیانت اور وقار کو کبھی مجروح نہ ہونے دیا ۔ اپنی ذات اور ضرورت کے لیے امراء و رؤسا کے دروازوں پر ہر گز نہ گئے ۔ ہمیشہ حکمرانوں اور مالداروں سے دور رہتے تھے ۔
جب گھر جا کر پڑھانے کے لئے کہا:
جب حاسدین نے حاکمِ بخارا خالد بن احمد ذہلی سے کہا کہ آپ امام بخاری سے کہیں کہ وہ آپ کے بیٹے کو گھر آکر پڑھایا کریں ۔ حاکمِ بخارا نے اس خواہش کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا میں علم کو سلاطین کے دروازے پر لے جا کر ذلیل کرنا نہیں چاہتا ۔ پڑھنے والے کو میرے درس میں آنا چاہیے ۔
والئ بخارا نے کہا اگر میرا لڑکا درس میں آئے تو وہ عام لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر نہیں پڑھے گا، آپ کو اسے علیحدہ پڑھانا ہوگا ۔ امام بخاری نے جواب دیا میں کسی شخص کو احادیث رسول ﷺ کی سماعت سے نہیں روک سکتا ۔ اس کے بعد آپ کو اپنے وطن سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا گیا ۔
ایک بار آپ کے مضارب تاجر نے پچیس ہزار لے کر دوسرے ملک میں سکونت اختیار کی امام صاحب سے لوگوں نے کہا کہ مقامی حاکم کا خط لے کر اس علاقہ کے حاکم کے پاس پہنچا دو روپیہ آسانی سے مل جائے گا امام بخاری نے فرمایا: اگر میں نے اپنے روپے کے لئے حکام سے سفارش لکھواؤں تو کل یہ حکام میرے دین میں دخل دیں گے اور میں اپنے دین کو دنیا کے عوض ضائع نہیں کرنا چاہتا ۔ آج کل کے علماء کے لئے اس میں عظیم سبق ہے ۔
امام صاحب کا ادب الحدیث:
حدیث شریف کو کتاب میں ذکر کرنے سے پہلےآپ غسل کرتے اور خوشبو لگاتے تھے ۔ اس کے بعد آپ دو رکعت نفل ادا کرتے ۔ پھر اس حدیث کی صحت کے بارے میں استخارہ کرتے اس کے بعد اس حدیث کو اپنی صحیح میں درج کرتے ۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں: کہ امام بخاری علیہ الرحمہ نے ایک مرتبہ مسودہ لکھا ۔ دوسری مرتبہ مبیضہ تیار کیا اور تیسری مرتبہ ہر حدیث کو رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں پیش کرتے اور جس حدیث کے بارے میں بالمشافہ یا خواب کے ذریعے حضور ﷺ سے اجازت مل گئی اور اس کی صحت کا یقین کامل ہو گیا اس کو اپنی صحیح میں درج کر لیا ۔ (الشعۃ اللمعات، ص:10) ۔
وصال:
بروز جمعۃ المبارک، یکم شوال المکرم، 250ھ / بمطابق یکم ستمبر 870ء ۔ 61 سال 11ماہ 18 یوم کی عمر پاکر رسول اللہ ﷺ کی احادیث کی خدمت کرتے ہوئے دارِ فنا سے دارِ بقا کی طرف منتقل ہوئے ۔
قبر مبارک:
خرتنگ نزد سمرقند موجودہ ازبکستان میں محو آرام ہیں ۔ آپ کی قبر مبارک سے مدتوں ایسی خوشبو آتی رہی جو مشک و عنبر سے بھی عمدہ تھی لوگ قبر کی مٹی تبرکاً لےجاتے رہے ۔ (ھدی الساری، ج:2، ص:266) ۔ آپ کی قبر انور پر دعا قبول ہوتی ہے ۔ (ارشاد الساری، ج:1، ص:39)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedi-abu-abdullah-muhammad-bin-ismail-bukhari
scholars.pk
Hazrat Sheikh Muhammad Bin Ismail Bukhari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا سید عبد الجلیل بلگرامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
سید عبد الجلیل بن سید احمد حسینی واسطی بلگرامی: محدث، مفسر، فقیہ، ادیب، لغوی، علامہ بارع کوکبِ ساطع، قاموس اللسان طلبیق البیان تھے ـ
ولادت:
۱۳ ماہ شوال ۱۰۱۷ھ کو بلگرام میں پیدا ہوئے ـ
تحصیلِ علم:
اور وہیں کے اساتذہ سے علوم حاصل کیے اور حیدث کو سید مبارک شاہ محدث واسطی حسینی بلگرامی متوفی ۱۱۰۵ھ تلمیذ شیخ نور الحق محدث سے سنا اور ادب کو شیخ غلام نقشبند لکھنوی سے اخذ کیا اور فنون عالیہ خصوصاً تفسیر و حدیث و سیر و اسماء الرجال اور تاریخ عرب و عجم حاصل کیے ۔
عربی، فارسی، ترکی، ہندی میں بڑے عارف تھے اور نہایت طلاقت لسانی سے ان چاروں میں گفتگو کرتے تھے ۔ اورنگ آباد میں سید علی معصوم صاحب کتاب سلاقۃ العصر سے ملاقات کی جنہوں نے آپ کی نسبت بہت عمدہ شہادت دی اور کہا کہ میں نے ہند میں آپ جیسا کوئی نہیں دیکھا ۔
عالمگیر نے آپ کو بخشی گری اور وقائع نگاری گجرات پنجاب پر مقرر فرمایا پھر سندھ کے بلاد مکر [1] اور سیوستان میں اسی خدمت پر مقرر ہوئے جس کو آپ نے بری خوبی سے انجام دیا ۔ ۱۱۲۶ھ [2] میں سلطان فرخ سیر سے مل کر ان تمام خدمات سے استعفیٰ دے دیا ور اپنی جگہ اپنے بیٹے سید محمد کو مقرر کرا کے آپ بلگرام میں آ گئے جہاں آپ کے دختر زادہ سید آزاد نے آپ سے تلمذ کیا ۔
وصال:
ایک برس کے بعد آپ دہلی کو تشریف لے گئے اور وہاں اقامت اختیار کی یہاں تک کہ شنبہ کی رات ۲۳ ماہ ربیع الآخر ۱۱۳۸ھ میں وفات پائی اور نعش بلگرام میں لاکر بستان محمود کے اندر دفن کی گئی۔آپ کی تاریخ وفات ’’ اولٰئک لہم عقبی الدار جنّٰت عدن ‘‘ سے نکلتی ہے ۔
1۔ بکھر ( مرتب )
2۔ ۱۱۳۰ھ نزہت الخواطر (مرتب)
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-abdul-jalil-bilgrami
سید عبد الجلیل بن سید احمد حسینی واسطی بلگرامی: محدث، مفسر، فقیہ، ادیب، لغوی، علامہ بارع کوکبِ ساطع، قاموس اللسان طلبیق البیان تھے ـ
ولادت:
۱۳ ماہ شوال ۱۰۱۷ھ کو بلگرام میں پیدا ہوئے ـ
تحصیلِ علم:
اور وہیں کے اساتذہ سے علوم حاصل کیے اور حیدث کو سید مبارک شاہ محدث واسطی حسینی بلگرامی متوفی ۱۱۰۵ھ تلمیذ شیخ نور الحق محدث سے سنا اور ادب کو شیخ غلام نقشبند لکھنوی سے اخذ کیا اور فنون عالیہ خصوصاً تفسیر و حدیث و سیر و اسماء الرجال اور تاریخ عرب و عجم حاصل کیے ۔
عربی، فارسی، ترکی، ہندی میں بڑے عارف تھے اور نہایت طلاقت لسانی سے ان چاروں میں گفتگو کرتے تھے ۔ اورنگ آباد میں سید علی معصوم صاحب کتاب سلاقۃ العصر سے ملاقات کی جنہوں نے آپ کی نسبت بہت عمدہ شہادت دی اور کہا کہ میں نے ہند میں آپ جیسا کوئی نہیں دیکھا ۔
عالمگیر نے آپ کو بخشی گری اور وقائع نگاری گجرات پنجاب پر مقرر فرمایا پھر سندھ کے بلاد مکر [1] اور سیوستان میں اسی خدمت پر مقرر ہوئے جس کو آپ نے بری خوبی سے انجام دیا ۔ ۱۱۲۶ھ [2] میں سلطان فرخ سیر سے مل کر ان تمام خدمات سے استعفیٰ دے دیا ور اپنی جگہ اپنے بیٹے سید محمد کو مقرر کرا کے آپ بلگرام میں آ گئے جہاں آپ کے دختر زادہ سید آزاد نے آپ سے تلمذ کیا ۔
وصال:
ایک برس کے بعد آپ دہلی کو تشریف لے گئے اور وہاں اقامت اختیار کی یہاں تک کہ شنبہ کی رات ۲۳ ماہ ربیع الآخر ۱۱۳۸ھ میں وفات پائی اور نعش بلگرام میں لاکر بستان محمود کے اندر دفن کی گئی۔آپ کی تاریخ وفات ’’ اولٰئک لہم عقبی الدار جنّٰت عدن ‘‘ سے نکلتی ہے ۔
1۔ بکھر ( مرتب )
2۔ ۱۱۳۰ھ نزہت الخواطر (مرتب)
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-abdul-jalil-bilgrami
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1