🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مولانا قاضی محمد عبد السبحان ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا قاضی محمد عبد السبحان ہزاروی ۔ لقب: مناظر یگانہ، استاذ العلماء، فاضل متبحر ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا قاضی محمد عبد السبحان بن مولانا قاضی مظہر جمیل بن مولانا مفتی محمد غوث علیہم الرحمۃ والرضوان ۔

آپ کے والد ماجد اور جد امجد اپنے دور کے اکابر علماء اور صوفیاء میں سے تھے ۔خاندانی تعلق علوی و ہاشمی گھرانے سے ہے ۔ آپ کے جد امجد نے رد تقویۃ الایمان اور تاریخ وہابیہ وغیرہ کتب بھی لکھی تھیں ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت، ص:175)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1315ھ مطابق 1898ء کو موضع کھلا بٹ ضلع ہری پور ہزارہ میں ہوئی ۔ اب یہ جگہ تربیلا ڈیم میں آگئی ہے ۔ (تذکرہ اکابر اہل سنت، ص:227)

ولادت سےقبل بشارت:
آپ کی ولادت سے پہلے آپ کی والدہ نے خواب دیکھا کہ میری گود میں ایک حسین و جمیل پھول پڑا ہے، اور کوئی صاحب کہہ رہے ہیں کہ بیٹی اس کو سنبھال لے ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت، ص:175)

تحصیلِ علم:
کیمل پور میں کسی قاری سے ناظرہ قران مجید مکمل کرکے ابتدائی درسی کتب والد ماجد سے پڑھیں ۔ اس کے بعد مولانا علامہ سید برکات احمد ٹونکی سے مدرسہ خلیلیہ ٹونک میں علوم و فنون کا استفادہ کیا، مولانا قطب الدین غور غشتوی، اور مولانا حمید الدین مانسہروی آپ کے مشفق اساتذہ میں سے تھے، حدیث و تفسیر کا درس اپنے چچا اور خسر مولانا محمد خلیل محدث ہزاروی سے لیا ۔ علیہم الرحمہ (تذکرہ اکابر اہل سنت، ص:227)

بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت مولانا قاضی سلطان محمود قدس سرہ ( آوان شریف ) سے بیعت تھے ۔

سیرت و خصائص:
جامع المنقول والمعقول، فاضلِ متبحر، بے مثل مناظر، جامع کمالات علمیہ و عملیہ، استاذ العلماء، رئیس الفضلاء، حامیِ اہل سنت، دافع اہل بدعت، قاطعِ نجدیت و وہابیت حضرت علامہ مولانا قاضی عبدالسبحان ہزاروی ۔

آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے فاضلِ کامل، ہر فن مدرس، اور بے مثال مناظر تھے ۔ ساری زندگی دینِ متین اور مسلک حق اہل سنت و جماعت کی ترویج میں گزاری ۔ آپ کا خاندانی تعلق ایک علمی و روحانی خانوادے سے تھا ۔

آپ کے آباؤ اجداد اپنے علاقے میں اہل حق کی پہچان اور اہل باطل کے لئے سد سکندری تھے ۔ انھوں نے مسلکِ حق اہل سنت و جماعت کی ترویج و اشاعت میں مصروفِ عمل رہے ۔

آپ کے آباؤاجداد اور بِالخصوص آپ کے عم محترم حضرت محدث زمانہ، فاضلِ یگانہ، حضرت علامہ مولانا محمد خلیل محدث ہزاروی علیہ الرحمہ اپنے وقت کے عظیم محدث تھے ۔ ان کا فیضان عام ہے ۔ نامور علماء کرام ان کے تلامذہ میں ہیں ۔ اپنے آباؤ اجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حضرت مولانا قاضی عبد السبحان علیہ الرحمہ نے تکمیل علوم کے بعد تمام زندگی درس و تدریس ، تصنیف و تالیف اور مسلک اہل سنت کی حمایت میں صرف فرمائی ۔

1936ء میں مدرسہ بیگم پورہ (گجرات) میں قریباً تین سال قیام پذیر رہے ۔ بعد ازاں شرق پور شریف، احسن المدارس راولپنڈی اور دار العلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور میں بحیثیت صدر مدرس کام کیا ۔ آخری دنوں میں اپنے گاؤں کھلابٹ میں تشریف لے گئے ۔

تصنیفات:
آپ نے تصنیف و تالیف کی طرف بھی توجہ فرمائی ۔ آپ کی تصانیف میں سے مواہب الرحمن رد جواہر القرآن اور انور الاتقیاء فی حیاۃ الانبیاء طبع ہو چکی ہیں، ان کے علاوہ آپ نے بخاری شریف، مشکوٰۃ شریف، شرح معانی الآثار، امام طحاوی قدس سرہ بیضاوی اور دیگر متعدد کتب درس نظامی پر شروح و حواشی لکھے جو زیادہ تر عربی میں ہیں اور ابھی تک غیر مطبوع ہیں ۔

ابن تیمیہ حرانی کی کتاب الوسیلہ کا رد بھی لکھا تھا ۔ آپ کے کثیر التعداد تلامذہ پنجاب اور سرحد میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔آپ کو مناظرہ میں ید طولیٰ حاصل تھا ۔ صرف ایک بات میں مد مقابل کو لا جواب کر دیتے تھے ۔ بڑے بڑے مناظر آپ کا سامنا کرنے سے گھبراتے تھے ۔ معاندین و مخالفین اہلسنت کو متعدد مقامات پر آپ نے زبردست شکستیں دیں ۔ صلابت دینی میں بھی اپنی مثال آپ تھے مرض الموت میں ہری پور کے مشہور و معروف حکیم سے صرف اس لیے علاج نہیں کرایا، کہ وہ بد قسمتی سے دینِ دیوبند کا پیرو تھا ۔(تذکرہ علمائے اہل سنت، ص:175)

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 12 شوال المکرم 1377ھ مطابق 2 مئی 1958ء کو واصلِ جنت ہوئے ۔ افسوس کہ آپ کا مزار شریف تربیلا ڈیم میں آ گیا ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ تذکرہ اکابر اہل سنت ۔

شد روانہ جانب ِ خلدِ بریں
آں جناب عبدِ سبحاں بے مثال

عالم و فاضل، فقیہِ بے نظیر
پاک صورت، نیک سیرت، خوشخصال

بُد مرید غوث اعظم، ہم شہاب
مظہرِ شانِ محمد لازوال

چوں بپرسیدم زدل تاریخ او
” مخزن جود و سخا “ گفتا بسال

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qazi-abdul-subhan-hazarwi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شاہ عبد القدوس علیہ الرحمہ

لکعلوی سادات میں سے تھے، عہد ترخانی میں حج  کے لیے اور حضرت  علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا موئے مبارک سے لے آئے ـ

واپسی پر ٹھٹھہ میں مقیم ہو گئے شہر کے سادات نے آپ کے سید ہونے کا انکار کیا، مگر آپ  کی کرامت سے املی کے درخت سے گھی اور شہد بہنے لگا جس کو دیکھ کر لوگ آپ کی سیادت اور  ولایت کے قائل ہو گئے ۔

آپ کا مزار مکلی پر ہے ۔

( تحفۃ الطاہرین ص ۶۶ )

( تذکرہ اولیاءِ سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abdul-quddos

#یوم_وصال_ماہ_شوال_المکرم
https://t.me/islaamic_Knowledge/49904
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-10-1444 ᴴ | 02-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-10-1444 ᴴ | 03-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-10-1444 ᴴ | 03-05-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-10-1444 ᴴ | 03-05-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👌1