🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-10-1444 ᴴ | 03-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-10-1444 ᴴ | 03-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-10-1444 ᴴ | 03-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-10-1444 ᴴ | 03-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-10-1444 ᴴ | 03-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت مولانا قاضی محمد عبد السبحان ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ کے والد ماجد اور جد امجد اپنے دور کے اکابر علماء اور صوفیاء میں سے تھے ۔ خاندانی تعلق علوی و ہاشمی گھرانے سے ہے ۔
آپ کے جد امجد نے رد تقویۃ الایمان اور تاریخ وہابیہ وغیرہ کتب بھی لکھی تھیں ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت، ص:175)
صلابت دینی میں بھی اپنی مثال آپ تھے مرض الموت میں ہری پور کے مشہور و معروف حکیم سے صرف اس لیے علاج نہیں کرایا، کہ وہ بد قسمتی سے دینِ دیوبند کا پیرو تھا ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت، ص:175)
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 12 شوال المکرم 1377ھ مطابق 2 مئی 1958ء کو واصلِ جنت ہوئے ۔
Telegram↷
https://t.me/islaamic_Knowledge/49901
Website↷
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qazi-abdul-subhan-hazarwi
آپ کے جد امجد نے رد تقویۃ الایمان اور تاریخ وہابیہ وغیرہ کتب بھی لکھی تھیں ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت، ص:175)
صلابت دینی میں بھی اپنی مثال آپ تھے مرض الموت میں ہری پور کے مشہور و معروف حکیم سے صرف اس لیے علاج نہیں کرایا، کہ وہ بد قسمتی سے دینِ دیوبند کا پیرو تھا ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت، ص:175)
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 12 شوال المکرم 1377ھ مطابق 2 مئی 1958ء کو واصلِ جنت ہوئے ۔
Telegram↷
https://t.me/islaamic_Knowledge/49901
Website↷
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qazi-abdul-subhan-hazarwi
❤1👍1
حضرت سید آدم بنوری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: سید آدم بنوری ۔ کنیت: ابو عبد اللہ ۔ لقب: معز الدین ۔ والد کا اسم گرامی: سید اسماعیل ۔ آپ کا خاندانی تعلق ساداتِ کرام سے ہے ۔
سلسلۂ نسب:
آپ کاسلسلۂ نسب 29 واسطوں سے حضرت امام موسیٰ کاظم تک منتہی ہوتا ہے ۔ آپ کی والدہ محترمہ افغانیہ تھیں ۔ نانی سیدہ تھیں لیکن افغانستان کی رہنے والی تھیں اس لئے انہیں افغانیہ سمجھاتا جاتا تھا ۔ آباؤ اجداد کا تعلق بغدادِ معلیٰ سے تھا ۔ تبلیغِ اسلام کی غرض سے عراق سے ہجرت کرکے ہندوستان وارد ہوئے ۔ (علماء ہند کا شاندار ماضی ص:277 / انسائیکلوپیڈیا)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 912ھ مطابق 1506ء کوقصبہ ’’بنور‘‘ ریاست پٹیالہ (انڈیا) میں ہوئی ۔
ولادت سے قبل بشارت:
سید آدم بنوری فرمایا کرتے تھے ۔ کہ والد ماجد نے خواب میں دیکھا کہ سرور عالم ﷺ تشریف لائے ہیں ۔ سینۂ مبارک پر دست مبارک پھیرا ۔ کوئی چیز نکال کر والد صاحب کو عطاء فرمائی اور حکم فرمایا کہ کھالو والد صاحب نے کھالی ۔ اسی شب استقرار حمل ہوا ۔ آپ علیہ الرحمہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ میرا وجود سرور عالم ﷺ کے اسی عطیہ مبارکہ سے ہے ۔ (علماء ہند کا شاندار ماضی حصہ اول، ص:277)
تحصیلِ علم:
آپ مادر زاد ولی تھے ۔ اس لئے ظاہری تعلیم حاصل نہیں کی تھی ۔ ایک روز ایک آواز سنی ’’آدم تم نے قرآن مجید کیوں نہیں پرھا ۔ آپ نے ہاتف غیبی کے جواب میں عرض کیا ۔ خداوندا! تو قادرِ مطلق ہے، اگر چاہے تو اسی وقت حافظِ قرآن بنادے ۔ چنانچہ اسی وقت حفظ قرآن کی دولت عطاء ہو گئی ۔ اس کے بعد علوم ظاہری کی مولانا کمال کشمیری استاد گرامی حضرت مجدد، و مولانا عبد الحکیم سیالکوٹی سے تکمیل فرمائی ۔ ‘‘ (ایضاً:278)
بیعت و خلافت:
ابتداءً حضرت مجدد کے خلیفہ حضرت حاجی خضر کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ مگر قلیل عرصے میں ہی بفضلِ خداوندی وہ مقامات و احوال پیش آئے جن کی راہنمائی شیخ کے احاطہ تکمیل سےخارج تھی، حضرت حاجی صاحب نے آپ کو حضرت مجدد کی خدمت میں بھیج دیا ۔ تھوڑے ہی عرصے میں مراتب علیا پر فائز ہو کر خلافت و خرقۂ مجددی سے فیض یاب ہوئے ۔ قادری، چشتی، سہروردی، شطاری، اور مدامی سلسلوں میں اجازت و خلافت عطاء ہوئی ۔ حضرت مجدد کی برکت سے آپ قطب الاقطاب اور فخر الزماں مشہور ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
قطب الاقطاب، فخرالزماں، صاحبِ فضائلِ کثیرہ، ولی کامل، خلیفۂ حضرت مجدد، جامع شریعت و طریقت، واقف اسرار حقیقت،حامی سنت،ماحی بدعت حضرت شیخ سید آدم بنوری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ مادر زاد ولی کامل عارف بااللہ تھے ۔حسبی و نسبی شرافت کے ساتھ ساتھ عبادت و ریاضت تقویٰ و فضیلت میں اپنی مثال آپ تھے ۔ حضرت شیخ آدم بنوری اتباع سنت اور دفع بدعت میں مشہور تھے ۔ فقراء کو اغنیاء پر ترجیح دیتے تھے ۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر آپ کا خاص مشرب تھا ۔ آپ حضرت شیخ احمد سرہندی قدس سرہٗ کے اکابر خلفاء میں سے تھے ۔ شیخ آدم بنوری تربیت مریدین میں بے نظیر تے ۔ تھوڑی سی توجہ سے طالبان حق کو لطائف ستہ میں سے ہر لطیفہ میں مرتبہ فناء تک پہنچا دیتے تھے ۔ اور آپکی صورت دیکھتے ہی طالبان حق کو ذکر قلبی حاصل ہو جاتا تھا ۔ آپ کی خانقاہ معلیٰ میں ایک ہزار طالبان حق کا اجتماع ہروقت رہتا تھا ۔ حضرت شیخ کالنگر فقراء کے لئے عام تھا ۔
آپ کے ایک مرید شیخ محمد فرماتے ہیں: ایک مرتبہ قحط ہوگیا ۔ غلہ مہنگا ہو گیا ۔خانقاہ کے معاملات میں دشواری پیش آنے لگی ۔ خدام نے حضرت کی خدمت میں عرض کیا ۔ ایک مٹکا جس میں تھوڑا سا غلہ تھا آپ نے فرمایا اس کو اونچی جگہ پہ رکھ دو اور اس کامنہ بند کر دو، اور اس کے تلی میں سوراخ کر دو، اور بقدرِ ضرورت اسی میں سے غلہ نکالتے رہو ۔ اس کا منہ نہیں کھولنا ۔ انشاء اللہ برکت ہوگی ۔ چھ ماہ متواتر اسی سے غلہ اسی طرح لیا جاتا رہا اور خانقاہ کے معاملات و لنگر میں کوئی کمی نہیں آئی ۔ اور چھ ماہ بعد زمانۂ قحط ختم ہو گیا ۔ جب مٹکے کامنہ کھولا گیا تو اس میں جتنا غلہ پہلے تھا اتناہی اب بھی تھا ۔ (ایضاً:279)
آپ کی مجلس نمائش و شہرت سے پاک، ثروت اور دولت سے بے نیاز، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی درس گاہ تھی ۔ امراء و اغنیاء سے بے نیازی، اور فقراء و مساکین سے نیاز مندی، بڑے بڑے امراء و وزراء آپ سے مرعوب ہو جاتے، بہت کم کلام کرتےتھے ۔ آپ کے مریدین کی تعداد چار لاکھ تک تھی ۔حضرت مجدد کی برکت سے آپ کو بشارت دی گئی کہ جوآپ کے طریقے میں داخل ہوگا ۔ مرحوم و مغفور ہوگا ۔ قیامت کے دن ظل محمدی ﷺ میں سایۂ عاطفت و رحمت آرام ملےگا ۔ (ایضا:279)
نام و نسب:
اسم گرامی: سید آدم بنوری ۔ کنیت: ابو عبد اللہ ۔ لقب: معز الدین ۔ والد کا اسم گرامی: سید اسماعیل ۔ آپ کا خاندانی تعلق ساداتِ کرام سے ہے ۔
سلسلۂ نسب:
آپ کاسلسلۂ نسب 29 واسطوں سے حضرت امام موسیٰ کاظم تک منتہی ہوتا ہے ۔ آپ کی والدہ محترمہ افغانیہ تھیں ۔ نانی سیدہ تھیں لیکن افغانستان کی رہنے والی تھیں اس لئے انہیں افغانیہ سمجھاتا جاتا تھا ۔ آباؤ اجداد کا تعلق بغدادِ معلیٰ سے تھا ۔ تبلیغِ اسلام کی غرض سے عراق سے ہجرت کرکے ہندوستان وارد ہوئے ۔ (علماء ہند کا شاندار ماضی ص:277 / انسائیکلوپیڈیا)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 912ھ مطابق 1506ء کوقصبہ ’’بنور‘‘ ریاست پٹیالہ (انڈیا) میں ہوئی ۔
ولادت سے قبل بشارت:
سید آدم بنوری فرمایا کرتے تھے ۔ کہ والد ماجد نے خواب میں دیکھا کہ سرور عالم ﷺ تشریف لائے ہیں ۔ سینۂ مبارک پر دست مبارک پھیرا ۔ کوئی چیز نکال کر والد صاحب کو عطاء فرمائی اور حکم فرمایا کہ کھالو والد صاحب نے کھالی ۔ اسی شب استقرار حمل ہوا ۔ آپ علیہ الرحمہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ میرا وجود سرور عالم ﷺ کے اسی عطیہ مبارکہ سے ہے ۔ (علماء ہند کا شاندار ماضی حصہ اول، ص:277)
تحصیلِ علم:
آپ مادر زاد ولی تھے ۔ اس لئے ظاہری تعلیم حاصل نہیں کی تھی ۔ ایک روز ایک آواز سنی ’’آدم تم نے قرآن مجید کیوں نہیں پرھا ۔ آپ نے ہاتف غیبی کے جواب میں عرض کیا ۔ خداوندا! تو قادرِ مطلق ہے، اگر چاہے تو اسی وقت حافظِ قرآن بنادے ۔ چنانچہ اسی وقت حفظ قرآن کی دولت عطاء ہو گئی ۔ اس کے بعد علوم ظاہری کی مولانا کمال کشمیری استاد گرامی حضرت مجدد، و مولانا عبد الحکیم سیالکوٹی سے تکمیل فرمائی ۔ ‘‘ (ایضاً:278)
بیعت و خلافت:
ابتداءً حضرت مجدد کے خلیفہ حضرت حاجی خضر کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ مگر قلیل عرصے میں ہی بفضلِ خداوندی وہ مقامات و احوال پیش آئے جن کی راہنمائی شیخ کے احاطہ تکمیل سےخارج تھی، حضرت حاجی صاحب نے آپ کو حضرت مجدد کی خدمت میں بھیج دیا ۔ تھوڑے ہی عرصے میں مراتب علیا پر فائز ہو کر خلافت و خرقۂ مجددی سے فیض یاب ہوئے ۔ قادری، چشتی، سہروردی، شطاری، اور مدامی سلسلوں میں اجازت و خلافت عطاء ہوئی ۔ حضرت مجدد کی برکت سے آپ قطب الاقطاب اور فخر الزماں مشہور ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
قطب الاقطاب، فخرالزماں، صاحبِ فضائلِ کثیرہ، ولی کامل، خلیفۂ حضرت مجدد، جامع شریعت و طریقت، واقف اسرار حقیقت،حامی سنت،ماحی بدعت حضرت شیخ سید آدم بنوری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ مادر زاد ولی کامل عارف بااللہ تھے ۔حسبی و نسبی شرافت کے ساتھ ساتھ عبادت و ریاضت تقویٰ و فضیلت میں اپنی مثال آپ تھے ۔ حضرت شیخ آدم بنوری اتباع سنت اور دفع بدعت میں مشہور تھے ۔ فقراء کو اغنیاء پر ترجیح دیتے تھے ۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر آپ کا خاص مشرب تھا ۔ آپ حضرت شیخ احمد سرہندی قدس سرہٗ کے اکابر خلفاء میں سے تھے ۔ شیخ آدم بنوری تربیت مریدین میں بے نظیر تے ۔ تھوڑی سی توجہ سے طالبان حق کو لطائف ستہ میں سے ہر لطیفہ میں مرتبہ فناء تک پہنچا دیتے تھے ۔ اور آپکی صورت دیکھتے ہی طالبان حق کو ذکر قلبی حاصل ہو جاتا تھا ۔ آپ کی خانقاہ معلیٰ میں ایک ہزار طالبان حق کا اجتماع ہروقت رہتا تھا ۔ حضرت شیخ کالنگر فقراء کے لئے عام تھا ۔
آپ کے ایک مرید شیخ محمد فرماتے ہیں: ایک مرتبہ قحط ہوگیا ۔ غلہ مہنگا ہو گیا ۔خانقاہ کے معاملات میں دشواری پیش آنے لگی ۔ خدام نے حضرت کی خدمت میں عرض کیا ۔ ایک مٹکا جس میں تھوڑا سا غلہ تھا آپ نے فرمایا اس کو اونچی جگہ پہ رکھ دو اور اس کامنہ بند کر دو، اور اس کے تلی میں سوراخ کر دو، اور بقدرِ ضرورت اسی میں سے غلہ نکالتے رہو ۔ اس کا منہ نہیں کھولنا ۔ انشاء اللہ برکت ہوگی ۔ چھ ماہ متواتر اسی سے غلہ اسی طرح لیا جاتا رہا اور خانقاہ کے معاملات و لنگر میں کوئی کمی نہیں آئی ۔ اور چھ ماہ بعد زمانۂ قحط ختم ہو گیا ۔ جب مٹکے کامنہ کھولا گیا تو اس میں جتنا غلہ پہلے تھا اتناہی اب بھی تھا ۔ (ایضاً:279)
آپ کی مجلس نمائش و شہرت سے پاک، ثروت اور دولت سے بے نیاز، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی درس گاہ تھی ۔ امراء و اغنیاء سے بے نیازی، اور فقراء و مساکین سے نیاز مندی، بڑے بڑے امراء و وزراء آپ سے مرعوب ہو جاتے، بہت کم کلام کرتےتھے ۔ آپ کے مریدین کی تعداد چار لاکھ تک تھی ۔حضرت مجدد کی برکت سے آپ کو بشارت دی گئی کہ جوآپ کے طریقے میں داخل ہوگا ۔ مرحوم و مغفور ہوگا ۔ قیامت کے دن ظل محمدی ﷺ میں سایۂ عاطفت و رحمت آرام ملےگا ۔ (ایضا:279)
❤1👍1
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی:
جب حضرت شیخ آدم بنوری لاہور تشریف لائے تو آپ کے ساتھ مریدین کی کثیر تعداد تھی، زیادہ ترافغانی و پختون تھے ۔ اتفاقاً ان دنوں شاہ جہاں کے افغانوں کے ساتھ تعلقات خوشگوار نہیں تھے ۔ آپ جہاں بھی تشریف لے جاتے ویرانہ بھی شہر کا منظر پیش کرتا تھا ۔ لاہور میں اتنے بڑے اجتماع کو مشیرانِ حکومت نے تشویش کی نگاہ سے دیکھا ۔ مشیرانِ شاہی کے مشورے سے بادشاہ نے مولانا سعد اللہ وزیر اعظم اور مولانا عبد الحکیم سیالکوٹی علیہما الرحمہ کو حضرت شیخ کی خدمت میں بھیجا، یہ دونوں اپنے وقت کے متبحر فاضل تھے ۔ جب یہ دونوں ارکانِ حکومت حضرت شیخ کی قیام گاہ پر پہنچے تو آپ مراقبے میں تھے ۔ کافی دیر دروازے پر انتظار کرتے رہے ۔ جب شیخ مراقبے سے فارغ ہوئے یہ حجرے میں داخل ہوئے شیخ نے رسمی تعظیم بھی نہ کی ۔ علامہ سعد اللہ نے فوراً اعتراض کر دیا میں دنیا دار آدمی ہوں میری تعظیم ضروری نہیں، مگر مولانا عبد الحکیم ایک عالم و فاضل ہیں ان کی تعظیم تو ضروری تھی ۔
حضرت شیخ نے فرمایا:
احادیث میں ہے علماء اس وقت تک دین کے امین ہیں جب تک امراء و حکام سے اختلاط نہ کریں ۔ اس وقت ان کی تعظیم بھی لازم ہوگی ۔ بادشاہوں سے اختلاط کے بعد وہ ڈاکو ہو جاتے ہیں ۔ یہ بات ان کو ناگوار گزری ۔ انھوں نے بادشاہ سے جا کر کہا ہے تو معمولی فقیر لیکن دعوے بڑے بڑے کرتا ہے اور اس کے ساتھ افغانوں کا جم غفیر کسی بھی وقت نقص امن کابخدشہ پیدا ہو سکتا ہے ۔ بادشاہ نے متاثر ہو کر حجاز تشریف لے جانے کا حکم صادر کر دیا ۔ حضرت شیخ فوراً روانہ ہو گئے ۔ سورت بندرگاہ پہنچ گئے ۔ حضرت شیخ کی روانگی کے بعد شاہ جہاں نے خواب دیکھا کہ حکومتِ شاہ جہاں کا بقاء اسی وقت تک ہے جب تک شیخ آدم ہندوستان میں ہیں ۔ خواب سے متوحش ہو کر بادشاہ نے حاکم سورت کے پاس حضرت شیخ کے روک لینے کا حکم بھیجا ۔ مگر شیخ روانہ ہو چکے تھے ۔
بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ میں اجابت:
حج بیت اللہ کے بعد مدینۃ المنورہ کا قصد کیا ۔ جب روضۂ سرکار ﷺ پر حاضر ہوئے، اور سلام عرض کیا ۔ تو مرقدِ اطہر سے دو دست مبارک ظاہر ہوئے، تمام حاضرین اور رفقاء بھی زیارت سے مشرف ہوئے ۔ حضرت شیخ و فور عشق سے آگے بڑھ کر ید اللہ کی شان والے ہاتھوں کا مصافحہ کیا اور بوسہ دیا ۔پھر آپ کو بارگاہِ رسالت ﷺ سے بشارت دی گئی ۔ ’’یا ولدی انت فی جواری‘‘ ۔ فرزندِ من! تم میرے جوار میں رہوگے ۔ پھر حرمین میں آپ کی ایسی شہرت ہوئی کہ لوگ جوق در جوق آپ کی خدمت میں آنے لگے ۔ بالخصوص حصولِ برکت کی خاطر آپ سے مصافحہ کے لئے لوگوں کا ہجوم رہنے لگا ۔ تاکہ ان ہاتھوں سے ہمارا ہاتھ مس جائے جن سے رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ مس ہوا ہے ۔ پھر حضرت شیخ کو مصافحے کے لئے خاص انتظام کرنا پڑا ۔ (ایضا:285)
تاریخِ وصال:
13 شوال المکرم 1053ھ مطابق 25 دسمبر 1643ء کو مدینۃ المنورہ میں وصال ہوا ۔ جنت البقیع میں حضرت عثمان غنی کے جوار میں دفن ہوئے ۔حضرت ذو النورین کے روضہ مبارک کا سایہ شیخ آدم کی قبر پر پڑتا رہتا تھا ۔ اب تو نجدیوں نے تمام شعائر اللہ کو مٹا دیا ہے ۔ اپنے لئے عالی شان اور پر تعیش محلات جائز کر لئے ہیں ۔ خذلہم اللہ فی الدنیا والآخرہ ۔
ماخذ و مراجع:
علماء ہند کا شاندار ماضی ۔ انفاس العارفین ۔ انسائیکلوپیڈیا ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-adam-binnori
جب حضرت شیخ آدم بنوری لاہور تشریف لائے تو آپ کے ساتھ مریدین کی کثیر تعداد تھی، زیادہ ترافغانی و پختون تھے ۔ اتفاقاً ان دنوں شاہ جہاں کے افغانوں کے ساتھ تعلقات خوشگوار نہیں تھے ۔ آپ جہاں بھی تشریف لے جاتے ویرانہ بھی شہر کا منظر پیش کرتا تھا ۔ لاہور میں اتنے بڑے اجتماع کو مشیرانِ حکومت نے تشویش کی نگاہ سے دیکھا ۔ مشیرانِ شاہی کے مشورے سے بادشاہ نے مولانا سعد اللہ وزیر اعظم اور مولانا عبد الحکیم سیالکوٹی علیہما الرحمہ کو حضرت شیخ کی خدمت میں بھیجا، یہ دونوں اپنے وقت کے متبحر فاضل تھے ۔ جب یہ دونوں ارکانِ حکومت حضرت شیخ کی قیام گاہ پر پہنچے تو آپ مراقبے میں تھے ۔ کافی دیر دروازے پر انتظار کرتے رہے ۔ جب شیخ مراقبے سے فارغ ہوئے یہ حجرے میں داخل ہوئے شیخ نے رسمی تعظیم بھی نہ کی ۔ علامہ سعد اللہ نے فوراً اعتراض کر دیا میں دنیا دار آدمی ہوں میری تعظیم ضروری نہیں، مگر مولانا عبد الحکیم ایک عالم و فاضل ہیں ان کی تعظیم تو ضروری تھی ۔
حضرت شیخ نے فرمایا:
احادیث میں ہے علماء اس وقت تک دین کے امین ہیں جب تک امراء و حکام سے اختلاط نہ کریں ۔ اس وقت ان کی تعظیم بھی لازم ہوگی ۔ بادشاہوں سے اختلاط کے بعد وہ ڈاکو ہو جاتے ہیں ۔ یہ بات ان کو ناگوار گزری ۔ انھوں نے بادشاہ سے جا کر کہا ہے تو معمولی فقیر لیکن دعوے بڑے بڑے کرتا ہے اور اس کے ساتھ افغانوں کا جم غفیر کسی بھی وقت نقص امن کابخدشہ پیدا ہو سکتا ہے ۔ بادشاہ نے متاثر ہو کر حجاز تشریف لے جانے کا حکم صادر کر دیا ۔ حضرت شیخ فوراً روانہ ہو گئے ۔ سورت بندرگاہ پہنچ گئے ۔ حضرت شیخ کی روانگی کے بعد شاہ جہاں نے خواب دیکھا کہ حکومتِ شاہ جہاں کا بقاء اسی وقت تک ہے جب تک شیخ آدم ہندوستان میں ہیں ۔ خواب سے متوحش ہو کر بادشاہ نے حاکم سورت کے پاس حضرت شیخ کے روک لینے کا حکم بھیجا ۔ مگر شیخ روانہ ہو چکے تھے ۔
بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ میں اجابت:
حج بیت اللہ کے بعد مدینۃ المنورہ کا قصد کیا ۔ جب روضۂ سرکار ﷺ پر حاضر ہوئے، اور سلام عرض کیا ۔ تو مرقدِ اطہر سے دو دست مبارک ظاہر ہوئے، تمام حاضرین اور رفقاء بھی زیارت سے مشرف ہوئے ۔ حضرت شیخ و فور عشق سے آگے بڑھ کر ید اللہ کی شان والے ہاتھوں کا مصافحہ کیا اور بوسہ دیا ۔پھر آپ کو بارگاہِ رسالت ﷺ سے بشارت دی گئی ۔ ’’یا ولدی انت فی جواری‘‘ ۔ فرزندِ من! تم میرے جوار میں رہوگے ۔ پھر حرمین میں آپ کی ایسی شہرت ہوئی کہ لوگ جوق در جوق آپ کی خدمت میں آنے لگے ۔ بالخصوص حصولِ برکت کی خاطر آپ سے مصافحہ کے لئے لوگوں کا ہجوم رہنے لگا ۔ تاکہ ان ہاتھوں سے ہمارا ہاتھ مس جائے جن سے رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ مس ہوا ہے ۔ پھر حضرت شیخ کو مصافحے کے لئے خاص انتظام کرنا پڑا ۔ (ایضا:285)
تاریخِ وصال:
13 شوال المکرم 1053ھ مطابق 25 دسمبر 1643ء کو مدینۃ المنورہ میں وصال ہوا ۔ جنت البقیع میں حضرت عثمان غنی کے جوار میں دفن ہوئے ۔حضرت ذو النورین کے روضہ مبارک کا سایہ شیخ آدم کی قبر پر پڑتا رہتا تھا ۔ اب تو نجدیوں نے تمام شعائر اللہ کو مٹا دیا ہے ۔ اپنے لئے عالی شان اور پر تعیش محلات جائز کر لئے ہیں ۔ خذلہم اللہ فی الدنیا والآخرہ ۔
ماخذ و مراجع:
علماء ہند کا شاندار ماضی ۔ انفاس العارفین ۔ انسائیکلوپیڈیا ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-adam-binnori
scholars.pk
Hazrat Sheikh Adam
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celaebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1