🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
تاج العارفین حضرت خواجہ امام علی شاہ نقشبندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
سید امام علی شاہ ۔ والد کا اسمِ گرامی: سید حیدر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ علیہ الرحمہ " سامرہ " عراق کے خاندانِ سادات سے تعلق رکھتے تھے ۔ آپ کا تعلق خالصتاً دینی گھرانے سے تھا ۔ آپ کے والد محترم سید حیدر علی شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عابد و زاہد بزرگ تھے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1211ھ ، بمطابق 1796ء میں (موضع رتڑ چھتر ، کے علاقہ " مکان شریف " ضلع گوردا سپور ، پنجاب انڈیا ) میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
حضرت خواجہ امام علی شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے والد محترم کے زیر سایہ ابتدائی تعلیم حاصل کی ابھی آپ کمسن ہی تھے کہ والد ماجد کا وصال ہو گیا اُس وقت تک آپ نے مولانا فقیر اللہ دھرم کوٹی سے بعض فارسی کی کتب پڑھ لی تھیں۔ پھر آپ نے مزید تعلیم کے حصول کی غرض سے حافظ محمد رضا اور مولانا نور احمد چشتی، اور مولانا جان محمد چشتی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور ان سے درسی کتب پڑھیں اور طب کی کتب سے بھی استفادہ کیا ۔ آپ کا ذہن تعلیم حاصل کرنے کے دوران خوب روشن تھا اس لیے سب طالب علموں سے زیادہ ذہین اور لائق سمجھے جاتے تھے ۔ایک مرتبہ حضرت شاہ حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے آپ کے چہرۂ مبارک کی طرف غور سے توجہ فرمائی اور اللہ تعالیٰ کے نورانی انوار اور اہلیت کو دیکھتے ہوئے دریافت فرمایا کہ بیٹا! کون سی کتاب پڑھتے ہو؟ ابھی آپ جواب دینا ہی چاہتے تھے کہ ارشاد فرمایا: مثنوی شریف پڑھا کرو کہ اس سے عمل و اعتقاد میں پختگی اور قلب کی صفائی اور روح کو تقویت حاصل ہوتی ہے اس پر آپ نے مثنوی شریف کا مطالعہ کرنا شروع کردیا اگلے روز حضرت شاہ حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے آپ کو بلایا اور مثنوی شریف کے تین اشعار کی شرح اس انداز سے فرمائی کہ آپ کے دل پر اس کا بہت اثر ہوا اور آپ نے پھر باقاعدہ طور پر حضرت شاہ حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے مثنوی شریف کا درس لینا شروع کردیا۔آپ علیہ الرحمہ کا شمار اپنے وقت کے جید علماء میں ہوتا تھا، بلکہ علماء اپنے مسائل کے حل کے لئے آپ کی طرف رجوع کرتے تھے ۔

بیعت و خلافت:
سولہ برس کی عمر میں حضرت شاہ حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت ہو گئے اپنے مرشد کی تعلیمات و ارشادات پر عمل کرنے میں پیش پیش رہتے تھے ۔

عبادت و مجاہدہ:
عبادت و ریاضت میں آپ سکون محسوس کرتے تھے اور بڑی توجہ و یکسوئی سے اللہ رب العزت کی عبادت میں مشغول رہا کرتے تھے ۔ آپ کا معمول تھا کہ آپ روزانہ نماز عشاء کی ادائیگی کے بعد "مکان شریف" سے باہر دو میل کے فاصلے پر واقع ایک تالاب کے کنارے پر تشریف لے جاتے یہ جگہ "ڈھولی ڈھاب" کے نام سے مشہور ہے اس جگہ پر آپ کو انتہائی اور یکسوئی میسر ہوتی تھی اور آپ فجر تک پانی کے کنارے مراقبہ کی حالت میں بیٹھے رہتے غرض یہ کہ آپ نے عبادت و ریاضت اور مجاہدے کرنے میں اپنے آپ کو مشغول رکھا ۔ ایک دن مرشدِ کامل حضرت شاہ حسین علیہ الرحمہ نے آپ سے فرمایا ۔

" صفوت و قدسِ جبریل علیہ السلام، خلتِ ابراہیم، شوقِ موسیٰ، طہارتِ عیسیٰ اور محبتِ مصطفیٰ (صلواۃ اللہ علیہم اجمعین) اگر تمہیں مل جائیں تو خبردار اس پر راضی مت ہونا، بلکہ اس سے زیادہ کی آرزو کرنا کہ اس سے زیادہ بہت کچھ ہے ۔ صاحبِ ہمت بنے رہواورسرِ ہمت کبھی نیچا نہ کرنا۔"

سیرت و خصائص:
تاج العارفین، برہان الواصلین، شیخ الکاملین، عارف باللہ، مجدد وقت حضرت خواجہ سید امام علی شاہ نقشبندی مکان شریفی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ مستجاب الدعوات اور صاحب کرامت ولی اللہ تھے ۔ بڑے نامی گرامی علماء و مشائخ آپ سے بیعت ہوئے اور درجۂ کمال کو پہنچے ۔ جن میں سے فقیہ الہند مفتی شاہ محمد مسعود دہلوی علیہ الرحمہ شاہی امام و خطیب جامع مسجد فتح پور دہلی، اور حضرت خواجہ امیرالدین علیہ الرحمہ، ان سے قطبِ ربانی شیرِ یزدانی حضرت میاں شیر محمد شرقپوری علیہ الرحمہ جیسے مردِ کامل اور ولیِ کامل ہوئے ۔ جنہوں سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کی پورے بر صغیر میں خوب ترویج و اشاعت فرمائی ۔

آپ علیہ الرحمہ علم و عمل، اتباعِ سنت، شریعت پر استقامت، تربیت و تسلیک، ناقصوں کی تکمیل، فقراء و غرباء پر شفقت و مہربانی، حسنِ خلق، توضع و مسکنت، عفو و در گزر، ایثار و انعام، اکرام و احسان، زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت الغرض آپ حضورِ اکرم ﷺ کے حقیقی وارثِ اور دینِ اسلام کے داعیِ صادق تھے ۔
دربارِ مصطفیٰ ﷺ میں شرف یابی:
مولانا احمد علی دھرم کوٹی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں! جب آپ کی مشیخیت کا شہرہ اطرافِ عالم میں ہوا اور لوگوں کو معلوم ہوا کہ "مکان شریف" میں ایسا آفتاب عالم تاب طلوع ہوا ہے کہ جس پر ایک نظر ڈالتا ہے اس کے ظاہر و باطن کو منور کر دیتا ہے ۔ تو لوگ جوق در جوق آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر مستفید ہونے لگے ۔ چنانچہ اس زمانے کے بڑے جلیل القدر علماء آپ سے بیعت ہوئے، اور بہت سے حضرات نے عالمِ واقعہ میں حضورِ اکرم ﷺ کی زیارت سے شرف یاب ہوئے اور آپ کے اشارے پر حضرت امام علی شاہ صاحب کی خدمت میں  حاضر ہو کر نسبتِ بیعت حاصل کی، اور مقاماتِ عالیہ پر فائز ہوئے ۔ آپ سے بے شمار کرامات کا ظہور ہوا آپ کی کرامات کی برکت سے بہت سے لوگوں کو فوائد حاصل ہوئے ۔

وصال:
13 شوال المکرم 1282ھ، بمطابق 6 مارچ 1866 کو بوقتِ عصر آپ کا وصال ہوا، آپ کا مزار مکان شریف ضلع گوردا سپور (انڈیا) میں مرجع خاص وعام ہے۔

https://scholars.pk/ur/scholar/khawaja-imam-ali-shah
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
حضرت سیدی ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: محمد ۔ کنیت: ابو عبد اللہ ۔ لقب: امام المحدثین، امیر المؤمنین فی الحدیث ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ بن بردزبہ بخاری جعفی ۔ آپ کے جد اعلیٰ مغیرہ نے حاکمِ بخارا، یمان جعفی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اس لیے آپ کو جعفی کہا جاتا ہے " بخارا " کی نسبت سے بخاری کہا جاتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت 13 شوال المکرم 194ھ، بمطابق 19جولائی 810ء بروز جمعہ بعد نمازِ عصر یا عشاء بخارا میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
امام بخاری نے "بخارا" میں ابتدائی تعلیم کے بعد صغر سنی میں ہی تحصیلِ حدیث کی جانب متوجہ ہو گئے تھے، اور دس سال کی عمر میں امام داخلی علیہ الرحمہ کے حلقۂ درس میں شریک ہونے لگے اور اپنی خدا داد قوت حفظ و ضبط سے حدیثوں کی اسناد و متون کو ذہن میں محفوظ کرنے لگے ۔

قوت حفظ و ضبط کا یہ عالم تھا کہ 18 سال کی عمر میں آپ نے عبد اللہ بن مبارک علیہ الرحمہ کی تمام کتابیں اور وکیع اور دیگر اصحابِ امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی کتابوں کو ازبر کر لیا تھا ۔

اسی عمر میں آپ نے روضۂ انور کے سائے میں بیٹھ کر " التاریخ الکبیر " تصنیف فرمائی ۔ 216ھ میں طلبِ حدیث کے لئے آپ نے مکۃ المکرمہ کی طرف پہلا سفر کیا ۔ اس کے علاوہ طلبِ حدیث کے لئے آپ نے مصر اور شام دو مرتبہ، بصرہ چار مرتبہ اور بے شمار مرتبہ بغداد اور کوفہ کا سفر کیا ۔

آپ نے ایک ہزار سے زائد اساتذہ سے اکتسابِ علم کیا ۔ ایک وقت ایسا آیا کہ آپ امیر المؤمنین فی الحدیث کے منصب پر فائز ہو گئے، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کی تصنیف " بخاری شریف " امت میں مقبولیتِ عامہ عطاء فرمائی ۔

قوتِ حافظہ:
قدرت نے امام بخاری علیہ الرحمہ کو بے مثال ذہانت اورقوت حفظ و ضبط سے سر فراز فرمایا تھا ۔آپ انتہائی بیدار مغز اور روشن دماغ انسان تھے ۔ قرطاس و قلم پر اتنا اعتماد نہیں کرتے تھے جتنا انہیں اپنے لوحِ ذہن پر بھروسہ تھا ۔

حاشد بن اسماعیل عہد بخاری کے زبردست محدث تھے فرماتے ہیں: امام بخاری طلب حدیث کے لیے میرے ہمراہ شیوخ وقت کی خدمت میں آمد و رفت رکھتے تھے لیکن ان کے پاس عام طلبہ کی طرح قلم و دوات اور کاغذ کچھ نہ ہوتا تھا میں نے ان سے کہا جب تم حدیث سن کر تحریر نہیں کرتے تو تمہاری آمد و رفت اور سماع کا کیا فائدہ؟ : یہ سماع تو ہَوا کی مانند ہے جو ایک کان سے داخل ہو کر دوسرے کان سے نکل گیا ـ

سولہ دن بعد امام بخاری نے مجھ سے کہا تم لوگوں نے مجھ کو بہت تنگ کر دیا آؤ اب میری یاد داشت کا اپنے نوشتوں سے مقابلہ کرو ۔ اس مدت میں ہم نے پندرہ ہزار حدیثیں لکھیں تھیں امام بخاری نے صحت کے ساتھ سب کو اس طرح سنایا کہ میں اپنی حدیثوں کو ان سے صحیح کرتا تھا ـ

امام بخاری خود فرماتے تھے:
کہ میں نے اپنی صحیح کا چھ لاکھ احادیث میں سے انتخاب کیا ہے ۔ (تذکرۃ المحدثین ص:196)

سیرت و خصائص:
امام بخاری علیہ الرحمہ نے جس اخلاص و انہماک کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی احادیث کریمہ کو سینے میں محفوظ کیا تھا اسی طرح انہوں نے اپنی ذات و صفات کو اخلاق نبوی ﷺ کے سانچے میں ڈھال لیا تھا زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت، حسن اخلاق، حق گوئی و حق شناسی میں ممتاز تھے ۔ حلم و مروت کے پیکر تھے ۔ کبھی کسی کو برائی سے یاد نہ کرتے اور برائی کا بدلہ ہمیشہ نیکی سے دیتے ۔ ہر شخص کی عزت نفس کا لحاظ رکھتے آپ بےحد صابر انسان تھے، اور اپنی ذات کا انتقام بِالکل ہی نہ لیتے تھے ۔ آپ بہت ہی متواضع اور منکسر المزاج واقع ہوئے تھے ۔ بڑی سادہ زندگی بسر کرتے اور اپنے کام خود کر لیا کرتے تھے ۔ کسی دوسرے کو زحمت نہ دیتے ۔

آپ کے شاگرد محمد بن حاتم وراق بیان کرتے ہیں: کہ ایک مرتبہ امام بخاری علیہ الرحمہ بخارا کے قریب سرائے بنا رہے تھے اور اپنے ہاتھوں ہی سے دیوار میں اینٹیں لگا رہے تھے میں نے آگے بڑھ کر کہا آپ رہنے دیجیے میں یہ انٹیں لگا دیتا ہوں آپ نے فرمایا قیامت کے دن یہ عمل مجھے نفع دے گا ۔ وراق کہتے ہیں کہ جب ہم امام بخاری علیہ الرحمہ کے ساتھ کسی سفر میں جاتے تو آپ ہم سب کو ایک کمرے میں جمع کر دیا کرتے اور خود علیحدہ رہتے ۔

ایک بار میں نے دیکھا امام بخاری علیہ الرحمہ رات کو پندرہ بیس مرتبہ اٹھے اور ہر مرتبہ اپنے ہاتھ سے آگ جلا کر چراغ روشن کیا کچھ احادیث نکالیں ان پر نشانات لگائے پھر تکیہ پر سر رکھ کر لیٹ گئے ـ میں نے عرض کیا آپ نے رات کو اٹھ کر تنہا مشقت برداشت کی مجھے اٹھا لیتے فرمایا تم جوان ہو اور گہری نیند سوتے ہو میں تمہاری نیند خراب کرنا نہیں چاہتا تھا ۔ (محدثین عظام حیات و خدمات، ص:321) ۔
1
امراء / مالداروں سے دوری:
امام بخاری علیہ الرحمہ نے اپنی علمی دیانت اور وقار کو کبھی مجروح نہ ہونے دیا ۔ اپنی ذات اور ضرورت کے لیے امراء و رؤسا کے دروازوں پر ہر گز نہ گئے ۔ ہمیشہ حکمرانوں اور مالداروں سے دور رہتے تھے ۔

جب گھر جا کر پڑھانے کے لئے کہا:
جب حاسدین نے حاکمِ بخارا خالد بن احمد ذہلی سے کہا کہ آپ امام بخاری سے کہیں کہ وہ آپ کے بیٹے کو گھر آکر پڑھایا کریں ۔ حاکمِ بخارا نے اس خواہش کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا میں علم کو سلاطین کے دروازے پر لے جا کر ذلیل کرنا نہیں چاہتا ۔ پڑھنے والے کو میرے درس میں آنا چاہیے ۔

والئ بخارا نے کہا اگر میرا لڑکا درس میں آئے تو وہ عام لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر نہیں پڑھے گا، آپ کو اسے علیحدہ پڑھانا ہوگا ۔ امام بخاری نے جواب دیا میں کسی شخص کو احادیث رسول ﷺ کی سماعت سے نہیں روک سکتا ۔ اس کے بعد آپ کو اپنے وطن سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا گیا ۔

ایک بار آپ کے مضارب تاجر نے پچیس ہزار لے کر دوسرے ملک میں سکونت اختیار کی امام صاحب سے لوگوں نے کہا کہ مقامی حاکم کا خط لے کر اس علاقہ کے حاکم کے پاس پہنچا دو روپیہ آسانی سے مل جائے گا امام بخاری نے فرمایا: اگر میں نے اپنے روپے کے لئے حکام سے سفارش لکھواؤں تو کل یہ حکام میرے دین میں دخل دیں گے اور میں اپنے دین کو دنیا کے عوض ضائع نہیں کرنا چاہتا ۔ آج کل کے علماء کے لئے اس میں عظیم سبق ہے ۔

امام صاحب کا ادب الحدیث:
حدیث شریف کو کتاب میں ذکر کرنے سے پہلےآپ غسل کرتے اور خوشبو لگاتے تھے ۔ اس کے بعد آپ دو رکعت نفل ادا کرتے ۔ پھر اس حدیث کی صحت کے بارے میں استخارہ کرتے اس کے بعد اس حدیث کو اپنی صحیح میں درج کرتے ۔

شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں: کہ امام بخاری علیہ الرحمہ نے ایک مرتبہ مسودہ لکھا ۔ دوسری مرتبہ مبیضہ تیار کیا اور تیسری مرتبہ ہر حدیث کو رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں پیش کرتے اور جس حدیث کے بارے میں بالمشافہ یا خواب کے ذریعے حضور ﷺ سے اجازت مل گئی اور اس کی صحت کا یقین کامل ہو گیا اس کو اپنی صحیح میں درج کر لیا ۔ (الشعۃ اللمعات، ص:10) ۔

وصال:
بروز جمعۃ المبارک، یکم شوال المکرم، 250ھ / بمطابق یکم ستمبر 870ء ۔ 61 سال 11ماہ 18 یوم کی عمر پاکر رسول اللہ ﷺ کی احادیث کی خدمت کرتے ہوئے دارِ فنا سے دارِ بقا کی طرف منتقل ہوئے ۔

قبر مبارک:
خرتنگ نزد سمرقند موجودہ ازبکستان میں محو آرام ہیں ۔ آپ کی قبر مبارک سے مدتوں ایسی خوشبو آتی رہی جو مشک و عنبر سے بھی عمدہ تھی لوگ قبر کی مٹی تبرکاً لےجاتے رہے ۔ (ھدی الساری، ج:2، ص:266) ۔ آپ کی قبر انور پر دعا قبول ہوتی ہے ۔ (ارشاد الساری، ج:1، ص:39)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedi-abu-abdullah-muhammad-bin-ismail-bukhari
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا سید عبد الجلیل بلگرامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

سید عبد الجلیل بن سید احمد حسینی واسطی بلگرامی: محدث، مفسر، فقیہ، ادیب، لغوی، علامہ بارع کوکبِ ساطع، قاموس اللسان طلبیق البیان تھے ـ

ولادت:
۱۳ ماہ شوال ۱۰۱۷ھ کو بلگرام میں پیدا ہوئے ـ

تحصیلِ علم:
اور وہیں کے اساتذہ سے علوم حاصل کیے اور حیدث کو سید مبارک شاہ محدث واسطی حسینی بلگرامی متوفی ۱۱۰۵ھ تلمیذ شیخ نور الحق محدث سے سنا اور ادب کو شیخ غلام نقشبند لکھنوی سے اخذ کیا اور فنون عالیہ خصوصاً تفسیر و حدیث و سیر و اسماء الرجال اور تاریخ عرب و عجم حاصل کیے ۔

عربی، فارسی، ترکی، ہندی میں بڑے عارف تھے اور نہایت طلاقت لسانی سے ان چاروں میں گفتگو کرتے تھے ۔ اورنگ آباد میں سید علی معصوم صاحب کتاب سلاقۃ العصر سے ملاقات کی جنہوں نے آپ کی نسبت بہت عمدہ شہادت دی اور کہا کہ میں نے ہند میں آپ جیسا کوئی نہیں دیکھا ۔

عالمگیر نے آپ کو بخشی گری اور وقائع نگاری گجرات پنجاب پر مقرر فرمایا پھر سندھ کے بلاد مکر [1] اور سیوستان میں اسی خدمت پر مقرر ہوئے جس کو آپ نے بری خوبی سے انجام دیا ۔ ۱۱۲۶ھ [2] میں سلطان فرخ سیر سے مل کر ان تمام خدمات سے استعفیٰ دے دیا ور اپنی جگہ اپنے بیٹے سید محمد کو مقرر کرا کے آپ بلگرام میں آ گئے جہاں آپ کے دختر زادہ سید آزاد نے آپ سے تلمذ کیا ۔

وصال:
ایک برس کے بعد آپ دہلی کو تشریف لے گئے اور وہاں اقامت اختیار کی یہاں تک کہ شنبہ کی رات ۲۳ ماہ ربیع الآخر ۱۱۳۸ھ میں وفات پائی اور نعش بلگرام میں لاکر بستان محمود کے اندر دفن کی گئی۔آپ کی تاریخ وفات ’’ اولٰئک لہم عقبی الدار جنّٰت عدن ‘‘ سے نکلتی ہے ۔

1۔ بکھر ( مرتب )
2۔ ۱۱۳۰ھ نزہت الخواطر (مرتب)

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-abdul-jalil-bilgrami
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1