🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-10-1444 ᴴ | 03-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-10-1444 ᴴ | 03-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-10-1444 ᴴ | 03-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت مولانا قاضی محمد عبد السبحان ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ کے والد ماجد اور جد امجد اپنے دور کے اکابر علماء اور صوفیاء میں سے تھے ۔ خاندانی تعلق علوی و ہاشمی گھرانے سے ہے ۔

آپ کے جد امجد نے رد تقویۃ الایمان اور تاریخ وہابیہ وغیرہ کتب بھی لکھی تھیں ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت، ص:175)

صلابت دینی میں بھی اپنی مثال آپ تھے مرض الموت میں ہری پور کے مشہور و معروف حکیم سے صرف اس لیے علاج نہیں کرایا، کہ وہ بد قسمتی سے دینِ دیوبند کا پیرو تھا ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت، ص:175)

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 12 شوال المکرم 1377ھ مطابق 2 مئی 1958ء کو واصلِ جنت ہوئے ۔
Telegram↷
https://t.me/islaamic_Knowledge/49901

Website↷
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qazi-abdul-subhan-hazarwi
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سید آدم بنوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: سید آدم بنوری ۔ کنیت: ابو عبد اللہ ۔ لقب: معز الدین ۔ والد کا اسم گرامی: سید اسماعیل ۔ آپ کا خاندانی تعلق ساداتِ کرام سے ہے ۔

سلسلۂ نسب:
آپ کاسلسلۂ نسب 29 واسطوں سے حضرت امام موسیٰ کاظم تک منتہی ہوتا ہے ۔ آپ کی والدہ محترمہ افغانیہ تھیں ۔ نانی سیدہ تھیں لیکن افغانستان کی رہنے والی تھیں اس لئے انہیں افغانیہ سمجھاتا جاتا تھا ۔ آباؤ اجداد کا تعلق بغدادِ معلیٰ سے تھا ۔ تبلیغِ اسلام کی غرض سے عراق سے ہجرت کرکے ہندوستان وارد ہوئے ۔ (علماء ہند کا شاندار ماضی ص:277 / انسائیکلوپیڈیا)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 912ھ مطابق 1506ء کوقصبہ ’’بنور‘‘ ریاست پٹیالہ (انڈیا) میں ہوئی ۔

ولادت سے قبل بشارت:
سید آدم بنوری فرمایا کرتے تھے ۔ کہ والد ماجد نے خواب میں دیکھا کہ سرور عالم ﷺ تشریف لائے ہیں ۔ سینۂ مبارک پر دست مبارک پھیرا ۔ کوئی چیز نکال کر والد صاحب کو عطاء فرمائی اور حکم فرمایا کہ کھالو والد صاحب نے کھالی ۔ اسی شب استقرار حمل ہوا ۔ آپ علیہ الرحمہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ میرا وجود سرور عالم ﷺ کے اسی عطیہ مبارکہ سے ہے ۔ (علماء ہند کا شاندار ماضی حصہ اول، ص:277)

تحصیلِ علم:
آپ مادر زاد ولی تھے ۔ اس لئے ظاہری تعلیم حاصل نہیں کی تھی ۔ ایک روز ایک آواز سنی ’’آدم تم نے قرآن مجید کیوں نہیں پرھا ۔ آپ نے ہاتف غیبی کے جواب میں عرض کیا ۔ خداوندا! تو قادرِ مطلق ہے، اگر چاہے تو اسی وقت حافظِ قرآن بنادے ۔ چنانچہ اسی وقت حفظ قرآن کی دولت عطاء ہو گئی ۔ اس کے بعد علوم ظاہری کی مولانا کمال کشمیری استاد گرامی حضرت مجدد، و مولانا عبد الحکیم سیالکوٹی سے تکمیل فرمائی ۔ ‘‘ (ایضاً:278)

بیعت و خلافت:
ابتداءً حضرت مجدد کے خلیفہ حضرت حاجی خضر کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ مگر قلیل عرصے میں ہی بفضلِ خداوندی وہ مقامات و احوال پیش آئے جن کی راہنمائی شیخ کے احاطہ تکمیل سےخارج تھی، حضرت حاجی صاحب نے آپ کو حضرت مجدد کی خدمت میں بھیج دیا ۔ تھوڑے ہی عرصے میں مراتب علیا پر فائز ہو کر خلافت و خرقۂ مجددی سے فیض یاب ہوئے ۔ قادری، چشتی، سہروردی، شطاری، اور مدامی سلسلوں میں اجازت و خلافت عطاء ہوئی ۔ حضرت مجدد کی برکت سے آپ قطب الاقطاب اور فخر الزماں مشہور ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
قطب الاقطاب، فخرالزماں، صاحبِ فضائلِ کثیرہ، ولی کامل، خلیفۂ حضرت مجدد، جامع شریعت و طریقت، واقف اسرار حقیقت،حامی سنت،ماحی بدعت حضرت شیخ سید آدم بنوری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ مادر زاد ولی کامل عارف بااللہ تھے ۔حسبی و نسبی شرافت کے ساتھ ساتھ عبادت و ریاضت تقویٰ و فضیلت میں اپنی مثال آپ تھے ۔ حضرت شیخ آدم بنوری اتباع سنت اور دفع بدعت میں مشہور تھے ۔ فقراء کو اغنیاء پر ترجیح دیتے تھے ۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر آپ کا خاص مشرب تھا ۔ آپ حضرت شیخ احمد سرہندی قدس سرہٗ کے اکابر خلفاء میں سے تھے ۔ شیخ آدم بنوری تربیت مریدین میں بے نظیر تے ۔ تھوڑی سی توجہ سے طالبان حق کو لطائف ستہ میں سے ہر لطیفہ میں مرتبہ فناء تک پہنچا دیتے تھے ۔ اور آپکی صورت دیکھتے ہی طالبان حق کو ذکر قلبی حاصل ہو جاتا تھا ۔ آپ کی خانقاہ معلیٰ میں ایک ہزار طالبان حق کا اجتماع ہروقت رہتا تھا ۔ حضرت شیخ کالنگر فقراء کے لئے عام تھا ۔

آپ کے ایک مرید شیخ محمد فرماتے ہیں: ایک مرتبہ قحط ہوگیا ۔ غلہ مہنگا ہو گیا ۔خانقاہ کے معاملات میں دشواری پیش آنے لگی ۔ خدام نے حضرت کی خدمت میں عرض کیا ۔ ایک مٹکا جس میں تھوڑا سا غلہ تھا آپ نے فرمایا اس کو اونچی جگہ پہ رکھ دو اور اس کامنہ بند کر دو، اور اس کے تلی میں سوراخ کر دو، اور بقدرِ ضرورت اسی میں سے غلہ نکالتے رہو ۔ اس کا منہ نہیں کھولنا ۔ انشاء اللہ برکت ہوگی ۔ چھ ماہ متواتر اسی سے غلہ اسی طرح لیا جاتا رہا اور خانقاہ کے معاملات و لنگر میں کوئی کمی نہیں آئی ۔ اور چھ ماہ بعد زمانۂ قحط ختم ہو گیا ۔ جب مٹکے کامنہ کھولا گیا تو اس میں جتنا غلہ پہلے تھا اتناہی اب بھی تھا ۔ (ایضاً:279)

آپ کی مجلس نمائش و شہرت سے پاک، ثروت اور دولت سے بے نیاز، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی درس گاہ تھی ۔ امراء و اغنیاء سے بے نیازی، اور فقراء و مساکین سے نیاز مندی، بڑے بڑے امراء و وزراء آپ سے مرعوب ہو جاتے، بہت کم کلام کرتےتھے ۔ آپ کے مریدین کی تعداد چار لاکھ تک تھی ۔حضرت مجدد کی برکت سے آپ کو بشارت دی گئی کہ جوآپ کے طریقے میں داخل ہوگا ۔ مرحوم و مغفور ہوگا ۔ قیامت کے دن ظل محمدی ﷺ میں سایۂ عاطفت و رحمت آرام ملےگا ۔ (ایضا:279)
1👍1
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی:
جب حضرت شیخ آدم بنوری لاہور تشریف لائے تو آپ کے ساتھ مریدین کی کثیر تعداد تھی، زیادہ ترافغانی و پختون تھے ۔ اتفاقاً ان دنوں شاہ جہاں کے افغانوں کے ساتھ تعلقات خوشگوار نہیں تھے ۔ آپ جہاں بھی تشریف لے جاتے ویرانہ بھی شہر کا منظر پیش کرتا تھا ۔ لاہور میں اتنے بڑے اجتماع کو مشیرانِ حکومت نے تشویش کی نگاہ سے دیکھا ۔ مشیرانِ شاہی کے مشورے سے بادشاہ نے مولانا سعد اللہ وزیر اعظم اور مولانا عبد الحکیم سیالکوٹی علیہما الرحمہ کو حضرت شیخ کی خدمت میں بھیجا، یہ دونوں اپنے وقت کے متبحر فاضل تھے ۔ جب یہ دونوں ارکانِ حکومت حضرت شیخ کی قیام گاہ پر پہنچے تو آپ مراقبے میں تھے ۔ کافی دیر دروازے پر انتظار کرتے رہے ۔ جب شیخ مراقبے سے فارغ ہوئے یہ حجرے میں داخل ہوئے شیخ نے رسمی تعظیم بھی نہ کی ۔ علامہ سعد اللہ نے فوراً اعتراض کر دیا میں دنیا دار آدمی ہوں میری تعظیم ضروری نہیں، مگر مولانا عبد الحکیم ایک عالم و فاضل ہیں ان کی تعظیم تو ضروری تھی ۔

حضرت شیخ نے فرمایا:
احادیث میں ہے علماء اس وقت تک دین کے امین ہیں جب تک امراء و حکام سے اختلاط نہ کریں ۔ اس وقت ان کی تعظیم بھی لازم ہوگی ۔ بادشاہوں سے اختلاط کے بعد وہ ڈاکو ہو جاتے ہیں ۔ یہ بات ان کو ناگوار گزری ۔ انھوں نے بادشاہ سے جا کر کہا ہے تو معمولی فقیر لیکن دعوے بڑے بڑے کرتا ہے اور اس کے ساتھ افغانوں کا جم غفیر کسی بھی وقت نقص امن کابخدشہ پیدا ہو سکتا ہے ۔ بادشاہ نے متاثر ہو کر حجاز تشریف لے جانے کا حکم صادر کر دیا ۔ حضرت شیخ فوراً روانہ ہو گئے ۔ سورت بندرگاہ پہنچ گئے ۔ حضرت شیخ کی روانگی کے بعد شاہ جہاں نے خواب دیکھا کہ حکومتِ شاہ جہاں کا بقاء اسی وقت تک ہے جب تک شیخ آدم ہندوستان میں ہیں ۔ خواب سے متوحش ہو کر بادشاہ نے حاکم سورت کے پاس حضرت شیخ کے روک لینے کا حکم بھیجا ۔ مگر شیخ روانہ ہو چکے تھے ۔

بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ میں اجابت:
حج بیت اللہ کے بعد مدینۃ المنورہ کا قصد کیا ۔ جب روضۂ سرکار ﷺ پر حاضر ہوئے، اور سلام عرض کیا ۔ تو مرقدِ اطہر سے دو دست مبارک ظاہر ہوئے، تمام حاضرین اور رفقاء بھی زیارت سے مشرف ہوئے ۔ حضرت شیخ و فور عشق سے آگے بڑھ کر ید اللہ کی شان والے ہاتھوں کا مصافحہ کیا اور بوسہ دیا ۔پھر آپ کو بارگاہِ رسالت ﷺ سے بشارت دی گئی ۔ ’’یا ولدی انت فی جواری‘‘ ۔ فرزندِ من! تم میرے جوار میں رہوگے ۔ پھر حرمین میں آپ کی ایسی شہرت ہوئی کہ لوگ جوق در جوق آپ کی خدمت میں آنے لگے ۔ بالخصوص حصولِ برکت کی خاطر آپ سے مصافحہ کے لئے لوگوں کا ہجوم رہنے لگا ۔ تاکہ ان ہاتھوں سے ہمارا ہاتھ مس جائے جن سے رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ مس ہوا ہے ۔ پھر حضرت شیخ کو مصافحے کے لئے خاص انتظام کرنا پڑا ۔ (ایضا:285)

تاریخِ وصال:
13 شوال المکرم 1053ھ مطابق 25 دسمبر 1643ء کو مدینۃ المنورہ میں وصال ہوا ۔ جنت البقیع میں حضرت عثمان غنی کے جوار میں دفن ہوئے ۔حضرت ذو النورین کے روضہ مبارک کا سایہ شیخ آدم کی قبر پر پڑتا رہتا تھا ۔ اب تو نجدیوں نے تمام شعائر اللہ کو مٹا دیا ہے ۔ اپنے لئے عالی شان اور پر تعیش محلات جائز کر لئے ہیں ۔ خذلہم اللہ فی الدنیا والآخرہ ۔

ماخذ و مراجع:
علماء ہند کا شاندار ماضی ۔ انفاس العارفین ۔ انسائیکلوپیڈیا ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-adam-binnori
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
تاج العارفین حضرت خواجہ امام علی شاہ نقشبندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
سید امام علی شاہ ۔ والد کا اسمِ گرامی: سید حیدر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ علیہ الرحمہ " سامرہ " عراق کے خاندانِ سادات سے تعلق رکھتے تھے ۔ آپ کا تعلق خالصتاً دینی گھرانے سے تھا ۔ آپ کے والد محترم سید حیدر علی شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عابد و زاہد بزرگ تھے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1211ھ ، بمطابق 1796ء میں (موضع رتڑ چھتر ، کے علاقہ " مکان شریف " ضلع گوردا سپور ، پنجاب انڈیا ) میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
حضرت خواجہ امام علی شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے والد محترم کے زیر سایہ ابتدائی تعلیم حاصل کی ابھی آپ کمسن ہی تھے کہ والد ماجد کا وصال ہو گیا اُس وقت تک آپ نے مولانا فقیر اللہ دھرم کوٹی سے بعض فارسی کی کتب پڑھ لی تھیں۔ پھر آپ نے مزید تعلیم کے حصول کی غرض سے حافظ محمد رضا اور مولانا نور احمد چشتی، اور مولانا جان محمد چشتی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور ان سے درسی کتب پڑھیں اور طب کی کتب سے بھی استفادہ کیا ۔ آپ کا ذہن تعلیم حاصل کرنے کے دوران خوب روشن تھا اس لیے سب طالب علموں سے زیادہ ذہین اور لائق سمجھے جاتے تھے ۔ایک مرتبہ حضرت شاہ حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے آپ کے چہرۂ مبارک کی طرف غور سے توجہ فرمائی اور اللہ تعالیٰ کے نورانی انوار اور اہلیت کو دیکھتے ہوئے دریافت فرمایا کہ بیٹا! کون سی کتاب پڑھتے ہو؟ ابھی آپ جواب دینا ہی چاہتے تھے کہ ارشاد فرمایا: مثنوی شریف پڑھا کرو کہ اس سے عمل و اعتقاد میں پختگی اور قلب کی صفائی اور روح کو تقویت حاصل ہوتی ہے اس پر آپ نے مثنوی شریف کا مطالعہ کرنا شروع کردیا اگلے روز حضرت شاہ حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے آپ کو بلایا اور مثنوی شریف کے تین اشعار کی شرح اس انداز سے فرمائی کہ آپ کے دل پر اس کا بہت اثر ہوا اور آپ نے پھر باقاعدہ طور پر حضرت شاہ حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے مثنوی شریف کا درس لینا شروع کردیا۔آپ علیہ الرحمہ کا شمار اپنے وقت کے جید علماء میں ہوتا تھا، بلکہ علماء اپنے مسائل کے حل کے لئے آپ کی طرف رجوع کرتے تھے ۔

بیعت و خلافت:
سولہ برس کی عمر میں حضرت شاہ حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت ہو گئے اپنے مرشد کی تعلیمات و ارشادات پر عمل کرنے میں پیش پیش رہتے تھے ۔

عبادت و مجاہدہ:
عبادت و ریاضت میں آپ سکون محسوس کرتے تھے اور بڑی توجہ و یکسوئی سے اللہ رب العزت کی عبادت میں مشغول رہا کرتے تھے ۔ آپ کا معمول تھا کہ آپ روزانہ نماز عشاء کی ادائیگی کے بعد "مکان شریف" سے باہر دو میل کے فاصلے پر واقع ایک تالاب کے کنارے پر تشریف لے جاتے یہ جگہ "ڈھولی ڈھاب" کے نام سے مشہور ہے اس جگہ پر آپ کو انتہائی اور یکسوئی میسر ہوتی تھی اور آپ فجر تک پانی کے کنارے مراقبہ کی حالت میں بیٹھے رہتے غرض یہ کہ آپ نے عبادت و ریاضت اور مجاہدے کرنے میں اپنے آپ کو مشغول رکھا ۔ ایک دن مرشدِ کامل حضرت شاہ حسین علیہ الرحمہ نے آپ سے فرمایا ۔

" صفوت و قدسِ جبریل علیہ السلام، خلتِ ابراہیم، شوقِ موسیٰ، طہارتِ عیسیٰ اور محبتِ مصطفیٰ (صلواۃ اللہ علیہم اجمعین) اگر تمہیں مل جائیں تو خبردار اس پر راضی مت ہونا، بلکہ اس سے زیادہ کی آرزو کرنا کہ اس سے زیادہ بہت کچھ ہے ۔ صاحبِ ہمت بنے رہواورسرِ ہمت کبھی نیچا نہ کرنا۔"

سیرت و خصائص:
تاج العارفین، برہان الواصلین، شیخ الکاملین، عارف باللہ، مجدد وقت حضرت خواجہ سید امام علی شاہ نقشبندی مکان شریفی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ مستجاب الدعوات اور صاحب کرامت ولی اللہ تھے ۔ بڑے نامی گرامی علماء و مشائخ آپ سے بیعت ہوئے اور درجۂ کمال کو پہنچے ۔ جن میں سے فقیہ الہند مفتی شاہ محمد مسعود دہلوی علیہ الرحمہ شاہی امام و خطیب جامع مسجد فتح پور دہلی، اور حضرت خواجہ امیرالدین علیہ الرحمہ، ان سے قطبِ ربانی شیرِ یزدانی حضرت میاں شیر محمد شرقپوری علیہ الرحمہ جیسے مردِ کامل اور ولیِ کامل ہوئے ۔ جنہوں سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کی پورے بر صغیر میں خوب ترویج و اشاعت فرمائی ۔

آپ علیہ الرحمہ علم و عمل، اتباعِ سنت، شریعت پر استقامت، تربیت و تسلیک، ناقصوں کی تکمیل، فقراء و غرباء پر شفقت و مہربانی، حسنِ خلق، توضع و مسکنت، عفو و در گزر، ایثار و انعام، اکرام و احسان، زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت الغرض آپ حضورِ اکرم ﷺ کے حقیقی وارثِ اور دینِ اسلام کے داعیِ صادق تھے ۔
دربارِ مصطفیٰ ﷺ میں شرف یابی:
مولانا احمد علی دھرم کوٹی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں! جب آپ کی مشیخیت کا شہرہ اطرافِ عالم میں ہوا اور لوگوں کو معلوم ہوا کہ "مکان شریف" میں ایسا آفتاب عالم تاب طلوع ہوا ہے کہ جس پر ایک نظر ڈالتا ہے اس کے ظاہر و باطن کو منور کر دیتا ہے ۔ تو لوگ جوق در جوق آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر مستفید ہونے لگے ۔ چنانچہ اس زمانے کے بڑے جلیل القدر علماء آپ سے بیعت ہوئے، اور بہت سے حضرات نے عالمِ واقعہ میں حضورِ اکرم ﷺ کی زیارت سے شرف یاب ہوئے اور آپ کے اشارے پر حضرت امام علی شاہ صاحب کی خدمت میں  حاضر ہو کر نسبتِ بیعت حاصل کی، اور مقاماتِ عالیہ پر فائز ہوئے ۔ آپ سے بے شمار کرامات کا ظہور ہوا آپ کی کرامات کی برکت سے بہت سے لوگوں کو فوائد حاصل ہوئے ۔

وصال:
13 شوال المکرم 1282ھ، بمطابق 6 مارچ 1866 کو بوقتِ عصر آپ کا وصال ہوا، آپ کا مزار مکان شریف ضلع گوردا سپور (انڈیا) میں مرجع خاص وعام ہے۔

https://scholars.pk/ur/scholar/khawaja-imam-ali-shah
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
حضرت سیدی ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: محمد ۔ کنیت: ابو عبد اللہ ۔ لقب: امام المحدثین، امیر المؤمنین فی الحدیث ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ بن بردزبہ بخاری جعفی ۔ آپ کے جد اعلیٰ مغیرہ نے حاکمِ بخارا، یمان جعفی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اس لیے آپ کو جعفی کہا جاتا ہے " بخارا " کی نسبت سے بخاری کہا جاتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت 13 شوال المکرم 194ھ، بمطابق 19جولائی 810ء بروز جمعہ بعد نمازِ عصر یا عشاء بخارا میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
امام بخاری نے "بخارا" میں ابتدائی تعلیم کے بعد صغر سنی میں ہی تحصیلِ حدیث کی جانب متوجہ ہو گئے تھے، اور دس سال کی عمر میں امام داخلی علیہ الرحمہ کے حلقۂ درس میں شریک ہونے لگے اور اپنی خدا داد قوت حفظ و ضبط سے حدیثوں کی اسناد و متون کو ذہن میں محفوظ کرنے لگے ۔

قوت حفظ و ضبط کا یہ عالم تھا کہ 18 سال کی عمر میں آپ نے عبد اللہ بن مبارک علیہ الرحمہ کی تمام کتابیں اور وکیع اور دیگر اصحابِ امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی کتابوں کو ازبر کر لیا تھا ۔

اسی عمر میں آپ نے روضۂ انور کے سائے میں بیٹھ کر " التاریخ الکبیر " تصنیف فرمائی ۔ 216ھ میں طلبِ حدیث کے لئے آپ نے مکۃ المکرمہ کی طرف پہلا سفر کیا ۔ اس کے علاوہ طلبِ حدیث کے لئے آپ نے مصر اور شام دو مرتبہ، بصرہ چار مرتبہ اور بے شمار مرتبہ بغداد اور کوفہ کا سفر کیا ۔

آپ نے ایک ہزار سے زائد اساتذہ سے اکتسابِ علم کیا ۔ ایک وقت ایسا آیا کہ آپ امیر المؤمنین فی الحدیث کے منصب پر فائز ہو گئے، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کی تصنیف " بخاری شریف " امت میں مقبولیتِ عامہ عطاء فرمائی ۔

قوتِ حافظہ:
قدرت نے امام بخاری علیہ الرحمہ کو بے مثال ذہانت اورقوت حفظ و ضبط سے سر فراز فرمایا تھا ۔آپ انتہائی بیدار مغز اور روشن دماغ انسان تھے ۔ قرطاس و قلم پر اتنا اعتماد نہیں کرتے تھے جتنا انہیں اپنے لوحِ ذہن پر بھروسہ تھا ۔

حاشد بن اسماعیل عہد بخاری کے زبردست محدث تھے فرماتے ہیں: امام بخاری طلب حدیث کے لیے میرے ہمراہ شیوخ وقت کی خدمت میں آمد و رفت رکھتے تھے لیکن ان کے پاس عام طلبہ کی طرح قلم و دوات اور کاغذ کچھ نہ ہوتا تھا میں نے ان سے کہا جب تم حدیث سن کر تحریر نہیں کرتے تو تمہاری آمد و رفت اور سماع کا کیا فائدہ؟ : یہ سماع تو ہَوا کی مانند ہے جو ایک کان سے داخل ہو کر دوسرے کان سے نکل گیا ـ

سولہ دن بعد امام بخاری نے مجھ سے کہا تم لوگوں نے مجھ کو بہت تنگ کر دیا آؤ اب میری یاد داشت کا اپنے نوشتوں سے مقابلہ کرو ۔ اس مدت میں ہم نے پندرہ ہزار حدیثیں لکھیں تھیں امام بخاری نے صحت کے ساتھ سب کو اس طرح سنایا کہ میں اپنی حدیثوں کو ان سے صحیح کرتا تھا ـ

امام بخاری خود فرماتے تھے:
کہ میں نے اپنی صحیح کا چھ لاکھ احادیث میں سے انتخاب کیا ہے ۔ (تذکرۃ المحدثین ص:196)

سیرت و خصائص:
امام بخاری علیہ الرحمہ نے جس اخلاص و انہماک کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی احادیث کریمہ کو سینے میں محفوظ کیا تھا اسی طرح انہوں نے اپنی ذات و صفات کو اخلاق نبوی ﷺ کے سانچے میں ڈھال لیا تھا زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت، حسن اخلاق، حق گوئی و حق شناسی میں ممتاز تھے ۔ حلم و مروت کے پیکر تھے ۔ کبھی کسی کو برائی سے یاد نہ کرتے اور برائی کا بدلہ ہمیشہ نیکی سے دیتے ۔ ہر شخص کی عزت نفس کا لحاظ رکھتے آپ بےحد صابر انسان تھے، اور اپنی ذات کا انتقام بِالکل ہی نہ لیتے تھے ۔ آپ بہت ہی متواضع اور منکسر المزاج واقع ہوئے تھے ۔ بڑی سادہ زندگی بسر کرتے اور اپنے کام خود کر لیا کرتے تھے ۔ کسی دوسرے کو زحمت نہ دیتے ۔

آپ کے شاگرد محمد بن حاتم وراق بیان کرتے ہیں: کہ ایک مرتبہ امام بخاری علیہ الرحمہ بخارا کے قریب سرائے بنا رہے تھے اور اپنے ہاتھوں ہی سے دیوار میں اینٹیں لگا رہے تھے میں نے آگے بڑھ کر کہا آپ رہنے دیجیے میں یہ انٹیں لگا دیتا ہوں آپ نے فرمایا قیامت کے دن یہ عمل مجھے نفع دے گا ۔ وراق کہتے ہیں کہ جب ہم امام بخاری علیہ الرحمہ کے ساتھ کسی سفر میں جاتے تو آپ ہم سب کو ایک کمرے میں جمع کر دیا کرتے اور خود علیحدہ رہتے ۔

ایک بار میں نے دیکھا امام بخاری علیہ الرحمہ رات کو پندرہ بیس مرتبہ اٹھے اور ہر مرتبہ اپنے ہاتھ سے آگ جلا کر چراغ روشن کیا کچھ احادیث نکالیں ان پر نشانات لگائے پھر تکیہ پر سر رکھ کر لیٹ گئے ـ میں نے عرض کیا آپ نے رات کو اٹھ کر تنہا مشقت برداشت کی مجھے اٹھا لیتے فرمایا تم جوان ہو اور گہری نیند سوتے ہو میں تمہاری نیند خراب کرنا نہیں چاہتا تھا ۔ (محدثین عظام حیات و خدمات، ص:321) ۔
1
امراء / مالداروں سے دوری:
امام بخاری علیہ الرحمہ نے اپنی علمی دیانت اور وقار کو کبھی مجروح نہ ہونے دیا ۔ اپنی ذات اور ضرورت کے لیے امراء و رؤسا کے دروازوں پر ہر گز نہ گئے ۔ ہمیشہ حکمرانوں اور مالداروں سے دور رہتے تھے ۔

جب گھر جا کر پڑھانے کے لئے کہا:
جب حاسدین نے حاکمِ بخارا خالد بن احمد ذہلی سے کہا کہ آپ امام بخاری سے کہیں کہ وہ آپ کے بیٹے کو گھر آکر پڑھایا کریں ۔ حاکمِ بخارا نے اس خواہش کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا میں علم کو سلاطین کے دروازے پر لے جا کر ذلیل کرنا نہیں چاہتا ۔ پڑھنے والے کو میرے درس میں آنا چاہیے ۔

والئ بخارا نے کہا اگر میرا لڑکا درس میں آئے تو وہ عام لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر نہیں پڑھے گا، آپ کو اسے علیحدہ پڑھانا ہوگا ۔ امام بخاری نے جواب دیا میں کسی شخص کو احادیث رسول ﷺ کی سماعت سے نہیں روک سکتا ۔ اس کے بعد آپ کو اپنے وطن سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا گیا ۔

ایک بار آپ کے مضارب تاجر نے پچیس ہزار لے کر دوسرے ملک میں سکونت اختیار کی امام صاحب سے لوگوں نے کہا کہ مقامی حاکم کا خط لے کر اس علاقہ کے حاکم کے پاس پہنچا دو روپیہ آسانی سے مل جائے گا امام بخاری نے فرمایا: اگر میں نے اپنے روپے کے لئے حکام سے سفارش لکھواؤں تو کل یہ حکام میرے دین میں دخل دیں گے اور میں اپنے دین کو دنیا کے عوض ضائع نہیں کرنا چاہتا ۔ آج کل کے علماء کے لئے اس میں عظیم سبق ہے ۔

امام صاحب کا ادب الحدیث:
حدیث شریف کو کتاب میں ذکر کرنے سے پہلےآپ غسل کرتے اور خوشبو لگاتے تھے ۔ اس کے بعد آپ دو رکعت نفل ادا کرتے ۔ پھر اس حدیث کی صحت کے بارے میں استخارہ کرتے اس کے بعد اس حدیث کو اپنی صحیح میں درج کرتے ۔

شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں: کہ امام بخاری علیہ الرحمہ نے ایک مرتبہ مسودہ لکھا ۔ دوسری مرتبہ مبیضہ تیار کیا اور تیسری مرتبہ ہر حدیث کو رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں پیش کرتے اور جس حدیث کے بارے میں بالمشافہ یا خواب کے ذریعے حضور ﷺ سے اجازت مل گئی اور اس کی صحت کا یقین کامل ہو گیا اس کو اپنی صحیح میں درج کر لیا ۔ (الشعۃ اللمعات، ص:10) ۔

وصال:
بروز جمعۃ المبارک، یکم شوال المکرم، 250ھ / بمطابق یکم ستمبر 870ء ۔ 61 سال 11ماہ 18 یوم کی عمر پاکر رسول اللہ ﷺ کی احادیث کی خدمت کرتے ہوئے دارِ فنا سے دارِ بقا کی طرف منتقل ہوئے ۔

قبر مبارک:
خرتنگ نزد سمرقند موجودہ ازبکستان میں محو آرام ہیں ۔ آپ کی قبر مبارک سے مدتوں ایسی خوشبو آتی رہی جو مشک و عنبر سے بھی عمدہ تھی لوگ قبر کی مٹی تبرکاً لےجاتے رہے ۔ (ھدی الساری، ج:2، ص:266) ۔ آپ کی قبر انور پر دعا قبول ہوتی ہے ۔ (ارشاد الساری، ج:1، ص:39)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedi-abu-abdullah-muhammad-bin-ismail-bukhari
1